واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > نماز



نماز نماز


''' اِستخارہ ''' سُنّت میں اور کہانیوں میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-07-07, 01:31 AM  
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 25-07-07, 01:31 AM

''' اِستخارہ ''' سُنّت میں اور کہانیوں میں
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
چند دِن پہلے ایک بھائی کی طرف سے ارسال کی گئی اِستخارہ کے بارے میں ایک حدیث نظر سے گذری ، جِسے اُنہوں نے بعنوان ''' جو استخارہ کرے ''' ارسال کیا تھا ، اللہ تعالیٰ بھائی عبداللہ حیدر کو بہترین اجر عطاء فرمائے کہ اُنہوں نے دُعاءِ اِستخارہ والی حدیث کا حوالہ درج فرما دِ یا ، اور اُس کا مکمل متن بھی نقل کر دِیا ، میں اِس مضمون میں اُس حدیث کو پھر مکمل متن یعنی ٹیکسٹ کے ساتھ نقل کر رہا ہوں اور یہ اِس لیے کہ اِس موضوع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم کو اِنشاء اللہ تعالیٰ پوری طرح سے حاصل کر لیں اور میری اِس کوشش کو اللہ تعالیٰ اُن غلط فہمیوں اور غلط عقید ے کی اصلاح کا سبب بنا دے ، جو غلط فہمیاں اور غلط عقائد ''' استخارہ ''' کے بارے میں ہم مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں، بات کو پوری طرح سے واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی لُغت میں اُن الفاظ کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھیں جواِس موضوع میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ،
''' اِستخارۃ''' ::: باب ''' اِستَفعَلَ''' سے ہے ، اور اِس کا معنی ہوتا ہے ، اُس ایک مذکر نے کام ہونا طلب کیا ،اب اِس باب میں جِس بھی کِسی کام کا ذِکر کیا جائے گا ، اُس کا معنیٰ ویسا ہی ہو ، میں چند ایسے الفاظ مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں جو قران و سنّت میں استعمال ہوئے ہیں ،اور عام مسلمان بھی اُن کو جانتے ہیں ، خواہ اُن کا معنیٰ اور مفہوم نہ جانتے ہوں لیکن صوتی تعارف رکھتے ہی ہیں ، مثلاً ،
''' اِستَسقیٰ ''' ، عام طور پر نمازِ استسقاء میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ، اِس کا اصل مادہ ''' سقیٰ ''' یعنی ''' اُس ایک مذکر نے پلایا''' ، اور جب اِس کا باب تبدیل کر کے استعمال ہوا تو اِس کا معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مذکر نے پینا طلب کیا ''' نمازِ استسقاء کو یہ نام اِسی لیے دِیا گیا ہے کہ اِس نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بذریعہ بارش پانی پلانا طلب کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی رحمت سے اُس عِلاقے میں جہاں یہ نماز پڑھی جا رہی ہے یا جہاں کے لیے نماز پڑہی جا رہی ہے وہاں اپنی اُس مخلوق کو پانی پلا دے جو پانی کی کمی کا شکار ہورہی ہے ،
''' اِستَغفَرَ ''' اصل مادہ ''' غَفَرَ ''' یعنی ''' اُس ایک مُذکر نے معاف کر دِیا ''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے معافی طلب کی ''' اور ''' اِستغفَارٌ ''' اِس باب کے فعل کا اسم مصدر ہے ،
''' استفتیٰ ''' اصل مادہ ''' افتیٰ ''' یعنی ''' اُس ایک مُذکر نے فتویٰ دِیا ''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے فتویٰ طلب کیا ''' ''' اِستَعمَلَ ''' اصل مادہ ''' عَمِلَ ''' یعنی ''' اُس ایک مذکر نے کام کیا ''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے کام کرنا طلب کِیا '''
یہ لغوی تفصیل (Gramatical Detail) لکھنے کا مقصد اُس غلط بات کو واضح کرنا ہے جو استخارہ کے بارے میں بہت ہی معروف ہے اور وہ یہ کہ ''' اِستخارۃ ''' کو ''' اِستشارۃ ''' کے معنیٰ اور مفہوم میں لیا جاتا ہے ، ''' اِستخارۃٌ ''' کا اصل ''' خِیَّرَ ''' اور مصدر ''' اِختیارٌ ''' یعنی اختیار کرنا ہے اور باب استفعل میں سے اِس کا مصدر ''' اِستِخارۃٌ ''' یعنی کِسی دوسرے سے اِختیار کرنے کی مانگ کرناہے ، اور ''' اِستشار ۃٌ''' کا معنی ''' کِسی سے مشورہ طلب کرنا ہے ،
''' اِستخارہ ''' اور ''' اِستشارہ ''' کے بارے میں اِسی غلط فہمی یا کم عِلمی کی بنیاد پر اصل حقیقت کھو دی گئی ہے ، اور وہ عقیدہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعاءِ اِستخارہ کے ذریعہ صحابہ کو سکھا یا اُس کو ہم تک پہنچنے نہیں دِیا گیا ،
دُعاء الاِستخارۃ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھُما کا کہنا ہے کہ """ کان رسول اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَۃَ فی الْاُمُورِ کما یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ من الْقُرْآنِ یقول ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام کاموں میں اِستخارہ کرنا ایسے سکھاتے تھے جیسے کہ قُرآن کی کوئی صُورت سیکھایا کرتے تھے ( اور فرمایا کرتے تھے )
(((((اذا ہَمَّ احدکم بِالْامْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ من غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لِیَقُل اللَّہُمَ انی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْالُکَ من فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ ولا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ ولا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ اللہم ان کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہذا الْاَمْرَ خَیْرٌ لی فی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی :::جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے تو وہ فرض نماز کے عِلاوہ دو رکعت نماز پڑہے اور کہے اے اللہ میں تُجھ سے تیرے عِلم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قُدرت کے ذریعے قُدرت طلب کرتا ہوں ، اور تجھ سے تیرا عظیم فضل مانگتا ہوں ، کیونکہ تُو ہی قُدرت رکھتا ہے اور میں نہیں ، اور تُو ہی سب کُچھ جانتا ہے اور میں نہیں اور تُو ہی غیب کو ہر طرح سے جاننے والا ہے ، اے اللہ تو جانتا ہے اگر یہ کام میرے لیئے میرے دِین اور معاش اور آخرت میں )))))
او قال ::: یا فرمایا (((((عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاقْدُرْہُ لی وَیَسِّرْہُ لی ثُمَّ بَارِکْ لی فیہ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہذا الْاَمْرَ شَرٌّ لی فی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی ::: میرے دُنیا اور آخرت کے معاملے میں خیر والا ہے تو یہ کام میرے لیئے کر دے ، اور اے اللہ تُو جانتا ہے اگر یہ کام میرے لیئے دِین اور معاش اور آخرت میں )))))
او قال ::: یا فرمایا ((((( فی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عنہ وَاقْدُرْ لی الْخَیْرَ حَیْثُ کان ثُمَّ اَرْضِنِی بہ :::میرے دُنیا اور آخرت کے معاملے میں شرّوالاہے تو اِس کام کو مجھ سے دُور کر دے اور مجھے اِس سے دُور کر دے اور جہاں کہیں بھی میرے لیئے خیر ہے وہ مجھے عطاء فرمادے اور پھر مجھے اُس پر راضی فرما دے )))))
قال ::: اور فرمایا ((((( وَیُسَمِّی حَاجَتَہُ ::: اِس کے بعد دُعا کرنے والا اپنے کام کا ذِکر کرے)))))
صحیح البُخاری / حدیث ١١٠٩/ کتاب الکسوف / باب٢٦ اور دوسری روایت ، حدیث /٦٩٥٥ /کتاب التوحید / باب ١٠ ، میں اپنے کام کا ذِکر دُعا کے درمیان کیے جانے کا ذِکر ہے ، یعنی جہاں ''' ھذا الامر یعنی یہ کام ''' کہاجاتا ہے وہاں براہ راست کام کا نام لیا جائے ،
اِس حدیث میں جو باتیں انتہائی وضاحت سے سامنے آتی ہیں ، جِن کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِن اِلفاظ میں دِی ہے جو اِس حدیث میں ہیں ، وہ باتیں یہ ہیں کہ :::
(١) اللہ تعالیٰ ہی عالِم ِ غیب ہے ، کوئی بھی اور نہیں ، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اپنے صحابہ کو یہ دُعا سکھانے کی محنت کرنے کی بجائے ، اور صحابہ کو دو رکعت اضافی نماز پڑہنے اور یہ دُعا یاد کرنے اور کرنے کی محنت کی بجائے یہ فرما دیتے کہ مجھ سے آ کرپوچھ لیا کرو ،( عِلم غیب کی تعریف ایک الگ مضمون میں بیان کی جا چکی ہے)
(٢) کِسی بھی کام کے ہونے نہ ہونے ، کرنے نہ کرنے کی قُدرت صِرف اللہ کے پاس ہے ، اُس میں سے جتنی جِس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے عطاء فرما دے ، نہ چاہے تو کوئی ایک سانس بھی اندر یا باہر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔
(٣) بنیادی عقیدے میں یہ درستگی پیدا کرنے کے بعد یہ سمجھایا گیا کہ ''' اِستخارہ ''' کے ذریعے ''' اِستخارہ''' کرنے والا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتا ہے ، مشورہ نہیں کرتا ، کہ میں دو یا زیادہ کاموں میں سے کونسا کام کروں، لہذا اِس یقین اور اِیمان کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی عالمِ الغیب ہے اور وہ ہی قدر مطلق یعنی مکمل ترین قُدرت رکھنے والا اور تمام تر قُدرت کا مالک ہے ، اُس سےخیر طلب کرو ، اور پھر وہ کام کرنا شروع کر دو،
جی ہاں، اِس دُرست عقیدے کے ساتھ ''' اِستخارہ ''' کرنے کے بعد کام کا آغاز کر دیا جائے گا ، اِس حدیث کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر غور کیجیے ، فرمایا ہے ((((( اذا ہَمَّ احدکم بِالاَمرِ ::: جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے ))))) ،،، اِنسان کے لاشعور اور پھر شعورمیں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے کچھ مراحل طے ہوتے ہیں جِن کے نتیجے میں کام ہوتا ہے ، پہلا مرحلہ عربی میں ''' خَطرٌ ''' یعنی ''' گُمان ، شائبہ ''' کہلاتا ہے ، اور اُس کا مقام لا شعور ہوتا ہے ، جب یہ گُمان کچھ طاقت ور ہوتا ہے تو ''' ھَمٌّ ''' یعنی ''' سوچ یا فِکر ''' بن جاتا ہے اور اِس کا مُقام شعور ہوتا ہے ، اور جب یہ ''' سوچ یا فِکر ''' کچھ طاقتور ہوتی ہے تو وہ ''' اِرادۃٌ، او ، نِیّۃٌ ''' یعنی ''' اِرادہ یا نیّت ''' بن
جاتی ہے ، اور اِس کا مُقام دِل ہوتا ہے ، پھر اِس کے بعد یاعمل ہوتا ہے یا اِس ''' اِرادے یا نیّت ''' کا ختم ہونا ہوتا ہے ،
اِس تفصیل کے بعد ، پھر حدیث مبارک کے پہلے حصے پر غور کیجیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ''' سوچ یا فِکر ''' کے بعد اُس کی پختگی کے لیے اُسے ''' اِرادے یا نیّت ''' میں تبدیل ہونے سے پہلے عقیدے کی اصلاح کے ساتھ اللہ سے خیر طلب کرنے کا طریقہ سِکھایا ، کہ خیر طلب کرو ، اگر اِنسانی فطرت کے مطابق اگلہ مرحلہ طے ہوگیا اور اِرادہ بن گیا ، تو ، کام کا آغاز کر دو،

ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ سے بھی ''' اِستخارہ ''' کی دُعا روایت ہوئی ہے اور اُس میں ((((( اذا ہَمَّ احدکم بِالاَمرِِ::: جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے ))))) کی بجائے ((((( اذا اَرادَ احدکم بِالاَمرِِ ::: جب تُم میں سے کوئی کِسی کام کا اِرادہ کرے ))))) کے الفاظ ہیں ، جو میری بات کی مزید تائید کرتے ہیں ، کیونکہ ''' اِرادے اور نیّت ''' کے بعد یا کام ہوتا ہے یا اِرادہ ترک کیا جاتا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ''' اِستخارہ ''' کو کام سے پہلے ایک مرحلہ بنا کر یہ سِکھایا کہ یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد کام کا آغاز کر دو ،
یہ جو باتیں سنی سنائی جاتی ہیں ، لکھی پڑہائی جاتی ہیں کہ '''اِستخارہ ''' کے بعد کِسی قِسم کے لال پیلے جھنڈے ، جھنڈیاں ، یا روشنیاں نظر آتی ہیں یا کوئی بُزرگ دکھائی دیتا ہے یا کوئی اشارہ ہوتا ہے ، یا کوئی اِلہام ہوتا ہے ، سب مَن گھڑت ہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور نہ ہی کِسی صحابی کی طرف سے کہیں بھی ، حتیٰ کہ کِسی کمزور روایت میں بھی ایسی کوئی بات اِشارۃً بھی نہیں ملتی ، جو لوگ ایسی بے بنیاد خِلاف سُنّت باتوں کو مانتے اور اُن پر عمل کرتے ہیں اُن کو اگر اشارے ہوتے ہیں تو وہی کرتا ہے جو اُنہیں خِلافِ سُنّت کام کرواتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اُس مردود کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔
پھر دُہراتا ہوں کہ '''اِستخارہ''' کا مطلب ہے ''' خیر طلب کرنا ''' جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِلفاظ مبارک میں بالکل واضح طور پر بیان کِیا گیا ہے ، کہ اگر اِس کام میں میرے لئیے خیر ہے تو اسے میرے لئیے آسان فرما دے اور اگر شر ہے تو اِسے مجھ سے ، اور مجھے اِس سے دور کردے ، پس ہمیں اِس بات پراِیمان رکھنا چاہیئے کہ اللہ سے خیر طلب کرنے کے بعد جہاں تک اُس کام میں ہمارے لیے خیر ہوگی اللہ تعالیٰ وہاں تک اُسے کروا دے گا اور جہاں سے شر کا آغاز ہوگا اللہ تعالیٰ اُس کو ہم سے دُور فرما دے گا اور ہمارے لیے اُس کام کا جو بھی نتیجہ ہو گا وہ یقینا ہمارے لئیے خیر ہی ہوگا ، خواہ وہ بظاہر ہمارے لیے تکلیف دہ ہی نظر آتا ہو ۔
''' اِستخارہ ''' کرنے کی لیے اُس کی تیاری کے بارے بھی کئی خاص ہدایات مفت بہم پہنچائی جاتی ہیں مثلاً ، نہانا چاہیے ، سفید لباس پہننا چاہیے ، رات کے وقت '''اِستخارہ ''' چاہیے ، ''' اِستخارہ ''' کرتے ہوئے اگر بتیاں سُلگا لینی چاہیں ، یا خوشبو اِرد گِرد چھڑک لینا چاہیے ،،،، پھر ،،، سفید بستر پر سونا چاہیئے اور وہ بھی سیدھی کروٹ پر ، منہ قبلہ کی طرف کرکے ، وغیرہ وغیرہ ،
یہ سب باتیں ویسی ہی ہیں جیسی کہ ''' اِستخارہ ''' کے نتیجے کے بارے میں ہیں ، یعنی بے بُنیاد اور مَن گھڑت ، پھر یہ بھی سننے اور پڑھنے میں میسر ہے کہ ، اگر ایک دفعہ ''' اِستخارہ ''' کرنے سے کوئی اِشارہ نہیں ہوتاتو بار بار کرو ، یہاں تک کہ اِشارہ ہو جائے ، کچھ نے اِشارہ نہ ہونے کی صورت میں ''' اِستخارہ ''' کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دِن بھی مقرر کر رکھے ہیں ، اور اگر اِشارہ نہ ہو تو سب مل کر کہتے ہیں ، کام مت کرو ، یہی اِشارہ ہے ، لا حَولَ و لا قُوۃَ اِلَّا بِاللَّہِ ، یہ ہی نتیجہ ہوتا ہے سُنّت کو ترک کر کے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی اپنی سوچ یا فلسفے کے مطابق طریقے اختیار کرنے کا کہ کہیں کوئی راہ مقرر نہیں ہو پاتی ،اور جب راہ ہی گم ہو تو مزل پہ کیا پہنچے گا راہی ((((( فَانَّ اصدَق َ الحَدِیثِ کِتَابُ اللَّہِ ، وَخیرَ الھُدیٰ ھُدیٰ مْحمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَ شَرَّ الامُورِ مُحدَثَاتُھَا ، وَ کُلَّ مُحدَثَۃٍ بِدَعَۃٌ، و کُلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کُلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ ::: بے شک سب سے زیادہ خیر والی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے خیر والی ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے ، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ))))) ۔
''' استخارہ ''' کے بارے میں جو مراسلہ بھیجا گیا تھا اُس میں ایک حدیث لکھی گئی تھی چلتے چلتے اُس پر بھی نظر کرتے چلیں ، یہ حدیث امام الطبرانی نے روایت کی جِس کی سند میں عبدالقدوس ولد عبدالسلام ولد عبد القدوس اپنے باپ سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے ، اور وہ الحسن (البصری)سے کہ انس بن مالک کے بارے میں روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ((((( مَا خَابَ مَن استَخَارَ ولا نَدمَ مَن استَشَارَ ولا عَال مَن اقتَصَدَ ::: جِس نے اِستخارہ کیا وہ خراب نہیں ہوتا ، اور جِس نے مشورہ کِیا وہ شرمندہ نہیں ہوتا ، اور جِس نے میانہ روی اختیار کی وہ مُفلس نہیں ہوتا ))))) المعجم الاوسط/حدیث ٦٦٢٧ ، المعجم الصغیر /٩٨٠،
اِس حدیث کی صحت کے بارے میں، اِمام ابو بکر الھیثمی نے مجمع الزوائد /کتاب الادب /باب ١٣١ ما جاء فی المشاورۃ ،میں فرمایا ::: اِس روایت کی سند میں عبدالقدوس ولد عبدالسلام دونوں( باپ بیٹا ) ضعیف جِداً یعنی ( حدیث روایت کرنے کے معاملے میں )انتہائی کمزور (ناقابل حجت )ہیں ، اگر بفرض محال اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اِس میں اللہ سے مشورہ کرنے کے بات نہیں بلکہ صرف مشورہ کا ذِکر ہے ، اور اگر کوئی یہ سوچے کہ استخارہ کے ذِکر کے بعد مشورہ کرنے کا ذِکر ہے ، اور اِستخارہ صرف اللہ سے کیا جاتا ہے لہذا یہاں اللہ سے مشورہ کرنے کا ذِکر ہے ، جواب میں کہتا ہوں ، اِستخارہ یعنی خیر طلب کرنا کِسی او ر سےخیر طلب نہیں کی جا سکتی کیوں ؟ حدیث کی شرح میں جو بیان کیا گیا ہے اُسے دوبارہ پڑہیئے اِنشاء اللہ سمجھ آ جائے گا کہ یہ صرف اللہ کی قدرت میں ہے کہ وہ کِسی کو کِسی کام میں خیر عطاء فرمائے ، اور مشورہ لینے ، دینے کی قدرت اللہ نے اپنی مخلوق کو بھی دے رکھی ہے ، اگر یہاں ذِکر کیے گئے مشورہ کو اللہ سے مشورہ کرنا مانا جائے تو اللہ تعالیٰ سے کوئی بات یا کام منسوب کرنے کے لیے صاف واضح صحیح نص یعنی قرانی آیت یا صحیح حدیث چاہیے ہوتی ہے ، اپنی سوچ سمجھ عقل فلسفہ و منطق کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات منسوب نہیں کی جا سکتی ، اِسی کو جھوٹ باندھنا ، الزام لگانا کہا جاتا ہے ، اِس موضوع پر مزید بہت بات کی جا سکتی ہے لیکن اُس کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جب یہ حدیث ہی درست اور قابل حجت نہیں تو پھر اِس کی شرح یا تفسیر کے لیے وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
اپنی دُعاؤں میں مجھے مت بھولئیے گا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃ ُ اللہ و برکاتُہ ۔عادِل سُہیل ظفر ۔ ٢٠٠٧/٧/٢٤
صاف اور واضح پڑھائی کے لیے خاص طور پر عربی عبارتوں کے اعراب یعنی زیر زبر وغیرہ کے لیے ایک پی ڈی ایف نسخہ نتھی کیا گیا ہے ،

Attached Files
File Type: pdf istakhara_24_7_007.pdf (375.1 KB, 31 views)


Last edited by عادل سہیل; 20-04-10 at 10:10 PM.. وجہ: ری فارمیٹنگ

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1318
Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
compaq (29-01-12), Miss Khan (12-01-12), shafresha (20-04-10), sjk (21-04-10), فاروق سرورخان (12-10-10), نورالدین (20-04-10), موجو (10-06-09), محمد عاصم (13-10-10), محمدمبشرعلی (12-10-10), مرزا عامر (10-09-10), احمد بلال (18-09-09), حیدر (20-04-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (24-10-10), عبداللہ حیدر (20-04-10), غلام خان (21-10-10)
پرانا 17-10-10, 07:20 PM   #16
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمد بلال مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم
مجھے جو ان ویڈیوزاور تمام ساتھیوں کے لکھے ہوئے مراسلات سے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ
1 ۔استخارہ اور نماز حاجت ایک ہی چیز ہے۔
2 ۔ استخارہ مکروہ اوقات کے علاوہ کسی بھی وقت کیا جا سکتاہے۔
3 ۔استخارہ کر کے جو بھی کام کریں وہ کام ہو یا نہ ہو، اس میں نقصان ہو یا فائدہ، اسے اللہ کی رضا سمجھا جائے۔ "کاش ش ش" کے شیطانی بہکاوے میں نہ آیا جائے۔
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے میں نے استخارہ کرنے کے بعد لوگوں کو نقصان اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا یہ الگ بات ہے کہ کام ان کی توقعات سے کچھ مختلف ہُوا ہو۔ یہ بات صرف میری معلومات کی حد تک ہیں باقی یہ کہ اگر آپ کو اس کا مختلف تجربہ ہو تو میں اس کی مخالفت نہیں کروں گا ۔
عموماً فائدہ ہی ہوتا ہے لیکن شیطان اسے مختلف کر کے دکھا رہا ہوتا ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (17-10-10), عبداللہ آدم (13-01-12)
کمائي نے مرزا عامر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
13-01-12 عبداللہ آدم عموماً فائدہ ہی ہوتا ہے لیکن شیطان اسے مختلف کر کے دکھا رہا ہوتا ہے ۔ 10
پرانا 17-10-10, 07:46 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بالکل مرزا بھائی میرا کہنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ "نقصان "‌ اصل میں ہوتا نہیں ہے۔
کسی کام کے نہ ہونے کوہم نقصان کہ دیتے ہیں حالانکہ اس کام کا نہ ہونا ہی ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔
ویسے استخارہ کا پہلے جو کونسپٹ تھا میرے ذہن میں وہ یہ تھا۔

" رات کو سونے سے پہلے دو نفل ادا کرو۔ دعائے استخارہ کرو۔اور بات کئے بغیر سو جاو۔ خواب نظر آئے تو ٹھیک نہ نظر آئے تو اللہ کام کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں آپکے دل کو مطمئن کر دے گا
۔مطلب کام کے کرنے میں دل مطمئن ہے تو کر لو۔یہی استخارہ کا جواب ہے۔
کام نہ کرنے کے بارے میں دل مطمئن ہو تو نہ کرو۔یہی استخارہ کا جواب ہے۔"

اور اب جو سمجھ آئی ہے استخارہ کے بارے میں
" دنیاوی اور اخروی حوالے سے کام کا مکمل جائزہ لو۔اگر کام جائز(آخرت لے حوالے سے ) اور ٹھیک ( دنیاوی حوالے سے ) ہے۔ تو استخارہ کر کے کام شروع کر دو۔ انشااللہ بہتری ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ میں استخارے اور نماز حاجت کو ایک سمجھا ہوں۔ اگر کونسپٹ کی غلطی ہے تو مہربانی کر کے تصحیح کر دیں۔ "
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (17-10-10)
پرانا 17-10-10, 07:57 PM   #18
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو تصور (Concept) آپ کو سمجھ آیا ہے وہی میرا بھی ہے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا اشارہ ملتا ہے ۔ کچھ لوگوں کو خواب میں اشارے مل جاتے ہیں لیکن اکثر ان کی تعبیر نہیں معلوم ہوتی لہٰذا خواب میں جانے کی بجائے استخارہ کرکے اس کام کو شروع کیا جائے اگر بہتر ہوگا تو وہ کام انتہائی آسان ہوتا چلا جائے گا اور اگر مناسب نہیں ہوگا تو وہ دور ہوجائے گا بغیر نقصان پہنچائے۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (11-01-11), احمد بلال (17-10-10), عبداللہ آدم (13-01-12)
پرانا 18-10-10, 09:41 AM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
جناب احمد صاحب
نماز حاجت کیا ہوتی ہے
میرے کو پہلی بار سننے کو ملا ہے
نماز حاجت
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-10-10), احمد بلال (23-10-10), عبداللہ آدم (24-10-10)
پرانا 18-10-10, 12:53 PM   #20
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
السلام علیکم
جناب احمد صاحب
نماز حاجت کیا ہوتی ہے
میرے کو پہلی بار سننے کو ملا ہے
نماز حاجت
قران پاک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ۔ ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لو۔
اس کی لمبی تفصیل آپ کو شاید عادل صاحب ہی دے سکیں میں صرف اتنا کہوں گا کہ جب آپ کو کسی جائز چیز کی ضرورت ہو تو اللہ کے حضور دو رکعت نفل (فرض نماز کے علاوہ) ادا کیجئے اور اپنی ضرورت کے پورا ہونے کی دعا کیجئے۔ اپنی ضرورت کی دعا کو آپ اپنی زبان میں کر سکتے ہیں اس کے علاوہ دعائے استخارہ ( خیر کی دعا) بھی کر سکتے ہیں۔ اگر اللہ کے علم میں آپ کے لیئے وہ ضرورت فائدہ مند ہو گی تو آپ کی وہ ضرورت پوری ہو جائے گی ورنہ وہ آپ سے دور کر دی جائے گی اور اس کی خواہش آپ کے دل سے نکال جائے گی ۔ اللہ کے حکم سے۔

آپ کا بچہ ایک خوبصورت انگارے کو دیکھ کر اسے پکڑنا چاہتا ہے لیکن آپ اسے اگے نہیں بڑھنے دیتے اور انگارہ اس سے دور کر دیتے ہیں بچے کی نظر میں وہ خوبصورت انگارہ ایک کھیلنے کی چیز ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ اگر بچے نے اسے چھو لیا تو نقصان اٹھائے گا
اللہ کا علم ہمارے علم سے کہیں زیادہ ہے بلکہ یہ کہنا ہوگا کہ ہمارے علم اور اللہ کے علم کا کسی صورت کوئی موازنہ ہی نہیں ہے ۔ تو ہم اپنے حقیر علم سے کسی شے کو اچھا سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ اللہ کے وسیع علم میں وہ کام ہمارے لیئے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (12-01-12), کنعان (11-01-11), منتظمین (18-10-10), احمد بلال (23-10-10)
پرانا 11-01-11, 11:09 PM   #21
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

----------------------
----------------------

Last edited by کنعان; 12-01-11 at 12:00 AM.
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-01-12, 02:27 AM   #22
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,207
کمائي: 23,651
شکریہ: 3,780
1,321 مراسلہ میں 3,018 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیراً ۔۔۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ نماز اور استخارہ ہی کرتی ہوں اور اللہ کے فضل سے پریشانی بھی نہیں ہوتی اللہ کی رضا میں راضی رہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابھی تین چار دن سے ایک مسئلے پراستخارہ کر رہی تھی تو اس کا ارادہ نہیں بنتا تھا، میں بھی جب تک کرتی رہی آج آخر وہ کام ایک حد تک پہنچ کر مجھ سے دور ہو گیا، مگر پتا نہیں کیوں عجیب سی خلش ، بے چینی ہے ، مطمئن تو اس وقت ہو گئ تھی مگردل میں کوئ پھانس سی مستقل چبھ رہی ، پتا نہیں‌ کیا ہو رہا ، آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، کیا یہ شیطان کی طرف سے ہے۔۔۔۔! دل پر بوجھ سا ہے
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-01-12, 12:15 PM   #23
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مگر پتا نہیں کیوں عجیب سی خلش ، بے چینی ہے ، مطمئن تو اس وقت ہو گئ تھی مگردل میں کوئ پھانس سی مستقل چبھ رہی
ایسا عموماً شیطٰن کی طرف سے ہی ہوتا ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
Miss Khan (13-01-12)
جواب

Tags
فرض, قران, لوگ, نظر, مفت, مکمل, اللہ, الزام, بہترین, بھائی, ترک, تعلیم, تعارف, جھوٹ, جواب, حدیث, طاقتور, عقل, عبدالقدوس, صاف, صحیح, صحابہ, صحابی, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ریمنڈ کے ہاتھوں 2 پاکستانیوں کے قتل کے بعد لاہور میں امریکیوں کی سرگرمیاں ختم گلاب خان خبریں 0 25-02-11 05:52 AM
شرم تم کو مگر نہیں آتی.... پاکستانی لڑکیوں کے قومی پرچم کو جسم کے گرد لپیٹ کر مقابلہ حسن میں شرکت جاویداسد خبریں 21 22-08-10 05:04 PM
پاکستان کو درپیش مسائل کی وجوہات میں ہم پاکستانیوں کا کردار ناصر نعمان میرا پاکستان 5 31-07-10 06:36 PM
مستقبل قریب میں پاکستان میں اشیاء کے ریٹ کچھ یوں متوقع ہیں۔ The Great قہقہے ہی قہقے 6 17-10-09 09:07 AM
لوٹن:پاکستانیوں کے گھروں میں چوری کی وارداتیں تشویشناک ہیں عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 08:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger