واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > ناول




بڑے گھر کی بیٹی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-03-11, 02:55 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بڑے گھر کی بیٹی

بڑے گھر کی بیٹی

بینی مادھو سنگھ موضع گوری پور کےزمینداراور نمبردارتھے-انکےبزرگ کسی زمانےمیں بڑےصاحب ثروت تھےپختہ تالاب اور مندر انہیں کی یادگارتھی کہتےھیں اس دروازے پر پہلےھاتھی جھومتا تھا اس ھاتھی کا وجود نعیم البدل بوڑھی بھیس تھی جس کےبدن پر گوشت تو نہ تھا مگر شاید دودھ بھی بہت دیتی تھی کیونکہ ھر وقت ایک نہ ایک آدمی ھانڈی لئےاس کےسر پر سوار رھتا تھا بینی مادھو سنگھ نے نصف سےزائد جائدادوکیلوں کی نذر کی اور اب انکی سالانہ آمدنی ایک ھزار سےزائد نہ تھی ٹھاکر صاحب کےدو بیٹےتھےبڑےکا نام سری کنٹھ تھااس نےایک مدت دراز کی جانکاھی کےبعدبی اےکی ڈگری حاصل کی تھی اور اب ایک دفتر میںنوکر تھا چھوٹا لڑکا لال بہادر سنگہ دوھرےبدن کا سنجیلا نوجوان تھا بھرا ھوا چہرہ چوڑا سینہ بھینس کا دوسیر تازہ دودہ ناشتہ کر جاتا تھا سری کنٹھ اس سےبالکل متضاد تھےاب ظاھری خوبیوں کو انہوں نےدو انگریزی حروف بی اے پر قربان کر دیا تھا انہیںدو حرفوںنےانکے سینےکی کشادگی قد کی بلندی چہرےکی چمک سب ھضم کرلی تھی یہ حضرت اب اپنا وقت فرصت طلب کےمطالعہ میںصرف کرتےتھےآرویدک دوائیوں پر زیادہ عقیدہ تھا شام سویرےانکےکمرےسےاکثر کھرل کی خوشگوارپیہم صدائیں سنائی دیتی تھی لاھور اور کلکتہ کے ویدوںسےبہت خط و کتابت رھتی تھی - سری کنٹھ اس انگریزی ڈگری کےباوجود انگریزی معاشرےکےبہت مدّاح نہ تھےبلکہ اس کےبرعکس وہ اکثر بڑی شد ومد سےاس کی مذمت کیا کرتے تھےاس وجہ سےگاو~ں میںانکی بڑی عزت تھی دسہرےکےدنوںمیں وہ بڑےجوش و خروش سے رام لیلامیںشریک ھوتےاور ھر روز خود کوئی نہ کوئی روپ بھرتےانہیںکی ذات سے گوری پور میں رام لیلا کا وجود ھوا - پرانےرسم رواج کا ان سےزیادہ پرجوش وکیل مشکل سےکوئی ھوگاخصوصا نشترکہ خاندان کےوہ زبردست حامی تھےآج کل بہووں کو اپنےکنبےکےساتھ مل کر رھنےمیںجو وحشت ھوتی ھےاسےوہ ملک اور قوم کےلئےفال بد خیال کرتےتھےیہی وجہ تھی کہ گاو~ں کی بہوئیںانہیںمقبولیت کی نگاہ سےنہ دیکھتی تھیں بعض بعض شریف زادیاں تو انہیں اپنا دشمن سمجھتی تھیںخود انہیں کی بیوی اس مسئلہ پر اکثر بڑےزور و شور سےبحث کیا کرتی تھی مگر اس وجہ سےنہیںکہ اسےاپنےساس سسر دیور جیٹھ سے نفرت تھی بلکہ اس کا خیال تھا کہ اگر غم کھانے اور طرح دینےپر بھی کنبےکےساتھ نباہ نہ ھو سکے تو آئےدن کی تکرار سےزندگی تلخ کرنےکےبجائے یہی بہتر ھےکہ اپنی کھچڑی الگ پکائی جائے- آنندی ایک بڑےاونچےخاندان کی بیٹی تھی اس کے باپ ایک چھوٹی سی ریاست کےتعلقہ دارتھےعالی شان محل ایک ھاتھی تین گھوڑے پانچ وردی پوش سپاھی فٹن بہلیاںشکاری کتے,باز بحری ,شکرے جرے,فرش ,فروش آلات آنریزی مجسٹریٹری اور قرض جو ایک معززتعلقہ دارکےلوازم ھےوہ ان سب سےبہرور تھےبھوپ سنگھ نام تھا فراخ دل اور حوصلہ مند آدمی تھےمگر قسمت کی خوبی ایک بھی لڑکا نہ تھا سات لڑکیاں ھی لڑکیاں ھوئیں اور ساتوںزندہ رھیںاپنےبرابر یا انچےخاندان میںانکی شادی کرنا اپنی ریاست کو مٹی میںملانا تھا پہلے جوش میں انہوںنےتین شادیاں دل کھول کر کرلیں مگر جب پندرہ بیس ھزار کےمقروض ھو گئےتو انکھیں کھلی ھاتھ سمیٹ لیاآنندی چوتھی لڑکی تھی مگر اپنی سب بہنوںسےزیادہ حسین اور نیک اسی وجہ سےٹھاکر بھوپ سنگھ اسےبہت زیادہ پیار کرتےتھےحسین بچےکو شاید اس کے ماںباپ بھی زیادہ پیار کرتےھیںٹھاکر صاحب بڑے پس و پیش میںتھےکہ انکی شادی کہا کریں نہ تو یہ چاھتےتھےکہ قرض کا بوجھ بڑھےاور نہ یہ منظور تھا کہ اسےاپنےآپ کی بدقسمتی کاموقع ملےایک روز سری کنٹھ اس کےپاس چندےکے روپیےمانگنےکےلئےآئےشاید ناگری پرچار کا چندہ تھا بھوپ سنگھ انکےطور طریقےپر ریجھ گئےکھینچ تان کر زائچےملائےگئےاور شادی دھوم دھام سے ھو گئی - آنندی دیوی اپنےنئےگھر آئیںتو یہاں کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ھی تھا جن دلچسپیوں اور تفریحوں کی وہ بچپن سےعادی تھی انکا یہاںوجود بھی نہ تھا ھاتھی گھوڑےکا کیا ذکر کوئی سجی ھوئی خوبصورت بہلی بھی نہ تھی ریشمی نیلپر ساتھ لائی تھی مگر یہاں باغ کہاںمکان میں کھڑکیاںتک نہ تھی زمین پر فرش نہ دیواروںپر تصویریںیہ ایک سیدھا سادھ دھقانی مکان تھا - آنندی نے ان تبدیلیوںسےاپنی تئیںاس قدر مانوس بنا لیا گویا اس نےتکلفات کبھی دیکھےھی نہیں- ایک روز دوپہر کےوقت لال بہاری سنگھ دو مرغیاں لئےھوئےآئےاور بھاوج سےکہا جلدی سےگوشت پکادو مجھےبھوک لگی ھےآنندی کھانا پکاکر انکی منتظر بیٹھی تھی گوشت پکانےبیٹھی مگر ھانڈی میں گھی پاوبھر سےزیادہ نہ تھا بڑےگھر کی بیٹی کفایت شعاری کا سبق اچھی طرح سے نہ پڑھی تھی اس نےسب گھی گوشت میں ڈال دیا لال بہاری سنگھ کھانےبیٹھےتو دال میں گھی نہ تھا بولےدال میںگھی کیوںنہیںچھوڑاآنندی --آج تو کل پاوبھر تھا وہ میںنےگوشت میں ڈال دیا "- جس طرح سوکھی لکڑی جلدی سےجل اٹھتی ھے اسی طرح بھوک سےباو~ لا انسان ذرا ذرا سی بات پر تنگ آجاتا ھےلال بہاری کو بھاوج کی یہ زبان درازی بہتبری معلوم ھوئی - تیکھا ھو کر بولا میکےمیںتو چاھےگھی کی ندی بہتی ھو " عورت گالیاں سہتی ھے مار سہتی ھےمگر میکے کی نندا اس سےنہیں سہی جاتی آنندی منھ بھر کر بولی ھاتھی مرا تو بھی نو لاکھ کا وھاں اتنا گھی روزانہ نائی کمہار کھا جاتےھیں-" لال بہاری جل گیا تھالی اٹھاکر پٹک دی اور بولا جی چاھتا ھےکہ تالو سےزبان کھیچ لے- آنندی کو بھی غصہ آگیا چہرہ سرخ ھو گیا بولی وہ ھوتےتو آج مزہ چکھا دیتےاب جوجوان اجڈ ٹھاکر سےضبط نہ ھوا اس کی بیوی ایک معمولی زمیندار کی بیٹی تھی جب جی چاھتا تھا اس پر ھاتھ صاف کر لیتا تھا کھڑاو اٹھاکر آنندی کی طرف زور سے پھینکا اور بولا جس کےگمان پر پھولی ھوئی ھو اسےبھی دیکھ لوںگا اور تمہیںبھی - آنندی نےکھڑاو ھاتھ سےروکےسر بچ گیا مگر انگلی میں سخت چوٹ آئی غصےکےمارےھوا میں ھلتے ھوئےپتے کی طرح کاپنتی ھوئی اپنےکمرےمیں آکر کھڑی ھو گئی عورت کا زور صلہ غرور و عزت مرد کی ذات سےھےاسےشوھر کی طاقت اور مرد کی ھمت کا گھمنڈ ھوتا ھےآنندی خون کا گھونٹ پی کر رہ گئی -شری کنٹھ سنگھ ھر شنبہ کواپنےمکان آیا کرتےتھے جمعرات کا یہ واقعہ تھا دو دن تک آنندی نےکچھ نہ کھایا نہ پیا انکی راہ دیکھتی رھی آخر شنبہ کو حسب معمول شام کےوقت وہ آئےاور باھر بیٹھکر کچھ ملکیاور مالی خبریںکچھ نئےمقدمےاور فیصلے بیان کرنےلگےاور سلسلہ تقریر دس بجےرات تک جاری رھا دو تین دن آنندی نےبڑےاضطراب اور بیچینی میںکاٹےاور بار کھانےکا وقت آیا پنچایت اٹھی جب تخلیہ ھوا تو لال بہاری نےکہا بھیا ذرا آپ گھر میںدسمجھا دیجیئےگا کہ زبان سنبھال کر بات چیت کیا کرےورنہ ناحق ایک دن خون ھو جائےگا بینی مادھو سنگھ نےشہادت دی بہوبیٹیوں کی یہ عادت اچھی نہیںکہ مردوںکےمنھ لگیں- لال بہاری "کچھ بھی نہیں یونہی آپ ھی آپ الجھ پڑیںمیکےسامنےھم لوگوںکو کچھ سمجھتی ھی نہیں"- سری کنٹھ کھاپی کر آنندی کےپاس گئےبہ بھی بھری بیٹھی تھی اور یہ حضرت بھی تیکھےتھے- آنندی نےپوچھا مزاج تو اچھا ھے؟ٰ سری کنٹھ بولے-بہت اچھا ھےیہ آج کل گھر میں تم نےکیا طوفان مچا رکھا ھے؟ٰ آنندی کےتیور پر بل پڑگئےاور جھنجھلاھٹ کے مارے بدن میںپسینہ آگیا بولی "جس نےتم سے یہ آگ لگائی ھےاسےپاو~ تو منھ جلس دوں-" سری کنٹھ-"اس قدر تیز کیوںھوتی ھو کچھ بات تو کہو - آنندی -کیاکہوںقسمتی کی خوبی ھےورنہ ایک گنوارلونڈا"جسےچپراسی گیری کرنےکی بھی تمیز نہیںمجھےکھڑاو~ سےمار کر یوںنہ اکڑتا پھرتا بوٹیاںنچوالیتی اس پر تم پوچھتےھو کہ گھر میںکیوںطوفان کھڑا کر رکھا ھے- سری کنٹھ- آخر کچھ کیفیت تو بیان کرو-مجھے تو کچھ معلوم ھی نہیں"- آنندی -پرسوںتمہارےلاڈلےبھائی نےمجھ سے گوشت پکانےکو کہا گھی پاو بھر سےکچھ زیادہ تھا -میںنےسب گوشت میںڈال دیا جب بیٹھا تو کہنےلگا دال میںگھی کیوںنہیںھےبس اسی پر میرےمیکےکو برا کہنےلگا مجھ سےبرداشت نہ ھو سکی بولی کہ وھاںاتنا گھی نائی کمہار کھا جاتےھیںاور کسی کو خبر بھی نہیںھوتی بس اتنی سی بات پر اس ظالم نےمجھ پرکھڑاو~ پھینک ماری اگر میںھاتھ سےنہ روکتی تو سر پھٹ جاتااس سےپوچھو میںنےجو کچھ کہا ھے سچ ھےیا جھوٹ ھے- سری کنٹہ کی آنکھیںلال ھو گئیں-بولے-یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ یہ لونڈا تو بڑا شریر نکلا- آنندی رونےلگی جیساکہ عورتوںکا قاعدہ ھے کیونکہ آنسو انکی پلکوںپر رھتا ھےعورت کے آنسو مرد کےغصہ پر روغن کا کام کر تےھیں سری کنٹھ کےمزاج میںتحمل بہت تھا انہیں شاید کبھی غصہ آیا ھی نہیںتھا مگر آنندی کے انسوو~ںنےآج زھریلی شراب کا کام کیا رات بھر کروٹیں بدلتے رھےسویرا ھوتےھی اپنےباپ کے پاس جاکر بولےدادا اب میرا نباہ اس گھر میں نہ ھوگا - یہ اور اسی معنی کےدو سرےجملےزبان سےنکالنے کےلئےسری کنٹھ نےاپنےھمجولیوںکو کئی بار آڑےھاتھوںلیا تھا جب انکا کوئی دوست ان سے اسی باتیںکہتا تو وہ اس کا مضحکہ اڑاتےاور کہتے تم لوگ بیویوںکےغلام ھو انہیںقابو میںرکھنے کےبجائےخود انکےقابو میں ھو جاتےھو مگرھندو مشترکہ خاندان کا یہ پرجوش وکیل اپنےباپ سے کہہ رھا تھا - دادا اب میرا بناہ اس گھر میںنہ ھوگا ناصح کی زبان اسی وقت تک چلتی ھےجب تک وہ عشق کےکرشموںسےبےخبر رھتا ھےآزمائش میںآکر ضبط اور علم رخصت ھو جاتےھیں- بینی مادھو سنگھ گھبراکر اٹہ بیٹھےاور بولےکیوں؟ٰ سری کنٹھ-"اس لئےکہ مجھےبھی اپنی عزت کا کچہ تھوڑا بہت خیال ھےآپ کےگھر میںاب ھٹ دھرمی کا برتاو~ ھوتا ھےجن کو بڑوںکا ادب ھونا چاھئےوہ انکےسر چڑھتےھیںمیںتو دوسروں کا غلام ٹھہرا گھر پر رھتا نہیں اور یہاںمیرے پیچھےعورتوںپر کھڑاوں اور جوتیوں کی بوچھار ھوتی ھے کڑی بات تو مضایقہ نہیں کوئی ایک کی دو کہہ لےیہاںتک تو ضبط کر سکتا ھوں مگر یہ نہیں ھو سکتا کہ میرےاوپر لات اور گھونسے پڑیں اور میں دم نہ ماروں- بینی مادھو سنگھ کچھ جواب نہ دےسکےسری کنٹھ ھمیشہ ان کا ادب کیا کرتےتھےان کےایسےتیور دیکھ کر بوڑھا ٹھاکر لا جواب ھو گیا صرف اتنا بولا بیٹا تم عقلمند ھوکر ایسی باتیںکرتےھو عورتیںاس طرح گھر تباہ کر دیتی ھیں انکا مزاج بہت بڑھانا اچھی بات نہیں"- سری کنٹھ اتنا میںجانتا ھوںآپ کی دعا سےاتنا میں احمق نہیں ھوںآپ خود جانتےھیںکہ اس گاوںکےکئی خاندان میںمیںنےعلیحدگی کی آفتوںسےبچایا ھےمگر جس عورت کی عزت و آبرو کا میںایشور کےدربار میںذمہ دارھوںاس عورت کےساتہ ایسا ظالمانہ برتاو~ میںنہیں کر سکتا آپ یقین مانئےمیں اپنےاوپر بہت جبر کر رھا ھوں کہ لال بہاری کی گوشمالی نہیں کرتا - اب بینی مادھو سنگھ بھی گرماگئےیہ کفر زیادہ نہ سن کےبولےلال بہاری تمہارا بھائی ھےاس سے جب کبھی بھول چوک ھو تو تم اس کےکان پکڑومگر000 سری کنٹھ-لال بہاری کو میں اب اپنا بھائی نہیں سمجھتا بینی مادھو -عورت کےپیچھے؟ سری کنٹھ -جی نہیں اس کی گستاخی اور بےرحمی کےباعث " دونوں آدمی کچھ دیر تک خاموش رھےٹھاکر صاحب لڑکےکا غصہ کچھ دھیما کرنا چاھتےتھےمگر یہ تسلیم کرنےکےلئےتیار نہ تھےکہ لال بہاری سے کوئی گستاخی یا بےرحمی وقوع میں آئی - اس اثناء میںکئی آدمی حقہ اور تمباکو اڑانےآبیٹھے کئی عورتوںنےجب یہ سنا کہ سری کنٹہ بیوی کےپیچھےباپ سےآمادہ جنگ ھےتو انکا دل بہت خوش ھوا اور طرفین کی شکوہ آمیز باتیں سننےکےلئےانکی روحیںتڑپنےلگی کچھ حاسد بھی اس گاو~ںمیںتھےجو اس خاندان کی سلامتی روی پر دل ھی دل میںجلتےتھےسری کنٹھ اپنے باپ سےدبتا تھا اس لئےوہ خطا وار ھےاس نے اتنا علم حاصل کیا یہ بھی اس کی خطا ھےبینی مادھو سنگھ بڑےبیٹےکو بہت پیار کرتےھیںیہ انکی حماقت ھےان خیالات کےآدمیوںکی آج امید برآئیںحّقہ پینےکےبہانےسےکوئی لگان کی رسید دکھانےکےبہانےسےآکر بیٹھ گئےبینی مادھو پرانا آدمی تھا سمجھ گیا کہیہ حضرات آج پھولے نہیںسماتےاس کےدل نےیہ فیصلہ کیا کہ انکو خوش نہ ھونےدوںگا خواہ اپنےاوپر کتنا ھی جبر ھو یکایک لہجہ تقریر نرم کرکےبولے"بیٹا"میںتم سےبالکل باھر نہیںھوںتمہارا جو جی چاھےکرو, اب تو لڑکےسےخطا ھو گئی -" الٰٰہ آبادکانوجوان جھلاّ ھوا گریجویٹ اس گھات کو نہ سمجھا اپنےڈیبٹنگ کلب میںاس نےاپنی بات اڑانےکی عادت سیکھی تھی مگر عملی مباحثوں کےداو~ ںپیچ سےواقف نہ تھا اس میدان میںوہ بالکل اناڑی نکلا باپ نےجس مطلب سےپہلو بدلا تھا وھاںتک اس کی نگاہ نہ پہنچی بولا میںلال بہاری سنگھ کے ساتھ اس گھر میںنہیںرہ سکتا-" باپ -"بیٹا تم عقلمند ھو اور عقلمند گنواروںکی باتوںپر دھیان نہیںدیتا وہ بےسمجھ لڑکا ھے اس سےجو کچھ خطا ھوئی تم بڑےھوکر اسےمعاف کردو - بیٹا- میںاس کی یہ حرکت ھرگز معاف نہیںکر سکتا یاتو وھی گھر میںرھےگا یا میںگھر میں رھوںگا اگر مجھےرکھنا چاھتےھیںتو اس سے کہیئےجہاںچاھےچلاجائےبس یہ میرا آخری فیصلہ ھے- لال بہاری دروازےکی چوکھٹ پر کھڑا چپ چاپ بڑےبھائی کی باتیںسن رھا تھا وہ انکا بہت ادب کرتا تھا اسےکبھی اتنی جرات نہ تھی کہ سرکنٹھ کےسامنےچارپائی پر بیٹھ جائےیا حقّہ پی لےیا پان کھالےاپنےباپ کا بہ اتنا ھی پاس و لحاظ رکھتا تھا سری کنٹھ کوبھی اس سےدلی محبت تھی اپنے ھوش میںانہوںنےاسےکبھی گھڑکا تک نہیں جب الٰٰہ آباد سےآتےاس کےلئےکوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لاتےمگدر کی چوڑی انہوںنےبنوادی تھی پچھلےسال جب اس نےاپنےسےڈیوڑ ھےنوجوان کی ناگ پنچمی کےدنگل میںپچھاڑ دیا تو انہوں نےخوش ھوکر اکھاڑےمیںجاکر اسےگلےسے لگایا تھا اور پانچ روپیہ کےپیسےلٹا دیئےتھےایسے بھائی کےمنہ سےآج اسی جگر سوز باتیںسنکر بہاری لال سنگھ کو بڑا ملال ھوا اسےذرا بھی غصہ نہ آیا پھوٹ پھوٹ کر رونےلگا اس میںکوئی شک نہیںکہ وہ اپنےفعل پر آپ نادم تھا بھائی کےآنےسےایک دن قبل ھی اس کا دل یک دم دھڑکتا تھا کہ دیکھو بھیّا کیا کہتےھیں میںانکےسامنےکیسے جاو~ںگا میںان سےکیسےبولوںگا میری آنکھیں انکےسامنےکیسےاٹھیںگی اس نےسمجھا تھا کہ بھیا مجھےبلاکر سمجھادیںگےاس امیدکےخلاف آج وہ اپنی صورت کو بیزار پاتا تھا وہ جاھل تھا مگر اس کا دل کہتا تھا کہ بھیا میرےساتھ زیادتی کر رھےھیںاگر سری کنٹہ اکیلا بلاکر دو چارسخت باتیںکہتےبلکہ دو چار طمانچےبھی لگا دیتےتو شاید اسےملال نہ ھوتا مگر بھائی کا یہ کہنا کہ میںاب اس کی صورت سےنفرت رکھتا ھوںلال بہاری سےنہ سہا گیا وہ روتا ھوا گھر میںگیا او ر کوٹھری میںجاکر کپڑےپہنےآنکھیںپوچھیںجس سےکوئی یہ نہ سمجھےکہ وہ روتا تھا تب آنندی دیوی کےدروازےپر آکر بولا بھابی ! بھیا نےیہ فیصلہ کیاھےکہ وہ میرےساتھ اس گھر میںنہ رھیںگے- وہ اب میرا منہ نہیںدیکھنا چاھتےاس لئےاب میںجاتا ھوںانہیںپھر منہ نہ دکھاو~ںگا مجھ سے جو خطا ھوئی اسےمعاف کرنا - یہ کہتےکہتےلال بہاری کی آواز بھاری ھو گئی - )4( جس وقت بہاری لال سنگھ سرجھکائےآنندی کے دروازےپر کھڑا تھا اسی وقت سرکنٹھ بھیآنکھیں لال کئےباھر سےآیا بھائی کو کھڑا دیکھا تو نفرت سےآنکھیںپھیر لیںاور کترا کر نکل گئےگویا اس کےسایہ سےپرھیز ھے- آنندی نےلال بہاری کی شکایت تو شوھر سےکی مگر دل میںپچھتا رھی تھی وہ طبعا نیک عورت تھی اور اس کےخیال میںبھی نہ تھا کہ معاملہ اتنا طویل پہنچےگا وہ دل ھی دل میںاپنےشوھر کےاوپر جھنجھلا رھی تھی کہ اسقدر گرم کیوں ھو رھےھیںیہ خوف کہ کہیںمجھےالٰٰہآباد چلنے کو نہ کہنےلگیںتو پھر میںکیا کروںگی یہ خیال اس کےچہرےکو زرد کئےھوئےتھا اسی حالت میں جب لال بہاری کودروازےپر کھڑا ھوا دیکھا سنا کہ اب میںجاتا ھوںمجھ سےخطا ھوئی ھےمجھے معاف کرنا تو اس کا رھا سہا غصہ بھی چلا گیاوہ رونےلگی دلوںکا میل دھونےکےلئےآنسوو~ںسے زیادہ کارگر کوئی چیز نہیںھے- سری کنٹھ کودیکھکر آنندی نےکہا-لالہ باھر کھڑے ھیںبہت رو رھےھیں- سری کنٹھ تو میںکیا کروں؟ٰ آنندی اندر بلاکو میری زبان میںآگ لگےمیںنے کہاںسےیہ جھگڑا اٹھایا - سری کنٹھ-میںنہیںبلانےکا - آنندی -پچھتاوں گانہیں بہت گلان آگئی ھےایسا نہ ھو کہ کہیںچل دیںسری کنٹھ نہ اٹھےاتنے میں لال بہاری نےکہا بھابی اچھا بھیا سےمیرا سلام کہدو -وہ میرا منہ نہیںدیکھنا چاھتے اس لئےمیںبھی اپنا منہ انہیںنہ دکھاوں گا- لال بہاری سنگہ اتنا کہہ کر لوٹ پڑا اور تیزی سےباھر کےدروازےکی طرف جانےلگا یکایک آنندی اپنےگھر سےنکلی اور اس کا ھاتھ پکڑلیا- لال بہاری نےپیچھےکی طرف تاکااور آنکھوں میںآنسو بھر کر بولا مجھےجانےدو " آنندی -کہاںجاتےھو؟ٰ لال بہاری -جہاںکوئی میرا منہ نہ دیکھے" آنندی -میں نہ جانےدوں گی -" لال بہاری -"میںتم لوگوںکےساتھ رھنےکےلائق نہیںھوں-" آنندی -تمہیںمیری قسم اب ایک قدم بھی آگےنہ بڑھانا - لال بہاری -جب تک مجھےیقین نہ ھو جائےگا کہ بھیا کا دل میری طرف سےصاف ھو گیا ھےتب تک اس گھر میںھر گز نہ رھوںگا- آنندی -میںایشور کی سوگھندکھاکر کہتی ھوں کہ تمہاری طرف سےمیرےدل میںذرا بھی میل نہیںھے- اب سری کنٹہ کا دل پگھلا-انہوںنےباھر آکرلال بہاری کو گلےلگا لیا اور دونوںبھائی خوب پھوٹ پھوٹ روئےلال بہاری نےسسکتےھوئےکہا بھیا اب کبھی نہ کہنا کہ میںتمہارا منہ نہ دیکھوں گااس کےسوا جو سزا آپ دیںگےوہ میںخوشی سےقبول کر وںگا - سری کنٹھ نےکانپتی ھوئی آواز میںکہا للّو ان باتوںکو بالکل بھول جاو~ ایشور چاھےگا تو اب ایسی باتوں کا موقع نہ آئےگا -" بینی مادھو سنگہ باھر سےآرھےتھےدونوںبھائیوں کو گلےملتےھوئےدیکھ کرخوش ھو گئےاور بول اٹھےبڑےگھر کی بیٹیاںایسی ھی ھوتی ھیں بگڑتا ھوا کام بنا لیتی ھیں گاوںمیںجس نےیہ واقعہ سنا الفاظ میں آنندی کی فیاضی کی داد دی - بڑےگھر کی بیٹیاں ایسی ھی ھوتی ھیں-----

مصنف: پریم چند
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ (21-03-11)
جواب

Tags
نفرت, محبت, معلوم, آدمی, انسان, بچپن, جھوٹ, جواب, حضرات, خون, دیکھو, دوست, دعا, روتا, شور, شام, ظالم, عورت, عادت, عزت, عشق, غم, غرور, غصہ, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اُمت کی بیٹی (ڈاکٹر عافیہ صدیقی) shafresha کتاب گھر 2 13-12-10 12:05 PM
بیٹی پیاری بیٹی مسافر بچوں کی تعلیم و تربیت 15 02-10-09 03:44 PM
حوا کی بیٹی کا قصاص ابن جلال خبریں 1 18-09-08 12:35 PM
چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی اصلاحات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:56 PM
گلبرگ ٹاؤن نے نقصانات کے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کردی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger