| میری ڈائری میری ڈائری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی ۔بھائی کے ٹیپ ریکارڈ پر چلتے ہوئے اس گیت کو پہلی دفعہ میں نےگزرتے ہوئے سنا۔ اس کے یہ بول ہی بہت بھلے لگے ۔ " یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو ،بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون ، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی"۔ اب بھلا بندہ پوچھے بچپن میں کیا معلوم جوانی کیا ہے،دولت اور شہرت کسے کہتے ہیں اور انکا نفع نقصان کیا ہے ۔ بہرحال گیت کے یہ بول دل میں اتر گئے ۔ جب بھی کبھی بھائی کے ٹیپ ریکارڈ سے اس گیت کے بول سنتا بہت اچھے لگتے ایسا محسوس ھوتا کہ اپنی ہی کہانی ہے ۔ انجانی سی اپنائیت تھی۔ اپنے پاس تو کوئی ٹیپ ریکارڈ تھا نہیں اور آج تک زندگی میں کبھی خریدا بھی نہیں۔ شاید مجھ پر پابندیاں زیادہ تھیں یا پھر معلوم نہیں مجھے میرے گھر والے ان خرافات سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ جو جو شوق میرے بڑے بھائیوں نے فرمائے میں ان سے کافی حد تک دور رکھا گیا۔ میں بھی ان چیزوں سے لطف اندوز تو ھوتا تھا لیکن بھائیوں سے چھپ کر ۔ ان سے چھپ کر انکی ٹیپ ریکارڈ ، ڈیک اور کیسٹوں کو استعمال کرتا تھا۔ خیر جب تھوڑے بڑے ھوئے تو ان گیتوں کو خوب سنا جن کے بول کبھی کبھی سنائی دے دیا کرتے تھے۔ میں نے آج تک زندگی میں دو ہی کیسٹس خریدی ھونگیں۔ اور پھر یہ ظالم زمانہ کہ کیسٹ کیا ٹیپ اور ڈیک کا زمانہ بھی ختم ھوگیا اور میں میڑک اور کالج کے دور میں اپنے دوستوں کی طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یار اس ماہ کوئی نئی کیسٹ نہیں خریدی۔ یار فلاں کے البم کا نیا والیم آگیا ہے وہ بھی ابھی نہیں سنا۔ مجھے دوستوں کے یہ الفاظ سن کر حیرانی ھوتی تھی۔ خیر “بندر کیا جانے ادرک کا سواد”۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہاں تو دوستو میں یہ کہنے لگا تھا کہ بچپن میں سنے ان بول کو پاک نیٹ پر ایک دفعہ لکھے دیکھا۔ پڑھا تو شاید بھائی نے اپنے بچپن کے دن قلمبند کیے ھوئے تھے۔ ایک کو پڑھا بہت اچھا لگا پھر شاہد بھائی نے اپنے مزید تھریڈز شئیر کیے ان سب کو بھی پڑھ ڈالا۔ آج ہی ایک بہن نے کہا کہ تم بھی سیپ کی طرح اپنی کہانی کیوں نہیں لکھتے ۔ کئی دفعہ خود بھی سوچا لیکن پھر خاموش ھوگیا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں ایک تو لکھنے کے فن سے واقف نہیں ھوں دوسرا میری زندگی میں ایسی کوئی خاص بات بھی نہیں۔ اور تیسرا میری زندگی میں دوسروں کے خلاف شکایتوں کے علاوہ اور ہے بھی کیا خواہ مخواہ میں سب کی شکایتیں لکھوں گا ان دوستوں کے خلاف لکھوں گا جن کی خاطر مجھے کئی دفعہ جھوٹ بولنے پڑتے تھے۔ اپنی فطرت کے خلاف جاکر انکی خاطر کئی کام کرنے پڑتے تھے۔ پھر مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑے گا ۔ اگر نہیں تو پھر مجھے جھوٹ لکھنا پڑے گا جو کہ میں لکھنا نہیں چاہتا۔ اپنی بے وقوفیاں لکھنا پڑیں گی جو میں لکھنا نہیں چاہتا۔ او ہو میں پھر کدھر نکل گیا۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ شاہد بھائی کے بچپن کے دن جان کر کبھی کبھی خیال آتا کہ میں بھی اپنی زندگی کا کوئی واقعہ لکھوں لیکن میری یادداشت بہت کمزور ثابت ہوئی ہے مجھے کچھ بھی ٹھیک ٹھاک طریقے سے یاد نہیں رہتا اس طرح پھر واقعہ کی اصل روح مر جاتی ہے ۔ آج تھوڑی دیر پہلے ہی امی ابو نے ہماری ایک چاچی کا ذکر کیا تو مجھے وہ یاد آگئیں ۔ پھر میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی شاہد بھائی کی طرح ان کے بارے میں لکھوں۔وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے چاچی۔ اس چاچی کے بارے میں لکھنے سے پہلے میں بھی اپنے بچپن کے لیے شاید بھائی کے الفاظ کو استعمال کروں گا۔ انسان کی ذندگی میں آنے والے تین ادوار بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں سے بچپن ہی وہ دور ہے جس کے پلٹ آنے کی سب تمنا کرتے ہیں۔یہ وہ دور ہوتا ہے جس میں کوئی فکر کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ بے فکری کا یہ عالم دُنیا و مافیھا اور فزکس کے سب مشکل مسئلے "وقت" کی قید سےآٓزاد ہوتا ہے۔ بچپن میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا، ابھی سو کر اُٹھے ناشتہ کیا، اسکول گئے، اسکول سے واپس آکر ہوم ورک کیا، سپارہ پڑھا، پھر باہر گلی میں کھیلنے چلے گئے۔ گلی کی حدود میں اس کائنات کو کوئی اصول کام نہیں کرتا تھا، مختلف کھیلوں کو کھیلتے کھلیتے شام ہوجاتی،جسم تھک کر چور ہوجاتے، پسینہ سر کے بالوں سے بہتا ہوا پیروں میں پہنی ہوئی چپلوں تک جا پہنچتامگر جب تک گھروں سے ایک دوسرے کے نام نا پکارے جاتے کوئی واپس جانے کا نام ہی نا لیتا۔ آہ! کیا زمانہ تھا وہ! ہمارے محلے میں اب تو جس طرف بھی نگاہ دوڑائیں ۔ تین تین منزلہ گھر ہی نظر آتے ہیں۔ ہمارا گھر ساہیوال کے بہترین علاقوں میں سے شمار ایک کالونی جو کہ غالباً کالونی تو نہیں ایک منی ٹاؤن کی حیثیت رکھتا ہے لیکن نا جانے کیوں رکھنے والوں نے اسکا نام فتح شیر کالونی رکھا ہے۔ بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ 85 کے لگ بھگ میرے والد نے اپنی محنت کی کمائی سے یہاں آکرتین منزلہ گھر کا ڈھانچا کھڑا کروا دیا اس میں خود آکر بسنے لگے اور وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح تھوڑی بہت بچت ھوتی اس اینٹوں کے گھر پر وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کر کے کام جاری رہا کبھی کسی دیوار کو پلستر کروا لیا اور کبھی کسی کمرے کو ڈسٹمپر کروا لیا آہستہ آہستہ یہ تین منزلہ عمارت بہترین گھر کی شکل اختیار کرتی رہی ۔ اور ہم محلے میں اونچی اور نئی کوٹھی والے مشہور ہوگئے ۔کسی کو ہمارا نام نہیں معلوم ھوتا لیکن محلے میں ہمارا کوئی رشتہ دار آکر اگر یہ کہہ دیتا کہ اونچی کوٹھی والوں کے گھر جانا ہے تو اسے ہمارے گھر پہنچا دیا جاتا ۔ خیر اب تو ارد گرد کا تقریباً ہر دوسرا گھر تین نہیں تو دو منزلہ ضرور ہے۔ محلے میں ہمارے گھر شام کو محلے کے بچے آکر ٹی وی دیکھتے اگر کسی کا رشتہ دار باہر گیا ھوتا تو ہمارے گھر کا نمبر دے دیا جاتا اور محلے والے ہمارے ہاں آکر فون سنتے ۔ محلے میں یا رشتہ داروں میں کسی کا اپنا گھر بن رہا ہوتا تو کچھ عرصہ کے لیے ہمارے گھر میں آکر ڈیرے ڈال لیتے۔ ہماری رہائش اوپر کے پورشن پر ھوتی تو انکو نیچے والا پورشن دے دیا جاتا اور اگر ہم نچلے پورشن میں ھوتے تو انکو اوپر والے پورشن میں ٹھہرایا جاتا۔ یہ سلسلہ بڑے بھائی کی شادی تک جاری رہا اور ہمارے گھر میں ہمیشہ رونق ہی رہتی ۔ انہیں لوگوں میں سے جن کی وجہ سے ہمارے گھر رونق رہتی ایک ہماری خاص الخاص چاچی نکی بھی تھیں۔ نکی یعنی چھوٹی۔جن کی ہر دوپہر تقریباً ہمارے گھر گزرتی ۔ وہ آتی تو برف لینے کے لیئے تھیں لیکن انکے چھوٹے سے گھر میں انکے علاوہ دوپہر کو کوئی اور نہ ھوتا تھا تو ساری دوپہر وہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں گزارتیں۔ انکی کوئی اولاد نہیں تھی وہ ہم سے بہت پیار کرتی تھیں۔ اور سچ میں اس وقت انکے بارے میں لکھتے ھوئے میری آنکھیں نم ہیں۔ میرا بڑا بھائی تو انکو خوب چھیڑا کرتا تھا البتہ مجھ سے بڑے میرے دونوں بھائی اور دونوں بہنوں کے ساتھ انکی خوب لگتی تھی۔ وہ روزانہ خود بھی ہمیں ڈانتیں اور امی کو بھی ہماری شکایت لگاتیں۔ امی بھی دبی دبی ہنسی ہم سب کو ڈانتیں ۔ چاچی کو بھی اس بات کا علم تھا لیکن یہ اب روزانہ کا شغل بن گیا تھا ہم سب کا۔ ہاں پہلے تو میں یہ بتادوں کہ ہم انہیں چاچی نکی کیوں کہتے تھے انکا قد بہت چھوٹا تھا جس کی وجہ سے ہم انہیں چاچی نکی کہا کرتے تھے۔ انکا نام غالباً مختاراں تھا مجھے ٹھیک سے یاد بھی نہیں ہے۔ اور میں وثوق سے کہہ بھی نہیں سکتا کہ انکا نام یہ تھا لیکن مجھے یہ ضرور یاد ہے کہ وہ ہماری چاچی نکی تھیں ۔ رشتہ میں تو ہماری کچھ نہیں لگتیں تھیں لیکن تمام رشتے دار چاچیوں سے زیادہ ہم سے قریب تھیں اور عزیز بھی۔ چاچا جی جن کا نام عبدالرزاق ہے ۔ وہ غالباً چاچی سے کم عمر تھے یا شاید چاچی جلد بوڑھی لگتیں تھیں ۔ انکے منہ میں تو دانت بھی نہیں تھے۔ میری ایک کزن جب بھی ہمارے ہاں آتی وہ انہیں ہمارے سامنے بوڑی یعنی بغیر دانتوں والی کہہ کر مخاطب کرتیں ۔ لیکن چاچی کہ سامنے ایسے الفاظ کہنے کی کسی کی ہمت نہیں تھی۔ شاید چاچی یہ سب جانتی بھی ھوں لیکن چوں کہ انکی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اور ہم سے وہ بہت پیار کرتی تھیں اسی وجہ سے وہ ہماری بدتمیزیاں بھی شرارت سمجھ کر معاف کردیتیں۔ چاچا جی اب بھی حیات ہیں اور اب انہوں نے ایک بیوہ سے شادی بھی کر لی ہے اور اب انکی اپنی ایک بیٹی بھی ہے ۔ لیکن ہماری چاچی کو گزرے آٹھ سال بیت گئے ۔ اب چاچا جی گول گپوں کی ریڑھی لگاتے ہیں اور پھر پینشن بھی آرہی ہے ۔ ان دنوں چاچا جی کالج میں مالی تھے۔ وہ روزانہ کالج چلے جاتے اور شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتے۔ ان دنوں مین مارکیٹ میں تاش والوں کا ایک ٹولہ روزانہ سہہ پہر سے لیکر شام تک خوب تاش کھیلتا اور چاچا جی بھی اسی ٹولے کا ایک حصہ ہوتے تھے ۔ جوانی میں تاش کا شوق فرمانے والے چاچا جی بڑھاپے میں جاکر ریڑھی لگاتے ہیں۔ ہاں یہ بھی ہے تب انکی اولاد بھی نہیں تھی گھر میں ایک پنکھے اور چند بستر اور برتنوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اب تو ماشاءاللہ سے ان کے گھر میں فریج بھی ہے چھوٹی سی بیٹی بھی ہے اور اسکی کی موجودہ بیگم کے پہلے والے دو بچے بھی ہیں ۔ اور پھر مہنگائی بھی ہے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہے۔ بہرحال اب نہ تو وہ تاش کھیلنے والوں کا ٹولہ ہے اور نہ ہی اب اس جگہ کوئی تاش کھیلتا ہے ۔ ان میں سے کچھ تو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے اور کچھ روزگار معاش میں پڑ گئے اور جو رہے وہ اپنے بڑھاپے میں ان دنوں کو یاد تو ضرور کرتے ہوں گے۔ آہ ۔ یہ وقت بھی بڑا ظالم ہے۔ چاچا جی چونکہ ملازمت سے آکر تاش کھینے چلے جاتے اس لیے چاچی سارا دن ہمارے گھر میں گزارتیں۔ برتن کپڑے دھو کر اور گھر میں صفائی ستھرائی کرنے کے بعد ایک کمرے کے گھر کو تالا لگا کر چاچی ہمارے گھر چلی آتیں۔ ایک مزے کی شرارت جو تقریباً ہمارا معمول بن گیا تھا ،خیر گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں ہم اس شرارت سے خوب لطف اٹھاتے باقی سارا سال تو اس وقت ہم سکول میں ھوتے تھے ۔ خاص کر سردیوں میں ہم بہت انجوائے کرتے تھے اس شرارت کو، جب ہم تیسری منزل کی چھت پر بیٹھ کر دھوپ سینکتے اور دوپہر گیارہ بارہ بجے کے قریب دیوار پر کھڑے ھوکر چاچی کی گالیاں بھی سنتے اور انکو پھدکتا دیکھ کر خوب ہنسے اور پھر بعد میں چاچی ہماری خوب خبر لیتیں اور امی بھی دبی ہنسی ہمیں ڈانتیں اور خود بھی میرا خیال ہے ہماری اس شرارت سے لطف اندوز ھوتیں۔وہ شرارت یہ تھی کہ چاچی دوپہر کو جب بھی آتیں ہم نے چٹخنی لگائی ھوتی۔ ان دنوں اندر سے ہمارا دروازہ کم ہی بند ھوتا تھا۔ لوہے کا بڑا سا دوپٹ کا گیٹ ہے اور اب بھی وہی ہے لیکن خیر اب تو ایک پٹ میں سے ایک چھوٹا سا دروازہ نکال لیا ھوا ہے۔ آنے جانے کے لیے اب وہ استعمال ھوتا ہے ۔ ہم اوپر سے چٹخنی گھما دیتے۔چاچی کا قد چونکہ چھوٹا تھا انکا ہاتھ نہ تو بیل تک پہنچتا اور نہ چٹخی تک بڑی مشکل سے چھوٹی سی چھڑپی لگا کر وہ اپنا ہاتھ چٹخنی تک پہنچاتیں ۔ اور اسی طرح دو چار بار چھلانگیں لگا کر چٹخنی کو اوپر کو ہلاتیں اور جب وہ چٹخنی دوبارہ دروازے پر آکر ٹکراتی تو آواز پیدا ھوتی جس سے ہمیں اندازہ ھو جاتا کہ باہر کوئی آیا ہے۔ اب بھی اگر بجلی گئی ہو تو ہم اسی چٹخنی کو دروازے پر دو چار بار اٹھا کر مارتے ہیں اور اس سے بیل کا کام لیتے ہیں ۔ خیر اب تو اندر سے دروازہ تقریباً ہر وقت بند رہتا ہے تب یہ حالات نہیں تھے۔ صرف چٹخنی ہی لگاتے تھے۔ اگر تو چاچی ھوتیں تو ایک بندہ تو فوراً چاچی کی گالیوں جن کے ساتھ بعد میں امی کی گالیاں بھی شامل ھو جاتیں سے ڈر کر دروازہ کھولنے بھاگ جاتا خیر پینتیس سیڑھیاں اتر کر باہر جاتے جاتے وقت تو لگتا ہے ۔ باقی اتنی دیر دیوار پر چڑھ کر چاچی کو دیکھ رہے ھوتے اور خوش بھی ھوتے۔چاچی کی قسمت اس دن اچھی ھوتی جس دن کبھی چٹخنی کا انکا ہاتھ ذرا زور سے ٹکرا جاتا اور چٹخنی واپس اسے دروازے کے پلڑے پر گرنے کی بجائے گھوم جاتی اور دروازہ کھل جاتا۔ اب نہ تو وہ دن ہیں اور نہ ہی ہماری وہ چاچی ہیں۔ خیر آخر چاچا نے تھوڑی تھوڑی بچت کرکے ایک دن چاچی کو فریج بھی لے دی ۔ اور گھر کو بھی دو کمروں کا کروا دیا۔ ان دنوں ہمارے ہاں بڑے بھائی کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ اب اوپر والے پورشن کے ایک کمرے میں بھائی اور بھابھی کا قبضہ تھا سٹور روم بھابھی کا سامان آنے کی وجہ سے اور کچھا کچھ ھوگیا۔ کچھ سامنے دوسرے کمرے میں رکھنا پڑا اور کچن ہماری پرانی کتابوں اور کاپیوں کو ڈیرا بن گیا۔ اور نیچے والا پورشن باقی فیملی کے استعمال میں اسی طرح رہا۔ اور آدھا پورشن جو ابو نے چا چو کے لیئے بنایا تھا ۔ اب وہاں چاچو کی فیملی آکر رہتی ہے۔ لیکن اب نہ ہی تو ہمارے گھر میں مزید کسی رشتے دار کو رکھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی وہ دروازے باقی ہیں جو ابا جی نے گھر کے دونوں پورشنوں کو ملانے کے لیے رکھے تھے۔ اب ان دروازوں اور کھڑکیوں کی جگہ دیواروں نے لے لی ہے۔ اب نہ ہی تو چاچی ہمارے گھر آتی ہے کیونکہ انکے گھر بھی فریج ہے اب انکو برف لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی البتہ ہماری فریج خراب ھوجائے تو ہمیں ان کے گھر سے برف لانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور نہ ہی ہمارے گھر میں اب کوئی بچہ ٹی وی دیکھنے آتا ہے کیونکہ اب انکے گھر بھی ٹی وی ہے۔ نہ ہی کوئی اب ہمارے گھر فون سننے آتا ہے کیونکہ اب انکے گھر بھی فون ہے ۔ البتہ اب یہ ضرور تھا کہ کسی نا کسی کی گاڑی ہمارے گیراج میں ضرور کبھی کبھار کھڑی کر لی جاتی کیونکہ ہمارا گیراج تو ہمیشہ خالی ہی رہتا۔ یہ میرے میٹرک کے دن تھے آہستہ آہستہ سب بدل رہا تھا۔ ہمارے گھر بھابھی بھی آگئیں۔ اور پھر ایک دن چاچی کو کینسر جیسی مہلک بیماری نے آگھیرا۔ چاچی اپنے بھائیوں کے پاس گاؤں واپس چلی گئیں ۔ چاچا جی نے دوسری شادی کرلی۔ نئی چاچی ابھی جوان ہی ہیں اور اس جوانی میں انہیں طلاق جیسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بھلا ہو چاچا جی کی بہن آنٹی شمیم کا جنہوں نے ان سے چاچا کی شادی کروا دی ۔ اب چاچا جی کی اپنی بیٹی بھی ہے ماشاءاللہ۔ آنٹی شمیم بھی مکمل ایک آئٹم ہیں ان پر بھی پوری کہانی لکھی جاسکتی ہے موقع ملا تو پھر کبھی سہی۔ سب بدل گیا چاچا جی ہنسی خوشی اپنی نئی بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں ۔ کسی کو خیال ہی نہ رہا کہ اس محلے کی ایک چاچی نکی بھی ھوا کرتی تھیں۔جن سے ہمارا خوب مزاق تھا۔ محلے کے بچے ان سے خائف تھے کیونکہ انکی گیند اگر چاچی کے گھر چلی جاتی تو انہیں خوب سلواتیں سننا پڑتیں۔ اوپر سے ظلم یہ کہ ہماری مائیں بھی چاچی کی طرف دار بن کر ہمکو ہی سناتیں۔کسی کو انکا یاد نہ رہا اور پھر ایک دن خبر آئی کہ چاچی وفات پاگئ ہیں۔ محلے کی عورتیں چند دن ہا ہائے کرتی رہیں اور ہم چاچی کے چھڑپوں کو یاد کرتے رہے۔ اور پھر زندگی کی دور دھوپ نے ہمیں یاد ہی کرنے کا موقع نہ دیا کہ ایک چاچی نکی بھی ھوا کرتی تھیں۔وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے چاچی نکی۔ وہ اب نہیں رہیں۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ Last edited by رضی; 18-12-10 at 01:45 AM. |
|
|
|
| 24 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | J.S (19-12-10), shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (18-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), یاسر عمران مرزا (18-12-10), ڈاکٹرنور (20-12-10), نیلم خان (18-12-10), محمدخلیل (19-12-10), محمدعدنان (18-12-10), مرزا عامر (12-01-11), معظم (20-12-10), wajee (27-01-11), بزم خیال (19-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (18-12-10), حیدر (08-10-11), سحر (18-12-10), شبنم (20-02-11), طاھر (19-12-10), عبدالقدوس (19-12-10), عبداللہ آدم (18-12-10), عبداللہ حیدر (18-12-10), عدنان دانی (19-12-10), عروج (21-12-10), غلام خان (18-12-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ناجانے کیوں آج مجھے چاچی نکی کے بارے میں تحریر کر کے یہ محسوس ھو رہا ہے کہ اپنے چند دوستوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کردار ہین جن کو اپنے ذہن کے گم شدہ خانوں سے دوبارہ کریدوں تو ان پر تحریر کیا جاسکتا ہے۔
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (18-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), محمدعدنان (18-12-10), بزم خیال (19-12-10), حیدر (08-10-11), عبداللہ آدم (18-12-10), عروج (21-12-10), غلام خان (18-12-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اچھا لکھا ہے رضی!!!
![]() چند جگہوں پر ربط اور ہجوںکی غلطیاںہیں۔ اُنہیںاگر درست کردو تو بہتر ہوگا!!! مجھے تمھاری دوسری تحاریر کا انتظار رہے گا!!!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لکھیںیار رضی بھائی عرف کاکے
ہم آپکی یادیں ذوق و شوق سے پڑھیں گے |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-12-10), ھارون اعظم (18-12-10), نیلم خان (18-12-10), بزم خیال (19-12-10), رضی (18-12-10), عبداللہ آدم (18-12-10), عروج (21-12-10), غلام خان (18-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,161
شکریہ: 25,590
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوبصورت تحریر
مزید تحریر کا انتظار ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رضی بہت خوب
اور بہت بہت شکریہ کہ تم نے اتنے دنوں بعد دوبارہ لکھا ۔ بہت اچھا لگا ، اب تم نے مستقل لکھنا ہے ۔ ہماری اپنی زندگی میںاتنے کردار بکھرے پڑے ہوتے ہیں کہ اگر ایک ایک پر لکھنا شروع کردیں تو پوری کتاب بن جائے ۔ بس تھوڑی محنت کرو اور لکھنا شروع کردو ، اس طرح لکھتے چلے جاو گے مجھے تو بہت اچھا لگا اور بہت خوشی ہوئی ایک بار پہر شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
یہ چیز..........................زبردست جناب رضی ساب!!!
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت اچھی شیئرنگ ہے۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب! لکھنے کے جراثیم آپ میں بدرجہ اتم موجود ھیں اور انداز رومانوی ھے اپنے اندر چھپے ہوئے فنکار کو مزید موقعہ دیں۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-12-10), رضی (18-12-10), عبداللہ آدم (18-12-10), عبداللہ حیدر (18-12-10), عروج (21-12-10) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
رضوان بھائی!پچھلی کسر نکال دی ہے۔ لکھتے رہیں جنوں کی حکایت۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
رضوان بھائی بہت اچھا لگا چاچی نکی کے بارے میںجان کر اللہ پا ک ان کی مغفرت فرمائے آمین
بھائی آپ نے ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے اور آپ کی تحریر پڑھ کر میری بھی کچھ یادیں تازہ ہوگئی ہیں مجھے وہ گرمیوں کی چھٹیاں یاد آگئی جو ہم آپ کے علاقہ یعنی فتح شیر کالونی میں گزارہ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ! وہ بھی کیا دن تھے۔ اب تو بھائی کسی بھی رشتے پہ یقین نہیں آتا کہ کون پل بھر میں چھوڑ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ کی تحریر نے میری بچپن کی یادوں کو تازہ کردیا جو کہ بہت میٹھی ہیں اور مجھے بے حد عزیز ہیں ۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے والسلام
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محبت بھری یادیں۔ سمجھ تو گئے ہوں گے۔ |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
رضی بھائی مجھ میں حوصلہ نہیںہے کہ میںان اچھے بیتے ہوئے دنوں کی یاد کو تازہ کروں اور ایک بار پھر سے غمگین ہو جائوں ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کالج, کتابوں, پاک, قید, چور, نظر, مہنگائی, مکمل, موجودہ, معلوم, آج, انسان, بہترین, بچپن, جھوٹ, جلد, خوش, خلاف, خبر, دل, رشتے, زندگی, طلاق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سریز کے آغاز سے ہی سٹہ باز ذوالقرنین کو گھیرنے کیلئے سرگرم تھے | مزمل فاروق | خبریں | 1 | 09-11-10 11:04 PM |
| پیر ریاض علی شاہ شریعت و طریقت کے مبلغ تھے، عون نقوی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 1 | 29-11-08 08:35 PM |
| فلم ”من تھن“ 30 سنیماؤں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی | خرم شہزاد خرم | فلمی دنیا | 0 | 05-01-08 10:38 AM |
| صحافی گورنر ہاؤس جاکر یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے، پولیس نے اچانک تشدد شروع کردیا | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 21-11-07 08:43 AM |
| جسٹس افتخار کرپٹ تھے ، بعض جج دوسرے ریاستی ستونوں سے ٹکرارہے تھے۔۔۔ مشرف | محمدعدنان | خبریں | 0 | 12-11-07 09:58 AM |