|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب : 1 پکّے جھوٹے
محمود اور فاروق ابھی ابھی سکول کا کام کرکے نیشنل پارک سے گھر لوٹے تھے۔۔۔۔فرزانہ انہیں الجبرے کے ایک سوال سے الجھی نظر آئی تو وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔۔ ۔”لاؤ میں حل کردوں”۔ فاروق نے اسے چھیڑا۔ ۔”تم سے حل کرواتی ہے میری جوتی”۔ اس نے جل بھن کر کہا۔ ۔”تو تمہاری جوتی بھی الجبرے میں ہی کمزور ہے۔ چچ چچ، بہت افسوس ہوا یہ سن کر، ویسے تمہاری جوتی کو چاہیے۔ محمود کے جوتے سے مدد لے لے، کیونکہ اس کے جوتے کی ایڑی میں۔۔۔۔”۔ ۔”دیکھو بھئی، میرے جوتے کو نہ گھسیٹو”۔ محمود نے فوراً کہا۔ ۔”کہیں آج تم دونوں ہری ہری گھاس کھا کر تو نہیں آگئے۔ گھاس کھانے والے کچھ اسی قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں”۔ فرزانہ نے خود پر قابو پانے کر بعد مسکراتے ہوئے کہا۔ ۔”فکر نہ کرو، تمہارے لیے بھی لے آئے ہیں، بستوں میں سے نکال لو”۔ فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”یہ بستوں سے کیا چیز نکالی جا رہی ہے، کیا سکول کا کام رہ گیا ہے”۔ باورچی خانے کی طرف سے بیگم جمشید کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے دیکھا، وہ چائے کی ٹرالی لا رہی تھیں۔۔ ۔”ارے امی جا، آپ چائے لے آئیں اور ابّا جان ابھی آئے بھی نہیں۔”۔ محمود بول اٹھا۔ ۔”وہ آج شاید رات سے پہلے نہیں آئیں گے۔ ان کی ایک دوست کے گھر دعوت ہے۔”۔ ۔”اوہو، اچھا، حیرت ہے، ان کے دوست نے ہمیں نہیں بلایا۔”۔ محمود نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ ۔”تمہیں پوچھتا کون ہے۔”۔ فرزانہ بولی۔ ۔”یہ بات نہیں۔” بیگم جمشید مسکرائیں۔ ”دراصل وہاں صرف مردوں کی دعوت ہے۔ عورتوں اور بچوں کو بلایا ہی نہیں گیا۔”۔ ۔”یہ کس قسم کی دعوت ہوئی؟” فاروق کے منہ سے نکلا۔ ۔”تب تو ہوسکتا ہے، وہ کوئی جاسوسی دعوت ہو۔” محمود کے منہ سے سوچے سمجھے بیر نکلا۔ ۔”جاسوسی دعوت،م بھئی واہ، یہ تو کسی ناول کا نام ہوسکتا ہے۔” فاروق بھلا کب چوکنے والا تھا۔ ۔”تمہیں تو بس ناولوں کے ناموں کی پڑی رہتی ہے۔” محمود نے جل کر کہا۔ ۔”تو پھر مجھے کس چیز کے ناموں کی پڑی رہنی چاہیے۔” فاروق نے بھی فوراً کہا۔۔ ۔”سوال یہ ہے کہ تم نے اس دعوت کو جاسوسی دعوت کیوں کہا۔” فرزانہ نے محمود کو گھورا۔ ۔”میں نے کسی ایسی دعوت کا ذکر کبھی شاید ہی سنا ہو، جس میں عورتیں اور بچے بالکل شریک نہ کیے جائیں۔” محمود نے جواب دیا۔ ۔”ہوں خیر، یہ تو ابّا جان کے آنے پر ہی معلوم ہوگا کہ وہ دعوت جاسوسی تھی یا غیر جاسوسی، لیکن اگر۔۔۔۔”۔ فرزانہ کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بجی تھی۔ ۔”لو جاسوسی دعوت میں ہمیں بھی بلایا گیا ہے۔ یہ فون ضرور ابّا جان کا ہوگا۔” فاروق نے خوش ہوکر کہا۔ محمود نے کچھ کہے بغیر فون کا ریسیور اٹھایا اور کان سے لگاتے ہوئے بولا ۔ ۔” ہیلو، میں محمود بول رہا ہوں۔آپ کو کس سے ملنا ہے؟”۔ ۔”میں بیگم فرقان کریم بول رہی ہوں۔ محمود بیٹے، فون اپنے ابّا جان کو دے دو۔” دوسری طرف سے پریشان سی آواز سنائی دی۔ ۔” وہ تو اس وقت گھر میں نہیں ہیں۔” محمود بولا۔ ۔”اوہ، کیا آج اب تک دفتر سے نہیں آئے؟”۔ ۔”انہیں ایک دعوت میں جانا تھا۔۔۔دفتر سے سیدھے ادھر ہی چلے گئے ہوں گے۔”۔ ۔”اور تم لوگوں کو یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ دعوت کس جگہ ہے کیا تم وہاں فون کرکے انہیں میرا پیغام نہیں دے سکتے، یا پھر مجھے اس جگہ کا فون نمبر بتا دو۔”۔ ۔”ایک منٹ ٹھہریے۔۔ ہمیں خود معلوم نہیں، وہ کس جگہ گئے ہیں۔ میں اپنی امّی سے معلوم کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر اس نے ریسیور پر ہاتھ رکھے بغیر ان سے پوچھا۔ ۔” دعوت کس کے ہاں ہررہی ہے امّی جان۔”۔ ۔”کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے صرف فون پر اتنا بتایا تھا کہ وہ دفتر سے فارغ ہوکر ایک دعوت میں شرکت کرنے جائیں گے، لٰہذا ان کا انتظار نہ کیا جائے۔”۔ :۔”اوہ۔” محمود کے منہ سے نکلا، پھر اس نے فون میں کہا ۔”ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں گئے ہیں۔”۔ ۔”اوہ، یہ بہت برا ہوا۔” بیگم فرقان کریم نے پریشان ہوکر کہا۔ ۔”آپ ہمیں بتائیے، معاملہ کیا ہے۔ شاید ہم آپ کے کام آ سکیں۔”۔ ۔”تم، تم، ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح میری پریشانی میں کمی تو ہوہی جائے گی۔ اچھا تم ہی آجاؤ۔”۔ ۔”جی بہتر، پتا بتائیے۔”۔ ۔”103 عالم روڈ۔” دوسری طرف سے کہا گیا۔ یہ کہتے ہوئے ریسیور رکھ دیا گیا۔ ۔”امی جان، آپ کسی فرقان کریم یا بیگم فرقان کریم کو جانتی ہیں؟”۔ ۔”نہیں، میں نے یہ نام کبھی نہیں سنا۔”۔ ۔” لیکن یہ خاتون تو اس انداز سے بات کر رہی تھیں، جیسے ابّا جان کی قریبی رشتے دار ہوں۔ ہمیں بھی وہ بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔” محمود نے الجھن کے عالم میں کہا۔ ۔” تب پھر ہوسکتا ہے، ہم انہیں صرف ان کے نام سے جانتے ہوں، جب کہ اس وقت انہوں نے اپنا نام شوہر کی نسبت سے بتایا ہے۔” بہگم جمشید نے خیال ظاہر کیا۔ ۔” ہوں، یہ بات ہی ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ تو پھر ہم ان کے ہاں ہو ہی آئیں۔ نہ جانے انہیں کیا پریشانی لاحق ہے۔”۔ ۔” ضرور ہو آؤ۔ دوسروں کی پریشانیاں دور کرنا بھی نیکی ہے۔”۔ انہوں نے کہا اور تینوں باہر نکل آئے۔ جلد ہی وہ موٹر سائیکلوں پر بیٹھے عالم روڈ کی طرف اڑے جا رہے تھے۔ کوٹھی نمبر 103 تلاش کرنے میں انہیں کوئی خاص دقت نہیں ہوئی۔ دروازے کی گھنٹی بجاتے ہی قدموں کی چاپ سنائی دی اور ایک نوجوان عورت نے دروازہ کھولا۔ اس کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں۔ ۔”تم محمود، فاروق اور فرزانہ ہی ہو نا۔” ۔”جی ہاں، سو فیصد۔” فاروق بولا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو محمود اور فرزانہ مسکرائے بغیر نہ رہتے، لیکن بیگم فرقان کریم کو غمگین دیکھ کر انہوں نے اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹ لیا۔ ۔”آؤ آؤ، اندر چلے آؤ۔” تینوں ان کے پیچھے اندر کی طرف چل پڑے۔ ان کی ان کی الجھن بڑھتی جارہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پوری کوٹھی میں بیگم فرقان کریم کے سوا کوئی نہ ہو۔ ۔” آپ ابّا جان کو کیسے جانتی ہیں؟” فرزانہ بے چین ہو کر بولی۔ ۔”میرے والد ان کے والد کے گہرے دوست تھے۔ جمشید بھائی بچپن میں اپنے والد کے ساتھ ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اکثر کھیلا کرتے تھے۔ اب تو ان باتوں کو ایک مدت ہو چلی ہے۔ آٹھ سال پہلے میری شادی ایک دور دراز شہر میں ہوئی تھی۔ میرے شوہر کا نام فرقان کریم ہے۔ میں نے شادی کی اطلاع جمشید بھائی کو دی تھی۔ شوہر کا نام بھی لکھا تھا، لیکن وہ شادی میں آئے ہی نہیں۔ یہاں آئے ہوئے مجھے تقریباً تین سال ہوچکے ہیں لیکن نہ تو میں نے جمشید بھائی کو اپنی اس شہر میں آمد کی اطلاع دی اور نہ ملنے کی کوشش کی، کیونکہ میں ان سے ناراض تھی، وہ میری شادی میں نہیں آئے تھے، لیکن آج جب مصیبت میں مبتلا ہوئی تو بے اختیار جمشید بھائی یاد آئے۔”۔ ۔”اوہ، اب ہم سمجھ گئے کہ آپ کا ابّا جان سے کیا تعلق ہے۔ اسی لیے ہم اور امّی جان حیران تھے کہ بیگم فرقان کریم کے نام سے تو ہم واقف ہی نہیں۔ خیر تو آپ کس سلسلے میں پریشان ہیں۔”۔ ۔” فرقان کریم کل سے غائب ہیں۔” انہوں نے کہا۔ ۔”کیا کہا ، غائب ہیں۔”۔ ۔”ہاں، کل ناشتا کرنے کے بعد وہ اپنے دفتر چلے گئے تھے۔ دوپہر کو واپس نہ آئے تو میں نے دفتر فون کیا۔ وہاں سے بتایا گیا کہ وہ دفتر سے جا چکے ہیں۔ میں یہ سوچ کر انتظار کرتی رہی کہ شاید کسی دوست کے گھر چلے گئے ہوں، یا کوئی چیز خریدنے کے لیے بازار چلے گئے ہوں، پھر رات کے آٹھ بج گئے، لیکن وہ نہ آئے۔ میں صبر کرکے بیٹھ گئی اور انتظار کرتی رہی۔ اس شہر میں ان کے دوستوں کے نام اور پتے مجھے معلوم نہیں، لٰہذا کچھ بھی نہ کرسکی۔ آخر جب تمام رات وہ واپس نہ آئے تو صبح میں نے پولیس سٹیشن جا کر ان کی گم شدگی کی رپورٹ درج کرادی۔ اس پر بھی چین نہ آیا، لیکن کر ہی کیا سکتی تھی۔ ایسے میں مجھے جمشید بھائی کا خیال آیا۔ میں نے تو انہیں یہاں اپنی آمد کی اطلاع نہیں دی تھی، لیکن اب میں فون کرنے پر مجبور ہوگئی تھی، چنانچہ ان کے بجائے تم لوگ یہاں موجود ہو۔” یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگئیں۔ ۔” تو آپ نے رپورٹ عالم روڈ کے تھانے میں درج کرائی تھی؟” محمود نے پوچھا۔ ۔”ہاں، اور کہاں کراتی۔” ۔”ٹھیک ہے، آپ فکر نہ کریں۔۔ ہم ابھی او۔۔۔۔”۔ محمود کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔۔ اسی وقت بھاری قدموں کی آواز گونجی تھی۔ وہ چونک کر مڑے اور پھر ٹھٹک کر رہ گئے۔ ان کے اندر داخل ہونے کے بعد بیگم فرقان کریم نے دروازہ اندر سے بند نہیں کیا تھا اور اگر بند کر بھی دیتیں تو بھی کوئی فرق نہ پڑ جاتا۔۔۔ آنے والے دروازے پر دستک دے کر بھی اندر داخل ہوسکتے تھے۔ وہ کُل تین تھے۔ تینوں لمبے ترنگے اور سیدھے سادے سے آدمی نظر آتے تھے، بے ضرر اور معصوم سے۔ ۔” آپ لوگ کون ہیں اور اس طرح اندر کیوں داخل ہوئے ہیں۔ آپ کو باقاعدہ اجازت لے کر اندر آنا چاہیے تھا۔” بیگم فرقان کریم نے احتجاج کیا۔ ۔”ہاں، یہ ٹھیک ہے، لیکن اجازت لینے میں وقت ضائع ہوجاتا اور ہم ذرا جلدی میں ہیں۔” ان میں سے ایک نے پُر سکون لہجے میں کہا۔ ۔”کیا مطلب، آپ لوگ ہیں کون؟”۔ ۔”فرقان کریم کے پرانے اور گہرے دوست۔ ہم نے ان کے پاس ایک امانت رکھوائی تھی، آج وہ واپس لینے آئے ہیں، کیونکہ ہمیں اس چیز کی سخت ضرورت ہے۔” وہی بولا۔ اس کی آواز بہت نرم تھی۔ ۔”لیکن آپ کے دوست کل سے گھر نہیں آئے، خدا جانے وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں۔۔۔ان کی گم شدگی کی رپورٹ درج کرا دی گئی ہے، جونہی ان کا کوئی پتا چلا ہم آپ کو اطلاع کردیں گے۔ اس وقت آپ آکر اپنی امانت لے جائیے گا۔” بیگم فرقان نے بھی شائستہ لہجے میں کہا۔ ۔”افسوس، اس چیز کے بغیر ہمارا سارا کام خراب ہوجائے گا۔ وہ چند کاغذات ہیں، اگر آپ ہمیں اجازت دے دیں تو ہم ان کی کاغذات والی الماری سے وہ کاغذات نکال لیں۔ امید ہے، آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”۔ ۔” ہوں تو یہ بات ہے۔ کیوں بھئی، کیا کیا جائے۔” بیگم فرقان نے مشورہ لینے کے انداز میں ان کی طرف دیکھا۔ ۔”بہتر تو یہی تھا کہ یہ فرقان کریم صاحب کی واپسی تک انتظار کرلیتے، کیونکہ آپ انہیں جانتیں نہیں۔ ان حالات میں اگر یہ کوئی قیمتی کاغذات لے گئے تو کیا ہوگا۔” محمود نے کچھ سوچ کر کہا۔ ۔”ہم فرقان صاحب کے واقعی دوست ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ کاغذات انہوں نے ہمارے سامنے رکھے تھے،لٰہذا ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔”۔ ۔”اوہ، لیکن میں نے تو آپ تینوں کو اپنے گھر میں کبھی نہیں دیکھا۔” بیگم فرقان چونک کر بولیں۔ ”جن دنوں ہم آئے تھے، آپ اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوےئ تھیں۔” دوسرا بولا۔ ۔”اوہ، تب تو۔۔۔۔تب تو۔۔۔۔” ان کی آواز نہ جانے کیوں تھرا اٹھی۔ ۔”تب تو کیا؟” فرزانہ چونک کر بولی۔ ۔”تب تو یہ تینوں پکّے جھوٹے ہیں۔”۔ ۔”جھوٹے پکّے ہوں یا کچّے، جھوٹے ہی ہوتے ہیں اور ہمارے مذہب میں جھوٹ بولنے سے بہت سختی سے منع کیا گیا ہے ، بلکہ جھوٹ کو تمام برائیوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ ان حالات میں ہم وہ کاغذات ان کے حوالے نہیں کریں گے، لیکن آنٹی، یہ یکایک آپ کو پکّے جھوٹے کس طرح نظر آنے لگے؟” فاروق نے شوخ لہجے میں کہا۔ ۔”اس لیے کہ میں جب سے اس شہر میں آئی ہوں، ایک بار بھی اپنے ماں باپ کے گھر نہیں گئی۔”۔ ۔”اوہ، ان حالات میں تو انہیں پکا جھاٹا ہی کہا جاسکتا ہے، کیوں فرزانہ۔” فاروق چہکا۔ ۔”ہاں پکے سے بھی دو ہاتھ آگے۔” فرزانہ بڑبڑائی۔ ۔” یہ مجھے بتا نہیں کہ پکے سے دو ہاتھ آگے کیسے جھوٹے ہوتے ہیں، بہرحال دوستو، اب تم اپنی امانت فرقان صاحب سے ہی لے سکتے ہو۔”۔ ۔”لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فرقان صاحب اب واپس نہیں آئیں گے، وہ یہاں سے چلے گئے ہیں۔” پہلا بولا۔ ۔”یہاں سے چلے گئے ہیں، کہاں چلے گئے ہیں۔” بیگم فرقان چلا اٹھیں۔ ۔”سنا ہے، اس ملک سے ہی چلے گئے ہیں، اسی لیے تو ہمیں اپنی امانت کی فکر ہوئی۔”۔ ۔”ان حالات میں امانت پولیس کی ماجودگی میں لوٹائی جا سکتی ہے، کیونکہ ہمیں آپ کی باتوں پر ذرا بھی اعتبار نہیں۔”۔ ۔”جیسے تم لوگوں کی مرضی، ویسے تم تینوں ہو کون، جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، فرقان کریم کے تو کوئی اولاد نہیں۔”۔ ۔” ان کے کسی دوست یا بیگم فرقان کے کسی عزیز کے تو اولاد ہوسکتی ہے۔” فرزانہ نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔ ۔”واہ، اتنا شاندار جلا کٹا لہجہ کبھی دیکھا نہ۔۔۔۔۔۔سوری، لہجہ تو دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔” فاروق مسکرایا۔ ۔”عامی ، شاکی، سیدھے فرقان کریم کے کمرے میں جاؤ اور اپنی امانت نکال لاؤ۔” پہلے نے سخت لہجے میں کہا۔ انہوں نے چونک کر دیکھا، تھوڑی دیر پہلے معصوم اور سیدھے سادے نظر آنے والے چہروں پر اب درندگی کا راج تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے پہلے کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے انہیں اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا پستول نظر آیا۔ ۔”لو بھئی، پرانی اور گہری دوستی گرگٹ کی طرح دشمنی میں بدل گئی۔” فاروق بڑبڑایا۔ ۔” خبردار، تم چاروں ہاتھ اوپر اٹھادو۔۔۔عامی، شاکی، تم نے سنا نہیں، میں نے کیا کہا ہے، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔”، اس کے ان الفاظ کے ساتھ ہی اس کے دونوں ساتھی اندر کی طرف جھپٹ پڑے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر Last edited by پاکستانی; 13-11-10 at 07:43 PM. |
|
|
|
| پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا | مزمل فاروق (13-11-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب : 2 فائل کا سفر
۔”تھری سٹار ہوٹل کے اس بڑے کمرے میں آپ لوگوں کو میں نے دعوت دی ہے اور وجہ بتائے بغیر دعوت دی ہے۔ آپ لوگ حیران تو ہورہے ہوں گے اور شاید پریشان بھی، لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہاں آپ کو جمع کرنے کا مقصد کوئی دعوت دینا نہیں، ایک اہم مسئلہ سامنے رکھنا ہے ؛ تاہم اس کے ساتھ ساتھ آپ کو کچھ ٹھنڈے مشروبات بھی پیش کیے جائیں گے۔ مسئلہ جو ابھی ابھی پیش کیا جانے والا ہے، بہت تکلیف دہ ہے اور میں چاہتا ہوں، یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے، فی الحال تو آپ مشروبات کی طرف توجہ دیجیے۔”۔ آئی جی صاحب کے ان الفاظ کے ساتھ ہی بیرے کمرے کے دروازے کھولتے ہوئے اندر داخل ہوگئے اور سوڈا واٹر کی بوتلیں اور شربت وغیرہ کے گلاس میٹنگ میں شریک تمام لوگوں کو پیش کرنے لگے۔ اس دعوت کا انتظام آئی جی شیخ نثار احمد صاحب کی طرف سے کیا گیا تھا۔دفتر سے چھٹی سے صرف پندرہ منٹ پہلے تمام آفیسرز کو یہ پیغام ملا کہ کوئی بھی گھر نہیں جائے گا۔۔ سب کو ایک ضروری میٹنگ میں شریک ہونا ہے، پھر ٹھیک پانچ بجے ان سب کو کاروں اور جیپوں میں بیٹھ کر آئی جی صاحب کے پیچھے روانہ ہونا پڑا۔ ہر کوئی حیران تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور آخر کاروں اور جیپوں کا یہ قافلہ ہوٹل تھری سٹار جاکر رکا۔۔۔ہوٹل کے کمرے میں سب کے بیٹھ جانے کے بعد آئی جی صاحب نے یہ الفاظ ادا کیے اور اب سب لوگ شربت وغیرہ سے دل بہلانے کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہورہے تھے۔ ان دنوں گرمی غضب کی پڑ رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آئی جی صاحب نے چائے یا کافی کے بجائے ٹھنڈے مشروب کا اہتمام کیا تھا۔ پندرہ منٹ تک پینے کا شغل جاری رہا۔ ۔۔ آخر بیرے برتن سمیٹ لے گئے۔ کمرے کے دروازے اندر سے بند کرلیے گئے اور ایک بار پھر آئی جی صاحب کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔ ۔”اس میز کی طرف توجہ فرمائیے۔ میز پر آپ کو ایک فائل پڑی نظر آئے گی۔ اس فائل میں بہت ہی قیمتی اور اہم ترین راز موجود ہیں۔۔۔ آپ لوگوں کو یہ جان کر حد درجے حیرت ہوگی کہ اس فائل نے ایک حیرت انگیز سفر کیا ہے۔”۔ ۔”کیا مطلب، فائل نے سفر کیا ہے۔” ایک آفیسر نے حیرت زدہ ہوکر کہا۔ ۔”ہاں، میں نے یہی کہا ہے۔ آپ لوگ اسے ایک حیرت انگیز سفر بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک خوف ناک سفر کہہ لیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔۔۔ لیکن میرے نزدیک یہ ایک افسوس ناک سفر تھا۔” ۔”افسوس ناک سفر؟” کئی آفیسر بڑبڑائے۔۔۔۔ابھی تک کسی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ آئی جی صاحب کہنا کیا چاہتے ہیں، حالانکہ اس میٹنگ میں انسپکٹر جمشید بھی موجود تھے، انسپکٹر فاضل ، جیلانی اور رحمانی وغیرہ بھی شامل تھے۔ بڑے آفیسرز بھی تھے، لیکن کوئی بھی کچھ نہ سمجھ سکا۔ ان کی پیشانیوں پر الجھن کے آثار نظر آنے لگے۔ ۔”آپ لوگ حیران ہورہئ ہیں کہ میں کہنا کیا چاہتا ہوں۔ خیر تو میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ اس فائل کا تعلق ہمارے ملک سے ہے۔ اسے ہمارے دفتر کے ایک سیف میں رکھا گیا تھا۔ لیکن اب یہ مجھے دشمن ملک سے بھجوائی گئی ہے۔” انہوں نے ڈرامائی انداز میں کہا اور یک لخت خاموش ہوگئے۔ ۔”جی کیا فرمایا ؟” کہی حیرت میں ڈوبی ہوئی آوازیں ابھریں۔ ۔”ہاں، اسے یہاں سے چرا کر دشمن ملک بھیج دیا گیا تھا، لیکن وہاں موجود ہمارے ایک ہوشیار ترین جاسوس نے اسے اغل جگہ تک پہنچنے سے پہلے ہی اڑا لیا اور مجھے بھیج دیا۔ یہ کس طرح یہاں تک واپس آئی۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ مختصر یہ کہ واپس لانے والے تین آدمیوں میں سے صرف ایک زندہ بچا اور وہی مجھ تک پہنچ سکا۔ دو کو راستے میں ہلاک کردیا گیا۔۔ تیسرا جو مجھ تک پہنچا، نہ جانے کس کس طرح اپنے آپ کو بچاتا یہاں تک آنے میں کامیاب ہوا ۔۔۔ ۔۔تینوں نے ایک بہت بڑی قربانی دی۔۔۔مجھے ان پر فخر ہے اور مجھے اس بات کا افسوس زندگی بھر رہے گا کہ ہم میں کوئی ایک غدار موجود ہے۔ اس غدار نے ہی فائل کو چرایا تھا۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں، وہ غدار کون ہے۔ صاف ظاہر ہے۔، وہ خود اٹھ کر یہ اعلان ہر گز نہیں کرے گا کہ غدار میں ہوں، لٰہذا میں یہ کیس انسپکٹر جمشید کے حوالے کرتا ہوں اور انہیں آٹھ دن کی مہلت دیتا ہوں۔ وہ آٹھ دن کے اندر اندر اس غدار کا پتا چلائیں، تاکہ میں اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ سکوں۔” جذباتی آواز میں آئی جی صاحب یہاں تک کہہ کر خاموش ہوگئے۔ ۔” لیکن سر، فائل کوئی باہر کا آدمی بھی تو چرا سکتا ہے۔” انسپکٹر جمشید نے پہلی مرتبہ زبان کھولی۔ ۔”ہاں، چرا سکتا ہے، لیکن کم از کم یہ فائل کوئی باہر کا آدمی نہیں چرا سکتا تھا کیونکہ جس سیف میں یہ رکھی گئی تھی، اسے کھولنا کوئی آسان کام نہیں؛ تاہم دفتر کا وہی آدمی اسے کھولنے کا راز جاننے کی کوشش کرسکتا ہے جو غدار ہو، ورنہ کسی محبّ وطن کو کیا ضرورت ہے کہ ایسا راز جاننے کی کوشش کرے۔” آئی جی صاحب بولے۔ ۔” جی ہاں، ٹھیک ہے، لیکن اس کیس میں ایک آدمی نے کام نہیں کیا۔۔دفتر کے ایک آدمی نے فائل ضرور چرائی ہے۔۔۔اس کے بعد تو اس نے کسی باہر کے آدمی کے ذریعے ہی فائل دشمن ملک بھیجی ہوگی، ہمیں اس باہر کے آدمی کا سراغ لگانا ہوگا۔۔۔ دفتر کے آدمی کا سراغ تو میں چند گھنٹوں کے اندر اندر لگا لوں گا۔” یہ کہتے ہوئےانہوں نے سب پر ایک نظر ڈالی اور پھر ان کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی۔ وہ آئی جی صاحب کے پی اے کی طرف بغور دیکھ رہے تھے۔۔۔پی اے کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جا رہا تھا۔۔ اچانک ان کے منہ سے نکلا۔ ۔” بہت خوب، لیجیے جناب، چور تو خود ہی اپنی چوری کا اعلان کیے دے رہا ہے۔”۔ ۔”کیا مطلب؟ ” کئی آوازیں ابھریں۔ ۔”ذرا ان کی طرف دیکھیے۔۔۔۔۔ان کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔ انسپکٹر جمشید کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔ اسی وقت کمرے میں گولی کا دھماکا ہوا اور پی اے کرسی سے لڑھک گیا۔ اس کا پستول والا ہاتھ اس کے اپنے جسم کے نیچے دب گیا۔ وہ سب بوکھلا کر اس کی طرف دوڑے۔ ------------------------------------------------------------------- ۔” تم لوگ ایک غیر قانونی کام کررہے ہو۔” محمود غرایا۔ ۔”ہم کب کہتے ہیں کہ یہ قانونی کام ہے۔” پہلے نے جواب دیا۔ ۔”تمہارے دونوں ساتھیوں کے نام تو عامی اور شاکی ہیں۔ خود تمہارا کیا نام ہے؟” فرزانہ نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔ ۔” میں کابوس ہوں۔” اس نے جواب دیا۔ ۔” اچھا تو مسٹر کابوس، سچ سچ بتا دو، تم لوگ چاہتے کیا ہو؟” فاروق نے کہا۔ ۔” اپنی امانت یہاں سے لے جانا چاہتے ہیں۔ پہلے ہی تمہیں بتا چکے ہیں۔”۔ ۔” آخر وہ کیسے کاغذات ہین؟”۔ ۔” ہمارے کام کے کاغذات ہیں۔” اس نے کہا۔ ۔”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کاغذات یہاں سے لے جانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔” محمود نے عجیب سے لہجے میں کہا۔ ۔” ہاں کیوں، اس میں کیا مشکل ہے؟”۔ اس دوران فرزانہ غیر محسوس طور پر ایک کرسی کی طرف کھسکتی رہی تھی اور پھر اچانک کرسی فضا میں اچھلی اور سیدھی کابوس کی طرف گئی۔۔۔وہ زیادہ دور نہیں تھا۔ کرسی اس سے ٹکرا گئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔۔۔محمود اور فاروق کے لیے اتنا ہی موقع کافی تھا۔ وہ اس پر جھپٹ پڑے ۔۔۔۔ کابوس نے ٹریگر دبا دیا۔ پستول سے نکلنے والی گولی سامنے دیوار پر لگی۔ دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی اندرونی حصے سے عامی نے چیخ کر کہا۔ ۔” کیا ہوا کابوس؟”َ ۔”انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے، لیکن تم اپنا کام جارہی رکھو۔” کابوس چلا اٹھا۔۔ ساتھ ہی وہ ہاتھ پیر بھی چلا رہا تھا۔ ۔”اگر بدد کی ضرورت ہو تو ہم میں سے ایک آجائے۔” عامی بولا۔ ۔”نہیں، کیا تم کاغذات ابھی تک تلاش نہیں کرسکے؟”۔ ۔”نہیں، شاید فرقان نے انہیں کہیں اور رکھ دیا ہے۔” شاکی کی آواز سنائی دی۔ ۔” اوہ، ارے میں مرا، یہ کیا؟” اس کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی، کیوں کہ اسی وقت محمود کے تابڑ توڑ مکے اس کے سر کا مزاج پوچھ چکے تھے۔ دراصل وہ انہیں عام سے بچّے خیال کرتے رہے تھے۔ اب انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ کون ہیں۔ دوسرے ہی لمحے پستول بھی کابوس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ۔” ان۔۔۔۔انہوں نے۔۔۔۔۔ انہوں نے مجھ سے پستول چھین لیا ہے۔” کابوس گلا پھاڑ کر بولا۔ ۔”کیا۔” عامی اور شاکی کی بوکھلائی ہوئی آوازیں سنائی دیں۔اور پھر انہوں نے ایک آواز سنی۔۔ یہ آواز دروازے کے زار سے بند ہونے کی تھی۔ ۔”ارے، یہ کیا؟” بیگم فرقان کے منہ سے حیرت زدہ انداز میں نکلا۔ اس وقت تک جو کچھ ہوا تھا، انہوں نے اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ایک پستول برادر دشمن پر بھی محمود، فاروق اور فرزانہ حملہ کرسکتے ہیں۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ محمود نے پستول چھینتے ہی فرزانہ کی طرف اچھال دیا تھا اور دونوں اس سے گتھے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر تیزی سے چل رہے تھے۔ ادھر کابوس بھی کچھ کم طاقت ور نہیں تھا۔۔۔ وہ تو دراصل لاپروائی کی وجہ سے مار کھا گیا تھا۔۔اگر کبھی اسے معلوم ہوتا کہ وہ لوگ کون ہیں تو وہ ان کی طرف سے اس قدر بے فکر نہ ہوتا۔ ۔” محمود، فاروق جلدی کرو، اسے بے ہوش کرکے ہی ہم ان دونوں کی خبر لینے جاسکتے ہیں۔” فرزانہ نے تیز آواز میں کہا۔ ۔” محمود، فاروق۔۔۔۔۔۔” بچاؤ کے لیے تیزی سے ہاتھ پیر چلاتے ہوئے کابوس نے حیرت بھری آواز میں کہا۔ ۔”کیوں، کیا تم محمود اور فاروق کے نام سے واقف ہو؟” فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔ ۔” تت، تت، تو کیا تم فرزانہ ہو؟”۔ ۔” ٹھیک سمجھے۔” فرزانہ بولی۔ اور وہ دھپ سے زمین پر گر گیا، بالکل اس طرح جیسے غبارے سے ہوا نکل گئی ہو۔ آخری دو چار ہاتھ اسے بے ہوشی کی دنیا میں لے گئے اور وہ اندر کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک کمرے کا دروازہ اندر سے بند نظر آیا۔ ۔”کیا یہ کمرہ فرقان صاحب کا ہے؟” محمود نے پوچھا۔ ۔”ہاں۔” بیگم فرقان کھوئے کھوئے انداز میں بولیں۔ ۔”تب تو وہ دونوں اندر ہی ہیں۔” یہ کہہ کر محمود نے دروازے کو پستول کے بٹ سے کٹ کھٹا ڈالا۔ ۔”تم دونوں دروازہ کھول دو، ورنہ ہم اسے توڑ بھی سکتے ہیں۔” لیکن اندر سے انہیں کوئی جواب نہ ملا۔۔۔ تینوں پریشان ہوگئے۔ ۔”کیا اس کمرے کا کوئی اور دروازہ بھی ہے؟” ۔”ایک کھڑکی باغ میں کھلتی ہے۔” ۔”ارے باپ رے، پھر تو وہ نکل بھی گئے ہوں گے، آئیے ہمارے ساتھ۔” وہ بیگم فرقان کے ساتھ دوڑتے ہوئے باغ میں پہنچے اور کھڑکی کے نیچے رک گئے۔۔۔۔ کھڑکی چوپٹ کھلی تھی اور کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ تمام کاغذات بے ترتیبی سے فرش پر بکھرے پڑے تھے۔ ۔” تو وہ نکل گئے، اب یہ معلوم نہیں کہ کاغذات ان کے ہاتھ لگے یا نہیں۔۔۔ خیر، کابوس تو ابھی ہمارے قبضے میں ہے۔ آؤ پہلے اے باندھ لیں، پھر اس کمرے کا جائزہ لیں گے۔”۔ چاروں ایک بار پھر دوڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور دھک سے رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔کابوس بھی غائب تھا۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 3: دو پستول
پی اے نے دیکھتے ہی دیکھتے دم توڑ دیا۔ مرتے وقت وہ اس سے کچھ نہ اگلوا سکے۔ اتنی مہلت ہی نہ مل سکی۔ وہ سب سکتے کے عالم میں کھڑے رہ گئے۔۔۔آخر آئی جی صاحب کی آواز نے انہیں چونکا دیا۔ ۔” حیرت ہے، چور اتنی جلدی پکڑا گیا اور دوسری دنیا میں بھی پہنچ گیا۔”۔ ۔”دراصل اس کا رنگ یہ فائل دیکھ کر اڑا تھا۔۔میں نے یہ بات پہلے ہی محسوس کر لی تھی ۔۔۔جب پھر میں نے اپنی نظریں اس پر جما دیں تو وہ سمجھ گیا کہ اب وہ خود کو بچا نہیں سکے گا۔ ہم اس کے خلاف چوری ثابت کردیتے، پھر وہ پکڑا جاتا اور اس جرم کی سزا موت سے کم تو ہو ہی نہیں سکتی تھی، لٰہذا اس نے سوچا، کیوں نہ وہ خود ہی اپنے آپ کو ختم کرلے۔ لیکن اس کی موت سے ہمیں نقصان پہنچا ہے اور وہ یہ کہ اب اس باہر کے آدمی کا سراغ لگانا مشکل ہوگیا ہے، جس کے ذریعے سے فائل دشمن ملک بھجوائی گئی ہے۔” انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔ ۔”ہوں، خیر دیکھا جائے گا۔۔۔کم از کم اتنا تو ہوا کہ ہمارے درمیان جو غدار تھا، اب وہ نہیں رہا۔” شیخ صاحب بھرائی ہوئی آواز میں بولے۔ ایمبولینس کے لیے فون کردیا گیا تھا۔ دوسرا عملہ بھی آپہنچا تھا۔۔لاش کی تصویریں لی گئیں اور پھر اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیا گیا۔ اسی وقت انسپکٹر جمشید چونک اٹھے اور بولے۔ ۔” سر، اگر پی اے غیر ملکی جاسوس تھا تو اس کے گھر اس کے کاغذات ضرور ہوں گے۔۔ شاید ان کاغذات سے کسی اور شخص کے بارے میں کچھ سراغ لگ جائے۔”۔ ۔”اچھا خیال ہے۔” شیخ صاحب بولے۔ ۔”تو پھر مجھے اجازت دیجیے، میں فوری طور پر اس گھر کی تلاشی لینا چاہتا ہوں۔”۔ انسپکٹر جمشید نے اکرام کو ساتھ لیا اور پی اے کے گھر پہنچے۔ اس کا نام عابد خاقانی تھا۔۔ایک ملازم نے ان کے لیے بیرونی دروازہ کھولا۔۔انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ۔”ہمیں اس گھر کی تلاشی لینا ہے۔”۔ ۔”جی، تلاشی۔۔۔۔۔وہ کیوں؟”۔ ۔”بس تلاشی لینا ہے۔” انہوں نے آنکھیں نکالیں۔ ۔”ٹھہریے، میں بیگم صاحبہ کو اطلاع کرتا ہوں۔”۔ لیکن وہ ٹھہرے نہیں۔۔۔۔اس کے پیچھے ہی اندر داخل ہوگئے۔ ملازم کچھ نہ کہہ سکا۔۔۔ایک کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے اس نے کہا۔ ۔”بیگم صاحبہ، دو صاحب آئے ہیں۔۔۔کوٹھی کی تلاشی لینا چاہتے ہیں۔”۔ ۔”تلاشی لینا چاہتے ہیں، کیا مطلب؟” اندر سے چونکی ہوئی آواز سنائی دی۔ ۔”پتا نہیں کیوں، ان کا تعلق محکمہ سراغرسانی سے ہے۔”۔ ۔”اچھی بات ہے۔۔۔ایک منٹ ٹھہرو، میں کپڑے تبدیل کرلوں۔ تم انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ۔” اندر سع کہا گیا۔ ۔”لیکن بیگم صاحبہ، وہ تو میرے ساتھ اندر چلے آئے ہیں۔”۔ ۔”اہو اچھا۔۔ خیر، تم انہیں پھر بھی ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ۔” بیگم خاقانی نے کہا۔ ۔” آپ ذرا جلدی لباس تندیل کرلیں، ہم آپ کے لیے ایک تکلیف دہ خبر بھی لے کر آئے ہیں۔” انسپکٹر جمشید نے منہ بنایا، کیونکہ انہیں عورتوں کے لباس وغیرہ تبدیل کرنے کی عادتوں سے بہت چڑ تھی۔ وہ قسم کے کاموں میں تھوک کے حساب سے وقت ضائع کردیتی ہیں۔ ۔”تکلیف دہ خبر، کیا مطلب؟”۔ ۔”اس طرح اور وقت ضائع ہوگا۔۔۔آپ جلد از جلد لباس تبدیل کرکے دروازہ کھولیں۔” انہوں نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔ بیگم خاقانی کچھ نہ بولیں۔ ایک نا گوار سی خاموشی طاری ہوگئی۔ آخر تین منٹ بعد کہیں جا کر دروازہ کھلا اور وہ دروازے پر نمودار ہوئی۔ اس کے جسم پر صاف ستھرا لباس تھا۔۔۔کمرے میں عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔انسپکٹر جمشید نے نتھنے پھلاتے ہوئے کہا۔ ۔”یہ کیسی خوشبو ہے؟”۔ ۔”میں ذرا عجیب و غریب قسم کی خوشبوئیں استعمال کرنے کی عادی ہوں۔ آپ کسی تکلیف دہ خبر کا ذکر کر رہے تھے۔” ۔”ہاں، میں یہ خبر نہیں سناؤں گا تو کوئی اور سنائے گا، لٰہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔آپ کے شوہر نے ابھی تھوڑی دیر پہلے خودکشی کرلی ہے۔”۔ ۔”کیا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”بیگم خاقانی چلا اٹھیں۔ ۔”جی ہاں، اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ خبر یہ ہے کہ وہ ملک کے غدار ثابت ہوئے ہیں۔۔۔دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔۔۔ نہایت اہم راز چرا کر دشمن ملک بھیجتے رہے ہیں۔ حال میں ہی انہوں نے ایک بہت اہم فائل چرا کر دشمن ملک کو بھیج دی تھی، لیکن ہمارے ایک وفادار جاسوس نے وہ فائل دشمن ملک میں ان کے جاسوسوں سے ہتھیالی اور واپس بھیج دی۔۔۔ اس طرح بہت جلد ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی؛ ورنہ سب کبھی اس فائل کی ضرورت پڑتی، تب یہ بات معلوم ہوتی کہ فائل غائب ہے۔” انپسکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔ ۔”نہیں نہیں، یہ میں کیا سن رہی ہوں، وہ ایسے ہرگز نہیں ہوسکتے، یہ خبریں سننے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی۔” انہوں نے روتے روتے ہوئے کہا۔ ۔”ہمیں بہت افسوس ہے، حقیقت یہی ہے۔۔۔ کل کے اخبارات میں پوری تفصیل شائع ہوجائے گی اور ابھی ہم یہاں سے بھی اس بات کا ثبوت حاصل کرکے دکھائیں گے کہ وہ واقعی غیر ملکی جاسوس تھے۔”۔ ،”یہاں سے، بھلا یہاں سے آپ کس طرح ثابت کر دکھائیں گے؟” انہوں نے حیران ہوکر کہا۔ ۔” ہر غیر ملکی جاسوس کے پاس اس کی شناخت کے کاغذات ضرور ہوتے ہیں اور وہ کاغذات ہی ہم یہاں سے برآمد کرنے آئے ہیں۔”۔ ۔”اچھی بات ہے، آپ تلاشی لیجیے، لیکن واقعہ کیا پیش آیا۔ کیا آپ مختصر طور پر نہیں بتا سکتے۔” انہوں نے بدستور روتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اکرام کو اشارہ کیا اور خود پہلے اسی کمرے کی تلاشی لینے لگے۔ میاں بیوی کا کمرہ یہی تھا، لٰہذا کاغذات اسی کمرے میں ہوسکتے تھے۔ اکرام انہیں حالات اور واقعات بتانے لگا اور وہ الماریوں اور میزوں کی درازیں دیکھنے لگے۔۔۔بیگم خاقانی سے دو الماریاں کھلوانا بھی پڑیں، جن کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ پھر دونوں نے مل کر کمرے کی تلاشی لی، لیکن جن کاغذات کی انہیں تلاش تھی، وہ نہ مل سکے۔ کچھ سوچ کر انپسکٹر جمشید اس کمرے کے غسل خانے میں داخل ہوگئے۔ غسل خانے میں کوئی الماری نہیں تھی۔ دیواریں اور دوسری چیزیں ٹٹول کر وہ باہر نکل آئے۔ پھر سارے گھر کی بغور تلاشی لی۔ لیکن ناکامی نے ان کا منہ چڑایا۔۔۔۔ آخر مایوس ہوکر بولے۔ ۔”افسوس، ہم وہ کاغذات تلاش نہیں کرسکے۔ شاید کہیں بہت ہی خفیہ جگہ رکھے گئے ہیں، خیر کوئی بات نہیں۔ عابد خاقانی کا سب لوگوں کی موجودگی میں خودکشی کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غیر ملکی جاسوس تھے۔” یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف چل پڑے۔ بیگم خاقانی پتھر کے بُت کی مانند وہیں کھڑی رہ گئیں۔ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکیں، انہیں دروازے تک رخصت کرنے بھی نہ آسکیں۔ ۔”آؤ اکرام، ذرا اس کوٹھی کا باغ بھی دیکھ لیں۔” ۔”جی باغ، بھلا باغ میں کاغذات کہاں؟” اکرام نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”بھئی، میں باغ کاغذات کے لیے نہیں دیکھنا چاہتا۔” وہ مسکرائے۔ ۔”تو پھر؟” اکرام کے لہجے میں حیرت تھی۔ ۔”بس یوں ہی، میری عادت ہے۔ بلا ضرورت بھی چیزوں کا معائنہ کرلیا کرتا ہوں۔۔ یہ بات ذہن میں رکھو کہ یہ ایک غدار کا گھر ہے، ایک غدار یہاں رہتا رہا ہے۔۔”انہوں نے عجیب سے لہجے میں کہا اور باغ میں داخل ہوگئے۔ باغ بے ترتیبی کا شکار تھا۔ اس میں گھاس سوکھا ہوا تھا اور پودوں کے پتے ہوا کے ذریعے اِدھر اُدھر لڑھکتے پھر رہے تھے۔۔۔ان پتوں میں سے کچھ تو بالکل سیاہ پڑ گئے تھے۔ انہوں نے جھک کر ان پتوں کو بغور دیکھا اور پھر ان کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوگئے۔ اکرام کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ وہ کس بات پر حیران ہیں۔۔ ------------------------------------------------------------- ۔”لو بھئی، یہ تو تینوں غائب ہوگئے۔” محمود بڑبڑایا۔ ۔”تو کیا تمہارے لیے ان میں سے ایک یا دو یہیں رہ جاتے۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”آؤ، ذرا فرقان صاحب کے کمرے کا جائزہ لے لیں۔ دیکھیں تو سہی۔۔۔وہ کاغذات تلاش کرکے لے گئے ہیں یا نہیں۔” فرزانہ نے جلدی جلدی کہا۔ ۔”بھلا اس بات کا اندازہ کس طرح لگ سکتا ہے؟” فاروق نے اسے گھورا۔ ۔”عقل سے۔۔۔لیکن تم اندازہ نہیں لگا سکو گے۔” فرزانہ نے شوخ لہجے میں کہا۔ ۔”کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میرے پاس عقل نام کی کوئی چیز نہیں۔۔۔”فاروق نے کاٹ کھانے والے لہجے میں کہا۔ ۔” میرے کہنے یا نہ کہنے سے کیا ہوتا ہے؟” فرزانہ نے معصومانہ انداز میں کہا اور محمود بے ساختہ مسکرادیا۔ فاروق دانت کچکچانے لگا۔ ۔”کہیں مجھے کچا چبا جانے کا ارادہ تو نہیں۔” فرزانہ بوکھلا کر بولی۔ ۔”اوہو فرزانہ کمال ہے۔ آج تو تم فاروق کے کان کاٹ رہی ہو۔” محمود کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ ۔”نہیں تو۔” فرزانہ نے بوکھلا کر فاروق کے کان چھوئے اور وہ بھنّا اٹھا، قریب تھا کہ اسے مار بیٹھے، وہ اندر کی طرف دوڑگئی۔ محمود نے ہنستے ہوئے اس کا ساتھ دیا اور فاروق پاؤں پٹختا، ان کے پیچھے فرقان کریم کے کمرے میں داخل ہوا۔ بیگم فرقان اب بہت پریشان نظر آرہی تھیں۔ ۔”آخر یہ سب کیا ہے۔ کیا وہ تینوں واقعی اپنی کوئی امانت لینے آئے تھے؟”۔ ۔”امانت لینے والے اس طرح امانت واپس وصول نہیں کیا کرتے، وہ ضرور جرائم پیشہ تھے۔۔۔۔خیر آپ فکر نہ کریں۔ ہم اس کمرے کی تلاشی لے لیں۔ اس کے بعد تھانے جا کر اس تازہ ترین واقعے کی رپورٹ بھی درج کرائیں گے اور ان سے یہ بھی پوچھیں گے کہ فرقان صاحب کی گم شدگی کے سلسلے میں اب تک کیا کِیا گیا ہے۔”۔ ۔”کیا تمہیں ان کے الفاظ یاد ہیں، انہوں نے فرقان صاحب کے بارے میں کیا کہا تھا۔” بیگم فرقان پریشان ہوکر بولیں۔ ۔”ہاں، یاد ہیں۔۔۔انہوں نے کہا تھا کہ فرقان صاحب اب یہاں نہیں ہیں۔ وہ تو دوسرے ملک چلے گئے ہیں، لیکن ہمیں ان کی بات پر ایک فیصد بھی یقین نہیں۔” محمود نے کہا۔ تینوں نے کمرے کی دیکھ بھال شروع کی۔ ہر چیز الٹ پلٹ کردی گئی تھی۔ ۔”ہاں، تو فرزانہ اب بتاؤ، ہم یہ اندازہ کس طرح لگا سکتے ہیں کہ وہ لوگ کاغذات تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں یا نہیں۔” محمود نے کہا۔ اگر کمرے کے کچھ حصّوں کی تلاشی نہیں لی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کاغذات انہیں مل گئے تھے، اس لیے انہوں نے باقی ماندہ حصّوں کی تلاشی لینے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اگر کوئی حصّہ ایسا نہیں بچا، جسے ٹٹولانہ گیا ہو تو اس صورت میں امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ تلاش میں کامیاب نہیں ہوئے۔”۔ ۔”بہت خوب، بات بالکل ٹھیک ہے۔”محمود نے اس سے اتفاق کیا۔ کمرے کا بغورجائزہ لینے پر انہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ کئی حصے ایسے رہ گئے ہیں، جن کی تلاشی نہیں لی گئی۔ ۔”اوہ، تب تو وہ کاغذات لے گئے۔” فرزانہ کے منہ سے نکلا۔ ۔” یہ ضروری بھی نہیں، کیونکہ ادھر ہم نے کاروائی شروع کردی تھی، کابوس کے پستول پر قبضہ کرلیا تھا، لٰہذا وہ بوکھلا گئے ہوں گے اور تلاشی درمیان میں چھوڑ کر بھاگ نکلے ہوں۔” فاروق نے انکار میں سر ہلایا۔ ۔”ہاں، تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔خیر اب ہم کمرے کی مکمل طور پر تلاشی لیں گے اور ہر قسم کے کاغذات کا بھی جائزہ لیں گے۔”۔ وہ اس کام میں جٹ گئے۔ ایک گھنٹے کی محنت کے بعد بھی انہیں اس قسم کے کوئی کاغذات نہیں ملے، جنہیں تین تین غنڈے چرانے کے لیے آسکتے تھے۔۔۔آخر وہ مایوس ہوگئے اور تھانے کی ٹھانی۔ تینوں موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر پولیس سٹیشن کی طرف روانہ ہوئے۔ بیگم فرقان کو ساتھ لینا انہوں نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔ جونہی وہ تھانے کے دروازے پر پہنچے، پولیس انسپکٹر کی جیپ باہر نکلتی نظر آئی۔ وہ انہیں دیکھ کر زور سے چونکا۔۔۔۔اچھی طرح پہچانتا تھا۔ ۔” اوہو، آپ کدھر؟”۔ ۔”بیگم فرقان کریم کی رپورٹ کے سلسلے میں آئے ہیں، لیکن آپ کہاں جا رہے ہیں۔”۔ ۔”ایک شخص کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ خود ہلاک کرنے والے نے فون کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ڈاکو تھا اور زبردستی گھر میں گھس آیا تھا۔”۔ ۔”اوہ، آپ کو بھی ضروری جانا ہے اور ہمارا معاملہ بھی ضروری ہے۔ تو پھر چلیے ہم بھی آپ کے ساتھ ہی چلے چلتے ہیں۔ راستے میں حالات آپ کو بتادیں گے۔”۔ ۔”جیپ پر ہی آجائیے، موٹر سائیکلیں اندر رکھ دیں۔”۔ ۔”شکریہ۔” تینوں نے ایک ساتھ کہا۔ پولیس انسپکٹر عباس جاہ تھا۔ انسپکٹر جمشید سے کئی کیسوں کے سلسلے میں مدد لے چکا تھا، اس لیے انہیں بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ ”ہاں تو فرقان کریم کی تلاش کے سلسلے میں کیا رہا، کوئی کامیابی ہوئی؟”۔ ۔”بالکل نہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے وہ اس شہر سے، بلکہ اس ملک سے کہیں چلے گئے ہیں، کیونکہ میں نے ان کے تمام دوستوں وغیرہ سے معلوم کرلیا ہے۔ جہاں جہاں ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا، ان جگہوں پر بھی تحقیقات کرلی ہیں، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں لگ سکا۔”۔ ۔”اوہ، یہ تو بہت بُری خبر ہے۔۔۔حالات اس قدر عجیب و غریب ہیں کہ ان کا ملنا ضروری ہے۔”۔ ۔”مجھے تو بتائیں، کیسے حالات؟” عباس جاہ نے حیران ہوکر پوچھا۔ اور بیگم فرقان کے ہاں جو کچھ پیش آیا تھا، انہوں نے تفصیل سے سنا دیا۔ ۔”حیرت ہے، یہ تو کوئی گہرا چکر معلوم ہوتا ہے۔”۔ ۔”جی ہاں، گہرے چکروں کے سوا ہماری زندگیوں میں اور رکھا ہی کیا ہے۔” فاروق نے سرد آہ بھری اور عباس جاہ مسکرانے لگا۔ اسی وقت جیپ ایک پرانے سے مکان کے سامنے رک گئی۔دروازہ بند تھا اور وہ سڑک جس کے کنارے مکان تھا، تقریباً سنسان تھی؛ گو یہ کوئی غیر آباد سا علاقہ تھا۔ عباس جاہ نے نیچے اتر کر دروازے پر دستک دی۔۔۔دروازہ فوراً ہی کھل گیا اور ایک خوفزدہ آدمی کی صورت نظر آئی۔ ۔”خدا کا شکرہے، آپ لوگ آئے تو۔”۔ ۔”ہم نے آنے میں دیر تو نہیں لگائی۔ جونہی آپ کا فون ملا۔ میں چل پڑا۔” عباس جاہ نے منہ بنایا۔ ۔”آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں، لیکن مجھے تو ایک ایک پل ایک ایک سال کے برابر لگا ہے۔” اس نے کہا۔ ۔”اس کی ذمے داری صرف آپ پر عاید ہوتی ہے کہ آپ کو کیا چیز کیا لگتی ہے۔” فاروق بول پڑا۔ محمود اور فرزانہ اسے صرف گھور کر رہ گئے۔۔۔ایسے میں فاروق کو جھڑکنا، ٹوکنا اور بھی پریشان کن ثابت ہوتا۔ وہ اس کے ساتھ مکان کے اندر داخل ہوئے۔ مکان باہر سے تو بہت پرانا معمولی سا نظر آیا تھا، لیکن اندر سے وہ بہت بہتر حالت میں تھا۔ ۔”میرا نام جیلانی شاہ ہے۔۔میں ایک کمیشن ایجینٹ ہوں۔۔۔مختلف چیزوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں کمیشن کماتا ہوں، یعنی دو پارٹیوں کی آپس میں کسی سودے کی بات کرادی اور دونوں طرف سے کمیشن لے لی۔ امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ ایک گھنٹا پہلے میں گھر میں داخل ہوا۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی گیلانی شاہ چونکہ یہاں اکیلے رہتے ہیں۔ اس لیے مکان کے دروازے پر تالا لگا رہتا ہے۔ تالے کی چابیاں ہم دونوں بھائیوں کے پاس ہیں۔ وہ بھی یہی کام کرتا ہے۔ہم میں سے کوئی کسی وقت بھی گھر میں آسکتا ہے، اس لیے اپنی اپنی چابی پاس رکھتے ہیں۔ ایک گھنٹا پہلے میں آیا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اندر میرے علاوہ بھی کوئی موجود ہے۔ میں بوکھلا اٹھا، لیکن اس سے پہلے کے میں سنبھلتا یا گھر سے باہر نکل جاتا، وہ میرے سامنے آگیا۔ وہ ایک لمبے قد کا آدمی تھا۔۔۔اس کے کھڑے ہونے کے انداز نے مجھے لرزا دیا، پھر اس کے ہونٹ ہلے۔ ۔”کھڑے دیکھ کیا رہے ہو۔۔۔۔اپنی تجوری کا منہ کھول دو۔۔۔میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔”۔ ۔”بب، بہت اچھا۔”۔ میں نے کہا اور جیب سے چابیاں نکال کر تجوری کی طرف بڑھا۔۔ تجوری کھولتے ہی میں نے اس میں رکھا پستول نکال لیا۔ اور اس پر فائر جھونک مارا۔۔۔اور میں کر بھی کیا سکتا تھا۔۔ڈاکو میری ساری دولت لے جاتا۔ اسے گولی مارتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا اور آخرکار میں نے آپ کو فون کردیا۔ انسپکٹر صاحن مجھے قاتل تو نہیں سمجھا جائے گا نا۔۔۔گرفتار تو نہیں کیا جائے گا۔۔” یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ ۔”کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ واقعی ایک ڈاکو ہے تو پھر آپ کو رعایت ضرور ملے گی۔” عباس جاہ نے کہا۔ پھر وہ اندر داخل ہوئے۔ ڈاکو کی لاش ابھی تک اسی جگہ پڑی تھی، جہاں اسے گولی ماری گئی تھی، یعنی تجوری کے سامنے۔۔۔۔تجوری بھی کھلی ہوئی تھی اور اس میں سبز اور سرخ رنگ کے نوٹ بھی موجود تھے۔۔۔ڈاکو فرش پر بالکل چت لیٹا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ اور پیر پوری طرح پھیلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ساکت آنکھیں گویا چھت میں گڑی تھیں۔ اس کے سینے میں گولی لگنے سے خون چاروں طرف پھیل گیا تھا۔ پاس ہی ایک پستول پڑا تھا۔ ۔”تو اس نے آپ کو تجوری کھولنے کا حکم دیا تھا۔” انسپکٹر عباس جاہ نے کہا۔ ۔”جی ہان، لیکن اس بے چارے کو کچھ پتا نہیں تھا کہ میں تجوری میں نوٹوں سے آگے ایک پستول رکھنے کا عادی ہوں؛ چنانچہ تجوری کھولتے ہی میں نے پستول اٹھایا اور اس پر فائر کر دیا۔۔یہ تڑ سے گرا۔ تھوڑی دیر تڑپا اور پھر ختم ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے آپ کو فون کردیا۔”۔ ۔”بہت خوب، اس ڈاکو کی شکل کچھ جانی پہچانی سی نظر آتی ہے۔ ہوسکتا ہے، اس نے اپنی شکل صورت تبدیل کر رکھی ہو۔۔۔خیر، اگر اس کے چہرے پر میک اپ ہوا تو ہم اسے دُور کر دیں گے اور اس کی اصل شکل نظر آجائے گی، لیکن آپ کو بھی ہمارے ساتھ پولیس سٹیشن چلنا ہوگا۔”۔ ۔”جی مجھے، بھلا وہ کیوں؟” اس نے گھبرا کر کہا۔ ۔”ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ یہ دشمن آیا واقعی کوئی ڈاکو تھا۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کا کوئی دشمن ہو اور آپ نے اسے جان بوجھ کر ہلاک کردیا ہو۔”۔ ۔”توبہ توبہ، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔” جیلانی شاہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ ۔”آپ فکر نہ کریں، اگر یہ شخص واقعی ڈاکو تھا تو ہمیں بہت جلد یہ بات معلوم ہوجائے گی اور اگر ڈاکو نہیں تھا تو ہم اس کے گھر والوں کو تلاش کریں گے اور معلوم کریں گے کہ یہ شخص کون تھا؟” انسپکٹر عباس جاہ نے جلدی جلدی کہا۔ ۔”ٹھیک ہے، میں ساتھ چلوں گا۔ آپ اپنا اطمینان کرلیں۔” جیلانی شاہ نے فوراً کہا۔ ۔”نہیں جناب، یہ آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ آپ کے ساتھ میں جاؤں گا۔” اچانک ایک آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ انہوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ جیلانی شاہ جیسے قد و قامت کا ایک شخص کھڑا انہیں باری باری دیکھ رہا تھا۔ ۔”کیا مطلب، یہ ہمارے ساتھ نہیں جائیں گے اور آپ کیوں جائیں گے۔”۔ ۔”اس لیے کہ اس ڈاکو کو ہلاک میں نے کیا ہے، میرے بھائی نے نہیں۔” اس نے اندر آتے ہوئے کہا۔ ۔”بھائی، تو کیا آپ گیلانی شاہ ہیں۔” عباس جاہ نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”ہاں، میں گیلانی شاہ ہوں۔۔۔آپ اپنے ساتھ مجھے لے چلیے۔”اس نے کہا۔ ۔”گیلانی، یہ کیا کہہ رہے ہو، اس ڈاکو کی موت ست تمہارا کیا تعلق اسے میں نے ہلاک کیا ہے۔”۔ ۔”بالکل غلط، اسے میں نے ہلاک کیا ہے اور پولیس کے ساتھ بھی میں ہی جاؤں گا۔”۔ محمود، فاروق اور فرزانہ نے یک لخت دل چسپی بڑھتے محسوس کی۔ ان پر جوش کی کیفیت طاری ہوگئی۔۔۔۔وہ تو عباس جاہ کے ساتھ یونہی چلے آئے تھے۔ ان کے سامنے تو مسئلہ فرقان کریم کا تھا، لیکن اب وہ اس معاملے میں بھی دل چسپی لیے بغیر نہ رہ سکے۔ ۔”بہت خوب، شاید آپ دونوں ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اطمینان رکھیے۔ اگر یہ ڈاکو ثابت ہوگیا تو آپ دونوں میں سے کسی کو بھی پولیس گرفتار نہیں کرے گی۔ ہاں آپ سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا کہ یہ پستول آپ کے پاس کہاں سے آیا۔۔اگر آپ کے پاس اس کا لائسنس ہوا تو پھر ٹھیک ہے۔ رہا مسئلہ یہ کہ اس ڈاکو کو ہلاک کس نے کیا ہے تو یہ کوئی ایسا مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ ہم اس پستول پر سے انگلیوں کے نشانات اٹھوا لیں گے۔ پستول کے دستے پر آپ میں سے جس کے بھی نشانات ہوئے۔بس اسی نے ڈاکو کو ہلاک کیا ہے، لٰہذا آپ دونوں جھگڑیں نہیں اور دونوں ہی ہمارے ساتھ چلیں۔” محمود نے گویا جھڑا ختم کرتے ہوئے کہا۔ ۔”لیکن یہ ہوہی نہیں سکتا۔۔۔جس وقت یہ شخص مکان میں داخل ہوا، گیلانی شاہ تو یہاں تھا ہی نہیں۔۔ہاں، جونہی میں نے اسے گولی ماری، اس وقت یہ اندر داخل ہوا اور میں اسے گھر میں چھوڑ کر فون کرنے باہر چلا گیا۔ واپس آیا تو یہ کوئی چیز لینے باہر چلا گیا اور اب واپس آتے ہی اس نے نئی بات شروع کردی۔۔۔۔ویسے اسے نئی نئی باتیں کرنے کی عادت بھی ہے، لٰہذا آپ اس کی باتوں پر نہ جائیں۔” ۔”ہمیں تو آپ دونوں میں سے کسی کی باتوں پر بھی جانے کی ضرورت نہیں جناب۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”بس یہ طے رہا کہ آپ دونوں ساتھ جائیں گے۔”انسپکٹر عباس جاہ نے بات ختم کردی۔ دوسری جیپ پر عباس جاہ کے ماتحت ساتھ آئے تھے۔اس کے اشارے پر وہ حرکت میں آئے اور لاش کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھے۔ اس وقت تک تصاویر لی جاچکی تھیں۔ جوں ہی انہوں نے لاش کو اٹھایا وہ سب چونک اٹھے۔۔۔۔لاش کے نیچے ایک اور پستول تھا۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 4: لاش کی مونچھ
۔”خیر تو ہے سر، کا چیز نظر آگئی ہے آپ کو۔”۔ ۔”کک، کچھ نہیں بھئی، بعض اوقات میں بہت ہی معمولی سی بات یا چیز پر بھی چونک جایا کرتا ہوں۔۔۔۔ہمیں بیگم خاقانی سے چند سوال اور کرنا ہوں گے۔”۔ ۔”آپ کو ضرور یہاں کچھ نظر آیا ہے، تبھی تو آپ ان سے پھر ملنے کی ضرورت محسوس کررہے ہیں، یہ اور بات ہے کہ آپ مجھے بتانا نہیں چاہتے۔” اکرام نے مسکرا کر کہا۔ ۔” چلو، یونہی سہی، باغ تمہارے سامنے ہے، دیکھ لو،مجھے ایسی کیس چیز نظر آئی ہے۔” جواب میں وہ مسکرائے اور واپس مڑ گئے۔ اکرام نے چند سیکنڈ تک باغ کا جائزہ لیا، لیکن پھر وہ ھبی واپس مڑ گیا۔ اسے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی تھی جس پر چانکنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ انہوں نے ایک بار پھر دروازے پر دستک دی۔۔۔۔اسی ملازم نے دروازہ کھولا اور حیران ہوکر ان کی طرف دیکھا۔ ۔”ہمیں بیگم خاقانی سے کچھ اور باتیں پوچھنا ہے۔”۔ ۔”آئیے۔” ملازم حیران ہوکر بولا۔ اسی وقت اندر سے بیگم خاقانی کی آواز سنائی دی۔ ۔”کون ہے غفور؟”۔ ۔”وہی دونوں صاحبان ہیں۔۔۔آپ سے کچھ اور پوچھنا چاہتے ہیں۔”۔ ۔”اوہ، میں آئی۔”۔ انہوں نے اسے تیز تیز چل کر اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی الجھن کے آثار تھے۔ ۔”خیر تو ہے جناب۔”۔ ۔”ہاں، سب خیریت ہی ہے، چند سوالات کے جواب دیجیے۔”۔ ۔”ضرور، کیوں نہیں۔۔ میں ہسپتال جانے کی تیاری کررہی تھی، تاکہ معلوم کرسکوں، لاش کس وقت مل سکے گی اور اپنے رشتے داروں کو بھی فون کررہی تھی۔”۔ ۔”ٹھیک ہے، آپ کے شوہر نے آپ کو کبھی یہ بات بتائی کہ وہ غیر ملکی جاسوس ہیں؟”۔ ۔”نہیں، کبھی نہیں۔” اس نے فوراً کہا۔ ۔”کبھی آپ کو ان پر اس قسم کا شک ہوا؟”۔ ۔”جی، جی نہیں۔” وہ بولی۔ ۔”وہ دفتر سے کس وقت گھر آجایا کرتے تھے؟” ۔”تقریباً دو بجے، کبھی اڑھائی بجے۔”۔ ۔”اس کے بعد ان کی مصروفیات کیا ہوتی تھیں؟”۔ ۔”شام کی چائے کے بعد وہ اپنے دوستوں سے ملنے چلے جاتے تھے۔۔۔یا کبھی ان کے دوست یہاں آجاتے تھے۔”۔ ۔”کیا آپ مجھے ان کے دوستوں کے نام اور پتے دے سکتی ہیں؟”۔ ۔”جی ہاں، کیوں نہیں۔ یہ کیا مشکل ہے؟”۔ ۔”تو پھر مہربانی فرما کر نام اور پتے ایک کاغذ پر لکھ دیجیے۔” انہوں نے کہا اور بیگم خاقانی اندر چلی گئیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔۔۔۔یہ کاغذ انہوں نے انسپکٹر جمشید کی طرف بڑھادیا۔ انہوں نے دیکھا، اس پر صرف چار پانچ نام تھے۔ ۔”بس، ان کے صرف یہی دوست تھے؟”۔ ۔” جی ہاں۔۔”۔ ۔”بہت بہت شکریہ۔” وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر آئے۔ ۔”کیا خیال ہے اکرام، لگے ہاتھوں اس کے ایک آدھ دوست سے بھی مل لیں، پھر اگر ضرورت محسوس ہوئی تو تمام دوستوں کو ٹٹولا جائے گا۔ کیا خبر ان میں سے کوئی اس کے غیر ملکی جاسوس ہونے کے بارے میں جانتا ہو۔”۔ ۔”ضرور چلیے۔” اس نے کہا۔ انہوں نے ایک نام پتے پر نظر ڈالی اور جیپ دوڑادی۔ پتا تلاش کرنے میں کائی خاص وقت نہ لگا۔ دستک دینے پر کسی کی قدموں کی چاپ سنائی دی، پھر دروازہ کھل گیا۔۔ انسپکٹر جمشید زور سے اچھلے۔ ------------------------------- ۔”اوہو، ایک اور پستول۔” فرزانہ کے منہ سے نکلا۔ ۔”اور یہ میرا پستول ہے۔” گیلانی شاہ نے مسکرا کر کہا۔ ۔”ٹھیک ہے۔۔ اب تو معاملہ اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔ آپ میں سے جس کے پستول کی گولی بھی لاش کے جسم میں پائی گئی، بس وہی قاتل ہے۔” فاروق نے خوش ہوکر کہا۔ ۔”لل، لیکن جناب۔۔” ایک کانسٹیبل ہکلایا۔ ۔”یہ لیکن یہاں کہاں سے ٹپک پڑا؟” فاروق نے ناخوشگوار لہجے میں کہا۔ ۔” لاش کی ریڑھ کی ہڈی پر کندھے کے قریب بھی ایک گولی کا نشان ہے اور اس نشان سے بھی خون نکلا ہے۔”۔ ۔”اوہ۔” وہ چونک کر لاش کی طرف بڑھے۔ کانسٹیبل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ان کی حیرت لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔ ۔”اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے ڈاکو کو ایک ایک گولی ماری ہے۔” محمود بولا۔ ۔”ہاں، اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔” عباس جاہ بڑبڑایا۔ ۔”اوہو، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔” فاروق زور سے اچھلا۔ ۔”اچھل کر دیکھنے کی کیا ضرورت پڑگئی۔” فرزانہ نے جل کر کہا۔ ۔”حد ہوگئی۔۔۔اب تم میرے اچھلنے سے بھی جلنے لگیں۔” فاروق تلملا اٹھا۔ ۔”جلتی ہے میری جوتی۔” فرزانہ نے پیر پٹخے۔ ۔”اوہو بھئی، کم از کم یہ تو خیال کرلو کہ ہم ایک لاش کے پاس کھڑے ہیں۔ بیچاری کیا سوچے گی۔” محمود نے خیالات میں ڈوبے ہوئے کہا۔ ۔”کون کیا سوچے گی؟”۔ ۔”لاش، اور کون؟” محمود نے کہا، پھر جلدی سے بولا : ” فاروق تم کس بات پر اچھلے تھے؟”۔ ۔”اس کا کیا ہے، یہ تو بے بات بھی اچھل سکتا ہے۔”۔ ۔”اور کیا صرف بات پر تو یہی محترمہ اچھل سکتی ہیں۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”عباس جاہ صاحب اور دوسرت ہمارے بارے میں کیا خیال کریں گے، جلدی بتاؤ۔”۔ ۔”مجھے لاش کی مونچھ اپنی جگہ سے ہلتی ہوئی معلوم ہوئی تھی۔” آخر فاروق نے بتایا۔ ۔”کیا مطلب۔” محمود اور فرزانہ ہی نہیں، عباس جاہ بھی چونک کر بولا۔ ۔”اب میرے جملے میں کوئی مشکل لفظ تو ہے نہیں، جس کا میں مطلب بتاؤں، نہ ہی میں نے جملہ سنسکرت میں ادا کیا ہے۔” فاروق بولا۔ ۔”اوہ، میں سمجھا۔” محمود نے پر جوش لہجے میں کہا اور آگے بڑھ کر لاش کی مونچھ چٹکی میں پکڑ کر ایک جھٹکا مارا۔۔۔ دوسرے ہی لمحے وہ سب حیرت زدہ رہ گئے، کیونکہ مونچھ اب محمود کے ہاتھ میں تھی۔ ۔”اف توبہ، بے چاری لاش کو اتنی تکلیف تو نہ پہنچاؤ۔” فاروق نے جلدی سے کہا۔ ۔”خود ہی تو اس طرف توجہ دلائی تھی۔” محمود نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔ ۔”صرف توجہ دلائی تھی، یہ تو نہیں کہا تھا کہ مونچھ اکھاڑ بھی لینا۔”۔ ۔”اچھا بس خاموش رہو۔” یہ کہہ کر محمود نے لاش کے چہرے کو ٹٹولا اور پلاسٹک کے جھلّی نما چند پترے سے چہرے سے الگ کردیے۔ یہ پترے بہت صفائی سے چپکائے گئے تھے۔ ۔”ارے، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔” عباس جاہ نے بوکھلا کر کہا۔ آواز کافی بلند تھی۔ ۔” آپ۔۔۔آپ ایک ایسی لاش دیکھ رہے ہیں، جس کے چہرے پرمیک اپ کیا ہوا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ میک اپ اس نے مرنے سے پہلے کیا تھا یا بعد میں۔” فاروق نے جلدی جلدی کہا۔ ۔”فاروق، تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا۔ کہیں لاشیں بھی میک اپ کرسکتی ہیں۔” محمود نے اسے گُھورا۔ ۔”تو لاشوں کے میک اپ تو کیے جاسکتے ہیں۔” فاروق نے بھی بھنّا کر کہا۔ ۔”اوہ ہاں، فاروق ٹھیک کہہ رہا ہے۔ لاشوں کے میک اپ کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انسپکٹر صاحب کو کیا ہوا۔” فرزانہ نے حیرت بھرے انداز میں عباس جاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ باقی سب نے بھی عباس جاہ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر اب شدید حیرت کے بادل نظر آرہے تھے۔ آنکھیں باہر اُبل آئی تھیں۔ ۔”انکل جاہ، آپ کو کیا ہوگیا۔” فاروق نے پریشان ہوکر کہا۔ اس کے جملے پر محمود اور فرزانہ نے مشکل سے ہنسی ضبط کی۔ ۔”کہیں اس لاش نے تو آپ پر برا اثر نہیں کیا۔۔۔ڈاکٹر کو بلوائیں۔۔”۔ ۔”یہ، یہ، یہ لاش۔۔۔” عباس جاہ بری طرح ہکلایا۔ ۔”جی ہاں، جی ہاں، یہ لاش ہی ہے، اس میں ایک فی صد بھی شک نہیں۔۔” فاروق نے فوراً کہا۔ ۔”آپ۔۔۔۔آپ نہیں جانتے، یہ لاش بوگڑ ڈاکو کی ہے۔”۔ ۔”یہ بوگڑ ڈاکو کی لاش ہو یا روگڑ ڈاکو کی۔۔۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں۔ بس یہ ایک لاش ہے اور اس سے ڈرنے یا گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔”۔ ۔”میں نے کہا نا، آپ نہیں جانتے، یہ بوگڑ ڈاکو کی لاش ہے اور بوگڑ ڈاکو کو زندہ یا مردہ گرفتار کرانے پر حکومت نے ایک لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔” عباس جاہ نے جلدی جلدی کہا۔ ۔”جی کیا فرمایا؟” فاروق کے ساتھ محمود اور فرزانہ کے بھی منہ سے نکلا۔۔۔ادھر کانسٹیبلوں کے چہرے سرخ ہوگئے۔ جیلانی اور گیلانی تو بُری طرح بے چین نظر آنے لگے۔ ۔”انسپکٹر صاحب، آپ یقین کریں، اسے میں نے ہلاک کیا ہے۔” گیلانی شاہ نے فوراً کہا۔ ۔”بالکل غلط، اس کا قاتل میں ہوں۔” جیلانی شاہ نے اسے گھورا۔ ۔”آپس میں لڑنے کی ضرورت نہین۔ اب معاملہ اور بھی سنجیدہ ہوگیا ہے۔ آپ میں سے کسی ایک کو ایک لاکھ روپے کی رقم ملے گی، لٰہذا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے پوری طرح اطمینان کیا جائے گا کہ بوگڑ ڈاکو کی موت آپ دونوں میں سے کس کی گولی سے ہوئی۔”۔ ۔”تو پھر ہم دونوں ہی آپ کے ساتھ چل رہے ہیں۔” جیلانی شاہ نے بے تاب ہوکر کہا۔ ۔”اب جب کہ یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ یہ لاش ایک ڈاکو کی ہی ہے تو آپ کو پولیس سٹیشن چلنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ یہیں ٹھہریں، میں آپ کو اطلاع دوں گا کہ کیا رہا۔”۔ ۔”کک، کیا یہ، کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ مجھے بھی لاش کے ساتھ رہنے دیں۔” جیلانی شاہ نے جلدی سے کہا۔ ۔”اگر تمہیں ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی تو مجھے بھی اجازت دینا ہوگی۔” گیلانی شاہ غرایا۔ ۔”آپ دونوں آپس میں لڑیں نہیں۔ آپ بھائی ہیں۔ ایک لاکھ روپے کی رقم کے لیے دو بھائی لڑتے اچھے نہیں لگتے۔” عباس جاہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ۔”تو پھر کتنی رقم کے لیے لڑتے اچھے لگتے ہیں۔” فاروق بول اٹھا۔۔۔عباس جاہ نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔ آخر لاش ایمبولینس میں رکھوائی گئی اور یہ قافلہ واپس روانہ ہوا۔۔۔۔ جیلانی اور گیلانی دونوں کو گھر میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ ۔”حیرت ہے، بوگڑ ڈاکو کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے کا انعام مقرر ہوا ہے اور وہ جیلانی یا گیلانی جیسے چوہے سے مارا گیا۔” محمود بڑبڑایا۔ ۔”اس علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کی موت آ گئی تھی، ویسے بوگڑ بہت عرصے سے غائب تھا اور پولیس کا خیال تھا کہ اس نے ڈاکا زنی کا کام چھوڑ دیا ہے اور کہیں گمنامی کی زنداگی کزار رہا ہے۔۔۔درست بھی یہی لگتا ہے، لیکن شاید اس کی جمع پونجی ختم ہوگئی ہوگی، لٰہذا اس نے جیلانی اور گیلانی کے گھر میں ڈاکا ڈالنے کا پرواگرام بنایا اور مارا گیا۔”۔ ۔”چلیے مبارک ہو، ایک بڑا ڈاکو آپ کے ذریعے گرفتار ہوا، چاہے مردہ ہی گرفتار ہوا۔” فاروق نے شوخ لہجے میں کہا اور عباس جاہ اسے پھر گھورنے لگا۔ ۔”اب آپ فرقان کریم کے سلسلے میں کیا کر رہے ہیں۔” محمود نے فوراً موضوع بدلا۔ ۔”تلاش زور شور سے جاری ہے۔۔اب تلاش کا دائرہ اور وسیع کرنا ہوگا۔” اس نے کہا۔ ۔”تو پھر ہمیں اجازت دیجیے،ہم بیگم فرقان کو دلاسا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” فرزانہ نے کہا، کیونکہ اب تھانے جانے کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی تھی۔ ،”بہت اچھا، آپ کو جہاں اترنا ہو بتا دیں۔” عباس جاہ بولا۔ ۔”اتریں گے تو ہم تھانے میں ہی، کیونکہ ہماری موٹر سائیکلیں جو ہمارا وہاں انتظار کررہی ہیں۔” فاروق نے کہا۔ ۔”لیجیے، اب موٹر سائیکلیں بھی انتظار کرنے لگیں۔” فرزانہ جل کر بولی۔ ۔”ابھی کیا ہے۔۔۔۔ پتا نہیں کیا کیا چیزیں ہمارا انتظار کیا کریں گی۔” فاروق نے فلسفیانہ انداز اختیار کیا۔ ۔”بس اوٹ پٹانگ ہانکے چلے جارہے ہو۔” محمود بھنّا کر بولا۔ اسی وقت جیپ تھانے میں داخل ہوئی، وہ جیپ سے اتر کر موٹر سائیکلوں کی طرف مڑے ہی تھے کہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 5: ناول کا نام
۔”ارے رشیدہ، یہ تم ہو۔۔۔بھئی مجھے افسوس ہے۔ تمہاری شادی میں شرکت نہ کرسکا اور تم اس بات کا برا مان گئیں، لیکن میں حیران ہوں کہ تم یہاں کیا کررہی ہو۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، یہ گھر ایک شخص فرقان کریم کا ہے۔ میں اس وقت ان سے ملنے آیا ہوں۔ یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ یہاں تم سے ملاقات ہوجائے گی۔۔۔کیا فرقان کریم کی بیگم تمہاری دوست ہیں۔” انپسکٹر جمشید نے حیرت بھرے انداز میں جلدی جلدی کہا۔ ۔” نہیں بھائی جان، بلکہ میں خود بیگم فرقان ہوں۔”۔ ۔”کیا کہا۔” انسپکٹر جمشید حیرت زدہ رہ گئے۔۔۔۔اکرام کے چہرے پر بھی حیرت دوڑ گئی۔ ۔”جی ہاں، یہی بات ہے۔۔۔افسوس اس وقت آپ ان سے مل نہیں سکتے۔”۔ ۔”کیوں، کیا وہ بیمار ہیں؟”۔ ۔”تو آپ محمود ، فاروق اور فرزانہ کا فون سن کر یہاں نہیں آئے؟”َ ۔”میں سمجھا نہیں، بھلا وہ مجھے فرقان صاحب کے سلسلے میں فون کیوں کرنے لگے؟”۔ ۔” اندر آجائیے، میں ساری بات بتاتی ہوں۔”۔ اور وہ ان کے ساتھ ڈرائینگ روم میں آگئے۔ بیگم فرقان نے اپنے شوہر کی گم شدگی اور پھر انہیں فون کرنے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔۔اس کے بعد ان کی بجائے محمود، فاروق اور فرزانہ کی آمد اور گھر میں تلاشی لینے والے تین آدمیوں کے آنے کے بارے میں پوری تفصیل سنادی۔ ۔”حیرت انگیز، انتہائی پراسرار۔” انسپکٹر جمشید بڑبڑائے، پھر اکرام کی طرف مڑے۔ ۔”کیوں اکرام، کیا خیال ہے؟”۔ ۔”واقعی حالات انتہائی سنگین ہیں۔” اکرام بولا۔ ۔”تو وہ تینوں پولیس سٹیشن گئے ہیں؟” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”جی ہاں۔” انہوں نے کہا۔ ۔”فرقان صاحب کے دوستوں کے بارے میں بتا سکتی ہیں کچھ۔”۔ ۔”جی، عام طور پر عابد خاقانی نام کے ایک صاحب ان سے ملنے آیا کرتے تھے۔ اس شہر میں تو ان کے بس یہی دوست تھے؛ البتہ جس شہر سے ہم یہاں آئے ہیں، وہاں ان کے کئی دوست تھے۔”۔ ۔”اور آپ کے شوہر کرتے کیا ہیں؟”۔ ۔”تجارت۔۔۔۔لیکن آپ بھی تو کچھ بتائیے، آپ یہاں تک کس طرح پہنچ گئے؟”۔ ۔”فرقان صاحب کے دوست خاقانی نے خودکشی کرلی ہے۔”۔ ۔”جی۔۔” ان کے منہ سے حیرت زدہ انداز میں نکلا۔ ۔”ہاں، ہم ان کی خودکشی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی بیگم نے اپنے شوہر کے دوستوں میں فرقان کریم کا نام بھی بتایا تھا اور چونکہ پہلا نام ہی ان کا تھا۔ اس لیے میں سب سے پہلے ادھر ہی آگیا۔”۔ ۔”ہوں، عجیب معاملہ ہے۔ وہ خود کہیں غائب ہیں اور ان کے دوست نے خودکشی کرلی ہے۔ آخر یہ ہوکیا رہا ہے۔”۔ ۔”یہی ہم معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اچھا تم آرام کرو۔۔ ہم یہاں سے پولیس سٹیشن ہی جائیں گے، تاکہ ان سے بھی ملاقات ہوجائے۔ آپس میں معلومات کا تبادلہ کریں گے، تاکہ آگے بڑھنے میں آسانی ہو۔”۔ ۔”جی بہتر۔”۔ وہ ان سے رخصت ہوکر باہر آئے اور جیپ میں بیٹھ کر عالم روڈ پولیس سٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔۔۔وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ انسپکٹر صاحب تو ایک قتل کی اطلاع ملنے پر وہاں گئے ہیں۔ محمود، فاروق اور فرازانہ کے بارے میں پوچھنے پر گیٹ پر کھڑے کانسٹیبل نے انہیں بتایا کہ ان کی موٹر سائیکلیں اندر سٹینڈ پر موجود ہیں اور وہ خود انسپکٹر صاحب کے ساتھ گئے ہیں۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ وہیں بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے۔ اور پھر جیپ اندر داخل ہوتی نظر آئی۔ جونہی محمود، فاروق اور فرزانہ نیچے اتر کر موٹر سائیکلوں کی طرف مُڑے، انہوں نے انہیں دیکھ لیا۔۔۔ ۔”ابا جان، آپ، آپ تو دعوت میں گئے ہوئے تھے۔”۔ ۔”ہاں، وہ خودکشی کی دعوت تھی، جو خودکشی پر ختم ہوگئی۔”۔ ۔”جی کیا مطلب، خودکشی کی دعوت۔۔یہ تو کسی ناول کا نام ہوسکتا ہے۔” فاروق نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”دھت تیرے کی۔۔۔ اسے تو بس ناولوں کے ناموں کی پڑی رہتی ہے۔”۔ ۔”اسلام علیکم سر۔۔” عباس جاہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ ۔”وعلیکم السلام۔ آپ ان نالائقوں کو کہاں لے گئے تھے؟”۔ ۔”جی، آپ نالائق کہہ رہے ہیں۔” عباس جاہ نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔ ۔”خیر خیر، نہیں ہوں گے نالائق۔۔۔ ہاں تو فرقان کریم کی گم شدگی کا کیا معاملہ ہے، کوئی سراغ ملا یا نہیں۔”۔ ۔”ابھی تک نہین، ہم تو اس وقت ایک اور عجیب و غریب معاملے سے نبٹ کر آرہے ہیں۔” عباس جاہ نے بتایا۔ ۔”اور وہ عجیب و غریب معاملہ کیا ہے؟”۔ انہیں بوگڑ ڈاکو کے مارے جانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ ان کے چہرے پر حیرت دوڑ گئی۔ آخر انہوں نے کہا۔ ۔” ناممکن، بوگڑ اس طرح نہیں مارا جاسکتا۔۔ میں اسی وقت ان دونوں سے ملنا چاہتا ہوں جو اس کے قاتل ہونے کے دعوے دار ہیں۔ ہوسکتا ہے بوگڑ کسی اور طرح مارا گیا ہو اور اس کی لاش انہیں کسی سنسان سڑک پر پڑی ملی ہو، انہوں نے اسے پہچان لیا ہو کہ یہ بوگڑ ہے، لٰہذا اٹھا کر اپنے گھر لے گئے ہوں۔ اور اس کے چہرے پر ہلکا سا میک اپ کرکے ڈاکے کی داستان گھڑ لی ہو، تاکہ ایک لاکھ روپے کا انعام حاصل کرسکیں۔”۔ ۔”اف خدا، ہم یہ باتیں سوچ بھی نہیں سکے۔ خدا کی قسم یہ عین ممکن ہے۔” فرزانہ نے پرجوش لہجے میں کہا۔ ۔” تو پھر آؤ چلیں۔۔۔۔لیکن نہیں، پہلے تو بیگم فرقان کریم کے ہاں تین آدمیوں کے زبردستی گھس آنے اور تلاشی لینے کی رپورٹ درج کرلیں۔” انہوں نے کہا۔ عباس جاہ نے جلدی جلدی رپورٹ درج کی، پھر بولا۔ ۔”کوئی حرج نہ ہو تو میں بھی ساتھ چلا چلوں۔” اس نے جلدی سے کہا۔ ۔”ضرور کیوں نہیں۔” انہوں نے کہا اور ایک بار پھر جیلانی شاہ اور گیلانی شاہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔۔۔گھر کے دروازے پر اتر کر انہوں نے دستک دی، لیکن پورا ایک منٹ گزرنے پر بھی کسی نے دروازہ نہ کھولا۔۔۔ آخر تنگ آکر انسپکٹر جمشید نے دروازے پر دباؤ ڈال کر دیکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ وہ جلدی سے اندر داخل ہوگئے اور پھر اچھل پڑے۔۔۔اندر کا منظر نہایت ہولناک تھا۔ پورا کمرہ خون آلود ہوچکا تھا۔۔۔ ایک خنجر جیلانی شاہ کے پیٹ میں دستے تک دھنسا ہوا تھا اور دوسرا خنجر گیلانی شاہ کے۔ ۔”اف خدا، یہ کیا ہوا۔۔۔ دولت کے لالچ میں انہوں نے ایک دوسرے کو ختم کرلیا۔” عباس جاہ نے تھر تھر کانپتی آواز میں کہا۔ ۔”ہاں، نظر تو یہی آتا ہے۔۔۔ ان خنجروں کا بہت احتیاط سے جائزہ لینا ہوگا۔۔۔ ویسے امید تو یہی ہے کہ ایک خنجر پر ان میں سے ایک کی انگلیوں کے نشانات ہوں گے اور دوسرے پر دوسرے کی۔” انسپکٹر جمشید بولے۔ ایک بار پھر عملے کو فون کیا گیا۔۔۔ انسپکٹر جمشید ایک ایک چیز کا بغورجائزہ لے رہے تھے کہ کمرے کے فرش پر موتیے کا ایک پھول پڑا نظر آیا۔۔ اس کا کچھ حصہ خون آلود تھا۔۔۔ انہوں نے حیرت زدہ انداز میں موتیے کے پھول کو دیکھا اور پھر جھک کر اٹھا لیا۔ انہوں نے دیکھا، وہ ایک مصنوعی پھول تھا، پلاسٹک کا بنا ہوا۔ ۔”کیا ان میں سے کسی کی قمیض کے کالر میں موتیے کا پھول لگا ہوا تھا۔” انہوں نے پوچھا۔ ۔”جی نہیں، ہم نے تو نہیں دیکھا۔”۔ ۔”لاش کی قمیض کے کالر میں بھی پھول نظر نہیں آیا؟” وہ بولے۔ ۔”جی نہیں۔”۔ ۔”حیرت ہے، اگر ان دونوں نے ایک دوسرے کو ہلاک کیا ہے، تو پھر، پھول یہوں کہاں سے آیا؟”۔ ۔”ہوا سے اڑ کر آگیا ہوگا۔” فاروق بولا۔ ۔” یہ اصلی پھول نہیں ہے، پلاسٹک کا ہے، اصلی بھی ہوتا، تو بھی اڑ کر آنے کا کوئی امکان نہیں۔” انسپکٹر جمشید نے اسے گھورا۔ ۔”آج کا دن بھی عجیب دن ہے، ہر کوئی مجھی کو گھور رہا ہے۔”۔ ۔” تم ہوہی گھورنے کے قابل۔” فرزانہ مسکرائی۔ ۔” انسپکٹر صاحب، آپ یہوں کی کاروائی مکمل کرائیں۔ میں ذرا بوگڑ کی لاش کا معائنہ کروں گا۔۔ آؤ بھئی میرے ساتھ۔” انہوں نے کہا اور تینوں کو لے کر گھر سے باہر نکلے۔ ۔”لیجیے، آپ بھی اس معاملے میں دل چسپی لینے پر مجبور ہوگئے۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔” کیا کِیا جائے، مجبوری ہے۔” انہوں نے کندھے اچکائے۔ پہلے میں تمہیں تفصیل سے حالات اور واقعات سناتا ہوں، پھر تم سنانا، اس لیے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات رہ نہ جائے۔” یہ کہہ کر انہوں نے آئی جی صاحب کی طرف سے دی گئی دعوت کا حال تفصیل سے کہہ سنایا، پھر ان سے تفصیل سنی اور سوچ میں ڈوب گئے، آخر بولے۔ ۔” نہ جانے کیا بات ہے، موتیے کا یہ پھول میرے ذہن میں بُری طرح چبھ رہا ہے۔۔۔آج اس وقت تک تمہاری جتنے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے، کیا ان میں سے کسی کی قمیض کے کالر میں موتیے کا پھول لگا نظر آیا؟”۔ ۔”جی نہیں، ہمیں تو یاد نہیں پڑتا۔”۔ ۔”خیر، دیکھا جائے گا۔”۔ ۔”یہ تو ابّا جان ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے ہم بیک وقت تین معاملات میں الجھ کر رہ گئے ہوں۔” محمود نے سوچ میں گم لہجے میں کہا۔ ۔”ہاں، نظر تو یہی آتا ہے، لیکن ہوسکتا ہے، فرقان کریم اور عابد خاقانی کا آپس میں کوئی تعلق ہو اور ان کی گم شدگی اسی معاملے کا ایک حصہ ہو۔”۔ ۔”تب بھی، بوگڑ والے معاملے کا تو ان دونوں سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔”۔ ۔” ہاں، یہ ٹھیک ہے۔” وہ بولے۔ ساتھ ہی جیپ کو بریک لگادیے۔ وہ سرکاری ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے مردہ خانے کا رخ کیا۔ ایک اسسٹنٹ ڈاکٹر نے ان کی رہنمائی بوگڑ ڈاکو کی لاش تک کی۔۔ کپڑا اٹھنے کے بعد وہ کئی منٹ بغور اس کی طرف دیکھتے رہے۔۔ابھی پوسٹ مارٹم شروع نہیں کیا گیا تھا۔ اچانک انسپکٹر جمشید کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے، پھر وہ لاش کے چہرے پر تیزی سے جھک گئے اور انگلیوں سے زور آزمائی کرتے رہے۔ یوں معلوم ہوتا تھا، جیسے وہ انگلیوں سے اس چہرے کی چیر پھاڑ کرنا چاہتے ہوں اور پھر پانچ منٹ کی کوشش کے بعد وہ ایک خول اس چہرے پر سے اتارنے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسرا لمحہ چونکادینے والا تھا۔۔ ان کے سامنے ایک نوجوان اور خوب صورت آدمی کی لاش پڑی تھی۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 6: ناٹی تین
۔”یہ، یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں ابّا جان؟”۔ ۔”وہی جو میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔ کم از کم یہ لاش بوگڑ ڈاکو کی نہیں ہے، بلکہ یہ شخص شکل صورت سے ڈاکو لگتا ہی نہیں، یہ تو ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق جرائم پیشہ لوگوں سے ہو، یا یہ خود مجرمانہ کام کرتا رہا ہو، لیکن یہ شخص ڈاکو ہر گز نہیں ہوسکتا۔ تم نے بیگم فرقان کریم سے ان کے شوہر کا حلیہ تو پوچھا ہوگا۔”۔ ۔”جی، جی نہیں تو۔” محمود گڑبڑا کر بولا۔ ۔”خیر کوئی بات نہیں۔ میں نے بھی نہیں پوچھا۔ اب معلوم کرنا ہوگا، یا پھر پم انہیں یہیں بلالیتے ہیں، تاکہ کسی قسم کا کوئی شک نہ رہ جائے۔” وہ بولے۔ ۔”کیا آپ کے خیال میں لاش فرقان کریم کی ہے؟”۔ ۔”ضروری نہیں، لیکن تم خود ہی سوچو۔ فرقان کریم کل سے غائب ہیں۔ پولیس کی تلاش کے باوجود انہیں نہیں مل سکے، نہ ان کی طرف سے کوئی اطلاع اب تک ملی۔ ایسے میں ہمیں ایک ایسی لاش ملتی ہے، جس کے بارے میں پہلا خیال یہ ہے کہ وہ ایک ڈاکو ہے، اس کے بعد معمولی سا میک اپ اترنے کے بعد اس کی شکل بوگڑ ڈاکو کی نکل آئی، لیکن اب مہارت سے کیا گیا میک اپ اترنے کے بعد ایک بالکل نوجوان آدمی کی صورت دکھائی دینے لگی ہے۔ ایسے میں تم ہی بتاؤ، کیا سوچا جا سکتا ہے۔ ٹھہرو، یہ باتیں تو ہم بعد میں بھی کرلیں گے، پہلے میں بیگم فرقان کو فون کرکے بلالوں۔”۔ یہ کہہ کر وہ مردہ خانے سے باہر نکل آئے۔ فون کیا گیا اور وہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔۔۔ تقریباً بیس منٹ بعد بیگم فرقان پہنچ گیئں۔۔ان کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ ۔”خیر تو ہے بھائی جان؟”۔ ۔”کم از کم میرے اندازوں کے مطابق خیر تو نہیں ہے۔ خدا کرے کہ میرے اندازے غلط ثابت ہوں۔ میرے ساتھ آؤ۔” انہوں نے کہا اور پھر مردہ خانے کی طرف چل پڑے۔ جونہی انہوں نے اس لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ بیگم فرقان کے منہ سے ایک دہشت ناک چیخ نکل گئی، پھر ان کی سسکیاں گونج اٹھیں۔ انسپکٹر جمشید انہیں سہارا دے کر باہر لائے، پھر جیپ میں بٹھا کر گھر تک پہنچایا۔ ان کے رشتے داروں کو فون کرنے کا کام بھی انہوں نے ہی کیا، بیگم فرقان پر تو بے ہوشی کی کیفیت طاری تھی۔ ۔”آؤ بھئی، ہم ذرا الگ ہٹ کر حالات کا جائزہ لیں۔” انہیں آرام سے لٹانے کے بعد انہوں نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا۔ ۔”یہ کیا ہوا ابّا جان؟” محمود نے کانپتی آواز میں کہا۔ ۔”اب تینوں معاملات ایک ہی لڑی میں پڑ گئے ہیں۔” انہوں نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔ ۔”تت، تو کیا، یہ سارا چکر اسی فائل کی وجہ سے چلا ہے۔” فرزانہ نے حیرت زدہ ہو کر کہا۔ ۔”ہاں، اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔۔ دیکھو نا، عابد خاقانی نے جوں ہی اس فائل کو دیکھا، اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور پھر اس نے خودکشی کرلی۔ فرقان کریم اس کے دوست تھے اور ایک دن پہلے سے غائب تھے۔ ایک ڈاکو کے روپ میں ان کی لاش ملی۔۔۔ جو لوگ انہیں قتل کرنے کے دعوے دار تھے، تھوڑی دیر بعد خود بھی مردہ پائے گئے، یہ سب ایک ہی معاملہ نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟” وہ کہتے چلے گئے۔ ۔”تب پھر وہ تینوں بد معاش جو فرقان صاحب کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے تھے اور کسی امانت کا ذکر کررہے تھے۔۔ وہ شاید اسی سلسلے کے کچھ کاغذات تلاش کررہے ہوں گے۔” محمود نے پر جوش لہجے میں کہا۔ ۔”اوہ ہاں، خوب یاد دلایا۔۔ ان تینوں کے حلیے دہرا سکتے ہو؟”۔ ۔”جی ہاں، کیوں نہیں۔۔۔ حلیے دہرانا کیا مشکل ہے۔ ہم نے انہیں بغور دیکھا تھا۔ ان میں سے ایک کا قد بہت لمبا اور جسم سڈول تھا۔۔۔ اس کے سر پر گھنے بال تھے۔۔ چہرہ پھولا ہوا تھا، جیسے خمیری روٹی۔ رنگ پکّا تھا، ناک پکوڑا سی، اس کے دائیں کان کی لو کٹی ہوئی تھی۔: محمود کہتا چلا گیا۔ ۔”اور دوسرے کا حلیہ کیا تھا۔۔۔۔” انسپکٹر جمشید بے چین ہوکر بولے۔ ۔”وہ درمیانے قد کا آدمی تھا، پتلا دبلا، اس کی بھی دائیں کان کی لوکٹی ہوئی تھی۔۔” فاروق نے جلدی سے کہا۔ ۔”تو کیا تیسرے کی بھی کان کی لو کٹی ہوئی تھی اور وہ چھوٹے قد کا آدمی تھا۔” انسپکٹر جمشید نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”جی ہاں، بالکل یہی بات ہے۔ کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟” فرزانہ بے چین ہوکر بولی۔ ۔”ہاں وہ ناٹی تین کہلاتے ہیں، لیکن میں حیران ہوں کہ ان کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے۔۔ وہ تو سرکس کے تین مسخرے ہیں۔ اب سرکس کی ملازمت چھوڑ چکے ہیں اور چوری چکاری کرتے رہتے ہیں، کئی بار پکڑے بھی جا چکے ہیں، لیکن ہیں بہت تیز طرار۔ معمولی سی سزا ہی ملتی ہے انہیں ہر بار ۔۔ لوگوں میں مشہور ہیں۔۔چونکہ ہمیشہ چھوٹے موٹے ہاتھ مارتے ہیں، اس لیے پولیس بھی ان کے ساتھ سختی نہیں کرتی۔۔۔ آؤ چلیں، ان سے بھی دو دو باتیں ہو جائیں۔”۔ ۔”تو آپ ان کے ٹھکانے سے بھی واقف ہیں۔” محمود نے حیران ہوکر پوچھا۔ ۔”گھر تو میں نہیں جانتا؛ البتہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ گلشن ہوٹل میں عام طور پر بیٹھتے ہیں۔گلشن ہوٹل کا مالک انہیں پسند کرتا ہے، شاید وہ بھی چور اچکا قسم کا آدمی ہوگا، یا وہ اس کے لیے بھی کچھ کام کرتے رہے ہوں گے۔”۔ وہ فرقان کریم کے گھر سے نکل کر جیپ میں بیٹھ گئے۔ گلشن ہوٹل شہر کے کنارے واقع تھا اور چھوٹا سا بہت خوب صورت ہوٹل تھا۔ جوں ہی وہ اندر داخل ہوئے، گلشن ہوٹل کا مالک چونک اٹھا۔ پھر ان کی طرف لپکتے ہوئے بولا ۔ ۔”میرے ایسے نصیب کہاں کہ آپ مجھ غریب کے ہوٹل پر تشریف لائیں۔۔ آئیے، میرے کمرے میں چلیے۔”۔ ۔”نہیں، ہم ہال میں ہی بیٹھیں گے آغا جان۔” انسپکٹر جمشید نرم آواز میں بولے۔ ۔”جیسے آپ کی مرضی، تشریف لائیے۔”۔ وہ انہیں ایک کونے کی میز پر لے گیا۔۔ اس میز کے گرد پانچ کرسیاں بچھی تھیں۔ ۔”کاروبار کیسا چل رہا ہے مسٹر آغا جان۔”۔ ۔”بہت اچھا، اللہ کی بڑی مہربانی ہے۔”۔ ۔”آج کل تم کوئی غیر قانونی کام تو نہیں کر رہے۔”۔ ۔”میں اور غیر قانونی کام، یہ آپ کیا فرما رہے ہیں، میں تو جرم سے کوسوں دُور بھاگتا ہوں۔”۔ ۔”اور ناٹی تین جیسے لوگوں کو اپنے ہوٹل میں بٹھانا پسند کرتے ہو؛ حالانکہ اچھی طرح جانتے ہو، وہ چور اچکے قسم کے آدمی ہیں۔ ہلکی پھلکی قسم کی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔”۔ ۔”اس میں کوئی شک نہیں کہ ناٹی تین یہاں آتے ہیں، لیکن میں گاہکوں کو کیا کہہ دوں جناب۔”۔ ۔”خیر، میں ان تینوں سے ملنا چاہتا ہوں۔”۔ ۔”آپ اور ان سے ملیں گے، وہ تو بہت چھوٹے چور اچکے ہیں جناب، آپ بھلا ان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ آپ کا کام تو بڑے بڑے مجرم شکار کرنا ہے۔”۔ ۔”میں اپنے کام کو تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔۔۔۔ یہ بتاؤ، وہ اس وقت کہاں ملیں گے۔”۔ ۔”ان کے آنے کا وقت تو ہوگیا ہے، آپ کو کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ نو بجے تک تو آجاتے ہیں۔” اس نے کہا۔ انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی۔۔۔ پونے نو بج رہے تھے۔۔ پندرہ منٹ کا انتظار آسان کام نہیں تھا، لیکن مجبوری تھی؛ چنانچہ انہوں نے کہا۔ ۔”اچھی بات ہے، ہم ان کا انتظار کریں گے۔”۔ ۔”اور کیا آپ ان سے ہال میں ہی ملاقات کریں گے؟”۔ ۔”ہاں، کیا حرج ہے۔” وہ مسکرائے۔ ۔”کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ ان سے میرے کمرے میں ملاقات کریں۔”۔ ۔”کیوں، گاہکی خراب ہونے سے ڈرتے ہو، اگر ایسا ہی ہے تو انہیں بیٹھنے ہی کیوں دیتے ہو۔”۔ ۔”اب تو ان سے کہنا ہی پڑے گا۔” وہ ہاتھ ملتے ہوئے بولا۔ ۔”ٹھیک ہے، جب وہ آجائیں گے تو ہم انہیں لے کر کمرے میں چلے جائیں گے۔”۔ ۔”اس وقت تک آپ کیا پینا پسند کریں گے؟”۔ ۔”شکریہ، ہم صرف شام کو چائے پیتے ہیں۔۔۔ اب تو رات کے کھانے کا وقت ہو چلا ہے اور وہ ہم گھر جا کر ہی کھائیں گے۔ ارے ہاں، مجھے تو گھر بھی فون کرنا چاہیے۔” وہ چونک کر بولے۔ ۔”آئیے، تشریف لائیے جناب۔”۔ وہ انہیں کاؤنٹر تک لے گیا۔۔ انہوں نے گھر کے نمبر ڈائل کیے۔ دوسری طرف سے فوراً بیگم کی آواز سنائی دی۔ ۔”ہیلو بیگم، کیا ہورہا ہے؟’۔ ۔”تیسری مرتبہ کھانا گرم کررہی ہوں۔” دوسری طرف سے جل بھن کر کہا گیا۔ ۔”اوہ، ہمیں افسوس ہے بیگم، ابھی تمہیں چوتھی مرتبہ بھی گرم کرنا پڑے گا، کیونکہ ہمیں کچھ دیر اور لگ جائے گی۔”۔ ۔”ہمیں کن کو۔” انہوں نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”محمود، فاروق اور فرزانہ بھی اب میرے ساتھ ہیں۔۔”۔ ۔”ارے، مگر وہ تو۔۔” وہ کہتے کہتے رک گئیں۔۔ انسپکٹر جمشید بول اٹھے۔ ۔”ہاں، وہ بیگم فرقان کے ہاں گئے تھے اور میں ایک دعوت میں۔۔ لیکن اب ہمارا ایک راستا ہے۔” انہوں نے مسکرا کر کہا۔ ۔”آپ لوگوں کے تو راستے ہمیشہ ہی ایک ہو جاتے ہیں، الگ راستہ تو بس میرے حصے میں آتا ہے۔” انہوں نے تلملائے ہوئے انداز میں کہا اور انہوں نے مسکراتے ہوئے ریسیور رکھ دیا، پھر ان کی طرف مُڑے ہی تھے کہ ناٹی تین کو ہوٹل کے اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔ ساتھ ہی انہوں نے محسوس کیا کہ ہوٹل کا مالک آغا جان تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔ یہ دیکھ کر انہوں نے بھی قدم بڑھائے اور اس سے پہلے کہ وہ ان تین تک پہنچ پاتا، ان کے سامنے جا رکے۔ تینوں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر ان کے رنگ سفید پڑ گئے۔ ۔”میں جانتا ہوں، تم آغا جان کے لیے بھی کچھ کام کرتے رہتے ہو۔۔۔ خیر میرے ساتھ آؤ۔”۔ آغا جان نے ان کا جملہ سُن لیا۔ اس کا رنگ اڑ گیا۔ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولا۔ ۔”یہ۔۔۔یہ درست نہیں ہے جناب۔”۔ ۔”خیر ہوگا، میں جب تک ان سے بات مکمل نہ کرلوں، آپ اندر نہ آئیے گا۔” یہ کہہ کر انہوں نے ان تینوں کو اشارہ کیا اور کمرے کی طرف بڑھے۔ ناٹی تین اور ان چاروں کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے دروازہ اندر سے بند کرلیا اور پھر ان کی طرف مڑے۔ ناٹی تین کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ ۔”تو اب تم نے بڑے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردی ہے۔” انہوں نے پہلا جملہ کہا۔۔ ...... ۔”بڑے معاملات میں ۔۔ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟” عامی نے حیرت بھرے انداز میں کہا۔ ۔”تھوڑی دیر پہلے تم بیگم فرقان کریم کے گھر میں موجود تھے۔ اور تم نے ان کے گھر کی زبردستی تلاشی لی تھی۔۔۔ تم نے وہاں سے کوئی چیز اڑائی اور نکل بھاگے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ چوری چکاری کا کیس نہ ہوا۔”۔ ۔”بات دراصل یہ ہے جناب کہ ہم تو اب چوری چکاری سے بھی توبہ کرچکے ہیں۔۔ فرقان کریم کے پاس ہم نے واقعی ایک امانت رکھوائی تھی۔ اس نے رات ہمیں فون کیا کہ میں بیرونِ ملک جا رہا ہوں، لٰہذا ہم لوگ اپنی امانت خود ہی لے لیں۔ آپ ہی بتائیے، اس میں ہمارا کیا قصور۔”۔ ۔”اگر یہ بات تھی تو تم نے پستول کیوں نکالا؟” انہوں نے کہا۔ ۔”آپ کے بچے ہمارے کام میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔” اس نے منہ بنایا۔ ۔”اس صورت میں تم لوگوں کو پولیس کی مدد سے اپنی امانت حاصل کرنا چاہیے تھی۔ خیر وہ امانت کیا تھی؟”۔ ۔”چند کاغذات۔”۔ ۔”اب وہ کاغذات کہاں ہیں؟” انہوں نے پوچھا۔ ۔”وہ ہمیں مل ہی نہیں سکے۔۔ آپ کے بچوں نے معاملہ گڑبڑ کردیا اور ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔” اس نے بھنّائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ۔”اور تم آغا جان کے لیے کام کرتے ہو؟”۔ ۔”آغا جان کے لیے ہم کچھ بھی نہیں کرتے۔ وہ تو بہت ہی شریف انسان ہیں۔ بھلا وہ ہم سے کیا کام لے سکتے ہیں۔۔۔ اور انہیں ہم سے کوئی کام لینے کی ضرورت بھی کیا ہے۔”۔ ۔”ہوں، تو گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے گا۔” انسپکٹر جمشید غرائے۔ ۔”جی کیا مطلب، یہ گھی یہاں کہاں سے ٹپک پڑا۔” عامی نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”میں جو باتیں جاننا چاہتا ہوں، وہ تم سیدھی طرح نہیں بتاؤگے۔ مجھے تمہاری تھوڑی سی مرمت کرنا ہوگی۔”۔ ۔”دیکھیے جناب، یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ ہم پر ان دنوں کوئی الزام نہیں، ہم آزاد ہیں۔”۔ ۔”الزام، بیگم فرقان تمہارے خلاف رپورٹ درج کراچکی ہیں اور یہ رپورٹ ہمارے ہی ذریعے درج کرائی گئی ہے۔” انہوں نے کہا۔ ۔”یہ اچھی زبردستی ہے۔” شاکی نے کندھے اچکائے۔ ۔”اصلی زبردستی تو تمہارے ساتھ اب شروع ہوگی بھئی۔” انپسکٹر جمشید مسکرائے۔ یہ کہہ کر وہ ان کی طرف ایک قدم بڑھے۔ ۔”یہ، یہ آپ کیا کرہے ہیں، انسپکٹر صاحب۔” وامی نے بوکھلا کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ ۔”بس دیکھتے جاؤ۔” انہوں نے کہا۔ تینوں تیزی سے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ دیوار سے جا لگے۔ دوسرا لمحہ چونکا دینے والا تھا۔ جوں ہی وہ دیوار سے لگے، دیوار میں ایک دروازہ نمودار ہوگیا اور وہ دوسری طرف الٹ گئے۔ انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق اور فرزانہ نے لپک کر دیکھا، وہ تینوں سیڑھیوں پر لڑھکتے جا رہے تھے۔ انہوں نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔ سیڑھیوں پر چھلانگ لگادی اور کئی کئی سیڑھیاں اتر گئے۔ جوں ہی ان کے قدم فرش پر لگے، خفیہ دروازہ غائب ہوگیا۔ انہوں نے اپنے سامنے دیکھا، وہ ایک تہہ خانے میں کھڑے تھے۔۔۔ تہہ خانہ بہت وسیع و عریض اور پوری طرح سیمنٹ کیا ہوا تھا۔ چاروں طرف بڑی بڑی پیٹیاں رکھی تھیں۔ پیٹیاں اس ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں کہ پورے تہہ خانے میں گلیاں سی بن گئی تھیں۔ سیڑھیوں کے قریب رکتے ہوئے انہوں نے پورے تہہ خانے کا جائزہ لے ڈالا اور اس وقت یہ حقیقت انہیں معلوم ہوئی کہ ناٹی تین ان پیٹیوں کے درمیان کہیں چھپ گئے تھے اور انہیں تلاش کرنا آسان کام نہیں رہ گیا تھا۔ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 7: جوابی گیس
۔”پیٹیوں کی اوٹ سے وہ ہم پر فائرنگ کرسکتے ہیں۔۔ آؤ، ہم بھی پوزیشن لے لیں۔” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”لیکن ابّا جان، یہ ہو کیا رہا ہے۔ ہوٹل گلشن کے نیچے اتنا بڑا تہہ خانہ۔” محمود کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ ۔”ہاں، میں خود حیران ہوں۔۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ معاملہ کیا سے کیا ہوجائے گا۔” انہوں نے پیٹیوں کی ایک قطار کی اوٹ لیتے ہوئے کہا۔۔ ساتھ ہی جیب سے پستول نکال لیا۔ ۔”تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو، ہاتھ اوپر اٹھا کر باہر آجاؤ۔۔ اس طرح تم بچ نہیں سکتے۔” انہوں نے بلند آواز میں کہا، لیکن ناٹی تین نے کوئی جواب نہ دیا۔ ۔”یوں ہم کب تک دبکے رہیں گے۔” فرزانہ پریشان ہوگئی۔ ۔”ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔” انسپکٹر جمشید بے چارگی کے عالم میں بولے۔ ۔”کہیں اس تہہ خانے میں بھی کوئی خفیہ راستہ نہ ہو اور وہ اس سے نکل نہ گئے ہوں۔” محمود نے خیال ظاہر کیا۔ ۔”اگر ایسا ہے تو بہت جلد ہمیں معلوم ہوجائے گا۔”۔ انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ دم سادھ لیے۔ فرزانہ نے سن گن لینے کے لیے اپنے کانوں کی طاقت کو آواز دی، پھر پُر یقین لہجے میں بولی۔ ۔”نہیں ابّا جان، اس تہہ خانے میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، مطلب یہ کہ۔۔۔۔” فرزانہ کے الفاظ درمیان میں رہ گئے۔ اسی وقت محمود نے پُرجوش لہجے میں کہا۔ ۔”انہیں تلاش کرنے کی ترکیب میری سمجھ میں آگئی ہے۔”۔ ۔”حیرت ہے، تم فرزانہ تو نہیں ہوسکتے۔” فاروق نے اسے گھورا۔ ۔”ہم میں سے ایک یا تینوں ان پیٹیوں کے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح ان گلیوں کا اندرونی حصہ ہمیں صاف نظر آجائے گا۔ اگر وہ تینوں کہیں دبکے ہوئے ہوں گے تو نظر آجائیں گے۔”۔ ۔”ترکیب تو لاجواب ہے۔” انسپکٹر جمشید مسکرائے، پھر بولے: ” تم تینوں ہی چڑھ جاؤ اور جائزہ لے ڈالو۔”۔ ۔”جی بہتر۔” تینوں ایک ساتھ بولے۔ پھر محمود نے رک کر کہا: ”سوال یہ ہے کہ ان پیٹیوں میں ہے کیا؟”۔ ۔”یہ ہم بعد میں دیکھیں گے۔۔ پہلے تو ان تینوں کے بارے میں اطمینان ہوجانا چاہیے۔” انہوں نے سرگوشی کی۔ محمود، فاروق اور فرزانہ پیٹیوں کے اوپر چڑھ گئے اور پھر گلیاں پھلانگنے لگے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پورا تہہ خانہ دیکھ ڈالا، لیکن ان تینوں کا کہیں نشان بھی نظر نہ آیا۔ ۔”فرزانہ کا خیال ٹھیک ہے ابّا جان، وہ تینوں یہاں نہیں ہیں۔”۔ ۔”خوب، تو پھر نیچے اتر آؤ۔۔ ۔پہلے تو میں تہہ خانے کے دروازے کا جائزہ لے لوں کہ میں اسے کھول سکتا ہوں یا نہیں۔ اس کے بعد ہم ان پیٹیوں کی طرف توجہ دیں گے۔” انہوں نے کہا اور سیڑھیوں کی طرف مڑ گئے۔۔ اوپر پہنچ کر انہوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش شروع کی۔ آس پاس کوئی بٹن بھی تلاش کیا، لیکن نہ توکوئی بٹن ملا اور نہ دروازہ کھلا۔ آخر وہ پلٹے اور ان کے نزدیک پہنچ کر بولے۔ ۔”اب ہم اس تہہ خانے کے قیدی ہیں۔” یہ کہتے وقت وہ دھیرے سے مسکرائے بھی تھے۔ ۔”تو کیا یہ آغا جان اور ناٹی تین کی ملی بھگت ہے۔ وہ مل کر کوئی نا جائز کاروبار کررہے ہیں۔”۔ ۔” اس کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔۔ محمود، چاقو نکالو۔ میں چند پیٹیوں کو کھول کر دیکھنا چاہتا ہوں۔ معلوم تو ہو ان میں ہے کیا۔”۔ انہوں نے ایک پیٹی نیچے اتاری۔ محمود نے جوتے کی ایڑی سے چاقو نکال کر انہیں دے دیا۔ چاقو کی مدد سے پیٹی کا ڈھکنا کھولا گیا اور جوں ہی ڈھکنا کھلا، ان کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گیئں۔ پیٹی میں سفید پاؤڈر کی سیکڑوں تھیلیاں بھری ہوئی تھیں۔ ۔”اف خدا، یہ تو شاید ہیروئن ہے۔۔ کیا یہ لوگ ہمارے ملک میں نشہ آور دواؤں کا طوفان لانا چاہتے ہیں۔” انسپکٹر جمشید کانپ اٹھے، پھر انہوں نے دوسری پیٹی کھولی۔ اس میں چرس بھری تھی۔ غرض ان سب پیٹیوں میں مختلف نشہ آور ادویات موجود تھیں۔ ۔”لیکن ابّا جان، یہ سب پیٹیاں یہاں کس طرح آگئیں۔ فرزانہ نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”تم شاید بھول گئی ہو۔۔ گلشن ہوٹل شہر کے کنارے واقع ہے۔ دریا اس کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ یہ دریا ہمارے دشمن ملک سے بہہ کر آتا ہے، سرحد بھی یہاں سے زیادہ دُور نہیں۔ بڑی بڑی کشتیوں میں یہ پیٹیاں لا کر تہہ خانے میں منتقل کرنا رات کے وقت زیادہ مشکل کام نہیں ہوتا ہوگا، کیا خیال ہے۔” یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگئے۔ ۔”ہوں، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔”۔ ۔”اور یہاں سے یہ سیلاب پورے ملک میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ تم دیکھ ہی رہے ہو، نوجوان نسل کس تیزی سے چرس اور ہیروئن کی عادی ہوتی جارہی ہے۔ دشمن ملک چاہتا ہے، ہمیں جنگ سے شکست دینے کی بجائے پوری قوم کو اپاہج بنادے۔ اس طرح ہم خودبخود شکست کھا جائیں گے اور اس منصوبے پر وہ کروڑوں روپے خرچ کررہا ہے۔ نشہ آور دواؤں کے چھوٹے چھوٹے ذخیرے جانے کی خبریں عام طور پر اخبارات میں ہم پڑھتے رہتے ہیں، لیکن ظاہر ہے، اس معمولی پکڑ دھکڑ سے اتنے بڑے منصوبے کو کیا فرق پڑتا ہے اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو آغا جان جیسا آدمی چلا رہا ہے، جو ظاہر میں بہت معصوم اور بھولا آدمی نظر آتا ہے اور وہ مدد لیتا ہے ناٹی تین جیسوں کی۔”۔ ۔”لیکن ابّا جان، اس معاملے کا فرقان کریم سے کیا تعلق۔ یہ لوگ فرقان کریم کے گھر کس چیز کی تلاش میں گئے تھے۔ انہیں کس نے ہلاک کیا۔۔ ان کا عابد خاقانی سے کیا تعلق تھا؟”۔ ۔یہ سب باتیں تو بعد کی ہیں۔۔ پہلے تو ہمیں یہاں سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے، کہیں ہم یہاں بے موت نہ مارے جائیں۔”۔ ۔”تو پھر بسم اللہ کیجیے۔” محمود بولا۔ انہوں نے دوسرے خفیہ راستے کی تلاش شروع کردی۔ تہہ خانے کی دیواروں کو خوب ٹھوک بجا اور تھپتھپا کر دیکھا، لیکن کہیں بھی کسی دروازے کا نشان نظر نہ آیا، جب کہ یہ بات بھی ثابت تھی کہ کوئی دوسرا خفیہ دروازہ ضرور موجود ہے، ورنہ ناٹی تین بھلا کہاں جا سکتے تھے۔ ۔”لو بھئی، یہ تہہ خانہ تو ہمارے لیے چوہے دان بن گیا ہے۔” انسپکٹر جمشید مسکرائے۔ ۔”اور میرا یہاں دم گھٹنے لگا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے تہہ خانے میں ہوا کی آمدورفت کا کوئی راستہ نہیں ہے۔” فاروق پریشان ہوگیا۔ ۔”راستہ تو خیر ضرور ہوگا۔ تم پر گھبراہٹ سوار ہوگئی ہے۔ ارے مگر نہیں۔۔۔۔” محمود کہتے کہتے کہتے چونک اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف دوڑ گیا۔۔ اس کے ساتھ ہی انسپکٹر جمشید تڑ سے گرے اور بے ہوش ہوگئے، پھر وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے نہ رہ سکے، لیکن بےہوش ہوتے وقت بھی یہ احساس ان کے لیے حد درجے تکلیف دہ تھا کہ ان کے والد ان سے پہلے بے ہوش ہوگئے ہیں۔ پھر نہ جانے ان کی بے ہوشی کتنی دیر بعد ختم ہوئی۔ سب سے پہلے محمود کی آنکھ کھلی تھی۔ اس نے چونک کر اپنے دائیں بائیں دیکھا۔ اس کے والد، فاروق اور فرزانہ دائیں بائیں فرش پر پڑے نظر آئے۔ دوسرے ہی لمحے وہ چونک اٹھا، وہ اب اس تہہ خانے میں نہیں تھے۔۔ یہ تو کوئی ہوا دار صاف ستھرا کمرہ تھا۔ اسے اطمینان کا احساس ہوا، پھر اس نے بائیں طرف پڑے فاروق کے شانے کو چھوا۔ ۔”ارے، یہ کون شریف آدمی ہے، جو جنت میں بھی مجھے مار رہا ہے۔ میں نے تو سنا تھا، جنت میں مومن کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ وہ پھولوں کی طرح ہلکا پھلکا وہاں رہے گا، لیکن یہاں تو کوئی گرز نما چیز میرے کندھے پر ماری جارہی ہے۔” فاروق نے گہری نیند کے عالم میں کہا۔ ۔”تب تم جنت میں نہیں، دوزخ میں ہو اور دوزخ کے داروغہ کا گرز ہوگا جو تمہاری خبر لے رہا ہے۔” فرزانہ منمنائی۔ ۔”ہائیں، یہ تو میری بہن کی آواز ہے۔۔ اف، تو یہ بے چاری بھی میرے ساتھ دوزخ میں آپھنسی۔۔۔ میں پہلے ہی کہا کرتا تھا، اپنے کانوں کو اتنا تیز نہ ہونے دو، دوسروں کی سن گن لینا اچھا نہیں، لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔۔۔ یہ کانوں کی وجہ سے دوزخ میں آئی اور میں زبان کی وجہ سے۔”۔ ۔”لاحول ولا قوتہ۔” محمود نے جھلّا کر کہا۔ ۔”ہائیں ہائیں، محمود بھائی بھی آپہنچے۔ خوش آمدید، خوش آمدید، تمہارا دوزخ میں آنا مبارک، خوشیاں منا رہے ہیں، دوزخ میں آنے والے۔” وہ گنگنا اٹھا۔ ۔”ابّا جان، کیا آپ ابھی تک بے ہوش ہیں، سن رہے ہیں، فاروق اور فرزانہ کیا کہہ رہے ہیں؟”۔محمود بوکھلا کر بولا۔ ۔”صرف فاروق کا نام لو، میں خود کو دوزخ یا جنت میں محسوس نہیں کررہی۔” فرزانہ نے آنکھیں کھول دیں۔ ۔”سچ سنا تھا، اس گھڑی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے۔” فاروق نے سرد آہ بھری۔ ۔”میں ہوش میں ہوں محمود، فکر نہ کرو۔” انسپکٹر جمشید پہلی مرتبہ بولے۔ ۔”اف اللہ، ابّا جان بھی۔۔۔۔ لل، لیکن انہوں نے تو کبھی رشوت نہیں لی۔۔ کوئی غلط کام نہیں کیا۔۔” فاروق کانپ کر بولا۔ اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں۔ ۔”فاروق، ہوش میں آؤ۔” یہ کہتے ہوئے محمود نے اس کا شانہ ذرا زور سے ہلایا۔ ۔”اف توبہ، دوسرا گز، میں مرا۔”۔ ۔”اگر آنکھیں نہ کھولیں تو پندرہ بیس گز اور دے ماروں گا۔” محمود چلّایا۔ ۔”اوہو، محمود تمہیں کیا ہوگیا ہے۔۔ شاید وہ خواب کی حالت میں ہے اور خواب میں خود کو دوزخ میں دیکھ رہا ہے۔” انسپکٹر جمشید نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، لیکن پھر انہوں نے محسوس کیا، وہ اٹھ نہیں سکتے؛ حالانکہ ان کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے نہیں تھے اور وہ انہیں ہلا جلا بھی نہیں سکتے تھے، لیکن اٹھ کر بیٹھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ ۔”محمود، کیا تم اٹھ کر بیٹھ سکتے ہو۔”۔ ۔”جی، جی ہاں، کیوں نہیں۔ اس میں کیا مشکل ہے، یہ لیجیے۔” محمود نے کہا اور اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر ہائے کرکے رہ گیا۔ ۔”کیا ہواَ” انسپکٹر جمشید بے چین ہوگئے۔ ۔”ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔” محمود نے پریشان آواز میں کہا۔ ۔”دوزخ میں آنے والوں کی ریڑھ کی ہڈیاں نہیں ٹوٹیں گی تو اور کیا ہوگا۔” فاروق بڑبڑایا۔ ۔”اوہو، تم تو ہوش میں آجاؤ۔” فرزانہ نے جھلّا کر کہا۔ اور فاروق نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔ چند لمحے تک پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہا، پھر گھبرا کر بولا۔ ۔”مم، میں کہاں ہوں؟”۔ ۔”پتا نہیں۔” محمود نے منہ بنایا۔ ۔”میں ابھی ابھی خواب دیکھ رہا تھا، جیسے، جیسے میں مر گیا ہوں اور جنت میں بھیج دیا گیا ہوں۔” فاروق نے جلدی سے کہا۔ ۔”جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں، تمہیں تو دوزخ میں گرز مارے جارہے تھے۔” فرزانہ نے منہ بنایا۔ ۔”مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت ہے بھی نہیں، پہلے میں نے خود کو جنت میں ہی دیکھا تھا اور پھر دوزخ میں۔” فاروق بولا۔ ۔”حالانکہ ہوتا اس کے الٹ ہے۔۔۔ آدمی کو پہلے گناہوں سے پاک کرنے کےلیے کچھ عرصہ دوزخ میں رہنا پڑتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے گناہ نیکیوں سے بڑھے ہوئے ہوں اور پھر پاک صاف ہو کر وہ جنت میں بھیج دیا جاتا ہے۔” محمود بولا۔ ۔”خواب کی تعبیریں بھی تو الٹ ہی ہوتی ہیں۔” فرزانہ مسکرائی۔ ۔”گویا میں پہلے دوزخ میں جاؤں گا۔ ارے باپ رے۔ یا اللہ میری توبہ۔۔۔۔میں تو آج سے ہی زور شور سے عبادت شروع کیے دیتا ہوں۔” اس نے سچ مچ کانپ کر کہا۔ ۔”مشکل ہے، تم کم از کم آج سے تو شروع نہیں کرسکتے، ہاں لیٹے لیٹے اللہ کا ذکر کرسکتے ہو۔”۔ ۔”وہ کیوں؟”۔ ۔”ذرا اٹھ کر دکھاؤ۔”۔ فاروق نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اس سے بھی نہ اٹھا گیا۔ اس کے منہ سے نکلا۔ ۔”ارے، یہ میری کمر کو کیا ہوا؟”۔ ۔”وہی جو ہماری کمروں کو ہوا ہے۔” محمود نے مایوسانہ لہجے میں کہا۔ اسی وقت دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے گردنیں دروازے کی طرف گھما دیں۔ آغا جان اور ناٹی تین شوخ انداز میں مسکراتے اندر داخل ہورہے تھے۔ ............. ۔”کیا حال ہے دوستو، ہوش میں آگئے تم؟”۔ ۔”ہوش میں آنے کی بجائے ہم اٹھنے کے قابل رہ جاتے تو زیادہ بہتر تھا۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”فکر نہ کرو، چھ گھنٹے تک تم اس قابل ضرور ہوجاؤ گے کہ اٹھ کر بیٹھ سکو۔” آغا جان نے ہنس کر کہا۔ ۔”صرف بیٹھنے کے قابل، اور چلنے پھرنے کے قابل کب ہوسکیں گے۔”۔ ۔”ہمیں افسوس ہے۔۔ اب تم بہت عرصے تک چل پھر نہیں سکو گے۔ خیر تم فکر نہ کرو۔۔ معذوروں والی کرسیاں ہمارے پاس ہیں۔ ایک ایک کرسی تمہیں دے دہ جائے گی۔”۔ ۔”ہم کہاں ہیں؟”۔ ۔”دور بہت دور۔۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔” آغا جان نے کہا۔ ۔”چلو تم تو سوچ سکتے ہو، پھر بتا کیوں نہیں دیتے۔” فاروق نے جل کر کہا۔ ۔”تم اس وقت گلشن ہوٹل سے کم از کم تین سو کلومیٹر دور ایک پہاڑی مقام پر ہو۔۔۔ یہ مقام تمہارے ملک میں نہیں ہے۔ یہاں تمہیں بچانے یا چھڑانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا، بے فکر رہو۔”۔ ۔”ہاں، ان حالات میں بے فکر رہنا بہت ضروری ہے۔” فاروق سے فوراً کہا۔ ۔”اب یہ بھی بتادو، تم لوگ چاہتے کیا ہو؟” محمود نے کہا۔ ۔”جو چاہتے تھے، کرچکے ہیں۔۔ تمہیں تمہارے شہر سے بہت دور لے آئے ہیں۔ اب تم لوگ ہمارے کسی معاملے میں دخل نہیں دے سکو گے۔”۔ انسپکٹرجمشید نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۔ وہ تقریباً نو بجے گلشن ہوٹل میں داخل ہوئے تھے اور جون کی تین تاریخ تھی۔ اب گھڑی پر تین بج رہے تھے اور تاریخ چار جون تھی؛ گویا وہ پورے چھ گھنٹے بے ہوش رہے تھے۔ چھ گھنٹوں میں تین سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جاسکتا تھا۔ ۔”انسپکٹر جمشید، آپ بہت خاموش ہیں۔”۔ ۔”ان کے سوالات ختم ہوں تو میں کچھ بات کروں۔” وہ بے چارگی کے انداز میں بولے۔ ۔”اوہو، یہ بات ہے ابّا جان، تو لیجیے، یوں سمجھ لیجیے، ہم نے اپنے ہونٹ سی لیے۔۔ اب یہ صرف اس وقت کھلیں گے، جب آپ ہمیں اجازت دیں گے۔”۔ ۔”شکریہ، ہاں تو مسٹر آغا جان۔۔ تم لوگوں کا پروگرام کیا ہے؟”۔ ۔”پروگرام بہت شان دار ہے۔۔۔ یہ عمارت تمہاری نگرانی میں دی جاتی ہے۔ کبھی کبھار ہمارے مہمان یہاں آتے ہیں۔ ان مہمانوں کی مہمان نوازی تمہارے ذمّے ہوا کرے گی۔ انہیں کھلانا پلانا اور ان کے آرام کا خیال رکھنا۔”۔ ۔”لیکن ہم ایسا کیوں کریں، کیا ہم تمہارے ملازم ہیں۔”۔ ۔”ملازم تو نہیں، غلام کہہ سکتے ہو خود کو۔۔ چند روز تک تم بس اس حد تک چلنے پھرنے کے قابل ہوجاؤگے کہ چند گز تک چل پھر سکو۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔۔ چند گز چلنے کے بعد تم میں طاقت نہیں رہ جایا کرے گی اور تم صرف لیٹے رہنے یا سوتے رہنے کی خواہش کیا کروگے، لیکن مہمانوں کی خاطر تمہیں تھوڑا بہت تو ہلنا جلنا پڑا ہی کرےگا۔۔۔۔یہ مکان پہاڑ کی عین چوٹی پر بنا ہوا ہے اور نیچے اترنے کا راستہ تم تلاش نہیں کرسکوگے۔”۔ ۔”تو جس گیس سے ہمیں بے ہوش کیا گیا تھا۔ اس کے اثرات زائل نہیں ہوں گے؟” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”نہیں، جب تک جوابی گیس تم لوگوں کو نہ سنگھا دی جائے گی، اس وقت تک اس کا اثر زائل نہیں ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ کم ضرور ہوتا چلا جائے گا، لیکن کم ہونے کی رفتار چیونٹی کی چال جیسی ہوگی۔”۔ ۔”ہوں، اس صورت میں ہم یہاں آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت کس طرح کرسکیں گے۔”۔ ۔”جو بھی ان کے لیے کرسکو، کیونکہ ان کی ذات سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ہوگی، تم لوگوں کو ہو تو ہو۔” اس نے منہ بنا کر کہا۔ ۔”تو اس گروہ کے سرغنہ تم ہو؟” محمود نے پوچھا۔ ۔”نہیں، سرغنہ کے چکر میں نہ پڑو۔”۔ ۔”اور یہ فرقان کریم کا کیا چکر تھا۔”۔ ۔”ہاں، وہ میں تمہیں۔۔۔۔”۔ اس کے الفاظ درمیان میں رہ گئے۔ اسی وقت ایک عجیب سی آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔۔ ٹوں ٹوں سے ملتی جلتی۔ آغا جان اور ناٹی تین چونک اٹھے۔ ۔”باس کی عمر کتنی لمبی ہے۔ ابھی ابھی ہم نے ان کا ذکر کیا تھا۔” آغا جان نے خوش ہوکر کہا اور پھر ایک الماری کی طرف بڑھا۔ اس پر نمبروں والا تالا لگا تھا۔۔۔ اس نے جلدی تالے کے نمبر ملائے اور الماری کے پٹ کھول ڈالے۔ اندر ایک وائرلیس کی قسم کے آلے میں نیلے رنگ کا بلب جل اور بُجھ رہا تھا۔ اس کا ایک بٹن دباتے ہوئے آغا جان نے کہا۔ ۔”یس سر، میں آغا جان اس طرف متوجہ ہوں۔”۔ ۔”ان لوگوں کے سلسلے میں کیا کیا گیا۔” ایک باریک اور پھنسی پھنسی سی آواز سنائی دی۔ ۔”وہ گیس کے اثر سے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔۔ انہیں ریسٹ ہاؤس کی میزبانی ریسٹ ہاؤس کی میزبانی کے فرائض سونپے جارہے ہیں۔”۔ ۔”یہ کیا بد تمیزی ہے۔” دوسری طرف سے ناخوشگوار لہجے میں کہا گیا۔ ۔”بد تمیزی، کیا مطلب سر؟” آغا جان نے بوکھلا کر کہا۔ ۔”تم اچھی طرح جانتے ہو، یہ لوگ کس قدر خطرناک ہیں۔ انہیں زندہ رکھنا خطرناک ہوگا، لٰہذا انہیں اسی وقت پہاڑی سے دھکا دے دیا جائے تاکہ ان کی ہڈی پسلی ایک ہوجائے۔ گیس کے اثر سے یہ اس قابل تو رہ نہیں گئے ہوں گے کہ خود کو بچا سکیں۔ لٰہذا ان کی موت قدرتی خیال کی جائے گی۔” دوسری طرف سے کہا گیا۔ ۔”بہت بہتر باس، آپ کے حکم کی فوری طور پر تعمیل کی جائے گی۔ آپ مطمئن رہیں۔”۔ ۔”ٹھیک ہے، تم اس کے حکم پر عمل کرو۔ ہم اوپر والے کے حکم پر صابر اور شاکر ہیں۔” انسپکٹر جمشید نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ۔”مشکل یہ ہے کہ اب تم چاروں کو اٹھا اٹھا کر باہر لے جانا پڑے گا۔۔ خیر ناٹی تین تم ان میں سے ایک ایک کو کندھے پر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر ڈال آؤ۔ اس کے بعد ہم مل کر انسپکٹر جمشید کو اٹھائیں گے۔”۔ ۔”بہت بہتر جناب، ابھی لیجیے۔”۔ یہ کہہ کر وہ ان کی طرف بڑھے۔۔ انہوں نے بے بسی کے عالم میں اپنے والد کی طرف دیکھا، جیسے کہہ رہے ہوں، ابّا جان، یہ کیسی بے بسی کی موت ہے۔ ہم زندگیاں بچانے کے لیے کوئی کوشش بھی نہیں کرسکتے۔۔ ۔”ایسے موقعوں پر مسلمان خدا کو یاد کیا کرتا ہے۔” انسپکٹر جمشید اداس انداز میں مسکرائے۔ ۔”جی ابّا جان۔” وہ ایک ساتھ بولے۔ ناٹی تین ان پر جھکے اور ایک ایک کو اٹھا کر کندھوں پر ڈال لیا اور کمرے کے دروازے کی طرف بڑھے۔ ۔”جلدی آنا۔” آغا جان نے کہا۔ ۔”ابھی آئے جناب، آپ فکر نہ کریں۔” ایک نے کہا۔ تقریباً پانچ منٹ بعد ان کی واپسی ہوئی۔۔ اب انہوں نے مل کر انسپکٹر جمشید کو اٹھایا۔ آغا جان نے انہیں ایک بازو سے پکڑا۔ ناٹی تین نے ایک اک ٹانگ اور بازو تھام لیے اور ڈنڈا ڈول کی شکل میں لے چلے۔ ۔”بچپن میں میں کچھ بچوں کو اس طرح اسکول یا دینی مدرسوں میں لے جاتے دیکھا کرتا تھا، آج خود اس طرح لے جایا جا رہا ہوں، ضرور میں ایک گنہ گار انسان ہوں اور خدا کی بارگاہ میں ڈنڈا ڈول کرکے بھیجا جا رہا ہوں، اللہ مجھے معاف فرمائے۔” انسپکٹر جمشید نے کانپ کر کہا۔ آغا جان اور اس کے ساتھی مسکرا اُٹھے۔۔۔ اونچے نیچے راستے پر چلتے آخر وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے محمود، فاروق اور فرزانہ کو لٹا رکھا تھا۔ انہوں نے دیکھا، تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ آپس میں پکڑ رکھے تھے۔ ۔”یہ کیا بھئی، تم نے ایک دوسرے کو پکڑ کیوں رکھا ہے؟” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”آپ بھی ہمیں پکڑ لیں، ہم ایک ساتھ جان دینا پسند کریں گے۔۔ امید ہے، جان صاحب ہماری آخری خواہش ضرور پوری کریں گے۔یوں بھی اس میں ان کا کوئی حرج نہیں۔”۔ ۔”ضرور ضرور، بھلا مجھے اس میں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ تم لوگ عین پہار کی چوٹی پر موجود ہو۔۔ایک اشارے کی دیر ہے۔ لڑھکتے نظر آؤگے، لیکن اس صورت میں تمہارے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں کس طرح رہیں گے، پہلا جھٹکا ہی تمہیں الگ الگ کردے گا۔”۔ ۔”وہ بعد کی بات ہے۔۔۔ یہاں سے تو ہم ایک ساتھ ہی لڑھکیں گے نا۔”۔ ۔”ٹھیک ہے، انسپکٹر جمشید کو بھی ان کے ساتھ لٹا دو۔” آغا جان نے کہا۔ ایسا ہی کیا گیا۔۔۔ انسپکٹر جمشید نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا، جسے محمود نے پکڑ لیا۔ محمود کا ہاتھ فاروق کے اور فاروق کا ہاتھ فرزانہ کے ہاتھ میں تھا۔ ۔”ابّا جان، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، آخری الفاظ۔۔۔۔۔”۔ ۔”ضرور کیوں نہیں۔۔۔” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”مسٹر آغا جان، کہیں یہ لوگ کوئی چال تو چلنے کے موڈ میں نہیں۔”۔ ۔”اس بے بسی کے عالم میں یہ کیا کوئی چال چلیں گے۔” آغا جان نے الجھن کے عالم میں کہا۔ اس دوران محمود اپنا منہ انسپکٹر جمشید کے کان سے لگا چکا تھا۔ اس نے کچھ کہا اور پھر منہ پیچھے ہٹا لیا۔ ۔”دوستو، اب تم ہمیں دھکا دے سکتے ہو، ہم اپنے خدا کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔”۔ ۔”چلو آگے پڑھ کر انہیں دھکّا دو، یہ صرف ہاتھ ہلا سکتے ہیں۔ دھڑ نہیں۔ بس ان کے ہاتھوں سے بچے رہنا۔”۔ چاروں ان کی طرف بڑھے اور پھر ایک چیخ فضا میں گونج اٹھی۔ ناٹی تین میں سے ایک یعنی عامی کے پیٹ میں سے خون بہہ نکلا۔ چاند کی روشنی میں انہوں نے خون نکلتے صاف دیکھا اور پھر وہ اوندھے منہ گر گیا۔ ۔”یہ۔۔۔ یہ کیا ہوا؟” آغا جان ہکلایا۔۔ مارے حیرت اور خوف کے اس کی آنکھیں باہر کو نکلی پڑ رہی تھیں۔ ۔”اسے غیبی امداد کہتے ہیں، اللہ کی نصرت۔” انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔ ۔”تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ہتھیار ہے، کوئی چاقو یا خنجر، لیکن ہم نے تو تمہاری تلاشی بہت احتیاط سے لی تھی۔” آغا جان کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ ۔”ہاں، یہ رہا چاقو اور اس چاقو کے ہوتے ہوئے تم لوگ ہماری طرف بڑھنے کی جرئات نہیں کرسکتے۔ آؤ، آگے آکر دیکھ لو۔ تمہارا بھی رہی انجام ہوگا، جو اس کا ہوا ہے۔”۔ وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔۔۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہوں نے اس چاقو کو دیکھا، پھر آغا جان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔۔ اس کے باقی ماندہ ساتھیوں نے بھی اپنے ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ ان کے منہ کھلے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ۔”اپنے پستولوں کے لیے پریشان ہورہے ہو۔ تم لوگ عقل سے پیدل ہو۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تم انہیں کندھوں پر اٹھاؤ۔ ان کے ہاتھ تمہاری کمروں کی طرف جھول رہے ہوں اور یہ تمہاری جیبوں میں پستول رہنے دیں۔ انہوں نے نہایت ہوشیاری سے پستول نکالے اور پہاڑی سے نیچے اچھال دیے۔ تم نے ان کے گرنے کی آواز یا تو سُنی نہیں، اگر سنی تو پھر خیال کیا کہ کوئی پتھر لڑھک کر نیچے گرا ہے، کیونکہ اس قسم کی آوازیں یہاں آتی ہی رہتی ہیں، پھر یہی کام میں نےکیا۔ میں نے تمہارے پستول پر ہاتھ صاف کردیا۔ محمود نے میرے کان میں یہی اطلّاع دی تھی کہ یہ تینوں تمہارے تینوں ساتھیوں کے پستول نکال کر پھینک چکے ہیں اور جب اس نے مجھ سع ہاتھ ملایا تھا تو یہ چاقو ہی مجھے دیا تھا۔ اب کیا کہتے ہو دوستو۔۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہم ملک سے باہر نہیں ہیں، ملک میں ہی ہیں۔”۔ ۔”یہ اندازہ آپ نے کیسے لگایا ابّا جان۔” فاروق نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”عقل سے پیدل ہو تم بھی، یا پھر گیس تمہارے ذہن پر بھی اثر انداز ہوچکی ہے، بھول گئے، ان کے باس نے کیا کہا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ہماری موت قدرتی خیال کی جائے گی۔۔ اگر ہماری موت ان کے ملک میں واقع ہوتی، تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا کہ وہ قدرتی خیال کی جائے گی یا غیر قدرتی، لٰہذا ہم اپنے ملک میں ہی کہیں ہیں اور غالباً یہ شمالی پہاڑیاں ہیں۔” یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگئے۔ ۔”شاکی، کابوس دوڑ کر جاؤ اور اندر سے جو بھی ہتھیار ملیں، اٹھا لاؤ۔۔۔ میں عامی کو دیکھتا ہوں۔” آغا جان نے بلند آواز میں کہا۔ ۔”اچھا۔” دونوں نے ایک ساتھ کہا اور تقریباً دوڑتے ہوئے پہاڑی عمارت کی طرف چلے گئے۔ آغا جان عامی پر جھک گیا۔۔ وہ ان سے اتنی دور تھا کہ وہ حملہ نہیں کرسکتے تھے، ہاں چاقو پھینک کر ضرور مار سکتے تھے، لیکن اس صورت میں چاقو ان کے ہاتھ سے نکل جاتا اور ابھی انہوں نے دو اور دشمنوں سے نبٹنا تھا۔ ۔”عامی، عامی۔۔۔ میں ایسے میں بھلا تمہارے لیے کیا کرسکتا ہوں۔ تم، تم خود کو کیسا محسوس کررہے ہو۔” آغا جان نے بوکھلائی ہوئی آواز میں کہا۔ ۔”مم، میں۔۔۔ میں مرا۔” اس کے منہ سے نکلا۔ ۔”لل، لیکن عامی، تمہارے جسم میں ایک ننھا سا چاقو اترا ہے۔ اتنے معمولی سے زخم سے کوئی مر نہیں سکتا۔”۔ ۔”تت، تم نہیں جانتے آغا۔۔ جان۔۔۔ چاقو میرے دل کو چھو چکا ہے۔ وہ پسلیوں کو کاٹتا چلا گیا ہے۔”۔ ۔”اوہ، حیرت ہے، ایک چھوٹے سے چاقو نے پسلیاں کاٹ دیں۔” آغا جان حیران ہوکر بولا۔ ۔”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا چچا جان، سوری آغا جان، تم بھی ایک چاقو ہضم کرکے دیکھ لو۔۔۔ یہ چاقو کوئی عام چاقو نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی خاص قسم کا چاقو ہے۔” فاروق کی شوخ آواز نے اس کے کانوں میں زہر گھول دیا۔ ۔”تم چاروں بچ نہیں سکتے۔۔ ہلنے جلنے کے قابل تو تم ہو نہیں۔ بس لے دے کے ایک چاقو تمہارے پاس ہے۔ شاکی اور کابوس ابھی آتے ہی ہوں گے، پھر دیکھوں گا، یہ زبان کس طرح چلتی ہے۔”۔ ۔”اس زبان کی بات کرتے ہو۔۔ یہ ایسے موقعوں پر کبھی خاموش رہی ہے نہ رہے گی۔۔۔۔ ارے میاں جاؤ، تم کیا جانو، اس زبان کی باتیں۔” فاروق بڑی بوڑھیوں کے انداز میں ہاتھ نچا کر بولا۔ اسی وقت عامی نے ایک زور دار جھرجھری لی اور اس کی گردن ڈھلک گئی۔ ۔”لو، تم میں سے ایک توگیا اور میرا خیال ہے، سیدھا جہنم میں گیا ہوگا، کیونکہ بنی نوع انسان کی برائی چاہنے والے بھلا جنت میں کیا جاسکیں گے۔” فاروق ہنسا۔ ۔”فاروق، بری بات ہے۔ کسی کی موت پر ہنسا نہیں کرتے۔” محمود نے اسے ٹوک دیا۔ ۔”ملک اور قوم کے دشمنوں کی موت پر ہنسنا ہی چاہیے۔” فاروق نے منہ بنایا۔ ۔”کیا خیال ہے ابّا جان۔” فرزانہ نے گویا ان سے فیصلہ چاہا۔ ۔”موت دوست کی ہو یا دشمن کی، افسوس ناک ہوتی ہے، لٰہذا ہنسنا ٹھیک نہیں۔” انہوں نے کہا: ”ہاں، ہمیں یہ اطمینان محسوس کرنا چاہیے کہ ملک اور قوم کا ایک دشمن تو کم ہوا۔”۔ ۔”شکریہ ابّا جان، اب میں کبھی بھی کسی کی موت پر نہیں ہنسوں گا۔” فاروق نے فوراً کہا۔ اسی وقت انہوں نے قدموں کی آواز سنی۔ شاید شاکی اور کابوس آگئے تھے۔ ان کے دل دھک دھک کرنے لگے۔ نہ جانے وہ کس قسم کے ہتھیار لانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اگر کوئی پستول یا بندوق انہیں مل گئی ہوی تو ان کے بچنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے تھے۔ انہوں نےان کے پستول نکال کر اسی لیے پھینک دیے تھے کہ دشمن کسی صورت ھبی انہیں استعمال کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اتنے میں دونوں نزدیک آگئے۔ انہوں نے پہلے ہی انہیں دیکھنے کے لیے گردنیں گھما رکھی تھیں۔ انہوں نے دیکھا، شاکی اور کابوس کے ہاتھوں میں دو لوہے کی سلاخیں اور ایک شیشے کی بوتل تھی۔۔ لوہے کی سلاخیں شاید آتش دانوں کی راکھ کریدنے کے کام آتی تھیں۔۔۔ ۔”کیا خیال ہے مسٹر آغا جان، ان سے کام چل جائے گا۔”۔ ۔”کیوں نہیں، یہ تینوں بہترین ہتھیار ہیں۔۔۔خاص طور پر ان حالات میں جبکہ یہ تینوں اپنی جگہ سے ہلنے جلنے کے قابل نہیں ہیں۔ لاؤ ایک سلاخ مجھے دے دو۔۔۔ شاکی، تم بوتل کا منہ توڑ لو۔ اس کے بعد یہ بہترین ہتھیار ہوگی۔ واضح رہے کہ ان میں سے صرف انسپکٹر جمشید کے پاس چاقو موجود ہے۔۔۔ تینوں بچوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، لٰہذا ان تینوں پر تو بےفکری سے وار کیے جاسکتے ہیں۔ انسپکٹر جمشید کو میں دیکھ لوں گا۔ بس تم اس کی زد سے دور رہتے ہوئے بچوں پر وار کرنا۔”۔ ۔”فکر نہ کریں آغا جان، ہم پوری طرح چوکس ہیں۔۔ ان لوگوں سے عامی کا انتقام ضرور لیں گے۔ کیا عامی بے ہوش ہے۔”۔ ۔”نہیں، وہ مر چکا ہے۔”۔ ۔”اوہ، گویا ان لوگوں نے ناٹی تین کو ناٹی تین نہیں رہنے دیا۔۔ اب وہ ناٹی دو ہوگئے ہیں۔” شاکی نے سرد آواز میں کہا۔ ۔”ہاں شاکی، یہی بات ہے اور مجھے بہت افسوس ہے۔”۔ ۔”خیر، کوئی بات نہیں، ہم ان کا حشر بہت بُرا کریں گے۔”۔ یہ کہہ کر شاکی اور کابوس محمود، فاروق اور فرزانہ کی طرف بڑھے۔۔ آغا جان نے انسپکٹر جمشید کا رخ کیا۔ یہ شاید ان کی زندگی کی عجیب ترین لڑائی تھی۔ وہ اٹھ نہیں سکتے تھے۔ صرف لیٹے رہ کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ ان تینوں کے پاس ہتھیار تھے، جب کہ ان میں سے صرف انسپکٹر جمشید کے پاس محمود والا چاقو تھا۔ ایک ننّھا سا چاقو، جب کہ ان کے مقابلے میں آغا جان کے پاس ایک لمبی لوہے کی سلاخ تھی اور وہ دور رہ کر اس سلاخ سے ان پر وار کرسکتا تھا اور یہی باتیں محسوس کرکے آغا جان، شاکی اور کابوس کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹیں ناچ گئیں۔ انسپکٹر جمشید نے فوری طور پر چاقو کے دستے کو اس طرح پکڑ لیا، جیسے وہ چاقو نہیں، کوئی تلوار ہو اور اس کا رخ بالکل کسی تلوار کی طرح آغا جان کی طرف کرلیا؛ گویا وہ سلاخ کا وار چاقو پر روکنے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔ ان کے اس انداز کو دیکھ کر آغا جان بے ساختہ ہنس دیا۔۔۔ ادھر محمود، فاروق اور فرزانہ صرف اپنے ہاتھوں سے کام لے سکتے تھے۔ کابوس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی، لٰہذا اسے تو ان کے نزدیک آنے کی ضرورت نہیں تھی؛ تاہم شاکی کے پاس ٹوٹے ہوئے منہ کی بوتل تھی اور بوتل سے وار کرنے کے لیے اسے نزدیک آنا پڑا۔ محمود، فاروق اور فرزانہ کو صرف یہ برتری حاصل تھی کہ وہ دو کے مقابلے میں تین تھے، لیکن بالکل نہتّے تھے۔ اور پھر پہل آغا جان نے کی۔۔۔ اس نے انسپکٹر جمشید کے سر کا نشانہ لیا۔۔ سلاخ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا، سر سے اوپر اٹھایا اور پوری قوت سے دے مارا۔ |
|
|
|
| پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (14-11-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
باب 8: موت کا سناٹا
یہ لمحات بہت سنگین تھے۔ محمود، فاروق اور فرزانہ، شاکی اور کابوس کے وار روکنے کی فکر میں تھے۔ ایسے میں وہ اپنے والد کی طرف توجہ نہیں دے سکتے تھے۔ نہ ہی وہ ان کی کوئی مدد کر سکتے تھے، لیکن ہوا یہ کہ شاکی اور کابوس خود آغا جان کے وار کا انجام دیکھ کر رک گئے اور اس طرح انہیں بھی ان کی طرف دیکھنے کی مہلت مل گئی۔انہوں نے دیکھا، جونہی آغا جان کے دونوں ہاتھ سر سے بلند ہوئے، ان کے والد نے چاقو والا ہاتھ اوپر اٹھا دیا اور اسے سلاخ کی سیدھ میں لے آئے۔ آغا جان نے چاہا کہ اس کا وار ان کے سر پر پڑے اور درمیان میں کہیں رکے بغیر سر پر پڑے۔ لٰہذا اس نے چاقو والے ہاتھ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے یہ وار کیا، لیکن اسی مناسبت سے ان کا ہاتھ بھی پوزیشن تبدیل کرچکا تھا، لٰہذا نتیجہ یہ نکلا کہ چاقو کا پھل سلاخ سے ٹکرایا۔ آگ کی چند چنگایاں نمودار ہوئیں اور دوسرے ہی لمحے آغا جان، شاکی اور کابوس بھونچکے رہ گئے۔ جس جگہ سلاخ سے چاقو ٹکرایا تھا، سلاخ وہاں سے کٹ گئی تھی اور اس کا اگلا حصہ دور کہیں جا گرا تھا۔ اس منظر نے ان کے ہوش اڑا دیے۔۔۔ اب انہیں معلوم ہوا کہ انسپکٹر جمشید کے ہاتھ میں کس قسم کا چاقو ہے۔۔ آغا جان تو سکتے میں آگیا۔ اس کے ہاتھ میں اب یوں بھی تقریباً آدھی سلاخ رہ گئی تھی اور وار کرنے کے لیے اب اسے ان کے نزدیک ہونا پڑگیا تھ۔ یہ سب کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا۔ ۔”ٹھہرو بھئی، میں بھول گیا تھا کہ ہمارا مقابلہ اس وقت دنیا کے خطرناک ترین آدمی انسپکٹر جمشید سے ہے، جس نے بڑے بڑے بین الاقوامی جاسوسوں کے چھکّے چھڑادیے ہیں۔ سنو، میں نے پروگرام بنایا ہے کہ ہم تینوں مل کر پہلے انسپکٹر جمشید کو ختم کریں۔ ظاہر ہے، اس کے بچے اس کی کوئی مدد کر ہی نہیں سکیں گے۔” وہ جلدی جلدی کہتا چلا گیا۔ ۔”ہوں، بات تو ٹھیک ہے۔” شاکی نے کہا اور دونوں آغا جان کے نزدیک آگئے۔ ۔”یہ کیا بزدلی ہے۔۔ تین تین آدمی ایک شخص سے مقابلہ کریں گے اور مقابلہ بھی کیسا، کہ وہ بے بس پتھریلی زمین پر پڑے ہیں۔ ایسی بزدلی تو کہیں سنی نہ دیکھی۔” فاروق نے بھنّائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ۔”پرواہ نہ کرو، میں ان تینوں کا مقابلہ کروں گا۔” انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”وہ تو ٹھیک ہے ابّا جان، لیکن ان کی بے غیرتی تو ملاحظہ ہو۔” فرزانہ تلملا کر بولی۔ ۔”خاموش، تم ہمیں بے غیرت کہہ رہی ہو۔۔ لو، پہلے میں تمہارا ہی کام کیے دیتا ہوں۔” کابوس نے بپھر کر کہا اور اندھا دھند فرزانہ کی طرف بڑھا۔۔ دوسرے ہی لمحے اس نے سلاخ فرزانہ کے سر پر دے ماری۔ فوری طور پر فرزانہ کا ہاتھ بلند ہو۔ محمود اور فاروق نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا کر سلاخ کو فرزانہ کے سر سے بچانے کی کوشش کی، لیکن ان کے ہاتھ سلاخ تک نہ پہنچ سکے لٰہذا سلاخ پورے زور سے فرزانہ کی ہتھیلی سے ٹکرائی۔۔۔۔ اس طرح اس نے اپنا سر ضرور بچا لیا تھا، لیکن ہتھیلی پر بھی کچھ کم چوٹ نہیں آئی تھی۔۔۔ ساتھ ہی اس نے ہتھیلی بند کرلی اور سلاخ کو مظبوطی سے پکڑ لیا۔ کابوس نے سلاخ چھڑانے کے لیے ایک جھٹکا مارا، لیکن فرزانہ کی گرفت اتنی کمزور نہیں تھی۔ سلاخ اس کے ہاتھ سے نہ نکل سکی۔ کوبوس نے غصے میں آکر سلاخ چھوڑ دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کابوس دھڑام سے دوسری طرف گرا اور لڑھکتا چلا گیا۔ اگر شاکی دوڑ کر اسے روک نہ لیتا تو وہ ہزار ہا فٹ گہری کسی کھائی میں جاگرا ہوتا۔ ۔”بھئی، ذرا سنبھل کر وار کرو۔ سوچ سمجھ کر۔ یہ کوئی عام لوگ تو ہیں نہیں۔” آغا جان نے بُرا سا منہ بنایا۔ اب وہ تینوں بُری طرح ہوشیار ہوگئے۔ تینوں ایک ساتھ انسپکٹر جمشید کی طرف بڑھے۔ یہ دیکھ کر فرزانہ پریشان ہوگئی۔ ۔”ابّا جان، ہم آپ کے لیے کیا کریں، کچھ بھی تو نہیں کر سکتے۔” اس نے گلوگیر آواز میں کہا۔ ۔”تمہارا خیال غلط ہے فرزانہ۔۔ تم تینوں بہت کچھ کر سکتے ہو۔” انسپکٹر جمشید مسکرائے۔۔ ان حالات میں بھی وہ انتہائی پرسکون انداز میں مسکرا سکتے تھے۔ یہ دیکھ کر ان کی بہت ڈھارس بندھی۔ ۔”جی کیا فرمایا، ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں، تو پھر جلدی بتائیے نا۔” فاروق نے حیران ہوکر کہا۔ ۔”تم تینوں خدا سے دعا کرو، میں ان کا مقابلہ کرتا ہوں۔”۔ ۔”اوہ ہاں، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔” محمود نےکہا اور تینوں دل ہی دل میں دعا کرنے لگے۔۔ اب ان کی نظریں ان تینوں اور اپنے والد پر جمی تھیں، کیونکہ خود ان پر حملہ نہیں ہورہا تھا۔ آغا جان، شاکی اور کابوس نے ایک ساتھ انسپکٹر جمشید پر حملہ کیا۔ دو سلاخیں اور ٹوٹے منہ کی ایک بوتل ان کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے اپنے چاقو والے ہاتھ کو لہرایا اور تلوار کے انداز میں گھمایا۔ کابوس کی سلاخ ان کے کندھے پر، آغا جان کی سلاخ ان کی کلائی پر پڑی۔ شاکی کی بوتل ان کے منہ کا رخ کررہی تھی اور انہیں خطرہ بھی اسی سے زیادہ تھا، لٰہذا چاقو بوتل سے ٹکرایا۔ اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ اس حملے میں اگرچہ انہیں دو ضربات آئی تھیں؛ تاہم انہوں نے دشمنوں میں سے ایک کے ہتھیار کو بے کار کردیا تھا۔ ۔”اب، اب میں کیا کروں آغاجان؟”۔ ۔”دوڑ کر جاؤ اور ریسٹ ہاؤس سے کوئی ہتھیار ڈھونڈ لاؤ۔ بلکہ ایک سے زاید ہتھیار مل جائیں تو سب اٹھا لاؤ۔”۔ ۔”بہت بہتر۔۔” اس نے کہا اور تیزی سے مڑا اور یہیں اس سے غلطی ہوئی۔ اس نے محمود، فاروق اور فرزانہ کی ٹانگوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ ایسے میں محمود کی ٹانگ چل گئی۔ وہ دھڑام سے گرا اور لڑھکنے لگا۔ اس نے رکنے کی پوری کوشش کی، لیکن لات کچھ اس طرح لگی تھی کہ رکنا ممکن نہ ہوا اور پھر اس کے حلق سے خوف کی زیادتی سے گھٹی گھٹی ایک چیخ نکل گئی۔۔ وہ سیدھا کھائی کی طرف جارہا تھا۔ آغا جان اور کابوس نے آنکھیں بند کرلیں۔ شاکی کی لرزتی چیخ دیر تک ان کے کانوں میں گونجتی چلی گئی۔ ۔”اف خدا، شاکی بھی گیا۔ ناٹی تین میں سے ناٹی دو مارے گئے۔ ناٹی ایک رہ گیا۔۔ لیکن، لیکن ناٹی ایک ان کے مغز پاش پاش کرکے رکھ دے گا۔” کابوس نے جھلّائے ہوئے لہجے میں کہا۔ چند سیکنڈ تک وہ بُت بنے کھڑے رہے۔ شاید خود کو اس نئے صدمے سے نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ آخر دونوں پھر انسپکٹر جمشید پر حملہ آور ہوئے۔ اس مرتبہ انہوں نے بھی سلاخوں کو تلوار کی طرح گھمانا شروع کردیا تھا۔ تیزی سے گھماتے ہوئے وہ ان کے نزدیک آگئے۔ ادھر وہ چاقو والے ہاتھ کو گھمارہے تھے۔ اچانک ایک سلاخ انسپکٹر جمشید کے سر پر پڑی۔ ان کے حلق سے ایک چیخ نکل گئی۔۔ چاقو والا ہاتھ ایک دم رک گیا اور نیچے گرتا چلا گیا۔ شاید وہ بےہوش ہوگئے تھے۔ ۔”وہ مارا۔۔ اب ہم ان لوگوں کے مقابلے میں کامیاب ہوگئے۔” کابوس چلّا اٹھا۔ ۔”بھول ہے تمہار، کیا تم سمجھتے ہو، ہم موم کے بنے ہوئے ہیں۔” فاروق نے کل کر کہا۔ ۔”ابھی بتاتے ہیں تمہیں۔” کابوس نے کہا اور دونوں ان پر لوہے کی سلاخوں سے حملہ آور ہوئے۔ آغا جان کی سلاخ محمود کے سر پر لگ کر اچٹ گئی اور کندھے پر پڑی۔ اسے تارے نظر آگئے۔ اگرچہ تارے پہلے ہی آسمان پر نکلے ہوئے تھے اور ان کی اس ہولناک لڑائی پلکیں جھپک جھپک کر دیکھ رہے تھے۔ ادھر کابوس کی سلاخ نے فاروق کے منہ پر نشانہ جمایا اور اس کے منہ سے سرخ سرخ خون بہہ نکلا۔ دونوں نے ایک بار پھر سلاخیں اوپر اٹھائیں اور دے ماریں۔ اس وقت تک محمود اور فاروق سنبھل چکے تھے۔ انہوں نے بلا کی پھرتی سے ہاتھ اٹھائے اور سلاخیں درمیان میں ہی روک لیں اور انہیں مظبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ دیکھ کر فرزانہ نے بھی پہلو بدلا اور فاروق کے ہاتھ کے قریب ہی سلاخ پر اپنا ہاتھ جما دیا۔ اب سلاخوں کے لیے زور آزمائی ہونے لگی۔ آغا جان اور کابوس کی کوشش تھی کہ سلاخیں کسی طرح وہ چھین لیں۔ فاروق اور فرزانہ کا پلّہ کچھ بھاری نظر آرہا تھا، کیونکہ وہ دو ہوگئے تھے۔ محمود البتہ کمزور پڑ رہا تھا؛ چنانچہ اس نے پہلے والا داؤ آزمایا، یک دم سلاخ کو چھوڑ دیا۔ آغا جان اپنے زور بازو میں پیچھے کی طرف گرا اور سنبھل نہ سکا۔۔ لڑھکتا ہوا تیزی سے نیچے کی طرف چلا۔ لڑھکتے لڑھتے اس نے چلّا کر کہا۔ ۔”کابوس، مجھے بچاؤ، میں گیا۔”۔ کابوس نے ایک لمحے کو مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور اسی لمحے فاروق اور فرزانہ نے زور دار جھٹکا مارا۔ سلاخ کابوس کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں آگئی۔ کابوس بدحواس ہوگیا اور آغا جان کی طرف بھاگا، کیونکہ اب اسے بچا کر ہی وہ ان کے خلاف کچھ کرسکتا تھا، لیکن یہ اندھا دھند بھاگنا ہی اے لے بیٹھا۔ اسی لمحے انسپکٹر جمشید کا دایاں ہاتھ حرکت میں آیا تھا اور چاقو کابوس کی پسلیوں کو کاٹتا چلا گیا۔۔ ان کے بے ہوش ہوتے وقت کسی کو ان سے چاقو چھین لینے کا خیال نہیں آیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے دیکھا، محمود، فاروق اور فرزانہ لوہے کی سلاخوں کے لیے زور آزمائی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے، آغا جان لڑھکتا نظر آیا۔۔ اور پھر کابوس اس کی مدد کے لیے بڑھا ہی تھا کہ وہ حرکت میں آگئے۔ آغان جان نے لڑھکتے لڑھکتے ایک جھاری پکڑ لی۔ اب اس کا دھڑ نیچے لٹک رہا تھا۔ ہزاروں فٹ گہری کھائی کے اوپر ایک ہاتھ جھاری پر تھا، اور دوسرا ہاتھ فضا میں لہرا رہا تھا۔ ۔”بب، بچاؤ، مجھے بچاؤ۔” آغا جان خوف اور دہشت سے بری طرح چلّا رہا تھا۔ ۔”اب ہم تمہیں کیسے بچائیں۔۔ اپنی جگہ سے اٹھ نہیں سکتے اور یہ تمہاری گیس کی وجہ سے ہی ہے؛ گویا تمہارا کھودا ہوا گڑھا خود تمہارے لیے ہی مصیبت بن گیا ہے۔۔ اس وقت اگر ہم چلنے پھرنے کے قابل ہوتے تو تمہیں کھائی میں گرنے سے ضرور بچا تے۔۔ بعد میں ضرور قانون کے حوالے کردیتے۔ قانون تمہیں جو سزا چاہتا، دیتا۔ لیکن افسوس ہم تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔”۔ آغا جان کے منہ سے خوف زدو آوازیں نکلنے لگیں۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے بھی جھاڑیاں پکڑنے کی کوشش شروع کردی۔ بڑی مشکل سے وہ دوسرا ہاتھ جھاڑی تک پہنچانے میں کامیاب ہوا اور پھر وہ ہاتھ بھی مضبوطی سے پکڑ چکا تھا۔ وہ چاروں اس کی جدوجہد کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ چند لمحے تک وہ اسی پوزیشن میں سانس لیتا رہا، پھر ہاتھوں کے بل اوپر اٹھنے لگا۔۔ ایسے میں فاروق بولا۔ ۔”مسٹر آغاجان، تمہارے لیے ہر طرف موت ہے۔۔ اگر تم اوپر چڑھ بھی آئے، تو دہ لوہے کی سلاخیں اور ایک چاقو تمہارے استقبال کے لیے تیار ہوگا اور اگر کسی طرح ہماری زد سے بچتے ہوئے یہاں سے نکل بھی جاؤ، تو بھی قانون کے لمبے ہاتھ تم تک ضرور پہنچ جائیں گے، لٰہذا میرا نیک مشورہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ جھاڑی پر سے ہٹالو۔” فاروق نے بلند آواز میں کہا۔ آغا جان نے اس کے جملے کی طرف توجہ نہ دی۔ ایسے میں وہ توجہ دیتا بھی کیسے، اس کا نصف دھڑ اوپر اٹھ چکا تھا کہ اچانک جھاڑی نے جڑیں چھوڑ دیں۔ آغا جان آہستہ آہستہ نیچے جانے لگا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کم چہروں پر خوف کا ایسا عالم دیکھا ہوگا اور پھر جھاڑی بالکل اکھڑ گئی۔ آغا جان کی آخری چیخ دیر تک پہاڑوں میں گونجتی رہی۔ اور پھر سناٹا چھا گیا، موت کا سناٹا۔ ......... اتنی مشکل لڑائی انہوں نے بہت کم موقعوں پر لڑی ہوگی۔ کئی منٹ تک وہ ساکت پڑے رہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر ان کے آس پاس کوئی اور انسان نہ تھا۔ ان کے اوپر آسمان تھااور آسمان پر چاند روشن تھا، تارے کھلے تھے۔ ایسے ہی وہ اس کائنات اور کائنات کے بنانے والے پر غور کرتے رہے۔ آخر انسپکٹر جمشید نے پُرسکون آواز میں کہا۔ ۔”اب ہمیں کسی نہ کسی طرح اس عمارت تک پہنچنا ہے۔ وہاں پہنچ کر ہی ہم کسی قابل ہوسکیں گے۔”۔ ۔”لیکن سوال تو یہ ہے کہ ہم وہاں تک جائیں کیسے؟ چلنا پھرنا تو درکنار، ہم تو اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کرسکتے، بس ہاتھ اور پیر ہلا سکتے ہیں۔”۔ ۔”میری حالت تم لوگوں سے نسبت بہتر ہے۔ کیونکہ گرا تو بےشک تم سے پہلے تھا، لیکن گرتے ہی میں نے سانس روک لیا تھا۔۔ اور جب تک ممکن ہوا، میں سانس روکے رہا۔۔ آخر مجھے بھی سانس لینا پڑا۔۔ اس طرح اس گیس کا اثر میرے جسم میں تم سے کم ہوا، لٰہذا میں کم از کم رینگ ضرور سکتا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں، تم بھی میرے ساتھ رینگنے کی کوشش کر دیکھو۔” انہوں نے کہا۔ ۔”بہت بہتر۔ ہم کوشش ضرور کریں گے۔”محمود نے کہا اور تینوں نے سینے کے بل کروٹ لینے کی کوشش شروع کردی، لیکن ان سے تو یہ بھی نہ ہوسکا، جب کہ انسپکٹر جمشید پہلی کوشش میں الٹے لیٹ چکے تھے۔ ۔”نہیں ابّا جان، کم از کم مجھ سے تو الٹا لیٹا نہیں جارہا۔ اور جب تک الٹا نہ لیٹ جاؤں، رینگ کیسے سکتا ہوں۔”۔ ۔”میرا بھی یہی حال ہے۔” فاروق نے کہا۔ ۔”اور میں تو خود کو بالکل ہی گیا گزرا محسوس کررہی ہوں۔”۔ ۔”اچھا تو پھر، یوں کرو کہ تم میں سے ایک میری کمر پر سوار ہوجائے۔ چاہے چت ہی لیٹ جائے، میں رینگ کر عمارت تک پہنچ جاؤں گا، پھر واپس آکر دوسرے کو اور اس کے بعد تیسرے کو لے جاؤں گا۔”۔ ۔”کیا۔۔۔۔۔ کیا ہم آپ کی کمر پر چڑھ سکیں گے اور پھر اس طرح آپ کو تین چکر لگانا پڑیں گے۔ جو ان حالات میں مشکل کام ہوگا۔”۔ ۔”کچھ بھی ہو، یہ تو کرنا ہی ہوگا۔”۔ ۔”تب پھر میں یہ کوشش کر دیکھتا ہوں۔” محمود نے کہا۔ کیونکہ وہ انسپکٹر جمشید کے بالکل ساتھ تھا۔ محمود نے ہاتھوں کی مدد سے ان پر سوار ہونے کی کوشش شروع کردی۔ انسپکٹر جمشید نے بھی اپنے ہاتھوں سے اس کی بھر پور مدد کی اور آخر وہ ان کی کمر پر چت لیٹنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ ۔”اچھا بھئی، خدا حافظ۔۔۔ امید ہے کہ میں دس بارہ منٹ تک لوٹ آؤں گا۔” انسپکٹر جمشید نے فاروق اور فرزانہ سے کہا۔ ۔”خدا حافظ، ابّا جان اور محمود۔”۔ ۔”خدا حافظ۔” محمود کے منہ سے نکلا اور انسپکٹر جمشید عمارت کی طرف رینگنے لگے۔ عمارت زیادہ دور نہیں تھی، لیکن اس طرح سفر کرنے کے لیے اتنی نزدیک بھی نہیں تھی۔ تقریباً دس منٹ کی مسلسل کوشش کے بعد وہ عمارت تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکے۔ محمود کو دروازے کے اندر الٹنے کے بعد وہ واپس مڑے اور اسی سمت میں چل پڑے، جہاں ان دونوں کو چھوڑ آئے تھے۔ اس مرتبہ وہ فرزانہ کو اٹھا لائےاور اسی طرح فاروق بھی عمارت تک پہنچ گیا۔ ۔”اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں، کیا کرسکتے ہیں۔ عمارت میں کوئی فون تو نظر آتا نہیں۔۔ وائرلیس نما وہ چیز بھی الماری میں ہے، جس پر نمبروں والا تالا لگا ہوا ہے۔۔ اول تو تالا کھولنا ہی ہمارے لیے بہت مشکل ہے،کسی طرح کھول بھی لیں، تو بھی وہ آلہ ہمارے کسی کام نہیں آسکے گا۔۔ کریں تو کیا کریں۔” انسپکٹر جمشید کے لہجے سے تھکن کے آثار ظاہر تھے۔ ۔”ابّا جان، آغاجان کہہ رہا تھا کہ اس عمارت میں ان کے کچھ مہمان آتے رہتے ہیں، یعنی قیدی۔۔۔۔” فرزانہ نے کچھ سوچ کرکہا۔ ۔”تو پھر کیا ہم کسی مہمان کی آمد کا انتظار کریں۔” فاروق نے جل بھن کر کہا۔ ۔”نہیں، میرا مطلب ہے۔۔ کیا ان کے مہمان اسی حالت میں یہاں تک آتے ہوں گے، یعنی اس گیس کے زیرِ اثر۔۔۔ اس صورت میں یہاں اس گیس کا توڑ بھی ضرور موجود ہوگا۔”۔ ۔”بہت اچھا خیال ہے۔” انسپکٹر جمشید خوش ہوکر بولے۔ ۔”سارے اچھے خیال اسی نے تو ہتھیا رکھے ہیں۔” فاروق نے منہ بنایا۔ انسپکٹر جمشید اب رینگ رینگ کر عمارت کے مختلف حصوں میں جانے لگے۔۔ وہ بے بسی کے عالم میں دروازے کے قریب ہی پڑے رہ گئے۔ آخر تقریباً دو گھنٹے بعد ان کی واپسی ہوئی۔ ان کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی۔۔ بوتل بظاہر خالی نظر آتی تھی، لیکن اس کے منہ پر کارک بہت مضبوطی سے لگایا گیا تھا۔ ۔”ایک الماری کے درمیان والے خانے تک تک آدھے دھڑ سے اٹھنا میرے لیے قیامت ثابت ہوا ہے، لیکن میں نے یہ معرکہ سر کر ہی ڈالا۔ اب یا تو اس بوتل میں اس گیس کی توڑ گیس موجود ہے، یا پھر یہ وہی خطرناک گیس ہے، جس نے ہمیں اس حالت کو پہنچا دیا، لٰہذا دونوں ہی باتیں ہوسکتی ہیں، یا تو ہم بالکل ٹھیک ہوجائیں گے، یا پہلے سے بھی گئے گزرے ہوجائیں گے۔ بولو، کیا خیال ہے؟”۔ ۔”اس صورت میں ہم چاروں کو اس گیس کا تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔ لائیے، پہلے صرف میں اس گیس کو سونگھوں گا۔” محمود نے تجویز پیش کی۔ ۔”لیکن ایسا کرنے کے لیے تمہیں یہاں سے دُور ہٹ جانا چاہیے۔۔ آؤ میں تمہیں دوسرے کمرے میں پہنچا دوں۔” انہوں نے کہا۔ ۔”ہاں، یہ بھی ٹھیک رہے گا۔”۔ انہوں نے محمود کو پھر کمر پر سوار کیا اور اسے دوسرے کمرے تک لے گئے۔ بوتل اس کے حوالے کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”کارک بہت احتیاط سے اور تھوڑا سا اٹھانا اور خود کو بے ہوش ہوتا محسوس کرو تو اسے فوراً کس دینا۔”۔ ۔”آپ فکر نہ کریں۔” محمود بولا اور انسپکٹر جمشید وہاں سے رینگ کر پھر ان کے پاس آگئے۔ پانچ منٹ بعد کھٹکا سا ہوا۔ انہوں نے فوراً نظریں اٹھائیں اور یہ دیکھ کر ان کے مردہ تنوں میں جیسے جان پڑگئی۔ محمود اس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ بوتل اس کے ہاتھ میں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے کارک ہٹادیا اور پھر ایک سیکنڈ بعد ہی دوبارہ لگادیا۔ ۔”بس اتنی ہی گیس آپ کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی ہوگی۔”۔ تین منٹ بعد ہی انہوں نے اپنے جسموں میں زندگی کی لہر دوڑتے محسوس کی۔۔ وہ اٹھ کھڑے ہوگئے، پھر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عین اسی وقت الماری سے وہی آواز آئی جو پہلے بھی آتی سن چکے تھے۔ ....... وہ پریشان ہوگئے۔ الماری پر نمبروں والا تالا لگا ہوا تھا۔ انسپکٹر جمشید اس تالے پر جٹ گئے اور آدھ منٹ کی مسلسل کوشش کے بعد تالا کھولنے میں کامیاب ہوگئے۔۔ آواز بدستور آرہی تھی۔ انہوں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔”اب میں ایک چال چلوں گا، خاموش رہنا۔”۔ یہ کہہ کر انہوں نے آلے کا وہ بٹن دبادیا، پھر ساتھ ہی اپنی آواز میں بولے۔ ۔”خبردار آغاجان، آلے کا بٹن نہ دبانا، تم اس وقت میرے پستول کی زد میں ہو۔”۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی انہوں نے بٹن اوپر کردیا اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔”اب باس کو بھی یہاں آنا پڑے گا اور ہم اسے تلاش کرنے کی زحمت سے بچ جائیں گے۔”۔ ۔”بہت خوب، ابّا جان یہ بھی تو ہوسکتا ہے، وہ بہت سے آدمیوں کو لے کر آجائے، یا صرف اپنے آدمیوں کو بھیج دے اور خود آئے ہی نہ۔” فرزانہ نے پریشان ہوکر کہا۔ ۔”اب جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا۔ یہاں سے نکلنے کا راستہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے۔” انہوں نے کہا۔ اور وہ انتظار کرنے لگے۔ آدھ گھنٹے بعد کہیں جا کر انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کائی اندر داخل ہوا ہے۔ آخر باس اندر داخل ہوتا نظر آیا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں پستول تھا۔ انہوں نے کافی دیر پہلے ہی ایسی جگہوں پر پوزیشن لے لی تھی کہ کہیں سے بھی نظر نہیں آسکتے تھے، لٰہذا باس نے اندر داخل ہوکر جب کمرے کو خالی دیکھا تو اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوگئے۔ الماری کے پٹ ابھی تک کھلے تھے۔ پہلے وہ الماری تک گیا، پھر مڑا۔ کمرے کا بغور جائزہ لیا اور پھر دوسرے کمرے میں داخل ہوگیا۔ اس طرح وہ ایک ایک کمرہ دیکھتا پھرا۔ آخر واپس اسی کمرے میں آیا۔انہوں نے اسے بڑبڑاتے سنا۔ ۔”شاید انسپکٹر جمشید آغا جان وغیرہ کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اب مجھے بھی یہاں سے چل دینا چاہیے۔ پولیس یہاں آتی ہی ہوگی۔”۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی وہ واپس مڑا اور عمارت سے باہر نکل گیا۔ اب اس نے ایک چکر کاٹا اور عمارت کی پشت پر آیا۔ پستول جیب میں رکھا اور دیوار میں لگا ایک بٹن دبا دیا۔ فوراً ہی ایک دروازہ نمودار ہوا پتھریلی سیڑھیاں نظر آنے لگیں۔ باس نے قدم اٹھایا ہی تھا کہ انسپکٹر جمشید بول اٹھے۔ ۔”بیگم عابد خاقانی، ہم یہاں ہیں۔۔ آپ ہماری تلاش میں ہی پریشان ہورہی ہیں نا۔”۔ بیگم خاقانی چونک کر مڑی۔۔ محمود، فاروق اور فرزانہ نے بھی اس کا نام سن کر حیرت زدہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔۔ بیگم خاقانی کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا ہی تھا کہ انسپکٹر جمشید بول اٹھے۔ ۔”پستول نکالنے کی تکلیف نہ کیجیے، میرے ہاتھ میں جو چاقو ہے۔ اس سے پہلے پہ آپ تک پہنچ جائے گا اور پھر آپ کا ہاتھ اس قابل نہیں رہ جائے گا کہ جیب کا رخ بھی کرسکے۔”۔ اس نے ایک نظر چاقو کو دیکھا۔۔ چہرے پر مذاق کے آثار نمودار ہوئے اور ہاتھ جیب کی طرف چلا۔ یہ دیکھ کر انسپکٹر جمشید بولے۔ ۔”اچھا تو پھر جیسے آپ کی مرضی۔۔” یہ کہتے ہی انہوں نے چاقو کھینچ کر مارا۔۔ وہ اس کے ہاتھ کی پشت پر لگا۔۔ منہ سے ایک دلدوز چیخ نکل گئی۔ ۔”محمود، اس کی جیب سے پستول تم نکال لو۔ یہ تو اب نکالنے سے رہی۔” وہ شوخ لہجے میں بولے۔ محمود تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ ۔”لل، لیکن ابّا جان، یہ یعنی کہ اس گروہ کی سرغنہ۔” فرزانہ ہکلائی۔ ۔”ہاں، یہ غیر ملکی جاسوس ہے، بلکہ ہمارے ملک میں غیر ملکی جاسوسوں کی سرغنہ ہے۔۔ ادھر ادھر پھیلے ہوئے جاسوس اس سے احکامات وصول کرتے ہیں، ادھر اسے منشیات کے پھیلاؤ کا کام بھی سونپا ہوا ہے۔ منشیات یہ آغا جان اور ناٹی تین کے ذریعے پورے ملک میں پھیلا رہی تھی۔ مال دریا کے راستے آتا ہے اور سیدھا اس تہہ خانے میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ کام راتوں رات ہوتا ہے۔ اس کے ملک نے اسے حکم دیا کہ اپنے شوہر کے ذریعے کوئی اہم ترین فائل اڑا کر بھیجے؛ چنانچہ اس نے شوہر کو حکم دیا۔وہ تھا تو اس کا شوہر، مگر جاسوسوں کی سرغنہ ہونے کے ناطے وہ اس کا ایک ادنٰی ماتحت بھی تھا۔ لیکن بزدل آدمی تھا، اسے حکم ماننا پڑا۔۔ فائل چرائی گئی۔ چرانے کے بعد اسے فرقان کریم کو دیا گیا، تاکہ وہ بحفاظت اسے دشمن ملک تک پہنچا دے۔۔ وہ بھی اسی گروہ کا رکن تھا؛ چنانچہ اس نے فائل ادھر پہنچا دی، لیکن جب فائل لوٹ آئی، تو آئی جی صاحب نے میٹنگ طلب کرلی۔۔ اس کے ایک روز پہلے ہی ان لوگون کو یہ اطلاع بھیج دی گئی تھی کہ انہوں نے جو فائل اڑا کر بھیجی تھی، وہ واپس پہنچ گئی ہے۔ یہ ہوشیار ہوگئے۔ انہیں فرقان کریم پر شک گزرا۔ انہوں نے اسے بلوا لیا اور اسی عمارت میں قید کردیا۔۔یہ عمارت ایسے ہی کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔۔ قیدیوں کو یہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ ہم بھی راستہ تلاش نہیں کرسکے اور پھر فائل کے بارے میں پوچھ گچھ کے دوران فرقان کریم مارا گیا۔ شاید یہ اسے ڈرا رہے تھے، لیکن گولی چل گئی یا جان بوجھ کر چلادی گئی، پھر لاش گیلانی شاہ اور جیلانی شاہ کے حوالے کردی گئی۔۔۔ ان کے ذمّے یہ کام تھا کہ لاش کو غائب کردیں۔وہ ایک ہی لالچی آدمی تھے۔ انہوں نے لاش کے چہرے پر پہلے بوگڑ ڈاکو کا میک اپ کیا اور پھر اس میک اپ پر ایک اور میک اپ کردیا۔ ۔۔ فرقان کریم کو دو گولیاں ماری گئی تھیں، لٰہذا انہوں نے دونوں پستول لاش کے پاس اور نیچے ڈال دیے اور پولیس کو فون کردیا، تاکہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ چوکھا آئے۔۔۔ لاش سے بھی چھٹکارا مل جائے اور انعام بھی مل جائے۔۔ پولیس ان کے چکر میں آجاتی، لیکن درمیان میں ٹپک پڑا میں۔۔ اور اس طرح یہ بات معلوم ہوئی کہ لاش دراصل بوگڑ ڈاکو کی نہیں، فرقان کریم کی ہے۔۔ اس کی تصدیق اس کی بیگم نے کردی۔ ادھر جب ہم گیلانی شاہ اور جیلانی شاہ کے ہاں گئے تو یہ محترمہ ان دونوں کو بھی ہلاک کرچکی تھیں، تاکہ یہ خود کسی طرح نہ پکڑے جائیں۔۔ ان تک کسی کا خیال نہ پہنچ سکے۔ گیلانی شاہ اور جیلانی شاہ ضرور اس کی شخصیت سے واقف تھے، اس لیے مارے گئے، لیکن ہوا یہ کہ ہمیں ان کی لاشوں کے پاس سے موتیے کا ایک مصنوعی پھول مل گیا اور انہی پھولوں کا ہار اس وقت اس محترمہ کے گلے میں جھول رہا ہے۔ شاید وہ پھول اسی ہار سے نکل کر گرگیا تھا۔۔ انہوں نے یا تو اسے دیکھا نہیں یا کوئی توجہ نہ دی ہوگی، لیکن نہیں، اگر دیکھ لیا ہوتا تو توجہ ضرور دیتیں، کیونکہ آخر یہ غیر ملکی جاسوسوں کی سردار ہے۔ اتنی غیر ذمے دار تو نہیں ہوسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موتیے کے مصنوعی پھولوں کا یہ ہار بہت خوب صورت ہے اور موتیے کے پھول شاید اسے بہت پسند ہیں، لیکن اب اس بے چاری کو یہ کیا معلوم تھاکہ اس کی یہ پسند ہی اس کے لیے پھانسی کا پھندا بن جائے گی۔ اس بار گویا ہم نے لمبا ہاتھ مارا ہے۔ ایک تو غیر ملکی جاسوس پکڑے اور دوسرے منشیات کا بہت ذخیرہ، جس سے ہمارے ملک کے لاکھوں نوجوان غلط راستوں پر چل نکلتے۔ چلو اب ان محترمہ کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ دو اور ان کا پستول میرے حوالے کردو، تاکہ اگر یہ بھاگنے کی بے کار کوشش کریں بھی تو گولی ان کی کمر میں لگے۔۔۔۔ ابھی ہمیں ان کی مدد سے بے شمار لوگوں کو گرفتار کرنا ہے۔”۔ ان کا حکم سُن کر محمود اور فاروق آگے بڑھے۔ بیگم خاقانی زخمی ہاتھ کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھی، اس لیے انہیں کوئی دقت نہ ہوئی۔ ۔”لیکن ابّا جان، جیلانی شاہ اور گیلانی شاہ کے مکان میں لاش کے آس پاس تو ہم نے خون بھی دیکھا تھا۔” فرزانہ نے سوال کیا۔ ۔”یہ کیا مشکل ہے، ایک دو مرغوں کا خون ڈال دیا ہوگا۔” وہ بولے۔ ۔”اوہ ہاں، ٹھیک تو ہے۔۔۔” اس نے کہا۔ تھوڑی دیر بعد مجرم کے ساتھ وہ پتھریلی سیڑھیاں اتر رہے تھے اور انہیں دیکھ دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ نہ جانے یہ سیڑھیاں کس نے اور کب بنوائی تھیں اور انہیں کس طرح نظر آ گئی تھیں۔ نہ صرف سیڑھیاں، بلکہ عمارت بھی۔ انہوں نے تو صرف اتنا کیا تھا کہ سیڑھیوں کو پوشیدہ کردیا تھا، کیونکہ نیچے بھی اسی طرح بٹن دبا کر ایک دروازہ کھولا گیا۔۔ انہوں نے دیکھا، وہ پہاڑی سڑک پر کھڑے تھے۔ باہر بھی ایک بٹن موجود تھا۔۔۔۔ جب انسپکٹر جمشید نے اسے دبایا تو پتھر کی دیوار سی نیچے گر گئی اور سیڑھیاں غائب ہوگئیں۔ سیڑھیاں موڑ در موڑ تھیں، ورنہ دروازہ بند ہونے کے بعد بھی سیڑھیاں اوپر جاتی نظر آسکتی تھیں۔۔ وہ اس کاریگری پر حیران رہ گئے۔ کسی بہت ہی بیترین انجینئر سے یہ کام لیا گیا تھا۔ وہ اسے لے کر سیدھے آئی جی صاحب کے پاس پہنچے۔ انہیں گہری نیند سے جگایا گیا، مگر انسپکٹر جمیشد کا نام سن کر ان کے چہرے سے ناگواری غائب ہوگئی۔۔ بیگم خاقانی کو وہ پہچانتے تھے، لٰہذا ان کے ساتھ انہیں دیکھ کر حیرت زدہ انداز میں بولے۔ ۔”جمشید، یہ انہیں تم کہاں لیے پھر رہے ہو؟”۔ ۔”انہی کو آپ کی خدمت میں پیش کرنے حاضر ہوا ہوں۔” یہ کہہ کر انہوں نے پوری تفصیل دہرا دی۔ آئی جی صاحب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اسی وقت گلشن ہوٹل پر چھاپا مارا گیا اور تہہ خانے کی منشیات قبضے میں لے لی گئیں۔ تہہ خانے کا دروازہ اندر سے جس بٹن سے کھلتا تھا، وہ بھی تلاش کرلیا گیا اور وہ دوسرا راستہ بھی جو تہہ خانے سے باہر نکلتا تھا۔ یہ راستہ دریا کے پاس جا نکلتا تھا؛ گویا اس طرح نہایت آسانی سے منشیات کی پیٹیاں آتی تھیں۔ ..... دوسرے دن کے اخبارات نے ہل چل مچادی۔ ان کے نام مبارک باد کے ٹیلی فونوں کی لائن لگ گئی۔ وہ مبارک باد کے جواب دے دے کر تھک گئے اور پھر مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔۔ آنے والوں میں خان رحمان اور پروفیسر داؤد سب سے پہلے تھے۔۔ ایسے میں فاروق نے بھوکھلا کر کہا۔ ۔”معلوم ہوتا ہے، ہمیں سارے سال کی مبارک بادوں کا سٹاک آج ہی جمع کرنا پڑے گا۔”۔ اس کے چہرے کے تاثرات اور جملے کی ادائیگی نے انہیں ہنسنے پر مجبور کردیا۔۔ اسی وقت مبارک باد دینے والوں کا ایک اور گروہ دروازے پر حملہ آور ہوا۔ |
|
|
|
| پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (14-11-10) |
![]() |
| Tags |
| پولیس, لوٹے, چین, نظر, ماں, معلوم, آج, آدمی, احتجاج, بھائی, بچپن, بچوں, تلاش, جواب, جلد, حل, حال, خوش, خدا, دوست, رشتے, سال, شہر, عالم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سب کو دعوت ھے | Haya 786 | عمومی بحث | 32 | 27-11-08 11:23 PM |
| دعوت | وجدان | قہقہے ہی قہقے | 0 | 12-03-08 11:19 AM |
| شادی کا دعوت نامہ | خرم شہزاد خرم | گپ شپ | 13 | 06-09-07 06:33 PM |