واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




خودکش حملے حرام ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-06-11, 05:27 PM   #1
خودکش حملے حرام ہیں
iqbal jehangir iqbal jehangir آف لائن ہے 23-06-11, 05:27 PM

خودکش حملے حرام ہیں




میرانشاہ (اے پی پی) شمالی وزیرستان ایجنسی کے مذہبی اسکالرز اور علماء نے علاقہ میں دہشت گردی کی تمام قسم کی کارروائیوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود کش حملے اسلام میں حرام ہیں۔ پیر کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے 300 کے قریب ممتاز مذہبی اسکالرز اور علماء کا ایک اجلاس میر علی تحصیل میں مدرسہ نظامیہ میں ہوا۔ اجلاس میں دہشت گردوں کو علاقہ میں دہشت گرد کارروائیوں سے خبردار کرتے ہوئے خود کش بمبار کو بھرتی کرنے اور ان کی تربیت کرنے میں ملوث تمام افراد کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں غیر ملکیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی پرتشدد سرگرمیاں روک دیں کیونکہ وہ صرف پرُ امن طریقہ سے ہی شمالی وزیرستان میں رہ سکتے ہیں۔ اجلاس میں دہشت گردی کی ہر قسم کی سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
[]خودکش حملے حرام ہیں شمالی وزیرستان کے 300 علماء کا بیان- جنگ اردو]
یہ بڑا اچھا اور خوش آیند اقدام ہے اور تمام علما اکرام اس جرات پر صد مبارکباد و تحسین کے مستحق ہین۔ علما کے ان اقدام سے شمالی وزیرستان مین دہشت گردی کا قلع قمع کرنے مین بڑی مدد ملے گی۔
یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔
یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔
اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اللہ تعالہ فرماتے ہین:
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”
مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

غیر ملکی جہادی فاٹا کے علاقہ کا سکون غارت کر رہے ہین۔ پاکستان مین مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ مین قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہین اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہین۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان مین دہشت گردی کے ۹ تربیتی کیمپ ہین جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ مین سنگین خان کمانڈر کی زیر نگرانی، ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہین۔
غیر ملکی جہادی اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی لہذا تمام غیر ملکیوں جہادیوں کو شمالی وزیرستان سے نکال باہر کیا جانا چاہئیے۔
ہمارے دشمن کو ہماری ہی صفوں سے حمایت اور تقویت مل رہی ہے‘ جس کا وہ خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں ،سیاست اور میڈیا میں جو لوگ دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا‘ تو وہ خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ہماری سلامتی ‘ ہماری مسلح افواج کے ساتھ ہے۔ ہماری بقا کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ ہماری صفوں میں انتشار دہشت گردوں کے حوصلے اور طاقت میں اضافہ کرتا ہے.
جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں"۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔
طالبان نے ملا عمر کی بیعت کی ہوئی ہے،ملا عمر پاکستان پر حملوں کو برا سمجھتے ہین مگر پاکستانی طالبان ملا عمر کی بیعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان مین معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہین۔
رسول کریم نے فرمایا کہ جنگ کی حالت مین بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے۔ ویسے طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ مزید بران یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گئا ہے۔
؟۔ دہشت گردوں نے ہمارے ملک کو جہنم بنا دیا۔ ۳۵ ہزار سے زیادہ لوگ مرگئے ۔ سرمایہ اور ذہانتیں ہمارے ملک سے ہجرت کر گئیں۔ کاروبار اجڑ گئے۔ بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔ عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا اور ہم سب حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گئے ہین۔ بیرونی سرمایہ کاری صفر سے نیچے چلی گئی، ملازمتین ختم ہوئیں ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود کو تباہ کرکے رکھ دیا اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیا اور تو اور داڑھی اور پگڑی والے بھی محفوظ نہ ہیں ۔
دہشت گردی ایک بہت بڑا ناسور ہے جس کے مقابلہ کے لئے امت مسلمہ کو متحد اور منظم ہو کر مشترکہ طور پر اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا۔نوجوانوں کو دہشت گردوں کے اثرات سے محفوظ کرانا اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات کا مبلغ بنانے کی بجائے مفید و کار آمد شہری بنانا ہو گا۔ پاکستان مین موجودہ دہشت گردی کے واقعات نے لوگوں کو بے سکون کردیا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے وطن عزیز کی سا لمیت کیلئے آپسی بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے اور لوگوں کا حکومت پراعتماد بحال کیا جائے۔

Last edited by iqbal jehangir; 23-06-11 at 07:57 PM.. وجہ: Typo and additions

iqbal jehangir
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 295
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے iqbal jehangir کا شکریہ ادا کیا
A Nawaz Khan (03-10-11), skjatala (23-06-11), احمد نذیر (23-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), سیفی خان (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 06:29 PM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف اس سے پہلے بھی علماء یہ فتویٰ دے چکے ہیں ۔ ۔

ان فتوؤں کے ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے حکمران اپنی پالیسیوں پر غور کریں ۔ ۔ اور کفار کے اتحادی بننے کی بجائے مسلمانوں کا اتحاد بنائیں ۔ تا کہ مسلمان اپنے مسائل کو خود سے حل کر سکیں اور مسلمان کفارو یہود کی لونڈی ’’ اقوام متحدہ ‘‘ کی بد سلوکی سے بچ سکیں ۔ ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

Last edited by سیفی خان; 23-06-11 at 06:32 PM.
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (23-06-11), احمد نذیر (23-06-11), راجہ اکرام (25-06-11), سام (23-06-11), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 08:15 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھانام دیاہے کفارویہودکی لونڈی اقوام متحدہ۔
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (23-06-11), ننھا بچہ (23-06-11), سیفی خان (24-06-11), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 24-06-11, 11:43 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا آرٹیکل ہے ۔۔ جب سب کو معلوم ہے خودکشی اسلام میں حرام ہے تو خودکش حملوں کا کوئی جواز نہیں بنتا، بس شدت پسندوں نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلیے اسلامی قوانین میں ترمییم کی ہے۔
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
کلمہ حق کا شکریہ ادا کیا گیا
iqbal jehangir (26-07-11)
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, واقعات, قرآن, چین, مکہ, موجودہ, مقابلہ, اردو, اسلام, بھائی, بچوں, تصویر, حکم, خواتین, خودکش, خوش, خلاف, داڑھی, دریافت, زندگی, شہر, علی, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger