|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 781
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | کنعان (11-04-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), حیدر Rehan (09-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " إذا قال الإمام سمع الله لمن حمده. فقولوا اللهم ربنا لك الحمد. فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے سمی سے خبر دی ، انہوں نے ابوصالح ذکوان کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ر بنا و لک الحمد کہو ۔ کیوں کہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہوگا ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : اللہم ر بنا و لک الحمد پڑھنے کی فضیلت |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
قال أبو حميد رفع النبي صلى الله عليه وسلم واستوى جالسا حتى يعود كل فقار مكانه.
اور ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو سیدھے اس طرح کھڑے ہو گئے کہ پیٹھ کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آگیا ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن ثابت، قال كان أنس ينعت لنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فكان يصلي وإذا رفع رأسه من الركوع قام حتى نقول قد نسي.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے ۔ چنانچہ آپ نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ بھول گئے ہیں ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن أبي ليلى، عن البراء ـ رضى الله عنه ـ قال كان ركوع النبي صلى الله عليه وسلم وسجوده وإذا رفع رأسه من الركوع وبين السجدتين قريبا من السواء.
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع ، سجدہ ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي قلابة، قال كان مالك بن الحويرث يرينا كيف كان صلاة النبي صلى الله عليه وسلم وذاك في غير وقت صلاة، فقام فأمكن القيام، ثم ركع فأمكن الركوع، ثم رفع رأسه فأنصت هنية، قال فصلى بنا صلاة شيخنا هذا أبي بريد. وكان أبو بريد إذا رفع رأسه من السجدة الآخرة استوى قاعدا ثم نهض.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ایوب سختیانی سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے ۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی ۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
وقال نافع كان ابن عمر يضع يديه قبل ركبتيه.
اور نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ( سجدہ کرتے وقت ) پہلے ہاتھ زمین پر ٹیکتے ، پھر گھٹنے ٹیکتے ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدہ کے لیے اللہ اکبر کہتا ہوا جھکے |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو اليمان، قال حدثنا شعيب، عن الزهري، قال أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وأبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة، كان يكبر في كل صلاة من المكتوبة وغيرها في رمضان وغيره، فيكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول سمع الله لمن حمده. ثم يقول ربنا ولك الحمد. قبل أن يسجد، ثم يقول الله أكبر. حين يهوي ساجدا، ثم يكبر حين يرفع رأسه من السجود، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع رأسه من السجود، ثم يكبر حين يقوم من الجلوس في الاثنتين، ويفعل ذلك في كل ركعة حتى يفرغ من الصلاة، ثم يقول حين ينصرف والذي نفسي بيده إني لأقربكم شبها بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم إن كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے ۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں ۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو ، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور اس کے بعد ر بنا و لک الحمد سجدہ سے پہلے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت اللہ اکبر کہتے ۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولی کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں ۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدہ کے لیے اللہ اکبر کہتا ہوا جھکے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، غير مرة عن الزهري، قال سمعت أنس بن مالك، يقول سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فرس ـ وربما قال سفيان من فرس ـ فجحش شقه الأيمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة، فصلى بنا قاعدا وقعدنا ـ وقال سفيان مرة صلينا قعودا ـ فلما قضى الصلاة قال " إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا وإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده. فقولوا ربنا ولك الحمد. وإذا سجد فاسجدوا ". قال سفيان كذا جاء به معمر قلت نعم. قال لقد حفظ، كذا قال الزهري ولك الحمد. حفظت من شقه الأيمن. فلما خرجنا من عند الزهري قال ابن جريج ـ وأنا عنده ـ فجحش ساقه الأيمن.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بار بار زہری سے یہ بیان کیا کہ انہوں نے کہاکہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے ۔ سفیان نے اکثر ( بجائے عن فرس کے ) من فرس کہا ۔ اس گرنے سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تو ہم آپ کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے ۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم بھی بیٹھ گئے ۔ سفیان نے ایک مرتبہ کہا کہ ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ۔ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ۔ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ر بنا ولک الحمد کہو اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۔ ( سفیان نے اپنے شاگرد علی بن مدینی سے پوچھا کہ ) کیا معمر نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی تھی ۔ ( علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر سفیان بولے کہ معمر کو حدیث یاد تھی ۔ زہری نے یوں کہا و لک الحمد ۔ سفیان نے یہ بھی کہا کہ مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا آپ کا دایاں بازو چھل گیا تھا ۔ جب ہم زہری کے پا س سے نکلے ابن جریج نے کہا میں زہری کے پاس موجود تھا تو انہوں نے یوں کہا کہ آپ کی داہنی پنڈلی چھل گئی ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدہ کے لیے اللہ اکبر کہتا ہوا جھکے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثني بكر بن مضر، عن جعفر، عن ابن هرمز، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض إبطيه. وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة نحوه.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا ، انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے ، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہوجاتی تھی ۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدے میں دونوں بازو کھلے اور پیٹ رانوں سے الگ رکھے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
قاله أبو حميد الساعدي عن النبي صلى الله عليه وسلم.
سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا چاہئے ۔ اس بات کو ابوحمید صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا چاہئے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يسجد على سبعة أعضاء، ولا يكف شعرا ولا ثوبا الجبهة واليدين والركبتين والرجلين
. ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا ۔ اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) پیشانی ( مع ناک ) دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سات ہڈیوں پر سجدے کرنا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا معلى بن أسد، قال حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة ـ وأشار بيده على أنفه ـ واليدين، والركبتين وأطراف القدمين، ولا نكفت الثياب والشعر ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے ۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر ۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : سجدہ میں ناک بھی زمین سے لگانا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ حیدر (09-04-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
وقال أبو حميد سجد النبي صلى الله عليه وسلم ووضع يديه غير مفترش ولا قابضهما.
اور ابو حمید نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھے بازو نہیں بچھائے نہ ان کو پہلو سے ملایا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن خالد، عن سعيد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء،. وحدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، ويزيد بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، أنه كان جالسا مع نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فقال أبو حميد الساعدي أنا كنت أحفظكم لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم رأيته إذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه، وإذا ركع أمكن يديه من ركبتيه، ثم هصر ظهره، فإذا رفع رأسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه، فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما، واستقبل بأطراف أصابع رجليه القبلة، فإذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى، وإذا جلس في الركعة الآخرة قدم رجله اليسرى ونصب الأخرى وقعد على مقعدته. وسمع الليث يزيد بن أبي حبيب ويزيد من محمد بن حلحلة وابن حلحلة من ابن عطاء. قال أبو صالح عن الليث كل فقار. وقال ابن المبارك عن يحيى بن أيوب قال حدثني يزيد بن أبي حبيب أن محمد بن عمرو حدثه كل فقار.
ہم سے یحیٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے خالد سے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، اور ان سے یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمدنے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے ، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے ۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے ۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو ( زمین پر ) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے ۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے ۔ لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید بن محمد بن حلحلہ سے سنا اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے ، اور ابوصالح نے لیث سے کُلُّ قَفَارٍ مَکَانَہ نقل کیا ہے اور ابن المبارک نے یحییٰ بن ایوب سے بیان کیا انھوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان سے حدیث میں کُلُّ فَقَار بیان کیا۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) باب : تشہد میں بیٹھنے کامسنون طریقہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (25-12-10), عبداللہ آدم (09-04-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کہہ, کرے, پہلے, وسلم, لگا, لے, نماز, مجید, مسائل, آیا, اپنے, اللہ, السلام, اچھی, اتنے, تکبیر, تعلیم, جواب, دے, شخص, طریقہ, عمری, عبید, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار | یاسر عمران مرزا | Computer Certifications | 29 | 20-03-11 12:11 AM |
| سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا | گلاب خان | خبریں | 16 | 08-01-11 04:53 AM |
| تعلیمی سیمینار تعلیم | Real_Light | خبریں | 0 | 21-04-08 09:20 AM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |