|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 212
|
||||
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,912
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دہشت گردی اور اس کا فکری و عملی تدارک (دوسری قسط) ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف سوالات اور انکے جوابات ڈاکٹر محمد طاہر القادری دہشت گردی کے موجودہ خون آشام واقعات کو دیکھ کر ذہنوں میں چند سوالات اُٹھتے ہیں اور دنیا بھر کے عوام و خواص اِسلام سے متعلق اِن سوالات کی روشنی میں تسلی بخش وضاحت مانگتے ہیں۔ اِس تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام سوالات کا تفصیلی ،مدلّل اور دو ٹوک جواب دیا جائے۔ ذیل میں ترتیب وار پہلے اِن سوالات کے ساتھ مختصر جوابات دیئے جارہے ہیں اور اِنہی مختصر جوابات کی تفصیل دستاویز کے آئندہ اَبواب میں بالترتیب پیش کی جائے گی۔ -1اِس سلسلے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کسی جماعت کا خود کو حق پر سمجھتے ہوئے اپنے عقائد و نظریات کے فروغ و تسلط اور دوسروں کے عقائد کی اِصلاح کے نام پر طاقت اِستعمال کرنا جائز ہے؟ کیا نظریاتی اِختلاف رکھنے والوں کو قتل کرنے، ان کے مال لوٹنے اور اُن کی مساجد، مذہبی مقامات اور شعائر کو تباہ کرنے کی اسلام میں گنجائش ہے؟ اگر نہیں، تو اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اسلام نے کیا سزا مقرر کی ہے؟ جواب۔…اسلام اَمن و سلامتی اور محبت و مروّت کا دین ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان وہی شخص ہے جس کے ہاتھوں مسلم و غیر مسلم سب بے گناہ انسانوں کے جان و مال محفوظ رہیں۔انسانی جان کا تقدس و تحفظ شریعت اسلامی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے ۔ کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا اور اُسے قتل کرنا فعل حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ عمل موجب ِ کفر بن جاتا ہے ۔ آج کل دہشت گرد اپنے عقائد و نظریات مسلط کرنے اور اپنے مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی ناکام کاوش میں جس بے دردی سے خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے گھروں ، بازاروں ، عوامی اور حکومتی دفاتر اور مساجد میں بے گناہ مسلمانوں کی جانیں لے رہے ہیں وہ صریحاً کفر کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ دنیا اور آخرت میں ان کے لئے ذلت ناک عذاب کی وعید ہے۔ دہشت گردی فی نفسہ کافرانہ فعل ہے اور جب اس میں خودکشی کا حرام عنصر بھی شامل ہوجائے تو اس کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کتاب میں درجنوں آیات اور بیسیوں احادیث کے ذریعے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ مسلمانوں کا قتل ِ عام اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ کبار ائمہ تفسیر و حدیث اور فقہاء و متکلمین کی تصریحات سمیت چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام میں جملہ اہلِ علم کا فتویٰ یہی رہا ہے ۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لئے اسلام نے ہتھیار اُٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری اساس کمزور ہوتی ہے اور وہ جہالت و عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ -2اِس ضمن میں دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ مسلم ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے کیا حقوق ہیں؟ جواب …اسلام صرف مسلم ریاست کے مسلمان شہریوں کے جان و مال ، عزت و آبرو کی حفاظت کی ہی ضمانت نہیں دیتا ہے، شریعت اسلامیہ میں مسلم ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے حقوق مسلم شہریوں کی طرح ہی ہیں، بحیثیت اِنسان ان میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی قوانین میں مسلم اور غیر مسلم شہری قصاص اور دیت میں برابر ہیں۔ غیر مسلم کو مسلم معاشرے میں مکمل شخصی اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ غیرمسلم شہریوں، ان کے سفراء اور ان کی املاک و عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ اسی طرح تاجروں کے جان و مال کا تحفظ بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے لہٰذا اسلام کسی طور بھی پُر اَمن و غیر متحارب غیر مسلم شہریوں پر حملے کرنے والے، انہیں اغواکرکے تاوان کا مطالبہ کرنے والے اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھ کر ذہنی و جسمانی اذیت دینے والے اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ -3تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام میں انسانی جان کی حرمت پر واضح اَحکامات موجود ہیں؟ کیا غیر مسلم عالمی طاقتوں کی ناانصافیوں اور مظالم کے ردّعمل کے طور پر انتقاماً بے قصور اور پر امن غیر مسلم شہریوں اور سفارت کاروں کو اغوا کرنا اور قتل کرنا جائز ہے؟ جواب …انسانی جان کی عزت و حرمت پر اسلامی تعلیمات میں کس قدر زور دیا گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوران جنگ بھی اسلام غیر متحارب لوگوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا۔ میدان جنگ میں بچوں ، عورتوں ، ضعیفوں ، بیماروں ،مذہبی رہنماؤں اور تاجروں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہتھیار ڈال دینے والے، گھروں میں بند ہوجانے والے یا کسی کی امان میں آجانے والے لوگوں کو بھی قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عامة الناس کا قتل عام کیا جاسکتا ہے۔ عبادت گاہوں ، عمارتوں ، بازاروں یہاں تک کہ کھیتوں ، فصلوں اور درختوں کو بھی تباہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک طرف حالت جنگ میں بھی اس قدر احتیاط پر مبنی احکام و قوانین ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کی ایسی کارروائیاں جو بلا امتیاز مذہب و ملت، پُر اَمن لوگوں، عورتوں، بچوں اور مساجد میں عبادت کرنے والے نمازیوں کے قتل عام کا باعث بن رہی ہوں، پھر بھی وہ اسلام کا نام لیں اور جہاد کی بات کریں، اس سے بڑا تضاد تو شاید چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کو قتل کرنا یا اُنہیں حبس بے جا میں رکھنا قطعاً جائز نہیں۔ جو ایسا کرتا ہے اُس کا اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔ -4چوتھا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلم حکمرانوں کی غیراسلامی پالیسیوں اور فاسقانہ طرز ِ عمل کے باعث اُنہیں حکومت سے ہٹانے، اپنے مطالبات منوانے یا اُنہیں راہ راست پر لانے کے لئے مسلح جدوجہد کی جاسکتی ہے ؟ کیا آئینی طور پر قائم کی گئی مسلم حکومت کے نظم اور عمل داری (writ) سے بغاوت جائز ہے ؟ نیز حکمرانوں کی اِصلاح اور تبدیلی کا جائز طریقہ کار کیا ہونا چاہئے؟ جواب …اسلام صرف مذہب ہی نہیں ایک مکمل دین ہے۔ اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبہ کے لئے ضابطہ دیا ہے وہاں معاشرے کی اجتماعیت کے تحفظ کا اہتمام بھی کیا ہے ۔ اس کے لئے ریاستی اداروں کے حقوق و فرائض طے کردیئے گئے ہیں۔ مسلم ریاست کے جملہ شہریوں کو ریاستی قوانین اور اصول و ضوابط کا پابند بنایا گیا ہے ۔ انہی ضابطوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلم ریاست اور معاشرے کو امن اور بقائے باہمی کا نمونہ ہونا چاہئے۔ اس لئے مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے، اُس کے نظم اور اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور اس کے خلاف اِعلانِ جنگ کرنے کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ اس عمل کو شرعاً بغاوت اور خروج کا نام دیا گیا ہے۔خدانخواستہ اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو مسلم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دہشت گردی اور بغاوت کے لئے بنا جواز بنانے کی اجازت نہیں۔ احادیثِ رسول اکی روشنی میں مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کا جواز اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک حکمران کفرِ بواح (صریح ، اعلانیہ اور قطعی کفر) کے مرتکب نہ ہوں اور اقامت صلوة و دیگر اسلامی احکامات و شعائر کی بجا آوری کو بذریعہ طاقت روکنا نہ شروع کردیں۔ آیات و اَحادیث اور تصریحاتِ ائمہ تفسیر و فقہ کی روشنی میں بغاوت کی حرمت و ممانعت واضح ہے۔ اس سلسلے میں احادیث کے علاوہ صحابہ کرام، تابعین ، اتباع التابعین ، امام اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور دیگر جلیل القدر ائمہ دین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فتاویٰ کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کی قطعی ممانعت پر اِجماع ِ اُمت ہے اور کسی مذہب و مسلک میں بھی اس پر اختلاف نہیں ہے ایسے خروج اور بغاوت کو جو نظم ریاست کے خلاف ہو اور ہیئت اجتماعی کے باقاعدہ اِذن و اجازت کے بغیر ہو وہ خانہ جنگی، دہشت گردی اور فتنہ و فساد ہوتاہے، اسے کسی لحاظ سے بھی جہاد کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ جہاں تک کسی بدکردار مسلمان حکمران یا حکومت کو راہ راست پر لانے کے لئے جدوجہد کا تعلق ہے تووہ ہر گز منع نہیں ہے۔ مسلح جدوجہد اور بغاوت کی ممانعت سے مراد یہ نہیں کہ برائی نہ کہا جائے اور اسے روکنے کی کوشش نہ کی جائے یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ِ ایمانی کو ترک کردیا جائے ۔ احقاقِ حق اور ابطال باطل مسلمانوں پر واجب ہے۔ اسی طرح اصلاح معاشرہ اور ابلیسی قوتوں کا مقابلہ دینی فرائض میں سے ہے ۔ حکمرانوں اور نظامِ حکومت کی اصلاح کے لئے انہیں ظلم و جور اور فسق و فجور سے روکنے کے لئے تمام آئینی ، سیاسی ، جمہوری اور قانونی پر امن طریقے اپنانا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہیں۔ اعلاء کلمہٴ حق ، انسداد ِاستبداد اور بحالی نظام عدل کے لئے انفرادی، اجتماعی، تنظیمی اور جماعتی سطح پر تمام کاوشیں بروئے کار لانا فرائض ِ دین میں سے ہے۔(جاری ہے) -5دہشت گردی کی تاریخ میں خوارج کا عنصر ناقابل ِ فراموش ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خوارج کون تھے،ان کا شرعی حکم کیا ہے اور کیا موجودہ دور کے دہشت گرد خوارج ہی کا تسلسل ہیں؟ جواب ۔۔۔ ”خوارج “ دین اسلام کے باغی اور سرکش تھے۔ ان کی ابتداء عہد رسالت مآب میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی فکری تشکیل دورِ عثمانی میں اور منظم و مسلح ظہور دور علوی میں ہوا۔ ان خوارج کے اعمال و عبادات اور ظاہراً پابندی شریعت ایسی تھی کہ وہ صحابہ کرام سے بھی بعض اوقات زیادہ عابد و زاہد محسوس ہوتے لیکن حضور نبی اکرم کے واضح فرمان کے مطابق وہ اسلام سے کلیتاً خارج تھے۔ خوارج مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھتے ، ان کی رائے اور نظریہ سے اتفاق نہ کرنے کے باعث صحابہ کرام کی بھی تکفیر کرتے، نعرہ اسلامی ”لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہ“ بلند کرتے اور خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف مسلح خروج، بغاوت اور قتال کو نہ صرف جائز سمجھتے بلکہ عملاً اس کے ضمن میں قتل و غارت گری کرتے رہے۔ یہی خوارج در حقیقت تاریخ اسلام میں سب سے پہلا دہشت گرد اور نظم ریاست کے خلاف باغی گروہ تھا۔ نصوص حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ظہور ہر دور میں ہوتا رہے گا۔ گویا خوارج سے مراد لفظ وہی ایک طبقہ نہیں تھا جو خلافت ِ راشدہ کے خلاف نکلا بلکہ ایسی ہی صفات ،نظریات اور دہشت گردانہ طرز عمل کے حامل وہ تمام گروہ اور طبقات ہوں گے جو قیامت تک اسی انداز سے نکلتے رہیں گے اور مسلح دہشت گردانہ کارروائیاں جہاد کے نام پر کریں گے۔ یہ شرعی اعمال کی بدرجہ اَتم ظاہری بجا آوری کے باوجود فکر و نظر کی اس خرابی کے سبب اسلام سے خارج تصور ہوں گے۔ فرامین رسول کی روشنی میں ایسے لوگوں کو مذاکرات کے نام پر مہلت دینا یا اُنکے مکمل خاتمے کے بغیر چھوڑ دینا اسلامی ریاست کیلئے روا نہیں ،سوائے اس کے کہ وہ خود ہتھیار پھینک کر اپنے غلط عقائد و نظریات سے مکمل طور پر توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں۔ -6ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ فتنہ انگیزی ، دہشت گردی اور مسلح بغاوت کے خاتمے کے لئے حکومت اور مقتدر طبقات کو کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں ؟ جواب …حکومت اور مقتدر اداروں کو چاہئے کہ وہ ملکی اور عالمی سطح پر ایسے تمام محرکات اور اسباب کا تدارک کریں جن سے عوام الناس تشکیک کا شکار ہوتے ہیں اور دہشت گردی کے سرغنے کئی مضطرب اور جذباتی نوجوانوں کو آسانی سے اکسانے، ورغلانے اور گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ انہیں دہشت گردی کیلئے تیار کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ دہشت گرد عناصر جن واقعات و حالات کو اپنے ناپاک ایجنڈے کیلئے بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں ان پالیسیوں میں واضح اور مثبت تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ ان اسباب و محرکات کا بھی قطع قمع کیا جاسکے۔ اسی طرح اگر عالمی طاقتیں اور پاکستانی ایجنسیاں عوام کے حقیقی مسائل ، مشکلات اور شکایات کی طرف توجہ نہیں دیں گی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دورخی پالیسی نہیں چھوڑیں گی ، اس وقت تک امن کی حقیقی بحالی محض خواب ہی رہے گی۔ (دہشت گردی اور فتنہء خوارج کے دیباچہ سے اقتباس ) جنگ اخبار ادارتی صفحہ ۔ 18 مارچ 2010 |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (22-03-10) |
|
|
#4 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,912
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دہشت گردی اور اس کا تدارک (آخری قسط) نیت نیک ہونے سے بھی ناجائز و حرام کام کبھی جائزوحلال نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری آج بھی دہشت گرد خوارج کی طرح اسلام کا ہی نام لیتے اور اعلاء کلمہٴ حق کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن ان کے جملہ اقدامات اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ جب ان کے حامیوں کے پاس ان کے جملہ اقدامات اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ جب ان کے حامیوں کے پاس ان کے دفاع کے لئے کوئی شرعی دلیل نہیں رہتی تو وہ بات کا رخ حکمرانوں کے غیر شرعی کاموں اور عالمی طاقتوں کے ظلم و استبداد کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ اس طرح یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ دہشت گرد اگرچہ اقدامات تو غلط کر رہے ہیں مگر ان کی نیت درست ہے۔ یقینا یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس کا شکار آج کل پڑھے لکھے بھی ہیں اور اَن پڑھ بھی۔ برائی ہر صورت میں برائی ہے اور ظلم کی جو توجیہ بھی کریں وہ ظلم ہی رہے گا لہٰذا کوئی بھی فعل حرام نیت کے اچھے ہونے سے حلال نہیں بن سکتا کیونکہ شریعت اسلامی میں حکم عمل پر لگایا جاتاہے ۔ قتل ِ انسانیت ،جبر و بربریت ، دہشت گردی ، فساد فی الارض اور مسلح بغاوت کسی بھی نیک ارادہ و عزم کے باوجود قابل معافی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کسی رخصت کی گنجائش ہے لہٰذا دہشت گردوں اور ان کے بہی خواہوں کا یہ استدلال بھی شرعاً باطل ہے۔ چنانچہ اپنے دلائل کا آغاز ہم اسی مغالطے کی وضاحت سے کر رہے ہیں کہ حسن ِ نیت سے بدی کسی صورت بھی نیکی نہیں بن سکتی۔ حسن نیت سے بدی نیکی نہیں بن سکتی اگر قتل و غارت اور تخریب کاری کے پیچھے کوئی نیک نیت اور اچھا مقصد کار فرما ہو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس نیک نیتی کے باعث ظلم و بربریت کا عمل جائز قرار پا سکتا ہے؟ بعض لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ خود کش دھماکے غلط سہی ، بے گناہ لوگوں کا قتل عام بھی برا سہی ، ملک میں فتنہ و فساد پھیلانا بھی حرام سہی، تعلیمی ، تربیتی ، صنعتی ، تجارتی اور عوامی فلاح و بہبود کے مراکز کو تباہ و برباد کرنا بھی گناہ عظیم سہی مگر کرنے والوں کی نیت نیک ہوتی ہے اور وہ یہ سب کچھ غیر ملکی ظلم وبربریت اور مسلمانوں پر کی جانے والی جارحیت کے ردّعمل کے طور پر جہاد سمجھ کر کرتے ہیں لہٰذا ان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ اس مختصر بحث میں ہم اس سوچ کا جائزہ قرآ ن و سنت کی روشنی میں لیں گے کہ قرب الٰہی کے حصول کی نیت سے کی جانے والی بت پرستی کو قرآن حکیم نے رد کردیا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن و سنت میں بڑی وضاحت و تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ تفہیم کے لئے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ” (لوگوں سے کہہ دیں) سن لو! طاعت و بندگی خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے ، اور جن (کفار) نے اللہ کے سوا (بتوں کو ) دوست بنا رکھا ہے ، وہ (اپنی بت پرستی کے جھوٹے جواز کے لئے یہ کہتے ہیں کہ ) ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں، بے شک اللہ ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا ۔ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقینا اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے ، بڑا ناشکر گزار ہےo“ مشرکین مکہ سے جب ان کی بت پرستی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اس پوجا کے عوض اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کریں گے ۔ قرب الٰہی کے حصول کی نیت اچھی ہے مگر بت پرستی کفر و شرک ہے ۔ سو ایک اچھی خواہش اور نیک نیت کے باعث بت پرستی کے مشرکانہ فعل کو جواز نہیں مل سکا۔ اسی طرح دہشت گردوں کا دعویٰ اصلاح بھی قبول نہیں ہوگا کیونکہ دہشت گرد اپنے عمل سے اصلاح نہیں بلکہ خونریزی اور فساد انگیزی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی (ہوتا )ہے کہ جس کی گفتگو دنیاوی زندگی میں تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اپنے دل کی بات پر گواہ بھی بناتا ہے ، حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑالو ہے 0اور جب وہ (آپ سے )پھرجاتا ہے تو زمین میں ( ہر ممکن) بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد انگیزی کرے اور کھیتیاں اور جانیں تباہ کردے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں فرماتا0 اور جب اسے اس ( ظلم و فسادپر ) کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اس کا غرور اسے مزید گناہ پر اکساتا ہے، پس اس کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ یقیناً برا ٹھکانا ہے 0 “ ان آیات مبارکہ میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ کئی لوگ ایسی گفتگو کریں گے جو ظاہری دلائل کے تناظر میں اچھی لگے گی۔ وہ لوگ اپنی نیک نیتی پر قسمیں کھائیں گے اور اپنے اچھے مقاصد اور نیک اہداف پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنائیں گے مگر ان کے ایسے قول و شہادت کے باوجود باری تعالیٰ نے انہیں فسادی اور شرپسند قرار دیا ہے اور ان کے لئے عذاب جہنم کا اعلان فرمایا ہے ۔ گویا ان شرپسندوں کی طرف سے اپنی نیتوں پر قسمیں کھانا اس لئے رد کردیا گیا کہ ان کا عمل واضح طور پر دہشت گردی اور فساد انگیزی پر مشتمل ہے لہٰذا ان کی مجرمانہ کارروائیوں کو ان کی نیتوں اور ارادوں کی صفائی میں کھائی گئی قسموں سے جواز اور معافی نہیں مل سکی۔ یہ قرآن مجید اور شریعت اسلامیہ کا بنیادی قاعدہ ہے۔ یہی نکتہ درج ذیل آیت کریمہ میں واضح کیا گیاہے؛ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو ، تو کہتے ہیں : ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں (یعنی مصلحین ہیں ) 0آگاہ ہو جاؤ!یہی لوگ (حقیقت میں ) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں ( اس کا ) احساس تک نہیں 0“ آپ نے دیکھا کہ یہاں بھی اسی مفسدانہ ذہنیت اور مجرمانہ نفسیات کا ذکر ہے کہ فتنہ و فساد بپا کرنے والے کبھی اپنے عمل کو فساد نہیں سمجھتے بلکہ اسے اصلاح اور جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ بزعم خویش معاشرے میں خیر و صلاح لانے کے نام پر ظلم و سفاکی کی ساری کارروائیاں کرتے ہیں ۔ آج یہی المیہ ہے کہ دہشت گردی، قتل و غارت گری اور فساد انگیزی کے مرتکب لوگ ، مجرمانہ ، باغیانہ ، ظالمانہ، سفاکانہ اور کافرانہ کارروائیوں کو ملکی مفاد کے دفاع ، اسلام کی حفاظت اور غیر ملکی جارحیت کے خلاف ردّعمل کے عنوانات کا جامہ ہائے جواز پہناتے ہیں۔ یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح نیت کے اچھے ہونے سے فعل حرام جائز قرارنہیں پاسکتا ۔ ارادے کے نیک ہونے سے کفریہ فعل درست قرار نہیں پاسکتا اور مقاصد کے پاک ہونے سے ناپاک فعل طاہر و مطہر نہیں ہوسکتا، اسی طرح جہاد کی نیت اور ارادہ کر لینے سے فساد کبھی جائز نہیں ہوسکتا ۔دین اسلام کی حفاظت ، غیر ملکی جارحیت اور امت مسلمہ پر ہونے والی انصافیوں اور زیادتیوں کے انتقام کی نیت اور ارادہ کر لینے سے بے گناہ اور پر امن شہریوں کا قتل عام ، عوامی املاک ، مساجد اور آبادیوں کی تباہی و بربادی اور بے دریغ ظلم وبربریت کبھی حلال نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح احکام اسلام اور نظام عدل کے نفاذ کی نیت سے دہشت گردی اور قتل و غارت گری بھی جائز نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان مذموم کارروائیوں کے لئے کوئی اسثناء یا معافی و رخصت کی صورت نکل سکتی ہے۔ ایسے باغیانہ اور مفسدانہ گروہوں کے بارے میں قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے۔” یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں “ قرآن و حدیث کے عمیق مطالعے سے یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اسلام جائز مقاصد کو صرف جائز طریقوں سے پانے، نیک اہداف کو صرف حلال وسائل سے حاصل کرنے اور پاکیزہ منازل تک صرف درست وسائط سے پہنچنے کی شرط عائد کرتا ہے ۔ پاک منزل کبھی پلید راستے سے نہیں ملتی ۔ مسجد کی تعمیر بڑا نیک کام ہے لیکن بینک میں ڈاکہ ڈال کر اس کی تعمیر کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رحم کے مقاصد کبھی ظالمانہ طریقوں سے حاصل نہیں ہوتے اور مومنانہ عزائم کبھی کافرانہ روش سے پورے نہیں ہوتے۔ مختصر یہ کہ خیر ، خیر ہی کے طریق سے آتی ہے، شرکے طریق سے نہیں ۔ یہ اس دین کی عظمت اور طہارت ہے کہ اس نے منزل اور راستہ دونوں کی اصلاح و تطہیر کی ہے، مقصد اور طریقہ دونوں کو پاکیزہ اور مہذب بنایا ہے۔ جو لوگ اپنی ظالمانہ روش اور مذموم کردار کے جواز کے لئے انما الاعمال بالنیات( اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ) سے استدلال کرتے ہیں ، ان کی تمام تاویلات فاسد اور باطل ہیں۔ وہ کبھی غلط کام کو درست نہیں کر سکتیں اور اس حدیث نبوی ﷺ کا تعلق صرف ان اعمال سے ہے جو بظاہر جائز، مشروع اور صالح ہوں۔ اس حدیث نبوی ﷺ کا تعلق صرف ان اعمال سے ہے یعنی اگر نیت میں اخلاص ہے تو عمل قبول ورنہ رد کردیئے جائیں گے۔ اگر نیت اچھی نہیں ہوگی یا مطلوبہ نیت مفقود ہوگی تو وہ اعمال ظاہراً اچھے ہو کر بھی عبادت نہیں بنتے۔ وہ مردود ہو سکتے ہیں یا بے اجر ہوسکتے ہیں ۔ مگر جو اعمال اپنے وجود میں ہی ممنوع ، ظلم ، حرام یا کفر ہوں ، انہیں اچھی سے اچھی نیت بلکہ کئی اچھی نیتیں مل کر بھی مقبول ، جائز یا ماجور نہیں بنا سکتیں۔یہ ایسامتفقہ شرعی کلیہ اور اسلامی قاعدہ ہے ، صحابہ و تابعین سے لے کر فقہا ء و محدثین اور علماء و محققین میں سے کسی نے بھی تاحال اس سے کبھی اختلاف نہیں کیا۔ نیز انما الاعمال بالنیات کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ نیتوں کے مطابق ہی اعمال کا صدور ہوتا ہے یعنی جیسی نیت اور ارادہ ہوگا ویسے ہی افعال سرزد ہوں گے۔ چنانچہ ایک دہشت گرد کی قتل و غارت اور لوٹ مار اس کے خبث نیت یعنی اس کے مذموم عقائد و نظریات کی غماز ہے کہ صالح نظریات کی۔ ظلم و ستم اس کی سنگ دلی کی علامت ہے نہ کہ رحم دلی کی لہٰذا باغی ، مجرم ، شرپسند ، ظالم اور جابرلوگ اپنی غلط کارروائیوں کے جھوٹے جواز کیلئے جو چاہیں تاویلات وضع کرتے رہیں ان کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ (دہشت گردی اور فتنہء خوارج کا دیپاچہ کے اختتامی کلمات) جنگ اخبار ادارتی صفحہ ۔ 19 مارچ 2010۔ دہشت گردی اور فتنہء خوارج ۔ دراصل قرآن و حدیث کی روشنی میں دہشت گردی ، خود کش بمبار حملہ آوروں کے ذریعے بےگناہ و معصوم جانوں کے ہولناک قتل، اپنے علاوہ ساری امت کو کافر و مشرک سمجھنے اور انکا قتل عام حق جاننے کی خوارجی سوچ اور درپردہ دجالی قوتوں کا ساتھ دینے والے فتنے کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب " دہشت گردی اور فتنہء خوارج" کا مطالعہ اس لنک سے کریں۔ شکریہ ۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,912
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
خلط مبحث کا ایک عظیم الشان مظھر ہیں یہ حضرت خود بھی اور ان کی یہ کتاب بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوارج حضرت علی کے خلاف بغاوت پر اترے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خیال ہے مش یا زارادی میں سے آج کون مماثلت رکھتا ہے شیر خدا سے(نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔۔۔ طالبان کے غلط ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حقائق سے ہی نظریں چرانا شروع کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال وہی پرانا ہے کہ اگر ہر دور مین یہ فنامنا چلتا رہتا ہے تو امت مسلمہ کے خوارج 9 11 سے پہلے کیوں نہیں سامنے آئے اور اس کے بعد یہ کھاں س نمودار ہو گئے ہیں؟؟؟؟؟؟؟ بات نظریے اور فلسفے سے زیادہ انتقامی اقدامات کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں تک طالبان کے حامیوں سے کچھ میری بات چیت ہوئی ہے ان کا یہی کہنا ہے کہ انہوں نے قبائل میں اپنے بھائوں کو پناہ دے کر کوئی جرم نہیں کیا تھا جس کی سزا انہیں آپریشن کر کے 2003 سے دی جانا شروع ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب پتھر مانے پر پھول تو نہیں آئیں گے نا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پاک آرمی نے ناپاک امریکی فوج کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائوں کو پناہ دینے والے قبائل کے خلاف کیوں جنگ کا آغاز کیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اس پر کوئی اصول۔حکم،بحث اس کتااب میں آپکو نہیں ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟؟؟؟ کیا طالبان ہی اس جنگ کا واحد فریق ہیں کہ ان کے عمل کی پڑتال تو کی جائے اور آرمی آپریشن خدائی صحیفہ ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اس سے گریز کا مشورہ دینے والے بھی ان ہی طالبان کی صف میں شمار کیے جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نعیم۔ (24-03-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اسی لیے کہتا ہوں کہ کہ کسی پر "فتویٰ" لگانے سے قبل خوب غور و خوض کر لینا چاہیے۔ لوگوں نے تو حضرت اما م حسین کی اسلام کو زندہ کرنے کی مساعی کو بھی بغاوت سے تشبیہ دینے میں کسر نہیں چھوڑی۔ مسلمان تو یزید بھی تھا ۔
خروج تو زید بن علی اور نفس ذکیہ نے بھی اموی حکومت کے خلاف کیا تھا اور یاد رہے کہ اما م ابو حنیفہ نے ان کی حمایت و تائید کی تھی ۔ طالبان کا مسئلہ پیچیدا ہو چُکا ہے ۔ طالبان میں اچھے بھی ہیں جو پاکستانی افواج سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن ان پر جنگ ٹھونسی جا رہی ہے لیکن طالبان میں وہ ملک دشمن اور بیوقوف عناصر بھی موجود ہیں جو افواج پاکستان سے براہ راست تصادم میں ملوث ہیں۔ اور ملک میں انارکی پھیلا رہے ہیں۔ ادھر سے افواج کا مسئلہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے۔جب 80 فیصد سے زائد پاکستانی قوم کا ماننا ہے کہ امریکی پاکستان دشمن ہیں تو کیونکر افواج پاکستان ان سے تربیت حاصل کر رہی ہیں؟کیونکر ان کی مداخلت ان علاقوں میں بڑھتی جا رہی ہے ؟(ہارون الرشید کے گھر کو مسمار کرنے کا واقعہ:جس میں امریکی افواج کی موجودگی کے شواہد ہیں )۔ڈرون حملوں میں اب تک ہزاروں بے گناہ معصوم پاکستانی شہید ہو چُکے ہیں کیونکر پاکستانی افواج ان پر انگشت بدنداں ہیں؟ یا تو پاکستانی عوام کو یہ سمجھا دیجیے کہ امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں بلکہ خیر خواہ ہیں یا پھر اس معمہ کو حل کر دیجیے کہ کیونکر افواج پاکستان ان امریکیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جنہوں نے CRUSADEکا نعرہ بلند کیا تھا؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,912
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بن پڑھے فتوے لگانے والے ہیں۔ کسی کی ذات ناپسند ہو تو آنکھیں بند کرکے اسکے منہ سے نکلی قرآن و حدیث کی حقیقتوں کا بھی انکار کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اگر محبان واقعی اس تحریر کا مطالعہ فرما کر تبصرہ فرماتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ ڈاکٹرطاہر القادری نے براہ راست طالبان کو کہیں بھی مخاطب کیا ہے نہ ٹارگٹ کیا ہے۔ بلکہ انہوں نے خوارج کی نشان دہی کی ہے۔ اوریہ نشان دہی عامۃ المسلمین کو نہ صرف پسند آئی بلکہ انکا بھلا بھی ہوا۔ مگر کیا کریں کہ بےنقاب ہونے والوں اور انکے حمایتوں کے لیے یہ امر یقینا پریشان کن بن گیا ۔ خوارج ۔ سی این این پر انٹرویو کے دوران کرسٹینا امانپور سے براہ راست انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب نے خوارج پر فتوی کے حوالے سے جو کچھ کہا۔ اسکا مفہوم کچھ یوں تھا۔ " میں اپنے مخاطبین کو تین مختلف اقسام میں دیکھتا ہوں۔ خوارج فکر کے حاملین وہ ہیں جو اپنے سوا باقی سارے پاکستان یا انکی طرح ہتھیار نہ اٹھانے والے سارے مسلمانوں کے کافر سمجھتے ہیں۔ اپنے ساتھ نہ چلنے والے مسلمانوں، بےگناہ شہریوں، معصوم بچوں کا قتل عام جائز اور حلال سمجھتے ہیں۔ نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ انہیں ہلاک کرکے اور خود کو بھی اس راہ میں بذریعہ خود کشی ہلاک کرکے خود کو جنت کا حقدار بھی سمجھتے ہیں۔ دوسری قسم وہ لوگ جو ابھی تک ایسے خوارج کے زیر تربیت یا زیر تعلیم ہیں جو خود تو ابھی اسی انتہا تک نہیں پہنچے لیکن رفتہ رفتہ انکی برین واشنگ کرکے مستقبل میں دہشت گردی کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ چونکہ فی الوقت وہ اپنی سوچ و فکر میں اس انتہا تک نہیں پہنچے اس لیے انہیں خوارج نہیں کہا جاسکتا۔ تیسری قسم کے وہ لوگ بالخصوص نوجوان ہیں جو مختلف قومی و عالمی حالات کے تناظر میں ایسے دہشت گردوں کے اخلاقی و فکری طور پر حمایتی ہیں۔ اور انکےا قدامات کو کسی نہ کسی طرح درست سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے توقع ظاہر کی کہ دوسری اور تیسری قسم کے لوگوں کو اس کتاب کے ذریعے اسلام کے حقیقی پیغام امن و محبت اور جہاد کے تصور پر بہت حد تک رہنمائی ملے گی اور وہ انتہا پسندی کی بجائے خود کو تعلیم، ٹیکنالوجی، اخلاقی و روحانی طور پر مضبوط و سربلند کریں گے تاکہ آنے والا وقت مسلمانوںکو ایک عظیم قوت کے طور پر عالمی نقشے پر ابھار سکے۔ حوالہ کے لیے یوٹیوب پر ڈاکٹر طاہر القادری کا سی این این پر دیا گیا انٹرویو باآسانی سنا جاسکتا ہے۔ خوارج کے حوالہ سے ایک غلط فہمی کا ازالہ ۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، اور انکی روشنی میں علامہ ابن تیمیہ ، امام ابن حجر عسقلانی ، امام نووی ، ابن نجیم حنفی ، جیسے اجل آئمہ اسلام فرماتے ہیں کہ خوارج کا ظہور تو حضرت علی کے دور میں ہوا لیکن خارجی فکر و سوچ کے حاملین قیامت تک نکلتے رہیں گے اور دجالی قوتوں کے حمایتی ہوں گے۔ اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے " دہشت گردی اور فتنہء خوارج ۔ باب ہفتم۔ " کا مطالعہ مفید رہے گا۔ والسلام علیکم Last edited by نعیم۔; 24-03-10 at 10:07 PM. |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (24-03-10) |
![]() |
| Tags |
| search, پاکستان, واقعات, قرآن, قرآنی, لوگ, نماز, نظر, موجودہ, محبت, مسائل, آج, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, بچوں, جواب, حدیث, حسن, خودکش, دوست, راستہ, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|