| ویب سائٹس کا جائزہ ویب سائٹس کا جائزہ اور ان کے روابط فورمز کے اس حصے میں صرف وہی ممبر پوسٹ کر سکتے ہیں جن کی کم از کم فورمز پر ٥٠ یا اس سے زیادہ پوسٹس ہیں۔ اس سے سپیمرز کو منہ کی کھانی پڑرہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
کچھ دن پہلے امریکی حکام نے نیویارک کے معروف علاقے ٹائم سکوائر میں دہشت گردی کے ناکام منصوبے میں ملوث ہونے کے شبہ میں پاکستانی نژاد 30سالہ امریکی نوجوان فیصل شہزاد کو حراست میں لے لیا، اس کے بعد کراچی سمیت ملک بھر سے 13افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں فیصل شہزاد کے گروپ میں شامل ان دوستوں کو گرفتار کیا گیا جن سے وہ فیس بک کے ذریعے رابطہ میں تھا۔ اصل حقائق کیا ہیں اس واقعہ کے پیچھے کیا محرکات ہیں اورپس پردہ اس واقعہ کے کیا اہداف ہیں یہ ایک الگ بحث ہے فی الحال ہم فیس بک کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں کہ فیس بک کیا ہے اور اس سوشل نیٹ ورک سے کیا کیا فوائد حاصل کیے جارہے ہیں۔
آج کی دنیا میں انٹرنیٹ سے سروکار رکھنے والے تقریباً تمام مسلم نوجوان مختلف اہداف و مقاصد کی خاطر انٹرنیٹ گروپ تشکیل دیتے ہیں یا کسی گروپ کے ممبر بن جاتے ہیں۔حال ہی میں فیس بک کی ممبر شپ عمومی رحجان بن کررہ گئی ہے اور انٹرنیٹ صارفین نہ صرف خود فیس بک کی ممبر شپ حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنے یاروں دوستوں اور عزیزوں یا دیگر افراد کو بھی ممبر شپ کی دعوت دیتے ہیں کیوں کہ فیس بک کے ذریعے رابطہ کرنا، تبادلہ خیال کرنا، دوستی بڑھانا، تبلیغ کرنا وغیرہ بہت آسان ہے تاہم کسی نے شاید کم ہی اپنے آپ سے پوچھا ہوکہ فیس بک اتنی ساری سہولت کیوں فراہم کرتا ہے؟کیا فیس بک نیٹ ورک صرف اس لئے فراہم کیا گیا ہے کہ دنیا والوں کو خالصتاً ایک مواصلاتی ذریعہ بطور مفت یا بعنوان خیرات کے طور پر فراہم کیا جائے؟یا یہ کہ اس نیٹ ورک سے بعض لوگ عظیم ترین فوائد اٹھا رہے ہیں اور صارفین صرف اور صرف غفلت کی وجہ سے اپنے تمام رازوں کو ان کے سپرد کردیتے ہیں اور ان کوپتہ بھی نہیں چلتا۔ انٹیلی جنس امور کے ایک اسرائیلی ماہر نے کہا کہ اسرائیل فیس بک اور دیگر سوشل/سماجی نیٹ ورکس کے ذریعے اطلاعات اور معلومات اکٹھی کرتا ہے اور جاسوس بھرتی کرتا ہے۔ ”ایران میں خفیہ جنگ “ نامی کتاب کی مولف اور صہیونی روزنامے ایدﺅت اہرونات (YEDIOTH AHRONOTH)کے سیاسی وفوجی امور کا تجزیہ نگار”رونن برگمین“ (Ronen Bergman)کہتا ہے ۔ (اسرائیل ذاتی معلومات و کوائف سے جوانٹرنیٹ میں بوفورپائے جاتے ہیں ایسے افراد کاسراغ لگاتا ہے جو اس ریاست کے لئے ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں اور اگر آج سے 50 بعد شن بیتھ (Shin Beth) (اسرئیلی خفیہ ایجنسی) کی خفیہ فائلیں کھول دی جائیں تو معلوم ہوگا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز اور اسرائیلی افواج کے انٹیلی جنس شعبے کے زیر استعمال جاسوسی کے وسائل ان حساس آلات سے کہیں زیادہ متنوع اور مختلف النوع ہیں جو جیمز بانڈ کی تخیلاتی فلموں میں نظر آتے ہیں تاہم یہ نئی روش بہت مفید اور آسان ہے۔ برگمین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرکے ان پر دباو ڈالاجاتاہے تاکہ اگر وہ جاسوسی کی صلاحیت رکھتے ہوں تو اسرائیل کےلئے جاسوسی کریں اور یہ روش بڑی حد تک موثر اور کئی لوگ کچھ دنوں میں جاسوسی کیلئے تیار ہوجاتے ہیں گو کہ اسرائیلی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ یہ روش لمبے عرصے کے جاسوس بھرتی کرنے کیلئے زیادہ موثر نہیں ہے اور اس روش پر جاسوسی کیلئے آمادہ کئے جانے والے افراد طویل عرصے تک اسرائیل کیلئے کام نہیں کرسکتے!!! شاید برگمین یہ کہنا چاہتا ہو کہ جن افراد کو انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوس کے عنوان سے بھرتی کیا جاتا ہے حقیقی دنیا میں بھی ان کا تعاقب کیا جائے اور انہیں باقاعدہ جاسوس بنایا جائے تاکہ طویل عرصے تک اسرائیل کی خدمت کرسکیں اور عالم اسلام پر صہیونی تسلط کے سلسلے میں اسرائیل کا ہاتھ بٹائیں۔ یہ رپورٹ برگمین ہی کے حوالے سے بی بی سی نے بھی شائع کی تھی اور بی بی سی نے اپنی ویب سائٹ پرلکھا تھا کہ اسرائیل فیس بک کے ذریعے جاسوس اور مخبر بھرتی کرتا ہے۔ بی بی سی نے غزہ اور فلسطین میں فیس بک کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ عرصے سے مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر اسرائیل کےلئے ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک اسرائیل کیلئے جاسوسی کررہا تھا جبکہ قدیم الایام سے اسرائیل کےلئے جاسوسی کرنے والے افراد بہت جلد رسوا ہوکر پکڑے اور مارے جاتے تھے اور حماس کی حکومت بھی جن جاسوسوں کو پکڑتی ہے انہیں فوری طور پر پھانسی دے دیتے ہیں۔ چنانچہ برگمین کا کہنا ہے کہ وہ وسائل اور مکانات جو تاریخ کے دوران اسرائیل کی مدد کیلئے بروئے کار لائے جاسکتے تھے اس وقت دستیا ب نہیں ہیں۔(یعنی کوئی فلسطینی جاسوسی کیلئے تیار نہیں تھا) چنانچہ اسرائیل کی جاسوس ایجنسیوں نے نئی روش اپنائی ہے اور انٹرنیٹ میں سماجی نیٹ ورکس کو استعمال کررہی ہیں۔ البتہ فیس بک کی انسانی ہمدردی اسرائیل کےلئے جاسوسی کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ حال ہی میں اسرائیل کے سدا بہار وفادار دوست ، برطانیہ کے وزیر صحت نے بھی الزام لگایا کہ فیس بک آلودہ اور ناجائز جنسی تعلقات کو فروغ دے کر خاص طور پر لندن میں آتشک سمیت جنسی تعلق سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی ترویج کررہا ہے۔ فرانس کے یہودی روزنامے”لو میگزین دی اسرائیل“ (le magazine d,israel)نے بعض دستاویزات شائع کرکے انکشاف کیا ہے کہ فیس بک اسرائیل کا جاسوسی نیٹ ورک ہے جو اسرائیل کےلئے ایجنٹ اور جاسوس بھرتی کرتا ہے اور یہ ذمہ داری ہے جو اسرائیل نے اس کو سونپ دی ہے۔ البتہ یہاں ایک بات کا اضافہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ فیس بک اسرائیلی موساد کے علاوہ CIAاور اسرائیل کی خدمت میں مصروف دیگر عالمی ایجنسیوں کی خدمت بھی کرتا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق فرانس کے یہودی روزنامے ” لوماگازین دی اسرائیل“ نے بعض مستند دستاویزات کی روشنی میں فیس بک ویب سائٹ کے پس پردہ حقائق سے پردہ اٹھا کر نئے حقائق کا انکشاف کیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل موساد اور مریکی سی آئی اے نے ٹارگٹ ممالک میںجاسوسی کرنے اور کرانے کی غرض سے اس ویب سائٹ کی بنیاد رکھی ہے اور اسرائیل اور امریکہ، اسرائیلی جاسوسی روشوں کی بنیاد پر عام صارفین سے جاسوسی کرواتے ہیں جو اس کام کے خطرات سے ناواقف ہیں۔ یہ روزنامہ لکھتا ہے کہ” انٹرنیٹ پرنہ جانتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کیلئے جاسوسی کرنے والے افراد تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے چیٹ روم میں اپنا تھوڑا سا وقت ضائع کیا ہے اور یہ اتنی اہم بات نہیں ہے بلکہ کبھی تو وہ اس کو ایک لطیفہ تصور کرلیتے ہیں۔“ فرانس کے اس یہودی روزنامے نے لکھا ہے ہمیں اسرائیل کے ہاتھوں فیس بک کے ذریعے حاصل کی جانے والی بعض اہم معلومات” نہایت مطلع اور آگاہ “ افراد سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس روزنامے نے فیس بک کے انتظام میں اسرائیلی کردار کی سطح کے بارے میں معلومت فراہم کی ہیں اور بات یہاں تک پہنچی ہے کہ پیرس میں مقیم صہیونی سفیر نے الزام لگایا ہے کہ” مذکورہ یہودی روزنامے نے اسرائیل کے خفیہ راز افشاء کردیئے ہیں اور یہ راز دشمن کے سامنے فاش نہیں ہونے چاہئے تھے“ تاہم لوماگازین نے اسرائیل کے اس اقدام اور فیس بک سے ناجائز فائدہ اٹھانے کو انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کا نام دیا ہے۔ لوماگازین نے اپنی دستاویزات کی روشنی میں لکھا ہے کہ اسرائیلی ریاست فیس بک کے ذریعے عالم عرب اور عالم اسلام میں اس ویب سائٹ کے صارفین کے ذاتی کوائف واطلاعات حاصل کرلیتی ہے اور مسلم نوجوانوں کی یہ ذاتی معلومات موساد، شین بیتھ اور دیگر ایجنسیوں کےلئے کام کرنے والے علم النفس کے ماہرین (Pshchiatrists)کے سپرد کرتی ہے۔ معروف نفسیات شناس اور پرووانس یونیوسٹی میں علم النفس کے پروفیسر اور” انٹرنیٹ کے خطرات “نامی کتاب کے مصنف ”جیرلڈ نیرو“ نے فیس بک پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ میری کتاب میں جن نیٹ ورکس کی پس پردہ کاروایاں فاش کردی ہیں ، ان نیٹ ورکس کا حصہ ہیں جن کا انتظام اسرائیلی نفسیاتی ماہرین کے ہاتھوں میں ہے اور ان کا مقصد یہ ہے کہ تیسری دنیا، بالخصوص عرب اسرائیل تنازعے کے متعلقہ علاقوں اور جنوبی امریکہ میں رہنے والے نوجوانوں کی شناخت حاصل کرنا اور ان کی صلاحیتوں کی درجہ بندی کرنا اور انہیں اسرائیلی مقاصد کےلئے استعمال کرنا ہے۔ علم النفس کے اس استاد کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین میں بعض کا خیال ہے کہ” جب کوئی شخص چیٹ روم اور انٹرنیٹ کی دنیا میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوااور مخالف جنس کے عنوان سے آپ سے بات کررہا/رہی ہو اس پر سیاسی سرگرمی کا لزام لگانا درست نہیں ہے چنانچہ اطمنان سے نہیں کہا جاسکتا کہ ماحول جاسوسی کیلئے بالکل سازگار ہے حالانکہ فیس بک جیسی ویب سائٹس میں مصروف عمل افراد اس میں جنسی یاتفریحی گفتگو کا حربہ استعمال کرکے آپ کے ذہن ودل اور نفسیات کے اندر رسوخ کرجاتے ہیں اور یہ انسان انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر آپ کے اتنے قریب کبھی نہیں بیٹھ سکتے یا باہر کی حقیقی دنیا میں آپ ان کے اتنے قریب نہیں جاسکتے۔ وہ آپ کے کمزور نقاط اور آپ کی قوت کے نقاط کو اسی بات چیت اور چیٹ کے ذریعے بھانپ لیتے ہیں اور آپ کو بلیک میل کرتے ہیںاور آپ سے جاسوسی کرواتے ہیں۔ گویا وہ ان حربوں کوذریعے آخر آپ کو اپنا بنالیتے ہیں اور آپ اپنوں سے غیر ہوکر ان کے اپنے بن جاتے ہیںاور دنیا کے ہولناک ترین جاسوسی نیٹ ورکس کے رکن بن جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ سے باقاعدہ جاسوسی کروائیں بلکہ بات چیت کے دوران آپ کے ساتھ جنسی ، تفریحی، حتیٰ کہ علمی یا سائنسی گفتگو کرتے ہوئے بھی آپ سے بہت سی معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایک ہم عقیدہ اور ہم خیال فرد کے عنوان سے آپ سے بعض معلومات حاصل کرنا چاہیں اور آپ بھی بصد شوق اس کی آرزوبرآوردہ کردیں یا حتیٰ کہ عین ممکن ہے کہ آپ سے گفتگو کرنے والا فرد بھی آپ کی طرح نا آگہی کا شکار ہواور نیٹ ورکس کے مالکین آپ کے درمیان مخلصانہ گفتگو سے اپنے مقصد کی معلومات حاصل کریں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ جن معلومات کا تبادلہ کرہے ہیں وہ آپ کے خیال میں بالکل غیر اہم ہوں لیکن ان کےلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہوں۔ ہر ماہ پوری دنیا میں دس لاکھ سے زائد افراد فیس بک ویب سائٹ کے ممبر بن جاتے ہیں لیکن اس میں ذاتی کوائف ومعلومات اور پراﺅیسی کے تحفظ کا حال دیکھئے کہ فیس بک کے مالکین یہ تمام اطلاعات و معلومات مکمل طورپر فاش کرکے یاہو، گوگل اور دیگرسرچ انجنوں کے سپرد کردیتے ہیں ان معلومات و کوائف میں صارفین کے نام، پتہ، ٹیلی فون نمبر، بایوڈیٹا وغیرہ شامل ہیں اور فیس بک والے یہ خدمت عالمی گائیڈ کی تشکیل کی دوڑمیں دوسرے نیٹ ورکس سے آگے نکلنےکی غرض سے کرتے ہیں اور ہاں یہ معلومات صارفین کے انٹرنیٹ سے وابستہ قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے کوائف پر بھی مشتمل ہوتی ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ روزانہ تقریباً دولاکھ افراد پوری دنیا میں فیس بک سے استفادہ کرتے ہیں۔ فیس بک کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس وقت ویب سائٹ کے اراکین کی تعداد” چارکروڑ بیس لاکھ“ ہے لوماگازین دی اسرائیل کے انکشافات 9اپریل 2008کو اردن کے روزنامے ” الحقیقہ الدولیتہ“ کی رپورٹ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ الحقیقہ الدولیتہ نے ”خفیہ دشمن“ کی عنوان سے مرتب کردہ مفصل رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نیٹ ورکس کی صورت میں چلنے والی ویب سائٹوں کے منتظمین اپنے صارفین کے کمزور نقاط سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں اور وہ ان ہی نقاط کی روشنی میں منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ مثلاً معاشرتی آزادی، نوجوانوں کے مسائل، عورتوں کے مسائل وغیرہ جیسے موضوعات پر بحث شروع کرتے ہیں اور نشانے پر لئے ہوئے صارفین کے سامنے مجازی دنیا میں ایک ایسا روشن مستقبل رکھ دیتے ہیں جو صارفین کے لئے بالکل قابل حصول نظر آنے لگتا ہے اور موقع مناسب ہوتو ان سے استفادہ کرتے ہیں جیسا کہ مصر میں بھی ایسا ہی ہوا۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64 ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی Last edited by بلال اویسی; 22-11-10 at 07:51 PM. وجہ: امیج سے یونیکوڈ میں تحریر کو تبدیل کیا گیا ہے |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا | saraah (22-12-10), shafresha (21-11-10), پاکستانی (22-12-10), ھارون اعظم (21-11-10), یاسر عمران مرزا (22-11-10), نیلم خان (21-11-10), نورالدین (22-11-10), ناز786 (22-11-10), محمد عویدص (15-01-11), محمدمبشرعلی (21-11-10), مرزا عامر (21-11-10), ایکسٹو (21-11-10), اویسی (22-11-10), ابو عمار (26-11-10), اسد لطیف (23-11-10), عبداللہ آدم (21-11-10), عدنان دانی (21-11-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
باقی تحریر
فیس بک نے مصری نوجوانوں کو ذہنی طورپر تیار کیا اور پھران سے کہا کہ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کریں اور ہاں حال ہی میں ایران میں بھی کلرڈ ریوولیوشن کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی اورعظیم ترین، شفاف ترین اور منصفانہ ترین صدارتی انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے آٹھ ماہ تک دارالحکومت تہران میں بلوئے کرائے اور یہ بلوئے البتہ عوامی حمایت نہ ہونے کے باعث بے نتیجہ رہے لیکن جہاں تک فیس بک، ٹویٹر، بی بی سی اور العربیہ نیٹ ورکس اور ان کے مالکین کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی پوری کوشش کردی۔ چنانچہ مسلم نوجوانوں کو جتنی ہوشیاری اور بیداری کی آج ضرورت ہے اتنی کبھی بھی نہ تھی اورشیشے کی اس دنیا میں اپنے اور اپنے ملکوں اور عالم اسلام کے مفادات کی حفاظت، بیداری اور ہوشمندی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیا آپ فیس بک کے رکن ہیں؟کیا آپ نے اپنے دوستوں کو رکنیت کی دعوت دی ہے؟ اور یہ کہ کیا فیس بک اور ٹویٹر کے مذکورہ بالا حقائق سے آگہی کے باوجود اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟کیا ہمیں ایک دوسرے کو بیداری کی دعوت نہیں دینی چاہئے؟ ہوشیار!رنگارنگی، تفریح جنسی لذتیں اور وہ بھی مجازی دنیا میں کہیں آپ کو اسلام اور ملک دشمن طاقتوں کے جال میں نہ پھنسائیں! یادرکھیں کہ آپ کے ساتھ انٹرنیٹ کی غیر حقیقی دنیا میں گفتگو اور بات چیت کرنے والا شخص وہی نہیں ہے جوآپ کو بتارہا ہے۔ اگر آپ مرد ہیں تو وہ عورت بن کر آپ سے بات چیت کرتاہے لیکن عین ممکن ہے کہ وہ کوئی نفسیات شناس ماہر انٹیلی جنس افسر ہو۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ دشمن اس وقت ہر طرف سے اسلام اور پاکستان پر وار کررہا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ ہر حربہ استعمال کررہا ہے جس سے نوجوان اس کے چنگل میں پھنس سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں ہمیں آگاہ رہنا ہوگا اور چیزوں کے استعمال سے پہلے اس کی حقیقیت جاننا ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہم خود ہی اپنے ہاتھوں اپنے ملک اور قوم کے خلاف کوئی بڑا اقدام نہ کربیٹھیں۔ تحریر: نادرعباس تحقیق میں مدد: ف۔ح۔ مہدوی،DahnaCohenبی بی سی، فارس نیوز ایجنسی اس تھریڈ کو بھی دیکھتے رہیے۔ Last edited by بلال اویسی; 22-11-10 at 07:19 PM. وجہ: امیج سے یونیکوڈ میں تحریر کو تبدیل کیا گیا ہے |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا | saraah (22-12-10), shafresha (21-11-10), ھارون اعظم (21-11-10), یاسر عمران مرزا (22-11-10), نیلم خان (21-11-10), ناز786 (22-11-10), محمد عویدص (15-01-11), محمدمبشرعلی (21-11-10), مرزا عامر (21-11-10), ایکسٹو (21-11-10), اویسی (22-11-10), اسد لطیف (23-11-10), شاہ جی 90 (21-11-10), عبداللہ آدم (21-11-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اچھی اور مُفید شئیرنگ ہے، شکریہ!!!!!!!!
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (21-11-10), نیلم خان (21-11-10), ناز786 (22-11-10), مرزا عامر (21-11-10), اویسی (22-11-10), اسد لطیف (23-11-10), بلال اویسی (21-11-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: Lahore Farooq Gunj
مراسلات: 494
کمائي: 6,862
شکریہ: 1,279
326 مراسلہ میں 727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر ٹوئیٹر کااکاؤنٹ بلاک کرنا ہوتوکیسےکریں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,161
شکریہ: 25,590
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مفید معلومات کا شکریہ جزاک اللہ ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,240
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مفید شئیرنگ ہے، اگر یونی کوڈ میں لکھا جائے تو سرورق کیلے پیش کیا جا سکتا ہے
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (22-11-10), یاسر عمران مرزا (22-11-10), ناز786 (22-11-10), اویسی (22-11-10), اسد لطیف (23-11-10), بلال اویسی (22-11-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے اکاونئٹ میں لاگ ان کیجیے اور پھر اور سیٹنگ کے ٹیب کر کلک کیجیئے وہیں سب سے آخر میں آپ کو اکاونئٹ ڈی اکٹیویٹ کا آپشن نظر آجائے گا -
![]() بقول ٹوئیٹر سپورٹ اکاوئنٹ کو ڈیٹا بیس سے مکمل ڈیلیٹ ہونے میں 30 دن تک کا وقت درکارہوتا ہے مزید معلومات کے لیے یہ ملاحظہ کریں Twitter Help Center |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت اچھی معلومات ہیں ۔ بہت شکریہ میرے بھائی۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 21
کمائي: 275
شکریہ: 132
19 مراسلہ میں 77 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریر ہے۔ شئیر کرنے کا شکریہ
![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ناز786 کا شکریہ ادا کیا | shafresha (22-12-10), حسنین ایوب (25-11-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شیئرنگ ہے
ایف بی آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیاں انٹر نٹ پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اور تمام سوشل نیٹ ورک کی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اور اطلاعات ہیں کہ یہ ایجنسیاں ان ویب سائٹس کے مالکان کو یوزرس کی معلومات کے بدلے میں معاوضہ بھی پے کرتی ہیں۔ گوگل کو 25 ڈالر اور فیس بک کو 29 ڈالر ۔۔ ہماری عادت ہے کہ ہم رجسٹر ہوتے وقت ٹرم اینڈ کندیشنز نہیں پڑھتے، بس I agree کا بٹن دبا دیتے ہیں۔ ان شرائط و ضوابط میں اب ایسی چیزیں شامل کی جارہی ہیں کہ کسی کی پرائیویسی تک پہنچنا اب غیر قانونی نہیں رہتا لہذا انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | saraah (22-12-10), shafresha (22-12-10), نورالدین (23-12-10), محمد عویدص (15-01-11), عبداللہ آدم (24-12-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 111
کمائي: 1,757
شکریہ: 141
50 مراسلہ میں 82 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہترین علم مہیا کیا حضرت آپ نے۔ جزاک اللہ عزوجل
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 20
کمائي: 552
شکریہ: 2
16 مراسلہ میں 28 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا بہت اچھی معلومات دی ہے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| net, pak, post, quot, url, فیس, ہے۔, ہے،, کیا۔, ۔۔۔۔۔۔۔۔, ملاحظہ, مضمون, اللہ, انکشافات, اچھی, بک, بلاک, تحقیقی, جائے, حقائق, دیکھتے, رخ, شکریہ, شئیرنگ, صفحہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 07:37 PM |
| سہر ے والوں نے"خوشی" کیلئے تین "جنا زے "تیار کردیے | جاویداسد | خبریں | 1 | 11-11-10 03:27 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری | جاویداسد | خبریں | 0 | 01-10-10 06:38 PM |