| میر تقی میر میر تقی میر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پُر خوں کی اک گلابی سے جی ڈھا جائے ہے سحر سے آہ رات گزرے گی کس خرابی سے کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا داغ ہوں اس کی بے حجابی سے کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
| Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا | mama_shalla (12-08-11) |
![]() |
| Tags |
| فارغ, کلی, کم, کس, گی, گلابی, گزرے, پُر, نیم, چاند, آنکھوں, بے, جائے, خوں, خوابی, خرابی, سیکھا, سحر, شرابی, عشق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|