واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




امریکہ کی نئی دہشت گردی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-06-11, 07:26 PM   #1
امریکہ کی نئی دہشت گردی
عصمت عصمت آف لائن ہے 06-06-11, 07:26 PM

امریکا نے پاکستان اور افغانستان میں جاسوسی کا نجی نیٹ ورک قائم کر دیا
واشنگٹن…امریکا نے پاکستان اور افغانستان میں جاسوسی کا پرائیویٹ نیٹ ورک قائم کر دیا جس کا مقصد مشتبہ جنگجوؤں کو تلاش کرنا اور انھیں قتل کرنا ہے۔ غیر ملکی ذرائع نے افغانستان اور امریکا میں موجود فوجی حکام اور تاجروں کے حوالے سے دی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے پاکستان اور افغانستان میں مشتبہ جنگجوؤں کی تلاش اور انھیں قتل کرنے کے لیے جاسوسی کا پرائیویٹ نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔ اس نیٹ ورک کے لیے نجی سیکیورٹی کمپنیوں میں کام کرنے والے سی آئی اے اور اسپیشل فورسز کے سابق ارکان کو بطور کنٹریکٹر ملازم رکھا گیا ہے۔ نجی کنٹریکٹرز پر مشتمل جاسوس نیٹ ورک امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار مائیکل فرلانگ نے منظم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک مشتبہ جنگجوؤں اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے امریکی فوج اور پاکستان و افغانستان میں انٹیلی جنس حکام کو فراہم کرتا ہے تاکہ اسے ممکنہ حملوں کیلیے استعمال کیا جا سکے۔ بعض امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شاید مائیکل فرلانگ کوئی غیرسرکاری نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور انھوں نے اس بات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا کہ یہ نیٹ ورک کس کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج کی جانب سے نجی کنٹریکٹرز کی بطور خفیہ جاسوس خدمات حاصل کرنے کو بالعموم غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
************************************************** **********

Attached Images
  

__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
-

 
عصمت's Avatar
عصمت
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 996
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-06-11), یاسر عمران مرزا (06-06-11), حسن قادری (12-07-11), غلام خان (19-07-11)
پرانا 06-06-11, 10:20 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان معلومات کا سورس کیا ہے؟ یا یہ آپکا اپنا تبصرہ ہے؟
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
سام (07-06-11)
پرانا 07-06-11, 10:26 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

آپ نے جس شہ سرخی کا ريفرنس ديا ہے اس کا متعلقہ نيوز رپورٹ سے کوئ تعلق نہيں بنتا۔ پاکستان ميں ايسے کوئ امريکی ڈيتھ سکواڈ موجود نہيں ہيں جو تشدد کو فروغ دينے پر مامور ہوں۔ ميں چاہوں گا کہ آپ نيويارک ثائم کی رپورٹ کا مطالعہ کريں اور پھر خود فيصلہ کريں کہ کيا اس کی بنياد پر يہ شہ سرخی لگانا جائز ہے جس کا حوالہ آپ نے پوسٹ کيا ہے۔

ريکارڈ کی درستگی کے لیے يہ واضح کر دوں کہ جس نيوز رپورٹ کا آپ نے حوالہ ديا ہے وہ دراصل پينٹاگن کے ايک آفيسر مائيکل فرلانگ پر لگاۓ جانے والے الزامات اور اس سے متعلقہ تفتيش کے بارے ميں ہے جس نے مبينہ طور پر طے شدہ معاہدے اور قانون کی حدود سے بالا کام کيا تھا۔ يہ نشاندہی بھی کر دوں کہ شہ سرخی سے پيدا ہونے والے غلط عمومی تاثر کے برعکس جس آفيسر کے خلاف تفتيشی عمل جاری ہے وہ صرف دہشت گردی سے متعلق گروہوں کے حوالے سے معلومات اور اينٹيلی جينس حاصل کرنے پر مامور تھا۔

يہ نقطہ نظر کہ پاکستان ميں تشدد کے حاليہ واقعات کا کوئ بھی تعلق مائيکل فرلانگ سے متعلقہ کيس سے ہے، اس ليے بھی غير منطقی اور مضحکہ خيز ہے کيونکہ امريکی دفاعی ادارے کے انسپکٹر جرنل اور سی – آئ – اے کے اعلی عہديداروں سے حاصل شدہ رپورٹس، شکايات اور تفتيش کی روشنی ميں يہ پروگرام گزشتہ برس ختم کر ديا گيا تھا۔ امريکی وزير دفاع رابرٹس گيٹس نے بھی اس بات کا باضابطہ اعلان کيا تھا کہ پينٹاگن امريکی دفاعی ادارے کی معلومات کی حصولی کے حوالے سے پروگرامز کی افاديت کے ضمن ميں تفتيش کرے گي۔

ميں نے يہ موقف پہلے بھی واضح کيا ہے کہ ہم کبھی بھی يہ دعوی نہيں کرتے کہ امريکی سول اور فوجی انتظاميہ عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ کسی بھی نظام ميں خرابی يا کمی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ليکن بنيادی بات يہ ہے کہ مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے احتساب کا ايک مربوط اور موثر نظام موجود ہے جو اس بات کو يقينی بناتا ہے کہ ان افراد کے خلاف کاروائ کی جاۓ جو قانون کی حد کو توڑتے ہيں اور طے شدہ قواعد وضوابط سے بالاتر ہو کر کسی کاروائ کا حصہ بنتے ہیں۔ پينٹاگن کے ايک آفيسر سے متعلق جس رپورٹ کا حوالہ ديا گيا ہے وہ احتساب پر مبنی ايک شفاف اور واضح طريقہ کار اور نظام کی آئينہ دار ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (15-07-11), مرزا عامر (06-07-11), حیدر (25-06-11), عبدالقدوس (12-07-11), عصمت (07-06-11), غلام خان (19-07-11)
پرانا 07-06-11, 10:45 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ہم کبھی بھی يہ دعوی نہيں کرتے کہ امريکی سول اور فوجی انتظاميہ عقل کل ہيں
لیکن کئی مرتبہ یہ ثابت ضرور ہوا کے یہ گدھے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (19-07-11), مرزا عامر (12-07-11), احمد نذیر (24-06-11), حیدر (25-06-11), رضی (26-06-11), عبدالقدوس (12-07-11), عبداللہ آدم (26-06-11), غلام خان (19-07-11)
پرانا 07-06-11, 11:12 PM   #5
Senior Member
 
عصمت's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
کمائي: 7,815
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
عصمت کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عصمت کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
آپ نے جس شہ سرخی کا ريفرنس ديا ہے اس کا متعلقہ نيوز رپورٹ سے کوئ تعلق نہيں بنتا۔ پاکستان ميں ايسے کوئ امريکی ڈيتھ سکواڈ موجود نہيں ہيں جو تشدد کو فروغ دينے پر مامور ہوں۔ ميں چاہوں گا کہ آپ نيويارک ثائم کی رپورٹ کا مطالعہ کريں اور پھر خود فيصلہ کريں کہ کيا اس کی بنياد پر يہ شہ سرخی لگانا جائز ہے جس کا حوالہ آپ نے پوسٹ کيا ہے۔

ريکارڈ کی درستگی کے لیے يہ واضح کر دوں کہ جس نيوز رپورٹ کا آپ نے حوالہ ديا ہے وہ دراصل پينٹاگن کے ايک آفيسر مائيکل فرلانگ پر لگاۓ جانے والے الزامات اور اس سے متعلقہ تفتيش کے بارے ميں ہے جس نے مبينہ طور پر طے شدہ معاہدے اور قانون کی حدود سے بالا کام کيا تھا۔ يہ نشاندہی بھی کر دوں کہ شہ سرخی سے پيدا ہونے والے غلط عمومی تاثر کے برعکس جس آفيسر کے خلاف تفتيشی عمل جاری ہے وہ صرف دہشت گردی سے متعلق گروہوں کے حوالے سے معلومات اور اينٹيلی جينس حاصل کرنے پر مامور تھا۔

يہ نقطہ نظر کہ پاکستان ميں تشدد کے حاليہ واقعات کا کوئ بھی تعلق مائيکل فرلانگ سے متعلقہ کيس سے ہے، اس ليے بھی غير منطقی اور مضحکہ خيز ہے کيونکہ امريکی دفاعی ادارے کے انسپکٹر جرنل اور سی – آئ – اے کے اعلی عہديداروں سے حاصل شدہ رپورٹس، شکايات اور تفتيش کی روشنی ميں يہ پروگرام گزشتہ برس ختم کر ديا گيا تھا۔ امريکی وزير دفاع رابرٹس گيٹس نے بھی اس بات کا باضابطہ اعلان کيا تھا کہ پينٹاگن امريکی دفاعی ادارے کی معلومات کی حصولی کے حوالے سے پروگرامز کی افاديت کے ضمن ميں تفتيش کرے گي۔

ميں نے يہ موقف پہلے بھی واضح کيا ہے کہ ہم کبھی بھی يہ دعوی نہيں کرتے کہ امريکی سول اور فوجی انتظاميہ عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ کسی بھی نظام ميں خرابی يا کمی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ليکن بنيادی بات يہ ہے کہ مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے احتساب کا ايک مربوط اور موثر نظام موجود ہے جو اس بات کو يقينی بناتا ہے کہ ان افراد کے خلاف کاروائ کی جاۓ جو قانون کی حد کو توڑتے ہيں اور طے شدہ قواعد وضوابط سے بالاتر ہو کر کسی کاروائ کا حصہ بنتے ہیں۔ پينٹاگن کے ايک آفيسر سے متعلق جس رپورٹ کا حوالہ ديا گيا ہے وہ احتساب پر مبنی ايک شفاف اور واضح طريقہ کار اور نظام کی آئينہ دار ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
آ پ کی باتو ں سے ظاہر ہوتا ہے آپ یہود و نصاری کی بولی بولتے ہیں
شاید آپکو یہ معلوم ہو گامسلمانوں نے یہود نصاریٰ کو جنگوں میں ان کی خوب درگت بنائی ہے
بار بار انکو ذلیل کیا تھا
یہود و نصاری نے مل بیٹھ کے ایک حل نکالا تھا
پالیسی اور اس کو کامیاب کر نا ہر حال میں بے ایمانی مکاری سے
50سال 100سال پرانی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔عقل سے مکاری سے بے ایمانی سے
وہ کچھ بھی نہیں ہم مسلمان کمزور ہو گئے ہیں ہمارا ایمان کمزور ہوگیا (خودی غرضی لالچ بے حیائی )
جب ان کی پالیسی واضع ہو جاتی ہے تووہ اس کو کوئی نام دے دیتے ہیں ۔
آپ جو بھی کہو برادر بلیک واٹر اس طر ح کی اور ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں یہاں
مساجد بنوانے کےلئے آئی ہوئی ہیں یہاں ان کا یہی تو کام ہے جو کب کی کر رہی ہیں
وہ پہلی بھی موجود تھی پاکستا ن میں اب با ضابطہ طور پر ہیں وہ کل بھی دہشت گرد تھی آج بھی وہی کام کر رہی ہیں
ان کا کام قتل کرنا دھمکانہ۔ فتنہ پھلانہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا کمزور کو طاقت دے کر دہشت گرد ی کرانا۔
حکومت سے غلط لوگوں کا انتخاب کرنا اور گندہ پھیلانہ اس طرح کے ہزاروں کام جو وہ کرتے ہیں
ڈرون حملوں میں یہی ایجنسیاں کارفرما ہیں ۔قتل کر کے معافی کا ٹوپی ڈرامہ کرنا معصوم مسلمانوں کا خون پہ خون کرتے جانا ان کے غلیظ مقاصد ہیں
محترم سچائی کو جتنا چھپاو نہیں چھپا سکتے حقائق سر چڑھ کے بولیں گے آپ کچھ بھی کرلو
**************************************************

Last edited by عصمت; 07-06-11 at 11:19 PM.
عصمت آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (25-06-11), فیصل ناصر (07-06-11), محمدمبشرعلی (07-06-11), مرزا عامر (12-07-11), حسن قادری (12-07-11), رضی (26-06-11)
پرانا 24-06-11, 12:34 AM   #6
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 24
کمائي: 692
شکریہ: 55
15 مراسلہ میں 36 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فارم دا پہلا حصّہ تے اس وچ وی امریکا، امریکا ہوتی ہے۔ یار، چھڈو امریکا ، زمانے میں ہور وی غم ہیں۔ اگے کھنڈ دے پیسے نہیں ہیں۔ چاہ پین نوں ترس گئے ہیں۔ اگے ان مردود دہشت گردوں نے کم نقصان کیا ہے، ساری جگہ غربت ہی غربت ہے۔ یار، لوکاں کول پانی نہیں پین نوں، اے وی امریکا دا
کملا جوگی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کملا جوگی کا شکریہ ادا کیا
iqbal jehangir (06-07-11), عبدالقدوس (12-07-11)
پرانا 24-06-11, 11:44 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جنا اےامریکہ دا چیزا لیندے نے انا طالبان دا لیون تے دہشت گردی مک جاوے کی خیال اے جوگی جی۔
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-06-11, 02:00 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دہشت گردی ختم کرنے کے لیے نسخہ کیمیاء ۔۔۔۔۔ منجانب جناب کلمہ حق صاحب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کلمہ حق مراسلہ دیکھیں
جنا اےامریکہ دا چیزا لیندے نے انا طالبان دا لیون تے دہشت گردی مک جاوے کی خیال اے جوگی جی۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (12-07-11)
پرانا 05-07-11, 10:44 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عصمت مراسلہ دیکھیں
آ پ کی باتو ں سے ظاہر ہوتا ہے آپ یہود و نصاری کی بولی بولتے ہیں
شاید آپکو یہ معلوم ہو گامسلمانوں نے یہود نصاریٰ کو جنگوں میں ان کی خوب درگت بنائی ہے
بار بار انکو ذلیل کیا تھا
یہود و نصاری نے مل بیٹھ کے ایک حل نکالا تھا
پالیسی اور اس کو کامیاب کر نا ہر حال میں بے ایمانی مکاری سے
50سال 100سال پرانی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔عقل سے مکاری سے بے ایمانی سے
وہ کچھ بھی نہیں ہم مسلمان کمزور ہو گئے ہیں ہمارا ایمان کمزور ہوگیا (خودی غرضی لالچ بے حیائی )
جب ان کی پالیسی واضع ہو جاتی ہے تووہ اس کو کوئی نام دے دیتے ہیں ۔
آپ جو بھی کہو برادر بلیک واٹر اس طر ح کی اور ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں یہاں
مساجد بنوانے کےلئے آئی ہوئی ہیں یہاں ان کا یہی تو کام ہے جو کب کی کر رہی ہیں
وہ پہلی بھی موجود تھی پاکستا ن میں اب با ضابطہ طور پر ہیں وہ کل بھی دہشت گرد تھی آج بھی وہی کام کر رہی ہیں
ان کا کام قتل کرنا دھمکانہ۔ فتنہ پھلانہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا کمزور کو طاقت دے کر دہشت گرد ی کرانا۔
حکومت سے غلط لوگوں کا انتخاب کرنا اور گندہ پھیلانہ اس طرح کے ہزاروں کام جو وہ کرتے ہیں
ڈرون حملوں میں یہی ایجنسیاں کارفرما ہیں ۔قتل کر کے معافی کا ٹوپی ڈرامہ کرنا معصوم مسلمانوں کا خون پہ خون کرتے جانا ان کے غلیظ مقاصد ہیں
محترم سچائی کو جتنا چھپاو نہیں چھپا سکتے حقائق سر چڑھ کے بولیں گے آپ کچھ بھی کرلو
**************************************************

اس حقیقت سے کوئ انکار نہيں ہے کہ ہم ان بے رحم مجرموں کا تعاقب پوری استقامت اور تندہی سے کر رہے ہيں جو دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر انھيں قتل کر رہے ہيں۔ يہ ہمارا واضح کردہ ايجنڈا اور ہدف ہے۔ ليکن اس کاوش ميں ہم تنہا نہیں ہيں۔ ہميں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی مکمل حمايت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی تائيد اور تعاون بھی حاصل ہے۔ اس تناظر ميں آپ کا يہ دعوی کہ ہم پاکستان میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہيں، اس ليے بھی درست نہيں ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر سيکورٹی کے امور کے لیے کلی طور پر خودمختار ہے۔ ہم پاکستان کی حکومت کی درخواست پر ہی فوجی امداد، لاجسٹک سپورٹ اور وسائل کی شراکت داری کے صورت ميں تعاون اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ميں نے متعدد بار يہ واضح کيا ہے کہ پاکستان کے عام شہری ہمارا ہدف ہرگز نہيں ہیں۔ بدقسمتی سے يہ القائدہ اور اس سے منسلک تنظیموں کا خود بيان کردہ نصب العين ہے۔ خطے میں ہماری کاروائ ان عناصر کے خلاف ہے جو بچوں کو خود کش حملہ آور بنا کر معصوم شہريوں کا قتل عام کر رہے ہيں۔ لیکن ہماری کوششيں پاکستان کی حکومت، سول اور فوجی انتظاميہ کی مرضی کے بغير ہرگز نہيں ہیں۔

ميں پاکستان کے فورمز پر شدت کے ساتھ پيش کيے جانے والے اس غلط تاثر اور غیر متوازن دليل سے واقف ہوں جس کے تحت يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا مسلۂ نہيں ہے اور پاکستانی شہری اپنی سرزمين پر محض امريکہ کی جنگ لڑ رہے ہيں، جس کا مقامی آبادی کو کوئ فائدہ نہيں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ہميں اس حقيقت کو ماننا پڑے گا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت نہ صرف يہ کہ پاکستانی معاشرے کو گہنا رہی ہے بلکہ اس کی جڑيں اب قباۂلی علاقوں سے نکل کر شہروں تک پہنچ چکی ہيں۔

القائدہ کی قيادت کے بيانات اور عوامی موقف کے برعکس، امريکہ اور اس کے شہری دہشت گردی کی اس مہم کے واحد ہدف ہرگز نہيں ہیں۔ حقائق اس سے بالکل مختلف ہيں۔

پاکستان ميں وہ سينکڑوں خود کش حملے جن کی بدولت معاشرے کی بنياديں ہل کر رہ گئ ہيں، ان میں کتنے امريکی شہری ہلاک ہوۓ ہيں؟ اسی طرح افغانستان ميں دانستہ اور بلاتفريق بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد صرف امريکہ ہی کے خلاف حالت جنگ ميں نہيں ہیں۔

ايک متوازن اور تعميری تجزيے کے لیے ضروری ہے آپ امريکہ کی دہشت گردی کے خلاف ايک ايسی کوشش کے حوالے سے تنقيد پر ہی بضد نہ رہيں جس ميں حکومت پاکستان سميت اقوام متحدہ کے ممبران کی اکثريت شامل ہے بلکہ دہشت گردی کے اس عفريت کا قلع قمع کرنے کی ضرورت کو بھی ملحوظ رکھيں جس سے تمام سياسی اور مذہبی افکار سے منسلک پوری دنيا کے پرامن شہريوں کے ليے يکساں خطرہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
پرانا 05-07-11, 11:03 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس حقیقت سے کوئ انکار نہيں ہے کہ ہم ان بے رحم مجرموں کا تعاقب پوری استقامت اور تندہی سے کر رہے ہيں جو دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر انھيں قتل کر رہے ہيں۔ يہ ہمارا واضح کردہ ايجنڈا اور ہدف ہے۔
پھر مذاکرات کی جانب کیوں گئے؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-07-11, 12:46 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
پھر مذاکرات کی جانب کیوں گئے؟
امريکی حکومت کی جانب سے افغانستان ميں متحرک مختلف گروہوں کو سياسی دھارے ميں آنے کی ترغيب دينا اور اس عمل کی حوصلہ افزائ کو ہماری شکست سے تعبیر دینا درست نہيں ہے۔ حقيقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ يہ افغانستان کے بنيادی حکومتی ڈھانچے کو فعال کرنے اور مقامی افغان سيکورٹی فورسز کی اہليت اور صلاحيت ميں بہتری کی ہماری ديرينہ کاوشوں کی غمازی کرتا ہے تا کہ دہشت گردی کے جس عفريت نے سارے خطے کو متاثر کيا ہے اس پر قابو پانے کے لیے افغان حکومت اور اس کے ادارے اپنے موثر کردار خود ادا کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول اور خطے میں ديرپا امن کا قيام ہی وہ اہداف ہيں جو خطے سے امريکی اور نيٹو افواج کی واپسی کی ضمانت فراہم کر سکتے ہيں – ليکن يہ نتائج شکست سے نہيں بلکہ ايک مستحکم پوزيشن کے نتيجے ميں ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس تناظر ميں افغانستان کے سياسی پليٹ فورم کو وسيع کرنے اور زيادہ سے زيادہ فريقين کو مذاکرات کی ميز پر لانے کے ضمن ميں ہماری حمايت، ہماری پاليسی ميں تبديلی کی آئينہ دار نہيں ہے۔ بلکہ يہ ہماری کامياب پاليسی کا اگلا مرحلہ ہے جس کا مقصد سياسی عمل سے ان دہشت گردوں اور ان کی خونی سوچ کو تنہا کرنا ہے تا کہ سياسی فريقين اور افغان عوام کے حقيقی نمايندے اس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ايک مقامی حل کی جانب گامزن ہوں جو صرف افغانستان ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالمی برادری کے لیے بدستور ايک مشترکہ خطرہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-07-11), کنعان (14-07-11), عبدالقدوس (12-07-11)
پرانا 12-07-11, 10:50 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
امريکی حکومت کی جانب سے افغانستان ميں متحرک مختلف گروہوں کو سياسی دھارے ميں آنے کی ترغيب دينا اور اس عمل کی حوصلہ افزائ کو ہماری شکست سے تعبیر دینا درست نہيں ہے۔
فواد صاحب
مبصرین اسے شکست سے تعبیر نہیں دے رہے بلکہ اسے بعینہ شکست کہہ رہے ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-07-11, 10:53 AM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فواد صاحب
امریکی حکومت کا موقف معلوم کرنا ہے
افغانستان میں امریکہ اپنے 40 سے زائد اتحادی ممالک کے ساتھ قابض ہے۔ اور وہ خطے میں امن بھی چاہتا ہے۔ اور اس کا یہ "دعویٰ بھی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے در اندازی ہوتی ہے۔۔ اور اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔۔
اگر یہ سب سچ ہے تو پھر ۔۔۔۔ افغانستان کی طرف سے تین بار سینکڑوں کی تعداد میں جو در انداز پاکستانی علاقوں میں آئے اور عوام اور سیکیورٹی اداروں کو نقصان پہنچایا ۔۔۔ اس حوالے سے امریکہ نے روک تھام کی کوشش کیوں نہیں کی؟؟ ان پر ڈرون کیوں نہیں گرائے؟
کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ نہ صرف امریکی ایماء پر بلکہ اس کی نگرانی میں ہو رہا ہے؟؟/
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
سیفی خان (12-07-11), شمشاد احمد (12-07-11), غلام خان (19-07-11)
پرانا 12-07-11, 11:38 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طالبان سے مزاکرات کرنا امریکا کی مجبوری ہے۔ پیر جی۔ کیونکہ طالبان بلاناغہ امریکا کو امیکی سورماؤں کی لاشوں کا تحفہ بھیجتے ہیں۔امریکا یہ تحفے وصول کر کر کر؛رررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررررررررررررررر ررررررررررررر کے اتنا تھک گیا ہے کہ اب ان دہشتگردوں سے مزاکرات اور جان بخشی کی بیھک مانگ رہا ہے جنہیں کل تک انسان سمجھنے کےلیے بھی تیار نہ تھا۔اسے کہتے ہیں ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لینا ۔۔۔ واہ رے تیری پھرتیاں ۔۔۔۔
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (12-07-11), سیفی خان (12-07-11), غلام خان (19-07-11)
پرانا 12-07-11, 02:48 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
امريکی حکومت کی جانب سے افغانستان ميں متحرک مختلف گروہوں کو سياسی دھارے ميں آنے کی ترغيب دينا اور اس عمل کی حوصلہ افزائ کو ہماری شکست سے تعبیر دینا درست نہيں ہے۔ حقيقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ يہ افغانستان کے بنيادی حکومتی ڈھانچے کو فعال کرنے اور مقامی افغان سيکورٹی فورسز کی اہليت اور صلاحيت ميں بہتری کی ہماری ديرينہ کاوشوں کی غمازی کرتا ہے تا کہ دہشت گردی کے جس عفريت نے سارے خطے کو متاثر کيا ہے اس پر قابو پانے کے لیے افغان حکومت اور اس کے ادارے اپنے موثر کردار خود ادا کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول اور خطے میں ديرپا امن کا قيام ہی وہ اہداف ہيں جو خطے سے امريکی اور نيٹو افواج کی واپسی کی ضمانت فراہم کر سکتے ہيں
فواد صاحب دل كرتاہے آپ كو گلے لگا لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہيں پھر ڈرتا ہوں كہيں فاروق صاحب مجھے ہم جنس پرست قرار نہ دے ديں۔۔۔ جي صرف مجھے۔۔ آپ كو نہيں كيوں كہ آپ امريكي ہيں۔۔۔ جس طرح كوئي امريكي دہشت گرد نہيں ہو سكتا اسي طرح كوئي امريكي ہم جنس پرست بھي نہيں ہو سكتا۔ ۔۔۔‌خير مٹي پاؤ

يہ بتائيں يہ جو سرخ رنگ كي عبارت ميں‌كلمات عاليہ آپ نے ارشاد فرمائے ہيں۔۔۔ واقعي مقاصد تو نيك ہيں۔۔۔۔‌ليكن پورے كيسے ہوں‌گے۔۔۔ صاحب بہادر امريكہ خود اس كے 40 سے زائد ممالك كا اتحاد ان كي طاقت فوجي اسلحہ بھي جب يہ مقاصد حاصل نہ كر پايا تو مذاكرات كے بعد جب آپ افغانستان كے وسيع تر مفاد ميں اور جمہوريت كے فروغ كي خاطر افغانستان سے چلے جائيں‌گے تو افغانستان كے لولے لنگڑے سيكورٹي كے ادارے وہ مقاصد كيسے حاصل كر پائيں گے جو امريكہ اور اس كے 40 ممالك كي اتحادي افواج تك حاصل نہ كر پائے۔۔۔۔

كہيں ايسا تو نہيں كہ آپ پھر افغانستان كو اسي حال پر چھوڑنے‌كا پروگرام بنا چكے ہيں جس حال ميں روس كے چلے جانے كے بعد چھوڑا تھا۔

توسے گورے ہو۔۔۔‌جو مرضي ہے كر لو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے تو آپ كي بات مان ہي ليني ہے۔۔۔۔‌كيوں كہ ہم طالبان نہيں ہيں۔۔۔‌پاكستاني ہيں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (12-07-11), احمد نذیر (12-07-11), سیفی خان (12-07-11), غلام خان (19-07-11)
جواب

Tags
فوجی, ہے۔, کوئی, کنٹریکٹرز, گئی, پاکستان, قائم, نئی, موجود, مقصد, ملکی, ملازم, مطابق, معلومات, آئی, انکشاف, امریکہ, اسے, استعمال, تلاش, حوالے, خفیہ, خدشہ, سابق, شاید


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger