|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ویسے تو شاعری پر بہت سے تھریڈ کھولے گئے ہیںمگر ابھی تک نظم کے حوالے سے کوئ تھریڈ نہیں تھا تو وہی لیکر حاضر ہوں ۔۔امید ہے آپ سب بھی حصہ لیں گے ۔۔شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک معصوم پھول سی بچی
جنگ نے جس کی چھین لیں آنکھیں درد کی پوٹلی سی لگتی ھے روشنی تیرگی سی لگتی ھے ۔ کھو کے اپنی ستارہ آنکھیں اب اب جو دیکھے گی آسماں کی طرف اب ستارے کبھی نہ دیکھے گی کوی جگنو ادھر نہ بھٹکے گا چاندنی دیپ قمقمے رخصت نیلگوں نور صبح ھو یا اب چمپیی چمپیی شفق شامیں روشنی مر چکی ھے اس کے لیے اس کا سورج طلوع نہ ھوگا کبھی چاند بھی صرف یاد آئے گا ۔ اب جو دیکھے گی یہ زمیں کی طرف پھول کلیاں نظر نہ آئیں گی تتلیاں اس کی زندگی سے گئیں اڑگئے رنگ اس کی دنیا کے ھوگیا زندگی کا چہرہ فق اب یہ اپنا حسین چہرہ بھی آئینے میں کبھی نہ پائے گی ٹھوکریں ھیں جھاں بھی جائے گی اب اندھیروں کے بھوت ہیں ہر سو ۔ اب یہ زندہ جو بچ گئی ھے تو صرف زندہ ھے دکھ کی قیمت پر صرف رونے کو اپنی قسمت پر کھو کے اپنی تمام خوشیاں اب اب یہ معصوم اپنی دنیا کو کیا خبر کس نظر سے دیکھے گی جانے کس زاویے سے سوچے گی ۔ اب یہ کچھ بھی سمجھ نہ پائے گی منتشر اس کے جذبہ و احساس کیا یہ جانے گی زندگی کیا ھے صرف سوچے گی آدمی کیا ھے دین ومذہب ھے کیا سیاست کیا دہشتیں کیوں ھیں اور جنگیں کیوں جانے کیا کیا نہ اورسوچے گی روح کی چوٹ توڑ دیتی ھے ساتھ خود اپنا چھوڑ دیتی ھے زخم اندر کے ماردیتے ھیں پھرجو بچتا ھے بھوت ھوتا ھے اپنے چہرے کو اوڑھے پھرتا ھے ۔ اب یہ معصوم پھول سی بچی زخم دل کرب جاں سی لگتی ھے درد کی داستاں سی لگتی ھے دکھ بھری شاعری سی ھو جیسے روشنی تیرگی سی ھو جیسے ان کہی آگہی سی ھو جیسے مجھ کو لگتا ھے کہ رھی ھے وہ زندگی کاش سیکھ لے اے دل اس صدی میں تو زندگی کا ھنر کاش انسان کو سکھا دے خدا امن کا اور آشتی کا ھنر ڈاکٹر پنھاں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زندگی سے ڈرتے ہو؟؟؟؟؟؟؟
زندگی سے ڈرتے ہو؟؟ زندگی تو تم بھی ہو،زندگی تو ہم بھی ہیں آدمی سے ڈرتے ہو؟؟ آدمی تو تم بھی ہو،آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے ،آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیںڈرتے حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ڈرتے ’’ان کہی ‘‘ سے ڈرتے ہو جو ابھی نہیں آئ اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو ----------------- پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائ کے بے ریا خدائ کے پھر بھی یہ سمجھتے ہو،ہیچ آرزو مندی یہ شبٍ زباں بندی ہے رہٍ خداوندی تم مگر یہ کیا جانو، لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر نور کی زباں بن کر، ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر روشنی سے ڈرتے ہو؟؟ روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں روشنی سے ڈرتے ہو ۔۔۔۔۔۔شہر کی فصیلوں پر دیو کا جو سایہ تھا پاک ہوگیا آخر رات کا لبادہ بھی، چاک ہو گیا آخر،خاک ہو گیا آخر اژد بامٍ انساںسے فرد کی نوا آئ ذات کی صدا آئ راہٍ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے اک نیا جنوںلپکے آدمی چھلک اُٹھے آدمی ہنسے دیکھو،شہر پھر بسے دیکھو تم ابھی سے ڈرتے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟/// ن م راشد۔۔۔ ژژژژژژژژژژژژ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() اقتباس:
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ جو ریگٍ دشتٍ فراق ہے
یہ جو ریگٍ دشتٍ فراق ہے یہ رُکے اگر یہ رُکے اگر تو نشاں ملے،یہ نشاںملے کہ جو فاصلوںکی صلیب ہے یہ گڑی ہوئ ہے کہاں کہاں! میرے آسماں سے کدھر مرگئ تیرے التفات کی کہکشاں میرے بے خبر، میرے بے نشاں یہ رُکے اگر تو پتہ چلے میں تھا کس نگر تُو رہا کہاں! کہ زماں مکاں کہ یہ وسعتیں تجھے دیکھنے کو ترس گئیں ( وہ میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں! ) میرے چار سُو ہے غبارٍ جاں،وہ فشارٍ جاں کہ خبر نہیں میرے ہاتھ کو میرے ہاتھ کی میرے خواب سے تیرے بام تک تیری رہگزر کا تو ذکر کیا نہیں ضو فشاں تیرا نام تک! ہیں دھواں دھواں ، میرے استخواں میرے آنسوؤں میںبجھے ہوئے میرے استخواں میرے نقش گر ، میرے نقش جاں اسی ریگٍ دشتٍ فراق میں رہے منتظر۔۔۔۔۔۔تیرے منتظر میرے خواب ،جن کے فشار میں رہی میرے حال سے بےخبر تیری رہگزر تیری رہگزر کہ جو نقش ہے میرے ہاتھ پر مگر اس بلا کی ہے تیرگی کہ خبر نہیں میرے ہاتھ کو میرے ہاتھ کی وہ چشمٍ شعبدہ ساز تھی، وہ اٹھے اگر میرے استخواں میں ہو روشنی اسی ایک لمحہ دید میں تیری رہگزر میری تیرہ جاں میں چمک اٹھے میرے خواب سے تیرے بام تک سبھی منظروں میں دمک اٹھے اسی ایک پل میں ہو جاوداں میری آرزو کہ ہے بےکراں میری زندگی کہ ہے مختصر یہ جو ریگٍ دشتٍ فراق ہے، یہ رکے اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! امجد اسلام امجد۔۔۔۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عقیدت
میں کتنی وارفتگی سےاُسے سنا رہا تھا وہ ساری باتیں وہ سارے قصے جو اس سے ملنے سے بیشتر میری زندگی کی حکایئتیں تھیں میں کہہ رہا تھا کہ اور بھی لوگ تھے جنھیں میری آرزو تھی میری طلب تھی کہ جن سے میری محبتوں کا رہا تعلق کہ جن کی مجھ پر عنایئتیں تھیں میں کہہ رہا تھا کہ اُن میںکچھ کو تو میں نے جاں سے عزیز جانا مگر اُنہیں میںسے بعض کو میری بےدلی سے شکایئتیں تھیں میں ایک اک بات ایک اک جرم کی کہانی دھڑکتے دل، کانپتے بدن سے سنا رہا تھا مگر وہ پتھر بنی مجھے اس طرح سے سنتی رہی کہ جیسے میرے لبوں پر کسی مقدس ترین صحیفے کی آئیتیں تھیں احمد فراز۔۔ |
|
|
|
| ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (06-04-09) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() |
دعا تو جانے کون سی تھی
ذہن میں نہیں بس اتنا یاد ہے کہ دو ہتھیلیاں ملی ہوئیں تھیں جن میںاک تمہاری تھی اور ایک میری
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
“خواہشِ جستجو ،ہو تم شائد
حاصلِ آرزو ،ہو تم شائد نیم تاریک شب کی خاموشی شام کی گفتگو ،ہو تم شائد یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد آج پھر حرف سانس لینے لگے آج پھر رو برو ،ہو تم شائد وہ نویدِ صبحِ بہار ہے جو اسی رت کی نمو ،ہو تم شائد”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یاد
“یاد کے دائروں میں چلتا ہے آج بھی دل کہاں سنبھلتا ہے رات دن تو ہمارے بھی جاناں خامشی سے گزر ہی جاتے ہیں لوٹ آئیں زمانے گزرے ہوئے آس یہ ہم کہاں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ کچھ پل مگر وہی کچھ پل بستیءِدل میں جو مکیں بن کر ایک مدت ہوئی کہ ٹھہرے ہیں شام کی خامشی میں اکثر ہی بے صدا حرف گنگناتے ہیں یاد کے دائرے بناتے ہیں یاد کے دائرے بناتے ہیں بھول بیٹھے ہیں ہم نقوش اپنے ایک مدت سے خود کو دیکھا نہیں “قیدِ زندانِ خود فراموشی گرچہ ہم آج بھی نبھاتے ہیں” ہاں وہ کچھ پل مگر وہی کچھ پل بستیءِدل میں جو مکیں بن کر ایک مدت ہوئی کہ ٹھہرے ہیں صحنِ دل کی اداسیوں میں کبھی خشک پتوں سے پھیل جاتے ہیں یاد کے دائرے بناتے ہیں یاد کے دائرے بناتے ہیں اور یہ دل یہ بے نوا سا دل رہِ منزل کے خارزاروں میں آرزوؤں کی لو میں جلتا ہے یاد کے دائروں میں چلتا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | رضی (06-04-09), عبداللہ آدم (24-10-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک ادھوری نظم۔۔۔۔۔
ہم اپنی عمر کے برتے ہوے لمحوں کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں۔۔۔ شبان ہجر کے جیسے یہ جاں گسل لمحے جیے تو ہیں ہم نے مگر کیسے؟ چشم حیراں میں ہزارہا سپنے بُنے تو ہیں ہم نے مگر کیسے کتنے ہی گھروندے بناۓ۔۔۔ طاقِ خواب پہ رکھے ٹمٹماتے، جان بلب چراغوں کے نیچے اور توڑ دئیے اندھیروں سے دوستی کر لی آباد رستے چھوڑ دئے قہقہوں کے میلے سے خریدی لامحدود تنہائی اپنے نقوش تو بھول گئے ان گنت انجان ہیولوں سے کر لی آشنائی کتنے ہی اشک انکھ سے اذن رخصت مانگنے جب بھی آۓ، کہاں دی ہم نے ہاں اک مسکراہٹ (جو منجمد ہی رہ گئی حرفِ دعا سے عاری ہونٹوں پر) دان کی ہم نے آج بھی ان برتے ہوے لمحوں کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرفِ امید تو لکھا ہم نے شکستگی نہ مٹی ہاں عمر کو تو برتا ہم نے پہ زندگی نہ ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | رضی (06-04-09), عبداللہ آدم (24-10-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خیال
ڈھل گئی شام، رات آ پنہچی کھل گئی آنکھ چند خوابوں کی چاند پہلو میں میرے آ بیٹھا چاندنی چار سوُ بکھرنے لگی خامشی کا فسوں سِمٹنے لگا تیری تصویر بات کرنے لگی |
|
|
|
| ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (06-04-09) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاداش
میں زندگی ڈھونڈتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ پت جھڑ کی آغوش کے سرد جہنم میں بکھرتے سوکھتے پتّوں میں اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری سانسیں میرے سینے میں منجمد ہیں میں چھاؤں ڈھونڈتی رہی۔۔۔۔ خوابوں کی مٹّھیوں میں مقّید مبہم محبّتوں کے صحرا میں اور اب۔۔۔۔۔۔۔ میری آنکھیں جلتی رہتی ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | رضی (31-05-09), عبداللہ آدم (24-10-10) |
![]() |
| Tags |
| پھول, پسند, پسندیدہ, چور, نظر, مکمل, ماں, آدمی, انسان, اسلام, بچوں, جواب, حال, خبر, دل, دعا, زندگی, ستارے, شاعری, غزل, صلیب, صبح, صدی, صدا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پسند کے ممبر پر پسندیدہ تبصرہ کریں | مسٹر رائٹ | گپ شپ | 16 | 04-04-11 11:07 PM |
| میری پسند | رضی | گانے | 10 | 18-12-10 07:36 PM |
| آپکا پسندیدہ شعر | اسد لطیف | شعر و شاعری | 11 | 15-03-09 07:06 PM |
| غرور اللہ کو ناپسند ہے | naeemuddin | میری ڈائری | 0 | 26-02-09 07:49 AM |
| پسند کے ممبر سے پسندیدہ سوال کریں، | مسٹر رائٹ | گپ شپ | 63 | 14-09-07 09:00 PM |