واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > ناول




کالے کھنڈر کا بت - چالاک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-11-10, 10:42 PM   #1
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
کمائي: 62,640
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کالے کھنڈر کا بت - چالاک

کالے کھنڈر کا بت - چالاک

بت کی دوسری آنکھ بھی غائب ہوگئی تھی اور اب دونوں سوراخوں سے طاقت ور ٹارچوں کی روشنیاں نکل رہی تھیں۔۔۔۔روشنیاں پورے کھنڈر میں اِدھر اُدھر چکر لگا رہی تھیں۔
۔جونہی ہم ان روشنیوں کی زد میں آئیں گے۔۔۔۔مارے جائیں گے۔۔۔فوراً پم پر فائرنگ شروع ہوجائے گی۔انسپکٹر جمشید نے انہیں خبردار کیا۔

۔اس کا مطلب ہے۔۔۔۔یہ ہماری موت کا سامان کرچکے ہیں۔ فرزانہ بولی۔

۔ہاں! پوری طرح تیار ہیں۔

۔اللہ اپنا رحم فرمائے۔۔۔

جھاڑیوں کی اوٹ لیے رہو۔۔۔۔میں ان لائٹوں کو نشانہ بناتا ہوں۔

۔اوہ ہاں ! یہ ٹھیک رہے گا سر۔ اکرام بولا۔

انہوں نے دو فائر کیے۔۔۔۔لیکن ٹارچیں نہ بجھ سکیں۔۔۔۔جوں کی توں روشنیاں رہیں۔۔۔ادھر انسپکٹر جمشید مصنوعی جھاڑیوں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے۔۔۔اچانک ان کے منہ سے نکلا۔
۔وہ مارا۔۔۔۔۔۔یہ رہا تہ خانے کا راستا۔

۔!!!!!!کیاوہ چلائے۔
انہوں نے دیکھا۔۔۔جھاڑیاں کسی چادر کی طرح الٹی پڑی تھیں اور سیڑھیاں نیچے جارہی تھیں۔۔۔

۔آؤ۔۔۔ان کی فائرنگ سے بچنے کا ایک یہی راستا ہے۔

۔اور نیچے جو وہ ہمارے استقبال کے لیے تیار ہوں گے۔

۔کیا کِیا جائے۔۔۔۔مجبوری ہے۔۔۔۔یہ استقبال تو ہمیں کرانا ہی ہوگا۔
انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔۔سیڑھیاں اترتے چلے گئے۔۔۔اور پھر ایک گرج دار آواز گونج اٹھی۔
۔آگئے۔۔۔۔۔مہمان آگئے۔۔۔۔۔تھا جن کا انتظار، وہ شاہکار آگئے۔
انہوں نے دیکھا۔۔ان کے چاروں طرف رائفلیں ہی رائفلیں تنی تھیں۔۔۔۔وہاں کم از کم ایک سو آدمی تو غرور موجود ہوں گے۔۔۔
۔ان سو رائفلوں کی موجودگی میں انسپکٹر جمشید آپ کیا کرسکیں گے۔ ایک آواز ابھری۔

۔بس وہ۔۔۔جو اللہ کو منظور ہوگا۔ انہوں نے پُر سکون آواز میں کہا۔

۔ٹھیک ہے۔۔۔۔کرو پھر۔

۔پہلے آپ تو سامنے آئیں۔۔۔۔اپنا تعارف تو کرائیں۔

۔اوہ۔۔۔اچھا یہ لو۔۔۔آگیا سامنے۔۔اب تم سے کیا ڈرنا۔۔۔تم تو اپنے جال میں آچکے ہو۔
آواز سنائی دی۔۔۔پھر تہ خانے کے ایک تاریک کونے سے نکل کر ایک نقاب پوش ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔اس کا پورا جسم سیاہ لباس میں چھپا تھا۔
۔یہ تعارف تو دھندلا دھندلا ہے۔۔۔۔نقاب اتار کر تعارف کرائیں نا۔

۔کیا تم جان چکے ہو۔۔۔میں کون ہوں۔

۔ہاں ! کیوں نہیں۔۔۔یہ تو ذرا بھی مشکل نہیں۔

۔تب پھر بتاؤ۔۔۔میں کون ہوں۔

۔ہم میں سے کون بتائے گا۔محمود نے ان کی طرف دیکھا۔

۔فاروق۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

۔ضرور۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔۔یہ یاور پاشا ہیں۔۔۔۔ان کا دوسرا نام شیر جاہ ہے۔

۔خوب ! محمود۔۔۔۔تم کیا کہتے ہو۔

۔یہی۔۔بالکل۔ اس نے کہا۔

۔اور فرزانہ تم؟

۔میں بھی یہی کہتی ہوں۔

گویا تم تینوں کے خیال میں اس کیس کا مھرم یاور پاشا ہے۔۔۔اس لیے کہ وہی اس گھر کا مالک تھا۔۔جس میں اس گروہ کے اجلاس ہوتے تھے۔۔۔۔اس نے اپنی کوٹھی پھر فروخت کردی۔۔لیکن خریدار بھی وہ خود ہی تھا۔۔۔یہی بات ہے نا۔

۔جی ہاں!۔ وہ ایک ساتھ بولے۔

۔اب میرا خیال سنو۔۔۔یاور پاشا عرف شیر جاہ گروہ کا رکن ضرور ہے اور اہم رکن ہے۔۔۔۔لیکن سرغنہ نہیں ہوسکتا۔

۔جو۔۔۔۔کک۔۔۔۔۔۔۔کیا مطلب؟ وہ چلائے۔۔۔آنکھوں میں حیرت دوڑگئی۔

۔کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔تو پھر میں کون ہوں۔نقاب پوش کے لہجے میں حیرت تھی۔۔۔صاف ظاہر ہے۔۔۔۔وہ اس وقت آواز بدل کر بات کررہا تھا۔

۔تم آواز بدل کر بات کرنے کے بہت ماہر ہو۔۔۔لیکن بدلی ہوئی آواز کو پہچاننے کا سلیقہ اللہ تبارک تعالٰی نے مجھے بہت عطا فرمایا ہے۔۔۔۔کیا سمجھے۔

۔کیا مطلب؟وہ زور سے اچھلا۔

۔میں نے سوچا۔۔۔۔میں نے غور کیا۔۔۔۔۔رجسٹری کرانے کے لیے اصل مالک کو ساتھ جانا پڑتا ہے۔۔۔صرف وکیل پیش ہوکر رجسٹری نہیں کراسکتا۔۔۔کیونکہ زمین کے معاملات میں بہت جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔۔۔اس طرح خریدار کو بھی پیش ہونا پڑتا ہے۔۔۔۔۔گویا دونوں مرتبہ یاور پاشا کو وکیل سے ملنا پڑا۔۔پہلے یاور پاشا نے وکیل سے مل کر کہا کہ میں اپنی کوٹھی فروخت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اس لیے آپ خرید لیں۔۔۔وکیل صاحب نے خرید لی۔۔۔۔۔پھر یاور پاشا، شیر جاہ کے روپ میں وکیل سے ملا اور کہا کہ میں کوٹھی خریدنا چاہتا ہوں۔۔۔اور اس نے شیر جاہ کو فروخت کردی۔۔۔یہ بات کچھ جچی نہیں۔۔۔بہت بے وقوفانہ ہے۔۔۔۔وکیل سے ہر بات بھلا کس طرح چھپی رہ سکتی ہے۔۔۔لٰہذا جناب ! وکیل صاحب کو سب کچھ معلوم تھا۔۔۔پھر اس نے ہمیں کیوں کچھ نہیں بتایا۔۔۔سوال یہ ہے۔
یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگئے۔
۔کک۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔

۔کوٹھی پہلے یاور پاشا کے نام تھی۔۔۔وکیل نے اس سے کہا کہ کوٹھی میرے نام فروخت کردو۔۔۔۔اس نے فروخت کردی۔۔۔۔کچھ عرصہ بعد وکیل نے یاور پاشا سے کہا کہ کوٹھی تم خرید لو۔۔۔لیکن شیر جاہ کے نام سے۔۔۔۔۔سو اس نے خرید لی۔

۔لیکن کیسے ابا جان۔۔۔یہ شخص اپنا دوسرا نام شیر جاہ رکھ تو سکتا ہے۔۔۔کاغذات میں اس کا نام کیسے تبدیل ہوگیا۔فاروق بول اٹھا۔

۔شناختی کارڈ لوگ دو بھی بنوا لیتے ہیں۔۔ایک شہر میں ایک بنوالیا۔۔دوسرے شہر میں دوسرا۔۔۔یا کم از کم پہلے ضرور ایسا ہوتا رہا ہے۔۔۔اور جس زمانے کی یہ بات ہے۔۔۔اس وقت ملک میں کمپیوٹر کا نظام رائج نہیں ہوا تھا۔۔

۔اوہ ٹھیک ہے۔۔۔۔میں اعتراض واپس لیتا ہوں۔فاروق نے فوراً کہا۔

۔تب پھر یہ کون ہے۔ اکرام کے لہجے میں حیرت تھی۔

۔حیرت ہے اکرام۔۔۔۔اب بھی نہیں سمجھے۔

۔آپ۔۔۔آپ کا مطلب ہے۔۔۔۔یہ وکیل صاحب خود ہیں۔

۔ہاں! یہی بات ہے۔

۔کیا!!!!۔ وہ بہت زور سے اچھلا۔

۔اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔۔۔۔ہر حال میں ہلاک کیا جائے گا۔سیاہ پوش غرایا۔

۔اب تم خود جیل جاؤ مسٹر۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

۔کیسے۔۔۔تم لوگ اس وقت سو رائفلوں کی زد میں ہو۔

۔یہ سو رائفلیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔۔۔۔اللہ تعالٰی کی مہربانی سے۔۔۔۔ذرا اپنے پیچھے دیکھو۔ انسپکٹر جمشیدنے بے فکری کے عالم میں کہا۔

اس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔اور اسی وقت اس کا بازو ان کی گرفت میں آگیا۔۔۔۔ساتھ ہی بازو مڑتا چلا گیا اور اس کی کمر سے جا لگا۔۔۔دوسرا ہاتھ ان کی گردن پر آ جما۔۔۔۔۔اب وہ حرکت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔حرکت کرتا تو اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔

۔خبردار۔۔۔۔۔اگر کسی نے حرکت کی۔۔۔تو اس کی گردن کی ہڈی تو گئی کام سے۔انسپکٹر جمشید نے بلند آواز میں کہا۔

۔یقین نہیں تو مسٹر نقاب پوش سے پوچھ لو۔

۔حرکت نہ کرنا۔۔۔ورنہ میری گردن ٹوٹ جائے گی۔نقاب پوش نے مشکل سے کہا۔

۔تب پھر ان سے کہو۔۔۔۔اپنی رائفلیں گرادیں۔

۔گرادو۔۔۔۔گرادو۔وہ گھبرا گیا۔
رائفلیں گرنے کی آوازیں گونج اٹھیں۔

۔سب لوگ ہاتھ اوپر اٹھا دو۔۔۔۔اور تم لوگ یہ رائفلیں سمیٹ کر ایک کمرے میں ڈال دو۔۔۔کمرے کا دروازہ بند کردو۔

۔جی اچھا۔وہ بولے۔

اس کام کو چند منٹ لگے۔۔۔پھر اکرام سے بولے۔

۔اکرام۔۔۔تمہارے ماتحت اب تک کیوں نہیں پپہنچے۔

۔باہر موجود ہیں سر۔

۔انہیں بلاؤ۔۔۔۔اور ان لوگوں کے ہاتھ باندھنے کا پروگرام شروع کرو۔۔۔اتنی ہتھکڑیاں ہم کہاں سے لائیں۔

۔جی ہاں! آپ فکر نہ کریں۔
اب ان لوگوں کو باندھنے کا پروگرام شروع ہوا۔۔۔۔ایسے میں نقاب پوش نے کہا۔
۔اوہو۔۔۔۔اب تو میری گردن چھوڑ دیں۔

۔اب آپ کی گردن کہاں چھوٹے گی۔۔۔۔اب تو یہ مستقل طور پر پھرس گئی ہے۔فاروق ہنسا۔

۔میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں۔۔۔جیل میں ایسی تکلیف کہاں ہوگی مجھے۔۔۔۔جو اس وقت ہو رہی ہے۔

۔سب ساتھیوں کو بندھ جانے دو۔۔۔پھر چھوڑیں گے۔انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

۔وہ تو ہاتھ اٹھائے کھڑے ہیں۔۔اب کیا کر سکیں گے۔

۔ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑتے۔ محمود نے کہا۔

۔بالکل ٹھیک کہا محمود۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

۔لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔یہ تو اس کوٹھی کا مالک تھا ہی نہیں۔۔۔تب پھر اسے کوٹھی خریدنے اور فروخت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

۔خود کو محفوظ رکھنے کی ایک چال تھی یہ۔۔۔۔اس نے سوچا۔۔کبھی گروہ پکڑا بھی جاسکتا ہے۔۔۔اور اگر وہ پکڑا گیا تو سرغنہ کے بارے میں پوچھ کچھ ہوگی۔۔۔لٰہذا کوئی بندہ تو ایسا ہے۔۔۔جو سرغنہ کے طور نظر آسکے۔۔سو اس نے یہ چال چلی۔۔۔۔۔باس بن کر یاورپاشا کو حکم دیا کہ وہ اپنی کوٹھی ایک وکیل صاحب کے ہاتھ فروخت کردے۔۔۔۔اس نے فروخت کردی۔۔۔پھر اسے حکم دیا کہ اب وہ شیر جاہ کے نام سے کوٹھی پھر خریدلے۔۔۔۔۔اس نے یہ حکم بھی مان لیا۔۔۔۔اگرچہ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔۔۔۔لیکن مجرم نے یہ طریقہ خود کو بچانے کے لیے کیا۔۔۔لیکن اس کا جال اس کے لیے موت کا پھندہ بن گیا۔۔۔۔اور دوسری بڑی غلطی اس کی یہ تھی کہ خود یہاں موجود تھا۔۔۔موجود ہی تھا تو نکل نہیں گیا۔۔۔خود کو سامنے لے آیا۔۔۔۔دراصل اس کا خیال تھا کہ سو آدمیوں کے مقابلے میں ہم کیا کرسکیں گے۔۔۔۔یہ ہے کہانی۔۔۔۔اور اب یہاں بلانا چاہیے۔۔۔رائے باقر کو۔۔۔۔اس کہانی کا اصل ہیرو وہ ہے۔
اکرام کے ایک ماتحت کو بھیج کر رائے باقر کو وہاں بلوایا گیا۔۔وہ ان لوگوں کی دیکھ کر دھک سے رہ گیا۔
۔یہی ہیں۔۔۔تمہارے سابقہ ساتھی۔

۔جی۔۔۔جی ہاں۔۔۔ان میں کچھ وہی ہیں۔۔کچھ نئے بھی ہیں۔۔۔۔ویسے پہلے ان کی تعداد اتنی نہیں تھی۔۔۔

۔اس کا مطلب ہے۔۔۔یہ سرغنہ اپنے گروہ کو بڑا کرتا رہا ہے۔۔۔۔اور اس وقت سے لے کر اب تک اس کا یہ کام جاری ہے۔

۔جی ہاں! جرم جب منہ کو لگ جائے تو پھر کہاں چھوٹتا ہے۔۔۔ پھانسی کا پھندہ ہی چھڑاتا ہے پھر تو۔

۔لیکن بھئی۔۔۔۔۔رائے باقر جیسے لوگ دنیا میں موجود ہیں۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

۔اوہ ہاں۔۔۔۔واقعی۔ اس نے فوراً کہا۔

۔لیکن یہ ہے کون۔۔۔۔۔۔مارے سسپنس کے برا حال ہے۔۔۔۔گروہ میں شامل ہونے کے بعد سے آج تک میں بھی سوچتا ہوں۔۔۔۔سرغنہ ہےکون ۔

۔لو۔۔۔۔۔دیکھ لو اس کا چہرہ۔
انہوں نے اکرام کو اشارہ کیا۔۔۔۔۔اس نے اس کے چہرے پر سے نقاب نوچ لیا۔۔۔
۔اوہ۔۔۔۔ارے ہائیں۔رائے باقر کے منہ سے نکلا۔

۔واہ! کیا خوب الفاظ ہیں۔ فاروق خوش ہوگیا۔

۔کک۔۔۔کون سے الفاظ۔

۔یہی۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔ارے۔۔۔۔۔۔ہ ائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھی اکثر یہ بولتے ہیں۔

۔اف مالک۔۔۔۔یہ ہے گروہ کا باس۔

۔ہاں! بالکل یہی ہے۔

۔اب مجھے یاد آیا۔۔۔

۔کیا یاد آیا۔

۔گروہ کا جب بھی کوئی آدمی پکڑا جاتا تھا۔۔۔۔تو یہی اس کا کیس لڑتا تھا۔۔۔۔اور میرا کیس اسی نے لڑا تھا۔۔۔

۔لیکن آپ تو اس وقت گروہ میں شامل نہیں تھے۔ انسپکٹر جمشید نے منہ بنایا۔

۔ارے ہاں۔۔۔۔واقعی۔۔۔۔۔۔یہ تو میں بھول ہی گیا تھا۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔اب یاد کرلیں۔ فاروق نے مشورہ دیا۔

۔اب یاد کرلوں۔۔۔۔کیا یاد کرلوں۔ رائے باقر حیران ہوکر بولا۔

۔وہی۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آپ بھول گئے۔

۔اور۔۔۔۔۔اور میں کیا بھول گیا۔

۔جو آپ کو یاد کرنا ہے۔۔۔۔۔مطلب یہ کہ آپ تو اس وقت گروہ میں شامل ہی نہیں تھے۔ پھر اس نے آپ کا کیس کیسے لڑا؟

۔اس وقت مجھے حیرانی ہوئی تھی۔۔۔میں نے اس سے پوچھا تھا کہ میرا کیس لڑنے کے لیے اسے کس نے فیس دی ہے۔۔۔اس نے جواب دیا تھا کہ نا معلوم آدمی نے۔۔۔بس میں سمجھ گیا کہ وہ نا معلوم آدمی ضرور باس ہوگا۔

۔ہں۔۔۔آپ نے ٹھیک سمجھا تھا۔۔۔۔لیکن آپ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اصل میں یہ خود باس ہے۔

۔ہاں واقعی۔۔۔یہ بات تو ابھی معلوم ہوئی ہے۔

۔چلئے پھر۔۔۔۔آپ اس مصیبت سے آخر کار فارغ ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔ہوگئے نا۔

۔جی۔۔۔۔جی ہاں! لیکن۔۔۔۔رائے باقر کہتے کہتے رک گیا۔

۔ہاں ہاں کہئے۔۔۔۔ وہ فوراً بولے۔

۔ان صاحب کو سزائے موت تو ہوگی نہیں۔

۔کیا مطلب۔۔۔۔یہ کیا کہا آپ نے۔

۔یہ صرف ڈاکو ہیں۔۔۔۔سب کے سب قاتل نہیں ہیں۔۔۔قاتل ان میں چند ایک ہوں گے۔۔۔۔۔باقی لوگوں کو قید کی سزائیں ہوں گی۔۔۔۔قید کی سزائیں کاٹ کر یہ باہر آئیں گے۔

۔میں سمجھ گیا۔۔۔۔آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔لیکن میرے پاس اس کا حل ہے۔

۔جی۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔حل ہے۔

۔ہاں! آپ آج میرے گھر آجائیے گا۔۔۔۔بلکہ ہم یہیں سے آپ کو اپنے ساتھ لے چلیں گے۔

۔اوہ۔۔۔بہت اچھا۔وہ خوش ہوگیا۔

۔اس کیس سے ہم کیا سمجھیں۔

۔یہ کہ ایک شخص بھی اگر جرائم سے توبہ کرلے۔۔۔۔تو اس کے بھی بہت اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور ایک شخص بھی اگر جرائم کرنا شروع کردے۔۔۔تو اس کے بھی بہت برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

۔جی ہاں! یہی بات ہے۔۔۔۔اللہ تعالٰی اپنا رحم فرمائے۔۔۔۔لیکن آپ نے رائے باقر اور اس کے بیوی بچوں کے بارے میں کیا سوچا ہے۔

۔گھر چل کر بتادیں گے۔

۔تو پھر چلتے ہیں ان ہم یہاں کیا کریں گے۔۔۔۔ہمارا کام تو یہاں سے کب کا ختم ہوچکا ہے۔ محمود نے کہا۔

۔ہوں چلو۔
وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔ایسے میں فاروق نے مجرموں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
۔خدا حافظ جرائم پیشہ صاحبان۔۔۔۔آپ نے دیکھا۔۔۔جرائم نے آُپ کو کہاں پہنچا دیا۔۔۔۔ان جرائم میں بس یہی بات بری ہے۔۔۔۔آدمی کو کہیں کا نہیں چھوڑتے۔۔۔اب آپ کو ترکیب دیتا ہوں۔۔۔۔جرائم نے آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔آپ جرائم کو کہیں کا نہ چھوڑیں۔ فاروق نے شوخ آواز میں کہا۔

اور وہ مسکرانے لگے۔۔۔۔پھر گھر پہنچے۔۔

۔ہاں! اب بتائیں۔۔۔آپ نے ان غریبوں کے بارے میں کیا سوچا ہے۔

۔یہ لوگ اب اپنے گھر نہیں جائیں گے۔

۔جی۔۔۔۔کیا فرمایا آپ نے۔۔۔۔یہ اپنے گھر نہیں جائیں گے۔

۔ہاں! میں ان کے بیوی بچوں کو بھی بلا رہا ہوں۔

۔آپ کا مطلب ہے۔۔۔۔۔یہ یہاں رہیں گے۔

۔نہیں۔۔۔یہ یہاں نہیں رہیں گے۔۔۔لیکن۔

۔جی۔۔۔۔اب آپ یہ لیکن کہاں سے لے آئے۔

۔یہ لوگ یہاں نہیں رہیں گے۔۔۔۔اپنے گھر بھی نہیں جائیں گے۔۔۔۔۔یہیں بیٹھے بیٹھے ان کی کوٹھی فروخت ہوجائے گی۔۔۔ان کی کوٹھی کو خان رحمان خریدیں گے۔۔۔۔پھر ہم ان کے لیے ایک اور کوٹھی خریدیں گی۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر کہتے کہتے رک گئے۔

۔اور کیا؟

۔اور ان کے حلیوں میں تبدیلی کی جائے گی۔۔۔۔ایسی تبدیلی کہ کوئی ماہر آدمی بھی نہ پہچان سکے۔

۔اوہ۔۔۔۔۔اوہ۔

۔اور سزا پانے کے بعد وہ لوگ کون سا آج ہی آجائیں گے۔۔۔۔وہ اب عرصہ گزرنے کے بعد ہی آسکیں گے۔۔۔۔اس وقت تک کون یاد رکھے گا۔۔۔فلاں کوٹھی کے لوگ کہاں گئے اور فلاں کوٹھی میں نئے لوگ کب آئے۔۔۔

۔بہت خوب! یہ تو اچھا پروگرام بن گیا۔۔۔۔کیوں رائےباقر صاحب۔

۔حیرت انگیز۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا کوئی انتظام ہوسکتا ہے۔ اس نے خوش ہوکر کہا۔

۔اور یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کو انعام ملا ہے۔۔۔۔یہ پُر سکون زندگی۔۔۔

۔اس میں کیا شک ہے۔ وہ ایک ساتھ بولے۔

۔کس میں کیا شک ہے بھئی۔۔۔۔۔ذرا ہم بھی تو سنیں۔
انہوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔پروفیسر داؤد اور خان رحمان اندر داخل ہورہے تھے۔۔۔۔دراصل اندر آنے کے بعد وہ دروازہ بند کرنا بھول گئے تھے۔
۔لیجئے۔۔۔۔اب ساری کہانی پھر سے سنانے کے لیے تیار ہو جائیے۔
فاروق نے بوکھلا کر کہا اور سب مسکرانے لگے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (09-11-10)
پرانا 09-11-10, 06:31 PM   #2
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہا ہا ہا
بچپن یاد دلا دیا
شکریہ پاکستانی بھائی
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کمپیوٹر, کمر, کارڈ, قید, لوگ, نظر, موت, مجرموں, معلوم, آج, آدمی, انعام, بچوں, تعارف, جیل, جواب, حکم, حل, حال, خوش, شہر, شخص, عالم, غرور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger