واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > والدین اور بچوں کے حقوق



والدین اور بچوں کے حقوق والدین اور بچوں کے حقوق


والدین اور ٹین ایجرز کے باہمی تعلقات اور مسائل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-04-09, 06:24 AM   #1
والدین اور ٹین ایجرز کے باہمی تعلقات اور مسائل
ام غزل ام غزل آف لائن ہے 10-04-09, 06:24 AM

والدین اور ٹین ایجرز کے باہمی تعلقات اور مسائل

بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت کے حوالے سے مضمون

ڈاکٹرعبدالرحمن خواجہ

زمانہ بدل چکا ہے اور دور ِ جدید میں حالات نیا رُخ اختیار کرچکے ہیں۔وہ بچے جو بچپن سے لڑکپن کی طرف گامزن ہوتے ہیں اپنے والدین کے لیے ایک اچنبھا بن جاتے ہیں۔ والدین اپنے علم اور تجربے کے مطابق اپنے بچوں کو اپنے ماضی کے حوالے سے جانچتے ہیں جب قدریں اور روایات مختلف ہوتی تھیںاور یہاں پر تنازعہ (Conflict) پیدا ہوتا ہے۔کئی دفعہ والدین نا خوش رہتے ہیں اور لڑکے یا لڑکی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور کئی دفعہ لڑکا یا لڑکی پریشان دکھائی دیتی ہے۔

ا صل مسئلہ اس بات کا ادراک ہے کہ بچپن سے لڑکپن میں آنے کے بعد نہ صرف سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے بلکہ سماجی اور معاشرتی رویوں میں بھی انقلاب آ جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس قدر شتا بی سے ہوتا ہے کہ والدین اس برق رفتاری کا ساتھ نہیں دے سکتے اور حیران اور پریشان صورت احوال سے شاکی نظر آتے ہیں۔بچے میں ساخت اور فعلیاتی تبدیلیاں اُسے حساس بنا دیتی ہےں۔ اور وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔ اُس کے اپنے ڈر اور خوف اُس کے ہمرا ہ رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں والدین کی غیر ضروری دخل اندازی اُسے گڑبڑا دیتی ہے۔ذہنی اور جسمانی طور پر وہ تیار ہونے کی کوشش کررہا ہوتا ہے اور اگر والدین اس کی مدد نہ کریں تو وہ نہ صرف پریشان ہوگا بلکہ انجانے میں والدین کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھے گا اور اس کا اظہار اُسے ایک عجیب قسم کے احساسِ جرم میں مبتلا کردے گا۔ ایسی صورت میں اگر والدین اُس کو سنبھلنے کا وقت دیں اور صرف” دیکھیں اور انتظار کریں“ کی پالیسی اپنائیں تو کہیں بہتر ہوگا۔ والدین دیکھیں گے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھال چکے ہیں۔

ٹین ایجرز عام طور پر اپنے دوستوں اور کلاس فیلوز کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی صورت میں بھی ان کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کے دوستوں اور کلاس فیلوز کے سامنے انہیں برا بھلا کہیں۔ والدین کی حیثیت بدل چکی ہے ،اب وہ ایک لڑکے یا لڑکی کے والدین ہیں اور ایک بچے یا بچی کے والدین نہیں ہیں۔ جو کہ ہر کام کرنے سے پہلے والدین سے ہر چیز پوچھنے کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس لیے نئی صورتحال کے مطابق لڑکے یا لڑکی کوکسی حد تک خود فیصلے کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔ یہ فیصلے اُ ن کے مشغلے ، لباس،پسندید ہ ڈرنک، پسندیدہ گلوکار یا کھیل اور کتاب تک محدود ہوتے ہیں۔یہ آزادی اُن کو جوانی کے لیے تیار کرتی ہے۔ جب اُن کو تمام فیصلے خود کرنا ہوں گے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے دوستوں اور کلاس فیلوز کے سامنے عزت کریں اور تعریفی کلمات سے نوازیں ۔ایک نہایت اہم مسئلہ ٹین ایجرز کا اپنے بارے میں رویہ اور خیال ہے اگر لڑکا یا لڑکی اپنے آپ کو کم تر سمجھتا /سمجھتی ہے تو اس کے تمام معمولات پر اس کا اثر ہوگا ۔وہ اپنے آپ کو نئی صورتحال کا باعث سمجھے گا اور اپنی شخصیت کو ضمنی اہمیت دے گا۔اس کی نظر اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر رہے گی اور وہ آہستہ آہستہ شدید قسم کے دباو کا شکا رہو کر رہ جائے گا۔وہ اپنے لباس، اپنی صحت کے بارے میں حتیٰ کہ خود سے لاپرواہ ہوجائے گا اوراپنا زیادہ تر وقت غیر ضروری کاموں میں ضائع کرنے لگے گا۔ایسی صورت میں اُس کا رجحان مذہب یا سماجی بہبود کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔والدین اُس کی اس صورتحا ل میں صرف اُسی وقت مدد کرسکتے ہیں جب وہ اُس کی ذہنی اور دماغی حالت سے واقف ہونگے۔ ورنہ اُسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے اُس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے جس سے اُس کی شخصیت مجروح ہوگی۔ عقل مند والدین اُس کو اُس کی خوبیوں سے آگاہ کرتے ہوئے اُسے صورتحال کی مثبت شکل سے آگاہ کریں گے اور اُس کے لباس، اندازِتکّلم، اندازِ معاشرت کے بارے میں تعریفی کلمات کہےں گے اور بھولے سے بھی تنقید سے گریزکریں گے کیونکہ عام طور پر حساس لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔وہ اس کا اظہار نہیں کرتے لیکن دل ہی دل میں خوش ہوجاتے ہیں اور یہ خوشی اُن کو اُس تکلیف دہ صورتحال سے باہر لے جاتی ہے جس سے وہ گزر رہے ہوتے ہیں۔

لڑکپن میں جسمانی طور پر بہت تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ بال، چہرہ، قد، موٹاپا ہر چیز بدل رہی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چہرے پر دانے نکلتے ہیں اور بالوں میں خشکی یا سکری نمایاں ہوجاتی ہے لیکن یہ تمام تبدیلیاں عارضی ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجاتی ہےں۔البتہ لڑکے اور لڑکیاں اپنا زیادہ تر وقت ان کے بارے میں سوچنے اور بات کرنے میں صرف کرتے ہیں۔اگر اُن کو یہ بتادیا جائے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور اُن کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تو وہ شاید نہ مانیں اور اس بات پر ناراض ہوجائیں کہ اُن کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی۔ اس لیے والدین کو احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔بچوں کو اعتماد سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ آپ ڈاکٹر کو دکھائیں اور خود اپنا علاج نہ کریں ۔لڑکیاں عام طور پر نہایت جذباتی اور ذودحِس ہوتی ہیںاور اپنی سہیلیوں سے مشورہ کر کے خود اپنا علاج کرنے کی کوشش کرتی ہےں۔ ایسی صورت میں عام طور پر مختلف قسم کی کریمیں مکس کرکے اپنی چہرے پر استعمال کرتی ہیں۔اُن کے خیال میں گور ارنگ اور صاف ستھر ا چہرہ ہی ضروری ہیں مگر کریموں کے انتخاب میں وہ اپنے ساتھ سخت زیادتی کی مرتکب ہوتی ہیں اور اپنا چہرہ ہمیشہ کے لیے خراب کر لیتی ہیں۔ یہ ظلم اُس وقت زیادہ واضح ہوتا ہے جب منگنی یا شادی کا موقع ہوتا ہے اور لڑکی روتی ہوئی ڈاکٹر کے پاس آتی ہے کہ ڈاکٹر میرا چہرہ ٹھیک کردو۔ کریموں کے بے ہنگم استعمال کی وجہ سے چہرے پر کئی قسم کے داغ پڑ جاتے ہیں اور جلد سخت ناہموار ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں عام طور پر ڈاکٹر کسی قسم کی مدد کرنے سے عاری ہوتا ہے ۔ یہ صورتحال بہت مایوس کن اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ ایک معصوم سی خواہش ہے کہ میں سب سے زیادہ گوری نظر آﺅں۔ بڑی بہن اور والدہ عام طور پر اِس صورتحال میں مدد گار ہوسکتی ہے اگر وہ اس وقت اُن کو مستقبل کی مشکل سے آگاہ کردے کہ یہ کریمےں محض چند گھنٹوں کے لیے گورا پن دینے کے بعد ہمیشہ کے لیے بدصورتی اور بد نمائی سے چہرے کو بھر دیتی ہیں۔ اگر لڑکیوں کو یہ بتایا جائے کہ اُن کی قدرتی جلد اور خوبصورتی اُن کے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ مطمئن رہیں تو اُن کے لیے بہتر ہوگا۔ اگر کوئی کریم استعمال کرنا ضروری ہے تو اچھے برانڈکی پےٹنٹ کریم یقین کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے بڑی ہن اور ماں سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہیں۔مےک اپ کے لیے بھی برانڈ کا انتخاب ضروری ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نقلی ڈاکٹر اور عطائی، لڑکیوں کی اس خواہش سے واقف ہیں اور وہ ایسی صورت میں چھوٹے شہروں، قصبوں اور مضافاتی آبادیوں میں رہنے والی انجان لڑکیوں کو بھاری رقم کے عوض خطرناک کریمیں دے کر اپنے جیبیں تو بھر لیتے ہیں لیکن اُن کو زندگی بھر کا رونا دے دیتے ہیں۔

ایک صورتحال اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب امتحان کے نتائج نکلتے ہیں۔ کامیابی اور کامرانی کا تاج صرف محنت اور ذہانت کی وجہ سے کسی کے سر کی زینت بنتا ہے۔ اس بات سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ کہ لڑکا یا لڑکی محنت نہیں کرتے۔ ناکامی کی صورت میںسخت جذباتی اور ذہنی گھٹن کا شکار ہوکر انتہائی قدم اُٹھانا بے وقوفی کا ثبوت تو ہے لیکن اس کی مثالیں ہمارے معاشرے میں عام ملتی ہیں۔ ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ناکامی کی صورت میں خودکشی کرنے کی کوشش کے بعد لائے جاتے ہیں۔اگر والدین بروقت ان لڑکے لڑکیوں کو توجہ دیں اور اُ ن کو بتائیں کہ ناکامی دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے جو زیادہ محنت کے ساتھ ساتھ سوچ بچار بھی ما نگتی ہے تو وہ لڑکے لڑکیاں خودکشی کرنے کی بجائے اپنے اندازِ تعلیم اور تیاری کے طریقوں پر غور کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اور اپنے آپ کو اگلے امتحان میں تیار کرنے کی کوشش کرےںگے۔یہاں پر بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ناکامی کی صورت میں ان کے لیے محبت اور چاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ اورہر صورتحال میں اُن کو سپورٹ کیا جائے گا۔

لڑکے لڑکیاںلڑکپن کی دوستیوں کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اور جب کوئی تعلق ٹوٹتا ہے تو اُس کی وجہ سے ان کے جذبات اور احساسات مجروح ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں والدین کو چاہیے کہ بچوں سے بات کرنے کی عادت ڈالیں۔ اگر فاصلہ تھوڑا ہوگا تو ماں باپ سے بات کرنا آسان ہوگا۔

اپنے بچوں کو وقت دیں اور ان کی مصرفیات کے بارے میں دلچسپی کا اظہارکریں۔ کبھی کبھار تعریف کے کچھ جملے کمال کرسکتے ہیں۔ یہ چار پانچ سال کا عرصہ جلدہی گزر جاتا ہے اور پھر کوئی مڑ کرپیچھے نہیں دیکھتا کہ لڑکپن کیسا تھا۔
بشکریہ! آن لائن اردو۔

ام غزل
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 516
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
فیاض انصاری (25-11-11), یاسر عمران مرزا (13-01-11), ایس اے نقوی (10-04-09), ابن جلال (10-04-09), رضی (10-06-09), سیلانی (06-07-09), شاہ جی 90 (05-07-09), عبداللہ آدم (24-01-11), عروج (13-01-11)
پرانا 10-04-09, 12:51 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی شئیرنگ پر میری جانب سے شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (10-04-09), عبداللہ آدم (24-01-11), عروج (13-01-11)
پرانا 10-04-09, 04:52 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ہے اور قابل غور بھی میرا مطلب ہے کہ سمجھنے والی ایک اچھی تحریر پر میری جانب سے آپ کو مبارک ہو
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (04-07-09), ام غزل (10-04-09), عروج (13-01-11)
پرانا 04-07-09, 11:16 PM   #4
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,196
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی زبردست شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (13-01-11)
پرانا 13-01-11, 01:13 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک ا للہ ۔ میری بہت مدد ھوئی آپکی تحریر سے۔ لڑکا ،لڑکی دونوں ھی اس عمر میں ماؤں کے قرب کے خواھشمند ھوتے ھیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, پسند, پسندیدہ, قدم, لڑکی, چاہت, نظر, موٹاپا, ماں, محبت, مسائل, امتحان, بچپن, بچوں, تحریر, تعلیم, جلد, جرم, خودکشی, خوش, خلاف, زندگی, عقل, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
لیبیا میں‌ موجود پاکستانی طلبہ سے متعلق معلومات کے لئے ٹیلی فون نمبرز گلاب خان دیس ہوئے پردیس 0 27-02-11 04:05 AM
انٹرنیٹ سے متعلق ٹیکنالوجی نمائش جاری زارا عمومی سائنس 1 01-02-11 10:46 AM
ٹریفک اور ڈبل سواری سے متعلق آرٹیکل چاہیے ! ! ! نورالدین آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 9 25-07-10 01:02 PM
ایران19نئے ایٹمی پاور پلانٹس کی تعمیر کیلئے ٹینڈرز جاری کرے گا عبدالقدوس خبریں 0 24-12-07 04:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger