واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




جماعت اسلامی کی ریلی میں دہشت گردی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-05-10, 12:12 AM   #1
جماعت اسلامی کی ریلی میں دہشت گردی
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 02-05-10, 12:12 AM

قاضی حسین احمد

ہمارے سیاسی مخالفین اور بعض تجزیہ نگار اور کالم نویس جماعت اسلامی کو الزام دیتے تھے کہ اگر دھماکے کرنے والوں کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے تو آپ کے جلسے جلوسوں میں کیوں دھماکے نہیں ہوتے، آپ کے خلاف خود کش حملے کیوں نہیں ہوتے، آپ کے اجتماعات میں بم کیوں نہیں پھٹتے۔ بعض لوگوں کی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی کے جلسوں میں بھی بم پھٹیں اور یہ بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنیں ۔ چنانچہ 19/اپریل 2010ء کو قصہ خوانی بازار پشاور میں ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور پولیس کے ڈی ایس پی اور چند اہلکاروں کے ساتھ جماعت اسلامی پشاور کے ممتاز رہنما حاجی دوست محمد جنہیں پیار سے ہم حاجی گل کہتے تھے، اپنے چودہ کارکنوں سمیت شہید ہوگئے۔ شہداء کی کل تعداد 24تھی ۔ جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری اور قومی اسمبلی حلقہ نمبر1سے منتخب سابق ایم این اے شبیر احمد خان شدید زخمی ہوگئے ۔ قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر4سے سابق منتخب ایم این اے اور جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر صابر حسین اعوان بھی شدید زخمی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس نے بیان دیا ہے کہ خودکش حملے کا اصل نشانہ پولیس تھی اور جماعت اسلامی کے لوگ اتفاقاً اس کی زد میں آگئے ہیں۔ اگر پولیس افسران دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کا اصل ہدف ہیں تو ایسے پولیس افسران کو عوامی جلسوں کی حفاظت کے لئے کیوں بھیجا جاتاہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف یہ ریلی اختتام تک پہنچ گئی تھی، لوگ منتشر ہو رہے تھے کچھ پولیس افسران جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو کامیاب اور پرامن ریلی پر مبارکباد دینے کے لئے ان کے قریب آکر ہاتھ ملا رہے تھے کہ ایک زبردست دھماکے کے ساتھ فوری طور پر حاجی گل اور پولیس کے ڈی ایس پی گلفت حسین موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔ شبیر احمد خان نے مجھے بتایا کہ جماعت اسلامی کا ایک کارکن مجھ سے ہاتھ ملا کر خواہش کا اظہار کررہا تھا کہ میں ان کے ساتھ ان کے علاقے میں دو افراد کی فاتحہ خوانی کے لئے چلوں کہ اس دوران ایک زور دار دھماکے کے ساتھ میں ہوا میں اچھل کر گرپڑا ۔میرے ساتھ ہاتھ ملانے والا کارکن موقع پر شہید ہوگیا اور شاید وہ میرے اور بم کے ٹکڑوں کے درمیان حائل ہوگیا اور میں ان کی قربانی کی وجہ سے موت سے بچ گیا۔شہادت کا رتبہ بلند حاصل کرنے والے حاجی گل شہید کے بارے میں ان کے سگے بھائیوں اور ان کے اہل خانہ سمیت ان کے تمام جاننے والوں کی گواہی ہے کہ شہادت ان کی آرزو تھی۔ 1977ء میں ہری پور جیل میں جب میں صوبہ خیبرپختونخوا کی جماعت کا امیر تھا تو حاجی گل 17سال کا ایک خوبصورت مضبوط اور توانا جسم کا لمبا تڑنگا سرخ و سفید نوجوان تھا اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے ساتھ جیل میں آگیاتھا۔ اپنی جسمانی طاقت کی وجہ سے جیل میں شہرت رکھتاتھااور جیل میں کبڈی میں اس نے اپنا سکہ جمایا تھا لیکن ہر طرح کی لڑائی جھگڑے سے مکمل اجتناب کرنے والا اور جیل کے تمام ساتھیوں کے درمیان صلح صفائی کرنے والا صلح کل اور شرافت کا پیکر ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ لئے ہوئے پہلوان تھا۔

جماعت اسلامی کے ہر جلسے اور ہر تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہا ۔ لوہے کا کاروبار کرنے والے چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹاتھااور جسمانی طاقت کے ساتھ دل کا بھی طاقتور تھااور سخاوت میں اپنی مثال آپ تھا۔ کئی تعلیمی اداروں اور کئی مدارس جن میں بچیوں کے بھی مدارس شامل تھے کا بانی تھا۔ کئی مساجد کا سرپرست تھا ، ہر مکتب فکر کے علماء کا خادم تھا اور علمائے کرام کے درمیان جوڑ پیدا کرنے والاتھا۔ میں جب بھی نظر بند ہوا یا بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہواتو حاجی گل میری نظر بندی کے مقام یا اسپتال میں میرے کمرے کے باہر لنگر جاری کردیتے تھے۔ ابھی حال ہی میں جب شدید بیماری کی وجہ سے مجھے پشاور میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھاگیاتو بیمارپرسی کے لئے ہر مکتب فکر اور ہر سیاسی جہت کے لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ میری اہلیہ نے اپنے بیٹے آصف لقمان قاضی کو بیمار پرسی کے لیے آنے والے لوگوں کی تواضع کا انتظام کرنے کے لئے کہاتو بیٹے نے جواب دیا کہ یہ اہتمام حاجی گل نے سنبھال لیا ہے اور وہ کسی اور کو اس میں شریک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اپنی شہادت سے دس دن پہلے ان کی بیٹی کی رخصتی تھی ۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو شرکت کی دعوت تھی اور اسٹیج سجا ہواتھا ۔ میرے ساتھ اسٹیج پر ہر مکتب فکر کے علمائے کرام بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی حاجی بخت محمد مجھے ملنے کے لئے اسٹیج پر آئے تو میں نے انہیں کہاکہ حاجی گل نے ایک اچھی رسم کی بنیادرکھ دی ہے اور بیٹی کی رخصتی کو دعوت دین کا ذریعہ بنالیا ہے ۔ آپ اپنے قبیلے (مہمندقبیلہ) کے لوگوں سے کہیں کہ اس اچھی رسم کی پیروی کریں ۔ حاجی بخت محمد نے کہاکہ لوگ تو کہتے ہیں کہ حاجی گل نے بیٹی کی رخصتی کو بھی جلسہ بنادیاہے۔لوگ چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ حملہ کرنے والے کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں۔ اپنے آپ کو قربان کرنے والے کس کے کہنے پر اتنی بڑی قربانی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

وطن عزیز میں فساد کی جڑ امریکہ کے ساتھ ہمارا اتحاد ہے۔ ہماری حکومت اور ہماری افواج کا یہ کہناکہ ہم امریکہ کے صف اول کے حلیف ہیں خود کش حملہ آور تیار کرنے والوں کو یہ دلیل فراہم کرتاہے کہ پاکستانی افواج اور پولیس سے لڑنا امریکہ کے ساتھ جنگ کا حصہ ہے ۔ ہمارے عوام بھی امریکہ کے ساتھ اتحاد کے مخالف ہیں اور امریکہ کے بارے میں عوامی رائے یہ ہے کہ امریکہ کی جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے اور امریکہ خود دہشت گردی اور فساد کی جڑ ہے ۔ جب تک ہماری حکومت اس پالیسی پر قائم ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے میں وہ امریکہ ،نیٹو اور ان کے دوسرے دوست ممالک کی حلیف ہے اور اس کے لئے قربانی دے رہی ہے ہمارے ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا صدر،وزیراعظم ،وزیرخارجہ یا کوئی بھی دوسرا اہم شخص جب کسی بھی دوسرے ملک کی اہم شخصیت کے ساتھ مشترکہ بیان دیتاہے تو اس کا بنیادی محور یہ نکتہ ہوتاہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اکٹھے ہیں اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کررہاہے۔حالانکہ حکومت پاکستان خود اپنے قبائل اور اپنے عوام کے خلاف جنگ آزماہے۔امریکہ اور مغربی ممالک یہ اصرار کررہے ہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر قبائلی علاقے دہشت گردوں کیلئے محفوظ جنت (Safe Heaven)بنے ہوئے ہیں اور جب تک دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ان علاقوں کے مکینوں کو مکمل طور پر کچل نہیں دیا جاتا اس وقت تک نہ افغانستان میں امن قائم ہوسکتاہے نہ دنیا میں امن قائم ہوسکتاہے۔ ان کو مکمل طور پر کچلنے کیلئے امریکہ اور نیٹو ممالک پاکستان پر ان علاقوں میں آپریشن جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں اور Do moreیعنی مزید زور لگاؤ کا اصرار جاری رہتاہے ۔ اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے نتیجے میں ان علاقوں میں انتقام کا جذبہ مزید بڑھتاہے۔پچھلے دنوں پاکستان ائیر فورس کے جہازوں نے تیراہ میں سرہ ویلہ کے قصبے میں ایک ممتاز شخص حمید خاں کے گھر کو نشانہ بنایا۔ حمید خاں کا ایک بیٹا پاکستانی فوج میں اور دوبیٹے فرنٹیئر کانسٹیبلری میں ملازم ہیں۔ سرہ ویلہ آفریدیوں کے کوکی خیل قبیلے کا مرکز ہے اور کوکی خیل قبیلے کی ہر شاخ کی نمائندگی یہاں موجود ہے ۔

ان لوگوں پر دہشت گردی یا دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا کوئی الزام نہیں ہے ۔حمید خاں کے گھر کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے اور مدد کرنے کے لئے جب قریبی قصبے کے لوگ ان کے گھر کی طرف دوڑ پڑے تو دوسرے جہاز نے بمباری کردی ۔ 65/افراد ہلاک اور 30زخمی ہوئے ۔ قریبی علاقوں میں کوئی اسپتال نہیں ہے ، نہ کہیں آمد و رفت کے وسائل اور سڑک وغیرہ موجود ہے اس لئے زخمیوں کے مقابلے میں شہداء کی تعداد زیادہ ہے ۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حملہ غلطی سے ہواتھا ۔ ظاہر ہے کہ غلط اطلاع کے نتیجے میں اتنی بڑی کارروائی اور بڑا نقصان ہوا لیکن جن لوگوں کے عزیز و اقارب کو بغیر کسی گناہ اور غلطی کے خود اپنی فوج نے نشانہ بنایا ہے صرف چیف آف آرمی اسٹاف کا اعتراف ان کے نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے یہ روز کی کارروائی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ پاکستانی فوج کو امریکہ کی فوج کے ساتھ ہی ایک طرح کے ذمہ دار گردانتے ہیں۔ یہ سمجھنا نہ سمجھی ہوگی کہ اس طرح ہم علاقے کو زیر کرکے مستقل امن قائم کرسکتے ہیں۔ اپنی فوج کو اپنے ہی عوام کے مقابلے میں مورچہ زن کرنے کے نتیجے میں ہم اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کیا ہمارے حکمرانوں میں کوئی بھی ایسا رجل رشید نہیں ہے جو اس بات کو سمجھ سکے اور دوسروں کو سمجھا سکے کہ اس تباہی کے بدلے میں جو فوجی اور اقتصادی امداد مل رہی ہے ۔ یہ ملک کی آبادی کا ذریعہ نہیں بلکہ مزید بربادی کا موجب بن رہی ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت ،اسرائیل اور امریکہ کے پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیوں کو یہ موقع مل رہاہے کہ وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے خلاف خود کش حملہ آور تیار کرسکیں۔

جہاد فی سبیل اللہ ، فدائی جذبہ اور شہادت کی آرزو اور موت کے بعد جنت کی طلب ہر ایمان والے مضبوط مسلمان کی قیمتی متاع ہے اور اس کی وجہ سے مضبوط ایمان والے مجاہدین ناقابل شکست ہیں لیکن امریکہ کے حلیف ہونے کی بنا پر بد قسمتی سے ہمارا یہ قیمتی جذبہ ہمارے دشمنوں کے کام آ رہاہے اور ہمارے خلاف استعمال ہو رہاہے۔ کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنے باشندوں کو جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ فراہم کرے ۔ موجودہ بدامنی کی صورتحال میں نہ جان کی تحفظ ممکن ہے نہ معاشی خوشحالی حاصل کرنا ممکن ہے ۔ بدامنی کی وجہ سے ملک سے سرمایہ باہر نکل رہاہے ۔ خود حکمران جماعتوں کے بڑے سرمایہ داروں کا سرمایہ ملک سے باہر لگاہوا ہے جب ملک کے اندر کے سرمایہ دار اپنے سرمائے کو ملک سے باہر منتقل کررہے ہیں تو باہر کا سرمایہ ملک میں کیسے آسکتاہے۔ اس وجہ سے بے روزگاری عام ہے ،کارخانے بند پڑے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ کی مصیبت سے لوگ پریشان ہیں ۔ اس کا علاج اور مداوا امریکی امدادنہیں بلکہ امریکی جنگ سے گلو خلاصی ہے ۔ اب جبکہ خود امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں امن کے متلاشی ہیں اور جنگ کے متبادل راستے تلا ش کررہے ہیں کیا ہماری حکومت اپنے قبائل اور اپنے پڑوسی مسلمان بھائیوں کے ساتھ پرامن راستوں کی تلاش کے لئے گفت و شنید کا آغاز نہیں کرسکتی ۔ جب یورپی طاقتیں سمجھ گئی ہیں کہ جنگ کے ذریعے مسائل اور مشکلات کا حل ممکن نہیں ہے تو ہماری حکومت اور ہماری فوج کیوں اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــ
روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 106
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-05-10), عبداللہ حیدر (02-05-10)
جواب

Tags
پولیس, پاکستانی, قصہ, نظر, مکمل, موت, موجودہ, منتقل, ممکن, مسائل, آپریشن, آبادی, ایمان, اللہ, الزام, امیر, امریکہ, اسلامی, جیل, جواب, حال, خودکش, خان, دوست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اشاعت حدیث میں صحابہ اور تابعین کا کردار عبداللہ حیدر حجت حدیث 1 12-12-10 10:23 PM
پیر پگاڑا،شجاعت اور جمالی مسلم لیگ کے ادغام کیلئے نوازشریف سے ملاقات کریں گے جاویداسد خبریں 4 21-09-10 07:22 PM
مریدکے میں جماعت الدعوة کے مرکز پر حکام کا کنٹرول چیتا چالباز خبریں 0 26-01-09 06:58 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM
شجاعت کراچی پہنچ گئے ، نائن زیرو اور کنگری ہاؤس جائیں گے عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:56 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger