واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




سوات میں تباہ کاریوں کے بعد زندگی کا معمول

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-11, 10:55 PM   #1
سوات میں تباہ کاریوں کے بعد زندگی کا معمول
کلمہ حق کلمہ حق آف لائن ہے 08-12-11, 10:55 PM

مینگورہ: سوات کی خواتین اپنا گھربار چلانے کیلیۓ پہلے سے کہیں زیادہ محنت کر رہی ہیں۔۔
کچھ حد تک یہ ان کو خوش بھی کرتا ہے کہ وہ جینے کے حق کا دعوی کر سکیں جن پر عسکریت پسندی حاوی رہی ہے، آئی-آر-آئی-این کی رپورٹ کے مطابق اس کا خاتمہ جولائی 2009 میں ملٹری آپریشن کے بعد ہوا جب ہزاروں بے گھر افراد واپس آئے۔
" ہم پر اب کوئی زبردستی نہیں کہ ہم دم گھٹا دینا والا نیلا برقع پہنیں، جس کو طالبان نے مسلط کیا تھا، بچیاں سکول جا رہی ہیں اور خواتین فیکٹریوں اور کالجز جا رہی ہیں جہاں سے انہیں نکال دیا گیا تھا" یہ عقیلہ خان کا کہنا تھا جو کہ 42 سال کی ہیں اور مینگورہ میں ایک سرگرم کارکن ہیں اور وہ اب دوبارہ سے سفید چادر اوڑھتی ہیں۔
اگرچہ سوات میں عسکریت پسندی کم ہوچکی ہے لیکن خواتین کو پھر بھی دوہرا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 2010 کے ایک تباہ کن سیلاب جس کے بعد میں بھی سیلاب آئے جو کہ کم شدت کے تھے لیکن پھر بھی نقصان دہ تھے۔ ریاض خان کا کہنا تھا کہ ذراعت بہت زیادہ متاثر ہوئی جس میں مکئی کی فصل تباہ ہوئی اور یہ ہماری ایک اہم فصل تھی"۔
سوات کے ضلعی کوارڈینیشن آفیسر کا کہنا تھا کہ" وادی میں سیلاب کے بعد تعمیر کا کام جاری ہے۔ بیرونی امداد کی مدد سے فوج پل بنا رہی ہے اور کچھ اقدامات نے زندگی کو واپس لانے میں مدد دی ہے"۔
عقیلہ کا کہنا تھا کہ" یہاں زندگی ابھی بھی کٹھن ہے اور خواتین مسلسل برداشت کر رہی ہیں۔" سیاحت کی انڈسٹری سے بہت مرد وابستہ تھے ، وہ سب ہوٹلز اور کیفیز 2010 کے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئے جو انہوں عسکریت پسندی ختم ہونے کے بعد بنائے تھے اور پھر بہت بڑے پمانے پر 2010 اور 2011 کے سیلاب کی وجہ سے نقصان ہوا"۔
خواتین گھر میں کھانا لانے میں بہت محنت کر رہی ہیں۔ سلمہ بی بی جو کہ 30 سال کی ہیں، کا کہنا تھا " میں نے اپنے وہ کنگن بیچ دیے ہیں جو مجھے اپنی شادی پر ملے تھے۔ وہ خالص سونا تھا لیکن میرا شوہر ہوٹل میں ویٹر کی نوکری کھو چکا تھا اور ہم نے ان پیسوں سے مرغیاں، بکریاں اورسبزیاں لگائیں"۔
اس کی مصیبتیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔" میرا مرد سارا دن نوکری کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ بہت کوشش کرتا ہے۔ میں اپنے تین بچوں، کھیتوں اور جانوروں کا خیال رکھتی ہوں اور ایک چشمے سے پانی بھر کر لاتی ہوں جو ہمارے گھر سے 7 کلو میٹر دور مینگورہ کے ایک گاؤں میں ہے، کھانا بنانے کے لیئے لکڑی کاٹ کر لاتی ہوں اور گھر کے باقی سارے کام کاج کرتی ہوں۔ باقی خواتین بھی میری طرح کام کرتی ہیں تاکہ پیسے بنا سکیں۔ لیکن دن کے اختتام تک ہم تھک جاتی ہیں۔ دیکھو میرے سوجھے ہوئے ہاتھوں کو"۔ یہ اس کا جواب تھا جب وہ اپنی ہتھیلیاں دیکھا رہی تھی۔
ذیتون بی بی کا کہنا تھا "مجھے عسکریت پسندوں سے خوف ہے کہ کہیں واپس نہ آجائیں کیونکہ میری بہن کو اور مجھے زبردستی کالج سے دو سال کے لیئے ہٹایا گیا اور اب ہمیں لگتا نہیں ہے کہ ہم اس خلع کو پر کر پا رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہم اپنے والدین کی کمانے میں مدد نہیں کر سکتے"۔ ذیتون کے بھائی بہت محنت کررہے ہیں تاکہ کھیتوں کو پہلے والی حالت میں لا سکیں جو پہلے خراب ہو چکی تھیں۔
شرافت احمد کا کہنا تھا" ہمیں کوئی امداد نہیں ملی۔ ہمیں پتا ہے کہ ہماری بیویاں ہی ہمارے گھروں کو چلا رہی ہیں لیکن یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ ہمیں کوئی راستہ نکالنا ہوگا کام پر واپس جانے کا اور حکام کو ہماری کسی طرح سے مدد کرنا ہوگی"۔ شرافت کی بیوی ایک سکول ٹیچر ہیں اور گھر اور مویشیوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔
-ٹرائیون ایکسپریس

کلمہ حق
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 144
Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کوشش, کنگن, پہلے, نوکری, مطابق, آپریشن, آر, انڈسٹری, بھائی, بے, تلاش, جواب, خواتین, خوش, خان, دیکھو, دیکھا, راستہ, زندگی, سال, شوہر, شادی, طالبان, عسکریت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موت کا سوداگر پاکستانیوں کے نرغے میں ALI-OAD پاکستان میں دہشت گردی 3 08-01-11 01:12 AM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
صحافیوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے والے ممبر اسمبلی مستیخان کی رکنیت منسوخ کرنی چاہیے جاویداسد خبریں 6 11-07-10 11:59 AM
مسلمان کیوں رسوا ہیں [خلیل احمد نینی تال والا] نورالدین اسلام اور معاشرہ 1 25-03-10 02:25 AM
قومی اسمبلی، پارلیمانی راہداریوں میں عدلیہ کی بحالی کا سوال زیرگردش عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 08:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger