|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 987
|
||||
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (03-10-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
جی ہاں۔۔۔
لیکن وہ جوتا صاف ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن نہایت ہی ادب کے لحاظ سے یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن نماز اور آزان ہو سکتی ہے۔۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (29-09-08) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس بات کا مجھے بھی پتہ ہے لیکن میں احادیث کی روشنی میں پھیلی ہوئی غلط فہمییوں کا ازالہ چاہتا ہوں۔۔۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (29-09-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مختصر صحیح مسلم -> نماز کے مسائل
باب : جوتے پہن کر نماز پڑھنا ۔ حدیث نمبر : 234 سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (29-09-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی منتطمین ، جوتوں میں نماز پڑھنا جائز عمل ہے ، لیکن جوتوں کا صاف ہی نہیں پاکیزہ ہونا ضروری ہے ، اور ان میں کسی قسم کی تکلیف دہ چیز کا نہ ہونا بھی ضروری ہے ، بھائی زین الدین زیڈ ایف نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے ، وہ صحیح مسلم میں کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب 14 میں ہے اور کتاب کے تسلسل کے مطابق اس کا نمبر 555 ہے ، بھائی زین الدین نے جو نمبر یعنی 234 لکھا ہے شاید وہ صحیح مسلم کے کسی مختصر ایڈیشن میں سے ہو ، بہر حال وہ حدیث صحیح البخاری مٰں بھی ہے ، کتاب اللباس ، باب 36 میں ، اور انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ بات کئی اور صحابہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جن میں ابو ہریرہ ، اوس بن اُبی، عبداللہ بن ابی حبیبہ ، رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ، مزید صحیح احادیث ملاحظہ فرمایے ، ::: (1) ::: عمرو بن شعيب اپنے والد محمد بن عبد الله کے ذریعے سے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ """ رأيت رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو چپلوں اور ننگے پاوں ( دونوں طرح ہی ) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا """ سنن ابو داود ، کتاب الصلاۃ ، باب 90 ، سنن ابن ماجہ ، کتاب اقامۃ الصلاۃ و السُنۃ فیھا ، باب 66 ، ::: (2) ::: اور اپنی اُمت کے لیے جوتوں میں نماز پرھنا جائز قرار دیتے ہوئے فرمایا """ إذا صَلى أحدَكُم فليَلبِس نَعليهِ أو ليخلَعهُما بَين رِجليه ولا يؤذي بِهِما غَيره ::: جب تم سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے چپلیں پہن لے یا انہیں اتارے تو اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھے اور کسی دوسرے کو ان چپلوں کے ذریعے تکیلف نہ دے """ صحیح ابن حبان ، حدیث 2183 ، صحیح اب خزیمۃ ، حدیث 1009 ::: (3) ::: بلکہ اس کی تاکید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا """ خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ في نِعَالِهِمْ ولا خِفَافِهِم ::: یہودیوں کی مخالفت کرو وہ اپنے جوتوں میں اور نہ ہی چمڑے کی جرابوں میں نماز پڑھتے ہیں """ صحیح اب حبان ، حدیث 2186 ، سنن ابو داود ، کتاب الصلاۃ ، باب 90 ، یعنی ، تم لوگ اپنے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھا کرو ، ::::: جوتوں کے پاکیزہ اور کسی تکلیف دہ چیز سے محفوظ ہونے کے بارے میں یہ حدیث دلیل ہے جو کہ ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ """ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ دوران نماز انہوں ے اپنی چپلیں اتار دیں اور اپنی بائیں طرف رکھ دیں ، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی اپنی چپلیں اتار دیں ، جن نماز ختم ہوئی تو دریافت فرمایا """ تم لوگوں نے اپنی چپلیں کیوں اتاریں ؟ """ صحابہ نے عرض کیا ::: اے اللہ کے رسول آپ نے اتاریں تو ہم نے بھی اتار دیں ::: تو ارشاد فرمایا " "" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا وقال إذا جاء أحدكم إلى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى في نَعْلَيْهِ قَذَرًا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا ::: مجھے جبرئیل نے خبر دی تھی کہ میری چپلوں میں کوئی ناپاک ، یا فرمایا ، کوئی تکلیف دہ چیز ہے لہذا میں نے انہیں اتار دیا ، پس تم میں سے جب کوئی مسجد آئے تو دیکھ لیا کرے کہ اگر کہیں اس کے جوتوں میں کوئی ناپاکی یا تکلیف والی چیز ہو ، تو اسے رگڑ کر صاف کر لے اور اپنے جوتوں میں نماز پڑھے""" یہ حدیث ہمارے زیر مطالعہ موضوع کے علاوہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع و اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیکنڑوں مثالوں میں سے ایک ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مطلقا و بذات خود غیب نہ جاننے کے بہت سے دلائل میں سے ہے ، امید ہے یہ احادیث آپ کے سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گی ، ان شا اللہ تعالی ، یہاں ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ احادیث میں """ نعل """ اور """ خُف """ یعنی """ چپل """ اور """ جوتے کے جیسی""" چمڑے کی جراب """ کا ذکر ہے ، لیکن اس کو صر ف ان ہی دو چیزوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس زمانے میں عام طور پر یہ دو چیزیں ہی جوتوں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں ، اس لیے ان کا ذکر ہے ، اب اس زمانے میں جو جوتے استعمال ہوتے ہیں اور مستقبل میں جو استعمال ہوں گے ان مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں پاکیزہ اور کسی بھی تکلیف دہ چیز سے محفوظ ہونے کی صورت میں ان جوتوں میں نماز پڑہی جا سکتی ہے ۔ ::::: جوتے پہن کر اذان دینا یا نہ دینا ::::: اس بارے میں کوئی حدیث میرے علم میں نہیں ، لیکن مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جوتے پہن کر بھی نماز پّڑھا کرتے تھے ، اور اگر نماز پڑھا کرتے تھے تو اذان بھی دیا کرتے ہوں گے ، اگر اذان دیتے ہوئے جوتے اتارے جاتے ، تو یہ خلاف عادت اور خلاف معمول بات یقینا روایت کی جاتی ، و اللہ اعلم بالصواب ، و السلام علیکم ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عبداللہ حیدر; 03-10-08 at 02:33 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپکا شکریہ اپ نے احادیث کی روشنی میں بات کی وضاحت کی۔ اپ نے ایک حدیث کا ذکر نہیںکیا جس میں حضور (ص) نے فرمایا تھا کہ زمین یا مٹی جوتے کی پاکی ہے۔۔۔
اقتباس:
والسلام |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
چچا جان۔ میں اس مراسلے کی تدوین کر کے عربی متن کو ٹھیک کر دیا ہے۔ منتظمین بھائی نے فورم کے فونٹس میں ٹریڈیشنل عریبک کا اضافہ کر دیا ہے۔ لہٰذا عربی متن پوسٹ کرتے وقت فونٹ کا ٹیگ لگا دیا کریں تو بہتر ہو گا۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (02-10-08), تفسیر حیدر (02-10-08) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ایک دوسرے دھاگے میں سوال اٹھا تھا کہ کیا عورت کی امامت جائز ہے؟ ایک امریکی چرچ میں کسی عورت نے نماز پڑھائی اور مردوں کی امامت کرائی۔ جبکہ دوسری تاریک خیال عورت نے ننگے سر اذان دی اور وہ جوتے پہنے ہوئے تھی۔ اسی دھاگے میں ایک صاحب کا کہنا تھا کہ عورت کی امامت ٹھیک ہے اور وہیں ضمنًا یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ جوتے پہن کر اذان دینا کیسا ہے۔میرا خیال ہے اسی الجھن کو صاف کرنے کے لیے یہ بات یہاں اٹھائی گئی ہے۔ اگر نہیں تو معذرتخواہ ہوں۔
Last edited by عبداللہ حیدر; 02-10-08 at 06:03 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس بات کے قطع نظر کہ عورت وہ فعل کیسا تھا میں نے عام اراکین میں اس بارے میں کچھ غلط فہمیوںکو دیکھتے ہوئے ہی یہ سوال اٹھایا تھا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (02-10-08), عبداللہ حیدر (02-10-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,793
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وہ دھاگہ تو مقفل کردیا گیا ہے لیکن میری عادل چچا اور عبداللہ بھائی سے گزارش ہے کے کسی نئے دھاگےمیں عورت کی امامت کے حوالے سے بات واضح کر دیں۔
اللہ ہمیں دین کی سمجھ دے ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
|
||
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (03-10-08) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام و علیکم
ماشا اللہ تمام دوستوں نے بہت خوبی کے ساتھ اس بات کو مکمل کیا ہے، میں اس میں ایک سوال شامل کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آج کل کے مروجہ جوتوں میں جن میں پاؤں مکمل ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں نماز درست ہوگی جبکہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جو جوتے استعمال ہوتے تھے ان میں پاؤں کی انگلیاں زمین سے لگتی تھیں یعنی کھلی چپل استعمال ہوتی تھی بجائے بند جوتے کے جسے ہم بوٹ بھی کہتے ہیں تو کیا بوٹ پہن کر نماز درست ہوتی ہے کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم کچھ اسطرح سے ہے کہ اگر سجدے میں پاؤں ایک لمحہ کو بھی زمین کو نہ لگیں تو نماز درست نہیں ہوتی جبکہ بوٹ پہن کر تو پاؤں کا کوئی بھی حصہ زمین کو مس نہیں کرسکتا؟ والسلام
__________________
![]() |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (03-10-08), عبداللہ حیدر (03-10-08) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی ، یہ حدیث میں نے ذکر کی ہے لیکن ایک بھول ہو گئ کہ آخری حصے کا ترجمہ رہ گیا ، اس کی ابھی تصحیح کیے دیتا ہوں ان شا اللہ ، حدیث یہ ہے ::: ::::: جوتوں کے پاکیزہ اور کسی تکلیف دہ چیز سے محفوظ ہونے کے بارے میں یہ حدیث دلیل ہے جو کہ ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ """ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ دوران نماز انہوں ے اپنی چپلیں اتار دیں اور اپنی بائیں طرف رکھ دیں ، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی اپنی چپلیں اتار دیں ، جن نماز ختم ہوئی تو دریافت فرمایا """ تم لوگوں نے اپنی چپلیں کیوں اتاریں ؟ """ صحابہ نے عرض کیا ::: اے اللہ کے رسول آپ نے اتاریں تو ہم نے بھی اتار دیں ::: تو ارشاد فرمایا """ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا وقال إذا جاء أحدكم إلى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى في نَعْلَيْهِ قَذَرًا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا ::: مجھے جبرئیل نے خبر دی تھی کہ میری چپلوں میں کوئی ناپاک ، یا فرمایا ، کوئی تکلیف دہ چیز ہے لہذا میں نے انہیں اتار دیا ، پس تم میں سے جب کوئی مسجد آئے تو دیکھ لیا کرے کہ اگر کہیں اس کے جوتوں میں کوئی ناپاکی یا تکلیف والی چیز ہو ، تو اسے رگڑ کر صاف کر لے اور اپنے جوتوں میں نماز پڑھے """ ایک دفعہ پھر شکریہ ، میں آصل جگہ میں بھی ترجمے میں اضافہ کر دوں گا ان شا اللہ ، رہا معاملہ زمین سے رگڑ کر صاف کرنے والے الفاظ کا تو وہ اسی مندرجہ بالا حدیث کی دوسری روایت میں ہیں جو المستدرک الحاکم ، صحیح ابن خزیمہ اور سنن البہیقی الکبریٰ میں ہیں کہ """ فلیسمحھما بالارض ::: تو دونوں جوتوں کو زمین سے رگڑ لے """ المستدرک الحاکم ، حدیث 955 ، کتاب الصلاۃ کی حدیث 282 ، صحیح ان خزیمہ ، حدیث 786 ، اور 1017 ، سنن البیہقی الکبریٰ ، کتاب الحیض ، باب 527 ، حدیث 3889 ، اس روایت کی صحت میں امام البیہقی کی طرف سے اعتراض کیا گیا ہے ، جو وہیں سنن البیہقی میں مذکور ہے ، اس لیے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا ، یوں بھی یہ بات واضح ہی ہے کہ مسجد میں آنے کے بعد نمازی پلیدگی کو اپنے یا کسی کے کپڑے سے نہیں پونچھےیا رگڑے گا بلکہ زمین سے رگڑ کر ہی صاف کرے گا ، اس لیے صحیح احادیث میں """ بالارض ::: زمین کے ساتھ """ کے الفاظ نہیں ملتے ، و اللہ اعلم بالصواب ، میرے بھائی ، متازعات ایک انتہائی خوفناک چیز سمجھی جا رہی ہے ، بہرحال میں نے آپ کے خوف و اندیشوں کے باعث ہی صرف اشارۃ بات کی ہے کوئی لمبی بحث نہیں جاری کی ، رہا معاملہ الگ موضوع بنانے کا تو شاید آپ کو اندازہ ہو ہی گیا ہو گا کہ میں بذات خود کسی بحث کا آغاز نہیں کرتا ، اور کسی متناع مسئلہ کو نہیں کھولتا ، لیکن اگر کہیں کوئی قران و صحیح حدیث کے خلاف بات کا اظہار یا اصرار کرتا نظر آئے تو خاموش رہنے کا گناہ کرنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا ، اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے اور ہمیں حق جاننے سمجھنے اپنانے اور اس کو نشر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (03-10-08), تفسیر حیدر (03-10-08) |
![]() |
| Tags |
| arabic, color, فورم, پوسٹ, ونڈوز, قران, لوگ, نماز, نظر, مسجد, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, خلاف, خبر, دوران نماز, دریافت, عورت, صاف, صحیح, صحابہ, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جوتے جوتے پر لکھا ہے۔۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 26-10-10 11:31 PM |
| کرپشن سکینڈل نہ ہوتے تو آج حکومت کیساتھ ہوتے ، نواز شریف | جاویداسد | خبریں | 2 | 11-09-10 12:36 PM |
| سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنا منع ہے۔ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 0 | 14-08-10 11:07 PM |
| بوتل اور زندگی | طاھر | گپ شپ | 9 | 12-01-10 01:59 AM |
| منتظر کے جوتے کی حوصلہ افزائی کے لیےجوتےکامجسمہ | راجہ اکرام | خبریں | 0 | 30-01-09 04:53 PM |