|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شادی کی رات وہ نہ ھوا جو مدن نےسوچا تھا - جب چکلی بھابی نےمدن کو بیچ والےکمرےمیں دھکیل دیا تو اندو سامنےشالوںمیںلپٹی ھوئی اندھیرےکا بھاگ بنی جارھی تھی باھر چکلی بھابی دریا باد والی پھوپھی اور دوسری عورتوںکی ھنسی رات کےخاموش پانیوںمیںمصری کی طرح دھیرےدھیرےگھل رھی تھی عورتیںسب یہی سمجھتی تھیںاتنا بڑا ھو جانےپر بھی مدن کچھ نہیںجانتاکیونکہ جب اسےبیچ رات کی نیند سے جگایا گیا تو وہ ھڑ بڑا رھا تھا - کہاں,کہاںلئےجارھی ھو مجھے؟ٰ" ان عورتوںکےاپنےدن بیت چکےتھےپہلی رات کے بارےمیںانکےشریر شوھوروںنےجو کچھ کہا اور مانا تھااس کی گونج تک انکےکانوںمیںباقی نہ رھی تھی وہ خودرس بس چکی تھیںاور اب اپنی ایک بہن کو بسانےپر تلی ھوئی تھیںدھرتی کی یہ بیٹیاںمرد کو یوںسمجھتی تھیںجیسےبادل کا ٹکڑا ھو جس کی طرف پارش کےلئےمنھ اٹھاکر دیکھنا ھی پڑتا ھےنہ برسےتو منّتیںمانگنی پڑتی ھیںچڑھاوےچڑھانےپڑتےھیںجاد و ٹونےکرنےپڑتے ھیںحالانکہ مدن کا کالکاجی کی اس نئی آبادی میںگھر کےسامنےکھلی جگہ پر پڑا اس وقت کا منظر تھا پھر شامت اعمال پڑوسی سبطےکی بھنس اس کی کھاٹ ھی کےپاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ھوئی مدن کو سونگھ لیتی اور وہ ھاتھ اٹھاکر اسےدور رکھنےکی کوشش کرتا -- ایسےمیںبھلا نیند کا سوال ھی کہاںتھا ؟ٰسمندر کی لہروںاور عورتوںکےخون کا راستہ بتانےوالا چاند ایک کھڑکی کےراستےاندر چلا آیا تھا اور دیکھ رھا تھا دروازےکےاس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہا رکھتا ھے؟ٰمدن کےاپنےاندر ایک گھن گرج سی ھو رھی تھی اور اسےاپنےآپ یوںمعلوم ھو رھا تھا جیسےبجلی کا گھمبا ھےجسےکان لگانے سےاندر کی سنسناھٹ سنائی دےجائےگی -کچھ دیر یوںھی کھڑا رھنےکےبعد اس نےآگےبڑھکر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میںکر دیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے-پھر وہ ٹھٹھک گیا جب ھی اس نےسوچا اندر میری بیوی ھےکوئی پرائی عورت تو نہیںجسےنہ چھونےکا سبق بچپن ھی سےپڑھتے آیا ھوںشالوںمیںلپٹی ھوئی دلہن کو دیکھتےھوئے اس نےفرض کر لیا یہاںاندو کا منھ ھوگااور ھاتھ بڑھا کر اس نےپاس پڑی ھوئی گھڑی کو چھوا تو وھیں اندو کا منھ تھامدن نےسوچا وہ آسانی سےمجھے اپنےآپ نہ دیکھنےدےگی لیکن اندو نےایسا کچھ نہ کیاجیسےپچھلےکئی سالوںسےوہ بھی اس لمحے کی منتظر ھو اور کسی خیالی بھینس کو سوگھتے رھنےسےاسےبھی نیند نہ آرھی ھو غائب نیند اور بند آنکھوںکا کرب انڈھیرےکےباوجود سامنےپھڑ پھڑاتا ھوا نظر آرھا تھا تھوڑی دیر تک پہچتےھوئے عام طور پر چہرہ لمبوتراہ ھو جاتا ھےبس یہاں تو سبھیگول تھا شاید اسی لئےچاندنی کی طرف گال اور ھونٹوںکےبیچ سایہ دار کھوہ سی بنی ھوئی تھی جیسےسبز اور شاداب ٹیلوںکےبیچ ھوتی ھے ماتھا کچھ تنگ تھا لیکن اس پر ایکایکی اٹھنےوالے گھنگھرالےبال ---- جبھی اندو نےاپنا چہرہ چھڑا لیا جیسےوہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ھو لیکن اتنی دیر کےلئےنہیں آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ھوتی ھےمدن نے ذرا سخت ھاتھوںسےیوںسی ھوںھاںکرتےھوئے دلہن کا چہرہ پھر سےاوپر کو اٹھا لیا اور شرابی کی سی آواز میںکہا -----اندو!" اندو کچھ ڈر سی گئی زندگی میںکسی اجنبنی نے پہلی بار اس انداز سےاس کا نام پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سےرات کےاندھیرے میںآھستہ آھستہاس اکیلی بےیارو مددگار عورت کا اپنا ھوتا جارھا تھا اندو نےپہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتےھوئےپھر آنکھیںبند کر لیںاور اتنا سا کہا ---"جی "---اسےخود اپنی آواز کسی پاتال سےآتی ھوئی سنائی دی - دیر تک کچھ ایسا ھی ھوتا رھا پھر ھولےھولےبات چل نکلی اب جو چلی سو چلی وہ تھمنےھی نہ آتی تھی اندو کےپتا اندو کی ماںاندو کےبھائی مدن کےبھائی بہن ماںباپ انکی ریلوےمیںسروس کی نوکری انکےمزاج کپڑوںکی پسند کھانےکی عادت سبھی کچہ کا جائزہ لیا جانےلگا بیچ بیچ میںمدن بات چیت توڑ کر کچھ اور ھی کرنا چاھتا تھالیکن اندو طرح دےجاتی تھی انتہائی مجبوری اور لاچاری میںمدن نےاپنی ماںکاذکر چھیڑ دیا , جو اسےسات سال کی عمر میںچھوڑکر دق کے عارضےسےچلتی بنی تھی جتنی دیر زندہ رھی بچاری " مدن نےکہا---بابوجی کےھاتھ میںدوا کی شیشیاں ھی رھیںھم ھسپتال کی سیڑھیوںپر اور چھوٹا پاشی گھر میںچیونٹیوںکےبل پر سوت ےرھےاور آخر ایک دن 82 مارچ کی شام ----"مدن چپ ھو گیا چند ھی لمحوںمیںوہ رونےسےذرا ادھر اور گھگھی سےذرا ادھر پہنچ گیا اندو نےگھبراکر مدن کا سر اپنی چھاتی سےلگا لیا اس رونےنےپل بھر میںاندو کو بھی اپنےپن سےادھر بیگانےپن سےادھرپہنچا دیا تھا ----مدن اندو کےبارےمیں کچھ اور بھی جاننا چاھتا تھا لیکن اندو نےاس کےھاتھ پکڑ لئےاور کہامیںتو پڑھی لکھی نہیں ھوںجی پر میںنےماںباپ دیکھےھیںبھائی اور بھابھیاںدیکھی ھیںبیسوںاور لوگ دیکھےھیں اس لئےمیںکچھ سمجھتی بوجھتی ھوںمیںاب تمہاری ھوںاپنےبدلےمیںتم سےایک ھی چیز مانگتی ھوں-" روتےوقت اور اس کےبعد بھی ایک نشہ سا تھا - مدن نےکچھ بےصبری اور کچھ دریادلی کےملے جلےشبدوںمیںکہا: کیا مانگتی ھو تم جو بھی کہو گی میںدیدوںگا-" پکّی بات -اندو بولی - مدن نےکچہ اتاولےھوکر کہا --ھاںھاں-کہاجو پکّی بات " لیکن اس بیچ میںمدن کےمن میںایک وسوسہ آیا میرا کاروبار پہلےھی مندا ھےاگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لےجو میری پہنچ سےباھر ھو تو کیا کروںگا ؟ٰ لیکن اندو نےمدن کےسخت اور پھیلےھوئےھاتھوں کو اپنےملائم ھاتھوںسمیٹےاور ان پر گال رکھتے ھوئےکہا -- تم اپنےدکھ مجھےدےدو -- مدن سخت حیران ھوا -ساتھ ھی اسےاپنےآپ پر سے ایک بوجھ اترتا ھوا محسوس ھوا اس نےچاندنی میں ایک بار اندو کا چہرہ دیکھنےکی کوشس کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا اس نےسوچا یہ ماںیا کسی سہیلی کا رٹا ھوا فقرہ ھوگا جو اندو نےکہہ دیا جبھی ایک جلتا ھوا آنسو مدن کی ھاتھ کی پشت پر گرا اس نے اندو کو اپنےساتھ لپٹاتےھوئےکہا - "دیئے"لیکن ان سب باتوںنےمدن سےاس کی بہمت چھین لی تھی -- مہمان ایک ایک کرکےسب رخصت ھوئےچکلی بھابھی دو بچوںکو انگلیوںسےلگائےسیڑھیوںکی اونچ نیچ سےتیسرا پیٹ سنبھالتی ھوئی چل دی دریاباد والی پھوپھی جو اپنےنولکھےھار کےگم ھو جانےپر شور مچاتی واویلا کرتی ھوئی بےھوش ھو گئی تھی اور جو غسل خانےمیںپڑا مل گیا تھا جہیز میںسےاپنے حصےکےتین کپڑےلےکر چلیگئی تھی- گھر میںبوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹےبہن بھائی اور چھوٹی دلاری تو ھر وقت بھابھی کی بغل میں گھسی رھتی تھی گلی محلےکی کوئی عورت دلہن کو دیکھےیا نہ دیکھےاور دیکھتی تو کتنی دیر دیکھتی یہ اس اس کےاختیار میںتھا آخر یہ سب ختم ھوا اور اندو آھستہ آھستہ پرانی ھونےلگی لیکن کالکاجی کی اس نئی آبادی میںآتےجاتےلوگ اب بھی مدن کےسامنےرک جاتےاور کسی بھی بہانےسےاندرچلے آتےاندو انہیںدیکھتی ھی ایک دم گھونگھٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹےسےوقفےمیںانہیںاور کچھ دکھائی دےجاتا وہ بنا گھونگھٹ کےدکھائی نہ دے سکتا تھا - مدن کا کاروبار گندےبروزےکا تھا کہیںبڑی سپلائی والی دو تین جنگلوںمیںچیڑ اور دیوار کےپیڑ کو جنگلکی آگ نےآلیا تھا اور دھڑ دھڑ جلتےھوئے خاک سیاہ ھو گئےتھےمیسور اور آسام کی طرف سےمنگوایا ھوا بروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگےداموںپر خریدنےکو تیار نہ تھےایک تو آمدنی کم ھوگئی اس کےساتھ مدن جلد ھی دکان اور ساتھ والا دفتر بند کرکےگھر چلا آتا گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشس یہی ھوتی کہ سب کھائیں پئیںاور اپنےاپنےبستر میںدب جائیںجبھی وہ کھاتےوقت خود تھالیاںاٹھا اٹھاکر باپ اور بہن کےسامنےرکھتا اور انکےکھانےکےبعد جھوٹےپرتنوں کو سمیٹ کر نل کےنیچےجارکھتا سب سمجھتے بھابی نےمدن کےکان میںکچھ پھونکا ھےاور آج وہ گھر کےکام کاج میںدلچسپی لینےلگا ھے- مدن سب سےبڑا تھا کندن اس سےچھوٹا اور پاشی سب سےچھوٹا جب کندن بھابھی کےسواگت میں سب کےایک ساتھ بیٹھکرکھانےپر اصرارکرتا تو باپ دھنی رام وھیںڈانٹ دیتا "کھاو~ تم --وہ کہتا-- وہ بھی کھالیںگے"اور پھر رسوئی میںادھر ادھر دیکھنےلگتا اور جب بہو کھاپینےسےفارغ ھو جاتی اور برتنوںکی طرف متوجہ ھوتی تو بابو دھنی رام اسےروکتےھوئےکہتے-رھنےدو بہو برتن صبح ھو جائیںگےاندو کہتی نہیںبابو جی میںابھی کئے دیتی ھوںچھپاکےسےبابو دھنی رام ایک لرزتی ھوئی آواز سےکہتےمدن کی ماںھوتی تو یہ سب تمہیںکرنےدیتی ؟ٰ--اور اندو ایک دم اپنےھاتھ روک لیتی -- چھوٹا پاشی بھابھی سےشرماتا تھا اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سےھری ھو چکلی بھابھی اور دریا باد والی پھوپھی نےایک رسم میںپاشی ھی کو اندو کی گود میںڈالا تھا جب سےاندو اسے نہ دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنےلگی تھی جب سے وہ پیار سےپاشی کو اپنےبازو~وںمیںلینےکی کوشش کرتی تو و ہ گھبرا اٹھتا اور اپنا ھاتھ چھڑا کر دو ھاتھ کی دوری پر جاکر کھڑا ھو جاتا دیکھتا اور ھنستا نہ پاس آتا نہ بھاگتا ایک عجیب اتفاق ھےایسےمیں بابو جی وھیںموجود ھوتےاور پاشی کو ڈانٹتےھوئے کہتے--ارےجانا ---بھابھی پیار کرتی ھےابھی سے مرد ھو گیا ھےتو ----؟ٰاور دلاری تو پیچھا ھی نہ چھوڑتی اس کے---میںتو بھابھی کےساتھ ھی سوو~ں گی کےاصرار نےبابو جی کےاندر کوئی جناردھن جگادیا تھا ایک رات اسی بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی اور آدھی پکی نالی میںجاگری اندو نےلپکتےھوئےپکڑا تو سرپر سے دوپٹہ اتر گیا بالوںکےپھول اور چڑیاںمانگ کا سندور کانوںکےکرن پھول سب ننگےھو گئے"بابوجی "اندو نےسانس کھینچتےھوئےکہا ایک ساتھ دلاری کو پکڑنےاور دوپٹہ سنبھالنےمیںاندو کےپسینےچھوٹ گئےاس بےماںکی بچی کو چھاتی سےلگاتےھوئے اندو نےاسےاپنےبستر پر سلادیا جہاںسرھانےھی سرھانےتکیہ ھی تکیہ تھےنہ کہیںپئیتی تھی نہ کا ٹھ کےبازو چوٹ تو ایک طرف کہیںکوئی چبھنے والی چیز بھی نہ تھی پھر اندو کی انگلیاںدلاری کےپھوڑےایسےسر پر چلتی اسےدکھا بھی رھی تھی اور مزہ بھی دےرھی تھی دلاری کےگالوںپر بڑے بڑےاور پیارےسےگڑھےپڑتےتھےاندو نےان گڑھوں کا جائزہ لیتےھوئےکہا --ھائےری منی ! تیری ساس مرےکیسےگھڑےپڑےھیںتیرےگالو ںپر --منّی نےمنّی ھی کی طرح کہا - گڑھےتمہارےبھی تو پڑےھیںبھابھی " ھاںمنو! اندو نےکہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا - مدن کو کسی بات پر غصہ تھا وہ پاس ھی کھڑا تھا سب کچھ سن رھا تھا بولا---- میںتو کہتا ھوںایک طرح سےاچھا ھی ھوا " کیوں"اچھا کیوںھے"اندو نےپوچھا - ھاں-نہ اگےبانس نہ بجےبانسری --ساس نہ ھو تو کوئی جھگڑا ھی نہیںرھتا - اندو نےیکایک خفا ھوتےھوئےکہا تم جاو~ جی سورھو جاکےبڑےآئےھو ---آدمی جیتا ھےتو لڑتا ھےنا؟ٰمرگھٹ کےچپ چاپ سےجھگڑےبھلے جاو~ نا رسوئی میںتمہارا کیا کام ؟ٰ مدن کھسیانہ ھو کر رہ گیا بابو دھنی رام کی ڈانٹ سےپہلےبچےتو بستروںپر جاپڑےتھےجیسے ڈاک گھر میںچٹٹھیاںسارٹ ھوئی ھیںلیکن مدن وھیںکھڑا رھا احتیاج نےاسےڈھیٹ اور بےشرم بنا دیا تھا لیکن اس وقت جب اسےاندو نےبھی ڈانٹ دیا تو وہ روھانسا ھو کر اندر چلا گیا - دیر تک مدن بستر پر پڑا کسمساتا رھا لیکن بابو جی کےخیال سےاندو کو آواز دینےکی ھمت نہ پڑتی تھی اس کی بےصبری کی حد ھو گئی جب منی کو سلانےکےلئےاندو کی لوری سنادی ---تو آنند یارانی ,بورانی مستانی ------- وھی لوری جو دلاری منی کو سلارھی تھی مدن کی نیند بھگا رھی تھی اپنےآپ سےبیزار ھوکر اس نےزور سےچادر کھینچ لی سفید چادرکےسر پر لینےاور سانس بند کر لینےسےخواہ مخواہ ایک مردےکا تصور پیدا ھو گیا مدن کو یوںلگا جیسے وہ مر چکا ھے اور اس کی دلہن اندو اسکےپاس بیٹھی زور زور سےسر پیٹ رھی ھےدیوار کے ساتھ کلائیاںمار مار کر چوڑیاںتوڑ رھی ھے- روتی چلاّتی رسوئی میںجاتی ھےاور باھیں اٹھا اٹھا کر گلی محلےکےلوگوںسےفریاد کرتی ھےلوگو! میںلٹ گئی اب اسےدوپٹےکی پرواہ نہیںمانگ کا سندور بالوںکےپھول اور چڑیاں سب ننگےھو چکےجذبات اور خیالات تک کے طوطےتک اڑ چکےھیں- مدن کی آنکھ سےبےتحاشا آنسو بہہ رھےتھے حالانکہ رسوئی میںاندو ھنس رھی تھی پل بھر میںاپنےسہاگ کو اجڑجانےاور پھر بس جانے سےبےخبر مدن جب حقائق کی دنیا میںواپس آیا تو آنسو پونچھتےھوئےاپنےاس رونےپر ھنسنے لگا ------ ادھر اندو ھنس تو رھی تھی لیکن اس کی ھنسی دبی دبی تھی بابو جی کےخیال سےوہ کبھی اونچی آواز میںنہ ھنستی تھی جیسےکھلکھلاھٹ کوئی ننگا پن ھےخاموش دپٹہ اور دبی دبی ھنسی پھر مدن نےاندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسوںباتیںکر ڈالی یوںاسےپیارکیا جیسےابھی تک نہ کیا تھا وہ پھر اپنی دنیا میںپہنچا جیسا ساتھ کا بستر خالی تھا اس نےھولےسےآواز دی ---"اندو" ---اور پھر چپ ھو گیا اس اڈھیر بن میںوہ بورانی مستانی نندیا اس سےبھی لپٹ گئی ایک اونگھ ھی آئی تھی لیکن ساتھ ھی یوںلگا جیسےشادی کی رات والی پڑوسی سبطےکی بھینس منھ کےپاس پھنکارنےلگی ھےوہ ایک بےکلی کےعالم میںاٹھا پھر رسوئی کی طرف دیکھتےھوئےسر کھجاتےھوئےدو تین جمائیاں لیکر لیٹ گیا ----سوگیا - مدن جیسےکانوںکو کوئی سندیس� دیکر سویا تھا جب اندو کی چوڑیاںبستر کی سلوٹیںدرست کرنےکےلئےکھنک اٹھی تو وہ بھی ھڑ بڑا کر اٹہ بیٹھا یوںایک دم جاگنےمیںمحبت کا جذبہ اور بھی تیز ھو گیا پیار کی کروٹوںکو توڑےبغیر آدمی سو جائےتو یکایکی اٹھےتو محبت دم توڑ دیتی ھےمدن کا سارا بد ن اندر کی آگ میںپھنک رھا تھااور یہی اس کےغصہ کا کارن بن گیا جب اس نےکچھ بوکھلائےھوئےالفاظ میںکہا - "سو تم ----آگئیں؟ٰ "ھاں" منّی---سو مرگئی ؟ٰ اندو جھکی جھکی ایک دم کھڑی ھو گئی--ھائےرام اس نےناک پر انگلی رکھتےھاتھ ملتےھوئےکہا -- کیا کہہ رھےھو ؟ٰ مرےکیوں بےچاری ؟ٰماںباپ کی ایک ھی بیٹی -" ھاں--مدن نےکہا بھابھی کی ایک ھی نند اور پھر ایکدم تحکماد لہجہ اختیار کرتےھوئےبولا --زیادہ منہ مت لگاو~ اس چڑیل کو "- "کیوںاس میںکیا پاپ ھے؟ٰ یہی پاپ ھےمدن نےاوراوپر چڑھتےھوئےکہا -- پیچھا ھی نہیںچھوڑتی تمہاراجب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ھوئی ھےدفان ھی نہیںھوتی - ھا--اندونےمدن کی چارپائی پر بیٹھتےھوئےکہا بہنوںاور بیٹیوںکو یوںتو دھتکارا نہیںچاھئے بےچاری دو دن کی مہمان آج نہیں;تو کل کل نہیں تو پرسوںایک دن چل ھی دےگی اس کےبعد اندو کچھ کہنا چاھتی تھیلیکن وہ چپ ھو گئی اس کی آنکھوںکےسامنےاپنی ماں,باپ ,بھائی ,بہنچاچا تایا سبھی گھوم گئےکبھی وہ انکی دلاری تھی جو پلک جھپکتےھی نیاری ھو گئی اور پھر رات دن اس کےنکالےجانےکی باتیںھونےلگی جیسے گھر میںکوئی بڑی سی بابنی ھےجس میںکوئی ناگن رھتی ھےاور جب تک وہ پکڑواکر پھنکوائی نہیںجاتی گھر کےلوگ آرام کی نیند نہیںسوتے دور سےکلننےوالےنتھن کرنےوالےدانٹ پھوڑے والےمارندی بلائےگئےبڑےبڑےدھونتری اور موتی ساگر آخر ایک دن اترپچھم کی طرف سےلال آندھی آئی جو صاف ھوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میںگوٹےکناری میںلپٹی ھوئی ایک دلہن بیٹھی تھی پیچھےگھر میںایک سر پر بجتی ھوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ھو رھی تھی پھر ایک دھچکےکےساتھ لاری چلادی----- مدن نےکچھ برافردخستگی کے عالم میںکہا تم عورتیںبڑی چالاک ھوتی ھو ابھی کل ھی اس گھر میںآئی ھو اور یہاںکےسب لوگ تمہیں ھم سےزیادہ پیار کرنےلگے-؟ٰ ھاں"اندو نےاثبات سےکہا - یہ سب جھوٹ ھے---یہ ھو ھی نہیںسکتا- تمہارا مطلب ھےمیں---- دکھاوا ھےیہ سب ----ھاں! اچھا جی ؟ٰ اندو نےآنکھوںمیںآنسو لاتےھوئےکہا -- یہ سب دکھاوا ھےمیرا ؟ٰاور اندو اٹھ کر اپنےبستر پر چلی گئی اور سرھانےمیںمنہ چھپا کر سسکیاں بھرنےلگی - مدن اسےمنانےھی والا تھا کہ اندو خود ھی اٹھکر اس کےپاس آگئی اور سختی سےاس کا ھاتھ پکڑتے ھوئےبولی ---تم جو ھر وقت جلی کٹی کہتےرھتے ھو ھوا کیا ھےتمہیں-----؟ٰ شوھرانہ رعب داب کےلئےمدن کےھاتھ بہانہ آگیا - جاو~ جاو~ سو جاو~ جاکے---مدن نےکہا --مجھےتم سےکچھ نہیںلینا- تمہیںکچھ نہیںلینا مجھےتو لینا ھےمجھےتو لینا ھےزندگی بھر لینا ھےاور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی مدن اسےدھتکارتا تھا اور وہ لپٹ لپٹ جاتی تھی وہ اس طرح مچھلی کی طرح تھی جو اس طرح بہاو~ میںبہہ جانےکےبجائےآبشار کےتیز دھارے کو کاٹتی ھوئی اوپر ھی اوپر چلنا چاھتی ھےچٹکیاںلیتی ھاتھ پکڑتی روتی ھنستی اور کہہ رھی تھی ----- "پھر مجھےپھاپھا کٹنی کہو گے؟ٰ" وہ تو سبھی عورتیںھوتی ھیں" ٹھہرو--تمہاری تو----یوںمعلوم ھوا جیسےکوئی گالی دینےوالی ھو اور اس نےمنہ میںکچھ منمنایا بھی مدن نےمڑتےھوئےکہا کیا کہا اور اندو نے اب اس کی سنائی دینےوالی آواز میںدھرایا - مدن کھکھلاکر ھھس پڑا اگلےھی لمحےاندو مدن کےبازوو~ںمیںتھی اور کہہ رھی تھی - تم مرد لوگ کیا جانو ؟ٰجس سےپیار ھوتا ھےاس کےسب چھوٹےبڑےپیارےمعلوم ھوتےھیںکیا باپ کیا بھائی کیا بہن اور پھر یکایکی دور دیکھتی ھوئی بولی ---- میںتو دلاری منّی کا بیاہ کروںگی "- حد ھوگئی مدن نےکہا ---ابھی ایک ھاتھ کی ھوئی نہیںاور بیاہ کی سوچنےلگی ؟ٰ تمہیںایک ھاتھ کی دکھتی ھےنا اندو بولی اور پھر اپنےدونوںھاتھ مدن کی آنکھوںپر رکھتے ھوئےکہنےلگیذرا آنکھیںبند کرو اور پھر کھولو --- مدن نے سچ مچ ھی آنکھیںبند کر لیںاور پھر جب دیر تک نہ کھولی تو اندو بولی اب کھولو بھی اتنی دیر میںتو میںبوڑھی ھو جاو~ںگی جبھی مدن نےآنکھیںکھولی لمحہ بھر اسے ایسا لگا جیسےسامنےاندو نہیںکوئی اور بیٹھی ھےوہ کھوسا گیا - میںنےتو ابھی سےچار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالےھیںاس کےلئے-اندو نےکہا اور جب مدن نےکوئی جواب نہ دیا تو اسےجھنجھوڑتےھوئے بولی تم کیوںپریشان ھوتےھو ؟ٰیاد نہیںاپنا وچن ؟ٰ تم اپنےدکھ مجھےدےچکےھو -" ایں"مدن نےچونکتےھوئےکہا اور جیسا بےفکر سا ھو گیا لیکن اب کہ جب اس نےاندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہ ایک جسم ھی نہیںرہ گیا تھا ساتھ ساتھ ایک روح بھی شامل ھو گئی تھی -- مدن کےلئےاندو روح ھی روح تھی اندو کےجسم بھی تھا لیکن وہ ھمیشہ کسی وجہ سےمدن کی نظروںسےاوجھل ھو رھا تھا ایک پردہ تھا خواب کےتاروںسےبنا ھوا آھوںکی دھویںسےرنگین قہقہوںکی زرتاری سےچکاچوند جو ھر وقت اندو کو ڈھانپتےرھتا تھا مدن کی نگاھوںاور اسکےھاتھوںکےدوشاسن صدیوںسےاس دربدی کا چری ھرن کرتےآئےتھےجوکہ عرف عام میں بیوی کہلاتی ھےلیکن ھمیشہ اسےآسمانوںسے تھانوںکی تھان گزوںکےگز کپڑا ننگا پن ڈھانپنے کےلئےملتا تھا دوشاسن تھک ھار کر یہاںوھاں گر پڑےتھےلیکن دروپدی وھیںکھڑی تھی عزت اور پاکیزگی کی سفید ساڑی میںملبوس وہ دیوی لگ رھی تھی اور ----- مدن کےلوٹتےھوئےھاتہ خجالت کےپسینےسےتر ھوئےجنہیںسکھانےکےلئےانہیں وہ اوپر ھوا میں بٹھا دیتا اور پھر پنجوںکےپنجوںکو پورےطور پر پھیلا ھوا ایک تشنجی کیفیت میںاپنی آنکھوں کی پھٹتی ھوئی پتلیوںکےسامنےرکھدیتا اور پھر انگلیوںکےبیچ میںسےجھانکتا اندو کا مرمریں جسم خوش رنگ اور گداز سامنےپڑا ھوتا استعمال کےلئےپاس ابتذال کےلئےدور ---کبھی اندو کی ناکہ بندی ھو جاتی تو اس قسم کےفقرےھوتے--- ھائےجی !گھر میںچھوٹےبڑےسبھی ھیںوہ کیا کہیںگے؟ٰ مدن کہتا ---چھوٹےسمجھتےنہیںبڑےسمجھ جاتےھیں---" اسی دوران بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارن پور ھو گئی وھاںریلوےمین سروس میںسلیکشن گریڈ کےھیڈکواٹر کلرک ھو گئےاتنا بڑا کواٹر ملا کہ اس میںآٹھ کنبےرہ سکتےتھےلیکن بابو دھنی رام اس میںاکیلےھی ٹانگیںپھیلائےپڑےرھتے- زندگی بھر وہ بال بچوںسےکبھی علیحدہ نہیں ھوئےتھےسخت گھریلو قسم کےآدمی زندگی میں اس تنہائی نےانکےدل میںوحشت پیدا کردی تھی لیکن مجبوری تھی بچےسب دلی میںمدن اور اندو کےپاس تھےاور وھیںاسکول میںپڑھتے تھےسال کےخاتمےسےپہلےھی انہیںبیچ میں سےاٹھانا انکی پڑھائی کےلئےاچھا نہ تھا بابو جی کو دل کےدورےپڑنےلگے- بارےگرمی کی چھٹیاںھوئیںاور انکےبار بار لکھنے پر مدن نےاندو کو کندن پاشی اور دلاری کےساتھ سہارن پور بھیج دیا - دھنی رام کی دنیا چہک اٹھی کہاںانہیںدفتر کےکام کےبعد فرصت ھی فرصت تھی اور اب کہاںکام ھی کام تھا بچےبچوّںھی کی طرح جہاںکپڑےاتارتےوھیںپڑےرھنے دیتے اور بابو جی انہیںسمیٹتےپھرتےاپنےمدن سے دور السائی ھوئی رتی اندو تو اپنےپہناوےتک سے غافل ھو گئی تھی وہ رسوئی میںیوںپھرتی جیسےکانجی ھاو~س میںگائےباھر کی طرف منھ اٹھااٹھاکر اپنےمالک کو ڈھونڈا کرتی ھے کام دھام کرنےکےبعد وہ کبھی آم کےپیڑ کے تلےجو آنگن میںسینکڑوںھزاروں دلوںکو تھامے کھڑا تھا - ساون بھادوںمیںڈھلنےلگا آنگن میںسےباھر کا دریچہ کھلتا تو کنواری نئی بیاھی ھوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتےھوئےگاتیں "جھولاکن نےڈارو اےامریاں" اور پھر گیت کےبول کےمطابق دو جھولتیںاور دو جھولاتیںاور کہیںچار مل جاتیںتو بھول بھلیا ھو جاتی ادھیڑ عمر کی اور بوڑھی عورتیںایک طرف کھڑیتکا کرتیںاندو کو معلوم ھوتا جیسے وہ بھی ان میںشامل ھو گئی ھےجبھی وہ منھ پھیر لیتی اور ٹھنڈی سانسیںبھرتی ھوئی سو جاتی بابو جی پاس سےگزرتےتو اسےجگانےاور اٹھانےکی بالکل بھی کوشش نہ کرتےبلکہ موقع پاکر اس کی شلوار کو جو بہو دھوتی سےبدل آتی اور جسےوہ ھمیشہ اپنی ساس والےپرانے صندوق میںپھینک دیتی اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیتےایسےنیںانہیںسب سےنظریںبچانا پڑتیں- لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتےتو نگاہ نیچے کونےمیںبہو کےمحرم پر جاپڑتی تب انکی ھمت جواب دےجاتی اور وہ یوںشتابی کمرےسےنکل بھاگتےجیسےکہیںسانپ کا بچہ بل سےباھر آگیا ھو پھر برآمدےمیںانکی آواز سنائی دینےلگتی -- اوم نمو بھگوتےواسو دیوا ------------- آٹھ دس پڑوس کی عورتوںنےبابو جی کی بہو کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچادی تھیںجب کوئی عورت بابو جی کےسامنےبہو کے پیارےپن اور سڈول جسم کی باتیںکرتی تو وہ خوشی سےپھولےجاتےاور کہتے---ھم تو دھنیہ ھو گئے امی چندکی ماں"شکر ھےھمارےگھر میںبھی کوئی صحت والاجیو آیا -اور یہ کہتےھوئےانکی نگاھیںکہیںدور چلی جاتی جہاںدق کےعارضے تھےدوائیوںکی شَشیاںاسپتال کی سیڑھیاںیا چیونٹیوںکےبل نگاہ قریب آتی تو انہیںموٹےموٹے گدرائےجسم والی کئی بچےبغل میںجانگھ پر گردن پر چڑھتےاترتےمحسوس ھوتےایسا معلوم ھوتا جیسےابھی اور آرھےھیں پہلو پر لیٹی ھوئی بہو کی کمر زمین کےساتھ اور کولھےچھت سے لگ رھےھیں اور وہ دھڑا دھڑ بچےجنتی جارھی ھےاور ان بچوںکی عمر میںکوئی فرق نہیںھے کوئی بڑا ھےنہ چھوٹا .سبھی ایک سےجڑواں-- توام -----اوم نمو بھگوتے-- آس پاس کےسب لوگ جان گئےتھےاندو بابو جی کی چہیتی بہو ھےچنانچہ دودہ اور چھاچھہ کے مٹکےدھنی رام کےگھر آنےلگےاور پھر ایک دن سلام دین گوجر نےفرمائش کردی اندو سےکہا بی بی !میرا بیٹا آر ایم ایس میں قلی رکھوادو اللہ تم کو اجر دیگا اندو کےاشارےکی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نوکر ھو گیا وہ بھی سارٹر --جو نہ ھو سکا اس کی قسمت آسامیاںھی زیادہ نہ تھیں-- بہو کےکھانےپینے اور اس کی صحت کا بابو جی خاص خیال رکھتےتھےدودہ پینےسےاندو کو چڑ تھی وہ رات کےوقت کود دودہ کو باٹی میںپھینٹ گلاس میںڈال پہو کو پلانےکےلئےاس کی کھٹیا کےپاس آجاتے اندو اپنےآپ کو سمیٹتےھوئےاٹھتی اور کہتی نہیںبابو جی مجھ سےنہیں پیا جاتا - تیرا تو سسر بھی پیئےکا وہ مذاق سےکہتے- تو پھر آپ پی لیجئےنا اندو ھنستی ھوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصہ سےبرس پڑتےتو چاھتی ھےبعد میںتیری بھی وھی حالت ھو جو تیری ساس کی ھوئی تھی ؟ٰ ھوں-----ھوں-----اندو لاڈ سےروٹھنےلگتی آخر کیوںنہ روٹھتی وہ لوگ نہیںروٹھتےجنہیںمنانے والا کوئی نہ ھو لیکن یہاںتو ,منانےوالےسبھی تھے روٹھنےوالا صرف ایک جب اندو بابو جی کےھاتھوں سےگلاس نہ لیتی تو وہ اسےکھٹیا کےپاس سرھانے نیچےرکھدیتے---اور لےیہ پڑا ھے---تیری مرضی ھے پی --نہیںمرضی تو نہ پی کہتےھوئےچل دیتے---- اپنےبستر پر پہنچ کر دھنی رام دلاری منّی کےساتھ کھیلنےلگتا دلاری کی بابو جی کےننگےپنڈےکے ساتہ پنڈا گھسانےاور پیٹ پر منہ رکھکر پھٹکڑا پھلانے کی عادت تھی آج جب بابو جی اور منّی یہ کھیل کھیل رھےتھےتو منی نےبھابھی کی طرف دیکھتے ھوئےکہا ----دودھ توخراب ھو جائےگا بابوجی -- بھابھی تو پیتی ھی نہیں-" پیےگی ضرور پیےگی بیٹا ! ---بابو جی نےدوسرے ھاتھ سےپاشی کو پلٹتےھوئےکہا عورتیںگھر کی کسی چیز کو خراب ھوتےنہیںدیکھ سکتیں ابھی فقرہ بابو جی کےمنہ میںھی ھوتا کہ ایک طرف ھش ھےخصم کھانی کی آواز آنےلگتی پتہ چلتا بہو بلّی کو بھگا رھی ھےاورپھر غٹ غٹ کی سی سنائی دیتی اور سب جال لیتےبہو بھابھی نےدودہ پی لیا کچہ دیر بعد کندن بابو جی کےپاس آتا اور کہتا --- بوجی ----بھابھی رو رھی ھے" ھائیں--بابو جی کہتےاو رپھر اندھیرےمیںدور اسی طڑف دیکھنےلگتےجدھر بہو کی چارپائی پڑی ھوتی کچھ دیر یوںھی بیٹھےرھنےکےبعد وہ پھر لیٹ جاتےاور کچھ سمجھتےھوئےکندن کہتےجاتو جا سو جا وہ بھی سو جائےگی اپنے آپ ---"اور پھر سےلیٹےھوئےدھنی رام آسمان کھلےھوئےپرماتما کےگلزار کو دیکھنےلگتےاور اپنےمن کےبھگوان سےپوچھتےچاندنی کے ان کھلتےھوئےان بند ھوتےھوئےپھولوںمیں میرا پھول کہاںھے؟ٰاور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دیتا ھےاو ر کانوںمیں مسلسل ھاو~ ھاو~ کی آوازیں سنائی دیتی ھیں جب سےدنیا بنی ھےانسان کتنا رویا ھے! اوروہ روتےروتے سو جاتے- اندو کےجانے کےبعد بیس پچیس دن میںھی مدن نےواویلا شروع کر دیا اس نےلکھا میں بازار کی روٹیاں کھاتےکھاتےتنگ آگیا ھوںمجھےقبض ھو گئی ھے گردےکا درد شروع ھو گیا ھےپھر جیسےدفترکے لوگ چھٹی کی غرض کےساتھ ڈاکٹروںکا سارٹیفیکٹ بھیج دیتےھیںمدن نےبابو جی کےایک دوست سے تصدیق کی ھوئی چٹھی لکھوا بھیجی - اس پر بھی جب کچہ نہ ھوا تو ایک ڈبل تار ----جوابی جوابی تار کےپیسےمارےگئےلیکن بلا سے اندو اور بچےلوٹ آئےتھےمدن نےاندو سےسیدھےمنھ بات ھی نہ کی یہ دکھ بھی اندو ھی کا تھا مدن کو اکیلے میںپاکر پکڑ بیٹھی اور بولی "اتنا منہ پھلائےبیٹھے ھو میںنےکیا کیا ھے؟ٰ مدن نےاپنےآپ کو چھڑاتے ھوئےکہا "چھوڑ ---دور ھوجا میری آنکھوںسے کمینی ---- "یہی کہنےکےلئےاتنی دور سےبلایا ھے؟ٰ" ھاں" ھٹاو~ اب "- خبردار " یہ سب تمہارا کرا دھرا ھےتم جو آنا چاھتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟ٰ اندو نےبےبسی سےکہا ---ھائےجی -تم تو بچوں کی سی بات کرتےھو میںبھلا انہیںکیسےکہہ سکتی تھی ؟ٰسچ پوچھو تو تم نےبلواکر بابوجی پر بڑا جلم کیا ھے- کیا مطلب ؟ٰ مطلب کچہ نہیں----انکا جی بہت لگا ھوا تھا بال بچّوں میں"- اور میرا جی -------؟ٰ تمہارا جی --تم تو کہیں بھی لگا سکتےھو اندو نے شرارت سےکہا اور کچہ اس طرح سےمدن نے دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیںختم ھو گئی یوںبھی اسےکسی اچھےسےبہانےکی تلاش تھی اس نےاندو کو پکڑ کر اپنےسینےسے لگا لیا اور بولا بابو جی تم سےبہت خوش تھے- ھاں"اندو بولی ایک دن میںجاگی تو سرھانےکھڑے مجھےدیکہ رھےھیں" یہ نہیںھو سکتا - اپنی قسم "- اپنی نہیں میری قسم کھاو~ " تمہاری قسم تو میںنہ کھاتی کوئی کچھ بھی دے ھاں"مدن نےسوچتےھوئےکہا کتابوںمیںاسے سیکس کہتےھیں- ھائےرام -اندو نےایکدم پیچھےھٹتےھوئےکہا -- گندےکہیںکےشرم نہیںآتی بابو جی کےبارے میںایسا سوچتےھوئے؟ٰ بابو جی کو شرم نہیںآئی تجھےدیکھتےھوئے؟ٰ کیوں"اندو نےبابو جی کی طرف داری رکتےھوئے کہا وہ اپنی بہو کو دیکھ کر خوش ھورھےھوںگے- کیوںنہیںجب بہو تم ایسےھو" تمہارا من گندہ ھےاندو نےنفرت سےکہا اس لئے تو تمہارا کاروبار بھی گندےبروزےکا ھےتمہاری کتابیںسب گندگی سےبھری پڑی ھیںتمہیںاور تمہاری کتابوںکو اس کےسوا کچھ دکھائی نہیں دیتا-ایسےتو میںجب بڑی ھوگئی تھی تو میرےپتاجی نےمجہ سےادھک پیار کرنا شروع کر دیا تھا تو کیا وہ بھی -----وہ تھا نگوڑا - جس کا تم ابھی نام لےرھےتھے؟ٰاور پھر اندو بولی - بابو جی کو یہاںبلا لو -انکا وھاںجی بھی نہیں لگتا وہ دکھی ھوںگےتو کیا تم دکھی نہیںھوگے- مدن اپنےباپ سےبہت پیار کرتا تھا گھر میںماں کی موت نےمدن کےبڑےھونےکےکارن سب سے زیادہ اثر اسی پر کیا تھا اسےاچھی طرح یاد تھا کہ ماںکےبیمار رھنےکےباعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کےدل میںآتا تو وہ آنکھیں موند کر پراتھنا شروع کر دیتا -اور نمو بھگوتےواسو دیوا--اور نمو ---وہ اب نہیںچاھتا تھا کہ باپ کی چھتر چھایہ بھی سر سےاٹھ جائے خاص طور پر ایسےمیںجو کہ وہ اپنےکارو بار کو بھی جما نہیںپاتا تھا اس نےغیر یقینی طور پر صرف اندو سےاتنا کہا -ا�نی رھنےدو بابو جی کو شادی کے بعد سےھم دونوںپہلی بار آزادی سےمل سکتے ھیں تیسرےچوتھےبابو جی کا آنسوو~ںبھرا خط آیا میرےپیارےمدن کےتخاطب میںمیرےکےالفاظ شوریانیوںمیںدھل گئےتھےلکھاتھا - یہو کے یہاںھونےپر میرےتو پرانےدن لوٹ آئےتھے-- تمہاری ماںکےدن --جب ھماری نئی نئی شادی ھوئی تھی تو وہ بھی ایسی ھی الھڑ تھی ایسےمیں اتارےھوئےکپڑےادھر ادھر پھینک دیتی اور پتا جی سمیٹتےپھرتےوھی صندل کا صندوق وھی بیسو خلجگن -----میںبازار جارھا ھوںکچھ نہیں دھی بڑےاور ربڑی لارھا ھوںاب گھر میںکوئی نہیںوہ جگہ جہاںصندل کا صندوق پڑا تھا خالی ھے----اورپھر ایک آدہ سطر ڈھل گئی تھی -- آخر میںلکھا تھا دفترسےلوٹتےسمےیہاں کےبڑےبڑےاندھیرےکمروںمیںدا خل ھوتےھوئے میرےمن میںایک ھو سا اٹھتا ھےاور پھر بہو کا خیال رکھنا اسےکسی ایسی ویسی دایہ کےحوالے مت کرنا "- اندو نےدونوںھاتھوںسےچٹھی پکڑ لی ;سانس کھینچیآنکھیںپھیلاتی شرم سےپانی پانیھوتے ھوئےکہا "بابو جی کیا بچےھیںدنیا دیکھی ھے ھمیںپیداکیا ھے"- ھاںمگر اندو بولی ابھی دن ھی گےھوئےھیں اور پھر اس نےایک تیز سی نظر اپنےپیٹ پر ڈالی جس نےابھی بڑھنا بھی شروع نہیںکیا تھا یا پھر کوئی بابو جی دیکھ رھا ھو اس نےساری کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچننےلگی جبھی ایک چمک سی اس کےچہرےپر آئی اور وہ بولی تمہاری سسرال سےشیرنی آئےگی - میری سسرال ؟ٰ--اوھاں"مدن نےراستہ پاتےھوئے کہا --کتنی شرم کی بات ھےابھی چھہ آٹھ مہینے شادی کو ھوئےاور چلا آیا اور اس نےاندو کےپیٹ کی طرف اشارہ کیا - چلاآیا یا تم لائے ھو ؟ٰ تم --یہ سب قصور تمہارا ھےکچھ عورتیںھوتی ھی ایسی ھیں- "تمہیںپسند نہیں" ایک دم نہیں" "کیوں" چار دن تو مزےلیتےزندگی کے- کیا یہ جندگی کا مجا نہیںاندو نےصدمہ ذدہ لہجہ میںکہا مرد عورت شادی کس لئےکرتے ھیں؟ٰبھگوان کےبن مانگےدےدیا نا پوچھو ان سے جن کےنہیںھوتا پھر وہ کیا کچھ نہیںکرتی ھیں؟ٰ پیروںفقریروںکےپاس جاتی ھیںسمادھیوں مجاروںپع چوٹیاںباندھتی شرم و حَا کو تج کر دریا کےکنارےننگی ھوکر سرکنڈےکاٹتی شمشانوں میںمسان جگاتی -------" اچھا----اچھا- مدن بولا تم نےبکھان بھی شروع کر دیا اولاد کےلئےتھوڑی عمر پڑی تھی ؟ٰ "ھوگا تو "اندو نےسرزنش کےانداز میںانگلی اٹھاتے ھوئےکہا جب تم اسےھاتہ بھی مت لگانا وہ تمہارا نہیںمیرا ھوگا تمہیںتو اس کی جرورت نہیںپر اس کےدادا کو بہت ھےیہ میںجانتی ھوں"- اور پھر کچہ خجل کچہ صدمہ زدہ ھوکر اندو نےاپنا منہ دونوںھاتھوںمیںچھپا لیا اور سوچتی تھی پیٹ میںاس ننھی سی جان کو پالنےکےسلسلےمیں ھوتا سوتا تھوڑی بہت ھمدردی تو کریگالیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رھا ایک لفظ بھی اس نےمنہ سےنہ نکالا اندو نےگہرےپر سےھاتھ اٹھاکر مدن کی طرف دیکھا اور ھونےوالی پہلوٹن کےخاص انداز میںبولی -- وہ تو جو کچھ میںکہہ رھی ھوںسب پیچھےھوگا پہلےتو میںبچوںگی ھی نہیں--مجھےبچپن ھی سےوھم ھےاس بات کا -- مدن جیسےخائف ھو گ یا " یہ خوبصورت چیز جو حاملہ ھونےکےبعد بھی بہت خوبصورت ھےمر جائےگی ؟ٰکیا اس نےپیٹھ کی طرف اندوتھام لیا اورپھر کھینچ کر اپنےبازوو~ں میںلےآیا اور بولا تجھےکچھ نہ ھوگا اندو ----- میںتو موت کےمنہ سےبھی چھین کر لےآو~ںگا تجھے--اب ساوتری کی نہیںستیہ وان کی باری ھے--- مدن سےلپٹ کر اندو بھول گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دکھ ھے-- اس کےبعد بابو جی نےکچہ نہ لکھا البتہ سہارن پور سےایک سارٹر آیا جس نےصرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سےدورےپڑنےلگےھیںایک دورےمیںتو وہ قریب قریب وہ چل ھی بسےتھےمدن ڈر گیا اندو رونےلگی سارٹر کےچلےجانےکےبعد ھمیشہ کی طرح مدن نےآنکھیںموندیںاور من ھی من میں پڑھنےلگا اوم نمو بھگوتے------- دوسرےھی روز مدن نےباپ کو چٹھی لکھی بابو جی چلےآو~ --بچےبہت یاد کرتےھیںاور آپ کی بہو بھی لیکن آخرنوکری تھی اپنےبس کی بات تھوڑا ھی تھی دھنی رام کےخط کےمطابق وہ چھٹی کا بندوبست کر رھےتھے---ان کےبارےمیںدن بدن مدن کا احساس جرم بڑھنےلگا آخر میںاندو کو وھیںرھنےدیتا تو میرا کیا بگڑتا - وجےدشمی سےایک رات پہلےمدن اصطراب کی حالت میںبیچ والےکمرےکےباھر برآمدےمیںٹہل رھا تھا کہ اندر سےبچوںکےرونےکی آوازیںآئیں اور وہ چونک کردروازےکی طرف لپکابیگم دایہ باھر آئی اور بولی "مبارک ھو بابو جی "لڑکا ھوا ھے" لڑکا "مدن نےکہا اور پھر تکفرانہ لہجہ میںبولا-- بی بی کیسی ھے؟ٰبیگم بولی --خیرمہر ھےمیں نےابھی تک اسےلڑکی ھی بتائی ھے---زچہ خوش ھو جائےتو اس کی آنول نہیںگرتی نا؟ٰ او-----مدن نےبیوقوفوںکی طرح آنکھیں جھپکتے ھوئےکہا اور پھر کمرےمیںجانےکےلئےآگے بڑھا بتگم نےاسےوھیںروک دیا اور کہنےلگی تمہارا اندر کیا کام اور پھر یکایکی دروازہ اندر بھیڑ کر چلی گئی - مدن کی ٹانگیںابھی تک کانپ رھی تھی اس وقت خوف سےنہیںتسلی سےیاشاید جب کوئی اس دنیا میںآتا ھےتو ارد گرد کےلوگوںکی یہی حالت ھوتی ھےمدن نےسن رکھا تھاکہ جب لذکا پیدا ھوتا ھےتو گھر کےدر و دیوار لرزنےلگتےھیں گویا ڈر رھیں ھیںکہ بڑا ھوکر ھمیںبیچےگا کہ رکھےگا مدن نے محسوس کیا جیسےسچ مچ ھی دیوار کانپ رھی تھیں----زچگی کےلئےچکلی بھابھی تو نہ آئی تھی کیونکہ انکا اپنا بچہ بہتچھوٹا تھا البتہ دریاباد والی پھوپھی ضرورپہنچی تھی جس نےپیدائش کےوقت رام -رام -رام کی رٹ لگا رکھی تھی اور اب وھی رٹ مدھم ھو رھی تھی - زندگی بھر مدن کو اپنےآپ اتنا فضول اور بیکار نہ لگا تھا اتنےمیںپھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی برآمدےکی مدھم روشنی میںاس کا چہرہ بھوت کےچہرےکی طرح ایک دم دودھیا سفید نظر آرھا تھا مدن نےاس کا راستہ روکتےھوئےکہا --- اندو ٹھیک ھےنا پھوپھی ؟ٰ ٹھیک ھے,ٹھیک ھے,ٹھیک ھےپھوپھی نےتین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ھوا ھاتہ مدن کےسر پر رکھکراسےاونچا کیا چوما اور باھر لپک گئی -- پھوپھی برآمدےکےدروازےمیںسےباھر جاتی ھوئی دکھائی دےرھی تھی وہ بیٹھک میںپہنچی یہاں بچےسو رھےتھےپھوپھی نےایک ایک کرکےسر پر ھاتھ پھیرا اور چھت کی طرف آنکھیںاٹھاکر منھ میںکچھ بولی اور نڈھال سی ھوکر منّی کےپاس کےپاس لیٹ گئی اوندھی اس کےپھڑکتےھوئے شانوںسےپتا چل رھا تھا جیسےرورھی ھو مدن حیران ھوا ----پھوپھی تو کئی زچگیوںسےگزر چکی تھی پھر کیوںاس کی روح تک کانپ اٹھی ھے----؟ٰ پھر ادھر کمرےسےھرمل کی بو باھر لپکی دھوئیں کا ایک غبار سا آیا جس نےمدن کا احاط کر لیا اس کا سر چکرا گیا تبھی بیگم دایہ کپڑےمیں کچھ لپیٹےھوئےباھر نکلی کپڑےپر خون ھی خون تھا جس میںسےکچھ قطرےنکل کر فرش پر گر گئےمدن کےھوش اڑ گئےاسےمعلوم نہ تھا کہ وہ کہاںھےآنکھیںکھلی تھیںپر کچھ دکھائی نہ دےرھا تھا بیچ میںاندو کی کچھ مرگھلی سی آواز آئی ---ھا--ئے-----اور پھر بچےکےرونےکی آواز --------- تین چار دن میںبہت کچھ ھوا مدن نےگھر کی ایک طرف گڑھا کھودکر آنول کو دبا دیا کتوںکو اندر آنےسےروکا لیکن اسےکچھ یاد نہ تھا اسےایسا لگا جیسےھرمل کی بو دماغ میںبس جانےکےبعد آج ھی اسےھوش آیاھےکمرےمیںوہ اکیلا ھی تھا اور نادو --نندا ورجسودھا--- اور دوسری طرف نند لال ---اندو نےبچےکی طرف دیکھا اور کچہ ٹوہ لینےوالےانداز میںبولی بالکل تم ھی پر گیا ھے- "ھوگا "مدن نےایک اچٹتی سی نظر بچےپر ڈالتے ھوئےکہا یہاںتو جو کچھ ھوا ھےمیںتو اب تمہارے پاس بھی نہیںپھٹکوںگا اور مدن نےزبان دانتوں تلےدبالی - توبہ کرو -اندو بولی - مدن نےاسی دم کان اپنےھاتھوںسےپکڑل~ے-- اور پھر اندو نحیف سی آواز میںھنسنےلگی - بچہ ھونےکےکئی دن تک اندو کی ناف ٹھکانہ پر نہ آئی وہ گھوم گھوم کر اسی بچہ کو تلاش کر رھی تھی جو اس سےباھر کی دنیا میںجاکر اپنی اصل ماںکو بھول گیا تھا --- اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رھی تھی معلوم ھوتا تھا اس نےمدن ھی کو نہیںدنیا بھر کےگناہ گاروںکےگناہ معاف کر دیئےھیںاور اب دیوی بنکر دیا اور کرونا کےپرساد بانٹ رھی ھےمدن نےاندو کےمنہ کی طرف دیکھا اور سوچنےلگا اس سارےخون خرابےکےبعد کچھ دبلی ھوکر اندو اور بھی اچھی لگنےلگی ھے----- جبھی یکایکی اندو نےدونوںھاتہ اپنی چھاتیوں پر رکھ لئے@ کیاھوا مدن نےپوچھا - کچھ نہیںاندو تھوڑا سا کوشش کرکےبولی "اسے بھوک لگی ھےاور اس نےبچےکی طرف اشارہ کیا - "اسے----بھوک ؟ٰ--مدن نےپہلےبچےکی طرف اور پھر اندو کی طرف اشارہ کرتےھوئےکہا --- تمہیںکیسےپتا چلا --؟ٰ دیکھتےنہیںاندو نیچےکی طرف نگاہ کرتےھوئے بولی --سب گیلا ھو گیا ھے-" مدن نےغور سےاندو کےڈھیلےدھالےدگلےکی طرف دیکھا جھر جھر دودہ بہہ رھا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آرھی تھی پھر اندو نےبچے کی طرف ھاتھ بڑھاتےھوئےکہا اسےمجھےدیدو مدن نےھاتھ پنگوڑےکی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا پھر ھمت سےکام لیتےھوئےاس نے بچےکو یوںاٹھایا جیسےوہ مرا ھوا چوھا ھو آخر اس نےاندو کی گود میںبچےکو دےدیا اندو مدن کی طرف دیکھتےھوئےبولی تم جاو~ --باھر --- کیوں---باھر کیوںجاو~ ںمدن نےپوچھا - جاو~نا ---اندو نےکچھ مچلتےکچھ شرماتےھوئے کہا --تمہارےسامنےمیںدودھ نہیںپلا سکوںگی - ارے"مدن حیرت سےبولا --میرےسامنے--نہیں پلا سکےگی اور پھر نہ سمجھی کےانداز میںسر کو جھٹکا دیکر باھر کی طرف چل نکلا دروازے کےپاس پہنچ کر مڑتےھوئےاس نےاندو پر ایک نظر ڈالی اتنی خوبصورت اندو آج تک نہ لگی تھی - بابو دھنی رام چھٹیپر گھر لوٹےتو وہ پہلےسے آدھےدکھائی پتےتھےجب اندو نےپوتا انکی گود میںدیا تو وہ کھل اٹھےانکےپیٹ کےاندر کوئی پھوڑا نکل آیاتھا جو گوبیس گھنٹےانہیںسولی پر لٹکائےرکھتا اگر مناّ نہ ھوتا تو بابو جی کی اس سے دس گنی بری حالت ھوتی - کئی علاج کئےگئےبابو جی کےآخری علاج میں ڈاکٹروںنےدھنی کو برابر پندرہ بیس گولیاںروز کھانےکو دیں پہلےھی دن انہیںاتنا پسینہ آیا کہ دن میںتین تین چار چار بار کپڑےبدلنےپڑے باھر مدن کپڑا اتار کر بالٹی میںنچوڑتا صرف پسینے ھی سےوالٹی ایک چھوتھائی ھو گئی تھی رات انہیںمتلی سی ھونےلگی اور انہوںنےپکارا بہو ذرا داتن تو دینا ذائقہ بہت خراب ھو رھا ھےبہو بھاگی ھوئی گئی اور داتن لےآئی بابو جی اٹھکر داتن چبارھےتھےایک ابکائی کیا آئی کہ ساتھ ھی خون کا ایک پرنالہ لےآئی بیٹےنےواپس سرھانے کی طرف لٹایا تو انکی پتلیاںپھر چکیںتھیںاور کوئی ھی دم میںوہ آسمانوںکےگلزاروںمیںپہنچ چکےتھےجہاںانہوںنےاپنا پھول پہنچان لیا تھا -- منّےکو پیداھوئےبیس پچیس روز ھوئےتھےاندو نے منہ نوچ نوچ کر سر اور چھاتی پیٹ کر خود کو نیلا کر لیا مدن کےسامنےوھی منظر تھا جو اس نےتصور میںاپنےمرنےپر دیکھا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نےچوڑیاںتوڑنےکےبجائےاتارک ر رکھدی تھیںسر پر راکہ نہیںڈالی تھی لیکن زمین پر سےمٹّی لگ جانےسےگہرہ بھیانک ھو گیا تھا لوگو! میںلٹ گئی کی جگہ اس نےایک دل دوز آوازمیںچلانا شروع کر دیا تھا "لوگ " ھم لٹ گئے گھر بار کا اتنا بوجھ مدن پر آپڑا تھا اس کا مدن کو پوری طرح اندزاہ نہ تھا صبح ھونےتک اس کا دل لپک کر منہ تک آگیا وہ شاید بچ نہ پاتا اگر وہ گھر کےباھر بدرو کےکنارےسیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر اپنےدل کو ٹھکانےپر نہ لاتا دھرتی ماںنےچھاتی سےلگاکر اپنےبچےکو بچالیا چھوٹےبچےکندن منی دلاری اور پاشی یوںچلارھے تھےجیسےگھونسلےپر شکرےکےحملےپر چڑیا کے بونٹ چونچیںاٹھا اٹھاکر چیںچیں کرتےھیںانہیں اگر کوئی پروںکےنیچےسمیٹتی ھےتو اندو ------ نالی کےکنارےپڑےپڑ ےمدن نےسوچا اب تو میرے لئےدنیا ختم ھو گئی کیا میںجی سکوںگا وہ اٹھا اور اٹھ کرگھر کےاندر چلا آیا - سیڑھیوںکےنیچےغسل خانہ تھا جس میںگھس کر اندر سےکواڑ بند کرتےھوئےمدن نےایک بار پھر اس سوال کو دھرایا میںکبھیھنس سکوںگا- وہ کھکھلاکر ھنس رھا تھا حالانکہ اس کےباپ کی لاش پاس بیٹھک میںپڑی تھی -- باپ کو آگ کےحوالےکرنےسےپہلےمدن ارتھی پر پڑےھوئےجسم کےسامنےڈنڈوت کےانداز میںلیٹ گیا یہ اس کا اپنےجنم داتا کو آخری پرنام تھا تس پر بھی وہ رو نہ رھا تھا اس کی یہ حالت دیکھکر ماتم میںشریک ھونےوالےرشتہ دار محلے والے سن سےرہ گئے-- پھر ھندو رواج کےمطابق سب سےبڑا بیٹا ھونے کی حیثیت سےمدن کو چتا جلانی پڑی جلتی ھوئی کھوپڑی میںکپال کریا کی لاٹھی مارنی پڑی -- عورتیںباھر ھی شمسان کےکنویںپر نہاکر گھر لوٹ چکی تھیںجب مدن گھر پہنچا تو وہ کانپ رھا تھا دھرتی ماںنےتھوڑی دیر کےلئےطاقت جو اپنےبیٹےکو دی تھی رات کےگھر آنےسےپھر سےھوس میںڈھل گئی اسےکوئی سہارا چاھئے تھا کسی ایسےجذبہ کا سہارا جو موت سےبھی بڑا ھو اس وقت دھرتی ماںکی بیٹی جنک دلاری نے اندو نےکسی گھڑےمیںسےپیدا ھوکر اس رام کو اپنی بانہوںمیںلےلیا ---- اس رات اگر اندو اپنا آپا یوںمدن پر نہ وارتی تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لےڈوبتا --- دس مہینےکےاندر اندو کا دوسرا بچہ چلا آیا بیوی کو اس دوزخ کی آگ میںڈھکیل کر مدن خود اپنا دکھ بھول گیا تھا کبھی کبھی اس کو خیال آتا کہ اگر میںشادی کےبعد بابو جی کے پاس گئی ھوئی اندو کو نہ بلاتا تو شاید وہ اتنی جلدی نہ چل دیتےلیکن پھر وہ باپ کی موت سے پیدا ھونےوالےخسارےکو پورا کرنےمیںلگ جاتا کارو بار جو پہلےبےتوجہی کی وجہ سےبند ھو گیا تھا مجبورا چل نکلا - ان دنوںبڑےبچےکو مدن کےپاس چھوڑ کر چھوٹے کو چھاتی سےلگائےاندو میکےچلی گئی تھی پیچھے منا طرح طرح کی ضد کرتا جو کبھی مانی جاتی اور کبھی نہیںمیکےسےاندو کا خط آیا مجھےیہاں اپنےبیٹےکےرونےکی آواز آرھی ھےاسےکوئی مارتا تو نہیں--مدن کو بڑَ حیرت ھوئی ایک جاھل انپڑھ عورت --ایسی باتیںکیسےلکھ سکتی ھے--پھر اس نےاپنےآپ سےپوچھا --کیا یہ کوئی رٹا ھوا فقرہ ھے؟ٰ سال گزرگئےپیسےبھی اتنےنہ تھےکہ ان سےکچھ عیش ھو سکےلیکن گزارےکےمطابق آمدنی ضرور ھو جاتی تھی دقت اس وقت ھوتی جب کوئی بڑا خرچ سامنےآتا کندن کا داخلہ دینا ھےدلاری منی کا شگن بھجوانا ھےاس وقت مدن منھ لٹکاکر بیٹھ جاتا اور پھر اندو ایک طرف سےآتی مسکراتی ھوئی اور کہتی کیوںدکھَ ھو رھےھو ؟ٰمدن اس کی طرف امید بھری نظروںسےدیکھتےھوئے کہتا -- دکھی نہ ھوںکندن کا بی اےکا داخلہ دینا ھے--منی ----اندو پھر ھنستی اور کہتی "چلومیرےساتھ" اور مدن بھیڑ کےبچےکی طرح اندو کےپیچھےچل دیتا اندو صندل کےصندوق کےپاس پہنچتی جسےکسی کو مدن سمیت ھاتھ لگانےکی اجازت نہ تھی کبھی کبھی اسی بات پر مدن خفا ھوکر کہتا مرےگی تو اسےبھی چھاتی پر ڈال کر لےجانا اور اندو کہتی --ھاںلےجاو~ں گی -پھر اندو وھاںسےمطلوبہ رقم نکال کر سامنے رکھ دیتی - یہ کہاںسےآگئے؟ٰ کہیںسےبھی آئے----تمہیںآم کھانےسےمطلب ھےکہ -- "پھر بھی "؟ٰ تم جاو~ اپنا کام چلاو~ "- اور جب مدن زیادہ اصرار کہتا تو اندو کہتی ---میںنے ایک سیٹہ کو دوست بنایا ھےنا اور پھر ھسننےلگتی جھوٹ جانتےھوئےبھی مدن کویہ مذاق اچھانہ لگتا پھر اندو کہتی --میںچور لٹیرا ھوں--تم نہیںجانتے --سخی لٹیرا --جو ایک ھاتھ سےلوٹتا ھےاور دوسرے ھاتھ سےگریب گربا کو دیدیتا ھے"اسی طرح منّی کی شادی ھوئی جس پر ایسی ھی لوٹ کےزیوربکے قرضہ چڑھا اور اتر بھی گیا ---- ایسےھی کندن بھی بیاھاگیا -ان شادیوںمیںاندو ھی ھتہ بھرا کرتی اور ماںکی جگہ کھڑی ھو جاتی اور آسمان سےبابو جی اور ماں دیکھا کرتےجو پھول برساتےکسی کو نظر نہ آتےپھر ایسا ھوا اوپر بابوجی اور ماںجی میںجھگڑا چل گیا ماں نےبابو جی سے کہا تم بہو کےھاتھ کی پکّی ھوئی کھا آئےھو اس کا سکھ بھی دیکھا ھے پر میںنصیبوںجلی نےکچھ بھی نہیںدیکھا یہ جھگڑا وشنو ,مہیش اور شیو تک پہنچا انہوںنےماں کےحق میںفیصلہ دیا --اور یوں ماںمات لوک میںآکر بہو کی کوکہ میںپڑی اور اندو کےیہاںایک بیٹی پیدا ھوئی ---------- پھر اندو ایسی بھی نہ تھی جب کوئی اصول کی بات ھوتی تو نند دیور تو کیا خود مدن سےبھی بھڑ جاتی مدن راست بازی کی اس پتلی کو خفا ھوکر ھریش چند کی بیٹی کہا کرتا تھا چونکہ اندو کی بات میں الجھاو� ھونےکےباوجود سچائی اور دھرم قائم رھتے تھےاس لئےمدن اور کنبےکےباقی لوگ کی آنکھیں اندو کےسامنےنیچی ھی رھتی تھیں- جھگڑا کتنا ھی بڑہ جائےمدن اپنا شوھری زعم میںکتنا ھی اندو کی بات کو رد کردےلیکن آخر سبھی سر جھکائےھوئےاندو ھی کی شرن میںآتے اور اسی سےچھما مابگتےتھے-- نئی بھابھی آئی کہنےکو تب وہ بھی بیوی تھی لیکن اندو ایک عورت تھی جسےبیوی کہتےھیں اس کےالٹ چھوٹی بھابھی رانی ایک بیوی تھی جسے عورت کہتےھیں رانی کےکارن بھائیوںمیںجھگڑا ھوا اور جےپی چاچا کی معرفت جائداد تقسیم ھوئی جس میںماںباپ کی جائداد تو ایک طرف اندو کی اپنی بنائی ھوئی چیزیںتقسیم کی ضد میںآگئیں اور اندو کلیجہ مسوس کر رہ گئی -- جہاںسب کچھ مل جانےکےبعداور الگ ھوکر بھی کندن اور رانی ٹھیک سےنہیںبس سکےتھے اندوکااپنا گھر دنوںمیںھی جگمگ جگمگ کرنے لگا - بچی کی پیدائش کےبعد اندو کی اب صحت وہ نہ رھی بچی ھر وقت اندو کی چھاتیوںسےچمٹی رھتی جہاںسبھی گوشت کےاس لوتھڑےپر تھو تھو کرتےتھےوھاںایک اندو تھی جو اسےکلیجہ سے لگائےپھرتی لیکن کبھی خود بھی پریشان ھو اٹھتی اور بچی کو سامنےجھلنگےپر پھینکتےھوئےکہہ اٹھتی "تو مجھےجینےبھی دیگی ---ماں؟ٰ اور بچی چلاّ چلاّ کر رونےلگتی - مدن اندو سےکٹنےلگا شادی سےلیکر اس وقت تک اسےوہ عورت نہ ملی تھی جس کا وہ متلاشی تھا گندہ بروزہ بکنےلگا اور مدن نےبہت سارےروپیہ اندو سےبالا ھی بالا خرچ کرنا شروع کر دیئے بابو جی کےچلےجانےپر کوئی پوچھنےوالا بھی تو نہ تھا پوری آزادی تھی -- گویا پڑوسی سبطےکی بھینس پھر مدن کےمنھ کے پاس پھنکارنےلگی بلکہ بار بار پھنکارنےلگی شادی کی رات والی بھینس تو بک چکی تھی لیکن اس کا مالک زندہ تھا مدن اس کےساتہ ایسی جگہوں پر جانےلگا جہاںروشنی اور سایہ عجیب بےقاعدگی سی شکلیںبناتیںھیںنکڑ پر کبھی اندھیروںکی تکون بنتی ھےمعلوم ھوتا ھےبغل سےایک پاجامہ نکالا اور آسمان کی طرف اڑ گیا کسی کوٹ نےکسی کوٹ نےدیکھنےوالےکا منہ پوری طرح سےڈھانپ لیا اور کوئی سانس کےلئےتڑپنےلگا جبھی روشنی کی چکور ایک چوکھٹا سی بن گئی اور اس میں ایک صورت آکر کھڑی ھو گئی دیکھنےوالےنےھاتھ بڑھایا تو وہ آر پار چلا گیا اور وھاںکچھ بھی نہ تھا پیچھےکوئی کتا رونےلگا او ر طبل نےاس کی آواز ڈبودی ------- مدن کو اس کےتصور کےخد وخال ملےلیکن ھر جگہ ایسا معلوم ھو رھا تھا جیسےآر ٹیسٹ سےکوئی غلط خط لکھا گیا ھےیا ھنسی کی آواز ضرورت سےزیادہ بلند تھی اور مدن بےداغ صناعی اور متوازن ھنسی کی تلاش میںکھوگیا -- سبطےنےاس وقت اپنی بیوی سےبات کی جب اس کی بیگم نےمدن کو مثالی شوھر کی حیثیت سے سبطےکےسامنےپیش کیا پیش ھی نہیںکیا بلکہ منہ پر مارا اس کو اٹھاکر سبطےنےبیگم کےمنھ پر مارامعلوم ھوتا تھا کسی خونی تربوز کا گودا ھے جس کےرگ و ریشےبیگم کی ناک اور اس کی آنکھ اور کانوںپر لگےھوئےھیں کروڑ کروڑ گالی بکتی ھوئی بیگم نےحافظےکی ٹوکری میںسےگودا اور بیج اٹھائےاور اندو کےصاف ستھرےصحن میںبکھیر دیئے- ایک اندو کےبجائےدو اندو ھو گئیںایک تو اندو خود تھی اور دوسری ایک کانپتا ھوا خط جو اندو کا پورے جسم کا احاطہ کئےھوئےتھا اور جو نظر نہیںآرھا تھا - مدن کہیںجاتا بھی تھا تو گھر سےھوکر ---نہادھوکر اچھےکپڑےپہنےمگھئی کی ایک جوڑی جس میں خوشبو دار اقوام لگا ھوا تھا منھ میںرکھ کر ---لیکن اس دن مدن جوگھر میںآیا تو اندو کی شکل ھی دوسری تھی لپ اسٹک کےنہ ھونےپر ماتھےکی بندی سےرنگ لئےتھےگالوںپر روج لگا رکھا تھا اور بال کچھ اس طریقہ سےبنائےتھےکہ مدن کی نظریںان میںالجھ کر رہ گئیں- کیا بات ھےآج ؟ٰمدن نےحیرت سےپوچھا - کچھ نہیں-اندو نےمدن سےبچاتےھوئےکہا "آج فرصت ملی ھے-شادی کےپندرہ برس گزرجانے کےبعد اندو کو آج فرصت ملی ھےاور وہ بھی اس وقت جبکہ چہرےپر جھائیاںچلی آئیںتھیںکان پر ایک سیاہ سی کاٹھی بن گئی تھی اوربلاو~ ز کے نیچےننگےکےپیٹ کےپاس کمر پر چربی کی دو تین تہیںدکھائی دینےلگی تھیں-آج اندو نےایسا بندو بست کیا تھا ان عیوب میںسےای بھی چیز نظر نہیںآتی تھی یوںبنی ٹھنی کسی کسائی بے حد حسین لگ رھی تھی یہ نہیںھو سکتا مدن نےسوچا اور اسےایک دھچکا سا لگا اس نےایک بار پھر مڑ کر اندو کی طرف دیکھا جیسےگھوڑوں کےبیوپاری کسی نامیگھوڑےکی طرف دیکھتے ھیںوھاںگھوڑی بھی تھی اور لال لگام بھی -- یہاںجو غلط خط لگےگا شرابی کی آنکھوںکو نہ دکھ سکےگا ----اندوس چ مچ خوبصورت تھی آج بھی پندرہ سال کےبعد پھولاں ,رشیدہ,مسز رابرٹ اور انکی بہنیںاس کےسامنےپانی بھرتی تھیں--پھر مدن کو رحم آنےلگا اور ایک ڈر ! آسمان پر کوئی بادل بھی نہ تھے لیکن پانی پڑنا شروع ھو گیا گھر کی گنگا طغیانی پر تھی اور اس کا پانی کناروںسےنکل نکل کر پوری ترائی اوراس کےآس پاس بسنےوالےگاو~ںاور قصبوں کو اپنی لپیٹ میںلےرھا تھا -ایسا معلوم ھوتا تھا اسی رفتار سےپانی بہتا رھا تو اس میںکیلاش پربت بھی دوب جائےگا -----ادھر بچی رونےلگی - ایسا رونا جو وہ آج تک نہ روئی تھی - مدن نےاس کی آواز سنکر آنکھیںبند کرلیں-کھولیں تو بچی سامنےکھڑی تھی جوان عورت بن کر نہیں نہیںوہ اندو تھی اپنی ماںکی بیٹی اپنی بیٹی کی ماں جو اپنی آنکھوںکےدنبالےسےمسکرائی اور ھونٹوںکےکونےسےدیکھنےلگی - اسی کمرےمیںجہاںایک دن ھر مل کی دھونی نےمدن کو چکرادیا تھا آج خس کی خوشبو نے بوکھلا دیا ھلکی بارش تیز بارش سےزیادہ خطرنکا ھوتی ھےاس لئےباھر کا پانی اوپر کسی کڑی سےٹپکتا ھوا اندو اور مدن کےبیچ ٹپکنےلگا لیکن مدن تو شرابی ھو رھا تھا اس کےنشیںمیںاس کی آنکھیں سمٹنےلگیںاور تنفس تیز ھوکر انسان کا تنفس نہ رھا - اندّو-مدن نےکہا اور اس کی آواز شادی کی رات والی آواز سےدو سر اوپر تھی اور اندو نےپرےدیکھتےھوئے کہا "جی "اور سا کی آواز دو سر نیچےتھی ---پھرآج چاندنی کےبجائےاماوس تھی ------------ اس سےپہلےکہ مدن اندو کی طرف ھاتہ بڑھاتا اندو خود ھی مدن سےلپٹ گئی پھر مدن نےھاتہ سے اندو کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور دیکھنےلگا اس نے کیا کھویا اور کیا پایا اندو نےایک نظر مدن کےسیاہ ھوئےچہرےکی طرف پھینکی اور پھر آنکھیںبند کر لیں-- "یہ کیا؟ٰ"مدن نےچونکتےھوئےکہا --تمہاری آنکھیں سوجی ھوئی ھیں" یونہی "اندو نےکہا اور بچی کی طرف اشارہ کرتے ھوئےبولی -- "رات پھر جگایا ھےاس چڑیل میاّ نے" بچی اب تک خاموش ھو چکی تھی گویا دم سادھے دیکھ رھی تھی اب کیا ھونےوالا ھے؟ٰآسمان سے پانی پڑنا بند ھو گیا مدن نےپھر غور سےاندو کی آنکھوںکی طرف دیکھتےھوئےکہا --ھاںمگر- یہ آنسو--؟ٰخوشی کےھیںاندو نےجواب دیا آج کی رات میری ھےاور پھر ایک عجیب سی ھنسی ھنستی ھوئی مدن سےلپٹ گئی ایک تلذذ کے احساس نےکہا ---آج برسوںکےبعد میرےمن کی مراد پوری ھوئی ھےاندو !میںنےھمیشہ چاھا تھا - لیکن تم نےکہا نہیںاندو بولی یاد ھےشادی کی رات میںنےتم سےکچھ مانگا تھا ؟ٰ ھاں"مدن بولا---اپنےدکھ مجھےدےدو ! تم نےکچھ نہیںمانگا مجھ سے" میںنے"مدن نےحیران ھوتےھوئےکہا -میں کیا مانگتا ؟ٰمیںتو جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ تو سب کچھ تم نےدےدیا میرےعزیزوںسےپیار-- انکی تعلیم -بیاہ --شادی --یہ پیارےپیارےبچے یہ سب کچھ تو تم نے دےدیا -میںبھی یہی سمجھتی تھی اندو بولی لیکن اب جاکر پتا چلا ایسا نہیں" کیا مطلب "؟ٰ کچھ نہیں" پھر اندو نےرک کر کہا "میںنےبھی ایک چیز رکھ لی - کیا چیز رکھ لی-----------؟ٰ اندو کچہ دیر چپ رھی اور پھر اپنا منہ پرےکرتے ھوئےبولی ----اپنی لاج --اپنی خوشی ---اس وقت تم بھی کہہ دیتے--اپنےسکھ مجھےدےدو --تو میں----اور اندو کا گلا رندھ گیا - اور کچھ دیر بعد وہ بولی ---اب تو میرےپاس کچھ بھی نہیںرھا -" مدن کےھاتھوںکی گرفت ڈھیلی پڑ گئی وہ زمین میںگڑ گیا -ان پڑہ عورت --؟ٰکوئی رٹا ھوا فقرہ ---؟ٰ نہیںتو ---یہ تو ابھی سامنےھیزندگی کی بھٹی سےنکلا ھے ابھی تو اس پر برابر ھتھوڑےپڑ رھے ھیںاور آتش برادہ چاروںطرف اڑ رھا ھے- کچھ دیر کےبعد مدن کےھوش ٹھکانےآئےاور بولا -----میںسمجھ گیا اندو -----! پھر روتےھوئےمدن اور اندو ایک دوسرےسےلپٹ گئےاندو نےمدن کا ھاتھ پکڑا اور اسےایسی دنیا میںلےگئی جہاںانسان مرکر ھی پہنچ سکتا ھے۔
مصنف: راجندر سنگھ بیدی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ٹھوڑی, پسند, قدم, لوگ, نیند, نوکری, آبادی, آج, آدمی, اللہ, اجنبی, بچپن, تلاش, تعلیم, جواب, جلتا, جلد, جرم, خوش, دیکھو, دوست, راستہ, زندگی, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|