| میری ڈائری میری ڈائری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قصہ چہار درویش وہ دن یادگاری بھی ہستی میں آیا کہ جس نے مجرد سے شوہر بنایا مسرت تھی کہ بانہیں کھولے کھڑی تھی خوشی شادمانی لڑی در لڑی تھی شبِ غم تھی کہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی وہ محصورِ شادی کڑی در کڑی تھی ولیکن بقا ہے کسے اس جہاں میں نہ ہو ہوشمند مبتلا اس گماں میں خوشی ہم سے چھوٹی معاش ہمم سے روٹھی بدلنے لگی زندگی کی کسوٹی گزرتے ہیں دن رات اب اپنے ایسے سمندر پہ ہوں ریت کے ٹیلے جیسے کہیں بہتے پانی پہ بنتے ہیں ٹیلے اگر بن بھی جائیں تو بنتے ہیں ڈھیلے ہوئی رفتہ رفتہ سہل زندگانی کہ لگنے لگی زندگی کچھ سہانی صبح و شام کا ایک تسلسل رواں ہے کبھی شام پھیکی کبھی صبح جواں ہے کبھی شام میں زندگی کا نشاں ہے کبھی صبح کا منظر بھی بارِ گراں ہے یہی ہے اگر زندگی الاماں ہے غم ہی غم ہے اس میں مسرت کہاں ہے کہیں روز و شب میں نیا پن نہیں ہے اداسی ہے ہر سو کہیں رم نہیں ہے ہے بر مائلِ یکسانیت طبیعت ہے طاری جمود ہر نفس ہر اک طینت ہے کس کے لئے زندگی میں کشاکش یہاں ہر نفس ہر طبیعت ہے خاموش ہے مجھ کو گلہ زندگانی سے یارو نہیں زندگی سے مجھے کام یارو ہے دل مضطرب زندگی کی چبھن سے مجھے نیند آنے لگی ہے تھکن سے لو یہ کون خوابوں میں آنے لگا ہے مجھے رازِ ہستی سکھانے لگا ہے M A Ansari Last edited by M A Ansari; 20-04-11 at 11:13 PM. |
|
|
|
| M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (13-04-11) |
![]() |
| Tags |
| color, ہاتھ, ہستی, کہاں, پہ, پانی, قصہ, لگی, لگا, نیند, منظر, آیا, اپنے, بر, جہاں, جائیں, رواں, روز, رات, زندگی, سہل, شوہر, شام, شادی, غم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہر چھٹی پر نظر | گلاب خان | گپ شپ | 0 | 15-12-10 04:11 AM |
| دو دن کی چھٹی | ام طلحہ | گپ شپ | 17 | 29-10-09 10:03 AM |
| ِِ’’ عدلیہ بحالی مشرف کی چھٹی ‘‘ عمران خان | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-04-08 05:27 PM |