| نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروںکی بیٹھک میںلکھیں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
اگر انسان شیخ چلی کی طرح خوابوں میں رھنے کے بجائے، اگر صدق دل اور اچھے جذبے سے جتنی محنت کرے گا تو اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دے گا، پرانے وقت کے دور میں لوگ محنت ضرور کرتے تھے لیکن زیادہ لالچ نہیں کرتے تھے کچھ وقت اپنے لئے ، اپنے بچوں کےلئے اور دوسروں کے لئے بھی نکالتے تھے اس کے علاوہ اپنی اور اہل و عیال کی صحت اور خوراک کی طرف بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے، کم اور بہتر تازہ غذا، ورزش، نماز کی مکمل پابندی اسکے علاوہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد کچھ چہل قدمی کرکے، اپنے دوست نمازیوں کے ساتھ نماز سے فارغ ھوکر ایک چھوٹی سی چوپال لگاتے، مسئلے مسائل حل کرتے اور کچھ گپ شپ کرتے اور کوشش یہی ھوتی تھی کہ جلد سے جلد سو جائیں کچھ بزرگ تو یاد الہٰی میں رات بھی گزارتے تھے اور تہجد اور نوافل کی نمازوں کے ساتھ اپنی مسجد میں اللۃ کے ذکر کا اہتمام بھی کرتے تھے-
اُس وقت زیادہ تر لوگ اپنے وسائل کے اندر ھی رہ کے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے یعنی جتنی چادر ھوتی تھی اتنے ھی اپنے پیر پھیلاتے تھے، بلکہ لوگ تو صدقہ خیرات بھی خوب کرتے تھے اور محلے کے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی دیتا تھا، اور سکون کے ساتھ ساتھ خوشیوں کا بونس بھی ملتا تھا، اس زمانے میں قلیل آمدنی ھونے کے باوجود لوگوں کے دل بہت وسیع تھے، ایسے بھی مگر بہت کم لوگ دیکھنے میں آتے تھے جو ھمیشہ پریشان رھتے اور قرضہ میں ڈوبے رھتے اس کی وجہ وہی تھی کہ وہ قدرتی قانون کی پیروی نہیں کرتے تھے، اور اچھے اور متقٌی لوگوں سے دور بھاگتے تھے تاکہ وہ نصیحتیں سننے سے بچ جائیں، مگر بعد میں انہیں کے پاس جاکر ھاتھ بھی خود ھی پھیلاتے تھے - اُس وقت کے لوگوں میں معاوضہ سے زیادہ محنت کرنے کی ایک لگن اور اچھے سے اچھا نتیجہ یا یوں کہہ لیں کہ کم سے کم وقت میں، ایک عمدہ معیار کو ابھارنے کی کوشش میں لگے رھتے تھے، انہیں یہ یقین تھا کہ جتنی ایمانداری اور جستجو سے وہ کام کریں گے اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دے گا - آجکل ھمارے اندر یقین نام کی کوئی چیز نہیں ھے، اور بھروسہ تو بالکل اٹھ چکا ھے، تو سوچ لیں کہ برکت کیسے ھوگی، آج ھم روپئے اور پیسے ھی کو اپنا سب کچھ مانتے ھیں، اعلیٰ معیار، ایمانداری اور محنت کی طرف تو کسی کا بھی دھیان ھی نہیں ھے، یعنی کہ اب بالکل ھم لوگ اسکے برعکس چل رھے ھیں، ھمارے ذہن میں ایک کونہ تو بالکل ھی کورا ھو چکا ھے اور کچھ بھی ماننے کو تیار ھی نہیں کہ اگر ھم محنت اور ایمانداری سے کام کریں گے تو اس سے ھماری ھی ذات کو اس کا فائدہ نہیں ھوگا بلکہ اس سے ھم اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار کی حیثیت سے ھر ایک سنگ میل کا نیا اضافہ بھی ھو گا، اگر ھر انفرادی قوت مل کر ایک جان ھوجائیں اور مشترکہ طور سے ایک دوسرے کا ہاتھ پٹائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ھم اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑا نہیں کرسکتے، ھمارے سب کے اندر بہت زیادہ قدرت کی پیدا کی ھوئی خداداد صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ھیں- ایک سب سے بری خامی یہ ھے کہ ھم اپنے ھر پیشہ کو ایک علیحدہ علیحدہ اسٹینڈرڈ کے پیمانے میں رکھ کر تولتے ھیں، جبکہ پہلے وقت میں کوئی بھی شخص کسی بھی پیشہ کو برا نہیں سمجھتا تھا، جس طرح کہ اب بھی باھر کے ملکوں میں گریجویٹ لوگ ھیں لیکن وہ ڈرائیونگ بھی کررھے ھیں کھیتوں میں کام کررھے ھیں، پٹرول پمپ اور کیفے یا ریسٹورنٹ میں ویٹر اور مزدور، صفائی ستھرای کرنے والے بھی اچھے تعلیم یافتہ ھیں، لیکن وہاں کوئی بھی کسی پیشہ کو برا نہیں سمجھتے، کوئی بھی کام ھو وہ لوگ لگن اور محنت سے اور خوشی سے کرتے ھیں اور ان سے منسلک کسی بھی کام میں ایک اچھے سے اچھا میعار لانے کیلئے اپنی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں، میرے بچپن کے وقت ھمارے محلے میں بھی ھر قسم کے پیشے سے رکھنے والے ایک ساتھ مل جل کر رھتے تھے، اس میں بابو لوگ سوٹ بوٹ میں دفتر جاتے تھے، تو ساتھ وہاں معمار، بڑھئی اور لوہار حضرات بھی تھے، رکشہ،اور ٹیکسی ڈرائیور اس کے علاوہ بس کے کنڈکٹر بھی تھے، گدھا گاڑی چلانے، اور خود ٹھیلے پر سبزی، گوشت اور شربت فالودہ بیچنے والے بھی وہیں رھائیش پذیر تھے، فوجی جوان ھو یا کوئی صوبیدار ھو یا پولیس سے تعلق ،موچی، نائی یا دھوبی بھی گاڑی کے مکینک حضرات بھی ساتھ ھی رھتے تھے اس کے علاوہ گھڑی ریڈیو اور گراموفون کے مکینک بھی موجود تھے ، دو تیں ڈاکٹر بھی تھے ساتھ نرس اور دائیاں بھی تھیں، صفائی کرنے والے بھی موجود تھے، اور ایک اچھی بات یہ تھی کہ ھر ایک اپنے محلے کے لئے بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے تھے، غرض کہ ھر پیشہ سے منسلک لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ھوکر آتے تو سب ملکر اپنے محلے کی مسجد میں اکھٹا ھو کر نماز باجماعت پڑھتے تھے، اگر کوئی موجود نہ ھوتا تو اسکے گھر جاکر ظبعیت کی خبر گیری کرتے، اور بلاناغہ ھر رات کو ایک ایک سب بڑوں کی ایک بیٹھک ھوتی تھی اور گپ شپ کے علاوہ ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی اپنی ماھرانہ رائے اور خدمات پیش کرتے تھے، شادی بیاہ سے لیکر گھر کی ریپئر وغیرہ تک میں سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، اور کسی کے ھاں اگر کوئی مہمان آجاتا تو وہ پورے محلے کا مہمان ھوتا، حتیٰ کہ محلے کی نالیاں وغیرہ صاف کرنے کےلئے بھی سب ملکر اپنی خدمات پیش کرتے تھے- ایسی بات نہیں ھے کہ اب ھمارا وہ جذبہ نہیں رھا یا وہ صلاحتیں ختم ھو گئیں، اب بھی ھم سب میں وھی ماہرانہ صلاحیت اور خصوصیات موجود ھیں، جیساکہ ھم سب جو آجکل بیرونی ممالک میں اپنی ماھرانہ خدمات انجام دے رھے ھیں اور دوسرے ملک ھماری انہی خصوصیات سے فائدہ بھی اٹھا رھے ھیں، یہاں ھم جتنی محنت کرتے ھیں اگر اسی لگن کے ساتھ اس سے آدھی بھی اگر ھم اپنے ملک میں محنت کریں تو ھمارے ساتھ ساتھ ھمارے ملک کو اتنا فائدہ ھو کہ ھم سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن افسوس کہ ھم سب جو باہر ھیں بہت مجبور ھیں کہ ھمیں اپنی صلاحیتوں کو اپنے ھی ملک میں ابھارنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ھر جگہ اچھی پوسٹ کیلئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ھے، کیڈٹ اور سول سروسز میں عام لوگوں کے بچوں کا جانا ایک معجزے سے کم نہیں ھے، اگر کوئی ایمانداری سے کوئی کاروبار کرنا چاھتا ھے تو وہ اپنے ھی بڑے اداروں کے پلے ھوئے بدمعاشوں کو بھتہ دیئے بغیر ان کے زیر اثر آئے بغیر کوئی کام شروع نہیں کرسکتے- یہاں تک کہ بھیک مانگنے والوں کو، فٹ پاتھ پر بیچنے والوں کو، بازار میں ٹھیلا لگانے والوں کو بھی ھر جگہ کی مناسبت سے ماھانہ یا روزانہ یا ھفتہ وار ایک اچھی خاصی رقم وھاں کے علاقے کے مقرر کردہ فرد واحد کو ادا کرنی پڑتی ھے جو علاقے کا مستند بدمعاش ھوتا ھے، چاھے کمائی ھو یا نہ ھو، ھر کوئی انکا کھاتہ پورا کرنے کیلئے بے ایمانی کرنے پر مجبور ھے کیونکہ اگر اس نے مقررہ وقت سے پہلے بھتہ کی رقم نہ چکائی تو وہ اس دھندے سے بے دخل ھو سکتا ھے، یہی حال چھوٹے بڑے ھوٹلوں ریسٹورنٹ اور یا کوئی بھی کاروبار ھو بغیر کھلائے پلائے شروع نہیں کرسکتے اور جو کررھے ھیں وہ دوسروں کو بھتہ تو ضرور دیتے ھیں لیکن سرکار کو انکم ٹیکس دینے سے پیچھے بھاگتے ھیں - ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ھیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ھر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ھوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ھے کہ کہیں کھو گئی ھے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
__________________
اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے سے دیکھیں کتنا سکون ملتا ہے،!!!! |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
شاید میری یہ تحریر کسی کی نظر سے گزری ھی نہیں، یا پسند نہیں آئی، علاوہ عمیر نعیم صاحب کے، جنہوں نے شکریہ ادا کیا ھے،!!!!!!!!!!!!!
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
عبدالرحمن صاحب آپ نے شاید اسے نہیں دیکھا "اس موضوع کے 1 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 145 مرتبہ دیکھا گیا ہے"
محترم ضروری نہیں کہ ہر مراسلہ کا جواب دیا جائے کچھ چیزیں لاجواب ہوتی ہیں جن میں سے ایک آپ کی تحریر ہے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (12-10-08), عبدالرحمن سید (12-10-08) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بعض اوقات مراسلات کے سیلاب میں کچھ اچھی تحریریں بھی دب سی جاتی ہیں- لیکن اپ اپنے مراسلات میں یہ دیکھیں کہ کتنے لوگوں نے اس کو پڑھا ہے۔ ہمارے پاس زیادہ تر تارکین وطن آتے ہیں جن کے لیے اردو میں لکھنا نہائت مشکل امر ہے۔ وہ پڑھ لیں اتنا بھی ہمارے لیے کافی ہوتا ہے۔
اللہ اپکو جزائے خیر دے
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (12-10-08), عبدالرحمن سید (12-10-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
ِآپ سب کا بہت بہت شکریہ،!!!!
میں معذرت چاھتا ھوں، شاید غلط فہمی میں تھا کہ بس لوگ یونہی دیکھ کر چلے جاتے ھیں، اپنی کوئی رائے نہیں دیتے، خوش رھیں،!!!! آج مجھے یہ دیکھ کر خوشی ھورھی ھے کہ میرے ای میل ایڈریس پر آپکی محفل کی طرف سے لوگوں کے پیغامات کی بھرمار ھے،!!!!! خوش رھیں،!!!!! |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں عبدالرحمن سید صاحب۔
امید ہے آپ فورم پر اردو کی ترویج کے لیے ھمارا ساتھ دیتے رہیںگے۔ |
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالرحمن سید (18-10-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبدالرحمن صاحب ہم امید کرتے ہیں آپ اسی طرح ہم سب کی رہنمائ کرتے رہیں گے -
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مزمل فاروق کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (13-10-08), عبدالرحمن سید (18-10-08) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,284
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالرحمن سید (18-10-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ سیدہ ثوبیہ ناز جی،!!!!!!
Last edited by عبدالرحمن سید; 19-10-08 at 01:45 PM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 856
کمائي: 1,506
شکریہ: 196
364 مراسلہ میں 603 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریر ہے لیکن آپ با ٹایپ کرنا بھول گۓ اور 1 ٹایپ کر دیا
شکریہ بھائی |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبر دست تحریر ہے ۔۔۔۔۔ شکریہ
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
ہم اس دور میں کیوں ہیں
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
ھم اس دور میں کیوں ھیں،؟؟؟؟؟؟؟ میں خود بھی اپنے آپ سے سوال کرتا ھوں کہ وہ پرانا دور بھی دیکھا اور اب اس دور سے بھی گزررھا ھوں، کبھی کبھی میں یہ بھی سوچتا ھوں کاش کہ میں اس زمانے کے شروعات سے پہلے ھی اس دنیا سے گزر جاتا تو کتنی اچھی بات ھوتی،!!!!!!!
ایک تو میں یہی کہوں کہ جو پرانے لوگ ھیں انہیں اس دور کی نئی نسل کو اپنے پرانے وقتوں کے حوالے سے سدھارنے کی کوشش کرنی چاھئے، اور آج کل کی نئی نسل کو بھی چاھئے کہ وہ اپنے بڑوں کی اچھی باتوں اور نصیحتوں کو سنیں سمجھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی کریں،!!!!! یہ ھمارے اس گزرتے ھوئے دور کا کوئی قصور نہیں ھے، یہ ھمارا اپنا قصور ھے کہ ھم نے اپنی روایتوں کو بدل ڈالا اور اپنی قدروں کو کھو بھی چکے، ھم خود ھی اپنے بنائے ھوئے جال میں پھنستے جارھے ھیں، جس کا کہ ھمیں خود ھی اندازہ نہیں ھے، ھم نے خود اپنی ضروریات زندگی کے معیار کو جدید فیشن کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بہت ھی زیادہ بڑھالیا ھے، جبکہ اس کے بغیر بھی زندگی رواں دواں رہ سکتی تھی، اور اپنے وسائل میں رھتے ھوئے بھی اپنی زندگی بہت ھی اھم ضروریات کو نئے تقاضوں کے مطابق پورا بھی کرسکتے تھے،!!!!! لیکن ھم مہنگائی کا رونا روتے بیٹھ جاتے ھیں،!!!!!!! ایک تو ھم نے کفائت شعاری اور میانہ روی کو بالائے طاق رکھ دیا ھے، بھوک سے زیادہ کھانے کو ترجیح، اور ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانے پینے کا سامان اپنے ریفریجریٹر میں ذخیرہ کرتے ھوئے ھر پکوان میں ایک نئی جدت کے ساتھ وافر مقدار میں کھانا پکانے کی تیاری کرکے ایک اچھی خاصی مقدار کو ضائع بھی کررھے ھیں،!!!!! اس کے علاوہ نت نئے فیشن، شادی بیاہ کی فضول رسومات سے متعلق کپڑے اور دوسری تیاریوں اور جدید ایجادات کا مارکیٹ میں دیکھ کر اسکے حصول کیلئے اپنے ایک دیوانے پن کا مظاہرہ کرتے ھوئے اپنی قلیل آمدنی کا ایک اچھا خاصہ بڑا حصہ اسکی نظر کردیتے ھیں،!!!!!! بچت نہ ھونے کے باوجود بھی آپ قرض لینے سے بھی نہیں چوکتے اور اپنے آپ کو قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں بنکوں اور دوسروں لوگوں کو سود جیسی حرام چیز میں اپنے آپ کو ملوث کر لیتے ھیں،!!!!!! کیا ھم آپس میں مل بیٹھ کر آپس کے باھمی مشوروں سے ان تمام فضولیات کو روکنے میں کیا کوئی اقدام اٹھا نہیں سکتے، ایک چھوٹی سی مثال کہ کیا اپنے بچے کو ایک مہنگا ترین موبائل دینے کے بجائے ایک سادے اور سستے موبائل کی طرف اس کی رغبت نہیں کراسکتے، بجائے گوشت اور سبزیوں کے فضول ریفریجریٹر میں جمع کرنے کے کیا آپ روز اپنی ضرورت کے مطابق تازہ گوشت سبزی نہیں لا سکتے،!!!!!! کیا ضروری ھے کہ پینے کیلئے برف یا ریفریجریٹر کا ھی پانی پیا جائے، مٹی کے مٹکے کے پانی کا اپنا ھی ایک الگ صواد ھے،!!!!!!! کیا کبھی ھم نے کچھ اس بارے میں سوچا ھے،؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (19-06-11) |
![]() |
| Tags |
| پولیس, پوسٹ, لوگ, نماز, مکمل, ممکن, مسائل, مسجد, آج, انسان, اردو, اعلیٰ, بچپن, بچوں, تحریر, تعلیم, جواب, جلد, حل, حال, خبر, دوست, دل, صحت, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لذت آشنائی- گذشتہ مکمل - زندگی کی پنہاں حقیقتوں اور لذتوں سےآشکار ہوں | گوہر | اپکے کالم | 2 | 29-12-10 09:44 AM |
| نفرتوں کو محبتوں کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، صابر بدر جعفری | خرم شہزاد خرم | فن و فنکار | 1 | 19-10-10 08:15 AM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے | احمدنواز | شعر و شاعری | 23 | 12-11-09 03:14 PM |
| ::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 1 | 15-09-09 11:16 AM |
| باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے | aliali | شعر و شاعری | 5 | 05-12-07 02:22 PM |