| وضوء اور غسل وضوء اور غسل |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1565
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (10-03-11), محمدمبشرعلی (09-06-10), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10), ضِرار Derar (26-05-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (24-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: (٥) وضوکے فرائض میں سے پانچواں فرض ہے::: دونوں پاؤں( پیروں ) کو ٹخنوں تک دھونا::: جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے حکم دیا ہے (سورت المائدہ کی آیت٦ مضمون کے آغاز میں ذِکرکی گئی ہے ) اور بہت سی صحیح احادیث کے ذریعے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ایسا ہی کِیا ہے ، ::: مسئلہ(١) ::: پاؤں بمعہ (سمیت) ایڑی کے دھوئے جائیں گے ::: ::: مسئلہ(٢) ::: ننگے پاؤں(پَیر) پر مسح کرنا جائز نہیں ::: ::: دلیل ::: عبداللہ بن عَمرو رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ''' ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم لوگ کچھ آگے نکل چکے تھے ، نماز کا وقت تھا ہم وضوء کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، ہم لوگ اپنے پَیروں (کو دھونے کی بجائے اُن ) پر مسح کر رہے تھے ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری بُلند آواز میں فرمایا ( وَیلٌ لِلاَعقَابِ من النَّارِ مَرَّتَینِ او ثَلَاثًا)( جہنم والی خُشک ایڑیوں کے لیے تباہی ہے ) صحیح البُخاری / حدیث ٦٠ / کتاب العِلم /باب ٣ ، ::: مسئلہ (٣) ::: اگر پَیروں پر وضوء کی حالت میں خُف (چمڑے کی جُرابیں) یا عام جرابیں ، یا چپل ، یا جوتے پہنے ہوں تو پَیر دھونے کی بجائے اُن چیزوں پر مسح کیا جا سکتا ہے، خُف(چمڑے کی جراب) پر مسح کرنے کے بہت دلائل ہیں ، اُن میں دو حدیثیں سر کے مسح کے مسئلہ (١) اور (٢) میں ذِکر کر چکا ہوں ، ::: عام جُرابوں اور چپلوں پر مسح کرنے کی دلیل ::: مُغیرہ بن شعبہ اور ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہما سے روایات ہیں ( اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ تَوَضَّاَ وَمَسَحَ علی الجَورَبَینِ وَالنَّعلَینِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا اور جُرابوں اور چپلوں پر مسح کیا ) سنن ابن ماجہ / حدیث ٥٥٩، ٥٦٠ / کتاب الطہارۃ و سننھا / باب٨٨،٨٩ ، صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ، سنن ابو داؤد ، سنن الترمذی ، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ، جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں بہت طویل و عریض مسائل بنائے گئے ہیں ، اور طرح کی شرائط لگائی گئی ہیں ، یہاں تک اِس عمل کو کمزور یا غلط ثابت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی اور کی جاتی ہیں ، جب کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ، اللہ نے چاہا تو کِسی وقت اِس موضوع کو الگ ایک مستقل مضمون کی صورت میں بیان کروں گا ۔(تفصیل کے خواہش مند علامہ محمد جمال الدین القاسمی رحمہُ اللہ کی ''' المسح علی الجوربین''' کا مطالعہ کر سکتے ہیں) ::: (٦)وضوء کا چھٹا فرض ::: ابھی بیان کیے گئے پانچوں کاموں کو ایک ایک دفعہ کرنا فرض ہے ۔ ::: ایک اہم معاملہ ::: پہلے چھ فرائض جِس ترتیب سے بیان کیے گئے ہیں اُس تر تیب کو برقرار رکھا جائے کیوں کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرضیتِ وضوء کے حُکم میں یہی ترتیب بیان فرمائی ہے (سورت المائدہ کی آیت٦ مضمون کے آغاز میں ذِکرکی گئی ہے ) ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مُبارک میں بھی تسلسل کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباًہمیشہ اسی تر تیب کے مطابق ہی وضوء کیا ، اس لیے بعض عُلماء نے اِس ترتیب کو بھی وضوء کے فرائض میں شامل کِیا ہے ، لہذا کِسی چُوں و چَراں کے بغیر اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ ترتیب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل عمل کے مُطابق برقرار رکھا جائے گا نہ کہ لُغت کے قوانین کو بُنیاد بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عملی تفسیر کو چھوڑ دِیا جائے گا، ::: مسئلہ ::: اگر کبھی اِس ترتیب میں کوئی اُونچ نیچ ہو جائے یا کبھی کوئی جان بوجھ کر بھی کر دے تو ایسا کرنے پر کوئی گُناہ نہیں اور نہ ہی وضوء دوبارہ کرنا ہو گا ::: ::: دلیل (١)::: المقدام بن معدی یکرب رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ( اُتِی رَسوُلَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ بِوَضُوء ٍ فَتَوَضَّاَ فَغَسَلَ کَفَّیہِ ثَلاَثاً ثُمَّ غَسَلَ وَجہَہُ ثَلاَثاً ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلاَثاً ثَلاَثاً ثُمَّ مَضمَضَ وَاستَنشَقَ ثَلاَثاً وَمَسَحَ بِرَاسِہِ وَاُذُنَیہِ ظَاہِرِہِمَا وَبَاطِنِہِمَا وَغَسَلَ رِجلَیہِ ثَلاَثاً ثَلاَثاً ) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے لیے پانی لایا گیا اور اُنہوں نے(اِس طرح ) وضوء کیا (کہ) تین دفعہ ہاتھ دھوئے ، پھر تین دفعہ چہرہ (مُبارک) دھویا ، پھر تین دفعہ اپنی دونوں کلائیاں دھوئیں ، پھر تین تین دفعہ کُلّی کی اور ناک میں پانی چڑھایا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں کانوں کا باہر اور اندر سے مسح کیا اور اپنے دونوں پاؤں تین تین دفعہ دھوئے ) مُسند احمد/حدیث المقدام بن معد کی حدیث ١٦، حدیث صحیح ہے ، تمام المنہ، ص٨٨، ::: دلیل (٢) ::: عطاء بن یسار رحمہُ اللہ سے ،عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ ( اَنَّہُ تَوَضَّاَ فَغَسَلَ وَجہَہُ ثم اَخَذَ غَرفَۃً مِن مَاء ٍ فَمَضمَضَ بِہا وَاستَنشَقَ ثُمَّ اَخَذَ غَرفَۃً من مَاء ٍ فَجَعَلَ بہا ہَکَذَا اَضَافَہَا اِلی یَدِہِ الاُخرَی فَغَسَلَ بِہِمَا وَجہَہُ ثُمَّ اَخَذَ غَرفَۃً من مَاء ٍ فَغَسَلَ بہا یَدَہُ الیُمنَی ثُمَّ اَخَذَ غَرفَۃً من مَاء ٍ فَغَسَلَ بہا یَدَہُ الیُسرَی ثُمَّ مَسَحَ بِرَاسِہِ ثُمَّ اَخَذَ غَرفَۃً من مَاء ٍ فَرَشَّ علی رِجلِہِ الیُمنَی حتی غَسَلَہَا ثُمَّ اَخَذَ غَرفَۃً اُخرَی فَغَسَلَ بہا رِجلَہُ یَعنِی الیُسرَی ثُمَّ قال ہَکَذَا رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسلَمَ یَتَوَضَّاُ ) ( اُنہوںنے وضوء کیا تو اپنا چہرہ دھویا ، پھر چُلّو میں پانی لیا اور اُس پانی سے کُلّی کی اور ناک میں بھی چڑھایا ، پھر چُلّو میں پانی لیا اور دوسرے ہاتھ کو ساتھ ملا کر (یعنی دونوں ہاتھوں کا پیالہ سا بنا کر پانی اُس میں کر لیا اور) چہرہ دھویا ، پھر ،،،،،،،،،،،،، اور کہا ''''' میں نے اِسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا ) صحیح البُخاری /حدیث ١٤٠ / کتاب الوضوء / باب ٧ ، مضمون جاری ہے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (10-03-11), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10), ضِرار Derar (26-05-10), عبداللہ حیدر (24-10-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الحمد للہ ، یہاں تک وضوء کے فرائض کا بیان مکمل ہوا ، اب اِنشاء اللہ وضوء کی سُنتوں کا بیان شروع کیا جائے گا ، لیکن اُس سے پہلے ''' سُنّت ''' کی مختصر سی تعریف کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے، یہ لفظ ''' سُنّت ''' شریعتِ اسلامی میں ایک ''' اصطلاح ''' کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اِس کا سب سے زیادہ اِستعمال ہونے والا ، عام مفہوم یہ ہے کہ''' وہ عمل جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ''' ، اِس کے عِلاوہ لفظ ''' سُنّت ''' کا اِستعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مُبارک (حدیث) کے نام کے طور پر اور اِسلامی عقیدے کے نام کے طور پر بھی ہوتا ہے، معاملات کو مکمل طور پر جاننے اور سمجھنے کے لیے ''' سُنّت ''' کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ، بُنیادی طور پر دو اقسام ہیں ، (١) ''' سُنّتِ عادت ''' یعنی جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی عِبادت کے طور پر نہیں کِیا بلکہ عام معمولات کی عادت کے طور پر کِیا ، اور(٢) ''' سُنّتِ عِبادت ''' یعنی جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کے طورپر کیا ہے ایسے کِسی بھی کام کو ''' سُنّت ہی توہے''' جیسے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے ترک نہیں کیا جاسکتا ، جی ہاں ، جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عادتاً کیا اُس کام کو اگر کوئی شخض ''' سُنّت ہی توہے''' جیسے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے ترک کرے اوراُس کے دل میں سُنّت کی اہمیت اور قدرنہ ہو جیسے کہ اس فلسفہ سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ گناہ گا ر ہے کیوں کہ اُس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ہلکا اور غیر اہم سمجھ کر ترک کِیا ہے ، کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی ہو تو صاحب اِیمان اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کِسی بھی سُنّت سے ایسے فلسفوں کی بُنیاد پر رُو گردانی کرے ، اور خاص طور پر اگر وہ یہ بھی خیال رکھتا ہو کہ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بلکہ عِشق ہے لیکن ''' سُنّت ہی توہے''' پر عمل کرتے ہوئے سُنّت ترک کرتا رہے ، اگر کوئی شخض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی '''سُنّتِ عادت''' کو بغیر توہین کے اور بغیر کم تر سمجھے ہوئے چھوڑتا ہے تو اِنشااللہ اس پر کوئی گرفت نہیں ہو گی ، پھر یاد رہے کہ یہ ساری بات ''' سُنّتِ عادت ''' کے بارے میں ہے اور اس شرط کے ساتھ کہ محض ''' سُنّت ہی توہے''' والے یا جیسے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے ، ''' سُنّت '''کو ہلکا اور حقیر سمجھ کرنہ چھوڑاجاتا ہو ، دونوں قِسموں کی سُنّت کی مزید تقسیم مندرجہ ذیل ہے ::: ''' السُنّۃ القَولِیۃ ''' ، ''' السُنّۃ الفَعلِیۃ ''' ، ''' السنُنّۃ التَرکیۃ ''' ، ''' السُنۃ التَقرِیریۃ ''' ، کِسی بھی ''' سُنّتِ عِبادت ''' کوبغیر شرعی عُذر کے چھوڑنا جائز نہیں، (شرعی عُذر یعنی کِسی شرعی حُکم پر عمل نہ کرنے کا ایسا سبب جو شریعت میںقابل قبول ہو اور اُس حُکم پر عمل نہ کرنے والے کو گناہ گار نہ سمجھا جائے ) ::: وضوء کی پہلی سُنّت ::: بِسمِ اللہ کہنا ہے ::: گو کہ یہ کام سُنّت کے درجہ میں نہیں بلکہ واجب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر صِرف عمل ہی نہیں کِیا بلکہ اِس کے نہ کرنے پر انتہائی نقصان دہ نتیجے کا اعلان فرمایا ہے کہ ( مَن لَم یَسمَ اللَّہ ُ فَلا وَضوءَ لَہُ ) ( جِس نے اللہ کا نام نہیں لیا اُس کا وضوء نہیں ) اور بالکل واضح بات ہے کہ اگر وضوء نہیں تو نماز بھی نہیں ، جیسا کہ وضوء کے فرائض میں بیان کی گئی احادیث میں ہے کہ بغیر طہارت کے نماز قُبُول نہیں ہوتی ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حکم کے مطابق وضوء سے پہلے بسم اللہ کہنا واجب ہو جاتا ہے ، اورواجب اور فرض میں درجہ بندی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا لیکن چونکہ عام طور پر صِرف آیتِ وضوء میں بیان کیے گئے کاموں کو ہی فرض کہا جاتا ہے، اور دیگر کاموں کو بطورِ سُنّت بیان کیا جاتا ہے اِس لیے اِس کام کو سُنّت کے طور پر بیان کِیا گیاہے ۔ اِسی طرح کچھ کام اور بھی ہیں جِنکا ذِکر اِنشاء اللہ اجمالی طور پر مضمون کے آخر میں کروں گا ۔ ::: وضوء کی دوسری سُنّت ::: مِسواک کرنا ::: یعنی کِسی درخت کی نرم ٹہنی کا ایک سِرا چِھیل کر اُس کے ساتھ دانت اور مسوڑھے وغیرہ صاف کرنا ، ہر عِلاقے کے لوگ اپنے اپنے پاس پائے جانے والے مختلف پودوں کی ٹہیناں اِستعمال کرسکتے ہیں ، ::: مِسواک کرنے کی دلیل ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لَو لَا اَن اَشُق َّ عَلیٰ اُمتِی لَاَمرتُھُم بِالسِّوَاکِ عِندَ کُلِّ وَضوءٍ ) ( اگر میری اُمت پر بھاری نہ ہوتا تو میں اُن کو ہر وضوء کے وقت مِسواک کرنے کا حُکم دیتا ) صحیح البُخاری/ کتاب الصوم / باب ٢٧ ،صحیح مُسلم / حدیث ٢٥٢ / کتاب الطہارۃ / باب١٥ ، ::: وضو کی تیسری سُنّت ::: اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھونا ::: ::: وضو کی چوتھی سُنّت ::: تین دفعہ منہ میں پانی ڈال کر اچھی طرح سے کُلّی کرنا ::: ::: وضو کی پانچویں سُنّت ::: تین دفعہ استنشاق اور تین دفعہ استنثار کرنا ::: استنشاق ،،، یعنی ،،، پانی اپنے چُلو (یعنی ہتھیلی کے پیالے )میں لے کر اس کو ناک میں چڑھایا جائے یہاں تک کے وہ ناک کے بانسے( اوپر والی سخت ہڈی )تک پہنچے، اور،،، اشنثار (ا س ت ن ث ا ر )،،، کا مطلب ہے کہ اُس پانی کو زور دار سانس کے ساتھ خارج کر دیا جائے تاکہ ناک اندر سے اچھی طرح سے صاف ہو جائے ، اور اس کی ترتیب سُنّت میں یہ ہے کہ پہلے ناک کے دائیں بانسے ( سیدھی طرف )میں اور پھر بائیں بانسے ( اُلٹی طرف ) میں یہ عمل کیا جائے ، ::: وضوء کی سُنّت (٣) (٤) (٥) کے دلائل ::: ::: دلیل (١) ::: ابی اُمامہ الباھلی رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلیَ اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلمَ تَوَضَّاَ فَغَسَلَ یَدَیہِ ثَلاَثاً ثَلاَثاً وَتَمَضمَضَ وَاستَنشَق َ ثَلاَثاً ثَلاَثاً وَتَوَضَّاَ ثَلاَثاً ثَلاَثاً ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تین تین دفعہ دھویا ، اور تین تین دفعہ کُلّی کی ، اور تین تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا ، اور وضوء (کا ہر کام ) تین تین دفعہ کیا ) :::دلیل (٢) ::: سر کے مسح کے بیان میں ذِکر گئی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ کی روایت ، اُس میں بھی تین دفعہ ہاتھ دھونے کا ذِکر بھی ہے ، ::: دلیل (٣) ::: عُثمان رضی اللہ عنہُ کے بارے میں روایت ہے کہ ''' اُنہوں نے وضوء کیا اور پہلے تین دفعہ ہاتھ دھوئے ''' الاحادیث المختارۃ / حدیث ٣٢٨ / روایۃ حمران بن ابان مولی عُثمان بن عفان رضی اللہ عنہُ میں پہلی روایت ، ::: دلیل (٤) ::: علی رضی اللہ عنہُ کے بارے میں بھی یہ ہی روایت ہے ، سنن ابی داؤد / حدیث ١١٣ / باب ٥٠ ، تینوں صحابیوں نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کے طور پر کر کے دِکھایا ، ::: وضوء کی سُنّت (٣) (٤) (٥) سے متعلق اہم مسائل ::: ::: مسئلہ(١) ::: اگر انگوٹھی وغیرہ پہنی ہو تو اُسے ہلا لینا چاہیئے :::: اگر کوئی انگوٹھی وغیرہ پہنی ہو اور وہ اُنگلی پر تنگ ہو کہ اُس کے نیچے سے پانی نہ گذرتا ہو تو ، ہاتھوں کو دھونے کے دوران اُس انگوٹھی کو ہلا کر( اُوپر نیچے کرتے ہوئے یا گول گُھماتے ہوئے ) پانی اُس کے نیچے داخل کرنا چاہیئے ، تا کہ اُس کے نیچے والی جلد بھی گیلی ہو جائے ، ::: دلیل ؛:: دورانِ وضوء انگوٹھی کو ہلانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ثابت نہیں ، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ سے ثابت ہے ، سنن البییہقی الکبریٰ /کتاب الطہارۃ /باب ٦٤ ، مُصنف ابن ابی شیبہ / کتاب الطہارات /باب ٤٧ ، الاوسط فی السنن و ا لاِجماع و ا لاِ ختلاف / کتاب صفۃ الوضوء /باب ١٧ ، ::: مسئلہ(٢) ::: کُلّی کرتے ہوئے پانی کو اچھی طرح سے منہ میں پِھرانا چاہیئے ، ::: دلیل ::: لقیط بن سمرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کے بارے میں سوال کرنے والے کو وضوء کا طریقہ سمجھاتے ہوئے فرمایا ( اِذا تَوَضاتَ فَمَضمَض ) ( جب تُم وضو کرو تو اچھی طرح سے منہ میں پانی کو پھیرو ) سنن ابو داؤد / حدیث١٤٠ /باب ٥٥ ، باب فی الاستثار، صحیح سنن ابو داؤد، ::: مسئلہ(٣) ::: مِسواک کی جگہ اُنگلی اِستعمال کرنا سُنّت میں ثابت نہیں ::: :::دلیل (١)::: اِس معاملے کے متعلق اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت ملتی ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ::: اےاللہ کے رسول جِس کے دانت نہ رہے ہوں کیا وہ بھی مِسواک کرے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا ( نَعم ::: جی ہاں ) پھر پوچھا ::: مگر کیسے کرے ؟ ::: تو فرمایا ( یَدخُلُ اُصبَعہُ فِی فِیہِ ::: اپنی اُنگلی اپنے مُنہ میں داخل کرے (اور اُسے مِسواک کی طرح اِستعمال کرے )) معجم الطبرانی الاوسط /حدیث٦٦٧٨/باب من اسمہ محمد ، اور اِمام ابو بکر الہیثمی نے ''' مجمع الزوائد/کتاب الصلاۃ /باب کیف یستاک ''' میں اِس روایت کو ''' ضعیف ''' قرار دِیا ۔ :::دلیل (٢) ::: انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تَجزِیءُ مِن السِّواکِ الاصبعُ ) ( مِسواک کی جگہ اُنگلی مِسواک کا بدلہ پورا کر دے گی ) سنن البیھقی الکبریٰ /حدیث١٧٦ /کتاب الطہارۃ/باب ٣٩،اور خود امام البہیقی نے ہی اِس روایت کو ''' ضعیف ''' قرار دِیا ۔ پس مِسواک کی جگہ ، اُنگلی اِستعمال کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت تو نہیں ، اور کِسی کی ہو تو ہو ، لہذا اِس عمل کو سُنّت سمجھ کر کرنا ناجائز ہے ، ہاں مِسواک نہ ہونے کی صورت میں مُنہ کے اندر صفائی کے لیے اگر کوئی اُنگلی اِستعمال کرتا ہے تو اِنشاء اللہ کوئی حرج نہیں ۔ ::: مسئلہ(٤) ::: روزے کی حالت کے عِلاوہ ، ناک میں پانی چڑھانےاور نکالنےکا عمل خُوب اچھی طرح سے کرنا چاہیئے ::: ::: دلیل (١) ::: لقیط بن سمرہ رضی اللہ عنہُ ہی کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بَالِغ فی الِاستِنشَاقِ اِلا اَن تَکُونَ صَائِمًا ) (جب تُم روزے کی حالت میں نہ ہو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو ( یعنی بہت ہی اچھی طرح سے یہ کام کرو ) ) سنن ابو داؤد / حدیث ٢٣٦٦ /کتاب الصوم / باب ٢٧ ، صحیح سنن ابو داؤد ، ::: دلیل (٢) ::: ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذا تَوضاَ احدُکُم فَلیَجعَل فِی انفِہِ ثُمَّ لِینثُر ::: جب تم میں سے کوئی وضوء کرئے تو پانی کو اپنے ناک میں داخل کرئے اور پھر اس کو سانس کے زور سے نکال دے ) صحیح البُخاری / حدیث ١٦٠ /کتاب الوضوء /باب ٢٥ ، اور سنن ابی داؤد کی روایت کے الفاظ میں پانی کا واضح ذِکر ہے ( اِذا تَوضَاَ احدُکُم فَلیَجعَل فِی انفِہِ مَائً ثُمَّ لَیَستَنثر ::: جب تم میں سے کوئی وضوء کرئے تو پانی کو اپنے ناک میں داخل کرئے اور پھر اس کو سانس کے زور سے نکال دے ) سنن ابو داؤد /حدیث١٤٤ /باب ٥٥ ، باب فی الاستثار، صحیح سنن ابو داؤد، ::: مسئلہ(٥) ::: استنشاق ، یعنی ، ناک میں پانی چڑھانا ، اور استثار یعنی ، ناک سے سانس کے زور سے پانی نکالنا بالترتیب دائیں (سیدہے) اور بائیں ( اُلٹے )ہاتھ سے بھی کیا جا سکتا ہے اور دونوں ہی کام دائیں (سیدہے ) ہاتھ سے بھی کیے جا سکتے ہیں ::: ::: دلیل(١) ::: علی رضی اللہ عنہُ کے بارے میں روایت ہے کہ ( اُنہوں نے وضوء کے لیے پانی منگوایا اور (وضوء کرتے ہوئے ) کُلّی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے بائیں (اُلٹے ) ہاتھ سے اُسے نکالا ) سنن النسائی حدیث ٩١ / کتاب الطہارۃ / باب ٧٤ ، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ہے ۔ ::: دلیل (٢) ::: اور سنن ابو داؤد میں علی رضی اللہ عنہُ کے بارے میں روایت ہے کہ اُنہوں نے وضوء کرتے ہوئے اپنے ناک میں پانی داخل کیا( وَنَثَرَ من الکَف ِّ الَّذِی یَاخُذُ فیہ :::اور جِس ہاتھ سے داخل کیا اُسی سے خارج کیا )حدیث ١١١ /باب ٥٠، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ۔ مضمون جاری ہے ، |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: وضو کی چَھٹی (٦) سُنّت ::: داڑھی میں خلال کرنا ::: ہونا تو یہ چاہیئے کہ داڑھی میں خلال کی بات سے پہلے داڑھی کے بارے میں بات کی جائے ، کیونکہ داڑھی ہو گی تو اُس میں خَلال ہو گا ، اور اب تو مُسلمان ''' مَردوں ''' کی اکثریت اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم کرتی ہے اور اللہ کی ناراضگی کماتی ہے ، اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے اور جو کوئی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنی داڑھی صاف کرتے ہیں یا جائز حد سے زیادہ کاٹتے اور کُترتے ہیں اللہ تعالی اُنہیں توفیق دے کہ وہ اس اور دیگر بھی تمام نافرمانیوں سے بچیںاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہوئے اپنا حلیہ واقعتا مسلمانوں والا بنائیں ، جی تو بہت چاہ رہا ہے کہ اِس موضوع پر ذرا وضاحت سے بات کروں لیکن رواں مضمون کے موضوع (وضوء ) تک محدود رہنے کے لیئے واپس اُسی کی طرف آتا ہوں ، کہ ، وضوء کی چَھٹی سُنّت داڑھی میں خلال کرنا ہے ، اور ''' خَلال ''' کا مطلب ہے ، ''' کِسی بھی دو چیزوں کے درمیان کِسی تیسری چیز کو داخل کر کے درمیانی حصے کو آہستگی سے رگڑنا ، مَلنا ''' لہذا ، جب '''داڑھی والا، مُسلمان''' وضوء کرے تو اپنا چہرہ دھوتے ہوئے اپنی داڑھی میں اچھی طرح سے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیرے ::: دلیل (١) ::: عثمان ، اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے روایات ہیں کہ ( رایت ُ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسلمَ یُخَلِّلُ لِحیَتَہُ ) ( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ (وضوء کرتے ہوئے ) وہ اُنہوں نے اپنی داڑھی (مُبارک) میں خَلال کیا) سنن ابن ماجہ / حدیث ٤٣٠، ٤٢٩/کتاب الطہارۃ و سُننھا/باب٥٠ ، صحیح سنن ابن ماجہ / حدیث ٣٤٤،٣٤٥ ، سنن الترمذی / حدیث ٣٠،٢٩ / کتاب ابواب الطہارۃ / باب ٢٣ ، صحیح سنن الترمذی /حدیث ٢٩،٣١ ::: دلیل (٢) ::: انس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے (اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسلمَ کان اِذا تَوَضَّاَ اَخَذَ کَفًّا من مَاء ٍ فَاَدخَلَہُ تَحتَ حَنَکِہِ فَخَلَّلَ بِہِ لِحیَتَہُ وقال ہَکَذَا اَمَرَنِی رَبِّی عز َّوَجَلَّ) ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کرتے تو ایک چُلُّو میں پانی لیتے تو اس کو (ٹھوڑی کے )نیچے کی طرف سے اپنی داڑھی میں داخل کرتے پھر داڑھی میں خَلال کرتے ، اور فرمایا کہ مجھے میرے رب عزَّ و جَلَّ نے اِسی طرح کرنے کا حُکم دِیا ہے ) سُنن ابو داؤد/حدیث ١٤٥/مقدمہ/باب٥٦ ، صحیح سنن ابو داؤد /حدیث١٤٥، سُنن البیہقی الکبریٰ /حدیث ٢٥٠ /کتاب الطہارۃ /باب ٥٨، امام الشوکانی رحمہُ اللہ نے ''' سیل الجرار ''' میں داڑ ھی کے خَلال کو واجب قرار دیا ہے اور لکھا '''اللہ کا حُکم ہے لہذایہ واجب یعنی فرض ہے ''' ::: وضو کی ساتویں(٧) سُنّت ::: ہاتھوں اور پَیروں کی اُنگلیوںمیں خَلال کرنا ::: ہاتھوں اور پیروں کی اُنگلیوں میں خَلال کرنا یعنی ہاتھوں اور پیروںکی اُنگلیوں میں جو ابتدائی جوڑ ہیں جہاں سے اُنگلیوں کا آغاز ہوتا ہے ، اُن جوڑوں میں خَلال کرنا سُنّت ہے ، ::: دلیل (١) ::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِذا قُمتَ اِلی الصَّلَاۃِ فَاَسبِغ الوُضُوء َ وَاجعَل المَاء َ بین اَصَابِعِ یَدَیکَ وَرِجلَیکَ) ( جب تُم وضوء کرو تو اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کی اُنگلیوں میں خلال کرو ) سنن ابن ماجہ / حدیث ٤٤٧/کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٥٤، السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ١٣٠٦ ، ::: دلیل (٢) ::: المستورد بن شداد رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے (رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہ ُ عَلِیہ وَسلَمَ اِذا تَوَضَّاَ یَدلُکُ اَصَابِعَ رِجلَیہِ بِخِنصَرِہِ ) ( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب وہ وضوء کرتے تو اپنے پیروں کی اُنگلیوں میں ہاتھ کی چھوٹی اُنگلی سے خلال کیا کرتے تھے ) سنن ابو داؤد / حدیث ١٤٨/مُقدمہ/ باب ٥٨، سنن ابن ماجہ / حدیث ٤٤٦/کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٥٤، ، صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١٤٨، ::: وضو کی آٹھویں(٨) سُنّت ::: وضوء کے سارے کام تین تین دفعہ کرنا ، یعنی ہم نے اپنے جسم کے جن حصوں کو وضو کرنے کے لیے دھونا ہے ان کو تین تین دفعہ دھویا جائے ::: :::دلیل (١) ::: عُثمان رضی اللہ عنہُ کے غُلام حمران رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ::: اَنَّہُ رَاَی عُثمَانَ بن عَفَّانَ دَعَا بِاِنَاء ٍ فَاَفرَغَ علی کَفَّیہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَہُمَا ثُمَّ اَدخَلَ یَمِینَہُ فی الاِنَاء ِ فَمَضمَضَ وَاستَنشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجہَہُ ثَلَاثًا وَیَدَیہِ اِلی المِرفَقَینِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَاسِہِ ثُمَّ غَسَلَ رِجلَیہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ اِلی الکَعبَینِ ثُمَّ قال قال ::: رسولُ اللَّہِ صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وَسلَمَ ( مَن تَوَضَّاَ نحو وُضُوئِی ہذا ثُمَّ صلی رَکعَتَینِ لَا یحدث فِیہِمَا نَفسَہُ غُفِرَ لہ ما تَقَدَّمَ من ذَنبِہِ ) ::: عُثمان رضی اللہ عنہُ نے پانی منگوایا ، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ ڈال کر اُنہیں دھویا ، پھر اپنا دائیں ( سیدھا ) ہاتھ برتن میں ڈال کر اُس میں پانی لیا اور کُلّی کی ناک صاف کیا اور چہرہ دھویا ( یہ سب کام بھی ) تین دفعہ ، اور پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے تین دفعہ ، اور پھر اپنے سر کا مسح کیا ( ایک دفعہ ) اور پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے تین دفعہ ، اور پھر فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا ( جِس نے میرے اِس وضوء کی طرح وضوء کِیا ور پھر( اللہ کی طرف مکمل توجہ کے ساتھ) اپنے آپ میں مشغول ہوئے بغیر دو رکعت نماز پڑہی تو اُس کے سابقہ گُناہ معاف کر دئیے جائیں گے ) صحیح البُخاری / حدیث١٥٨ / کتاب الوضوء / باب ٢٣، (یہ حدیث وضوء کی فضیلت بھی بیان کرتی ہے ) ::: دلیل (٢) ::: عَمر بن شُعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہُ )سے روایت کرتے ہیں کہ ::: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ::: اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) طہارت ( وضوء) کیسے ہے ؟ ::: ( فَدَعَا بِمَاء ٍ فی اِنَاء ٍ فَغَسَلَ کَفَّیہِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَاسِہِ فَاَدخَلَ اصبَعَیہِ السَّبَّاحَتَینِ فی اُذُنَیہِ وَمَسَحَ بِاِبہَامَیہِ علی ظَاہِرِ اُذُنَیہِ وَبِالسَّبَّاحَتَینِ بَاطِنَ اُذُنَیہِ ثُمَّ غَسَلَ رِجلَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قال ''''' ہَکَذَا الوُضُوء ُ فَمَن زَادَ علی ہذا ،او نَقَصَ، فَقَد اَسَاء َ وَظَلَمَ او ظَلَمَ وَاَسَاء َ''''') ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ اور اپنا چہرہ اور اپنی دونوں کلائیاں تین تین دفعہ دھوئِیں ، اور پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی دونوں تسبیح والی اُنگلیوں ( یعنی پہلی شہادت والی اُنگلیوں ) کو کانوں میں داخل کیا اور اپنے انگوٹھوں سے کانوں کے بیرونی حصے اور تسبیح والی اُنگلیوں سے اندرونی حصہ پر مسح کیا ( ایک دفعہ) ، پھر اپنے دنوں پاؤں دھوئے ، پھر فرمایا''''' وضوء اِس طرح ہوتا ہے ، لہذا اگر کِسی نے اِس ( یعنی اِس تعداد ، کیفیت ، اور جسم کے متعلقہ حصوں) میں زیادہ کیا ، یا کم کِیا ، تو اُس نے بُرا کیا اور ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا ، یا فرمایا ، تو اُس نے ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا اور بُرا کیا''''' ) سنن ابو داؤد / حدیث ١٣٥ / مُقدمہ / باب ٥١ ، اِمام الالبانی کا کہنا ہے کہ یہ حدیث ''' حسن صحیح ''' ہے لیکن '' او نَقَصَ ، یا کم کِیا '' کے بغیر کیونکہ یہ اِلفاظ شاذ ہیں ، ''' صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١٣٥، (((شاذ روایت کی تعریف ''' بیس رکعات تراویح کی رکعات پر حق کی روشنی ''' میں بیان کر چکا ہوں ))) اور ایک مختصر روایت ہے کہ ::: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے وضوء کے (طریقے کے )بارے میں سوال کِیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین دفعہ ( اعضاء دھوتے ہوئے ) وضوء کیا اور فرمایا ( مَن زَادَ عَلَی ہذا فَقَد اَسَاء َ وَظَلَمَ او اعتَدَیٰ وَ ظَلَمََ) ( جِس نے اِس (یعنی اِس تعداد ، کیفیت ، اور جسم کے متعلقہ حصوں) میں زیادہ کیا اُس نے بُرا کیا اور ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا ، یا فرمایا ، اُس نے حد سے تجاوز کیا اور ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا ) صحیح ابن خزیمہ / حدیث ١٧٤ / کتاب الوضوء / باب ١٣٦ ، خلاصہ کلام یہ کہ ، وضوء کرتے ہوئے ، وضوء سے متعلق تمام اعضاء کو تین تین دفعہ دھونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت تواتر سے ثابت ہے ، ::: مسئلہ(١) ::: اعضاءِ وضوء ( وضوء سے متعلق جِسم کے حصوں ) کوایک ایک دفعہ، اور دو دو دفعہ بھی دھویا جا سکتا ہے ::: ::: دلیل (١) ::: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ (تَوَضَّاَ النَّبِیُّ صَلی اللَّہ ُ عَلِیہ وَسلَمَ مَرَّۃً مَرَّۃً )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک دفعہ (اعضاءِ وضوء دھو کر بھی ) وضوء کیا ) صحیح البُخاری / حدیث ١٥٦/ کتاب الوضوء /باب ٢١ ::: دلیل (٢) ::: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اَنَّ النَّبِیُّ صَلی اللَّہ ُ عَلِیہ وَسلَمَ تَوَضَّاَ مَرَّتَینِ مَرَّتَین)( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو دفعہ (اعضاءِ وضوء دھو کر بھی ) وضوء کیا ) صحیح البُخاری / حدیث ١٥٧/ کتاب الوضوء /باب ٢٢، یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ ، تین دفعہ کے علاوہ ایک اور دو دفعہ اعضاءِ وضوء دھونے کی روایات سے ایسا کرسکنے کی اجازت ملتی ہے نہ کہ اِس کو معمول بنانے کی ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھار ہی ایک اور دو دفعہ دُھلائی والا وضوء کیا ہے اور ، عام معمول میں تین تین دفعہ دُھلائی کیا کرتے تھے ۔ :::مسئلہ(٢) ::: سر( اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے ::: اِس مسئلہ کا بیان مسح کے ذِکر میں کر چکا ہوں ، ::: وضو کی نویں(٩) سُنّت ::: وضوء کا آغاز دائیں حصے سے کیا جائے ::: :::دلیل (١) ::: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِذا لَبِستُم واِذا تَوَضَّاتُم فابدؤوا بِاَیَامِنِکُم) ( جب تُم لوگ لباس پہنو یا وضوء کرو تو اپنے دائیں (ہاتھ پاؤں) کی طرف سے شروع کیا کرو ) صحیح ابن خزیمہ / حدیث ١٧٨ /کتاب الوضوء /باب ١٣٩، سنن ابو داؤد / حدیث ٤١٤١ / کتاب اللباس /باب ٤٣، حدیث صحیح ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دائیں (سیدہی ) طرف سے آغاز کا حُکم دِیا گیا ہے ، لہذا واجب ہے ، اور اِسی پر ہمیشہ کا عمل ہے ، ::: دلیل (٢) ::: مؤمنین یعنی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (اَنَّہُ کان یُعجِبُہُ التَّیَمُّنُ ما استَطَاعَ فی تَرَجُّلِہِ وَوُضُوئِہِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا ، جتنا بھی ہو سکتا تھا اپنے (تیل) کنگھی اور وضوء کا آغازدائیں طرف سے فرمایا کرتے تھے) صحیح البُخاری / حدیث ٥٥٨٢ /کتاب اللباس /باب ٧٥ ، اور مزید بہت سی روایات ہیں ، ::: وضوء کی دسویں (١٠) سُنّت ::: الدلک ::: یعنی وضوء کے دوران جِسم کے جِن حصوں کو دھونا ہے اُن تمام حصوں پر ہاتھ پھیر کر اُنہیں اچھی طرح سے پانی کے ساتھ تر کرنا ، خاص طور ایسے حصوں پر جِن پر بال زیادہ ہوتے ہیں ، تا کہ جِلد(کھال) پوری طرح سے تر ہو جائے اور کوئی ایک معمولی سا حصہ بھی خشک نہ رہے ، بلکہ بعض عُلماء نے تو پانی کم ہونے کی صورت میں وضوء کے دوران جسم کے دھوئے جانے والے حصوں پر ہاتھ پھیرنے کو واجب کہا ہے ، دیکھیئے صحیح ابن حبان / کتاب الطہارۃ / باب سنن الوضوء کا ٢٤ واں حصہ ، اور اِسی طرح جِن کے جِسم پر بال زیادہ ہوتے ہیں اُن کے لیے بھی یہی کہا جاتا ہے ۔ ::: دلیل ::: عبداللہ ابن زید سے روایت ہے کہ ( انَّ النَّبِيَّ صَلیَ اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسلَم ا ُتِي بِثُلثَي مُد مِن مَاءٍ فَتَوضَاَء فَجعَلَ یَدلُکُ ذِرَاعِیہِ) ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو تہائی (یعنی دو تیسرے حصے ) مُد پانی لایا گیا اور اُنہوں نے وضوء کیا اور(وضوء کرتے ہوئے) اپنی دونوں کلائیوں پر ہاتھ پھیرا ) المستدرک الحاکم / حدیث ٥٠٩،٥٧٦ /کتاب الطہاۃ کی حدیث٦٤،١٣١، صحیح ابن خزیمہ / حدیث ١١٨/کتاب الوضوء / باب ٩٢، صحیح ابن حبان /حدیث ١٠٨٣ / کتاب الطہارۃ ، باب سنن الوضوء کا ٢٤ واں حصہ ۔ مضمون جاری ہے ، |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: وضوء کی گیارہویں (١١) سُنّت ::: دونوں کانوں کا مسح کرنا ::: :::دلیل::: سنن ابو داؤد / حدیث ١٣٥ / مُقدمہ / باب ٥١ ، آٹھویں سُنّت کی دوسری دلیل میں بیان کی گئی عَمر بن شعیب کی اپنے داداعبداللہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہُ سے روایت کی ہوئی حدیث ۔ ::: ایک ضروری اور اہم وضاحت ::: دونوں کانوں کے مسح کرنے کو کچھ علماء سنت میں شامل کرتے ہے اور کچھ علما ء اس کو واجب میں شامل کرتے ہے ، اور زیادہ درست یہی ہے کہ یہ واجب ہے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (الاُذنََانِ مِن الرَّاَسِ) ( کان سر میں سے ہیں (یعنی سر کا جُز اور حصہ ہیں ) یہ فرمان اُم المؤمنین عائشہ ، عبداللہ بن زید ، ابو ہریرہ ، ابن عُمر ، انس ، اور ابی اُمامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے ،سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ٣٦ اور ابی اُمامہ رضی اللہ عنہُ کی ایک روایت میں وضاحت سے یہ ذِکر ہے کہ وضوء میں کانوں کا مسح کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ، لہذا،چونکہ سر کا مسح کرنا اللہ سبحانہُ وتعالی کے حکم سے واجب ہے، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ''اس فرمان'' کے مطابق دونوں کان سر کا حصہ ہیں ، پس اِن کا مسح واجب ہے ۔ ::: مسئلہ ::: سر اور کانوں کے ساتھ یا بعد میں ، یا وضوء کا حصہ سمجھتے ہوئے گردن کا مسح کرنا ، سُنّت میں ثابت نہیں::: اِس موضوع پر تین رویات ملتی ہیں جن میں سے ایک تو مَن گھٹرت ہو اور دو شدید ''' ضعیف یعنی کمزور نا قابلِ حُجت ''' ہیں ، سلسلہ الاحادیث الضعیفہ /حدیث٦٩ ، بلکہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی خِلاف ورزی ہے اور یقینا گُناہ ہے ، آٹھویں سُنّت کی دلیل (٢) میں یہ حدیث ذِکر کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو ء کر کے دِکھانے کے بعد فرمایا ( مَن زَادَ عَلَی ہذا فَقَد اَسَاء َ وَظَلَمَ اَو اَعتَدَیٰ وَ ظَلَمََ) ( جِس نے اِس (یعنی اِس تعداد ، کیفیت ، اور جسم کے متعلقہ حصوں) میں زیادہ کیا اُس نے بُرا کیا اور ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا ، یا فرمایا ، اُس نے حد سے تجاوز کیا اور ( اِس طرح اپنے آپ پر ) ظُلم کیا ) صحیح ابن خزیمہ / حدیث ١٧٤ / کتاب الوضوء / باب ١٣٦ ، ::: وضوء کی بارہویں (١٢) سُنّت ::: پیشانی کااُوپر والا کچھ حصہ دھویا جائے ، اورکُہنیوں اور ایڑیوں کے اُوپر والے حصوں کو بھی دھویا جایا ::: ایسا کرنا وضوء میں اضافہ یا وضوء سے متعلق جسم کے حصوں میں اِضافہ نہیں ، بلکہ وضوء کو بہترین طور پر کرنا ہے اور زیادہ اجر والا کام ہے ، ::: دلیل (١) ::: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ نے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا ( اِِنَّ اُمَّتِی یُدعَونَ یوم القِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ من آثَارِ الوُضُوء ِ ) فَمَن استَطَاعَ مِنکُم اَن یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلیَفعَل ( میری اُمت کو قیامت والے دِن وضوء کے آثار کی وجہ سے سُفید چمک دار پیشانیوں اور پَیروں والا کہا جائے گا ) پھر ابو ہُریرہ نے کہا لہذا تُم میں سے جو اپنی چمک کو جتنا بڑا کر سکے کرے::: صحیح البُخاری / حدیث ١٣٦ / کتاب الوضوء / باب ٣ ::: دلیل (٢) ::: نعیم بن عبداللہ رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنی کہنیوں سے اُوپر تقریباً کندھوں تک دھوتے ، اور پَیروں سے اُوپر پنڈلیوں تک دھوتے )اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ بالا فرمان سُناتے ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٤٦ /کتاب الطہارۃ /باب ١٢ ، یہی نعیم بن عبداللہ رحمہُ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ فَمَن استَطَاعَ مِنکُم اَن یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلیَفعَل ::: لہذا تُم میں سے جو اپنی پیشانی کی چمک کو جتنا بڑا کر سکے کرے::: رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فرمان ہے یا ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا ، مُسند احمد / حدیث ٨٣٩٤ /مُسند ابی ہُریرہ کی حدیث ١٢٧٥ حدیث، دُرست یہی ہے کہ یہ قول ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا ہے ، مزید تفصیل اِمام ابن حَجر رحمہُ اللہ کی ''' فتح الباری ، مندرجہ بالا روایت کی شرح میں''' اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہُ اللہ کی ''' اِِعلام الموقعین /جلد٦/صفحہ٣١٦''' میں، اوربہت واضح اور بہترین تحقیق اِمام الالبانی کی ''' السلسلہ الضعیفہ /حدیث ١٠٣٠''' میںدیکھی جا سکتی ہے ، ::: دلیل (٣) ::: ابی حازم رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ ::: ابو ہُریرہ (رضی اللہ عنہُ ) نماز کے لیے وضوء کر رہے تھے اور میں اُن کے پیچھے(کھڑا دیکھ رہا) تھا، کہ وضوء کرتے ہوئے ابو ہُریرہ ( رضی اللہ عنہُ ) اپنے ہاتھ کو اتنا پھیرتے کہ بغل تک پہنچ جاتا ::: میں نے کہا ، ابو ہُریرہ یہ کِس طرح کا وضوء ہے ؟ ::: تو اُنہوں نے کہا ::: اے قبیلہ فروخ والو تُم لوگ یہاں ہو ! اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں اِس طرح وضوء نہ کرتا ( کیونکہ ایسا کرنا میں کِسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ، اور ایسا میں اِس لیے کرتا ہوں کہ) میں نے اپنے محبوب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سُنا ( تَبلُغُ الحِلیَۃُ مِن المُؤمِنِ حَیثُ یَبلُغُ الوَضوء ُ ) ( اِیمان والے کا (جنّتی) زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک (اُس کا ) وضوء ہو گا ) صحیح مسلم /حدیث ٢٥٠ /کتاب الطہارۃ /باب ١٣ مُصنف ابن ابی شیبہ میں ابو زُرعہ رحمہُ اللہ کی ایک روایت ہے کہ ::: میں ابو ہُریرہ کے پاس گیا تو وہ وضوء کر رہے تھے اور اپنے کندہوں اور گُھٹنوں تک پانی پہنچا رہے تھے ، میں نے کہا ''' کیا آپ کے اُتنا کرنا کافی نہیں جتنا اللہ نے فرض کیا ہے ؟''' تو اُنہوں نے فرمایا ''' بے شک (اُتنا ہی کافی ہے) لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( مَبلَغُ الحِلیَۃِ مَبلَغُ الوُضُوءِ ) فَاَحبَبت اَن یَزِیدَنِی فی حِلیَتِی ) ((جنّت کا) زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضوء (کا پانی) پہنچے گا ) لہذا میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے ،میرا (جنّتی) زیور بڑھا دے )''' مُصنف ابن ابی شیبہ / حدیث٦٠٧ / کتاب الطہارات /باب ٦٩ ، اِمام الالبانی نے کہا اِس کی سند بہترین ہے/السلسلہ الضعیفہ/ ضمن حدیث ١٠٣٠ / ص١٠٧، ::: دلیل (٤) ::: یہی اِمام ابو زُرعہ سے ایک اور واقعہ روایت کرتے ہیں کہ ''' میں ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کے ساتھ مروان بن الحکم کے گھر میں داخل ہوا ، وہاں گھر کے اُوپری حصے میں ایک مصور تصویریں بنا رہا تھا ،ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ نے یہ دیکھ کر کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُناکہ( وَمَن اَظلَمُ مِمَّن ذَہَبَ یَخلُقُ کَخَلقِی فَلیَخلُقُوا حَبَّۃً وَلیَخلُقُوا ذَرَّۃً ) ثُمَّ دَعَا بِتَورٍ من مَاء ٍ فَغَسَلَ یَدَیہِ حتی بَلَغَ اِِبطَہُ ::: فقلت یا اَبَا ہُرَیرَۃَ اَشَیء ٌ سَمِعتَہُ مِن رَسُولَ اللَّہِ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلم::: قال::: مُنتَہَی الحِلیَۃِ ::: ( (اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ) اُس سے بڑھ کر ظُلم کرنے والا کون ہے جو میری بنائی کوئی مخلوق کی طرح تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ایسا کرنے والا کوئی (ایک اناج یا پھل وغیرہ کا) دانہ ہی بنائے، یا کوئی (ایک) ذرہ تو بنائے ) پھر اُبو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ نے پانی کا برتن منگوایا اور (وضوء کرتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھ بغلوں تک دھوئے ::: میں نے کہا اے ابو ہُریرہ کیا آپ نے ایسا کرنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سُنا ہے (جو ایسا کر رہے ہیں ؟) ::: تو ابو یُریرہ رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: یہ زیور پہنائے جانے کی حد ہے (یعنی جہاں تک دھویا جائے گا وہاں تک جنّتی زیور پہنایا جائے گا )::: صحیح البُخاری / حدیث ٥٦٠٩ /کتاب اللباس /باب ٨٨ اِس واقعہ کی زیادہ تفصیل مسند احمد کی اِس روایت میں ملتی ہے (یَقُولُ اللَّہ ُ عَزَّ وَجّلَّ وَمَن اَظلَمُ مِمَّن ذَہَبَ یَخلُق ُ خَلقاً کخَلقِی فَلیَخلُقُوا ذَرَّۃً او فَلیَخلُقُوا حَبَّۃً او لِیَخلُقُوا شَعِیرَۃً ) ثُمَّ دَعَا بِوَضُوء ٍ فَتَوَضَّاَ وَغَسَلَ ذِرَاعَیہِ حتی جَاوَزَ المِرفَقَینِ فلما غَسَلَ رِجلَیہِ جَاوَزَ الکَعبَینِ اِلی السَّاقَینِ ::: فقلت ما ہذا فقال ::: ہذا مَبلَغُ الحِلیَۃِ ::: ( اللہ عَزّ و جَلَّ کہتے ہیں ، اُس سے بڑھ کر ظُلم کرنے والا کون ہے جو میری بنائی کوئی مخلوق کی طرح تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ایسا کرنے والا کوئی (ایک) ذرہ تو بنائے ، کوئی (ایک اناج یا پھل وغیرہ کا) دانہ ہی بنائے، یا کوئی تنکہ ہی بنائے ) پھر ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ نے وضوء کے لیے پانی منگوایا اور وضوء کیا ، اور اپنی کلائیاں دھوتے ہوئے کہنیوں سے اُوپر تک دھویا ، اور جب اپنے پاؤں دھوئے تو ایڑیوں سے اُوپر پنڈلیوں تک دھویا ::: میں نے پوچھا ، یہ کیا ؟ تو کہا ::: یہ(قیامت کے دِن میں) اپنے زیور کی مقدار ہے ) مُسند احمد / حدیث ٧١٦٦ /مُسند ابی ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کی حدیث ٤٧، ( حدیث بُخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے) ::: فائدہ ::: مندرجہ بالا دلیل (٤) میں ذِکر کی گئی دونوں روایات کا پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے کلام کے طور پر روایت فرما رہے ہیں اور اُس فرمان کو قُران میں شامل نہیں فرمایا ، جِس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کوئی فرمان جو قُران میں شامل نہ کیا گیا ہوذِکر فرمائیں اُس روایت کو ،اُس فرمان کو ''' حدیث قُدسی ''' کہا جاتا ہے ، :::گو کہ اِن دونوں روایات کا صِرف آخری حصہ ہمارے رواں موضوع سے متعلق ہے لیکن پوری روایات اِس لیے نقل کی گئی ہیں کہ اِس میںایک اور انتہائی اہم شرعی حُکم ہے اور وہ یہ کہ تصویر سازی حرام ہے ::: ::: وضوء کی تیرہویں (١٣) سُنّت ::: پانی کم سے کم اِستعمال کیا جائے ::: سابقہ سُنّت کو پڑھ کر یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ وضوء سے متعلق جسمانی حصوں کو زیادہ دھونے کے لیئے زیادہ پانی اِستعمال کرنا پڑے گا ، یا کیا جا سکتا ہے ، وضوء کے لیے اِستعمال کیئے جانے والے پانی کی مقدار کواتنا کم رکھا جانا چاہیئے ، کہ جِس میں بہترین طور پر وضوء ہو جائے اور خوامخواہ پانی ضائع بھی نہ ہو ، ::: دلیل (١) ::: انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے( کَانَ النَّبِيُّ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسلَمَ یَغسِلُ اَو کان یَغتَسِلُ بِالصَّاعِ اِلی خَمسَۃِ اَمدَادٍ وَیَتَوَضَّاُ بِالمُدِّ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مِقدار میں ) ایک صاع سے پانچ مُد (پانی )سے (اپنا جِسم مُبارک )دھو لیا کرتے تھے یا غُسل کر لیا کرتے تھے اور ایک مُد (پانی) سے وضوء کر لیا کرتے تھے ) صحیح البُخاری / حدیث ٢٠١ /کتاب الوضوء / باب ٤٧ ، صحیح مُسلم / حدیث٣٢٥ /کتاب الطہارۃ /باب ٩، ::: دلیل (٢) ::: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کِسی نے پوچھا ::: مجھے وضوء کرنے کے لیے کتنا پانی کافی رہے گا ؟ ::: تو فرمایا ''' ایک مُد ''' ::: اُس نے پھر پوچھا ::: مجھے غُسل کرنے کے لیے کتنا پانی کافی رہے گا ؟::: تو فرمایا ''' ایک صاع '''::: اُس شخص نے کہا ::: یہ تو میرے لیے کافی نہیں رہے گا::: تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ( لاَ اُمَّ لک قد کَفَی مَن ہُوَ خَیرٌ مِنکَ رَسُولَ اللَّہِ صَلیَ اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَمَ ) ( تمہاری ماں مر ے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تُم سے کہیں زیادہ خیر والے تھے اُن کے لیے اتنا پانی کافی ہوتا تھا ) مُسند احمد /حدیث ٢٦٢٨، المعجم الکبیر للطبرانی /حدیث ١١٤٦٤ ، مجمع الزوائد /کتاب الطہارۃ /باب ٢٩ ما یکفي من الماء للوضوء و الغُسل میں اِمام الہیثمی نے کہا ، اِس حدیث کی سند کے سب راوی بااعتماد ہیں ، (((ایک صاع ، چار مُد ہوتا ہے ، اور مُد کی تعریف مختلف ہے (١) کہا گیا کہ مُد ایک رطل اور رطل کا تیسرا حصہ یعنی ٣/١،١ رطل ، اِس قول کو اِمام الشافعی اور حجاز کے فقھاء نے اپنایا ، اور(٢) کہا گیا کہ ایک مُد دو رطل کا ہوتا ہے ، اِس قول کو اِمام ابو حنیفہ اور عِراق کے فقھاء نے اپنایا ، اور ایک '''رطل '''درمیانے ہاتھ والے مرد کے دونوں ہاتھوں کو جوڑنے سے ہتھیلیوں کا جو پیالہ بنے ، ہوتا ہے ، اِس طرح پہلے قول کے مطابق ایک''' صاع '''پانچ رطل اور ایک تہائی ٣/١،٥ رطل ہوا ، اور دوسرے قول کے مطابق ایک صاع آٹھ رطل ہوا ، جدید پیمانوں کے مُطابق ایک رطل تقریباً ١٢٥ ملی لیٹر (125ml ) بنتا ہے ، اور یُوں پہلی تعریف کے مُطابق ایک ''' مُد ''' تقریباً ١٦٦ ملی لیٹر (166ml ) اور ایک''' صاع ''' تقریباً ٦٦٤ ملی لیٹر (664ml ) بنتا ہے ، اور دوسری تعریف کے مُطابق ایک ''' مُد ''' تقریباً ٢٥٠ ملی لیٹر (250ml ) اور ایک صاع تقریباً دو لیٹر ہوا ، اگر کِسی کے دِل میں یہ خیال ہو کہ اتنے تھوڑے پانی سے کیسے وضوء یا غُسل کیا جا سکتا ہے تو وہ اُوپر بیان کیا گیا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ کا فرمان پھر سے پڑہے ))) ::: مسئلہ ::: بغیر ضرورت ، شک و شبے یا خیال آرائیوں کی وجہ سے وضوء یا غُسل میں زیادہ پانی اِستعمال نہیں کیا جانا چاہیئے ::: ::: دلیل ::: عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہُ نے اپنے بیٹے کو دُعا کرتے ہوئے سُنا کہ ''' اللَّہُمَ اِنِی اَساَلُکَ القَصرَ الاَبیَضَ عَن یَمِینِ الجَنَّۃِ اِذا دَخَلتُہَا ''' ، ''' اے اللہ میں اگر (آپ کی رحمت سے ) میں جنّت میں داخل ہوا تو میں آپ سے جنّت کی دائیں طرف (اپنے لیے) سُفید محل کا سوال کرتا ہوں ''' تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: اے میرے بیٹے اللہ سے جنّت کا سوال کرو اور آگ سے اللہ کی پناہ طلب کرو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ( اِنہ سَیَکُون ُ فی ہذہ الاُمَّۃِ قَومٌ یَعتَدُونَ فی الطَّہُورِ وَالدُّعَاء ِ )( بے شک اِس (میری) اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو پاکیزگی (کے معاملات) اور دُعا (کے معاملات) میں حد سے تجاوز کریں گے) سنن ابی داؤد /مقدمہ /باب ٤٦، صحیح الجامع الصغیر / حدیث٢٣٩٦، میرے ماں باپ اور جو کچھ اللہ نے مجھے عطاء فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قُربان ہو ، جِن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ہر معاملے میں مکمل اور بہترین راہنمائی فرمائی ہے ، دیکھ لیجیئے ، اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں اب ہمیں کئی ایسے ملتے ہیں جو دُعاء اور طہارت کے معاملات میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود سے خارج ہوتے ہیں ، اور پھر اپنے کاموں کو دُرست ثابت کرنے کے لیے کیا کیا کرتے ، کہتے اور لکھتے ہیں ، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ، اِنشاء اللہ اِس موضوع کی کچھ تفصیل ''' دُعاء عِبادت ہے ''' میں بیان کروں گا ۔ ::: وضوء کی چودہویں (١٤) سُنّت ::: دورانِ وضوء کوئی ذِکر یا دُعا وغیرہ نہ کی جائے ::: جی ہاں ، جو کام جِس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا چھوڑ دِیا ، وہاں اُس موقع پر اُسے نہ کرنا ، چھوڑ دینا ہی سُنّت ہے ، اِسے ہی ''' السُنّۃ التَرکِیّۃ ''' ''' یعنی کِسی کام کو چھوڑ دینے کی سُنّت ''' کہتے ہیں، اِس موضوع کی کچھ تفصیل ''' وضوء کے فرائض ''' کے بعد بیان کر چکا ہوں ، ::: دلیل ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ وضوء کوئی ذِکر یا دُعا فرمایا کرتے تھے ، اور یہ ثابت نہ ہونا ہی اِس بات کی دلیل ہے کہ دورانِ وضوء دُعا کرنا بدعت اور نہ کرنا سُنّت ہے ، اِنشاء اللہ ،یہ جواب ہر اُس شخص کے لیے بھی کافی ہے ، جو کِسی بدعت سے روکے جانے کی صورت میں یہ کہتا ہے کہ ''' بتاؤ تو بھلا کہ یہ کہاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ''' ۔ ::: وضوء کی پندرہویں (١٥) سُنّت ::: وضوء مکمل کر لینے کے بعد نیچے ذِکر کیئے گئے اِلفاظ ادا کیئے جائیں ، جِن میں اللہ کی واحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ کا بندہ ہونے اوراُن صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ہے ، اور دُعا بھی ہے ::: ::: دلیل (١) ::: عُقبہ بن عامررضی اللہ عنہ ُ کو عُمر رضی اللہ عنہُ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَا مِنکُم من اَحَدٍ یَتَوَضَّاُ فَیُبلِغُ اَو فَیُسبِغُ الوَضُوء َ ثُمَّ یقول '''اَشہَدُ اَن لَا اِِلَہَ اِلا اللَّہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عبد اللَّہِ وَرَسُولُہُ '''اِلا فُتِحَت لہ اَبوَابُ الجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃُ یَدخُلُ من اَیِّہَا شَاء َ )( تُم میں سے کوئی ایسا نہیں جو خوب اچھے اور مکمل طور پر وضوء کرنے کے بعد کہے ''' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں ( یعنی اللہ کے عِلاوہ جِس جِس کی بھی عِبادت ہوتی ہے وہ جھوٹا باطل معبود ہے ) اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں ''' اور اُس کے ایسا کہنے پر جنّت کے آٹھ کے آٹھ دروازے(اُس کے لیے) کھل نہ جاتے ہوں (کہ) جِس دروازے سے وہ چاہے داخل ہو جائے ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٣٤ /کتاب الطہارۃ /باب ٦ ::: دلیل (٢) ::: عُمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَن تَوَضَّاَ فَاَحسَنَ الوُضُوء َ ثُمَّ قال ''' اَشہَدُ اَن لَا اِِلَہَ اِلا اللَّہ وَحدَہُ لَا شَرِیکَ لہ وَاَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجعَلنِی مِن التَّوَّابِینَ وَاجعَلنِی من المُتَطَہِّرِینَ''' فُتِحَت لہ ثَمَانِیَۃُ اَبوَابِ الجَنَّۃِ یَدخُلُ من اَیِّہَا شَاء َ ) ( جِس نے بہترین طور پر وضوء کیا اور پھر کہا '''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں ( یعنی اللہ کے عِلاوہ جِس جِس کی بھی عِبادت ہوتی ہے وہ جھوٹا باطل معبود ہے ) اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں ، اے اللہ مجھے توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں بنا''' اُس کے لیے جنّت کے آٹھ کے آٹھ دروازے کھل جاتے ہیں (کہ) جِس دروازے سے وہ چاہے داخل ہو جائے ) سُنن الترمذی / حدیث ٥٥ / علامہ احمد محمد شاکر رحمہُ اللہ نے ''' سنن الترمذی کی تحقیق و شرح''' میں اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ، اور اِمام الالبانی نے بھی ''' صحیح قرار دِیا، صحیح سنن ابی داؤد /حدیث ١٦٢، ::: دلیل (٣) ::: سالم بن ابی الجحد رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہُ وضوء کرنے کے بعد میں کہا کرتے ( اَشہَدُ اَن لاَ اِلَہَ اِِلاَّ اللَّہُ وَاَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہُ وَرَسُولُہُ رَبِّ اجعَلنِی من التَّوَّابِینَ وَاجعَلنِی من المُتَطَہِّرِینَ ) ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں ( یعنی اللہ کے عِلاوہ جِس جِس کی بھی عِبادت ہوتی ہے وہ جھوٹا باطل معبود ہے ) اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں ، اے میرے رب مجھے توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا دے ) مُصنف ابن ابی شیبہ / حدیث ٢٠ / کتاب الطہارات / باب ٤ ، ::: دلیل (٤) ::: حذیفہ ابن الیمان رضی اللہ عنہُ کے بارے میں بھی یہ ہی روایت ہے ، مُصنف ابن ابی شیبہ / حدیث ٢٩٨٩٧ / کتاب الدُعاء / باب١٧٦ ، ::::: اہم بات ::::: وضوء سے متعلق اِس ذِکر اور دُعاء کے عِلاوہ کوئی اور ذِکر یا دُعاء سُنّت میں نہیں ، آغازِ وضوء میں '''صِرف ، بِسمِ اللہ ''' کہا جانا ہے ، جِس کو بیان پہلے کیا جا چکا ہے ،اور وضوء کے بعد مندرجہ بالاذِکر و دُعاء ، فقط ، اِن دو کے عِلاوہ دورانِ وضوء یا وضوء سے متعلق جسمانی حصے دھوتے ہوئے یا مسح وغیرہ کرتے ہوئے مُختلف ذِکر کرنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی مُخالفت ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ۔ ::: وضوء کی سولہویں(١٦ ) سُنّت ::: وضوء کے بعد دو رکعت نماز پڑہنا ::: ::: دلیل ::: رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا ( جِس نے میرے اِس وضوء کی طرح وضوء کِیا ور پھر( اللہ کی طرف مکمل توجہ کے ساتھ) اپنے آپ میں مشغول ہوئے بغیر دو رکعت نماز پڑہی تو اُس کے سابقہ گُناہ معاف کر دئیے جائیں گے ) صحیح البُخاری / حدیث١٥٨ / کتاب الوضوء / باب ٢٣، مکمل حدیث وضوء کی آٹھویں سُنّت ، دلیل (٢) میں ذِکر کی گئی ہے ۔ ::: وضوء کی سترہویں(١٧) سُنّت ::: الموالاۃ ، وضوء کا ایک عمل دوسرے کے ساتھ جوڑ کر کیا جائے ::: یعنی، دورانِ وضوء کِسی اور کام میں مشغول نہ ہوا جائے ، ایسا نہیں کہ ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا ، اور کِسی اور کام میں لگ گئے اور پھر بازو دھونے لگ گئے ، اگر ایسا کیا جائے گا تو وضوء کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے ،اور پھر وضوء سے متعلقہ جسمانی حصے دھونے کے باوجود وضوء کر لینے کا حُکم لاگو نہیں ہوگا ، مضمون جاری ہے ، Last edited by عادل سہیل; 01-12-07 at 07:37 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (10-03-11), محمدمبشرعلی (09-06-10), ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10), عبداللہ حیدر (24-10-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: آخری حصہ ::: سابقہ حصے میں وضوء کی سنتوں کا بیان مکمل ہوا ، الحمد للہ ، ::: خصوصی معاملہ ::: الحمد للہ ، اُن کاموں کا بیان بھی مکمل ہوا جِنہیں ''' عام طور پر ''' وضوء کی سُنتوں میں شمار کیا جاتا ہے ، لیکن ،،، اِن میں سے کچھ کام ایسے ہیں جِنہیں کچھ اِماموں نے واجب قرار دِیا ہے ، اور دُرُست بھی یہی ہے کہ وہ کام واجب ہیں سُنّت نہیں ، ہمارے ہاں چونکہ عام معمول میں یہی کہا اور پڑھایا جاتا ہے ، لہذا یہ خیال کرتے ہوئے کہ میرا یہ مضمون کِسی پڑہنے والے کے لیے اُس کی سابقہ یاد کردہ بات کو زیادہ تنگ نہ کرے ، میں نے وضوء کی سُنتوں کے بیان کی ترتیب کو تقریباً ویسا ہی رکھنے کی کوشش کی ہے ، اور اب اِنشاء اللہ تعالیٰ اُن کاموں کو ایک الگ فہرست کی صورت میں ذِکر کرتا ہوں جو بطورِ سُنّت ذِکر کیئے جاتے ہیں لیکن حُکماً واجب ہیں ::::::::: یہاں یہ بھی سمجھتے ہوئے چلتے ہیں کہ ، عربی زبان میں فرض اور واجب میں کوئی فرق نہیں ہوتا، کیونکہ کِسی کام کو لازمی قرار دینے کو واجب کرنا کہا جاتا ہے اور کِسی کام کو واجب قرار دینے کو فرض کر دینا کہا جاتا ہے ، لیکن بعض فقہا نے ''' فرض ''' اور '''واجب ''' میں یہ فرق رکھا ،کہ جِس کام کا حُکم اللہ کی طرف سے ہو وہ ''' فرض''' اور جِس کام کا حُکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہو وہ ''' واجب''' ہوتا ہے ، اَلفاظ کے اِس فرق کو ایک اصطلاحی فرق بنا دِیا گیا ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں درجہ بندی کی کوئی گُنجائش نہیں ،کیونکہ رسول اللہ جو حُکم دیے ہیں وہ اللہ کی طرف سے وحی ہونے پر ہی دیے ہیں ، وہ اللہ کے ہی حُکم ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ بتایا ( وَمَا یَنطِقُ عَنِ الہَوَیO اِن ہُوَ اِلَّا وَحیٌ یُوحَیO عَلَّمَہُ شَدِیدُ القُوَی) ( اور وہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی طرف سے نہیں بولتے O (جو کچھ وہ بولتے ہیں) وہ ( اللہ کی طرف سے ) اُن پر کی گئی وحی کے عِلاوہ کچھ اور نہیں Oوہ وحی جو اُنہیں شدید طاقت والا ( جبرئیل علیہ السّلام ) سکھاتا ہے ) سورت النجم /آیات٣،٤،٥، لہذا جو حُکم اللہ کے رسول نے دیے ہیں وہ بھی فرض ہیں ، ::: وہ کام جو واجب ہیں ، سُنّت نہیں مندرجہ ذیل ہیں ::: (١) وضوء سے پہلے صِرف ''' بِسمِ اللہ ''' کہنا ، (٢) کُلّی کرنا (چوتھی سُنّت کے طور پر ذِکر کیا گیا کام) (٣) اِستشاق و اِستنثار کرنا ( پانچویں سُنّت کے طور پر ذِکر کیا گیا کام) (٤) داڑھی میں خَلال کرنا ( چھٹی سُنّت کے طور پر ذِکر کیا گیا کام ) (٥) دائیں (سیدہی ) طرف سے آغاز کرنا (نویں سُنّت کے طور پر ذِکر کیا گیا کام) (٦) پانی کم ہونے کی صورت میں وضوء والے حصوںپر( دلک کرنا) ( دسویں سُنّت کے طور پر ذِکر کیا گیا کام ) (٧) دونوں کانوں کا مسح کرنا ( گیارہویں سُنّت کے طور ذِکر کیا گیا کام) (٨) وضوء کا ایک عمل دوسرے کے ساتھ جوڑ کرنا ( سترہویں سُنّت کے طور پر ذِکر کیا کام) الحمدُ للہ وضوء کی تفصیل مکمل ہوئی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطاء فرمائے کہ ہم کِسی فلسفے و تعصب کا شکار نہ ہوں اور اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حُکم پر عمل پیرا ہوں ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ ، طلبگارِ دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (10-03-11), وسیم (12-03-09), محمدمبشرعلی (09-06-10), ارشد کمبوہ (24-10-10), رانا امر (04-05-09), عبداللہ حیدر (01-03-09), عبدالله (27-09-08) |
|
|
#7 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام عادل صاحب۔
اپ کا مضمون بہت ہی اعلی پائے کا اور تحقیقی ہے لیکن بصد احترام میں آپ پر واضح کر دوں کا فورمز کا مقصد علم کا فروغ ہے نہ کہ کسی ایک فرقہ کو بڑھاوا دینا اور دوسروں فرقوں کو ذلیل کرنا ہے۔ میںنے سن رکھا ہے کہ سعودیہ کی مسجدوںمیں ایسے کام بخوبی سر انجام دیے جاتے ہیں۔ لیکن اپکی علمیت شائد اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اپ کسی فرقے کی اس طرح توہین کریں۔۔۔ اقتباس:
ہم اپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے طرز بیان کو مزید عالمانہ شان دیں اور متنازعہ الفاظ کو مناسب الفاظ سے بدل دیں۔۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر
بھائی آپ کے نیک مشورے کا شکریہ ، اس قسم کی باتوں کا جواب انشا اللہ پھر اور انشا اللہ علمی طور پر حاضر کروں گا ، اگر ادلے بدلے والی بات نہ محسوس کریں تو سعودیہ کی مسجدوں کے بارے میں جو آپ گیر درست اطلاع آپ کو پہنچی ہے اُسے کس زمرے میں ڈالا جائے ؟ بھائی ، اگر کبوتر کے چونچ مارنے والی تشبیہ آپ کو غیر مناسب لگی ہے تو یقین جانیئے بات کو مجھانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور سخت تشبیہات قران و صحیح سُنـت اور اُمت کے عُلما کے کلام میں موجود ہیں ، بہر حال میں کوشش کروں گا کہ اپنے دِل کے پھپھولے پہلے سے زیادہ اندر ہی اندر پھوڑ لیا کروں اور خلافَ سُنـت کام اور بات کو دیکھ کر جو آہ نکلتی ہے وہ اندر ہی رہے۔ جزاک اللہ خیر والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10) |
|
|
#9 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام!
اقتباس:
ہمارا مقصد دین کا فروغ احسن طریقے سے دین کو پیش کر کے ہے۔ اگر اپ کسی شخص کو کوئی بہت اچھی اور کارآمد بات بھی سخت الفاظ میں بتائیں گے تو میرا یقین کریں کوئی اپکی بات سننے کا روادار نہیں ہو گا۔ تو پھر اتنی محنت اور مشقت کا کیا فائدہ؟ ہم صرف کوشش ہی کر سکتے ہیں ہدایت دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔۔۔ حتی کے یہی بات ہمارے پیارے نبی ص کو بھی بتائی گئ تھی۔۔۔ باقی اپ اس کا سیاق و سباق مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔۔۔ اپکے تعاون کے طلب گار۔۔ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Junior Member
اجنبیتاریخ شمولیت: Feb 2008
مراسلات: 19
کمائي: 22
شکریہ: 2
4 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب آپ نے تو کما ل کر دیا بہت بہت شکریا
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
مراسلہ دیکھیں
اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم صل وسلم وبارک علٰی محمد بعدد کل معلم لک دائما ابدا۔ جزاللہ عنا سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما ھو اہلہ۔۔ اللھم صل علی محمدن النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما۔۔ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ وعلٰی آلک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا نور من نور اللہ وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی یا خیر خلق اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا شفیع المذنبین وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی رحمۃ اللعٰلمین جشن عید میلاد النبی مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (24-10-10), رانا امر (04-05-09) |
|
|
#12 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
آمین اللّھُمَ آمین اقتباس:
رسولک صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سیدنا ::: اے اللہ تمہارے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہمارے سردار ہیں ::: و انت مولانا و لا مولا لنا غیرک ::: اور تو ہمارا مولا ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی مولا نہیں آمین اللّھُمَ آمین الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ سید الأولین و الآخرین و علی آلہ و أصحابہ و أزواجہ و ذریتہ و من تبعھم باحسان الی یوم الدین الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، و لم یکن نورٌ مِن نور اللہ کام عبدٌ للہ و لم یکن جُزء مِن اللہ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اللہ کے نور میں سے نور نہ تھے اللہ کے بندے تھے نہ کہ اللہ کا جُز ::: و ماذا یکون الشرک بعد ذلک؟ ::: ایسی بات کے بعد اور شرک کیا ہو گا ؟ ::: نور اللہ صفۃ من صفات اللہ و لا شریک لہ فی ذاتہ و لا فی صفاتہ::: اللہ کا نور یعنی روشنی اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ کا کوئی شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ ہی اس کی صفات میں ::: و علی آلہ و أصحابہ انہ کان خیر خلقہ و لا ریب اقتباس:
بدعت کبھی مبارک نہیں ہوتی ، بلکہ جس رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت میں یہ جشن یا اس قسم کی دوسری بلا دلیل و حجت رسمیں منائی جاتی ہیں ان کا فیصلہ ہے ((((( کل بِدعۃ ضلالۃ و کُلّ ضلاۃ فی النار ::: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ))))) """" عید میلاد النبی اور ہم """" کا مطالعہ کیجیے ، پاک نیٹ کی انتظامیہ اپنے طے کردہ قوانین کے نفاذ کی طرف توجہ کرے ، و السلام علیکم۔ |
||||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ام حازم (18-01-11), ارشد کمبوہ (24-10-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عادل صاحب دو پوسٹس پڑھ کر ہی میرے کو چکر ؔنے لگے ہیں جناب اپنی لکھائی کا سائز بڑا رکھا کرو یا کوئی مگنیفائر بھی ساتھ اٹیچ کر دیا کرو شکریہ کیا میں کچھ سوالات پیش کر سکتا ہون اگر آپ جواب دینا پسند فرماو |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
یہ وضو کے مسائل میں یہ بحث کہاں سے آگئی محترم عادل صاحب۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا وضو صرف بتائے گئے طریقہ کی ترتیب سے ہی ہوگا یہ ترتیب تھوڑی سی تبدیل ہوجائے تو بھی ہوجائے گا۔ ہمارے ایک حکیم الامت صاحب نے تو فتوی دے دیا ہے کہ وضو ہو جائے گا لیکن سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔ آپ کا فتوی کیا ہے۔ شکریہ والسلام |
|
|
|
| ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ام حازم (18-01-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ضرار بھائی طاقت کا شربت پی کر بیٹھا کریں فورم میں۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فرقہ واریت, کتابوں, پیارے, قرآن, قران, نماز, نظر, مکمل, مسائل, آج, ایمان, اللہ, بھائی, جواب, حال, حدیث, حضرات, خوش, درخواست, شخص, صحیح, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|