| میر تقی میر میر تقی میر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,352
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہوگیا
گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہوگیا کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر میں تو اسی خیال میں بیمار ہوگیا ہے اس کے حرفِ زیر لبی کا سبھوں میں ذکر کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہوگیا تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہوگیا کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی دل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا کب زد ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کومیرؔ ناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شاعری ہے جناب
شکریہ شئیر کرنے کا |
|
|
|