|
دہشت گرد سربجیت رہا کیوں نہ ہوسکا؟

02-08-11, 05:03 PM
”اگلے سال آﺅں گی، بھائی کو ساتھ لے کر جاﺅں گی“ یہ الفاظ تھے 27 پاکستانیوں کے قاتل سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور کے جو اس نے 23 اپریل 2008ءکو پاکستان آمد اور اپنے بھائی کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اسے پاکستان میں کچھ لوگوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ اس کا بھائی رہا ہو جائے گا، اسی لئے اس نے ببانگ دہل یہ الفاظ کہے تھے۔ ماہ جون کے آغاز میں ایک بار پھر دلبیر کور پاکستان پہنچ گئی۔ واہگہ بارڈر پر جس طرح اس نے ہاتھ ہلا ہلا کر تصویریں بنوائیں اس سے صاف لگ رہا تھا کہ اس دفعہ معاملہ ضرور کچھ نہ کچھ طے پا چکا ہے۔ اس نے اگلے ہی روز لاہور پریس کلب میں ایک وکیل کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے وہی پرانا راگ الاپا کہ اس کا بھائی بے گناہ ہے اور یہ کہ پاکستان اسے رہا کر دے۔ اس کا کہنا تھا کہ اصل دہشت گرد منجیت سنگھ ہے جبکہ سربجیت سنگھ محض شبے میں پکڑا گیا ہے لیکن سربجیت سنگھ کو رہا کروانے والی دلبیر کور اور اس کا حمایتی بھارت منجیت سنگھ کو پاکستان کے حوالے کرنے کی بھی بات نہیں کرتے جس کے جرم کا وہ اعتراف کرتے رہتے ہیں۔ دلبیر کور کی یوں آمد اور پریس کانفرنس نے محبان اسلام و پاکستان کے تن بدن میں آگ لگا دی کہ بھارت تو ہمارے قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرے اور کسی پاکستانی قیدی کے لواحقین کو بھارت جا کر کسی سے ملنے کی اجازت نہ ہو جبکہ دلبیر کور کھلے عام دندناتی پھرے۔ ویسے اسے تو یہ جرا ¿ت پرویز مشرف کی طرف سے حاصل ہوئی تھی جس نے بڑے بڑے نامی گرامی بھارتی دہشت گرد رہا کر دیئے تھے۔ یوں بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائیں۔ بھارت کو ہر طرح کا ریلیف مہیا کیا، سارے بارڈر اور کنٹرول لائن پر بھارت کو دنیا کا سخت ترین حصار قائم کرنے کا خوب موقع فراہم کیا لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ اب صورتحال کچھ نہ کچھ ہی سہی.... بہرحال بدل چکی ہے۔
6 جون کو دلبیر کور کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی فیصل آباد کی ایک خاتون نے بیان دیا کہ اگر اس کے شوہر کے قاتل کو رہا کیا گیا تو وہ اس پر حکومت پاکستان کو بھی معاف نہیں کرے گی، ساتھ اس نے حکومت کو خودکشی کی دھمکی بھی دے دی۔ اس کے جذبات نے بھی ہر پاکستانی کو پریشان کر دیا۔ دلبیر کور کی پریس کانفرنس کے روز میرا دل بھی بوجھل تھا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ میں نے فوراً امیر جماعة الدعوة حافظ محمد سعید سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مولانا امیر حمزہ صاحب سے بات کر کے اس مسئلے اور اس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے الانے کی سبیل کرو.... سو بات چل پڑی.... اجلاس شروع ہوا مولانا امیر حمزہ، محمد یحییٰ مجاہد، قاضی کاشف نیاز اور راقم الحروف کے علاوہ حبیب اللہ سلفی اور ارشاد احمد ارشد شریک مجلس ہوئے۔ فوراً میو یوتھ فورم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسحاق میو سے بات کی گئی کیونکہ وہ سربجیت سنگھ کے ہاتھوں شہید اور زخمی ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ سے واقف تھے۔ ڈاکٹر محمد اسحاق خود بھی ایک انتہائی محب وطن شخصیت ہیں انہوں نے بھی اس کام میں ہاتھ بٹانے کی حامی بھر لی اور پھر اگلے ہی روز انہوں نے میو یوتھ فورم کے نوجوانوں کو لاہور پریس کلب کے باہر بڑی تعداد میں طلب کر لیا۔ وہاں ڈاکٹر محمد اسحاق کے علاوہ مولانا امیر حمزہ، راقم الحروف، عتیق الرحمن چوہان مسﺅل جماعة الدعوة ڈیرہ اسماعیل خاں کے علاوہ بھارت کے ڈسے پاکستانیوں نے بھی گفتگو کی اور پاکستانی قوم کے جذبات دنیا تک پہنچائے۔ دلبیر کور کو امید تھی کہ پاکستانی حکام بچھ جائیں گے اور اسے بھائی تک لے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ اسے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ کرنا پڑی جس کی سماعت کے بعد ہی اسے ملاقات کی اجازت مل سکی۔ پاکستان میں اس سلسلے میں اشتعال بڑھ رہا تھا۔ دلبیر کور نے آگے بڑھ کر اسلام آباد میں صدر یا وزیراعظم سے ملاقات کی کوششیں شروع کیں لیکن اس کی بات نہ بن سکی۔ اس دوران پاکستانی میڈیا سے روابط ہوئے۔ ارشاد احمد ارشد نے خصوصاً سربجیت سنگھ کی دہشت گردی کے متاثرین کو ڈھونڈ نکالا اور میڈیا سے ملوانا شروع کیا۔ ان کی آواز دنیا تک پہنچنا شروع ہوئی تو بھارت نے اگلا اور نیا قدم اٹھانا شروع کر دیا۔
بھارت سے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔ وہ لوگ جو 10 سے لے کر 20 سال تک بھارتی جیلوں میں بندتھے رہا ہونا شروع ہو گئے۔ بھارت کا خیال یہی تھا کہ اس سے ضرور پاکستانی حکام کے دل پسیج جائیں گے اور سربجیت سنگھ کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ بھارت نے دو ہفتوں کے دوران درجنوں پاکستانی قیدیوں کو چھوڑ دیا۔ ان میں 11 قیدی وہ بھی تھے جن کے والدین انہیں بھارت اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔ ان میں سے ایک بچی کی عمر اس وقت محض چھ سال تھی جو اب 17 سال کی ہو کر پاکستان پہنچی ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے ان 11 معصوم بچوں کو بھی رہا کر دیا جو مچھیروں کی اولاد تھے اور سمندروں میں کشتیوں پر پکڑے گئے تھے۔ اس کے بعد 5 ایسے قیدی پاکستان پہنچے جو تقریباً مکمل طور پر ذہی مریض تھے۔ اس کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ بھارت میں پاکستان کے مایہ ناز نیورو سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کی رہائی کا تذکرہ شروع ہوا جو 19 سال سے وہاں بند ہیں اور اب انہیں اٹھا کر جیل ڈالا گیا ہے کیونکہ وہ اب 78 سال کے ہیں اور انتہائی ضعیف و نحیف ہیں۔ ڈاکٹر خلیل چشتی وہاں ایک رشتہ دار کی شادی میں گئے تھے، شادی میں فائرنگ ہوئی اور ایک شخص قتل ہو گیا۔ اس واقعہ میں انہیں بھی پکڑ لیا گیا اور اب 19 سال بعد ان کا تذکرہ کہیں جا کے شروع ہوا ہے۔ بھارت قیدی رہا کر رہا تھا لیکن پاکستان میں مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا۔ اسی دوران نوائے وقت کے فورم انچارج خواجہ فرخ سعید نے ایک خوبصورت مجلس سجائی جس میں سربجیت کے ہاتھوں شہید ہونے والے 12 سالہ بچے بلال کی والدہ کو بھی بلایا گیا۔ شہید خالد محمود کی والدہ بھی موجود تھیں۔ بھارت میں بند قیدیوں کے لواحقین موجود تھے مولانا امیر حمزہ مہمان خصوصی تھے۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ، مرزا ایوب بشپ، ڈاکٹر محمد اسحاق نے بھی گفتگو کی۔ قیدیوں اور لواحقین کے شہداءنے جب اپنا اپنا درد بیان کیا تو اس کی گونج ایوانوں تک پہنچی۔ اس دوران کراچی میں جماع الدعوة کی اے پی سی ہوئی جس میں سربجیت کی رہائی کی سخت مخالف کی گئی اور سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے والے ہندو دہشت گرد کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کانفرنس اور اس کے اعلامیے نے بھارت میں تہلکہ مچا دیا۔ دلبیر کور مہینہ بھر لاہور گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں بیٹھی اپیلیں جاری کرتی رہی۔ آخرکار اس نے یکم جولائی کو ایک بار پھر سربجیت سے ملاقات کی اور پانچ جولائی کو تھک ہار کر واپس لوٹ گئی۔ مولانا امیر حمزہ سے ملاقات اور بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ آپ اور ہم سب کی کوششوں سے دہشت گرد رہا نہ ہو سکا۔ بے گناہوں کو جیلوں سے رہائی ملی، اللہ ہم کو اس کے بدلے جہنم سے رہائی دیکر اپنی جنتوں میں داخلے کا سرٹیفکیٹ دے دے تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔
بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|