واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > والدین اور بچوں کے حقوق



والدین اور بچوں کے حقوق والدین اور بچوں کے حقوق


ہم اور ہمارے بچے !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-05-09, 04:49 AM   #1
ہم اور ہمارے بچے !
ام غزل ام غزل آف لائن ہے 05-05-09, 04:49 AM

بقول روسو انسان کمزور پیدا ہوتا ہے اسے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بے سروسامان ہوتا ہے، اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ناسمجھ ہوتا ہے ، اسے عقل آموزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو چیزیں اس کے پاس پیدائش کے وقت نہیں ہوتیں وہ اسے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ تعلیم سے ملتی ہیں اور تعلیم کے لیے بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے۔ وہ زندگی کا پہلا سبق وہیں سیکھتا ہے۔ سائنس کی جدید تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بچے کی ذہنی، اخلاقی اور جسمانی تربیت کا اصل مقام اسکول اور کالج نہیں بلکہ ماں کی گود اور گھر کا ماحول ہے۔ چنانچہ گھر کے ماحول کا بچے کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ بچہ بہت ساری باتیں اپنے والدین اور گھر کے دیگر افراد سے سیکھتا ہے، ان کے طور طریقوں کی نقل کی کوشش کرتا ہے جو بعد میں اس کی شخصیت کاجُز بن جاتے ہیں۔ گھر کے افراد کے طرزِ عمل سے وہ محبت، ہمدردی کے جذبات یا پھر خود غرضی، بے ایمانی اور نفرت کے جذبات سے روشناس ہوتا ہے۔ اگر والدین اور گھر کے دیگر افراد مہذب، تعلیم یافتہ، نیک چلن اور خوش اخلاق ہوں تو کہا جاسکتا ہے کہ گھریلو حالات اچھے ہیں پھر بچے وہاں یقینا اچھی باتیں سیکھیں گے اور اگر والدین مہذب، تعلیم یافتہ، نیک چلن اور خوش اخلاق نہ ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ گھریلو حالات اچھے نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں بچے وہاں بری باتیں سیکھیں گے۔ اس طرح بچے کے کردار کی تشکیل کی بنیاد گھر پر ہی پڑ جاتی ہے اور سیرت کی تشکیل تعلیم کا سب سے اہم مقصد ہے۔

آج اکثر والدین کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے بچے جھوٹ بولتے ہیں، کہنا نہیں مانتے، بڑوں کی عزّت نہیں کرتے، تعلیم میں دلچسپی نہیںلیتے، فحش اور غیر معیاری فلمیں دیکھتے ہیں اور بے ہودہ ڈائیلاگ بولتے ہیں۔ گویا ان کی اولاد ان کے لیے عذابِ جان یا زحمت بنی ہوئی ہے۔ وہ اصلاح کا جو بھی طریقہ اختیار کرتے ہیں، اس کا نتیجہ الٹا ہی نکلتا ہے۔ دوسری طرف اولاد کی شکایتیں بھی کم قابلِ توجہ نہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اوراولاد کی اس کشمکش پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ بنیادی اصول کیا ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے ان مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نفسیات نے اپنی طویل تحقیقات کے بعد یہ اصول بھی واضح کردیا ہے کہ ایک بچے کی اچھی بری قسمت پہلے چھ سال کی عمر میں طے ہوجاتی ہے۔ یہ قسمت آسمان کی کوئی غیبی طاقت نہیں بناتی بلکہ خود والدین اس کے معمار ہوتے ہیں۔
اولاد کا اچھا مستقبل سب کی آرزو ہے۔ کوئی بھی والدین ایسے نہیں ہوں گے جو اس الزام کو تسلیم کرلیں کہ وہ اپنے بچوں کے دشمن ہیں، بچوں کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ جب بھی ان کے بچے کے ساتھ کوئی چھوٹا یا بڑا ناانصافی کرتا ہے تو وہ اس وقت آمادہ ¿ انتقام ہوجاتے ہیں لیکن وہ خود بڑی بڑی ناانصافیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہ ناانصافیاں بچے کی شخصیت کا خون کرتی ہیں اور شخصیت کا خون درحقیقت زندگی کا خون کر دینے سے بھی زیادہ خوف ناک جرم ہے۔
روسو کے مطابق ایک باپ جو اپنے بچوں کو صرف کھانا اور کپڑا مہیا کردیتا ہے، وہ اپنی ذمے داری کا ایک تہائی حصہ پورا کرتا ہے۔ سماج کا اس پر حق ہے کہ وہ ایسے خاندان پیدا کرے جو سماج کے لیے فائدہ مند ہوں اور ریاست کا اس پر حق ہے کہ وہ اچھے شہری پیدا کرے۔ ہر وہ شخص جس پر یہ تین حقوق ہیں اور جوان کو ادا نہیں کرتا وہ ایک مجرم ہے۔ جو باپ اپنے فرائض ادا نہ کرے اسے باپ بننے کا کوئی حق نہیں۔
بچہ خواہ ایک ماہ کا ہی کیوں نہ ہو، اسے گوشت کا ایک بے شعورلوتھڑا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ذہن نشیں کرلینا چاہیے کہ وہ گھر کے ماحول کی ایک ایک حرکت اپنے دل و دماغ میں جذب کررہا ہے۔ اس لیے پہلی اور بنیادی ضرورت یہ ہے کہ والدین بعض نار وا اعمال کو اپنے بچوں کے سامنے یہ سمجھ کر روا قرار دینے کی جھوٹی تسلی حاصل نہ کریں کہ بچوں میں سوجھ بوجھ نہیں۔ بے شک بچوں میں سوجھ بوجھ نہیں ہوتی لیکن ان کے تحت شعور میں ہماری ایک ایک حرکت قبول کرنے کا جذبہ برابر موجود ہوتا ہے۔ کوئی جھوٹ، کوئی ناراضگی، کوئی گھڑکی اور کوئی بُرا وتیرہ ایسا نہیں جو بچے کے ننھے سے دماغ میں اپنے امٹ نقوش نہ چھوڑ جائے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنی اولاد کے سامنے حتی الامکان اپنے اخلاق و عادات کا اچھے سے اچھا نمونہ پیش کریں۔
بچوں کی شخصیت کا احترام بھی ضروری ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اپنے بچوں کی شخصیت کا احترام کرتے ہیں۔ جاہل تو جاہل اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ بھی اس وصف سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ تقریباً ہر روز بچوں کی ہتک کرتے ہیں، انھیں گالیاں دیتے ہیں، ڈانٹتے ڈپٹتے ہیں اور جھڑکتے رہتے ہیں، بات بات پر ٹوکتے رہتے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات میں عیب نکالتے رہتے ہیں۔ انھیں نکمّا، نالائق، کام چور، بے وقوف اور گدھا کہہ کر پکارتے ہیں۔ یہ لعن طعن بچے کی شخصیت پر نہایت بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ اس قسم کے وتیرے سے بعض اوقات بچے کے دل میں والدین کے خلاف ایسی گہری نفرت پیدا ہوجاتی ہے کہ آخر عمر تک دور نہیں ہوسکتی۔ گویا ہم اپنے بچوں کی توہین کرکے آئندہ عمر میں اپنی توہین کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔


کچھ والدین اپنے بچوں سے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار کرتے ہیں۔ اس کا اثر بھی ان پر اچھا نہیں پڑتا اور کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں پر بہت زیادہ سختی کرتے ہیں۔ اس سے بھی انھیں نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا آزادی سے کام کرنے کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے کیونکہ تمام خوبیوں کا سرچشمہ آزادی ہے اور جب آزادی سے کام کرنے کے مواقع نہیں ملتے تو حوصلہ پست ہو جاتا ہے اور ان میں دیگر برائیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔والدین کے رویّے میں اعتدال ضروری ہے۔
بچوں کی اخلاقی اصلاح کے لیے عام طور پر دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جس میں بچوں کو ڈر، خوف، دھمکی اور مارپیٹ کے ذریعے ناپسندیدہ کاموں سے روک کر جبراً اچھے کاموں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں سختی سے مطلق کام نہ لیا جائے۔ نہ ڈرایا جائے، نہ سزا دی جائے بلکہ محض اچھے اور پسندیدہ کاموں کی ترغیب دلائی جائے اور بچہ کوئی اچھا کام کرے تو تعریف کرکے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ڈرانے او ردھمکانے کے مقابلے میں ترغیب و تعریف سے کام لینا چاہیے۔ یہ زیادہ مو ¿ثر اور کامیاب طریقہ ہے اور اس سے بچوں کی شخصیت کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
بچے کے عیب کبھی اس کے منہ پر بیان نہ کیجیے۔ اگر وہ کند ذہن ہے، سبق یاد نہیں کرتا ہے، وقت پر اسکول نہیں پہنچتا ہے، جھوٹ بولتا ہے یا گھر سے پیسے چرا کر لے جاتا ہے تو اسے اس کی یہ خامیاں اور کمزوریاں یاد دلا دلا کر اسے شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ طریقِ عمل کبھی سودمند ثابت نہیں ہوسکتا۔ مارپیٹ کرنے یا شرمندگی دلانے سے بچے کے دل میں اصلاح کا خیال تو درکنار الٹی بغاوت پیدا ہوتی ہے۔ جس بچے میں کسی طرح کی خامی پائی جاتی ہو اسے دوسرے بچوں کی بہ نسبت زیادہ ہمدردی اور شفقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو ایک سازگار ماحول میں محسوس کرے۔ ہمدردی اور حوصلہ افزائی نکمّے سے نکمّے بچے میں بھی نہایت عمدہ تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔ بچے کو شاباشی دیجیے اور اس کی تعریف کیجیے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ ذرا سی تعریف اور توجہ سے بچے کی زندگی کا رخ بدل جائے گا۔
بچے کی عادات اور خیالات کی تعمیر یا اس کی اخلاقی اصلاح و تہذیب ایک نہایت ہی کٹھن مسئلہ ہے۔کچھ والدین اپنے بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسکول کی تعلیم اور ماحول سے وہ خود بخود سدھر جائیں گے۔ مگر یہ ایک وہم باطل ہے۔ دراصل بچوں کی اخلاقی تربیت ایک مشکل فن ہے۔ جب تک بچے کی ذہنی سطح اور اس کے فطری رجحان کو اس کے ماحول کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی اس وقت تک ہم اس کے مستقبل کی تعمیر میں کوئی تعاون نہیں کرسکتے۔ جب بھی بچے سے کوئی ناشائستہ حرکت سرزد ہو مثلاً چوری، جھوٹ، فریب وغیرہ تو اس صورت میں ہمارا فرض ہے کہ مرض کے علاج سے پہلے مرض کی تشخیص کرلیں اس دنیا میں کوئی برائی ایسی نہیں جس کی پشت پر کوئی حقیقی مجبوری نہ ہو۔ اس مجبوری کو سمجھنا اور اسے دور کرنا ہی کسی برائی یا بداخلاقی کا اصل علاج ہے۔
اکثر اوقات بچے سے غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن اس کا سبب اس بچے کے پاس نہیں ہوتا، ہمارے پاس ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی روزانہ زندگی کا جائزہ لیں گے تو ہم کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم ارادی یا غیر ارادی طور پر خود اپنے بچوں کو جھوٹ بولنے کی تربیت دیتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی شخص جس سے ہم ملنا نہیں چاہتے ہمارے دروازے پر آئے تو ہم اپنے کسی بچے سے کہلوا دیتے ہیں کہ ”ابا جان گھر پر نہیں ہیں۔“ یا اگر کوئی شخص عاریتاً کوئی چیز مانگنے کے لیے آئے تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ”وہ تو کوئی اور شخص مانگ کر لے گیا ہے۔“ ہمارے ایک دوست نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ وہ کیبرے شو دیکھنے کے لیے کبھی نہ جائے کیونکہ وہاں اسے وہ دیکھنے کو ملے گا جو اسے ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس نصیحت کے باوجود ایک رات بیٹا کیبرے شو دیکھنے کے لیے پہنچ گیا اور اسے واقعی وہ دیکھنے کو ملا جو اسے نہیں دیکھنا تھا، یعنی اپنا باپ۔اب آپ خیال کریں کہ ہم خود جھوٹ بول کر اور جھوٹی نصیحت کرکے اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ وہ ہمارے طرز عمل سے جھوٹ بولنے اور غلط راہ اختیار کرنے کی ٹریننگ حاصل کررہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں سے جھوٹے وعدے بھی کرتے ہیںاور اسے اس طرح ہم ان کے ذہن میں نقش کردیتے ہیں کہ سچائی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
والدین کو خواہ ان کے بچے کتنے ہی نیک اور اچھے کیوں نہ ہوں اپنے بچوں کے ماحول اور ان کی سوسائٹی سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ان کے بچے صاف ستھرے رہتے ہیں، وہ فرمانبردار ہیں، سچ بولتے ہیں، گالی گلوچ سے پرہیز کرتے ہیں، چغل خوری نہیں کرتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ والدین مطمئن بیٹھیں۔ اگر آس پاس کا ماحول خراب ہے تو بچوں کو خطرے سے باہر نہیں سمجھنا چاہیے۔ آپ کو ان کے ماحول کی نگرانی کرنی پڑے گی۔ صرف اپنے بچوں کی اصلاح ایک طرح کی ناکام خودغرضی ہوگی بلکہ آپ جہاں اپنے بچوں کا خیال رکھیں وہاں پڑوسیوں کے بچوں کی اخلاقی نگہداشت سے بھی غافل نہ رہیں۔ آپ اس بات کی بھی کوشش کریں کہ بچوں میں ذات پرستی، فرقہ پرستی اور تنگ نظری کو بڑھاوا نہ ملے۔ کیونکہ آج ملک کے تعلیمی اداروں میں، خاص کر تاریخ کی جو کتابیں پڑھائی جارہی ہیں وہ فرقہ پرستی اور تنگ نظری کو بڑھاوا دینے والی ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین تعلیم کے تعاون کی ضرورت ہے۔ وہ موجودہ نصاب تعلیم میں سدھار لائیں اور اس پر کڑی نگاہ رکھیں۔ تاریح کی کتابیں ایسی تیار کی جائیں جن میں فرقہ واریت اور تنگ نظری کو بڑھاوا نہ دیا گیا ہوبلکہ حب الوطنی اور ملک کی خوشحالی اور ترقی کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہو۔ والدین اپنے بچوں میں جذباتی ہم آہنگی پیدا کریں تاکہ گھر اور معاشرے کی بھلائی بچے کے جذبات کا مرکز بن سکے اور بڑا ہوکر وہ پوری قوم کو اپنی توجہ کا مرکز بنا سکے ۔

ایک تجزیہ۔

Last edited by ام غزل; 14-05-09 at 07:13 AM..

ام غزل
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 650
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-05-09), پاکستانی (05-05-09), منتظمین (05-05-09), محمدعدنان (11-06-09), مرزا محمد فاروق (09-06-09), yashaka (05-05-09), رضی (09-06-09), سحر (06-05-09)
پرانا 05-05-09, 10:21 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس تحریر پر تبصرہ بعد میں!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (05-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 05-05-09, 11:18 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (05-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 05-05-09, 11:32 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبردست کافی بحث چلے گی اس پر
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (05-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 05-05-09, 07:48 PM   #5
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھئی بحث کریں گے تو ہی چلے گی ، کوئی کہتا ہے بعد میں اور کوئی کہتا ہے کافی بحث !
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (09-06-09)
پرانا 05-05-09, 11:13 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
بھئی بحث کریں گے تو ہی چلے گی ، کوئی کہتا ہے بعد میں اور کوئی کہتا ہے کافی بحث !
پیاری اُمی، سلام
بعد میں اس لیئے کہا ہے کے ہمارے اسکول میں‌بچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں اس لیئے مصروفیت ہے۔ اس مضمون کو تفصیلاً پڑھ کر ہی اپنی رائے کا اظہار کروں گا اس لیئے کے میں بھی ایک باپ ہوں اور پیشے کے لحاظ سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ بھی۔
اور یہ موضوع میری دلچسپی کا بھی ہے اس لیئے محض خالی خولی باتیں نہیں کروں گا۔

نوٹ: ابھی بھی تبصرہ نہیں‌ کیا ہے۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (11-06-09), ام غزل (06-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 04:05 AM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے بچے ہماری بات نہیں سنتے، حالانکہ یہی شکایت بچوں کوبھی والدین سے ہے لہٰذا بات سننے میں والدین کو پہل کرنی چاہیے۔ چاہے آپ کے بچے کی باتیں غلط ہی کیوں نہ ہوں ان کی باتیں سنیں، بچے کو اظہار خیال کیلئے کم از کم کچھ وقت دیں۔ اس کے بعد اگر ضروری ہو تو اختلاف کریں۔ بچوں کی بات کو غور سے سننا انتہائی ضروری ہے، خصوصاً جب وہ اپنے احساسات کا اظہار کریں۔ ماہر نفسیات کے مطابق جب ہم بچے کے منفی احساس کو قبول کر لیتے ہیں تو اس کی شدت کم ہوجاتی ہے، کئی مرتبہ بچے اپنے منفی احساس کا بار بار اظہار کرتے ہیں، ہمیں ہر مرتبہ حوصلے سے بچے کی بات سن لینی چاہیے، بات سننے کے بعد بچے کو سمجھائیں کہ کس وجہ سے اس کی بات قابل عمل نہیں ہے، بچہ اپنا احساس ظاہر کر رہا ہو تو سر اور گردن اوپر نیچے ہلائیں ’’ہوں، ہوں‘‘ کرکے بات سنیں اگر اس کی بات سے اتفاق ہے تو ’’ٹھیک ’’ ’’صحیح‘‘ یا بالکل صحیح کہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ کے ساتھ انتہائی نرم گفتگو کریں تو آپ بھی ان کے ساتھ انتہائی نرم گفتگو کریں، اگر آپ اپنے بچوں سے تعاون چاہتے ہیں تو آپ بھی ان کے ساتھ تعاون کریں، صحت مند گھریلو ماحول کے لئے اپنے بچوں کا آپس میں مقابلہ نہ کریں اور نہ ہی دوسرے بچوں سے مقابلہ کریں۔‘‘تعریف کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو نظر آ رہا ہے یا سنائی دے رہا ہے اسے بیان کریں اور پھر جو محسوس کرتے ہیں وہ بیان کریں، آپ اپنے بچے کو وضاحت، تعریف کرنے کی تربیت دیں، مثلاً اگر بچے کی خوشخطی خراب بھی ہے تو وہ الفاظ یا حروف ڈھونڈیں جو خوبصورت ہیں ان پر انگلی رکھ کر کہیں یہ لفظ مثلاً ’’الف‘‘ یا’’ب‘‘ یا’’P‘‘ یا ’’X‘‘ وغیرہ کتنا سیدھا اور خوبصورت ہے۔ بچے کی شخصیت پر بے جا تنقید نہ کریں بلکہ اس کے عمل میں نقص نکالیں اور شخصیت پر تنقید سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کریں۔ والدین کے لئے بہتر ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر تنقید کرنے کی بجائے مستقبل کے لئے اچھی رہنمائی کریں اور غلطی کا احساس دلائے بغیر اصلاح کریں۔ والدین اور بچوں کی ضروریات اور خواہشات کے درمیان جب بھی اختلاف رائے ہو تو مل بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہیے اور والدین و بچے باری باری اپنے اپنے احساسات و خیالات کا اظہار کریں، والدین اپنے بچے کی تمام تجاویز کا جائزہ لیں اور انہیں بتا دیں کہ کون کونسی تجاویز ان کے لئے قابل عمل نہیں ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تروبیت اور معاشرے کا کامیاب ممبر بننے کیلئے چند تجاویز پر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔

٭۔۔۔۔ بچے کو انتخاب کا حق دیں، بجائے بچے پر ہر چیز اور ہر کام مسلط کرنے کے، اسے انتخاب کرنے کا حق دیں۔

٭۔۔۔۔ہوم ورک، نہانا اور کوئی بھی دوسرا کام جو آپ کا بچہ نہیں کرتا اچانک بچے پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے وقت کے انتخاب میں بچے کو کچھ گنجائش دیں ۔

٭۔۔۔۔بچوں کے غلط اعمال کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، مثلاً کھانے کے برتن بے جگہ چھوڑ دینا، کوڑا کرکٹ جگہ جگہ ڈھیر کر دینا، کمرے میں گندگی ڈالنا، ایسے بھی بچے پر ضرور دے کر ایک دو دفعہ اسی کے ہاتھوں وہ کام کروائیں تو بچہ محسوس بھی نہیں کرے گا اور اصلاح بھی ہو جائے گی اور بہتر نتائج برآمد ہونگے

٭۔۔۔۔ نتائج اور سزا میں یہ فرق ہوتا ہے کہ نتائج بچے کی غلطی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سزا کا غلطی سے کوئی قدرتی تعلق نہیں ہوتا، اگر بچہ چھوٹا ہے توآپ کچھ وقت کے لئے اس سے بول چال بند کر دیں ، مارنا ایک سزا اور یہ زیادہ نقصان دہ ہے

٭۔۔۔۔ بچے سزاؤں کی نسبت قدرتی نتائج کو بہتر طور پر قبول کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی اور نتائج میں تعلق نظر آجاتا ہے

٭۔۔۔۔ نتائج کے استعمال سے بچوں میں مثبت تبدیلیاں چند ہفتوں میں آتی ہیں، لیکن بچوں کی خود اعتمادی مضبوط ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو مظلوم نہیں سمجھتے

٭۔۔۔۔مائیں اکثر غصہ میں یا نارمل حالات میں بچوں کو بدتمیز کہتی ہیں یا ’’بدتمیزی نہ کرو‘‘ کہتی ہیں اس کے بجائے انہیں وضاحت کرنی چاہیے اور بہتر تجویز دینی چاہیے

٭۔۔۔۔ اپنے بچے کو وہ کام سکھائیں جو اسے نہیں آتا، مثلاً اگر وہ لاپرواہی سے کام کرتا ہے تو اس کا نام’’لاپرواہ‘‘ نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے ساتھ لگا کر احتیاط سے کام کرنا سکھائیں۔ پہلے اس کو کرکے دیکھائیں اور پھر بتائیں، جتنا کام کرست کر رہا ہے اس کی وضاحت کے ساتھ تعریف کریں، غلطیاں نرمی اورتحمل سے درست کروائیں جو تھوڑی سی محنت آج اس بچے کی تربیت پر لگے گی وہ کل آپ سب کے کام آئے گی۔

٭۔۔۔۔بچوں کے آپس میں جھگڑے ہوں تو ان کے جھگڑوں کو وقتاً فوقتاً ایک نظر دیکھ لیں، جھگڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، مثلا ایک وہ ہے جسے ’’ نوک جھونک‘‘ کہتے ہیں۔ یہ بغیر کسی بڑے کی مدد کے خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا انداز ہے کہ پہلی طرح کاجھگڑا ہے تو کوئی دخل انداز نہ کریں۔ دوسری طرح اگر جھگڑا بڑھتا جا رہا ہے تو والدین کو دخل اندازی دینی چاہیے اور سب بچوں کی بات غور سے سنیں اور شدید قسم کے جھگڑے پر 10 ، 20 منٹ کے لئے دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیں، بچوں کو اپنی اپنی جگہ پر مصروف رہنے کے لئے کوئی تجویز دے دیں یا کام پر لگا دیں، بچوں کی طرف دیکھ کر اکثر مسکرایا کریں

٭۔۔۔۔وضاحت کے ساتھ تعریف کرنے کے مواقع ڈھونڈتے رہیں ان کے ساتھ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ کوئی کھیل بھی ضرور کھیلا کریں

٭۔۔۔۔بچوں کی تربیت میں عموماً ماں کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں اس لئے باپ سے میری اپیل ہے کہ ماں کے احترام اور مقام کا زیادہ خیال رکھیں، بات بات پر ماں پر تنقید نہ کریں،ماں باپ بچوں کے سامنے تنقید اور جھگڑا نہ کریں اسی میں سارے گھر اور معاشرے کا فائدہ ہے، بہترین مستقبل اولاد کی بہترین تربیت ہے
ڈاکٹر اشفاق رحمانی
بتول باجی آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بتول باجی کا شکریہ ادا کیا
Haya 786 (06-05-09), shafresha (06-05-09), منتظمین (06-05-09), محمدعدنان (11-06-09), ام غزل (06-05-09), اسد لطیف (06-05-09), رضی (09-06-09), سحر (06-05-09)
پرانا 06-05-09, 08:10 AM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بتول باجی آپ کا مُراسلہ تو ایک الگ مضمون کی شکل میں‌پیش کیا جانا چاھیئے تھا،
شئیرنگ کا شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (06-05-09), ام غزل (06-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 10:43 AM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بتول باجی کا مراسلہ بھی سرورق کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-05-09), ام غزل (06-05-09), رضی (09-06-09), سحر (06-05-09)
پرانا 06-05-09, 02:46 PM   #10
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بتول باجی آپ نے اس مراسلے پر اپنا بھرپُور تبصرہ کرکے اس مراسلے کی اہمئیت میں اضافہ کردیا ہے ، بہت ہی حساس اور چند مفید تجاویز کے اضافے نے اس مضمون کو چار چاند لگادئیے ،
شاہد بھائی اور منتظمین کا بھی شکریہ کہ انہوں نے بتول باجی کے تبصرے کو بغور پڑھا اور اس پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ۔
بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (11-06-09), رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 02:48 PM   #11
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
پیاری اُمی، سلام
بعد میں اس لیئے کہا ہے کے ہمارے اسکول میں‌بچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں اس لیئے مصروفیت ہے۔ اس مضمون کو تفصیلاً پڑھ کر ہی اپنی رائے کا اظہار کروں گا اس لیئے کے میں بھی ایک باپ ہوں اور پیشے کے لحاظ سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ بھی۔
اور یہ موضوع میری دلچسپی کا بھی ہے اس لیئے محض خالی خولی باتیں نہیں کروں گا۔

نوٹ: ابھی بھی تبصرہ نہیں‌ کیا ہے۔
معافی چاہتی ہوں شاہد بھائی مجھے آپ کی مصروفئیت کے بارے میں علم نہیں تھا ، خیر میں آپ کے تبصرے کا انتظار کروں گی ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 02:59 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں ان باتوں میں کچھ باتوں کا اضافہ کرنا چاہوں گی ۔ ملیشیاء کے ایک اسکول میں khalifa method of learning کے نام سے ایک نظام تعلیم رائج کیا ہے ۔
جس میں بچوں کو اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہیں ۔ اس طرح بچوں میں ایک مسلمان ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جاتا ہے ۔ بچوں کو نا صرف اچھائی کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان کو کہا جاتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کو اچھائی کی بات بتائیں چاہے بڑوں کو ہی کیوں نہ بتائیں۔
اس طرح بچوں میں اللہ سے محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں ایک باعزت شخصیت سمجھتے ہیں۔
اور اللہ کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
اور بُرے کاموں سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-05-09), منتظمین (06-05-09), محمدعدنان (11-06-09), ام غزل (07-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 05:17 PM   #13
Senior Member
 
اسد لطیف's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: Kundian Mianwali
مراسلات: 567
کمائي: 9,286
شکریہ: 524
293 مراسلہ میں 683 بارشکریہ ادا کیا گیا
اسد لطیف کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاباش بتول باجی

جاری رکھیں!
اسد لطیف آف لائن ہے   Reply With Quote
اسد لطیف کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (09-06-09)
پرانا 06-05-09, 10:01 PM   #14
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ مضمون میں نے نہیں لکھا
والدین اگر میرے مراسلے کو پڑھ کچھ سمجھ لیں تو یہی میرے لئے کافی ہے
بتول باجی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے بتول باجی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-05-09), فیصل ناصر (14-05-09), منتظمین (06-05-09), محمدعدنان (11-06-09), ام غزل (07-05-09), رضی (09-06-09)
پرانا 07-05-09, 07:15 AM   #15
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بتول باجی مراسلہ دیکھیں
یہ مضمون میں نے نہیں لکھا
والدین اگر میرے مراسلے کو پڑھ کچھ سمجھ لیں تو یہی میرے لئے کافی ہے
اس فورم پر پیش کیئے جانے والے اکثر مُراسلے مُختلف کتابوں، مضامین اور حوالوں کے اقتباسات ہی ہوتے ہیں۔ ان کو پیش کرنے کا مقصد اچھی بات دوسروں سے شئیر کرنا ہوتا ہے۔
بس احتیاط یہ کرنی چاھیئے کے حوالہ بھی دے دیا جائے تاکہ اصل مصنفین کی حق تلفی نہ ہو اور دیگر ممبران کے نزدیک آپ کے علمی قد میں اضافہ ہو۔

آپ کی شئیرنگ کا ایک بار پھر شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (07-05-09), محمدعدنان (11-06-09), مرزا محمد فاروق (01-06-09), ام غزل (07-05-09), رضی (09-06-09)
جواب

Tags
color, learning, فورم, فن, فرقہ واریت, فرض, کالج, نفرت, نظر, موجودہ, ماں, محبت, اللہ, اچھا کام, بچوں, تحریر, تعلیم, جھوٹ, جاہل, جرم, دوست, سائنس, عقل, غزل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger