بعد از ظلم واویلا
تو آپ پڑھ اور سن ہی رہے ہوں گے کیا آپ نے اس پر غور کرنے کی بھی زحمت برداشت کی ہے کہ سپریم کورٹ کیطرف سے سیالکوٹ میں ڈھائے گئے ظلم کا نوٹس لینے سے پہلے ان سب اہل سیاست و حکمرانہ میں سے کسی ایک نے بھی اس ظلم کا نوٹس لینے کی زحمت گوارا کیوں نہیں کی تھی؟
میاں نواز شریف نے مظلوم والدین سے تعزیت کے سفر کی زحمت بھی اس نوٹس کے بعد ہی گوارا کی تھی اور ان مظلوموں کے والدین کو اور قوم کو بتایا تھا کہ
" پولیس اہلکار اور اس واقعہ میں شامل سب لوگ ان بھائیوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور وہ خود پارلیمنٹ میں دوسری بڑی نمائندہ جماعت کے قائد ہیں مگر ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی سیالکوٹ تک کے سفر کی اور اس ظلم کا نوٹس لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی تھی اس سے پہلے ؟
انکی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف اس شہر کے عوام کے نمائندے ہیں انہوں نے حق نمائندگی کیوں ادا نہیں کیا تھا سپریم کورٹ کیطرف سے نوٹس لینے سے پہلے؟
کیا انکی کسی بھی حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ پارٹی کے قائد کو اور انکے بھائی وزیر اعلی پنجاب کو اس ظلم کے بارے میں بتاتے؟
کوئی انصاف پسندانہ بیان ہی جاری فرمانے کی زحمت گوارا کر لیتے خواجہ صفدر کے فرزند عرض مند۔
رانا ثناء اللہ نے انکشاف فرمایا ہے کہ
" یہ کلچر ڈیڑھ سال پہلے آیا تھا گوجرانوالہ میں ڈاکوئوں کو مار کر نعشیں سڑکوں پر گھمائی گئی تھی مگر کسی نے آواز نہ اٹھائی"چلو مان لیا کسی اور نے تو کوئی آواز نہیں اٹھائ مگر آپ نے کیا کیا تھا؟
آپ اس صوبہ کے عدل و انصاف کے وزیر ہیں قانون بنانے اور اس پر عملدارآمد کرانے کے وزیر یوتے ہوئے بھی آپ ڈیڑھ سال سے اس کلچر کو فروغ پاتے دیکھ رہے تھے آپ نے اسکا کوئی نوٹس لینے کی زحمت گوارا کیوں نہیں فرمائی تھی؟
کیا یہ آپ کی قانونی اور وزارتی زمہ داری نہیں تھی؟
پنجاب کے گورنر کی ناک کو تو انکی اعلی اخلاقی قدروں کی کوئی مکھی بھی چوم لے تو آپ اسکا فوری نوٹس لینا اپنی اخلاقی اور وزارتی زمہ داری سمجھ کر فورا ادا کر دیتے ہیں وہ زمہ داری
اگر گوجرانوالہ میں ڈیڑھ سال سے یہ کلچر پھیل رہا تھا تو آپ نے بھی اس کو دیکھنے سے اور اسکے بارے میں انصاف و عدل کی زبان کھولنے سے کیونپرہیز کا دامن تھامنے رکھا تھا؟
کیا تھی وہ مجبوری جس نے آپ کی زبان تک کو تالا لگائے رکھاتھا؟ جنگ پلازہ؟مگر وہ بھی تو کب سے اپنے بالخیر خاتمہ کو پہنچ چکی ہے تو کہاں ہوتے تھے رانا نگ پلازہ جی آپ؟
اس خاموشی اور اپنا وہ فرض ادا نہ کرنے کی بھی تو سزا تجویز ہونا چاہیئے جس فرض کا آپ اس صوبہ کے غریب عوام سے غریبانہ معاوضہ وصول کرتے ہیں کسی اخالقی یا قانونی ضابطہ میں اسکے بارے میں پچھ پرتیت تو شامل ہو گی ہی
اور وہ این آر او شاہی ہے ہر قسم کے داخلہ امور کے وزیر ہیں وہی جب کے قبضہ قدرت میں ملک کی درجنوں اطلاعاتی ایجنسییاں ہیں انہیں بھی انکی کسی ایجنسی نے سپریم کورتکے نوٹس لینے سے پہلے اس ظلم کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا؟ مان لیں اتنی ناہل ایجنسیاں ؟انکے ہال مال بروک فیم سربراہ تو خیر اہل ہی ہوں گے انکی اہلیت کس کے قبضہ حاکمانہ میں تھی؟
وہ فرما رہے تھے کہ قاتلوں کو اسی جگہ پھانسی دی جائے گی ہم ان سے یہ تو نہیں پوچھ سکتے کہ کیا اس طرح آپ اور آپ کے شاہ جی اپنی بے نظیر بی بی کے قاتلوں کو سزا دے چکے ہیں؟
لیکن یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ کہاں رہے تھے آپ اتنے دن؟
ایجنسیوں نے لازما آپ کو کچھ تو بتایا ہی ہو گا؟
اور وہ جو اس صوبہ کے گونر ہیں جن کے فرائض میں انہیں گونر بناتے بنوانے والوں نے حکومت پنجاب کی حکومت اور اعلی کارکردگی پر اپنی اعلی اخلاقی نگاہیں جمائے رکھنے کی زمہ داری لگائی ہوئی یے انہوں نے کس کے حکم پر ایسی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی؟
وہ فرماتے ہیں کہ "میں اس سانحہ پر پوری قوم کیطرف سے معافی مانگتا ہوں "
ان سے یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ اس غلام قوم کے آپ کیا ہوتے ہیں ؟
وردی شاہ کا پنجاب کا گونر بنایا اور بے دردی شاہ کا گونر ہائوس میں جمایا ہوا کوئی بندہ ساری قوم کیطرف سے معافی مانگے؟
کس حیثیت میں؟
معافی تو اسے اس پر مانگنا چاہیئے تھی کہ وہ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے جو لگانے والوں نے اس کے زمہ لگایا ہوا ہےحکومت پنجاب پر نگاہ ناز جمائے رکھنے کا فرض
لیکن کوئی کس سے کیا پوچھے اور کس سے کیا نہ پوچھے؟
کیا ثابت کیا ہے اس بعد از ظلم واویلے نے؟
یہی کہ حکمرانی و خدمت خانی کی تھیلی میں سب ایک ہی جیسے بھرے ہوئے ہیں؟ِ
کیا لٹکا دیں گے رحمان ملک اسی جگہ پر قاتلوں کو پھانسی پر؟
اندازہ کریں اپنی اور اپنی قوم کی حالت زار کا جس کے اتنے بلند وبالا قائدین اتنے با ہوش و باخبر ہیں
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
ہمارے اہل حکمرانی و سیاست خانی ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟
کہاں لے جانے کی صلاحتیوں کے مالک ہین وہ سب؟
ہم پاکستانی عوام ان سب کی ''اہلیت''کی کس کس شعبہ زندگی میں کیا کیا سز بھگت رہے ہیں
سوچیں تو ان سب کی ''اہلیت'' کے بارے میں جو بعد ازظلم کے زریعے بھی پوائینٹ سکورنگ کا کھیل ہی کھیل رہے ہیں بات وہی ہے کہ کسی قوم کےلئے اللہ کیطرف سے اس دنیا میں سب سے بڑی سزا نا اہلوں کو اس کا حاکم بنا دینا
بقییہ ایڈیٹ کیا جاتا ہے
بصد شکریہ روزنامہ نوائے وقت
تحریر: محترم رفیق ڈوگر صاحب
