| والدین اور بچوں کے حقوق والدین اور بچوں کے حقوق |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 650
|
||||
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
بعد میں اس لیئے کہا ہے کے ہمارے اسکول میںبچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں اس لیئے مصروفیت ہے۔ اس مضمون کو تفصیلاً پڑھ کر ہی اپنی رائے کا اظہار کروں گا اس لیئے کے میں بھی ایک باپ ہوں اور پیشے کے لحاظ سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ بھی۔ اور یہ موضوع میری دلچسپی کا بھی ہے اس لیئے محض خالی خولی باتیں نہیں کروں گا۔ نوٹ: ابھی بھی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے بچے ہماری بات نہیں سنتے، حالانکہ یہی شکایت بچوں کوبھی والدین سے ہے لہٰذا بات سننے میں والدین کو پہل کرنی چاہیے۔ چاہے آپ کے بچے کی باتیں غلط ہی کیوں نہ ہوں ان کی باتیں سنیں، بچے کو اظہار خیال کیلئے کم از کم کچھ وقت دیں۔ اس کے بعد اگر ضروری ہو تو اختلاف کریں۔ بچوں کی بات کو غور سے سننا انتہائی ضروری ہے، خصوصاً جب وہ اپنے احساسات کا اظہار کریں۔ ماہر نفسیات کے مطابق جب ہم بچے کے منفی احساس کو قبول کر لیتے ہیں تو اس کی شدت کم ہوجاتی ہے، کئی مرتبہ بچے اپنے منفی احساس کا بار بار اظہار کرتے ہیں، ہمیں ہر مرتبہ حوصلے سے بچے کی بات سن لینی چاہیے، بات سننے کے بعد بچے کو سمجھائیں کہ کس وجہ سے اس کی بات قابل عمل نہیں ہے، بچہ اپنا احساس ظاہر کر رہا ہو تو سر اور گردن اوپر نیچے ہلائیں ’’ہوں، ہوں‘‘ کرکے بات سنیں اگر اس کی بات سے اتفاق ہے تو ’’ٹھیک ’’ ’’صحیح‘‘ یا بالکل صحیح کہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ کے ساتھ انتہائی نرم گفتگو کریں تو آپ بھی ان کے ساتھ انتہائی نرم گفتگو کریں، اگر آپ اپنے بچوں سے تعاون چاہتے ہیں تو آپ بھی ان کے ساتھ تعاون کریں، صحت مند گھریلو ماحول کے لئے اپنے بچوں کا آپس میں مقابلہ نہ کریں اور نہ ہی دوسرے بچوں سے مقابلہ کریں۔‘‘تعریف کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو نظر آ رہا ہے یا سنائی دے رہا ہے اسے بیان کریں اور پھر جو محسوس کرتے ہیں وہ بیان کریں، آپ اپنے بچے کو وضاحت، تعریف کرنے کی تربیت دیں، مثلاً اگر بچے کی خوشخطی خراب بھی ہے تو وہ الفاظ یا حروف ڈھونڈیں جو خوبصورت ہیں ان پر انگلی رکھ کر کہیں یہ لفظ مثلاً ’’الف‘‘ یا’’ب‘‘ یا’’P‘‘ یا ’’X‘‘ وغیرہ کتنا سیدھا اور خوبصورت ہے۔ بچے کی شخصیت پر بے جا تنقید نہ کریں بلکہ اس کے عمل میں نقص نکالیں اور شخصیت پر تنقید سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کریں۔ والدین کے لئے بہتر ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر تنقید کرنے کی بجائے مستقبل کے لئے اچھی رہنمائی کریں اور غلطی کا احساس دلائے بغیر اصلاح کریں۔ والدین اور بچوں کی ضروریات اور خواہشات کے درمیان جب بھی اختلاف رائے ہو تو مل بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہیے اور والدین و بچے باری باری اپنے اپنے احساسات و خیالات کا اظہار کریں، والدین اپنے بچے کی تمام تجاویز کا جائزہ لیں اور انہیں بتا دیں کہ کون کونسی تجاویز ان کے لئے قابل عمل نہیں ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تروبیت اور معاشرے کا کامیاب ممبر بننے کیلئے چند تجاویز پر عمل درآمد بہت ضروری ہے۔ ٭۔۔۔۔ بچے کو انتخاب کا حق دیں، بجائے بچے پر ہر چیز اور ہر کام مسلط کرنے کے، اسے انتخاب کرنے کا حق دیں۔ ٭۔۔۔۔ہوم ورک، نہانا اور کوئی بھی دوسرا کام جو آپ کا بچہ نہیں کرتا اچانک بچے پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے وقت کے انتخاب میں بچے کو کچھ گنجائش دیں ۔ ٭۔۔۔۔بچوں کے غلط اعمال کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، مثلاً کھانے کے برتن بے جگہ چھوڑ دینا، کوڑا کرکٹ جگہ جگہ ڈھیر کر دینا، کمرے میں گندگی ڈالنا، ایسے بھی بچے پر ضرور دے کر ایک دو دفعہ اسی کے ہاتھوں وہ کام کروائیں تو بچہ محسوس بھی نہیں کرے گا اور اصلاح بھی ہو جائے گی اور بہتر نتائج برآمد ہونگے ٭۔۔۔۔ نتائج اور سزا میں یہ فرق ہوتا ہے کہ نتائج بچے کی غلطی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سزا کا غلطی سے کوئی قدرتی تعلق نہیں ہوتا، اگر بچہ چھوٹا ہے توآپ کچھ وقت کے لئے اس سے بول چال بند کر دیں ، مارنا ایک سزا اور یہ زیادہ نقصان دہ ہے ٭۔۔۔۔ بچے سزاؤں کی نسبت قدرتی نتائج کو بہتر طور پر قبول کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی اور نتائج میں تعلق نظر آجاتا ہے ٭۔۔۔۔ نتائج کے استعمال سے بچوں میں مثبت تبدیلیاں چند ہفتوں میں آتی ہیں، لیکن بچوں کی خود اعتمادی مضبوط ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو مظلوم نہیں سمجھتے ٭۔۔۔۔مائیں اکثر غصہ میں یا نارمل حالات میں بچوں کو بدتمیز کہتی ہیں یا ’’بدتمیزی نہ کرو‘‘ کہتی ہیں اس کے بجائے انہیں وضاحت کرنی چاہیے اور بہتر تجویز دینی چاہیے ٭۔۔۔۔ اپنے بچے کو وہ کام سکھائیں جو اسے نہیں آتا، مثلاً اگر وہ لاپرواہی سے کام کرتا ہے تو اس کا نام’’لاپرواہ‘‘ نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے ساتھ لگا کر احتیاط سے کام کرنا سکھائیں۔ پہلے اس کو کرکے دیکھائیں اور پھر بتائیں، جتنا کام کرست کر رہا ہے اس کی وضاحت کے ساتھ تعریف کریں، غلطیاں نرمی اورتحمل سے درست کروائیں جو تھوڑی سی محنت آج اس بچے کی تربیت پر لگے گی وہ کل آپ سب کے کام آئے گی۔ ٭۔۔۔۔بچوں کے آپس میں جھگڑے ہوں تو ان کے جھگڑوں کو وقتاً فوقتاً ایک نظر دیکھ لیں، جھگڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، مثلا ایک وہ ہے جسے ’’ نوک جھونک‘‘ کہتے ہیں۔ یہ بغیر کسی بڑے کی مدد کے خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا انداز ہے کہ پہلی طرح کاجھگڑا ہے تو کوئی دخل انداز نہ کریں۔ دوسری طرح اگر جھگڑا بڑھتا جا رہا ہے تو والدین کو دخل اندازی دینی چاہیے اور سب بچوں کی بات غور سے سنیں اور شدید قسم کے جھگڑے پر 10 ، 20 منٹ کے لئے دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیں، بچوں کو اپنی اپنی جگہ پر مصروف رہنے کے لئے کوئی تجویز دے دیں یا کام پر لگا دیں، بچوں کی طرف دیکھ کر اکثر مسکرایا کریں ٭۔۔۔۔وضاحت کے ساتھ تعریف کرنے کے مواقع ڈھونڈتے رہیں ان کے ساتھ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ کوئی کھیل بھی ضرور کھیلا کریں ٭۔۔۔۔بچوں کی تربیت میں عموماً ماں کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں اس لئے باپ سے میری اپیل ہے کہ ماں کے احترام اور مقام کا زیادہ خیال رکھیں، بات بات پر ماں پر تنقید نہ کریں،ماں باپ بچوں کے سامنے تنقید اور جھگڑا نہ کریں اسی میں سارے گھر اور معاشرے کا فائدہ ہے، بہترین مستقبل اولاد کی بہترین تربیت ہے ڈاکٹر اشفاق رحمانی |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بتول باجی آپ کا مُراسلہ تو ایک الگ مضمون کی شکل میںپیش کیا جانا چاھیئے تھا،
شئیرنگ کا شکریہ! |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بتول باجی کا مراسلہ بھی سرورق کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بتول باجی آپ نے اس مراسلے پر اپنا بھرپُور تبصرہ کرکے اس مراسلے کی اہمئیت میں اضافہ کردیا ہے ، بہت ہی حساس اور چند مفید تجاویز کے اضافے نے اس مضمون کو چار چاند لگادئیے ،
شاہد بھائی اور منتظمین کا بھی شکریہ کہ انہوں نے بتول باجی کے تبصرے کو بغور پڑھا اور اس پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ۔ بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (09-06-09) |
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں ان باتوں میں کچھ باتوں کا اضافہ کرنا چاہوں گی ۔ ملیشیاء کے ایک اسکول میں khalifa method of learning کے نام سے ایک نظام تعلیم رائج کیا ہے ۔
جس میں بچوں کو اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہیں ۔ اس طرح بچوں میں ایک مسلمان ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جاتا ہے ۔ بچوں کو نا صرف اچھائی کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان کو کہا جاتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کو اچھائی کی بات بتائیں چاہے بڑوں کو ہی کیوں نہ بتائیں۔ اس طرح بچوں میں اللہ سے محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں ایک باعزت شخصیت سمجھتے ہیں۔ اور اللہ کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بُرے کاموں سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 61
کمائي: 1,139
شکریہ: 43
42 مراسلہ میں 114 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ مضمون میں نے نہیں لکھا
والدین اگر میرے مراسلے کو پڑھ کچھ سمجھ لیں تو یہی میرے لئے کافی ہے |
|
|
|
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
بس احتیاط یہ کرنی چاھیئے کے حوالہ بھی دے دیا جائے تاکہ اصل مصنفین کی حق تلفی نہ ہو اور دیگر ممبران کے نزدیک آپ کے علمی قد میں اضافہ ہو۔ آپ کی شئیرنگ کا ایک بار پھر شکریہ! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (07-05-09), محمدعدنان (11-06-09), مرزا محمد فاروق (01-06-09), ام غزل (07-05-09), رضی (09-06-09) |
![]() |
| Tags |
| color, learning, فورم, فن, فرقہ واریت, فرض, کالج, نفرت, نظر, موجودہ, ماں, محبت, اللہ, اچھا کام, بچوں, تحریر, تعلیم, جھوٹ, جاہل, جرم, دوست, سائنس, عقل, غزل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|