واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > پاکیزگی > وضوء اور غسل



وضوء اور غسل وضوء اور غسل


وضوء مکمل اور صحیح طریقہ اور اہم مسائل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-12-07, 07:08 AM  
وضوء مکمل اور صحیح طریقہ اور اہم مسائل
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 01-12-07, 07:08 AM



::: وضوء کی مکمل کیفیت ، اور اہم مسائل :::
::: فرضیتِ وضوء :::

::: قُران میں سے دلیل ::: اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اِذَا قُمتُم اِلَی الصَّلاۃِ فاغسِلُوا وُجُوہَکُم وَاَیدِیَکُم اِلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُؤُوسِکُم وَاَرجُلَکُم اِلَی الکَعبَینِ )(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لواور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو لو) سورت المائدہ آیت ٦،
::: سُنّت میں سے دلیل ::: (١) ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ من اَحدَث َ حتی یَتَوَضَّاَ ) ( جِس کو حدث (اصغر)ہو جائے اُس کی نماز اُس وقت تک قُبُول نہیں ہوتی جب تک وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح بخاری /حدیث١٣٥ /کتاب الوضوء / باب ٢ ،
اور صحیح مُسلم کے روایت کے اِلفاظ ہیں(لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ اَحَدِکُم اِذا اَحدَث َ حَتٰی یَتَوَضَّاَ ) ( اگر تم لوگوں میں سے کوئی کِسی کو حدث (اصغر)ہو جائے تو اُسکی نماز اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح مسلم /حدیث ٢٢٥ /کتاب الطہارۃ /باب٢
::: دلیل (٢) ::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے ،میں نے رسول اللہ صلی سے سُنا ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیرِ طُہُورٍ ولا صَدَقَۃٌ من غُلُولٍ)( طہارت (پاکیزگی ) کے بغیر نماز قُبُول نہیں ہوتی اور نہ ہی مالِ غنیمت میں سے خیانت کر کے لیے گئے مال میں سے صدقہ (قُبُول ہوتا ہے)) صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٤ /کتاب الطہارۃ /باب٢
سنن کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مندرجہ بالا اِلفاظ بکثرت روایات میں ملتے ہیں ، جِن کے ذریعے سے یہ واضح حُکم ملتا ہے کہ اگر کوئی وضو کی حالت میں نہیں ہے اور وضو کیے بغیر اس نے نماز ادا کی ہے تو اللہ کے ہاں اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔ یعنی ، نماز کی ادائیگی کے لیے وضوء کی حالت میں ہونا شرط ہے ، ( نماز کی شروط کے بارے میں ایک الگ درس ہو چکا ہے)
مندرجہ بالا احادیث میں ''' حدث ''' اِستعمال ہوا ہے ، ''' حدث ''' کی دو کیفیات ہوتی ہیں ،
''' حدث اکبر''' اور''' حدث اصغر''' ، جن کے وارد ہونے سے مسلمان پاکیزگی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے ''' حدث اصغر''' کا تعارف ''' غُسل ''' والے مضمون میں کروایا جا چکا ہے ، اور اِنشاء اللہ ''' حدث اکبر ''' کا تعارف''' طہارت اور نجاست '''کی بُنیادی تفصیل اُن کے مُقام و موقع پر بیان کروں گا جو کہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئیے ضروری ہے کہ نجاست اور طہارت کیا ہے ؟اور حدث اکبر اور حدث اصغریعنی بڑی پلیدگی اور چھوٹی پلیدگی کیا ہے؟

::: فرضیتِ وضوء کی تیسری دلیل ::: یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے اور کسی بھی مذہب کسی بھی فقہ میںاس کے لئیے اختلاف نہیں ہے کہ وضوء کیے بغیر طہارت اختیار کی جا سکتی ہے ،
وضوء کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئیں ہیں لیکن موضوع کو مختصر رکھتے ہوئے میں اِن احادیث کا یہاں ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ مضمون اس وقت صرف وضوء کی کیفیت یعنی وضو کے طریقہ کے بارے میں ہے ،
وضوء کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے ہم اِس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:::
::: (١) وضوء کے فرائض :::
وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیتِ وضوء میں بیان فرمائے ہیں ،
::: (٢) وضوء کی سنتیں ::: وضوء میں وہ کام جو آیتِ وضو میں نہیں ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں ۔
::::: وضو کے فرائض :::::
::: (١) پہلا فرض :::
جو کہ صرف وضو کے لئیے ہی نہیں بلکہ بہت سے کاموں میں فرضیت کا حکم رکھتا ہے، وہ ہے ::: نیت ::: یعنی جب کوئی شخص اٹھ کر اپنے چہرے، ہاتھوں ،پیروں کو دھوتا ہے تو اِس کے دل میں یہ اِرادہ ہونا چاہئیے کہ وہ اس خاص ترتیب سے جو عمل کر رہا ہے وہ وضوء ہے اور نجاست سے طہارت میں داخل ہونے کے لیے وہ یہ عمل کر رہا ہے،
::: مسئلہ ::: یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے اور ہمیشہ رہنی چاہیے کہ نیت کی جگہ دل ہے ، کیونکہ نیت کا مطلب اِرادہ ہوتا ہے اور اِرادہ دِل میں ہوتا ہے، کِسی بھی عِبادت کے لیے زُبان سے نیت ادا کرنے کی کوئی دلیل ہمیں قرآن اور صحیح ثابت شدہ احادیث حدیث میں نہیں ملتی ، کچھ لوگ حج کے تلبیہ کو زُبانی نیت کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ تلبیہ کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ نیت نہیں ہے بلکہ جب کوئی مُسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ادائیگی حج کے حکم پرلبیک کہتے ہوئے نکلتا ہے تواللہ کے حُکم کا جواب دیتا ہے، بہرحال یہ اِس وقت ہمارا موضوع نہیں اس موضوع پر میری کتاب ''' عمرہ اور حج رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر''' میں کچھ تفصیل لکھی گئی ہے اِس کو پڑھنا انشاء اللہ تعالی مفید ہو گا ،
::: (٢) وضوکے فرائض میں سے دوسرا فرض ہے کہ ::: چہرے کو دھویا جائے ::: اور دھونے کا مطلب ہے کہ پانی کو چہرے پر اچھی طرح سے بہایا جائے ، یاد رہے کہ، لمبائی میں پیشانی سے لے تھوڑی اور داڑھوں کے نیچے تک کے حصہ کو ، اور چوڑائی میں ایک کان سے لے کر دوسرے کان کے آغاز تک کے حصہ کوچہرہ کہا جاتا ہے،
::: (٣) وضوء کے فرائض میں سے تیسرا فرض ہے ::: دونوں ہاتھوں کوکُہنیوں تک دھویا جائے ::: کندھے سے ہاتھ کی طرف پہلا جوڑ جو بازو کے درمیان میں ہوتا ہے کُہنی کہلاتا ہے۔
::: (٤) وضوء کے فرائض میں سے چوتھا فرض ہے::: سر کا مسح کرنا::: یعنی وضوء کرتے ہوئے گیلے ہاتھوں کو سر پر پھیرا جائے ،
:::مسح کرنے کا طریقہ ::: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے کِسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کِس طرح وضوء کیا کرتے تھے تو اُنہوں نے پورا طریقہ بتاتے ہوئے کہا (،،،،، ثُمَّ مَسَحَ رَاسَہ ُ بِیَدَیہِ فَاَقبَلَ بِہِمَا وَاَدبَرَ بَدَاَ بِمُقَدَّمِ رَاسِہِ حتی ذَہَبَ بِہِمَا اِلی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا اِلیَ المَکَانِِ الذِی بَدَاَ مِنہ ُ،،،،، ) ( ،،،،، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سرکا مسح کیا ، مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا ( یعنی پیشانی کے بعد جہاں سے سر کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے مسح کا آغاز کیا جائے گا) اور دونوں ہاتھوں کو پیچھے تک لے گئے اور پھر واپس جہاں سے مسح کا آغازکیا تھا وہاں لے آئے ،،،،، ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٣/کتاب الوضوء / باب ٣٧ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٣٥ / کتاب الطہارۃ /باب ٧،
::: مسئلہ (١) ::: عِمامہ ، خِمار ، ٹوپی وغیرہ پر مسح کرنا ::: یعنی :::
اگر مسح کرتے ہوئے سر پر کوئی ٹوپی یا کپڑا وغیرہ ہے اور وضوء کرنے والا اسے اُتارنا نہیں چاہتا تو وہ اسی پر مسح کر سکتا ہے،
::: دلیل (١) ::: عَمرو بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ( رایتُ النَّبیَ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہ وسَلمَ یَمسَحُ علی عِمَامَتِہِ ) (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عِمامہ پر مسح کرتے ہوا دیکھا ہے) صحیح البُخاری / حدیث ٢٠٢/کتاب الوضوء / باب ٤٧ ،
::: دلیل (٢) ::: سر پر رکھی ہوئی چادر (خِمار)کے بارے میں الگ سے بھی بلال رضی اللہ عنہُ سے روایت کہ (اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ مَسَحَ علی الخُفَّینِ وَالخِمَارِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چمڑے کے موزوں پر اور سر پر رکھی جانے والی چادر پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٥ / کتاب الطہارۃ /باب٢٣، سنن ابن ماجہ / حدیث ٥٦١ /کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٨٩ کی پہلی حدیث، صحیح سنن ابن ماجہ ٤٥٥،
::: قابلِ غور ::: عِمامہ سے مراد صِرف روایتی قِسم کی وہ ایک پگڑی نہیں ہے جِسے ہم عمامہ شریف کہتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ العِمامۃ ، مِن لباس الراس المعروفۃ، و ھی ما تعم الراس ، یعنی ، عِمامہ سر کے معروف لباسوں میں سے وہ چیز ہے جوپورے سر کو ڈھانپے رکھے، لہذا اگر کسی نے سر پر کپڑا لے رکھاہے یا لپیٹ رکھا ہے یا باندھا ہوا ہے ، تو یہ تینوں کیفیات عمامہ کی ہیں ، اور ٹوپی بھی اِسی حُکم میں داخل ہے ، اور '' خِمار ''' اُس چادر کو کہتے ہیں جسے سر پر باندھے بغیر رکھا جاتا ہے،
::: یاد دھانی ::: اِن سب چیزوں پر اُسی طریقے سے مسح کیا جا ئے گا، جو طریقہ ابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی روایت میں بیان ہوا ہے،
::: مسئلہ(٢) ::: سر( اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے :::
عام طور پر یہ خیال کیا جاتاہے کہ سر( اور کانوں ) کا مسح ایک ہی دفعہ کیا جائے گا ، خواہ اعضاءِ وضوء دو دو دفعہ دھوئے جائیں یا تین تین دفعہ ، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سے زیادہ مسح کرنا جائز نہیں ، مگر یہ دونوں باتیں دُرست نہیں ، سر (اور کانوں) کا مسح بھی تین دفعہ کیا جا سکتا ہے ،
عام معمول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر (اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ کیا کرتے تھے ، اِس لیے ایک دفعہ کی روایات زیادہ ہیں ، پس دونوں قِسم کی روایات پر عمل کرتے رہنا چاہیئے ، اور وہ یوں کہ عام طور پر تو ایک دفعہ مسح کیا جائے اور کبھی کبھی تین دفعہ ، تا کہ دونوں سُنّتوں پر عمل ہو جائے ،
::: دلیل ::: شفیق بن سمرہ رحمہُ اللہ سے کا کہنا ہے کہ ( رایت عُثمَانَ بن عَفَّانَ (رَضِی اللَّہ ُ عنہ ُ)غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَاسَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ قال ::: رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّم َ فَعَلَ ہذا ::: ) ( میں نے عُثمان بن عفان (رضی اللہ عنہُ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا کہ) اُنہوں نے اپنی کلائیاں تین تین دفعہ دھوئِیں اور اپنے سر کا تین دفعہ مسح کیا اور پھر فرمایا ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ::: ) سنن ابی داؤد / حدیث ١١٠ ، اور حمران رضی اللہ عنہُ سے بھی یہ روایت ہے /حدیث ، ١٠٧ ،دونوں روایات کو اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ، مزید تفصیل ''' فتح الباری ''' اور ''' سُبل السّلام ''' اور ''' تمام المنۃ /ص٩١ ''' میں میسر ہے ،
::: مسئلہ(٣) ::: سر کے ساتھ ساتھ پیشانی کا مسح بھی کیا جا سکتا ہے ،
::: دلیل :::
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اَنَّ النبی صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ تَوَضَّاَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی العِمَامَۃِ وَعَلَی الخُفَّینِ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنی پیشانی اپنے امامہ اور اپنے چمڑے کے موزوں پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٤ / کتاب الطہارۃ /باب ٢٣
::: مزید قابلِ غور ::: اس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے سر کے کچھ حصوں پر مسح کیا ہو جیسے کہ اکثر مسلمانوں میں یہ چیز نظر آتی ہے کہ ہاتھوں میں نیا پانی لیتے ہیں اور اس کو جھٹکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پہلی پوروں کو پیشانی کے سامنے والے حصہ میں تین دفعہ کبوتر کی چونچ کی طرح مار کر مسح کر لیتے ہیں، یا بالوں کی سامنے والی لِٹ (پف) پر ہلکا ہلکا سا مسح کر لیتے ہیں تاکہ بال بھی نہ خراب ہوں اور مسح بھی ہو جائے ، راضی رہے رحمان بھی اور خوش رہے شیطان بھی ، اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلیہِ رَاجِعُونَ ، یا سر کے کچھ حصے پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، سر کے مسح کے یہ سب طریقے خِلافِ سُنّت ہیں، سر اور سر ڈھانپنے والی چیزوں کا ایک اکیلا طریقہ صِرف وہی ہے جوابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
::: مسئلہ(٤) ::: سر کے مسح کے لیے ہاتھوں پر نیا پانی بھی لگایا جا سکتا ہے ،
:::دلیل :::
عبداللہ بن ابو زید رضی اللہ عنہُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کا طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ( ،،،،، وَمَسَحَ بِرَاسِہِ بِمَاءٍ غَیرَ فَضلِ یَدہِ ،،،،،) ( ،،،،، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں پر لگے ہوئے پانی کے عِلاوہ (نئے) پانی سے اپنے سر کا مسح کیا ،،،،،) صحیح ابن حبان / حدیث١٠٨٢/کتاب الطہارۃ /باب ٣ سُنن الوضوء کا ٢٦واں حصہ، صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١١١،
::: مسئلہ(٥) ::: سر اور کانوں کے ساتھ یا بعد میں ، یا وضوء کا حصہ سمجھتے ہوئے گردن کا مسح کرنا ، سُنّت میں ثابت نہیں ، اِس کا بیان اِنشاء اللہ وضوء کی سُنتوں میں کانوں کے مسح میں کیا جائے گا ۔

مضمون جاری ہے ،

Last edited by عادل سہیل; 01-12-07 at 07:24 AM..

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1565
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (10-03-11), محمدمبشرعلی (09-06-10), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10), ضِرار Derar (26-05-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (24-10-10)
پرانا 24-10-10, 02:20 PM   #16
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
محترم عادل صاحب۔
آپ یہ بتائیں کہ کیا وضو صرف بتائے گئے طریقہ کی ترتیب سے ہی ہوگا یہ ترتیب تھوڑی سی تبدیل ہوجائے تو بھی ہوجائے گا۔
ہمارے ایک حکیم الامت صاحب نے تو فتوی دے دیا ہے کہ وضو ہو جائے گا لیکن سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔ آپ کا فتوی کیا ہے۔
شکریہ والسلام
و علیکم السلام،
ارشد بھائی!‌آپ کے سوال کا جواب اوپر کے مراسلوں میں موجود ہے:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں

::: مسئلہ ::: اگر کبھی اِس ترتیب میں کوئی اُونچ نیچ ہو جائے یا کبھی کوئی جان بوجھ کر بھی کر دے تو ایسا کرنے پر کوئی گُناہ نہیں اور نہ ہی وضوء دوبارہ کرنا ہو گا :::
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-10-10), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10), شمشاد احمد (24-10-10), عبداللہ آدم (12-01-11)
پرانا 24-10-10, 02:56 PM   #17
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام،
ارشد بھائی!‌آپ کے سوال کا جواب اوپر کے مراسلوں میں موجود ہے:
ارشد بھائي كا زور مجھے وضو پر كم اور حكيم الامت پر زيادہ لگ رہا ہے
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-10-10), ام حازم (18-01-11), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (24-10-10)
پرانا 24-10-10, 07:45 PM   #18
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by ارشد کمبوہ; 27-01-11 at 09:49 PM.
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (24-10-10)
پرانا 24-10-10, 09:14 PM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام،

وضو کے بارے میں اللہ کا فرمان:
5:6 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو! جب نماز کیلئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت ، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو، پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس اس سے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ

دین میں آسانی:
18:88 وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا
اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بہتر جزا ہے اور ہم (بھی) اس کے لئے اپنے احکام میں آسان بات کہیں گے

جن کے دلوں میں تالے لگے ہوئے ہیں وہ قرآن پر غور نہیں‌کرتے۔
47:24 أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں

جب ان پر قران پڑھا جاتا ہے سجدہ ریز نہیں ہوتے،
84:21 وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ
اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو (اللہ کے حضور) سجدہ ریز نہیں ہوتے


والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-10-10), مرزا عامر (25-10-10), ارشد کمبوہ (25-10-10), شمشاد احمد (24-10-10)
پرانا 10-01-11, 09:58 PM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سلام،

وضو کے بارے میں اللہ کا فرمان:
5:6 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو! جب نماز کیلئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت ، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو، پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس اس سے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ
السلام علی من اتبع الھُدیٰ ،
لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
وضو کے بارے میں جو آیت مبارکہ ہے اس میں تو اللہ تعالیٰ نے صرف چار کام کرنے کا فرمایا ہے ، کیا صرف ان چار کاموں کے کرنے سے وضوء مکمل ہو جاتا ہے ؟؟؟
تارک ء سنت کے ہاں ، ہو جاتا ہے ،
اور متبع قران و سنت کے ہاں نہیں ہوتا ،
اس آیت مبارکہ میں تو دونوں پاوں کا مسح کرنے کا فرمان ہے ، کیا بلا عذر مسح کرنے سے وضوء ہو جاتا ہے ؟؟؟
سب ہی جانتے ہوں گے کہ ایسا کن کے ہاں جإئز سمجھا جاتا ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
دین میں آسانی:
18:88 وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا
اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بہتر جزا ہے اور ہم (بھی) اس کے لئے اپنے احکام میں آسان بات کہیں گے
اس آیت مبارکہ کو دین میں آسانی کی دلیل بتانے کی کوشش بھی حسب معمول خلافء قران ، قران فہمی کا مظاہرہ ہے کہ اس آیت مبارکہ میں یہ الفاظ مبارکہ کہ (((((وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا ::: اور جلد ہی ہم اس کے لیے اپنے حکم میں سے آسانی والی بات کریں گے )))))،
سابقہ الفاظ مبارکہ کی روشنی میں یہ سمجھاتے ہیں کہ یہ آسان حکم دنیا میں شریعت کے احکام کے بارے میں نہیں‌، بلکہ ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کے لیے آخرت میں بہترین خوبصورت جزاء ہے اور وہیں آخرت میں ان کے لیے اللہ کی طرف سے اللہ کے آسان فیصلے کرنے کے بارے میں ہے ،
کہ ایمان والوں کے نیک اعمال کے سبب اللہ تعالیٰ انہیں بہترین خوبصورت ثواب بھی دے گا اور ان کے لیے آسان فیصلے والے قول فرمائے گا ،
اگر اس آیت مبارکہ میں سے دنیا کی آسانی کو بھی سمجھا جائے تو بھی وہ دینی احکام کے لیے نہیں ، کیونکہ احکام مختلف اشخاص کے لیے مختلف نہیں ہوتے ، بلکہ سب کے لیے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں ، ایسا نہیں ہوا کہ اللہ نے کسی نیکو کار مومن کے لیے کچھ احکام نازک کیے ہوں اور کسی دوسرے کے لیے کچھ اور ، مگر کیا کیجیے اس خلافء قران ، قران فہمی کا جس نے کسی نہ کسی طرح احادیث شریفہ پر اعتراضات وارد کرنے ہی ہوتے ہیں ، لیکن الحمد للہ ، کہ وہ ہر دفعہ اس خلافء قران ، قران فہمی کا پول کھول دیتا ہے ،
اور دکھا دیتا ہے کہ جن کے دلوں پر تالے لگے ہوتے ہیں وہ قران پر تدبر کے زعم میں اللہ کے کلام کو کچھ کا کچھ سمجھتے ہوٕئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی راہ سے ہٹ کر راہ حق سے منحرف ہوتے چلے جاتے ہیں ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علی من اتبع الھدیٰ ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (11-01-11)
پرانا 10-01-11, 11:00 PM   #21
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ترجمہ یہ نہیں ہے کہ::

اپنے سر اور پیروں کا مسح کر لو

بلکہ یہ ہے کہ::

اپنے سر کا مسح اور پیر دھو لو
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-01-11), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (11-01-11), عبداللہ حیدر (10-01-11)
پرانا 10-01-11, 11:32 PM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی عبداللہ آدم ، ذرا انہیں جواب دینے دیجیے جنہوں نے وضو کا طریقہ قران پاک میں دکھایا ہے ، انہوں نے ترجمے میں پاوں دھونے کا ذکر کیا ہے نہ ہی ان کا مسح کرنے کا ، کیسی بے چارگی ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-01-11), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (11-01-11), عبداللہ آدم (12-01-11)
جواب

Tags
color, فورمز, فرقہ واریت, کتابوں, پیارے, قرآن, قران, نماز, نظر, مکمل, مسائل, آج, ایمان, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, حضرات, خوش, درخواست, شخص, صحیح, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger