|
ثقافتی دہشت گردی

09-08-11, 10:02 PM
کالم نگار،،،،عاصم حفیظ
ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کو عالمی سیاست میں اہم ترین مقام پر فائز کر دیا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی ، سیاسی یا اقتصادی طاقت کے میڈیا کو استعمال کرتی ہیں۔ اب فوجی طاقت کے زریعے کسی کو غلام بنانے کا رواج نہیں رہا بلکہ میڈیا کے زور اور مخصوص نظریات و روایات کی ترویج کے ذریعے ذہنوں کو غلام بنایا جاتا ہے۔ مغربی طاقتوں کو اس میدان میں کافی کامیابی ملتی رہی ہے اور سوویت یونین کے بعد اسلام کے ساتھ تہذیبوں کی جنگ کے لیے میڈیا اور ثقافتی حربوں کو ہی اہم ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی ، انٹرنیٹ، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ”نیوکالونینل ازم “ کا ایک نیا تصور فروغ پا رہا ہے۔ جس کی مثال گلوبل ویلج بنتی دنیا میں ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ مغربی طاقتیں چین ، جاپان اور عرب ممالک جیسے مضبوط معاشروں پر میڈیا کی طاقت سے ہی بھرپور انداز میں اثرانداز ہوئی ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بعض غیر ملکی طاقتوں کی سرمایہ کاری کی باتیں سامنے آ رہی ہیں ۔ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں کہ بعض غیر ملکی عناصر لالچ دیکر ملکی میڈیا کو خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اینکرز کو سفارت خانوں میں مدعو کرکے عیش و عشرت کا بندوبست کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز تو منظر عام پر بھی آ چکی ہیں ۔ بعض چینلز اور اخبارات صرف وہی پالیسی اختیار کرتے ہیں کہ جس کی ہدایت ان کے سرمایہ کاروں کی جانب سے دی جاتی ہے ۔ یہ سب واقعی افسوسناک اور ملکی سلامتی کے خلاف ہے ۔ غیر ملکی طاقتوں کا ملکی میڈیا میں اثر ورسوخ دن بدن بڑھ رہا ہے۔آج ہمیں ایک بھرپور قسم کی ثقافتی اور پروپیگنڈا یلغار کا سامنا ہے کہ جس نے ہمارے ملک کے ایک بڑے طبقے کے قلوب و اذہان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج جہاں ایک طرف اسلحہ و بارود کے ذریعے ملک کی بنیادوںکو ہلا یا جا رہا ہے ، قومی سلامتی اور خودمختاری ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، وہیں ہمیں اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ” ثقافتی دہشت گردی “ کا بھی سامنا ہے ۔ غیر ملکی طاقتیں ہمارے معاشرے میں موجود دین بیزار اور سیکولر قوتوں کی مدد سے ارض پاک کی نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ معاشرے کو بدلنے کی کوشش میں دینی اور مذہبی روایات کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں ۔ سابق صدر مشرف کے دور میں روشن خیالی کا لگایا گیا پودہ اب تن آور درخت بنتا جا رہا ہے ۔ کوئی امن کی آشا کے نام پر بھارتی ثقافت کا پرچار کرتا ہے ، بھارتی فلمیں سینماو ¿ں اور کیبل کی زینت بن چکی ہیں اور اسی کے اثرات ہندوانہ رسم و رواج کی ترویج اور ملکی و اسلامی تہذیب و ثقافت سے دوری کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں ۔حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چند مزید واقعات نے ہم پر مسلط کردہ تہذیبی جنگ اور اس ثقافتی دہشت گردی کو مزید واضح کر دیا ہے ۔ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع منعقد ہوا۔ امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ کے مطابق چھبیس جون کو امریکی سفیر نے ہم جنس پرست گروپوں کو سفارتخانے مدعو کیا تھا اور ان کو ان کے حقوق کی یقین دہانی کرائی تھی۔سفارتخانے کے بیان کے مطابق اس اجتماع میں تقریباً 75 افراد نے شرکت کی جن میں سفارتخانے کا عملہ، امریکی فوجی، غیر ملکی سفارتکار، پاکستان میں ایڈووکیسی تنظیموں اور ہم جنس پرستوں کے پاکستان چیپٹر کے رہنما شامل تھے۔ پاکستان کے مذہبی حلقوں نے اس حرکت کو ”ڈرون حملے“ کے مترادف قرار دیا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ امریکی دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ کی آڑ میں ہماری روایات ، ثقافت اور اسلامی شناخت تک کو مٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بے ہودہ اور فحش مغربی روایات کے خلاف مدافعت کو کم کر دیا جائے اور اس مقصد کے لئے این جی اوز کے ذریعے بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
اس سے پہلے کراچی میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے جسم فروش خواتین کی ایک ورکشاپ منعقد کی گئی ۔ ” خواتین کے حقوق“ کی آڑ میں منعقد اس قسم کی تقریبات کا واحد مقصد معاشرے میں فحاشی و عریانی کا فروغ ہوتا ہے ۔ جسم فروش خواتین کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ انہیں متحد ہو کر اپنے حقوق اور اس پیشے کو قانونی حیثیت دلانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے ۔ اس شعبے میں بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟سیدھی بات ہے کہ بھاری رقوم خرچ کرنیوالوں کی کوشش ہے کہ پاکستان میں یہ شعبہ مضبوط اور بہتر ہو۔ کتنی عجیب بات ہے کہ کروڑوں روپے کے یہ فنڈز ان خواتین کو باعزت روزگار دینے کے لئے نہیں خرچ کئے جا سکتے بلکہ اس قدر بھاری رقوم انہیں یہ سمجھانے کے لئے خرچ کی جاتی ہیں کہ وہ اپنے پیشے سے ضرور جڑی رہیں اور انہیں صرف ” محفوظ“ طریقے سمجھائے جاتے ہیں ۔ اس کانفرنس کے ذریعے جسم فروش خواتین کو باقاعدہ بھرتی بھی کیا گیا تاکہ وہ یہ ” پیغام“ دوسروں تک پہنچا سکیں ۔ یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے پراجیکٹ افسر ڈاکٹر صفدر کمال پاشا نے اس موقعے پر بتایا کہ ایک سروے کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں پچھتر ہزار خواتین سیکس ورکرز کام کررہی ہیں ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شعبے کو کس حد تک مضبوط بنا دیا گیا ہے۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ ماہ معروف سیاحتی مقام مری کے قریب نتھیا گلی میں ایک انوکھی ورکشاپ کا اہتمام ہوا۔ یہ ورکشاپ ہم جنس پرست، خواجہ سراءاور جسم فروش خواتین کو ” تربیت یافتہ “ بنانے کے لئے منعقد کی گئی ۔ ’بائٹس فار آل‘ نامی ایک این جی او کے زیرِ انتظام تربیتی ورکشاپ کا مقصد ان کو یہ سمجھانا تھا کہ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کے ذریعے وہ کس طرح اپنی کہانیاں دنیا تک پہنچا سکتی ہیں ۔ اس ورکشاپ میں عالمی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار پروگریسو کمیونیکشن‘ سے تعلق رکھنے والی ملائیشین ٹرینر اینجلا کوگا نے شرکاءکو ویڈیوز کے ذریعے اپنی کہانیاں اور ” پیغام“ دوسروں تک پہنچانے کی تربیت دی ۔اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ہیجڑوں، جسم فروشوں اور ہم جنس پرستوں کے لیے ایک بڑا اہم ذریعہ ہے۔ اس قسم کی ورکشاپس کا مقصد ان طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو خوداعتماد بنانا اور یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ” شب و روز“ سے پورے معاشرے کو آگاہ کرتے ہوئے ہرگز شرم محسوس نہ کریں۔ آپ تصور کریں کہ جب ایسی ویڈیوز انٹرنیٹ ، موبائل کلپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوں گی تو اس کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ان سرگرمیوں کے لئے بھاری فنڈز فراہم کرنے والوںکا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسا مواد عام ہو کہ جو اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال سکے ۔
ملک میں مہنگائی کی شکار خواتین کے لئے تو کوئی بھی مغربی ملک کچھ دینے کو تیار نہیں جبکہ خواجہ سراو ¿ں ، ہم جنس پرستوں اور جسم فروش خواتین کی فلاح و بہبود کے نام پر کروڑوں خرچ کئے جا رہے ہیں۔ اور وہ بھی ” خواتین کے حقوق“ کے نام پر ۔ گویا یہ تصور دیا جارہا ہے کہ حقوق صرف انہیں خواتین کے لئے ہو سکتے ہیں کہ جو جسم فروش ہوں یا پھر ہم جنس پرست ۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں دئیے جانیوالے ” ڈالرز“ کے بدلے ہمارے عقائد، نظام تعلیم ، معاشرتی روایات، دینی اقدار سمیت سب کچھ بدلنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاہور، کراچی ، اسلام آباد کے سفارت خانے اس حوالے سے سب سے زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں ۔ ملک کی طاقتور شخصیات، اینکر پرسنز کے لئے عیش و عشرت کا انتظام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کراچی میں امریکی سفارت خانے نے کچھ عرصہ قبل خصوصی طور پر پاکستانی بلاگرز کا اجتماع بھی منعقد کیا جس کی بھرپور تشہیر بھی کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں روایتی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے بھی کہیں زیادہ طاقتور بنتا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی اس بارے میں بھی کافی مستعد نظر آتے ہیں ۔ مصر، تیونس ، شام سمیت دیگر ممالک میں برپا ہونیوالی تحریکوں میں سب سے اہم کردار سوشل میڈیا نے ہی ادا کیا تھا۔ اس اہم شعبے کو ایک خاص سمت میں چلانے اور اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ کراچی میں ہونیوالی اس تقریب کے لئے بھاری رقوم کئے بغیر کسی مقصد کے تو فراہم نہیں کی گئی ہوں گی۔ ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں انٹر نیٹ پر حکومتی کنڑول نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے ۔ ایک امریکی ادارے کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس دیکھی جاتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ایس ایم ایس پاکستانی بھیجتے ہیں یعنی چین ، بھارت اور انڈونیشیا سے بھی زیادہ ۔
آج وقت کی ضرورت ہے حکومت، دینی و سماجی حلقے ، سیاسی جماعتیں ان مسائل کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر ان مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو یہ خاموش زہر جہاں ایک طرف ثقافتی و تہذیبی روایات کو پامال کرکے رکھ دے گا وہیں قومی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ یہ حقیت ہے کہ اخلاق سے عاری اور فحش عادات کا شکار قوم ملک کا دفاع نہیں کر سکتی ۔ اگر ہمیں اپنے ملک ، اپنی روایات اور تہذیب کو بچانا ہے تو اسلحہ و بارود کے ذریعے برپا کی جانیوالی شورش کے ساتھ ساتھ اس”ثقافتی دہشت گردی “ کے خاتمے لئے بھی کوشش کرنی چاہیے ۔
بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|