|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زینت ایک مختلف عورت تھی اور یہ صفت یا عیب پیدائشی تھا۔ یکسانیت ، ایک سے رات دن، ہر روز سونا جاگنا، ایک سی مشینی زندگی برتنے چلے جانا، یہ سب اس کے اندر کہیں خالی پن، وحشت اور بے چینی بھر دیتا۔ اس کا دم گھٹنے لگتا۔ اپنے ماحوہل سے نکل کر بھاگنے کی خواہش اس قدر شدید ہوجاتی کہ اس پر قابو پانا ناممکن سا لگنے لگتا۔
پہلے پہل تو گزارا ہوتا رہا۔ ہر وقت خود سے جنگ میں دن، ہفتے، مہینے یوں کٹ کٹ کر گرتے چلے جاتے گویا وہ ہری شاخیں تھیں اور وقت تیز دھار آری لیے اپنے کام میں لگا تھا، لیکن آخر زندگی کی دوپہر ڈھل گئی اور بے چاری زینت کبھی دوسروں سے تو کبھی اپنے آپ سے لڑتے لڑتے خرچ ہوتی چلی گئی جیسے صابن کی ٹکیہ گھلتی رہتی ہے۔ وہ یورپ آگئے، تھے، شروع جوانی میں! ےہیں بچے بڑے ہوئے اور پھر بچوں والے ہوگئے۔ سب کچھ کل کی بات لگتی تھی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لمحہ پھیل کر صدی کا روپ دھار لیتا ہے اور دہائی سکڑ کر، ’کل‘ کے نقطے میں چھپ جاتی ہے ۔ اب بھی ایسا ہی ہورہا تھا۔ کبھی تو زینت کو یوں لگتا کہ وہ سورہی ہے یا پھر مر چکی ہے۔ عالم خواب اور بیداری ایک سے ہوچلے تھے۔ ایک غیر مرئی قسم کا غبار نا گوار سی بو کے ساتھ ہر طرف پھیلتا چلا جاتا لیکن اچانک ہی اس خواب کے عالم میں بیداری اپنی آمد کا دھماکا کردیتی، گویا کوئی سویا ہو اور درندہ جاگ اٹھے اور اپنے وحشی سموں سے ہر لمحے کو روندنا شروع کردے۔ درد برچھی کی کاٹ بن کر اُبھرتا اور چاقو کی نوک کی طرح سے گودنے لگتا۔ سرجری کسی بھی طرح کی ہو، اذیت ناک اور صبر آزما ہی ہوتی ہے۔ زینت کا پتے کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کا پتا نکال دیا گیا تا۔ پیٹ پر لگے سترہ ٹانکے آکٹو پس بن کر پنجہ پھیلائے ہوئے تھے۔ اس پر مستزاد، ازلی دشمنی نباہنے والا معدہ پتے کے نکلتے ہی شیر بن بیٹھا اور سفا کی پر اُترآیا۔ پیچیدگی در پیچیدگی جگسا پزل جیسی تھی کہ حل ہو کر نہ دیتی تھی۔ اذیت سہنے اور تڑپتے رہنے کے سوا زندگی کا کوئی دوسرا مفہوم رہ ہی نہ گیا تھا۔ ”صبر کریں....“ ڈاکٹر کہتا۔ ”تحمل سے کام لو....“ اس کے رونے چلانے پر اس کا شوہر اسلم تلقین کرتا۔ ”ماما آپ تو بہت بہادر ہیں، ہمت رکھیں!“ اس کی دونوں بیٹیاں شبانہ اور رضوانہ سمجھانے لگتیں جو لندن سے ہر کام چھوڑ چھاڑ کر دو ہفتے سے جرمنی آئی بیٹھی تھیں۔ اس کا بیٹا شہزاد اور بہو سمیعہ بھی تقریباً روز ہی اسے دیکھنے ہسپتال آیا کرتے۔ اور زینت روزانہ ہی اپنے اِرد گرد اِک تماشا سا لگا دیکھیت۔ آمد کے کچھ ہی دیر بعد ملاقاتی اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کا رونا رونے بیٹھ جاتے۔ بچوں کے ننھے بچے ضد کرتے اور رونے لگ جاتے۔ پنڈ ورابکس کھل کر اپنے سپرنگ اُچھالتے اور ان کے سروں پر لگے گیند جست لا کر ماحول کی چادر پر خود کار طریق سے پنگ پانگ کھیلنا شروع کردیتے جو سیدھے زینت کے سرپر بجتے۔ ”ڈنگ .... ڈانگ.... ڈز .... ڈنگ ڈانگ.... ٹھاہ....!“ وہ پوری کوشش سے آنکھیں میچ کر زبان دانتوں میں دبا لیتی۔ ”خدا کے لیے.... اب چلے جاﺅ یا اپنی بے سرو پاباتیں بند کردو۔ اور کچھ نہیں تو ان ننھے شیطانوں کو ہی چپ کرادو....“ لیکن وہ کچھ نہ کہہ پاتی اور اس کا سر پنڈولم بن جاتا۔ ڈنگ .... ڈانگ کے لٹو پر جھولتے جھولتے پھٹنے کو پہنچ جاتا۔ اپنے شوہر اسلم سے اس کے دلی یا جذباتی مراسم کبھی بھی استوار نہیں ہوسکے تھے۔ جسمانی رابطہ قائم ہوگیا تھا جس نے یہ تین گل کھلادیے۔ شہزادہ، شبانہ اور رضوانہ، پھر تینوں اپنے اپنے باغوں میں مہکتے چلے گئے۔ اسلم اور زینت کچھ اور بھی فاصلے پر جاپہنچے۔ تب زندگی اور بھی ویران اور بھی اجڑی ہوئی سی ہوگئی۔ خزاں غیر محسوس طریق پر ہولے ہولے وارد ہوتی ہے اور درخت کے پتے اپنی زندگی کھو دیتے ہیں۔ جامد سناٹے کے راج تلے سب سنسان ہوجاتا ہے۔ ےہی وہ دن تھے کہ زینت کی ملاقات اپنے بیٹے بہو کی”ویڈنگ اپنی ورسری“ میں شوفی سے ہوگئی جس کا پورا نام شگفتہ تھا۔ لیکن کٹھیانے اسے مختصر کرکے شوفی کر ڈالا تھا۔ کھٹیا اسی کے فلور پر تنہا رہتی تھی۔ دو جوان دل مگر ساٹھ سالہ بوڑھی عورتیں، اپنے اس ساتھ سے، اس دوستانے سے ، بالکل ہی نئی طرز کی زندگی جینے لگیں۔ آزاد مسرت سے متعارف شدہ دھڑکتی، سانس لیتی متحرک ہواﺅں میں عطر بیز جھونکا بن کر بہتی، تیرتی، زندگی زندگی.... اور عجیب اتفاق کہ اس جیتی ہوئی عورت کو تقریباً بے جان، جامد، ٹھنڈے شب و روز کے سرد خانے میں رکھی ہوئی زینت کی خاموشیوں سے ملوادیا۔ ”میرا پہلا شوہر پورا جانور تھا....“ اپنے پہلے تعارف میں شگفتہ عرف شوفی نے زینت عرف زونی کو بتایا تھا۔” یہ مرد، عورت کی شوریدہ سری کے موسموں کو کبھی جان نہیں پاتے اور جانیں بھی کیسے! ان کی اپنی جسمانی عمر ہمیشہ جوان رہتی ہے جب کہ عورت کی ایسی حیات طبعاً عمر رسیدہ نہیں ہوپاتی۔ وہ بہت پہلے جسم کے گرداب سے جست لگا کر باہر آجاتی ہے۔ دو بیٹے ہیں میرے۔ ایک میونخ میں ہے، دوسرا اٹلی میں، شوہر دونوں کے دونوںگلے سے اُتار پھینکے۔“ زینت بے دلی سے رسماً مسکرائی تو شوفی نے اسے گہری نظر سے دیکھا۔ ”تم زندگی سے ہار رہی ہو.... ہے نا.... جب کہ میرا خیال ہے کہ تم ہارنے والوں میں سے ہو نہیں....“ ” ہر ایک کو ہارنا تو ہوتا ہے۔ جلد یا بدیر۔“ زینت خلاﺅں میں دیکھنے لگی۔ ”پر یہ کوئی قاعدہ کلیہ تو نہیں۔ مجھے تم سے اختلاف ہے کیوں کہ بہر حال کہیں نہ کہیں” کچھ“ مختلف ضرور ہوا کرتا ہے۔ جیسی کہ تم ہو....“ شوفی سمجھ گئی تھی اور سمجھانا بھی چاہتی تھی۔“ تم مختلف ہو۔ اپنے اندر سے تمھیں اس کی خبر ہے کہ ہر ایک کا ہار مان لینا، تمھارا اصول نہیں بن سکا۔ زندگی کو موت کے کیومیں مت لگاﺅ۔ پتا ہے ہم چاروں نے اپنے اپنے فلیٹ کی ایک ایک چابی سب کو دے رکھی ہے....“ ”چاروں ....“ زینت اس کی باتوں میں نہ جانے کب دلچسپی لینے لگی تھی! ”ہاں .... میں .... گبریلا .... کھٹیا اور اوزانٹ.... ایک چابی ہاﺅس ماسٹر کو بھی دی ہوئی ہے تاکہ وہ ڈیڈ باڈی اٹھوانے کے لیے پولس کو کال کرسکے۔“ ”اچھا....“ زینت نے پہلی بار کچھ دلچسپی، کچھ حیرت سے اس عورت کو دیکھا جو بڑھاپے میں شگفتہ سے شوفی ہوگئی تھی۔ ”آپ اپنے بیٹوں میں سے کسی کے پاس.... میرا مطلب ہے وہ آپ کو ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں؟“ شگفتہ عجیب انداز سے مسکرائی۔ تحمل، گیان، انوکھا پن، بہت کچھ جان کر سب کچھ تیار دینے والا ٹھہراﺅ، پختگی ، اس مسکراہٹ میں سب کچھ تھا۔ زینت اسے گہری نظروں سے دیکھتی رہی۔ ”یہ آزادی میں نے بڑی مشکل سے اور بڑی عمر گزار کر حاصل کی ہے۔ بیٹوں کے ساتھ رہنے کا تو یہ مطلب ہے کہ میں پھر سے اس کا گلا گھونٹ دوں۔ میونخ والے نے بہت زور دیا تھا کہ ماما آپ میرے ساتھ رہیں۔ خود آپ اپنی بھانجی کو بہو بنا کر لائی ہیں۔ لیکن مجھے اچھی طرح سے علم ہے ، رشتے قیمت مانگتے ہیں۔ آزادی، مسرت اور خود مختاری کو مار دینے کی قیمت۔ جب کہ یہ ادائیگی میرے بس کی بات نہیں۔“ وہ ایک پل کو رُک کر بولی: ”اگر تم چاہو تو ہم چاروں کے ساتھ شامل ہوسکتی ہو۔ اس نئے طرز کی زندگی میں ، ہمارے لیے تم زونی ہو۔“ ”زونی....؟ “زینت نے تعجب سے اپنے کام اختصار یہ دہرایا۔ پھر آہ کی طرح اس کے لبوں نے بے ساختہ کہا: ”میرا تو اب کوئی نام ہیں نہیں۔ سچ پوچھو تو خود مجھے بھی بھول چکا ہے۔ کبھی کسی نے پکارا جو نہیں۔ میں تو اب نانو ہوں گرینی۔ آنٹی، تائی، خالہ .... اور تو اور میرے شوہر اسلم تک ےہی کہتے ہیں.... آپ کی مام، آپ کی گرینی، آپ کی تائی ماں.... بس ےہی کچھ ہے، جس میں زینت کہیں نہیں۔“ ”چہ .... چہ .... چہ “ شوفی نے بیزاری اور افسوس کے ملے جلے لہجے میں تبصرہ کیا۔ تم تو خود کو فنا کر فاتحہ بھی پڑھ چکی ہو۔“ چند نوجوان خواتین محفل سے اُٹھ کر اس کونے کی طرف چلی آئی تھیں۔ ان میں سے اکثر نے اپنی یا اپنے بچوں کی چیزوں کو اُدھر چھوڑتے ہوئے ”گرینی.... نانو.... آنٹی....“ یعنی زینت کو نگراں بنایا تھا۔ ہر جگہ، ہر تقریب یا محفل میں زینت کا مصرف رفتہ رفتہ ”لاکر“ کا سا ہو گیا تھا.... خاموش چوکیدار۔” شکریہ آنٹی“ وہ اپنی اپنی امانتیں وصول کرتی رہیں۔ تب شوفی نے خدا حافظ کہتے ہوئے اسے ایک کاغذ تھما دیا۔ ”یہ میرا اور کھٹیا کا مشترکہ ایڈریس ہے۔ کل ہم سٹی ہال میں ملیں گے چار بجے۔ گبریلا اور اوزانٹ بھی آئیں گی۔ تم وہاں آجاﺅ سب سے مل لینا۔ کافی ہاﺅس میں پہلے تو گپ بازی کریں گے پھر کسینو جائیں گے۔ جسٹ فار فن سیک۔ ہارنے، جیتنے کے لیے نہیں، صرف زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے!“ اور زینت کو خود پر اس وقت بہت حیرت ہوئی کہ جب وہ اک زمانے کے بعد قدرے اہتمام کے ساتھ لباس کا انتخاب کرکے تیار ہوئی۔ ”کہاں جارہی ہو؟“ اور اس قسم کے لڑکیوں والے لباس میں....؟“اسلم تعجب سے بڑھ کر طعنہ زنی کے ساتھ پوچھ رہا تھا۔ ”میرے جیسی ”ایک لڑکی“ کی سالگرہ ہے“ زینت نے جھوٹ بولا۔”وہ تنہا رہتی ہے اس لیے مردوں کو نہیں بلایا، کل ہی شہزادہ کے گھر ملاقات اور دوستی ہوئی تھی۔“ اسلم کچھ سمجھ نہ پایا اور زینت عرف زونی ان چار بوڑھی لڑکیوں میں جا پہنچی اور کھل اٹھی۔ زندگی زندہ ہوگئی۔ اچانک صندوق میں رکھے گئے پرانے دنوں کے البم کی طرح، پرانے دن بر آمد ہوئے اور اس کے دل میں ہنسنے گانے لگے۔ مسرت.... بھولی بسری، کبھی کی کھو چکی، گمشدہ مسرت کسی تاریک گپھا سے نکلی اور سینے میں ترل ترل گرتی، برسات کے بلبلوں میں شوخیوں سے قہقہے لگانے ، اچھلتے چلے جانے کی صورت پہلے پہل متعارف ہوئی وار پھر رفتہ رفتہ لہو میں بہنے لگی۔ کافی ہاﺅس میں آئس کافی پیتے وہ بچوں جیسی ہنسی ہنستیں۔ یونہی بلا وجہ پانچ بوڑھی بچیاں ایسی از خود رفتہ سی پائی جاتیں کہ دیکھنے والے کو آہستہ آہستہ شبہ ہونے لگتا کہ شاید وہ اتنی بوڑھی نہیں ہیں جیسا اس نے خیال کیا تھا۔ ”اسے دیکھو۔ وہ اُدھر کونے میں کھویا کھویا بیٹھا ہے.... قرمزی ہیٹ والا” ۔ اوزانٹ نے آنکھ سے اشارہ کیا۔”کبھی کبھی غور سے مجھے دیکھتا ہے۔ کیا کہتی ہو سگنل دے دوں؟“ ”ہشت“ شوفی ترنگ میں لہرائی۔ “ پہلے یہ تو جان لو کہ وہ کسے دیکھ رہا ہے.... تمھیں مجھے یا انھیں؟“ ”کسی کو بھی“ گبریلابے پروائی سے کہنے لگی۔ ”چند لمحوں کے لیے وقت کے آسمان پر نکلی قوسِ قزح آنکھوں کو بہت بھلی لگتی ہے۔ اس عمر کے ”لڑکے“ دور دور سے ناز برداری کے لیے بڑے مناسب رہتے ہیں، اس سے بڑھ کر نہ لینا، نہ دینا، بس رنگوں کی، روشنیوں کی اور ان میں مگن رہنے کی چھوٹی چھوٹی وجہیں تلاش کرنا ہیں، کچھ پل کے لیے سب بھول کر ملنااور بچھڑجانا....“ ” پھر کہیں اور ۔ پھر کس اور سے ....“ کھٹیا نے لقمہ دیا۔ زینت کے لیے یہ رخ بے حد حیران کن اور نیا تھا، خواب جیسا تھا! جاگتی آنکھوں کا خواب! وہاں سے اُٹھ کر وہ ونڈو شاپنگ پر نکل کھڑی ہوئیں۔ معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس ہنس کر، دُہرے سے ہوجانا.... کس قدر دلنشیں، کیسا خواب ناک طلسماتی، فسوں خیز اور پاگل بنادینے والا تھا ! زینت پاگل سی ہوگئی۔ رات گئے گھر لوٹنے وہ وہ تھکن سے بے حال تھی مگر اس تھکاوٹ میں مایوسی، دکھ یا آزردگی نہیں تھی۔ ایک چاہت بھرا دبا دبا سا ہیجان، اک غیر متعارف شدہ نئے پن کی بانکی ترنگ نس نس میں لہو کے ساتھ گاتی بہتی تھی۔ وہ تو یہ زندگی جان یہ پائی تھی.... کبھی نہیں.... دورِ شباب میں بھی نہیں۔ ہر طرف ہمیشہ بہت سی آنکھیں، کئی پیشانیاں نگراں رہتی تھیں.... منہ کھول کر ہنسنے سے جن پر بل پڑ جاتے.... آنکھوں میں تنبیہ کے مہیب سائے لہرانے لگتے۔ کتنے رشتے اور کتنے حصار، دائرے مطالبے، تاکیدیں ، حدود ، پابندیاں اور ان کے بچوں بیچ پھنسی ، گھٹی پھڑ پھڑاتی، سانس لینے کو تڑپ تڑپ جاتی چار روزہ زندگی! وہ دور گزارا، نہیں گزرا ہی تھا کہ اچانک قید و بندگی کے قواعد بدل گئے۔ نانو، گرینی، خالی ماں کا ہنسنا کھیلنا پہننا اور اوڑھنا عیب یا گالی تصور ہونے لگا۔ ”اب اللہ اللہ کیا کریں.... اس عمر میں تو بس ےہی رہ جاتا ہے.... نہ کھانے سے رغبت نہ پہننے کی چاہت!“ ”ہاں بھئی یہ تو عاقبت سنوارنے اور دعائیں دینے والے بزرگ ہیں.... ان کا اب کیا بھروسا۔“ قبر کھود کر اس میں اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالنے کا ماحول ہر شخص، ہر آن، تقریباً ہر عمر رسیدہ کے لیے بنائے رکھتا ہے۔ مردوں کا پھر بھی کسی حد تک زندگی کے جھمیلے میں حصہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن عورت کا تو بالکل ہی نہیں۔ زندگی اگر کھیل کا میدان ہے تو بڑھتی عمر اس میں داخلے کے دروازے بند کرتے کرتے پہلے تماشائیوں میں اور پھر وہاں سے بھی نکال کر خلاﺅں میں چھوڑ آتی ہے۔ بننا سنورنا، خوش ہونا یا خوش دکھنا قطعی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ خوشی کی دعائیں جن بوڑھوں کا فرض ٹھہرایا جاتا ہے ان میں خود ان کا کوئی رتی برابر حصہ نہیں۔ بوڑھی عورت اپنے لیے بھی بننے سنورنے کا حق نہیں رکھتی کہ اس کا بوڑھا شوہر سب سے پہلے اس ”خوبصورت تبدیلی“ پر ”پیش دستی“ کے بے باک مگر ضعیف ارادے ظاہر کرنے لگتا ہے جب کہ ایک عمر رسیدہ عورت ایسے چونچلوں سے دل گرفتہ یا بیزار ہونے کے علاوہ توانائی وہمت کا بھی فقدان لیے ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ بہتر دکھنا ترک کردیتی ہے۔ بیمار، مریل، خستہ حال، نیم جاں روز و شب ہی اس کی قسمت اور اس کی نجات ٹھہرتے ہیں کیوں کہ مرد تو مرد ہے، اسے جسم کے تاریک غار میں آخری سانس تک جینا ہے۔ بوڑھے مرد اور بھی ندیدے، ہوس زدہ حرص کے مارے اور چوبیس گھنٹے کے پیر تسمہ پا بنے ملتے ہیں۔ عورت ذہین ہو اور خوبصورت بھی ہو تو وہ جینا چاہتی ہے، مرنا نہیں چاہتی۔ موت سے پہلے تو بالکل نہیں ۔ وہ اپنے لیے نکھرتا، سنورنا اور مسرور ہونا چاہتی ہے جو ہونے نہیں دیا جاتا.... سب جو اس کے ارد گرد رہتے بستے ہیں، اس کے اپنے اس کے قریبی ہوتے ہیں۔ وہ سب اسے اس تصور میں قید کردینا چاہتے ہیں جو ان کے رشتے اس سے طلب کرتے ہیں۔ عمر رسیدہ بزرگوں کے لیے رشتوں نے رف خانے بنا رکھے ہیں، جہاں وہ شخصیت”فریز“ کرکے رشتہ ڈھال لیتے ہیں.... یا پھر مسکراتا روبوٹ.... سب سنبھالے رکھنے والا”لاکر“ ۔ وہاں شہزاد اور سمیعہ کی ویڈنگ اینی ورسری میں ”لاکر“ بنی زینت کو شوفی جیسی جادوگرنی نے پہچان لیا اور اسم سامری پھونک کر اک نئی زندگی عطا کردی .... وہ اُسے اس نوجوان طبقے کے مخصوص علاقے سے نکال کر باہر لان میں لے آئی۔ کچھ ہی دیر کے بعد دونوں عورتیں ہنستی مسکراتی پائی گئیں۔ پہلے پہل ڈرتے ڈرتے زینت گھر سے باہر مارکیٹس تک ان کے ساتھ چلی، پھر آگے بڑھ گئی۔ در اصل وہ فطری طور پر نہ تو روبوٹ تھی نہ ”لاکر“ یوں شہر ممنوعہ کے متعدد دروازے کھلنے لگے۔ کسینو، کافی ہاﺅس، سوانا باتھ اور کبھی کبھی دیر رات گئے بار روم بھی .... اندر سے جہانِ نو تھے.... الف لیلوی دنیائیںزینت کے تصور سے بڑھ کر دلنشیں، دلدار و دلنواز رنگینی لیے۔ اک اندر سبھا تھی جو مردے کو زندہ کرتی، سانسیں بخشتی۔ مرنے سے پہلے زینت کی، مرتے رہنے کی پریکٹس چھوٹ گئی۔ وہ جینے لگی۔ شوفی سڑک کے کنارے رُکی کھڑی حیات نو تھی جوانگلی تھام کر لے گئی۔ زینت دہری زندگی جینا سیکھ گئی۔ روتی بسورتی چپ چاپ جامد موت کے انتظار میں جاپ جپتی، اللہ اللہ کرتی، بے بس محتاج اک چیز جیسی زندگی اور قہقہے لگاتی، قدم قدم دھڑکتی، صرف مدھرتا سے آشنا مسکراتی زندگی۔ کیا جادو تھا جو دھیمے سروں میں راگ چھیڑ کر رگ رگ اور سانس سانس میں پھیل گیا۔ ”واﺅ.... و.... و....! شوفی آئس بیئر کے ایک گلاس ہی میں کھلتی ، مہکتی گلاب بننے لگتی تھی۔ ”زونی....!“ اس نے سرسراتی سرگوشی سے اسے پکارا.... ”اگر .... اگر تم ایک بار یہ تجربہ کرسکو ۔ افوہ ۔ ہ ....ہ! تو دنیا پھر ایسی نہیں ہوگی جیسے اب تم اُدھر سے دیکھ رہی ہو....“ شوفی نے انگلی زونی کی پشت پر گھمائی اور مزید گویا ہوئی: یہ اِدھر.... “ آئس بیئر کی ٹھنڈک اس کے گال کو چھو رہی تھی۔ ”ےہاں اس کے ساتھ صورتیں وہ نہیں ہرہتیں، ویسے چہرے، گلیاں، عمارتیں، روشنی نہیں، سب کچھ اور ہے، بجھی بجھی راکھ رو پہلی چاندنی جیسی کھلتی ، چمکتی افشاں بن کر پہلے آنکھ میں تو پھر دل میں بجھ جاتی .... سب بدل جاتا ہے .... سب .... لو .... چکھو.... سب بدل جائے گا....! ”نہیں....“ زونی نے انکار میں سر ہلایا۔ ”بیئر یا الکحل نہیں.... اس لیے نہیں کہ کوئی اخلاقی رکاوٹ یا کوئی پارسائی کا بندھن جکڑے ہوئے ہے۔ بس میرا معدہ ہی کم ظرف ہے۔ بچپن سے اس نے ہر لذت اور مزے کے ذائقے کو میری زندگی سے خارج کر ڈالا ہے۔ ہر اچھی شئے کا چٹخارہ حرام ہے مجھ پر اور اب تو خیر زندگی ہی چھینی جانے والی ہے۔“ ”نا.... ابھی نہیں....“ شوفی نے نیم و آنکھوں سے قدرے لہرا کر انگلی کو ہوا میں گھمایا.... ”ابھی نہیں.... آخری سانس تک نہیں....“ ”اس آخری سان ستک کہ جو تمھیں زندہ ہونے کا احساس دے سکتا ہے.... تب تک نہیں۔“ اوزانٹ نے سمجھا نے کے انداز میں بتایا۔ ہسپتال میں گزرے یہ تیس دن، اذیت کے تیس لمبے لمبے دلدلی غار تھے جہاں وہ دھنستی جارہی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ وہ بھیانک گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ رفتہ رفتہ سب بحال ہوتا چلا گیا۔ تین روز قبل اس کے ٹانکے کھل گئے تھے۔ ”آپ چاہیں تو اس ویک اینڈ پر یعنی کل بھی گھر جاسکتی ہیں۔ لیکن پھر منڈے کو آپ کو چیک اپ ہمارے بڑے سرجن سے نہیں ہوسکے گا کیوں کہ وہ آﺅٹ ڈور پیشنٹ نہیں دیکھتے۔“ صبح ہی معمول کے مطابق معائنے پر آنے والے ڈاکٹر نے اسے خوشخبری سنادی تھی۔ جاتے جاتے اس کے ہمراہ آنے والے چھوٹے ڈاکٹروں میں سے ایک نے مزید بتایا : ” آپ شام تک فیصلہ کرلیں کیوں کہ ہمیں ڈسچارج لیٹر بنانا ہوگا۔ ورنہ پھر منڈے کو بنے گا۔“ ”کل ہی ....؟“ زینت خوشی سے کھل اُٹھی۔ ” میں کل ہی چلی جاﺅں گی۔“ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جیل جیسے ہسپتال سے رہائی ملنے کا امکاں بنے اور اسے کوئی رد کردے ! شام کے وقت، اسلم کے ساتھ شہزاد، سمیعہ اور بیٹیوں کو بھی آنا تھا۔ ”میں ان کے آتے ہی انھیں یہ خبر سناﺅں گی۔“ زینت کی خوشی کسی مفرح ٹانک کی طرح رگوں میں دوڑتی ، توانائی فراہم کرتی تھی۔ لیکن وہ چاروں شام سے پہلے دو پہر ہی کو ااگئیں.... شوفی، کھٹیا، اوزانٹ اور گبریلا۔ زینت بالکل بچی سی دکھنے لگی۔ سب لفٹ سے نیچے لان پر آگئیں ۔ چاروں جانب پھولوں کا حاشیہ تھا اور ہوا، ان میں پرفیومری ورکس بنارہی تھی جو پہلے کبھی زونی نے نہ سونگھا تھا۔ ”پتا ہے ، مجھے کل ہی چھٹی مل سکتی ہے۔“ اس نے گرمائی تعطیلات شروع ہونے والے احساس کے ساتھ انھیں بتایا۔ ”کیا واقعی اسی ویک اینڈ پر؟“ چاروں مسرور ہوگئیں۔ پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ ”جانتی ہو؟“ شوفی نے لب کھولے۔“ آج کل سٹی فیسٹول چل رہا ہے۔ کل آخری ویک اینڈ ہے۔ ہم نے تمھیں پہلے اس لیے نہیں بتایا تھا کہ ہسپتال میں یہ سب سن کر تمھارا دل برا ہوگا۔“ ”مگر اب تو سب ساتھ چلیں گے ، بس تھوڑی دیر کے لیے جب تک تم چاہو گی۔“ کھٹیا نے کہا۔ ”کتنا مزہ آئے گا، ہے نا....“ گبریلانے سر ہلایا پھر شوفی سے کہنے لگی۔” بتا دیں!“ ”چلو بتادو.... مجھے پتا ہے ، تم سے اور رہا نہیں جائے گا۔“ اوزانٹ نے ہونٹ سکوڑے۔ تب شوفی بھی ترنگ میں آگئی اور ہولے ہولے بادِ نسیم کی سی سرگوشی میں سنانے لگی: ”جانتی ہو، اگلے مہینے ہم نے سب کے لیے دو ہفتے کا ٹور بک کروایاہے ترکی کا.... تمھاری صحت یابی پر سرپرائز گفٹ ۔“ جملے کے اختتام تک پانچویں اس پُر اسرار فسوں کی لپیٹ میں جاچکی تھیں جو کسی میجک شو میں ہر ننھے بچے کے دل میں اپنی جگہ بنالیتا ہے اور وہ کامل از خود ر فتگی کے عالم میں ان دیکھے جزیروں کے ساحلوں پر بیٹھا جادو گر کے خالی ہیٹ کو تکتا رہتا ہے۔ پل بھر کے بعد جہاں خرگوشوں کا جوڑا، پھڑکتا، کبوتر ، کھلتا گلاب کچھ بھی، کچھ بھی، اچانک نکل آئے گا اور ششدر کردے گا۔ ”ہم ساحل سمندر پر ریت کے گھر بنائیںگے۔“ سب سے پہلے کھٹیا نے اپنا جاگتا خواب ان کے آگے کھولا....”صبح کا سورج پانی سے اُگتا دیکھیں گے۔“ ”اور پھر اُٹھ کر اپنے اپنے راستوں کو چل دیں گے۔“ سب ہنسنے لگیں ، خواب بننے لگیں.... کیف و مستی میں ڈوبے دلنشیں مگر بے ضرر خواب ، بونس لمحوں کے بونس خواب۔ ”بس تم کل گھر آجاﺅ! پھر سٹی فیسٹول چلتی ہیں۔ اسے بھی انجوائے کریں گے اور اگلا پروگرام بھی وہیں پر بنالیں گے۔“ ”گڈ....“ گبریلا اُٹھ کھڑی ہوئی....”تم بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہوگی، چلو واپس کمرے میں چلتے ہیں۔“ چاروں اُسے چھوڑ کر رخصت ہونے لگیں تو شوفی کو کچھ یاد آگیا: ”زونی....“ وہ مُڑی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔“ تمھارے سارے لباس میں نے ڈرائی کلین کے لیے دے دےے تھے۔ کل کے لیے ارجنٹ کون سا والا نکلوالوں.... گلابی نا! بڑے گھیرے والا سکرٹ۔“ ”ہو ں .... ں....“ زونی نے کچھ کھسیانی ، کچھ خوشی ملی مسکراہٹ سے اثبات میں سُر کو جنبش دی۔ ”دیکھا .... مجھے پتا تھا....!“ شگفتہ نے بزرگوں کے انداز میں اس کے سر پر نرم تھپکی دی اور وہ چلی گئیں۔ شام کو اس کے بچے اور شوہر بھی ااگئے۔ بیٹا ایک خود کار روبوٹ کے مانند اپنی ذمے داری نباہنے اس کی طرف کم اور بیوی بچوں کی طرف زیادہ متوجہ .... سمیعہ اس کی بہو، نک سُک سے لدی پھندی، شباب و زندگی کے سارے لوازمات پر اپنا مکمل حق رکھتی ہوئی، اتراہٹ سے بھری.... جو اسے ہر آن”اجازت“ کا سرٹیفیکٹ عطا کرتے تھے۔ اسلم، وہی مشرقی روایتی شوہر، گھر میں تھکا ہارا بیزار اُکتا یا ہوا جو بیوی کے لیے غصہ اور دوستوں کے لیے ہنسی مذاق ، لطیفے، خوش گپیاں ، گفتگو اور دلچسپیاں رکھتے ہیں۔ ایک بار سرسری سا حال پوچھ کر الگ تھلگ جا بیٹھا۔ زونی کو یکبارگی حیرانی اور رنج نے آلیا۔ پھر وہ ماحول تبدیل کردینے کی خاطر ان سے خوشخبری شیئر کرنے لگی۔ ”مجھے .... کل چھٹی مل جائے گی۔“ واقعہ اس نے دیکھا کہ سب چہرے دمک اٹھے تھے۔ ”ارے واقعی ماما، پھر تو بہت ہی اچھا ہوگا! کیوں شہزادے....؟“ اس کی بہو سمیعہ بولی تو زونی نے مسرت اور تعجب ملے احساس سے اسے دیکھ کر سوچا کہ یہ لوگ مجھے کتنا چاہتے ہیں، اور میں ہوں کہ .... پھر اس نے سنا: ”در اصل سنڈے کو ہم اپنی اور راحیل بھائی اپنی ”اینی ورسری“ ایک ساتھ منا رہے ہیں۔ مما کے ہاں ان کا بڑا لان اور بڑا ہاﺅس ہے۔ گِرل پارٹی میں بچے تنگ نہ کریں۔ چلو اندر ماما آرام کرتی رہیں گی اور بچوں کی نگرانی بھی ہوجائے گی۔ راحیل کا اور اس کی سالی کا بے بی بہت چھوٹا ہے، ان کی اتنی ساری چیزیں۔ ہمارے اپنے بچوں کا سامان۔“ وہ پتا نہیں، کیا کیا پروگرام بناتے اور کیا کیا کہتے سنتے رہے۔ زینت نے پھر کچھ نہیں سنا۔ وہ کب چلے گئے اسے پتا ہی نہیں چل پایا۔ اس پر ٹھنڈی اوس برابر گرے جارہی تھی، جہاں پر ایک بڑے سے ہاﺅس کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اور وہ کسی کاﺅچ یا صوفے پر ماری بندھی پڑی تھی.... مجبور، خاموش! ارد گرد بچوں کی پر امز، ان کی ماﺅں کے بیگ۔ قریب کہیں کسی پالنے میں سورہے ننھے بچے ان کے استعمال کی بیسویں چیزیں، بار بار آکر رکھتی اٹھاتی اٹھلاتی نوجوان عورتیں ، اپنے ساتھیوں سے چہلوں میں لگیں، اسے یوں نظر انداز کرتی ہوئیں گویا وہ بھی اک بے جان چیز ہے، اس کے کمرے میں رکھی دیگر چیزوں جیسی چیز۔ کبھی کبھی کوئی اسے دیکھ پہچانے بنا اک لفظ تشکر اُچھال دیتی: ”تھینک یو آنٹی، یہ بے بی کا فیڈر رکھ لیں۔ سنی کا بسکٹ کا ڈبا۔ ڈولی کا فیریکس ۔ پنکی کے نیئر۔ ”آنٹی یہ میرا کورٹ اِدھر رکھا ہے، یہ ڈارک براﺅن۔ وہ چھتری ہماری ہے، بے بی کی پرام کے پاس۔“ ”نانو، میری ماما کدھر ہیں؟“ اک ”لاکر“ اک’ ”فریزر“ اک میز کرسی، کاٹ پرام کچھ بھی۔ مگر ان میں زینت کہیں نہیں۔ اس کی موجودگی ، اس کی شخصیت ہوکر بھی نہیں۔ .... گہرے گہرے مہیب سائے انجانی سمتوں سے اس کی طرف بڑھتے آنے لگے اور وہ ان میں ڈوبتی کھوتی چلی جانے لگی۔ پھر وہی موت کے انتظار کاکئیو۔ وہی کھلی ہوئی مگر بند جیسی خالی ویران ڈگر ڈگر کرتی آنکھیں.... چاروں جانب بے چینی سے گھوم کر واپس اپنی وحشتوں سے نبرد آزما تنہائی سے اپنے فالتو پن ، اپنے بیکار پن سے اپنے نہ ہونے کے صفر میں تڑپ تڑپ کر لوٹتی ہوئی.... وہاں جہاں کچھ نہ تھا ، بھیانک تنہائی اور غراتے بھاگتے چلے آتے مہیب اندھیرے.... .... بس کبھی کبھی لب کھول کر سب کو دعائیں بخش دو.... ”جیتے رہو، خوش رہو!“ وہ دعائیں جن میں بڈھوں کا کوئی حصہ نہیں رہ جاتا.... نہ جینے میں نہ خوش ہونے میں! اسی گہری شام کے گہرے سایوں میں سٹیشن انچارج نے سوال کیا: ”آپ کل گھر جارہی ہیں؟“ ”نہیں....“ زینت سنجیدہ اور حتمی لہجے میں بولی۔ ”میں بڑے سرجن سے معائنہ کراﺅں گی منڈے کو۔“ لیکن در اصل وہ اپنی سرجری کے بعد ملنے والی نئی زندگی کا استقبال تاریک سوچوں کے دائرے بنتے اور اسے اپنی ان دیکھی لپیٹ میں آکٹوپس بن کر جکڑتے خیالوں یا چپ کی اندھی کھائی جیسے منجمد ماحول سے نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شہزاد اور سمیعہ کی اینی ورسری چھوڑ کر اس کے لیے ہر گز سٹی فیسٹول جانا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ وہ گلابی، بڑے گھیرے والا سکرٹ اور شرمیلی مگر دل سے ہنستی ہنسی کی پھوار ویسے ہی ان چھوئے رہ جائیں گے، لیکن ان سے ذرا پیچھے ان کے عقب میں اک دلدار تبسم ہاتھ ہلاتا تھا۔ زینت نے تاریک سائے ہٹا کر بڑھتی چلی آرہی کالی رات کو پیچھے دھکیل دیا۔ وہ اُدھر اس پار دیکھ رہی تھی جدھر اگلے مہینے ترکی کے ٹور کا بورڈ لگا تھا اور نیون سائن کی رنگ برنگی روشنیوں جیسی ہنسی ہنستا تھا، اپنا زندہ گرم حرارت سے بھرپور ہاتھ بڑھا کر زینت کا ہاتھ تھامنے کا منتظر تھا۔ وہاں اس بورڈ تلے رات سیاہ کالی نہیں تھی۔ وہ خوشنما سبز رات زینت نے تھام لی اور آرام سے ہسپتال کے بیڈپر ویک اینڈ گزر انے کو دراز ہوگئی۔ تحریر: نعیمہ ضیاء الدین
__________________
![]() Last edited by زارا; 19-02-11 at 11:40 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کورٹ, گانے, ٹیک, پہچان, پاکستان, پاگل, قید, قواعد, نظر, موت, ماں, بچوں, بندگی, تلاش, جھوٹ, جیل, خواتین, دریافت, روزہ, راستہ, سالگرہ, عورت, غار, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|