واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > نماز



نماز نماز


مسنون نماز کی چالیس حدیثیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-12-10, 12:24 PM   #1
مسنون نماز کی چالیس حدیثیں
sahj sahj آف لائن ہے 25-12-10, 12:24 PM

مسنون نماز کی چالیس حدیثیں

((("برائے فقہ حنفی ")))

1
وضو کا طریقہ

وَعَنْ عُثْمَانَ اَنَّہُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ اَلَا اُرِےْکُمْ وُضُوْءَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَتَوَضَّأَ ثَلٰثًا ثَلٰثًا۔

صحیح مسلم ، فصل الوضو

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کیا تمہیں وضو کا مسنون طریقہ نہ بتاؤں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور تین تین دفعہ اعضاء کو دھویا۔

2
گردن پر مسح کرنا

عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من توضا ومسح یدیہ علٰی عنقیہ وقی العل یوم القیامۃ

تلخیص الحبیر ،ج1، ص93

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس نے وضو کے دوران ہاتھوں سے گردن کا مسح کیا وہ قیامت کے دن گردن میں بیڑیاں پہنائے جانے سے بچ گیا ۔

""شارح صحیح بخاری علامہ ابن حضر رحمہ اللہ نے "تلخیص الحبیر " میںاس حدیث کو صحیح کہا ھے ، علامہ شوکانی نے "نیل الاوطار" میں بھی ایسا ہی لکھا ھے ۔""


جرابوں پر مسح کرنا

وضو کے دوران جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں، چونکہ ایسا کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ، علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الاحوذی شرح ترمزی ج1،ص233 میں اور میاں نزیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے فتاوٰی نزیریہ ج1،ص327 اور مولانا اشرف الدین نے فتاوٰی ثنائیہ ج1،ص423 میں لکھا ھے کہ جرابوں پر مسح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ھے ۔


3
اوقات نماز

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ صل الظھر اذا کان ظلک مثلک والعصر اذا کان ظلک مثلک و المغرب اذا غربت الشمس والعشاء ما بینک و بین ثلث اللیل وصل الصبح ۔۔۔۔۔ یعنی الفلس ۔

موطاء امام مالک،ج1 ص8

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ھے کہ تیرا سایہ برابر ھوجائے تو ظہر کی نماز ادا کرو اور جب یہ سایہ دوگنا ھوجائے تو عصر کی نماز ادا کرو اور آفتاب غروب ھونے پر مغرب کی نماز پڑھ جب کہ عشاء کا وقت رات کے تہائی حصہ تک اور فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کر ۔


4
ظہر کا مسنون وقت

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اشتد الحر فابردو الصلوٰۃ فان شدۃ الحر من فیح جھنم ۔

صحیح مسلم ،استحباب الابراد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ جب گرمی زیادہ ھوتو
ظھر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو چونکہ گرمی شدت جہنم کا اثر ھے ۔


5
عصر کا مسنون وقت

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوخر العصر مادامت الشمس بیضاء نقیۃً

ابوداؤد ،وقت العصر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کو دیر سے پڑھتے تا آنکہ سورج صاف اور سفید ھوتا۔


6
فجر کا مسنون وقت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ قَالَ وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَيْضًا عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَجَابِرٍ وَبِلَالٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ الْإِسْفَارَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ مَعْنَی الْإِسْفَارِ أَنْ يَضِحَ الْفَجْرُ فَلَا يُشَکَّ فِيهِ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ مَعْنَی الْإِسْفَارِ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ

ترمزی ،


ہناد، عبدہ، محمد بن اسحاق، عاصم بن عمر بن قتادہ، محمود بن لبید، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ "" فجر کی نماز روشنی میں پڑھو کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے "" اس باب میں ابوبرزہ جابر بلال سے بھی روایات مذکور ہیں اور روایت کیا ہے اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے محمد بن اسحاق اور محمد بن عجلان نے بھی اس حدیث کو عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کیا ہے امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں رافع خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر اہل علم صحابہ و تابعین میں سے کہتے ہیں کہ فجر کی نماز روشنی میں پڑھی جائے اور یہی قول ہے سفیان ثوری کا امام شافعی اور امام احمد فرماتے ہیں کہ اسفار کا معنی یہ ہے کہ فجر واضح ہو جائے اور اس میں شک نہ رہے اس میں اسفار کے معنی یہ نہیں ہے کہ دیر سے نماز پڑھی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ فجر کی نماز اسفاء میں پڑھو (جب روشنی ھونے لگے) چونکہ اس کا ثواب بہت زیادہ ھے ۔



7

اقامت کے مسنون کلمات

ان بلالاً کان یثنی الاذان و یثنی الاقامۃ

اسناد صحیح مصنف عبدالرزاق

مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان و اقامت دوہری دوہری کہا کرتے تھے ۔

مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابومحزورہ رضی اللہ عنہ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کا معمول بھی یہی تھا ۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوطار ،ج1،ص24 میں اسی کو ترجیح دی ھے ۔



8

سر ڈھانپنا

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکثر القناع

شمائل ترمزی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات اپنے سر مبارک پر کپڑا رکھتے تھے۔

فتاوٰی ثنائیہ ،ج1،ص525 میں لکھا ھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سر ڈھانپ کر نماز پڑھتے تھے ۔ نیز مولانا اشرف الدین ،ج1،ص523 پر لکھتے ہیں کہ قصداً ٹوپی اتار کر ننگے سر نماز پڑھنا اور اسکو اپنا مسلکی شعار بنانا خلاف سنت ھے ۔


9

کانوں تک ہاتھ اٹھانا

عن قتادۃ انہ رائ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال حتٰی یحاذی بھما فروع اذنیہ۔

صحیح مسلم،استجاب رفع

حضرت قتادۃ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ھوئے دیکھا ، وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ہاتھوں کو کانوں کی لوتک اٹھایا ۔


10

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا

عن علی رضی اللہ عنہ السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلوٰۃ تحت السرۃ

ابوداؤد

چوٹھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت یہ ھے کہ نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھا جائے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ھے۔


11

ثنا

یقول عمر رضی اللہ عنہ ، سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالٰی جدک ولا الہ غیرک ۔

صحیح مسلم

دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز میں یہ ثنا پڑھتے تھے ،
سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالٰی جدک ولا الہ غیرک ۔


12

بسم اللہ آہستہ پڑھنا

عن انس رضی اللہ عنہ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابی بکر و عمر و عثمان (رضوان اللہ علیہم اجمٰعین) فلم اسمع احدًا منھم یقراء بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

صحیح مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضٰ اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی ایک کو بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ھوئے نہیں سنا۔

امام ترمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمہور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم بھی تسمیہ آہستہ پڑھتے تھے ۔
علامہ ابن قیّم زاد المعاد میں فرماتے ہیں کسی صحیح صریح حدیث سے اونچی آواز سے تسمیہ پڑھنا ثابت نہیں ھے
۔


13

مقتدی سنے اور خاموش رہے

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

سورۃ اعراف آیت 204

ارشاد ربانی ھے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ یہ آیت نماز اور خطبہ کے بارے میں نازل ھوئی۔

تفسیر ابن کثیر ج1،ص281

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم فاقیمو صفو فکم ثم لیسومکم احدکم فاذا کبر فکبر واذا قرء فانصیتوا واذا قرء غیر المغضوب علیہم ولا الضالین فقولوا آمین یحبکم اللہ۔

روایت جریر عن قتادۃ
صحیح مسلم ، التشہد فی الصلاۃ


رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کرلیا کرو ، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرائے، جب امام تکبیر کئے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب وہ قرآن پڑھنے لگے تو تم خاموش ہوجاؤ اور جب وہ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم آمین کہو۔ اسطرح کرنے سے اللہ تم سے محبت رکھے گا۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ الفاظ منقول ہیں ، امام مسلم نے اس روایت کوبھی صحیح کہا ھے


14

مقتدی سورۃ فاتحہ نہ پڑھے

عن عطاء ابن یسار سال زید بن ثابت عن القراء مع الامام فقال لا قراۃء مع الامام فی شئی ء

صحیح مسلم ، سجود والتلاوۃ

حضرت عطاء بن یسار نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ پڑھنے کی بابت پوچھا تو آپ رضٰ اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی بھی نماز میں امام کے ساتھ ساتھ قرآن نہ پڑھے۔


15

امام کی قراءت مقتدی کے لئے کافی ھے

کان یقول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، من صلی وراء الامام کفاہ قراۃ الامام ۔

صحیح البیہقی، سنن بیہقی، من قال لایقراء

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ جوشخص امام کی اقتداء میں نماز پڑھے اس کے لئے امام کی قراءت کافی ھے ۔
(امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ھے)


16

تنہا نمازی فاتحہ پڑھے مقتدی نہیں

کان ابن عمر رضی اللہ عنہ اذا سئل ھل یقرء خلف الامام ؟ قال اذا صلی احد کم خلف الامام فحسبہ قراءۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرء وکان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ لا یقرء خلف الامام ۔

مؤطا امام مالک، ترک القراءۃ

جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا کہ امام کے پیچھے مقتدی بھی پڑھے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے کہ مقتدی کے لئے امام کی قراءت کافی ھے ۔ البتہ جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو قراءت کرے۔ خود حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتے تھے ۔
(آثار السنن میں ھے کہ یہ حدیث صحیح ھے )


17

عن جابر رضی اللہ عنہ یقول من صلی رکعتہ لم یقرء فیھا بام القران فلم یصل الا ان یکون وراء الامام ۔

حسن صحیح
ترمزی شریف، ترک القراءۃ


حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے ایک رکعت میں بھی سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ھوئی ، علاوہ اسکے کہ وہ امام کے پیچھے ھو تو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۔

یہ حدیث حسن صحیح ھے

اسی حدیث کی بناء پر امام ترمزی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کے دادا استاد امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کیا ھے کہ " لاصلاۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب " والی حدیث تنہا نمازی کے بارے میں ھے جو مقتدی کو شامل نہیں۔

ترمزی شریف

مندرجہ بالا احادیث میں بڑی صراحت کے ساتھ باجماعت نماز میں مقتدی کو سورۃ فاتحہ پڑھنے سے روکا گیا ھے ، لیکن کوئی صحیح مرفوع حدیث ایسی نہیں جس میں صراحتاً باجماعت نماز میں مقتدی کو سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ھو۔


18

آمین آہستہ کہے

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تبادروا الامام اذا کبر فکبروا واذا قال ولاالضالین فقولوا آمین واذا رکع فارکعوا واذا قال سمع اللہ لمن حمدہ فقولوا اللھم ربنا لک الحمد ۔

صحیح مسلم ،

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ امام سے جلدی نہ کرو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو ۔

مسئلہ آمین میں یہ حدیث بڑی واضح ھے کہ جس طرح امام اللہ اکبر اور سمع اللہ لمن حمدہ اونچی کہتا ھے لیکن سب مقتدی اللہ اکبر اور اللھم ربنا لک الحمد آہستہ کہتے ہیں ۔ اسی طرح جب امام ولاالضالین بلند آواز سے پڑھے تو مقتدی کو آہستہ آمین کہنی چاھئے۔


19

نماز میں رفع یدین

عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مالی ازاکم رافعی ایسیکم کانھا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلاۃ ۔

صحیح مسلم ، الامر بالسکون

حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا ھوا کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ھوئے دیکھ رہا ھوں ۔ گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں ، نماز میں سکون اختیار کرو ۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ھوگئی کہ جن احادیث میں رفع یدین کرنے کا زکر ھے وہ اس ممانعت سے پہلے کی ہیں ، لہٰزا اس ممانعت کے بعد اب ان سابقہ روایات کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ اسی لئے کسی صحیح حدیث میں یہ صراحت نہیں کہ آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل رفع یدین کرنے کا تھا ۔

20

نبوی نماز

قال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلٰی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ

حسن صححہ ابن حزم ترمزی شریف ، ماجاء فی رفع

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نہ بتاؤں ? پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھ کر دکھائی اور صرف شروع میں رفع یدین کیا ۔
(یہ حدیث حسن ھے ، ابن حزم نے صحیح کہا ھے ، احمد شاکر رحمہ اللہ نے بھی صحیح کہا ھے )


21

عمل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین

ان علیًا رضی اللہ عنہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ من الصلوٰۃ ثم لا یعود۔

سنن بیہقی ، من لم یزکر الرفع،،قال الزیلعی صحیح ، قال ابن حجر رواتہ ثقات قال العینی اسنادہ علی شرط المسلم ۔

چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز کی پہلی تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے بعد میں نہیں ۔

علامہ زیلعی رحمہ اللہ، شارح بخاری علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اور شارح بخاری علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس روایت اور اسکی سند کو صحیح کہا ھے۔

واضح رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ و دیگر خلفاء راشدین اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر بہت سے صحابہ کا بھی یہی عمل تھا ۔ امام ترمزی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کا اس پر عمل ھے ۔


22

جلسئہ استراحت

عن ابن سہل الساعدی و فیہ ثم کبر فسجد ثم کبر فقام ولم یتورک ۔

ابوداؤد شریف ، من ذکر

حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی روایت میں ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر بیٹھے بغیر سیدھے کھڑے ھوگئے ۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور علامہ زیلعی نے "نصب الرائیہ" ج1،ص289 میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حجرت علی رضی اللہ عنہ ، حجرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، حجرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور علامہ ترکمانی رحمہ اللہ نے جوہر النقی ،ج2، ص 125 میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی معمول نقل کیا ھے کہ وہ تیسری اور پہلی رکعت میں سجدہ سے اٹھتے ھوئے بیٹھے بغیر سیدھے کھڑے ھوجاتے تھے ۔


23
التحیات

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قعد احدکم فی الصلوٰۃ فلیقل : التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمتہ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلٰی عباداللہ الصالحین۔ اشہد ان لا الہ الااللہ واشہد ان محمدًا عبدہ ورسولہ ۔ ثم یتخیر من المسالۃ ماشاء ۔

صحیح مسلم ، صحیح بخاری ، التشہد

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ جب کوئی تم میں سے نماز میں بیٹھے تو یہ پڑھا کرے : التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمتہ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلٰی عباداللہ الصالحین۔ اشہد ان لا الہ الااللہ واشہد ان محمدًا عبدہ ورسولہ ۔ پھر جو دعا مانگنا چاھے مانگے ۔


24۔۔۔
انگلی کا اشارہ

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قعدید عو وضع یدیہ الیمنی علٰی فخیذہ الیمنی و یدہ الیسرٰی علٰی فخذہ الیسرٰی واشار باصبعہ السبابۃ و وضع ابھامہ علٰی اصبعہ الوسطٰی ۔
((( صحیح مسلم:صفتہ الجلوس )))
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کے لئے بیٹھتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور انگوٹھے کو درمیانی انگلی سے ملالیتے ۔


25۔۔۔
درود شریف

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قولو : اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علٰی محمد و علٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم و علٰی آل ابراھیم انک حمید مجید ۔
((( صحیح مسلم : الصلاۃ )))
جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم آپ پر کون سا درود شریف پڑھا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درود ابراھیمی تلقین فرمایا : اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علٰی محمد و علٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم و علٰی آل ابراھیم انک حمید مجید ۔


26۔۔۔
ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا

ان عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ رائ رجلاً رافعاً یدیہ قبل ان یفرغ من صلاتہ فلما فرض منھا قال ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ ۔
((( مجمع الزوائد ج 10 ص 169 ،،، رجالہ ثقات )))
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز ختم ھونے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہا ھے تو نماز کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگتے تھے ( اس کے راوی ثقہ ہیں )
فتاوٰی اہل حدیث ج 1 ص 190،،، فتاوٰی نزیریہ ج 1 ص 566 میں بھی ھے کہ یہ دعا شرعاً درست اور مستحب ھے ۔

27۔۔۔
ظہر کی سنتیں

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حافظ علٰی اربع رکعات قبل الظہر و اربع بعد ھا حرمہ اللہ علی النار ۔
((( ترمزی شریف )))
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ھے کہ جس نے ظہر سے پہلے چار رکعت اور ظہر کے بعد چار رکعتیں مستقلاً پڑہیں ، اللہ تعالٰی اس کو آگ پر حرام کردیں گے ۔

28

عصر کی سنتیں

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم رحم اللہ امرا صلی قبل العصر الربعہً۔

ترمزی شریف ، ماجاء فی الربع، ابوداؤد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ اللہ تعالٰی اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر کی نماز پہلے چار رکعت پڑھیں ۔

29

مغرب کی سنتیں

عن عائشہ رضی اللہ عنہا (مرفوعاً) وکان یصلی بالناس المغرب ثم یدخل فیصلی رکعتین ۔

صحیح مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے تھے ، پھر گھر میں تشریف لاکر دورکعتیں پڑھتے تھے ۔


30

مغرب سے پہلے کے دورکعت نفل

عن عبداللہ بن بریدۃ رضی اللہ عنہ عن ابیہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان عند کل اذانین رکعتین ما خلا المغرب ۔

دارقطنی، ج1، ص 264

حضرت عبداللہ بن بریاۃ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک ہر دو آزانوں کے وقت دورکعت ہوتی ہیں ، ماسوا مغرب کے

اور مصنف عبدالرزاق ج2،ص435 پر ھے

عن ابراھیم قال لم یصلی ابوبکر رضی اللہ عنہ ولاعمر رضی اللہ عنہ ولا عثمان رضی اللہ عنہ ، الرکعتین قبل المغرب ۔
یعنی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مغرب سے پہلے دورکعت نفل ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نہیں پڑھیں ۔

مزید دیکھئے

صحیح مسلم کی روایت ھے

سالت انس بن مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا نصلی علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکعتین بعد غروب الشمس قبل صلوٰۃ المغرب فقلت لہ ، اکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاھما ؟ قال کان یرانا نصلیھما فلم یامرنا وینھا ۔

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غروب آفتاب ھونے کے بعد مغرب کی نماز ھونے سے پہلے دورکعت پڑھتے تھے ۔ (راوی کہتا ھے) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو دیکھتے تھے کہ ہم پڑھتے ہیں ،پس نہ تو آپ آلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ان کے پڑھنے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع کیا ۔
صحیح مسلم ،ج1، ص278

ان روایتوں پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ چونکہ مغرب کی نماز کا وقت مختصر ھوتا ھے اسلئے تاخیر مناسب نہیں ۔
البتہ پڑھنے والے پر نکیر نہ کیا جائے ، کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور احناف کے نزدیک صرف غیر اولٰی ھے ۔ (نماز مسنون،ص556)

31

وتر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اپنے بھتیجے کے پوچھنے پر ، ماکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ رلٰی احدیٰ عشرۃ رکعتہً یصلی اربعاً فلا تسال عن حسنہن وطو لھن ثم یصلی اربعاً فلا تسال حسنہن وطولہن ثم یصلی ثلاثاً

صحیح مسلم ، صلاۃ اللیل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں زیادہ کرتے تھے رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت پر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے تھے ، نہ پوچھو ان کے حسن اور درازی سے ، پھر چار رکعت پڑھتے تھے ، نہ پوچھو ان کے حسن اور درازی سے ، یعنی بہت لمبی لمبی رکعت اور بہت اچھی طرح پڑھتے تھے ۔ پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے ۔


32

عن عبداللہ بن بریدۃ عن ابیہ قال سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول الوتر حق فمن لم یوتر فلیس منا الوتر حق فمن لم یوتر فلیس منا الوتر حق فمن لم یوتر فلیس منا ۔

ابوداؤد ، مستدرک حاکم

حضرت بریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وتر حق ھے ، جس نے وتر نہ پڑھے تو وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ ارشاد فرمائی ۔

33

عن ابی ایوب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الوتر حق واجب

دار قطنی (منفرد)

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " وتر حق واجب ھے "۔

34

عن خارجۃ رضی اللہ عنہ بن خذافۃ العدوی رضی اللہ عنہ قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان اللہ قد امدکم بصلوٰۃ ھی خیر لکم من حمر النعم وھی الوتر ۔

ابوداؤد ، مستدرک حاکم ، وقال اسناد صحیح ترمزی

حضرت خارجۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا بے شک اللہ تعالٰی نے تمہیں امداد پہنچائی ھے یا تمہارے لئے ایک نماز زائد کی ھے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے اور وہ نماز وتر ھے ۔


35

فجر کی سنتیں

عن عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال رکعتا الفجر خیر من الدنیا ومافیہا ۔

صحیح مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، صبح کی دورکعات (سنتیں) دنیا اور مافیہا سے بہتر ہیں

36

فجر کی سنتوں کی قضا

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من لم یصل رکعتی الفجر فلیصلیھما بعد ماتطلع الشمس ۔

ترمزی شریف ، ماجاء اعادتھما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فجر کی دورکعتیں پڑھنی ھوں وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔
(مؤطا امام مالک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل یونہی نقل کیا گیا ھے )


37

وفی روایتہ عنہا لھا احب الی من الدنیا جمیعاً

اک اور روایت میں ھے کہ یہ دورکعت مجھے دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ۔

صحیح مسلم

38

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تدعو ھما وان طرد تکم الخیل ۔

ابوداؤد ، ج1، ص 179

حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ھے کہ ان کو نہ چھوڑو اگرچہ تم کو گھوڑے کیوں نہ روند ڈالیں

39


ظہر کی سنتیں

فرض سے پہلے چار سنتیں

عن عائشہ رضی اللہ عنہا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان لایدع اربعاً قبل الظھر و رکعتین قبل الغداۃ۔

صحیح بخاری

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت اور صبح کی نماز سے قبل دو رکعت کبھی ترک نہیں کرتے تھے ۔

40

فرض کے بعد دو سنتیں

عن عبداللہ بن الشقیق رضی اللہ عنہ قال سالت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا عن صلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعاً ثم یخرج فیصلی بالناس ثم یدخل فیصلی رکعتین ۔

صحیح مسلم

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ظہر سے قبل چار رکعات پڑھتے تھے ، پھر گھر سے تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے ، پھر گھر تشریف لاتے اور دورکعت نماز پڑھتے ۔


ڈاکٹر محمد الیاس فصیل کی کتاب مسنون نماز کی چالیس حدیثیں کو یونی کوڈ میں لکھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کیا ھے۔ بعض صفحات پڑھنے میں دشواری کی وجہ سے ایک اور کتاب سے بھی مدد حاصل کی ۔

والسلام

حسین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

Last edited by sahj; 25-12-10 at 08:53 PM.. وجہ: ٹائپنگ کی کئی غلطیاں درست کیں,,"برائے فقہ حنفی "

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 734
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
معید (28-12-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 01:06 PM   #2
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لو جی ہن پنگا پوے ای پوے۔
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-12-10, 01:17 PM   #3
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے عنوان پر اعتراض ہے۔
عنوان ہونا چاہیے تھا۔
حنفی نماز کی چالیس حدیثیں
شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 01:42 PM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
مجھے عنوان پر اعتراض ہے۔
عنوان ہونا چاہیے تھا۔
حنفی نماز کی چالیس حدیثیں
شکریہ
السلام علیکم بھائی ارشد کمبوہ

عنوان کتاب کے عنوان کے عین مطابق دیا ھے ، میں اس میں تبدیلی نہیں کروں گا ، ہاں یہ ٹھیک ھے کہ یہ تمام احادیث مسلک حنفی کی نماز پر دلیل ہیں ۔

شکریہ
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 05:46 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم حسین بھائی

بات توجہ طلب ھے میں کوئی اعتراض نہیں کر رہا بہتر ماحول کے لئے اپنی رائے دے رہا ہوں آپ ایک مرتبہ ریویو ضرور کریں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-12-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 07:57 PM   #6
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم حسین بھائی

بات توجہ طلب ھے میں کوئی اعتراض نہیں کر رہا بہتر ماحول کے لئے اپنی رائے دے رہا ہوں آپ ایک مرتبہ ریویو ضرور کریں۔

والسلام
واعلیکم السلام بھائی کنعان

ریویو کرنے پر معلوم ھوا کہ کئی غلطیاں موجود تھیں ۔ انہیں درست کردیا ھے ، پھر بھی اگر کوئی غلطی رہ گئی ھو تو نشان دہی کردیجئے گا۔

بھائی کنعان آپ نے بہتر ماحول کی بات کی ھے ، میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ھوں ۔ بلکل۔۔۔۔ بہتر ماحول قائم رکھنا چاھئے ، یہی وجہ ھے کہ کچھ تھریڈز میں میں نے کافی ضبط کیا ھے ۔ نماز کے بارے میں اس تھریڈ کو قائم کرنے کا مقصد یہ ھے بھائی کنعان کہ مسلمان بھائی جو حنفی مزھب پر ہیں انہیں ایک ہی تھریڈ میں زیادہ سے زیادہ مفید معلومات مل جائیں ، یہ مقصد نہیں ھے کہ اختلافی مسائل جمع کردئے جائیں ۔ یقیناً اس تھریڈ میں لکھی گئی احادیث اور علماء کےاقوال سے کئی دوستوں کو اختلاف ھوسکتا ھے ۔ لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا کہ اختلافی رائے کے ڈر سے کسی ایسے مسئلہ کو لکھنا ہی چھوڑ دوں ۔

جیسا کہ میں بتا چکا ھوں کہ اس تھریڈ کو پیش کرنے کا مقصد اختلاف بڑھانا نہیں ۔ بس یوں سمجھ لیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی آسانی کے لئے کچھ محنت کی ھے ۔

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-12-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 08:16 PM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم حسین بھائی

میری توجہ "مسنون" کی طرف تھی۔ طریقہ نماز حنفیہ ھے تو وہی رہنے دیتے تو سب کو آسانی بھی ہوتی، لفظ "مسنون" لکھنے سے پھر باقی جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں ان کا طریقہ بھی حدیث مبارکہ سے ھے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ مسنون لکھنے سے فرق آ جاتا ھے۔ فیصلہ آپ کو چھوڑتا ہوں۔


اگر آپ حنفیہ لکھیں گے تو یقین رکھیں نئی انتظامیہ کی کارگردگی آپ نے دیکھ ہی لی ہو گی کہ اب کوئی بھی کسی پر تنز نہیں کر سکتا، کوئیک ایکشن ہو گا۔ میں چاہتا ہوں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-12-10), ارشد کمبوہ (25-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 08:23 PM   #8
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم حسین بھائی

والسلام
السلام علیکم

کنعان بھائی مؤدبانہ گزارش ہے کہ فدوی کو یہ محسوس ہوا ہے کہ " السلام علیکم حسین بھائی" میں سلامتی کی دعا صرف حسین بھائی کے لیے تھی۔ جب کہ آپ کے انداز سے محسوس ہوا کہ سلامتی کی دعا آپ نے سب کے لیے دی تھی اور مخاطب حسین بھائی کو کیا ،

لہذا محترم کنعان بھائی برائے مہربانی اگر بار گراں نہ گزرے تو سلامتی کی دعا کے بعد ایک عدد اینٹر (Enter) مار دیا کریں۔

عین نوازش ہو گی۔ شکریہ

Last edited by کنعان; 25-12-10 at 09:10 PM. وجہ: آخری لین کا پہلا لفظ میری تعریف میں بولنا درست نہیں اسے حذف کیا ھے
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 08:56 PM   #9
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم حسین بھائی

میری توجہ "مسنون" کی طرف تھی۔ طریقہ نماز حنفیہ ھے تو وہی رہنے دیتے تو سب کو آسانی بھی ہوتی، لفظ "مسنون" لکھنے سے پھر باقی جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں ان کا طریقہ بھی حدیث مبارکہ سے ھے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ مسنون لکھنے سے فرق آ جاتا ھے۔ فیصلہ آپ کو چھوڑتا ہوں۔


اگر آپ حنفیہ لکھیں گے تو یقین رکھیں نئی انتظامیہ کی کارگردگی آپ نے دیکھ ہی لی ہو گی کہ اب کوئی بھی کسی پر تنز نہیں کر سکتا، کوئیک ایکشن ہو گا۔ میں چاہتا ہوں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔

والسلام

السلام علیکم

بھائی کنعان لیڈنگ مراسلے میں "برائے فقہ حنفی " کا اضافہ کردیا ھے ۔

اسکے علاوہ مزید کچھ نہیں کہتا ۔

امید ھے آپ بات کو سمجھ گئے ھوں گے

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-12-10), کنعان (25-12-10), ارشد کمبوہ (26-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 09:03 PM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

ارشد بھائی، آپ نے کہا میں نے مان لیا آئیندہ ایسا ہی ہو گا۔

اگر سمجھنے کے لئے کہیں تو میں اس پر بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (26-12-10), شمشاد احمد (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 11:23 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاں تک میری فقہی معلومات ہیں۔۔۔ اہل سنت کے فقہی مکاتب فکر میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ صرف میری ہی نماز موافق سنت ہے باقیوں کی نہیں۔۔۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں اور اسی کی تعلیم دی جاتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کی نماز سنت کے مطابق ہی ہے۔۔۔ ہاں اگر کوئی ایسا انفرادی طور پر نہیں سمجھتا تو میرا خیال ہے اس میں اس فرد کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔۔۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ زیادہ بہترکون سی نماز ہے۔۔۔ تو ہر ایک اپنی اپنی تحقیق کے مطابق جس کو بہتر سمجھتا ہے اس پر عمل پیرا ہے۔۔۔
لہذا ساہج بھائی کے اس عنوان میں مجھے تو اختلاف کی گنجائش نظر نہیں ‏آتی۔۔۔ اس عنوان کا مطلب یہ نہیں کہ یہی مسنون نماز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ اعلم۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (26-12-10), فیصل ناصر (26-12-10), کنعان (26-12-10), ارشد کمبوہ (26-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
پرانا 26-12-10, 09:55 AM   #12
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
جہاں تک میری فقہی معلومات ہیں۔۔۔ اہل سنت کے فقہی مکاتب فکر میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ صرف میری ہی نماز موافق سنت ہے باقیوں کی نہیں۔۔۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں اور اسی کی تعلیم دی جاتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کی نماز سنت کے مطابق ہی ہے
واللہ اعلم۔
السلام علیکم
شمشاد بھائی اگر واقعی ایسا ہی ہوتا ، تے فیر اینے رولے نئی سی پینے۔
ایک نماز سے بات شروع ہوتی ہے اور کفر کے فتووں پر مکتی ہے۔
شکریہ والسلام
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (26-12-10), شمشاد احمد (27-12-10)
پرانا 27-12-10, 09:24 AM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
شمشاد بھائی اگر واقعی ایسا ہی ہوتا ، تے فیر اینے رولے نئی سی پینے۔
ایک نماز سے بات شروع ہوتی ہے اور کفر کے فتووں پر مکتی ہے۔
شکریہ والسلام
کمبوہ بھائی۔ اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک و مکاتب میں سے کسی ایک صاحب علم عالم کا فتوی مجھے دیکھا دیں جس میں نماز کے فقہی اختلافات کی بناء پر کسی کو کافر کہا گیا ہو۔۔
اصل میں جب ایک ایشو ہوتا ہے تو اس میں میرے علم کے مطابق ہمیشہ ‌چار فریق بن جاتے ہیں۔
حامی
مخالف
غیر متعلق
مذکورہ بالا تینوں کو کوسنے والے۔
اس لیے اس وادی میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
پرانا 28-12-10, 08:25 AM   #14
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
کمبوہ بھائی۔ اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک و مکاتب میں سے کسی ایک صاحب علم عالم کا فتوی مجھے دیکھا دیں جس میں نماز کے فقہی اختلافات کی بناء پر کسی کو کافر کہا گیا ہو۔۔
السلام علیکم
شمشاد بھائی ایسے فتوے زبانی کلامی ہی ہوا کرتے ہیں۔
میں نے خود دیکھا ہے کہ بھائی چارہ کے دروس دینے والے آمنے سامنے کفر کے فتووں سے نیچے بات ہی نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر یوٹیوب پر سرچ کر کے دیکھ لیں۔

رفع العیدین ،فاتحہ خلف الاسلام ، کے مسئلوں میں تو آج تک اتفاق ہوا نہیں۔ طرفین کی جانب سے لاکھوں کے انعامات کے وڈے وڈے اشتہارات مساجد کے وضو خانوں میں لگے ہوئے ابھی تک غائب نہیں ہوئے۔

گردن پر مسح کو بدعت تو اسی فورم میں‌ایک تھریڈ میں کہا گیا ہے۔ اور پھر بدعت سے بات بڑھ جاتی ہے۔

پھر بھی آپ کہیں کہ حنفی نماز کو مسنون کہنے میں کوئی اختلاف نہیں ۔۔۔۔۔ تے فیر تسی گریٹ او۔
شکریہ، والسلام
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-12-10, 08:49 AM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
اقتباس:
شمشاد بھائی ایسے فتوے زبانی کلامی ہی ہوا کرتے ہیں۔
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔۔۔ اگر ایسے ہوتے ہیں تو ان کی اہل علم کے ہاں کیا ہے اس کا بھی ‏آپ ک و اندازہ ہو گا۔۔۔میری رائے میں یہ فتوی نہیں کم علمی کا سبب ہوتے ہیں ان کو فتوی کہنا فتوی کے ساتھ زیادتی ہے۔۔ کیونکہ فتوی حکم شرعی کا بیان ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے مطلوبہ معیار کی بہرحال ضرورت ہے۔
اقتباس:
میں نے خود دیکھا ہے کہ بھائی چارہ کے دروس دینے والے آمنے سامنے کفر کے فتووں سے نیچے بات ہی نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر یوٹیوب پر سرچ کر کے دیکھ لیں۔
بات کفر کے فتوی کی نہیں ہو رہی بلکہ اس سبب کی ہو رہی ہے جس کو یہاں غلط سمجھا گیا ہے۔۔۔ کہ نماز کے اختلافی مسائل کی وجہ سے اہل سنت میں سے کسی نے کسی کو کافر نہیں کہا۔باقی یوٹیوب یا کسب بھی ٹیوب کی بات بھی نہیں ہے تمام مکاتب فکر کے اہل علم کی بات کی ہے ‌چاہے وہ کہیں کسی بھی ٹیوب پر ہوں۔
اقتباس:
رفع العیدین ،فاتحہ خلف الاسلام ، کے مسئلوں میں تو آج تک اتفاق ہوا نہیں۔ طرفین کی جانب سے لاکھوں کے انعامات کے وڈے وڈے اشتہارات مساجد کے وضو خانوں میں لگے ہوئے ابھی تک غائب نہیں ہوئے۔
اتفاق کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان مسائل پر اتفاق یا اختلاف ہمارا ‏آج کا موضوع ہے ہمارا موضوع تو یہ ہے کہ نماز کے اختلاف کی بنا پر کسی کو کافر قرار نہیں دیا گیا۔
اقتباس:
گردن پر مسح کو بدعت تو اسی فورم میں‌ایک تھریڈ میں کہا گیا ہے۔ اور پھر بدعت سے بات بڑھ جاتی ہے۔
اس فورم پر تو اور بھی بہت کچھ کہا اور سنا جا رہا ہے۔۔۔ احادیث رسول تک سے تمسخر کو معاذ اللہ اپنے بھائی کی قابل احترام رائے تصور کیا جاتا ہے۔۔۔ تو اس پر میں کیا تبصرہ کروں۔۔۔ میں نے تو ‏آپ سے صرف تمام مکاتب فکر کے اہل علم علماء کی بات کی ہے۔۔۔ نہ کہ ان لوگوں کی جو کسی بھی فورم پر کسی بھی نک نیم سے جو مرضی بولتے رہیں۔۔۔

پیارے۔۔۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ فروعی اختلافات کو اسی کی حد تک رکھا جائے۔۔۔۔
اقتباس:
پھر بھی آپ کہیں کہ حنفی نماز کو مسنون کہنے میں کوئی اختلاف نہیں ۔۔۔۔۔ تے فیر تسی گریٹ او۔
شکریہ، والسلام
جی اہل سنت والجماعت حنفی شافعی مالکی حنبلی میں سے کسی بھی صاحب علم عالم نے میری معلومات کے مطابق حنفی نماز کو غیر مسنون نہیں کہا۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (28-12-10), ارشد کمبوہ (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
جواب

Tags
فرض, پیارے, قرآن, نماز, نظر, مجید, محبت, معلوم, اکبر, اللہ, استاد, ترک, جواب, حکم, حسن, خلاف, دریافت, درود شریف, دعا, رمضان, رات, زمانہ, سہل, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بینظیر قتل کیس تفتیشی ٹیم گرفتار پولیس افسروں سے معلومات حاصل نہیں کر سکی گلاب خان خبریں 0 27-12-10 04:11 AM
پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل :سی ایس ایس امتحانات میں‌ 12ویں پوزیشن لینے والا ایماندار افسر برطرف شیخ ہمدان خبریں 10 03-04-09 03:20 AM
سانحہ کار ساز،بینظیر کے گر د متعین رضاکاروں کو چیک نہیں کر نے دیا گیا تھا،تحقیقاتی ٹر یبونل میں ایس ایس پی اسپشل بر انچ کا بیان ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:16 AM
راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 01:43 PM
آل پاکستان فٹبال: ایس ایس جی سی کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی خرم شہزاد خرم فٹبال 0 08-08-07 12:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger