| میری ڈائری میری ڈائری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سکولوں بازاروں اور مسجدوں میں دھماکے اسی ڈاکٹرائن کی گونج ہیں جس میں اس ساری قوم نے خاموشی سے اس رجیم کا ساتھ دیا جو یہ کہتا تھا کہ خاموش اکثریت میرے ساتھ ہے اور اس خاموش اکثریت نے اسے نا روکا کہ وہ صلیبیوں کے تسلط میں ؛؛ماشاءاللہ؛؛ اسلامی ملک پاکستان کو ہر طرح سے دے دے کہ وہ افغانستان کے مظلومین پر ًًاسلامی پاکستان ً کی فضاءیں زمین اور سمندر استعمال کے کے مساجد بازار گھر اور سکولوں کا یہی حشر کر دے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عربی کی کہاوت ہے کہ؛؛ جو اپنے بھاءی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرتا ہے؛؛ لیکن ہم نے بھاءی کو پہلے دھکا دیا اور اب بھاءی تو باہر نکلنے والا ہے لیکن ہم خود اوندھے منہ پڑے خون تھک رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس ساری قتل و غآرت گری کی حمایت نہیں کی جا سکتی جس کا شکار ہم سب ہیں ہے لیکن یہ مکافات عمل کا ایک سیدھا سادا اصول ہے جو کارفرما نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا لوگوں کو ڈالروں کے عوض بکتے ہوے مسلمان، صرف پہلے چند مہینوں میں ۵۷۰۰۰ فضاءی حملے، نیٹو کی پیہم جاری رسد اور مظلوم بچوں بوڑھوں اور عورتوں کی چیخ و پکار سناءی نہ دیتی تھی جو ؛؛مملکت خداد؛؛ کی ؛؛اسلامی حکومت؛؛ کی؛؛لازوال؛؛ ؛؛اسلام پسندی؛؛ کی بھینٹ چڑھ گءے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اور عجیب قسم کی جانبداری ہے کہ ظالمان کا ذکر تو بڑے غیض و غضب اور گلوگیر لہجے میں کیا جاتا ہے لیکن اسلام کی حفاظت کے لیے ایمان تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ کا ماٹو رکھنے والی فوج کے اپنے ماٹو کے ساتھ حشر کا محاسبہ کہیں بھول کر بھی کوءی کر دے تو وہ ظالمان میں شمار ہو جاتا ہے، اس کی حب الوطنی مشکوک اور بیرونی ایجنڈے پر کارفرما نظر انے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ تو ظلم کا ملٹی پلاءی ہونا ہے، سب جانت ہیں کہ ظلم کی ابتدا کہاں سے ہوءی؟؟ کس حد درجے کا ہو گا وہ ستم جس نے نے دس دس سال کے بچوں کو اس حد تک جذباتی کر دیا کہ وہ چلتی پھرتی موت کا نام ہو گءے؟؟ کس بلا کا ظلم ہو گا جس نے لوگوں کو دوسروں کے ساتھ اپنے بھی چیتھڑے اڑانے پر امادہ کر دیا؟؟یہ سب کچھ دس برس پہلے تو نہ تھا۔ ۔ ۔ جنت کی ترغیبیں اور حوروں کے وعدے تو بہت پرانے ہیں اور یہ سب جاری ہے، اور لکھ لیں کہ تب تک جاری رہے گا جب تک اس ریاست کے ارباب اقتدار اسے جاری رکھنا چاہیں گے، جب تک اس مملکت کے عوام پاکستانی جان اور غیر پاکستانی جان کی حرمت کو ایک سا نہیں جان لیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس سارے استحصال اور دھشت گرسی کی جنگ کے خلاف فیصلہ کن طور پر گھروں سے نکل نہیں اءیں گے۔ ۔ ۔ ۔۔ کم از کم لوڈ شیڈنگ اور مہنگاءی سے تو شاید یہ کچھ زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ سب ہمارا مقدر نہیں تھا ہم نے اسے خود مقدر کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ہم ظالم کے ساتھ ہیں، مظلوم کے خلاف ہیں، ہم باطل کی صف میں حق کے خلاف فرنٹ لاءن سٹیت ہیں، پھر بھی ہماری توقع ہے کہ آسمان سے ہم پر رزق کے غیبی دروازے کھول رکھے جاءیں اور زمین سونا اگلتی نظر اءے۔ ۔ ۔ ۔ خوش فہمی تو ہمارے لیے بہت چھوٹا لفظ ہوتا ہے شاید إإإ شہر کے باشندے نفرتوں کو بو کر بھی یہ امید کرتے ہیں فصل ہو محبت کی چھوڑ کر حقیقت کو باندھنا سرابوں کا ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے شاید پتھر کے دور میں جینا اس روز روز کے مرنے جینے سے تو بہتر ہی تھا إإإ 17.01.12
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (17-01-12), محمد یاسرعلی (17-01-12), مرزا عامر (17-01-12), Zullu230 (17-01-12), حیدر (18-01-12), زارا (17-01-12), سحر (18-01-12), شمشاد احمد (17-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکہ کی کبھی یہ ہمت نہ ہوتی کہ وہ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی بات کرتا ۔ اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ پاکستان پہلے ہی پتھر کے زمانے میں ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (17-01-12), بلال الراعی (18-01-12), حیدر (18-01-12), حیدر Rehan (18-01-12), عبداللہ آدم (17-01-12) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دُنیاترقی کی منازل طے کر رہی ہے اورہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ! بہت اچھی پوسٹ ہے۔۔۔ شکریہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب عوام بے حس اور حکمران بے ضمیر ، چور اور قاتل ہوں گے تو ہمارا یہی حال ہو گا ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ بھائی جب حکمران بے غیرت ، بے ضمیر ہوں اور تو اور عوام بھی بے حس ہوں تو یہی تو ہوتا ہے۔
آج ہم کسی کی قبر کھودنے میں کسی کی مدد کر رہے ہیں کل کوئی ہماری قبر کھودنے میں ان کی مدد کر رہا ہوگا۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
| محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (18-01-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 160
کمائي: 1,861
شکریہ: 383
73 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس میں صرف حکمرانوں کا کردار نہیں ہوتا اس میں ہم سب شامل ہیں، بحیثیت قوم ہم لوگ منافق بھی ہے غلط بھی ہم آج صرف اپنے آپ میں مگن ہے ہمارے لیے سڑک کنارے پڑا مردہ انسان ہو یا جانور ایک ہی اہمیت رکھتا ہے، ہمیں موبائل، ٹی وی، فیس بک، فورمز، وغیرہ سے فرصت نہیں کہ ہم کچھ اور کریں، ہر کوئی صرف لمبے لمبے لیکچر جھاڑ سکتا ہے ہر جگہ ہر لیکن عملی طور پر کوئی کچھ کرنے کو تیار نہیں، ہم انڈیا کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن ہر گھر، دکان، گاڑی حتی کہ ہر جگہ وہی بھارتی گانے، فلمیں ڈرامے دیکھے جاتے ہیں حتی کہ ہم ان کے کلچر تک کو کاپی کرتے ہیں اگر ہم منافق نہیں تو یہ کیا ہے وہاں پاکستان کا اک چینل تک نہیں چلتا اور ہمارے ہیروز سلمان خان، شاہ رخ خان ہیں، شرم تو ہمیں آتی نہیں ہم بات کس منہ سے کرتے ہیں ، ہمارا اپنا آپ ٹھیک نہیں، ہم ہر چیز میں ڈبل فیس ہیں، ہم پردہ حجاب صرف عورت کے لیے کہتے ہیں لیکن مرد جو مرضی کرے اس کو کوئی نہیں پوچھتا، جبکہ حیا تو مرد کے لیے بھی لازم ہے ، جب تک ہم اندر اور باہر سے ایک نہیں ہو جاتے تب تک کچھ نہیں ہو سکتا ہمیں ایسے ہی حکمران ملیں گے جو ہمیں پتھر کےدور سے بچانے چلے تھے لیکن پہنچا تو وہیں دیا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیاض انصاری کا شکریہ ادا کیا | حیدر (18-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبد اللہ بھائی اپ نے بالکل درست فرمایا ہے۔ ہم آپ کی بات کی تائید میں سجدہ بسجود ہیں ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (18-01-12), محمد یاسرعلی (19-01-12) |