واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




المسادہ“... ایک اور ایک…منیراحمد بلوچ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-05-11, 07:13 PM   #1
المسادہ“... ایک اور ایک…منیراحمد بلوچ
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 25-05-11, 07:13 PM

وہ ایک دن جس نے دنیا بدل کر رکھ دی، وہ ایک دن جس نے پاکستان کو ایک ایسے میدان جنگ میں تبدیل کر دیا جہاں اس کے”سائے“ ہی اس کے مدِ مقابل آ گئے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دن کا آغاز اس وقت ہوا جب سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس دن کا آغاز دنیا کی دوسری سپر طاقت سوویت یونین کی افغانستان میں”اقوام عالم کے مجاہدین“ کے ہاتھوں بد ترین شکست سے ہوا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دن کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکہ اپنے قریبی حریف سوویت یونین کو گھٹنوں کے بل جھکا کر فتح و کامرانی کے شادیانے بجاتے ہوئے پاکستان، افغانستان اور عالمی مجاہدین کو بے یارو مدد گار چھوڑ گیا یا اس دن کی ابتدااس تباہی سے ہوئی جس نے دنیا کو9/11 کی دہشت سے لرزا کر رکھ دیا؟ اگر یہ سمجھا جائے کہ اس دن کی ابتدا نائن الیون سے ہوئی تو بد قسمتی دیکھئے کہ پاکستان میں اس دن کا آغاز ایسے وقت میں ہوا جب سورج غروب ہو کر اندھیروں کی طرف بڑھ رہا تھا․․․․ اور یہی وہ دن ہے جس نے ایک نہ ختم ہونے والی ایسی اندھی جنگ کا آغاز کر دیا جس کی نہ تو کوئی حد تھی اور نہ ہی کوئی سرحد، اور یہ دن اپنے ساتھ ایک ایسا نام لے کر ابھرا جسے لوگ اسامہ بن لادن کے نام سے جانتے ہیں اس دن اگر ایک طرف دنیا بھر کی قوموں کیلئے اسامہ نفرت کا نشان بن کر ابھرا تھا تو دوسری طرف وہ مسلم دنیا کی بہت بڑی اکثریت کیلئے شجاعت کی پہچان بن گیا․․․ یہ علیحدہ بات ہے کہ انتہا پسندی میں یہ دونوں فریق ایک دوسرے سے حد سے گزر گئے ان دونوں مکتبہ فکر کی اسی سوچ نے آج عالمی بھائی چارے ، امن اور معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے جس کا نشانہ اگر ایک طرف تیسری دنیا کی مظلوم ترین غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے عوام بن رہے ہیں تو دوسری طرف ترقی یافتہ اقوام کے ساٹھ فیصد سے زائد انسان بھی معاشی فکر کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ وہ دن جس نے اسامہ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا دنیا اسے آج 9/11کے نام سے جانتی ہے اور وہ رات جب اسامہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا اسی دن کی انتہا تھی اور اس دن کیلئے ''3,519'' دنوں اور ''84,456'' گھنٹوں سے ہر امریکی بڑی شدت سے منتظر تھا۔
اسامہ کی موت ابھی تک ایک سر بستہ راز ہے لیکن سمندر میں پھینکی گئی کسی بھی بھاری شے کی طرح ایک بار وہ باہر نکل کر ضرور بتائے گا کہ وہ لقمہ اجل کیسے بنا؟ لیکن مسادا (شیر کی کچھار) کے مکین نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ وہ ایک دن بے بس خرگوش کی طرح شکاری کتوں کے غول کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ 1986ء میں اسامہ نے پاکستان کی سرحد سے دس میل دور واقع ”جاجی“ نام کے ایک مقام پر جو مشرقی افغانستان میں دوران افغان جنگ بنائی گئی ایک سوویت چھاؤنی تھی اسے فتح کیا اور اس چھاؤنی کو اپنا پہلا اڈہ بناتے ہوئے اسامہ بن لادن نے اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے”مسادا “ رکھا عربی زبان میں مسادا”شیر کی کچھار“کو کہتے ہیں ”جاجی“ایک گمنام اور چھوٹا سا دیہات تھالیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہرت اختیاکر گیا 1980ء کے بعد افغانستان میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سیکڑوں جنگی وقائع نگاروں اور میڈیا کے دوسرے لوگوں کو” جاجی “کا نام ابھی تک نہیں بھولا ہو گا اور اگر عالمی میڈیا کی یادداشتوں میں ”جاجی“کا نام محو ہو بھی گیا ہو تو سوویت یونین اور اس کی افواج کے ذہنوں سے یہ نام کبھی بھی محو نہیں ہو سکتا کیونکہ اس مقام پر ہونے والی جنگ میں اسامہ کی کمان میں اس کے عرب ساتھیوں جن میں ابوحفص اور ابو عبیدہ جیسے لوگ شامل تھے سوویت فوجوں کو ناکوں چنے چبا دیئے تھے۔ روسی فوج بے تحاشا جنگی سازو سامان اور54 سے زائد لاشیں چھوڑتے ہوئے پاک افغان بارڈر کے قریب قائم کی گئی فوجی چھاؤنی خالی کر کے بھاگ اٹھے یہ اسامہ کی افغان جہاد میں پہلی لیکن بھرپور جنگ تھی جسے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام ٹی وی چینلز اور میڈیا نے کور کیا اور یہیں سے سعودی عرب سے آئے ہوئے ارب پتی مجاہد اسامہ بن لادن کا نام دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔ اس وقت تک ایمن الظواہری ابھی گمنام تھا جونہی”جاجی معرکہ “کی کہانیاں اور تفصیلات عام ہو ئیں تو جہاد کیلئے مصر سے آئے ہوئے سرجن ڈاکٹر ایمن الظواہری نے درخواست کرتے ہوئے اسامہ کے لشکر میں شمولیت اختیار کر لی اس معرکے سے صورت حال یہ بن گئی تھی کہ افغان جنگ میں حصہ لینے والا ہر مجاہد اسامہ سے ہاتھ ملانا اپنے لیئے باعث فخر سمجھنے لگا تھا اور جن لوگوں کو اسامہ کے لشکر کا حصہ بنا لیا جا تا تھا وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھنے لگتے تھے۔ (جاری ہے)
روس کے خلاف مجاہدین کی جنگ تیز تر ہوتی گئی جس نے پورے سوویت یونین میں لاشوں کے ڈھیر تو لگائے ہی تھے معیشت کا بھی بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا جس نے دنیا کی دوسری بڑی ایٹمی اور فوجی قوت کو شکست قبول کرنے پر مجبور کر دیا لیکن روس کی اس شکست کے پیچھے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطا بق 17 لاکھ انسانی جانوں کی قربانی ہے20 لاکھ انسان زخمی اور معذور ہوئے اور45 لاکھ سے زائد ہجرت پر مجبور ہوئے․․․․ اور یہ سب ہلاکتیں اور تباہیاں مسلمانوں کا مقدر بنیں اور وہ دہشت گرد بھی قرار دے دیئے گئے۔ نائن الیون کو ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون میں امریکہ کے تین ہزار شہری ہلاک ہوئے اور ان کے زیادہ سے زیادہ نو ہزار لواحقین متاثر ہوئے جبکہ پاکستان اس وقت تک34000 سے زیادہ انسانی جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور متاثرہ لواحقین کی تعداد دو لاکھ سے بھی زائد ہے امریکہ کے نو ہزار لواحقین کو ہر شے میسر ہے لیکن پاکستان کے ان دو لاکھ سے زائد لواحقین کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ امریکہ کی ناپختہ قیادت کے فیصلوں نے روس سے زیادہ افغانستان کو تباہ کر کے رکھ دیا سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد افغانوں کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عسکری زندگی تلپٹ ہو چکی تھی دس سالہ جنگ سے زخم خوردہ اس قوم کو سنبھلنے کیلئے کافی عرصہ درکار تھا اور افغان جہاد کی قیادت چھ سے زائد مضبوط متحارب عسکری دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی بھوک ننگ افلاس اور بڑھتے ہوئے جرائم نے اتنے مسائل کھڑے کر دیئے تھے کہ یہ مسلح دھڑے آپس میں ہی دست و گریبان رہنے لگے ․․․․انہی حالات کو دیکھتے ہوئے افغان جہاد کیلئے آئے ہوئے ایک اہم لیڈر ڈاکٹر شیخ عبدالله عزام نے ”الجہاد“ کے نام سے عربی زبان میں شائع ہونے والے ایک رسالہ میں مضمون لکھا جس میں پہلی دفعہ القاعدہ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے تجویز دی گئی کہ روس سے جنگ تو اب ختم ہو گئی ہے امریکہ اور مغرب اپنا کام نکالنے کے بعد یہاں سے جا چکا ہے اس لئے اب ایک ایسی تنظیم تشکیل دی جائے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی سماجی اور دینی خدمت کرے اس مضمون کو اگر آج بھی غور سے پڑھیں تو اس میں کہیں بھی عسکریت پسندی کا ذکر نہیں ملتا شاید یہی وجہ ہے کہ شیخ عزام نے اپنے مضمون میں”القاعدہ السَلباہ“ کا نام تجویز کیا تھا لیکن”مسادا“ کے باقی مکینوں کی طرف سے گیارہ اگست1988ء کو اسامہ بن لادن کی سربراہی میں جس تنظیم کی بنیاد رکھی اس کا نام صرف ”القاعدہ“ رکھا گیا اور السلبا کا لفظ اس میں سے حذف کردیا گیا․․․․ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عزام کے ایمن الظواہری سے اختلافات بڑھتے گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر عبدالله عزام کا نظریہ تھا کہ دنیا کے محکوم مسلم ممالک اور کشمیریوں جیسی محکوم مسلمان قوموں کی مدد کی جائے جبکہ اسامہ اور الظواہری اس کے حق میں نہیں تھے بلکہ ان کا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا ہمیں سب سے پہلے ان تمام اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا چاہئے جو ان کی نظروں میں مرتد ہو چکی ہیں اور ان میں سعودی عرب اور پاکستان سرفہرست تھے شاید یہی وجہ تھی کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو1989ء میں عدم اعتماد کے ذریعے ختم کرنے کیلئے ان کے مخالفین کے سامنے ڈالروں کے ڈھیر لگا دیئے گئے․․․․ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار میں طالبان نے جنم لیا جنہوں نے اسامہ اور اس کے گروپ کو کو پناہ دی۔
نومبر1989ء میں عبدالله عزام پشاور میں ایک بم دھماکے میں شہید کر دیئے گئے اور ”مرتد“ ہو جانے والی اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنے کے اسامہ اور الظواہری کے اعلان نے ایک ایسی جنگ کا راستہ چنا جس کی کوئی منزل نہیں تھی۔کوئی بھی جنگ کسی ایک ملک کے خلاف یا کسی ایک قوم یا قبیلہ کے خلاف تو لڑی جا سکتی ہے لیکن آپ ساری دنیا کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے۔ یہ ایک اندھی جنگ تھی جس کا انجام یہی ہونا تھا۔ تاریخ ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ9/11 نے دنیا کے ہر مسلمان ملک کو امریکہ کے قدموں میں جھکا کر رکھ دیا ہے سب لوگ اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں اور ہر طرف ایک افراتفری کا عالم ہے۔کوئی بھی مجاہد یا جرنیل جب تک وہ صلح حدیبیہ کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر ے گا اس کا انجام اسامہ بن لادن جیسا ہی ہو گا…چاہے اس کا ٹھکانہ بلال ٹاؤن کا قلعہ نما گھر ہو یا جاجی کا”مسادا“…

ربط
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 231
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
skjatala (25-05-11), احمد نذیر (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 07:19 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم
ایک سایہ میرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا

تجھ کو بھُولا نہیں وہ شخص کے جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن ہے پر، یارو
عقل سچی تھی، عشق جھُوٹا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا

شیئرنگ کا شُکریہ آبی بھائی
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (25-05-11), آبی ٹوکول (25-05-11), احمد نذیر (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 08:59 PM   #3
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ: آبی 2 کول، اچھی شئرنگ ہے-
یہ منیر احمد بلوچ کا اپنا نقطہ نظر ہے- میرے خیال میں ہمیں حقا ئق کے نزدیک ترین پہنچنے کے لیئے کئی اور غیر جانبدار مبصر اور تجزیہ نگاروں کا مطالعہ کرنا چاہئے-
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (25-05-11), احمد نذیر (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 09:39 PM   #4
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : skjatala مراسلہ دیکھیں
شکریہ: آبی 2 کول، اچھی شئرنگ ہے-
یہ منیر احمد بلوچ کا اپنا نقطہ نظر ہے- میرے خیال میں ہمیں حقا ئق کے نزدیک ترین پہنچنے کے لیئے کئی اور غیر جانبدار مبصر اور تجزیہ نگاروں کا مطالعہ کرنا چاہئے-
بالکل یہ بلوچ صاحب کہ ذاتی مشاہدے پر مبنی انکا ذاتی مؤقف ہے کہ جس سے اختلاف کا حق ہر ایک کو حاصل ہے لیکن یاد رہے کہ میرا یہاں پر مختلف کالمز کو شئر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ میں تمام کالم نگاروں کی سوچ اور تمام باتوں سے ذاتی طور پر متفق بھی ہوتا ہوں بلکہ اولین مقصد معلومات کا بہم پہنچانا اور ثانی اختلاف نکتہ نظر کو تمام اراکین پاک نیٹ کہ سامنے رکھنا تاکہ ہر قسم کہ اختلافی و اتفاقی نوٹس پر پاک نیٹ کہ اصحاب حل و عقد نقد کرسکیں ۔۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
skjatala (25-05-11), منتظمین (25-05-11), احمد نذیر (26-05-11)
جواب

Tags
search, پہچان, پاکستان, نفرت, موت, مسائل, آج, اقوام متحدہ, انسان, امریکہ, اسلامی, بھائی, بے نظیر, حال, خوش, خلاف, درخواست, رات, راستہ, زندگی, طالبان, عالم, عسکری, صلح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger