واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > نئے تخلیق کار



نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروں‌کی بیٹھک میں‌لکھیں۔


سلیما پوڈری (سلیم پوڈری)

اس موضوع کے 3 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 65 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-02-10, 09:12 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,254
کمائي: 23,271,353
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,014
2,465 مراسلہ میں 5,569 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سلیما پوڈری (سلیم پوڈری)

سلیما پوڈری (سلیم پوڈری)

سلیما پوڈری (سلیم پوڈری)


“بیٹا تم میرے پاس نا بیٹھا کرو لوگ مجھے غلط سمجھتے ہیں وہ سمھتے ہیں میں ان کے بچوں کو خراب کرتا ہوں اس لیے بہتر ہے بیٹا تم میرے پاس نا بیٹھا کرو”

“چچا سلیم میں آج آپ سے آپ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں”

“نہیں بیٹا ابھی تم جاؤ تم کو کسی نے دیکھ لیا تو وہ مجھے ماریں گے اور تم تو جانتے ہو میں مار برداشت نہیں کرستا ہوں”

” اچھا چچا میں چلتا ہوں کل آپ سے ضرور پوچھوں گا”

“ہاں بیٹا ٹھیک ہے اب تم جاؤ”

کسی زمانے میں سلیم بہت خوبصورت جوان ہوا کرتا تھا ہر کسی کی مدد کرتا اور ہر کسی کے کام آتا علاقے میں اس جیسا خوبصورت جوان کوئی نہیں تھا۔ گندمی لیکن رنگ، گول چہرہ اور اس پر کالی کالی اور موٹی موٹی آنکھیں، ہلکے سنہری بال، ہلکی ہلکی مونچھیں کاٹن کی قمیض شلوار اور ذری کی چپل پہنے رکھتا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی منگنی ہوئی تھی جتنا خوبصورت خود تھا اتنی ہی خوبصورت اور نیک منگیتر ملی تھی اس کوکسی چیز کی کمی نہیں گھر باہر میں عزت بہت خوشگوار زندگی گزر رہی تھی۔ لیکن جانانے سلیم کو کس کی نظر لگ گی اور وہ نجانے کون تھے جنوں نے سلیم کو پوڈر جیسی لعنت پر لگا دیا۔ یہ لعنت سلیم کے ایسے گلے پڑی کے اس کے بڑے بھائی نے اس کو گھر سے باہر نکال دیا۔ جتنا لوگ اس سے محبت کرتے تھے اب اتنا ی نفرت کرنے لگے کوئی بھی سلیم کو اپنے گھر نا آنے دیتا اور اپنے بچوں کو بھی سلیم سے دور رکھتے۔ سلیم کی حالت دیکھی نا جاتی تھی۔ کبھی کسی گلی میں اور کبھی کسی میدان میں پڑا ہوتا کوئی پوچھنے والا نا ہوتا۔

میں نے بہت دفعہ کوشش کی چچا سلیم سے پوچھنے کی کے وہ سلیم سے سلیما پوڈری کیسے بنا۔

لیکن وہ مجھے اپنے پاس بیٹھنے ہی نہیں دیتے تھے۔

” بیٹا اچھوں کے پاس بیٹھو گے تو اچھے کام سیکھو گے اور غلط لوگوں کے پاس بیٹھو گے تو غلط کام سیکھو گے۔ مجھے سب غلط کہتے ہیں تم میرے پاس نا بیٹھا کرو جاؤ گھر چلے جاؤ”

مجھے اب بھی چچا سلیم کی باتیں یاد آتی ہیں تو ایک اداسی سی چھا جاتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے میری امی کسی کام کے لیے بلا رہی تھیں لیکن میں کھیل رہا تھا اور امی کو کہتا آپ جائیں میں کھیل کر آتا ہوں یہ سب چچا سلیم نے کہیں سے دیکھ لیا تو اگلے دن کہنے لگے۔

” بیٹا ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے دیکھو نا میں نے اپنی ماں کی عزت نہیں کی تو مجھے دنیا میں ہی دوزخ مل گی ہے ماں کا خیال رکھا کرو اور ماں کی بات سنا کرو ورنہ میرے جیسا حال ہو گا اور میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی ماں کا لال میری طرح ہو”۔

سلیم چچا کی ماں ہر وقت ان لوگوں کو بدعا دیتی جنوں نے سلیم کو اس لعنت کی عادت ڈالی تھی سلیم کی منگیتر ہر روز چھت پر جا کر چھپ چھپ کر سلیم کو دیکھتی اور روتی رہتی میں ان دنوں میٹرک میں پڑھتا تھا جب چچا سلیم کی حالت بہت خراب ہوگئی کسی نے آ کر ان کے بڑے بھائی کو بتایا پہلے تو بڑۓ بھائی نے کچھ نا کیا لیکن پھر بھائ کا کچھ خیال آ گیا اور اس کی طرف بھاگے اس سے پہلے ہی علاقے والوں نے ان کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔ چچا سلیم ہمارے ساتھ والے گھر میں رہتے تھے۔ چچا سلیم کی اس حالت کی وجہ سے کسی نے بھی ان کی طرف توجہ نا دی اور الٹا ان سے نفرت کرنے لگے جس کی وجہ سے چچا سلیم گھر میں نہیں آتے تھے بلکے ان کا بڑا بھائی ان کو گھر داخل ہی نہیں ہونے دیتا تھا۔ آج جب ان کی حالت بہت خراب ہوئی تو انکا بھائی بھی ہسپتال کی طرف بھاگا لیکن پتہ چلا کے وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ میں اس وقت تو اس بارے میں کچھ سوچ نا سکا لیکن آج مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے کہ جو بُرے لوگے نظر آتے ہیں وہ اصل میں بُرے نہیں ہوتے بلکے ان کو بُرا بنانے میں ہماراہاتھ ہوتا ہے۔ میری اکثر چچا سلیم سے بات ہوتی تھی وہ مجھے ہمیشہ نصحت ہی کرتے تھے حالانکہ میرا ان سے کوئی خون کا رشتہ نہیں تھا لیکن وہ مجھے اس طرح بیٹا کہتے تھے جیسے کے میں ان کا سگا بیٹا ہوں۔ میں سوچتا ہوں ہم یہ تو سوچتے ہیں۔ کہ وہ پوڈری بن گیا ہے، وہ چور بن گیا ہے، وہ ڈاکو بن گیا ہے، وہ بُرا انسان بن گیا ہے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ ان کو اس حال میں لانے والا کون ہے کیا وجہ ہوئی جو وہ اس حالت کو پہنچے چور کی کیا مجبوری تھی کہ وہ چوری کرنے نکل پڑا لیکن ہم تو بُرے کو بُرا ہی کہتے ہیں اس کے بُرے ہونے کی وجہ نہیں تلاش کرتے

خرم شہزاد خرم
__________________
میری وجہ سے جس جس کو بھی تکلیف پہنچی ہے میں ان سب سے معافی چاہتا ہوں ۔ خاص طور پر آپ سے جو اس دستخط کو پڑھ رہے ہیں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 12 صارفین نے خرم شہزاد خرم کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
shafresha (07-02-10), فیصل ناصر (08-02-10), ھارون اعظم (07-02-10), یحیٰی (07-02-10), منتظمین (08-02-10), ام طلحہ (09-02-10), ابو عمار (07-02-10), راجہ اکرام (07-02-10), رضی (07-02-10), سحر (07-02-10), عبداللہ حیدر (08-02-10), عدنان (08-02-10)
پرانا 07-02-10, 11:53 PM   #2
ذیلی ناظم
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 7,252
کمائي: 118,127
شکریہ: 14,207
5,250 مراسلہ میں 11,725 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب خرم بھائی
اسی لئے کہتے ہیں کہ برے سے نہیں بلکہ برائی سے نفرت کرو، برے کو ختم کرنے سے برائی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برائی کو تلاش کرو، اس کے اسباب کا قلع قمع کرو، انشاء اللہ برے خود بخود اچھے ہو جائیں گے۔
ہمارے ہاں اس طرح کے رویے پروان چڑھ گئے ہیں کہ جو تھوڑا برا ہو وہ ان ریوں کی وجہ سے مزید برا ہوتا جاتا ہے اور پھر ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

اللہ ہمیں رویے بدلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

محتاج اصلاح و دعا
راجہ اکرام آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے راجہ اکرام کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
ھارون اعظم (07-02-10), خرم شہزاد خرم (10-02-10), عدنان (08-02-10)
پرانا 08-02-10, 02:43 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,470
کمائي: 37,374
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,102
3,831 مراسلہ میں 9,547 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 4 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
یحیٰی (08-02-10), خرم شہزاد خرم (10-02-10), سحر (08-02-10), عدنان (08-02-10)
پرانا 09-02-10, 03:15 PM   #4
Senior Member
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 33
مراسلات: 3,848
کمائي: 195,659
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,648
2,917 مراسلہ میں 7,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہترین تحریر اور بہترین سوچ۔ لاجواب ہے۔
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Bookmarks

Tags
کوشش, گھر, پڑی, لوگ, نفرت, چور, نظر, ماں, محبت, آج, انسان, بھائی, بچوں, تلاش, جیسی, خون, دیکھو, دنیا, زندگی, شہزاد, علاقے, عادت, عرصہ, عزت, غلط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
افغانی دوست کو کیا جواب دوں؟ سلیم صافی ھارون اعظم سیاست 3 28-11-09 04:10 PM
دلِ ناداں / عقل ِ سلیم سیپ گپ شپ 4 17-08-08 09:42 AM
سلیم الطاف عہدے سے فارغ عدنان کرکٹ 0 13-06-08 02:37 AM
سلیم اللہ خان کی فاروق ستار سے تعزیت عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 08:16 AM
سلیم اول خرم شہزاد خرم تاریخ کا آئینہ 1 09-08-07 04:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger