واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




جمرود کی مسجد میں دھماکہ، ’بیس ہلاک‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-11, 03:11 PM   #1
جمرود کی مسجد میں دھماکہ، ’بیس ہلاک‘
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 19-08-11, 03:11 PM

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمرود کے علاقے میں ایک بم دھماکے میں بیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ جمرود کے علاقے غونڈئی کی ایک مسجد میں ہوا ہے۔

مقامی افراد نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ اس دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور ستّر زخمی ہوئے ہیں جنہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

بی بی سی اردو
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 629
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (23-08-11), حیدر (09-09-11)
پرانا 23-08-11, 12:15 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

امريکی وزير خارجہ ہيلری کلنٹن کا پيغام

امريکہ پاکستان کے شمال مغربی حصے میں بے شمار معصوم پاکستانيوں پر ہونے والے حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ماہ رمضان ميں جمعے کی نماز کے دوران عبادت گزاروں کا بے رحمانہ قتل ان عناصر کی بربريت کو واضح کرتا ہے جو پوری دنيا کے مسلمانوں کے ليے جشن اور تجزيے سے عبارت ايک مذہبی موقع پر انھيں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہماری دعائيں اور ہمدردياں اس شرمناک تشدد کے کا شکار ہونے والوں کے عزيز واقارب اور چاہنے والوں کے ساتھ ہيں۔

اپنے پرتشدد حملوں کے ذريعے دہشت گرد پاکستانی عوام کی ايک پرامن اور ترقی يافتہ ملک کے حصول کے ضمن ميں جاری کاوشوں کو کھلم کھلا پامال کر رہے ہیں۔امريکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قربانيوں کی دل سے قدر کرتا ہے اور ہم ان عناصر کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہيں جو آزادی اور جمہوريت کو ختم کرنے کے درپے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (23-08-11), حیدر (09-09-11)
پرانا 23-08-11, 12:31 AM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فواد صاحب كيا كبھي ہمارا پيغام بھي ہيري كلنٹن كو ديا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (23-08-11), حیدر (09-09-11), رضی (11-09-11), عبداللہ آدم (24-08-11)
پرانا 24-08-11, 12:38 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اس واقعے کے حوالے سے فورمز پر کچھ افراد کی راۓ سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ گويا مسجد میں ہونے والا حاليہ حملہ اپنی نوعيت کا کوئ ايسا منفرد اور انوکھا واقعہ تھا جس کے اسرار اور مقاصد کو واضح کرنے کے لیے کسی تخليقی نظريے يا صلاحيت کو استعمال کرنا پڑے گا۔

بدقسمتی سے زمينی حقائق اور ناقابل ترديد اعداد وشمار ايک مختلف منظر پيش کرتے ہیں۔

مقامی ميڈيا پر رپورٹ ہونے والے واقعات پر مبنی دستاويز کے ايک سرسری جائزے سے يہ افسوس ناک حقيقت سامنے آتی ہے کہ جنوری 1 2009 سے فروری 22 2011 کے درميانی عرصے ميں پاکستان ميں مساجد پر دہشت گردی کے 33 حملے کيے گۓ جن ميں سے 25 سنی مساجد تھيں، 5 شيعہ مساجد اور 3 احمديوں کی عبادت گاہيں شامل ہیں۔

ان میں سے زيادہ تر حملے (33 ميں سے 23) صوبہ سرحد ميں ہوۓ، 7 صوبہ پنجاب ميں۔ ايک صوبہ سندھ میں اور 2 کشمير میں کيے گۓ۔

مساجد پر ہونے والے ان حملوں ميں کل 557 افراد ہلاک اور 827 افراد زخمی 33 مساجد کلی يا جزوی طور پر تباہ کر دی گئيں۔

ان تمام حملوں ميں زيادہ تر خودکش حملہ آور استعمال کيے گۓ۔ مجموعی طور پر 17 واقعات ميں "انسانی بم" کا استعمال کيا گيا۔ جو ديگر حربے استعمال ہوۓ ان میں 6 گرنيڈ بم کے حملے، 4 آئ – ای – ڈی دھماکے، 3 فائرنگ کے واقعات، 2 کار بم اور ايک راکٹ سے کيا جانے والا حملہ شامل تھا۔

يہاں پر ايک نقشے کا لنک پيش ہے جس ميں آپ جنوری 1 2009 سے فروری 22 2011 کے درميانی عرصے میں مساجد پر ہونے والے ايسے حملے جو ميڈيا پر رپورٹ ہوۓ ہيں ان کے محل و وقوع کو جان سکيں گے۔

http://www.freeimagehosting.net/newuploads/7b973.jpg

کچھ فورمز پر پيش کيا جانے والا يہ تاثر بھی حقائق کے منافی ہے کہ وہ دہشت گرد جو خود کو اسلام کا چمپين قرار ديتے ہیں وہ رمضان کے مقدس مہينے اور ديگر مذہبی تہواروں کے دوران انسانی جانوں پر حملے نہيں کر سکتے۔ ليکن اس کے برعکس يہ عناصر باقاعدگی کے ساتھ انھی مواقعوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکميل کے ليے استعمال کرنے سے نہيں چوکتے۔ يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے مذہبی رسوم کو جان بوجھ کر حملے کی "افاديت" ميں اضافے کے ليے استعمال کيا گيا ہے۔ اس سے قبل سابق وزير داخلہ آفتاب احمد خان شير پاؤ پر عيد کی نماز کے دوران حملہ، پھر جنازے کے دوران نمازيوں پر نماز جنازہ کی ادائيگی کے دوران حملہ اور افطار کے موقع پر ميريٹ ہوٹل اسلام آباد ميں خود کش حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہب کو محض "استعمال" کيا جا رہا ہے۔ يہ امر غور طلب ہے کہ جن عناصر کے نزديک مقدس ترين مذہبی رسومات کا احترام کی بھی کوئ اہميت نہيں وہ اپنی تحريک کو ايک مقدس فريضہ قرار دے کر مذہب کی بنياد پر اس کی تشہير کرتے ہيں۔ پرامن مذہبی رسومات کی دوران حملوں کے واقعات کو کسی پر طور جائز يا نيک عمل قرار نہيں ديا جا سکتا۔
ميں يہ نشاندہی بھی کر دوں کہ دہشت گردوں نے عراق اور افغانستان ميں بھی مساجد پر اسی نوعيت کے حملے کيے تھے۔

جہاں تک کچھ راۓ دہندگان کی جانب سے اس ضمن میں بليک واٹر کی مبينہ سازشوں اور ان کی موجودگی سے متعلق پرانی اور گھسی پٹی کہانيوں اور الزامات اور يہ سوچ کہ ہزاروں کی تعداد ميں پاکستان کی سڑکوں پر يہ ايجنٹ بغير کسی جانچ پڑتال کے دندناتے پھر رہے ہيں، ميرا سوال يہ ہے کہ پاکستان ميں امريکہ کے سب سے اعلی عہديدار سفارت کار کيمرون منٹر کو بھی ملک کے اندر اپنی سفارتی ذمہ داريوں کے ضمن ميں سفر کے دوران اين – او – سی دستاويزات پيش کرنی پڑتی ہيں۔ اسی طرح امريکی سفارتی اہلکاروں اور سفارتی گاڑيوں کو تمام تر سفارتی ضوابط اور مراعات کے باوجود آۓ دن سيکورٹی اور پڑتال کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کيا وجہ ہے کہ ملک بھر ميں سينکڑوں کی تعداد ميں ہونے والے حملوں کے بعد بھی ايک بھی امريکی بليک واٹر کا ايجنٹ نا تو گرفتار ہوا اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار قرار ديا گيا۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-09-11), حیدر (09-09-11)
پرانا 24-08-11, 01:50 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ميں يہ نشاندہی بھی کر دوں کہ دہشت گردوں نے عراق اور افغانستان ميں بھی مساجد پر اسی نوعيت کے حملے کيے تھے
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہاہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا

ليكن كب جب امريكہ وہاں آيا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہ ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (29-08-11), حیدر (09-09-11), رضی (11-09-11)
پرانا 24-08-11, 05:53 AM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شمشاد بھائی یہ ریڈیو سے جوابی پیغام رسانی نہیں ہوتی..................
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (09-09-11)
پرانا 24-08-11, 05:54 AM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بلکہ بھونپو صحیح لفظ ہے اگر صحیح ت ل ف ظ کے ساتھ ادا کیا جائے تو
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (09-09-11), شمشاد احمد (14-09-11)
پرانا 24-08-11, 08:11 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,087
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج پاکستان مین، القاعدہ سے تعلق رکھنے والے طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اللہ کے گھر محفوظ نہ ہین۔ طالبان دہشت گردون نے پچھلے ۱۰ سالون مین لا تعداد مساجد کو بے رحمانہ طریقے سے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ۱۱۶۵ نمازیون کو قتل کر کے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ۲۹۰۰ نمازیوں کو زخمی کر دیا، جن مین بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل ہین۔ آجکل مساجد میں عبادت گزار ون کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی لذت اورعبادت کی سعادت کی بجائے اپنی جان کے لا لے پڑے ہوتے ہیں۔ تحریک طالبان،جند اللہ اور لشکر جھنگوی اور طالبان سے الحاق شدہ دوسری مذہبی جماعتوں و گروپوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔
مساجد پر خود کش حملے ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی طالبان کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ مین صرف مسجد ضرار کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرٹ صلعم کو آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے مین بڑی ممد و معاون ہین اور طالبان مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہین۔
یہ ایک طے شدہ امرہے کہ اسلام میں خود کشی ناجائز ہ و حرام ہے اور یہ خود کش حملے انتہائی قابل مذمت اور مکروھ طالبانی حرکت ہین۔ مساجد کی تباہی اور نمازیوں پر خودکش حملے ایک ناقابل معافی جرم ،انسانیت سوز اور سفاکانہ طالبانی عمل ہے۔ طالبان معصوم انسانی جانوں کو اس بے دردی سے اپنی سفاکی کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہلاکو اور چنگیز خان کے ظلم بھی اس کے سامنے ہیچ ہین۔ طالبان مذہبی تنگ نظری نا رواداری کے پیکر ہین۔ اور یہی بد بختوں کا وہ گروہ ہے جو رسول اللہ کے فرمان کے مطابق دین سےنکل گیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ کے اتنے مقدس گھر میں خونزریزی کرتے ہوئے کوئی شرمندگی اورڈر محسوس نہ ہو اس کا اللہ تعالیٰ، اس کےرسول اللہ اور اسلام سے کیا واسطہ ہے؟
طالبان اور دوسری مذہبی جماعتین پاکستان مین مذہبی منافرت پھیلانے کی مر تکب ہو رہی ہین اور وہ پاکستان کے مسلمانون کی اکژیت پر جو، ان کے مذہبی نظریات سے متفق نہ ہین اپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہین۔ جبکہ اسلام دین ہے امن، محبت اور ہم آہنگی کا اور حقیقی مسلمان مساجد اور خانقاہوں پر حملے نہین کرتے اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہین۔ یہ دہشت گرد مسلمان اور انسان کہلانے کے حقدار نہ ہین۔
اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جبکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے افراد اور گروہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف اور شرعی طور پر بغاوت و محاربت، اجتماعی قتل انسانی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مساجد دینِ اسلام کی ہمیشہ سے آبیاری اور تبلیغ و ترویج کے مراکز رہی ہیں اور تاقیامت! یہی مراکزدین کی آبیاری اور سیرابی کا ذریعہ بنتے رہیں گے، انہیں کے سائے میں بیٹھ کرہرزمانہ میں، قراء نے تعلیمِ قرآن ،مفسرین نے تفسیرِقرآن،محدثین نے حدیث، اور علمأنے آپ کے جلال، جمال، اخلاق، کرداراور دینِ متین کا ایک ایک طریقہ، ایک ایک مسئلہ اور حکم، امت کو پڑھایا،سمجھایا اور ان تک پہنچایا،اسی لئے ان مراکز کی ترقی اور حفاظت ہر مسلم پر فرض ہے، خواہ وہ کسی بھی خطّہ یا ملک کا باشندہ ہو۔
یہ عوام کی اولین ذمہ داری ہے کہ ان دینی مراکز کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے کر باغاتِ جنت کی حفاظت کریں اور اللہ کی عظمت کے ان نشانات کو بحال کریں اور طالبان اور دوسرے تخریب پسندون کی تخریبی کاروایون کا حصہ نہ بنین۔
یہی وقت ہے کہ عوام بشمول تمام سیاسی و مذہبی پارٹیاں اور گروپ طالبان اور دوسری تنگ نظر مذہبی جماعتون و گروپون کی درندگی و دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر ان کا ہر سطح پر مقابلہ کرین اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وگرنہ ان کی اس طرح کی سرگرمییان جاری رہین گی اور اسلام اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
اور جو کئی حکم پر چلے اللہ اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کے چلے اس(کی نافرمانی ) سے سو وہی لوگ ہین مراد کو پینچے۔( سورہ النور ۔۵۲)

Last edited by A Nawaz Khan; 24-08-11 at 08:19 PM. وجہ: Typos and additions
A Nawaz Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے A Nawaz Khan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-09-11), حیدر (09-09-11)
پرانا 29-08-11, 10:03 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں

ليكن كب جب امريكہ وہاں آيا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ايک بار پھر آپ يک طرفہ مواد اور جذباتيت کی بنا پر اپنی سوچ کا اظہار کر رہے ہیں۔ حقائق آپ کی دليل کی بالکل نفی کرتے ہیں۔ يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ صدام حسين اور ان کے حواريوں کی جانب سے شيعہ مساجد پر بے شمار حملوں کے واقعات ريکارڈ پر موجود ہیں۔ اور يہ سب کچھ سال 2003 میں امريکی افواج کے آنے سے قبل ہوا تھا جن ميں سے خاص طور پر نجف ميں امام علی مسجد پر حملہ سب کی معلومات ميں ہے۔

اس کے کچھ ثبوت پيش ہیں۔

‫فيديو ضرب الطاغية صدام لضريح الامام الحسين 1991‬‎ - YouTube

http://sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-...2_748789_n.jpg

http://www.alnajafalashraf.net/magth...0makalat41.jpg

Google Image Result for http://14noor.com/forum/uploads_members/3290/3290_2010-03-22_30.jpg

صدام کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے کے بعد القائدہ کے دہشت گرد اور ان سے منسلک گروہوں نے عبادت گاہوں کی حرمت کو بھی نظرانداز کرتے ہوۓ اپنی بہيمانہ مہم جاری رکھی۔ يہ وہی لائحہ عمل ہے جو انھوں نے افغانستان ميں بھی استعمال کيا اور اب پاکستان ميں بھی يہی کاروائياں کی جا رہی ہیں۔

يہ حقيقت بھی واضح رہے کہ مسجد کی تباہی کے مناظر براہراست يہ ثابت نہیں کرتے کہ امريکی فوج ہی ان واقعات کی ذمہ دار ہے۔ ايسے بے شمار واقعات ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں القائدہ سميت دہشت گرد مذہبی تنظيموں کی جانب سے مخالف فرقے کی مساجد کو براہ راست نشانہ بھی بنايا گيا اور پھر ان واقعات کا اعتراف بھی کيا گيا۔

Iraq bombers hit key Samarra mosque

اس ميں کوئ شک نہيں کہ انٹرنيٹ جيسے اوپن ميڈيا پر بغير تحقيق اور ذرائع کی جانچ پڑتال کيے بغير ايسی ويڈيوز اور تصاوير حاصل کرنا کوئ مشکل کام نہيں جن کا مقصد صرف جذبات کو اشتعال دينا ہے۔

جيسا کہ میں نے پہلے بھی فورم پر يہ تسليم کيا ہے کہ امريکی فوج ميں کچھ افراد نے طے شدہ قواعد وضوابط اور حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ ليکن جن افراد کی جانب سے يہ اقدامات اٹھاۓ گۓ وہ کسی بھی صورت ميں امريکی فوج کے مقاصد اور مشن سے ہم آہنگ نہیں ہيں۔ ايسے تمام افراد کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان کے خلاف مقدمے بھی چلے اور انھيں سزائيں بھی ہوئيں۔ يہ ايسی حقيقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ ليکن میں يہ واضح کر دوں کہ امريکی فوج نے دانستہ عراق ميں کسی بھی مسجد کو نا تو نشانہ بنايا اور نہ ہی مسجد کی بے حرمتی کی۔ يہ القائدہ اور اس سے منسلک گروہوں کا وطيرہ ہے جو اپنے اعمال کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور پھر اپنی مخصوص سوچ کی بنا پر ان حملوں کی توجيہہ پيش کر کے ان کو درست بھی قرار ديتے ہيں۔

اس قسم کی سوچ کا ايک اور ثبوت

Daily Times - Leading News Resource of Pakistan

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-09-11), حیدر (09-09-11)
پرانا 29-08-11, 10:15 PM   #10
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے یقین ہے کہ امریکہ صرف اینٹی امریکہ لابی کو ہی مارتا ہے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
حیدر (09-09-11), شمشاد احمد (14-09-11)
پرانا 09-09-11, 11:01 AM   #11
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خلیل بھائی! ڈاکٹر غلام نبی فائی کس غیر امریکہ لابی سے تعلق رکھتے تھے؟؟ جن کو امریکیوں نے پچھلے دنوں خواہ مخواہ ذلیل کیا
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (09-09-11), شمشاد احمد (14-09-11)
پرانا 14-09-11, 01:49 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 123
کمائي: 2,611
شکریہ: 17
60 مراسلہ میں 95 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیر کرنے کا شکریہ، خدا ایسے نظریات سے محفوظ رکھے جو ان حملوں کا باعث بنتے ہیں۔
allah ke bande آف لائن ہے   Reply With Quote
allah ke bande کا شکریہ ادا کیا گیا
A Nawaz Khan (15-09-11)
پرانا 14-09-11, 09:02 PM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
ايک بار پھر آپ يک طرفہ مواد اور جذباتيت کی بنا پر اپنی سوچ کا اظہار کر رہے ہیں۔ حقائق آپ کی دليل کی بالکل نفی کرتے ہیں۔ يہ ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ صدام حسين اور ان کے حواريوں کی جانب سے شيعہ مساجد پر بے شمار حملوں کے واقعات ريکارڈ پر موجود ہیں۔ اور يہ سب کچھ سال 2003 میں امريکی افواج کے آنے سے قبل ہوا تھا جن ميں سے خاص طور پر نجف ميں امام علی مسجد پر حملہ سب کی معلومات ميں ہے۔

اس کے کچھ ثبوت پيش ہیں۔

‫فيديو ضرب الطاغية صدام لضريح الامام الحسين 1991‬‎ - YouTube

http://sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-...2_748789_n.jpg

http://www.alnajafalashraf.net/magth...0makalat41.jpg

Google Image Result for http://14noor.com/forum/uploads_members/3290/3290_2010-03-22_30.jpg

صدام کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے کے بعد القائدہ کے دہشت گرد اور ان سے منسلک گروہوں نے عبادت گاہوں کی حرمت کو بھی نظرانداز کرتے ہوۓ اپنی بہيمانہ مہم جاری رکھی۔ يہ وہی لائحہ عمل ہے جو انھوں نے افغانستان ميں بھی استعمال کيا اور اب پاکستان ميں بھی يہی کاروائياں کی جا رہی ہیں۔

يہ حقيقت بھی واضح رہے کہ مسجد کی تباہی کے مناظر براہراست يہ ثابت نہیں کرتے کہ امريکی فوج ہی ان واقعات کی ذمہ دار ہے۔ ايسے بے شمار واقعات ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں القائدہ سميت دہشت گرد مذہبی تنظيموں کی جانب سے مخالف فرقے کی مساجد کو براہ راست نشانہ بھی بنايا گيا اور پھر ان واقعات کا اعتراف بھی کيا گيا۔

Iraq bombers hit key Samarra mosque

اس ميں کوئ شک نہيں کہ انٹرنيٹ جيسے اوپن ميڈيا پر بغير تحقيق اور ذرائع کی جانچ پڑتال کيے بغير ايسی ويڈيوز اور تصاوير حاصل کرنا کوئ مشکل کام نہيں جن کا مقصد صرف جذبات کو اشتعال دينا ہے۔

جيسا کہ میں نے پہلے بھی فورم پر يہ تسليم کيا ہے کہ امريکی فوج ميں کچھ افراد نے طے شدہ قواعد وضوابط اور حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ ليکن جن افراد کی جانب سے يہ اقدامات اٹھاۓ گۓ وہ کسی بھی صورت ميں امريکی فوج کے مقاصد اور مشن سے ہم آہنگ نہیں ہيں۔ ايسے تمام افراد کو عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان کے خلاف مقدمے بھی چلے اور انھيں سزائيں بھی ہوئيں۔ يہ ايسی حقيقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ ليکن میں يہ واضح کر دوں کہ امريکی فوج نے دانستہ عراق ميں کسی بھی مسجد کو نا تو نشانہ بنايا اور نہ ہی مسجد کی بے حرمتی کی۔ يہ القائدہ اور اس سے منسلک گروہوں کا وطيرہ ہے جو اپنے اعمال کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور پھر اپنی مخصوص سوچ کی بنا پر ان حملوں کی توجيہہ پيش کر کے ان کو درست بھی قرار ديتے ہيں۔

اس قسم کی سوچ کا ايک اور ثبوت

Daily Times - Leading News Resource of Pakistan

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
ہم يہاں صدام كي ترجمان نہيں ہيں اور نہ ہي اس كے كسي بھي ايسے اقدام كي حماتي كرتے ہيں۔۔۔
آپ نے صدام كے جن اقدامات كا ذكر كيا ہے اگر ان كي واقعي كوئي حقيقت بھي ہے تو وہ امريكي فوج كي آمد سے يقينا پہلے كي ہے۔۔۔ ليكن صدام كے جرائم كي اس فہرست ميں صرف يہي جرائم شامل نہيں كہ اس نے شيعہ حضرات پر مظالم كئے۔۔۔امريكي فوج كے عراق آنے سے كوئي چار چھ ماہ قبل ہي صدام كي حكومت قائم نہيں ہوئي تھي بلكہ اس سے قبل تقريبا دو دھائيوں تك صدام برسر اقتدار رہا۔۔۔۔ اور جس وقت امريكي اسلحہ اور حمايت كي بناء پر صدام ايران كے ساتھ جنگ كر رہا تھا اس وقت امريكہ كو شيعہ برادري پر صدام كے مظالم نہيں نہيں آئے۔

تعجب ہے۔۔
(1)۔۔۔۔ آپ كو يعني امريكہ كو عراق كي كچھ شيعہ مساجد پر صدام كے مبينہ حملوں پر تو مروڑ اٹھي اور آپ نے عراق پر حملہ كر ديا۔۔۔۔۔ ليكن ايران پر امريكي اسلحہ اور گولہ بارود سے صدام دس سال تك حملے كرتا رہا اس پر آپ كو شيعہ حضرات پر ترس نہ آيا۔۔۔

(2)۔۔۔۔امريكہ نے عراق پر حملہ شيعہ مساجد كو تعمير كرنے كے ليے صدام كا تختہ نہيں الٹا اور نہ ہي عراق پر حملے كا يہ جواز بيان كيا گيا۔۔۔۔ بلكہ عراق پر حملے كا مقصد صدام كے كيميائي ہتھاروں كو تلف كرنا بتايا گيا تھا۔۔۔۔ ليكن وہ آج تك نہيں ملے۔۔۔۔تو اب آپ عراق پر حملے كو شيعہ ہمدردي كا بہانا بنا كو جواز نہ ہي بخشيں تو اچھا ہے۔۔۔ كيوں كہ اس ڈھكوسلے پر نہ كسي شيعہ كو يقين ہے اور نہ ہي سني كو ہے۔۔

(3)۔۔۔۔ عراق پرامريكہ كے حملے سے جہاں سني متاثر ہوئے ہيں۔ اسي طرح وہاں كي شيعہ آبادي بھي بري طرح متاثر ہوئي ہے۔۔ اور سب جانتے ہيں كہ القاعدہ كا صرف نام استعمال كيا جا رہا ہے ورنہ بہت سے حملے امريكي ايجنسيوں كے ہي كرائے ہوئے ہيں۔۔۔

(4)۔۔۔ اگر دنيا كے باقي سب مسائل ختم ہو گئے ہيں اور اب امريكہ كے ليے بس يہي ايك كام رہ گيا ہے كہ وہ دنيا بھر ميں شيعہ اور سنيوں كو امريكي ايجنٹ حكمرانوں سے نجات دلانے كے ليے ان كے ملكوں پر حملے اور قبضے كر كے لوٹ مار كرے۔۔۔ تو

(5)۔۔ كيا آپ ہميں بتائيں گے كہ پاكستان ميں امريكہ عراقي طرز پر حملہ كر كے كب سنيوں اور شيعوں كو ايك دوسرے سے نجات دلاتا ہے۔۔۔۔ كيوں كہ پاكستان ميں شيعہ مساجد اور اہل سنت كي مساجد و مزارات پر دنيا بھر ميں سب سے زيادہ ريكارڈ حملے كيے گئے ہيں۔۔۔۔ تو براہ كرم ہميں بھي زرا شيڈول دے ديجئے كہ امريكہ كب آ رہا ہے۔۔۔۔ اور اگر آپ كہتے ہيں كہ امريكہ پاكستان پر حملہ كرنے نہيں آ رہا تو پھر عراق كي ہي كيا خاص بات تھي۔۔۔۔۔۔۔ اب يہ مت كہہ دينا كہ وہاں تيل تھا۔۔۔۔۔ كيوں كہ ہمارے ہاں بھي بہت كچھ ہے۔۔

(6)۔۔۔ جس طرح عراق ميں شيعہ حضرات پر مظالم كا رونا آپ نے رويا ہے اسي طرح ايران ميں بھي اہل سنت پر بہت سي پابندياں ہيں۔۔۔۔ خصوصا اہل سنت كي مساجد بنانے ميں كافي پابندياں ہيں۔۔۔۔ اور اہل سنت كو ايراني شيعہ حكومت كے مبينہ مظالم سے نجات دلانے ايران كا جانے كا ٹائم شيڈول بھي دے ديں تو۔۔۔۔ دنيا بھر كے اہل سنت ممنون ہوں گے اور ايراني اہل سنت كو بھي حوصلہ ہو گا كہ جبر كے دن تھوڑے رہ گئے ہيں۔۔۔۔ مائي باپ تشريف لاتے ہي والے ہيں۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-11, 09:05 PM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
مجھے یقین ہے کہ امریکہ صرف اینٹی امریکہ لابی کو ہی مارتا ہے
جي ہاں يقينا امريكہ اينٹي امريكہ لابي كو ہي مارتا ہے بشرطيكہ لابي خود كو مسلمان كہلاتي ہو۔۔۔۔ چاہے وہ شيعہ ہوں يا سني ہوں۔۔۔۔

باقيوں كے ليے مذاكر ات ہي مسائل كا بہترين حل ہے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-09-11, 09:07 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
خلیل بھائی! ڈاکٹر غلام نبی فائی کس غیر امریکہ لابی سے تعلق رکھتے تھے؟؟ جن کو امریکیوں نے پچھلے دنوں خواہ مخواہ ذلیل کیا
يہ سپيشل كيسز فار ٹيسٹ ہوتےہيں۔۔۔۔ جو امريكہ وقتا فوقتا كرتا رہتا ہے۔۔۔۔مسلمان ليڈروں كي بڑكيں سننے كے ليے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
pakistan, ٹی, پاکستان, پشاور, وی, لیا, لے, چینل, نامہ, منتقل, مسجد, مطابق, www, آباد, افراد, اللہ, اردو, حیات, خیبر, خان, دھماکہ, دھماکے, سکیورٹی, علاقے, عزیز


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بینظیر قتل کیس تفتیشی ٹیم گرفتار پولیس افسروں سے معلومات حاصل نہیں کر سکی گلاب خان خبریں 0 27-12-10 04:11 AM
پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل :سی ایس ایس امتحانات میں‌ 12ویں پوزیشن لینے والا ایماندار افسر برطرف شیخ ہمدان خبریں 10 03-04-09 03:20 AM
سانحہ کار ساز،بینظیر کے گر د متعین رضاکاروں کو چیک نہیں کر نے دیا گیا تھا،تحقیقاتی ٹر یبونل میں ایس ایس پی اسپشل بر انچ کا بیان ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:16 AM
راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 01:43 PM
آل پاکستان فٹبال: ایس ایس جی سی کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی خرم شہزاد خرم فٹبال 0 08-08-07 12:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger