|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 329
|
||||
|
|
#3 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
اس لنک پر مسئلہ رفع الیدین پر صحیح ترین احادیث کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسئلہ رفع الیدین انہیں ایک نظر دیکھ لیں۔ "کبھی کبھار" اس لیے کہ باقی دسیوں بیسیوں صحابہ کی روایات میں اس مقام پر ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیںہے، صرف مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے اسے کو بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر رفع الیدین میں ہمیشگی مقصود نہیں۔ واللہ اعلم |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اس طرح تو باقی احادیث، جن میں رکوع جاتے اور اٹھتے ہوئ سر اٹھانے کا ذکر نہیں ہے، ان روایات کی بنیاد پر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان مقامات پر بھی کبھی کبھی کرنا چاہیے اور کبھی بکھی نہیں؟؟
یہ تو دوٹوک سی بات نہ ہوئی نا
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
میں پچھلے مراسلے میں اپنا مدعا ٹھیک طرح نہیں سمجھا سکا جس سے شبہ پیدا ہوا۔ آپ نے ٹھیک اشارہ کیا ہے کہ بہت سی احادیث میں عدم ذکر عدم فعل پر دلالت نہیںکرتا لیکن نکتہ زیر بحث محض عدم ذکر کی وجہ سے نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا بلکہ احادیث میں "ولا يرفعهما بين السجدتين" کے الفاظ صراحت کے ساتھ آئے ہیں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اس بارے میں دوسر ے ائمہ بھی علامہ البانی رحمہ اللہ کے ہمنوا ہیں یا یہ ان کی ہی تحقیق ہے کہ ما بین السجدتین رفع الیدین کی احادیث پایہ استدلال کو پہنچتی ہیں؟؟
مطلب پہلوں سے بھی یہ معمول ملتا ہے ہمیں؟؟ کیونکہ سنی سنائی سی بات ہے کہ یہ صرف شیخ البانی کے نزدیک ہے . |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
شیخ نے اصل صفۃ صلاۃ النبی جلد 2 ص 706 سے اس مسئلے پر تفصیلًا گفتگو کی ہے جس کے مطابق سلف کی ایک جماعت سجدوں کے درمیان بلکہ نماز میں کسی بھی موقع پر جھکنے یا کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کی قائل تھی۔ ان میں طاؤس، مکحول، عبداللہ بن دینار، سالم ، حسن بصری، ابن سیرین، مجاہد، عطاء، قیس بن سعد، حسن بن مسلم رحمہم اللہ کے نام شامل ہیں۔ ائمۃ الفقہ و الحدیث میں سے امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک روایت اس پر عمل کے بارے منقول ہے۔ امام ابن حزم اور ابن القطان نے اس مضمون کی احادیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی سے بھی ایک ایک قول اس کی تائید میں مذکور ہے۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 09-02-12 at 12:52 AM. وجہ: املاء کی درستگی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | حیدر (09-02-12), عبداللہ آدم (09-02-12) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,459
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سجدہ جاتے ہوئے یا سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کرنے والی کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے !
__________________
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
جامعہ دار الحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,459
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لہذا یہ روایت پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی ! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
کیا یہ افسوس کی بات نہی کہ 1400 سو سال میں اب تک ہمیں طریقہِ صلواہ/نماز/دعا معلوم نہی ہو سکا ؟؟
بے شک اللہ کی بارگاہ میں دعاوں کی قبولیت کے لیے نماز ایک بہترین وسیلہ بھی ہے۔ نوٹ ۔۔لفظ صلواہ/دعا تو نماز میں وہ ہے جو ہم ’سورہ الحمد‘ کی صورت میں ہم پڑھتے ہیں۔رکوع اور سجود میں اللہ کی تعریف کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حقیقت نماز کیا ہے؟ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (10-02-12) |
|
|
#11 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
حدیث پر کسی محدث کے لگائے ہوئے حکم کو رد کرنے کے لیے جو علمی پایہ درکار ہے میں اس سے تہی دامن ہوں۔ آپ کی خدمت میں "تمام المنۃ فی التعلیق علی فقہ السنۃ" سے وہ بحث پیش کرتا ہوں جس میں شیخ البانی نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ "العلة الأخرى عنده: الهيثم بن عمران العبسي. لقد سود صاحبنا حولها عشر صفحات دون فائدة تذكر واستطرد أحيانا - كعادته في "جزئه" - في ذكر أمور لا علاقة لها بالعلة المزعومة. وخلاصة كلامه فيها أن الهيثم هذا روى عنه خمسة فهو مجهول الحال عنده وجل ما أورده أخذه من بعض مؤلفاتي. ثم ذكر كلام الحافظ في "اللسان" في نقد مسلك ابن حبان في توثيق الراوي ولو لم يرو عنه إلا واحد ثم نقل عني مثل ذلك من مواضع من كتبي. وهذا حق ولكنه لم يستطع لحداثة عهده بهذا العلم أن يفرق بين هذا المسلك المنتقد وبين ما سلكته في تقوية حديث الهيثم هذا لرواية الثقات الخمسة عنه. وقدم للقراء مثلا ليبين لهم تناقضي - بزعمه - في هذا المجال حديث معاذ في القضاء وأني حكمت بنكارته بأمور منها جهالة الحارث بن عمرو مع توثيق ابن حبان إياه. فهو يتوهم أن كل من وثقه ابن حبان فهو مجهول إما عينا وإما حالا. وهنا يكمن خلطه وخطؤه الذي حمله على القول ص 56 بأنني جاريت ابن حبان في مسلكه المذكور. والآن أقدم الشواهد الدالة على صواب مسلكي وخطئه فيما رماني به من أقوال أهل العلم. 1 - قال الذهبي في ترجمة مالك بن الخير الزبادي: "محله الصدق ... روى عنه حيوة بن شريح وابن وهب وزيد بن الحباب ورشدين. قال ابن القطان: هو ممن لم تثبت عدالته ... يريد أنه ما نص أحد على أنه ثقة ... والجمهور على أن من كان من المشايخ قد روى عنه جماعة ولم يأت بما ينكر عليه أن حديثه صحيح" وأقره على هذه القاعدة في "اللسان" وفاتهما أن يذكرا أنه في "ثقات ابن حبان" 7 / 460 وفي "أتباع التابعين" كالهيثم بن عمران هذا! وبناء على هذه القاعدة - التي منها كان انطلاقنا في تصحيح الحديث - جرى الذهبي والعسقلاني وغيرهما من الحفاظ في توثيق بعض الرواة الذين لم يسبقوا إلى توثيقهم مطلقا فانظر مثلا ترجمة أحمد بن عبدة الآملي في "الكاشف" للذهبي و "التهذيب" للعسقلاني. وأما الذين وثقهم ابن حبان وأقروه بل قالوا فيهم تارة: "صدوق" وتارة: "محله الصدق" وهي من ألفاظ التعديل كما هو معروف فهم بالمئات فأذكر الآن عشرة منهم من حرف الألف على سبيل المثال من "تهذيب التهذيب" ليكون القراء على بينة من الأمر: 1 - أحمد بن ثابت الجحدري. 2 - أحمد بن محمد بن يحيى البصري. 3 - أحمد بن مصرف اليامي. 4 - إبراهيم بن عبد الله بن الحارث الجمحي. 5 - إبراهيم بن محمد بن عبد الله الأسدي. 6 - إبراهيم بن محمد بن معاوية بن عبد الله. 7 - إسحاق بن إبراهيم بن داود السواق. 8 - إسماعيل بن إبراهيم البالسي. 9 - إسماعيل بن مسعود بن الحكم الزرقي. 10 - الأسود بن سعيد الهمداني. كل هؤلاء وثقهم ابن حبان فقط. وقال فيهم الحافظ ما ذكرته آنفا من عبارتي التوثيق ووافقه في ذلك غيره من الحفاظ في بعضهم وفي غيرهم من أمثالهم ومن عادته أن يقول في غيرهم ممن وثقهم ابن حبان ممن روى عنه الواحد والاثنان: "مستور" أو: "مقبول". كما حققته في موضع آخر. فأخشى ما أخشاه أن يبادر بعض من لا علم عنده إلى القول: إن الحافظ قد جارى ابن حبان في تساهله في توثيق المجهولين كما قال مثله مؤلف "الجزء في كاتب هذه السطور" لأنه لا يعرف - ولو تقليدا - الفرق بين راو وآخر ممن وثقهم ابن حبان وحده إن عرفه لم يدرك وجه التفريق المذكور وهو ما كنت أشرت إليه في تقوية الهيثم بن عمران راوي حديث العجن ونقله المؤلف المشار إليه في "جزئه" بقوله ص 58. "إنه جعل رواية أولئك الخمسة عنه سببا لاطمئنان النفس لحديثه". ثم رده بقوله: "والأحاديث لا تصحح بالوجدان كالشأن في الرؤيا"!! كذا قال - سامحه الله - فإني لم أصحح الحديث بمجرد الوجدان - كما قال - وإنما بالبحث الدقيق عن أصل الحديث وإسناده الذي فات على جميع من ألف في تخريج الأحاديث كما اعترف به المؤلف ص 40 و41 وفي حال رواته وبخاصة منهم الهيثم والرواة عنه حتى قام في النفس الاطمئنان لحديثه وحسن الظن به كما يدل عليه قول الحافظ السخاوي في بحث "من تقبل روايته ومن ترد" مبينا وجه قول من قبل رواية مجهول العدالة 1 / 298 - 299: "لأن الأخبار تبنى على حسن الظن بالراوي" قلت: ولا سيما إذا كثر الرواة الثقات عنه ولم يظهر في روايتهم عنه ما ينكر عليه كما هو الشأن في الهيثم قال السخاوي: "وكثرة رواية الثقات عن الشخص تقوي حسن الظن به". فهذا هو وجه توثيق الذهبي والحافظ لمن سبق ذكر هم ممن تفرد بتوثيقهم ابن حبان وهم من جهة أخرى لا يوثقون غيرهم من "ثقاته"!! وللعلامة المعلمي اليماني في رده على الكوثري كلام نفيس في من وثقهم ابن حبان وأنهم على خمس درجات كلها معتمدة لديه إلا الأخيرة منها فمن شاء التفصيل رجع إليه في "التنكيل" مع تعليقي عليه 1 / 437 - 438. وجملة القول أن صاحب "الجزء" أخطأ خطأ ظاهرا في تضعيفه لحديث ابن عمر في العجن لأنه اعتمد فيه على بعض ما قيل في توثيق ابن حبان ولم يعرف تفصيل القول في ذلك الذي جرى عليه عمل الحفاظ كالذهبي والعسقلاني وعلى نقول متناقضة لم يجد له مخرجا منها إلا باعتماده على ما يناسب تضعيفه للحديث منها! وأفحش منه تشكيكه في سنية الاعتماد على اليدين عند النهوض مع ثبوته في حديثين مرفوعين غير حديث العجن في أحدهما التصريح بالاعتماد على اليدين والآخر يلتقي معه عند العلماء ويؤيده. وبعد فإن مجال نقد "الجزء" تفصيليا وإظهار ما فيه من المخالفات لأقوال العلماء وأصولهم وتقويته ما لا يصح من الحديث واستشهاده ببعض الأقوال ووضعها في غير موضعها ومبالغته في بعض الأمور والتهويل فيها مجال واسع جدا يتطلب بيان ذلك من الوقت ما لا أجده الآن فإن وجدته فيما يأتي من الأيام بادرت إلى بيانه في كتاب خاص والله تعالى هو المستعان وعليه التكلان. ثم قال في هيئة السجود: "يستحب للساجد أن يراعي في سجوده ما يأتي: 1 تمكين أنفه وجبهته ويديه من الأرض مع مجافاتهما عن جنبيه". قلت: بل هذا كله من الواجبات التي جاء ذكرها في حديث المسئ صلاته وفي غيره كما تراه موضحا مخرجا في "صفة الصلاة" ص 148 - 153. تمام المنة في التعليق على فقه السنة (ص: 207) |
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (10-02-12) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,459
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شیخ البانی رحمہ اللہ کا یہ موقف ہماری نظر میں درست نہیں !
کیونکہ تین یا زائد ثقات کا کسی مجہول سے روایت کرنا اسکی جہالت عینیہ کو تو مرتفع کرتا ہے جہالت حالیہ کونہیں ! اسی موضوع پر گزشتہ دنوں فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ سے میری ایک طویل نشست ہوئی ۔ جس میں ہم نے نتیجہ یہی نکالا کہ ثقات کا کسی مجہول روای سے روایت کرنا اسکی جہالت حال کومرتفع نہیں کرسکتا ۔ اور اس باب میں شیخ البانی رحمہ اللہ کا یہ اصول مبنی بر سہو ہے ۔ سامحہ اللہ ۔ اور جب ابن حبان کی توثیق کی مل جائے تو اس راوی کی عدالت کے بارہ میں بھی حسن ظن پیدا ہو جاتا ہے لیکن ضبط واتقان بہر حال مشکوک ہی رہتا ہے ۔ واللہ اعلم میں اس موضوع پر بہت سے اہل علم سے بحث کر چکا ہوں ۔ اور ابھی مزید جاری ہے ۔ ابن حبان کی توثیق کے ساتھ اگر کسی راوی کا معروف ہونا ثابت ہوجائے تو میرا خیال ہے کہ اسے حسن الحدیث ہونا چاہیے ۔ لیکن فی الحال میں اپنے اس موقف پر فضیلۃ الشیخ حافظ محمد زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے سوا اور کسی سے بات نہیں کر پایا ۔ اور شیخ زبیر حفظہ اللہ نے میرے موقف کی طرف میلان ظاہر کیا ہے ۔ بہر حال بحث جاری ہے ۔ دیکھیے کہ کیا نتیجہ نکلتاہے ۔ لیکن الہیثم بن عمران کے بارہ میں اسکا معروف ہونا بھی مجھے نہیں ملا ہے ۔ الا کہ اس سے تین سے زائد ثقات روایت کرتے ہیں ! ویسے میں ذاتی طور پر مسئلہ تعجین میں وسعت رکھتا ہوں ۔ کیونکہ اعتماد على الارض والی روایات میں ہاتھوں کی کیفیت ذکر نہیں ہے ۔ تو گویا اس میدان میں مجال وسیع ہے ۔ اگر کوئی تعجین والا طریقہ اپناتا ہے تو بھی درست ہے اور اگر کوئی ہتھیلی زمین پر لگاتا ہے تو بھی درست ہے ۔ اور تعجین والا عمل اس ہیثم بن عمران والی روایت کی وجہ سے نہیں بلکہ مجال کے وسیع ہونے کی وجہ سے ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستان صنوبر کے جنگلات کا دوسرا بڑا ذخیرہ | سید محمد عابد | اپکے کالم | 0 | 26-09-11 10:53 AM |
| دہشت گردی کا خطرہ، پاکستان دوسرے نمبر پر | ALI-OAD | خبریں | 2 | 16-11-10 07:13 AM |
| افغانستا ن دوسر ا گو انتا نا مو بے | جاویداسد | خبریں | 3 | 10-09-10 12:43 PM |
| پاکستان سے وسط ایشیا تک ایکو ٹرین چلائی جائے گی | Real_Light | خبریں | 7 | 14-10-09 11:02 AM |
| پاکستان دنیا کا نواں اور سارک کا دوسرا بدعنوان ترین ملک ، ماہرین | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 11:15 AM |