واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




سوات کی ایک کہانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-11, 05:31 PM   #1
سوات کی ایک کہانی
کلمہ حق کلمہ حق آف لائن ہے 05-12-11, 05:31 PM

یہ 2008 میں عیدالالضحی سے ایک رات پہلے کا واقعہ ہے، جب مروا اپنی ماں اور اپنی دادی اماں کی چیخوں کی وجہ سے نیند سے اٹھ گئی۔
مروا بتاتی ہے" کوئی 12 آدمی تھے جنہوں نے بندوقیں اور چھریاں پکڑ رکھی تھیں، ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے، ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرے ابا، چچا اور دادا کو لے گئے" ہماری امی نے ہمیں چھپا دیا تھا لیکن ہم پھر بھی انہیں نکڑ سے دیکھ سکتے تھے"
اس کے کچھ گھنٹوں بعد گھر والوں کو اطلاع ملی کہ تینوں کو ذبح کر کے ان کی لاشوں کو قریبی کھیت میں پھینک دیا گیا ہے۔ طالبان پر اس بات کی کوئی حیرانگی ظاہر نہیں ہوتی تھی کہ عید الالضحی پر لوگوں کو نہیں بلکہ جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ مینگورہ کے بالوگرام گاؤں میں یہ بیچارا خاندان تین لوگوں کے جنازے کی تیاری کر رہا تھا جبکہ باقی سارا گاؤں عید منا رہا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں کہ ان تین بےگناہ جانوں کو کیوں قتل کیا گیا تھا۔ ان میں سے تو صرف ایک ہی شخص بدقسمتی سے حجام تھا جو کہ طالبان کو قابل قبول نہ تھا کیونکہ ان کے نزدیک لوگوں کا داڑھی منڈوانا خلاف اسلام عمل تھا اور انہوں نے اس پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔
2008 میں جب سوات میں عسکریت پسندی عروج پر تھی، اس وقت حماموں پر حملے کیے جاتے تھے، اور حجاموں کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا جاتا۔
10 سالہ مروا جس نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ بڑے ہوکر اپنی انگریزی کی ٹیچر کی طرح بنے گی۔ لیکن اس کے بعد اس کے گھر والوں کے پہلے جیسے حالات نہ رہے اور اب وہ اپنے بہن اور بھائی سمیت سکول کو خیرباد کہہ چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے" ہم مینگورہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہوگئے جہاں میری امی نے ہمسایوں کے گھروں میں کام شروع کردیا۔ میں امی کو رات کے وقت آہستہ سے روتے ہوئے سنتی ہوں جب وہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ زندگی بے مقصد ہوگئی ہے"۔
ثانی گل، جو کہ متاثرہ خاندان کا رشتہ دار ہے، نے بتایا کہ پہلے طالبان نے قتل کا اعتراف کیا تھا اور بعد میں یہ کہہ کر تردید کر دی کہ یہ قتل ذاتی دشمنی کی بناء پر ہوا تھا، حالانکہ یہ تین لوگ بیچارے غریب گھر سے تھے اور ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ گل نے مزید کہا " ایک کی میٹھائی کی دکان تھی اور دوسرے کا حمام تھا۔"
جہاں ہر گھر کی تقریبا ایک جیسی ہی کہانی ہے، وہاں بہت کم لوگوں کو امداد ملتی ہے، یہ چار لوگ خوش قسمت نہ تھے، نا ہی گورنمنٹ اور نا ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی مدد کی۔ یہ لوگ بہت مشکل زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمسایوں کی مدد سے گزارا کر رہے ہیں۔
ٹرائبیون ایکسپریس-

کلمہ حق
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 205
Reply With Quote
کلمہ حق کا شکریہ ادا کیا گیا
A Nawaz Khan (05-12-11)
پرانا 05-12-11, 08:04 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,087
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے بڑا دردناک واقعہ شیر کیا ہے ۔ کیا کہتے ہیں ٹی ٹی پی کے حامی بیچ اس مسئلہ کے؟
A Nawaz Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-12-11, 09:57 PM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : A Nawaz Khan مراسلہ دیکھیں
آپ نے بڑا دردناک واقعہ شیر کیا ہے ۔ کیا کہتے ہیں ٹی ٹی پی کے حامی بیچ اس مسئلہ کے؟
بھائی یہاں پر سب مفادات کے تحت ہی کام کرتے ہیں۔ میرے خیال میں عام پاکستانی تحریک طالبان پاکستان کی حمایت نہیں کرتا، کیونکہ ان کو پتا ہے کہ یہ لوگ کس کے پے رول پر ہیں۔ ویسے اگر کوئی حامی ہوا بھی تو وہی کچھ کہے گا جو آپ لوگ نیٹو حملے کے بارے میں کہہ چکے ہیں۔ یعنی خاموشی۔

اس واقعے میں تین معصوموں کے قتل کا سن کر کوئی بھی انسان افسردہ ہوتا ہے۔ اور پاکستانی طالبان نے جس طرح دین اور پاکستان کو بدنام کیا، اس کی مذمت ہر پاکستانی کرتا ہے، لیکن ہمیں تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہیئے۔ نیٹو نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، جو مسلسل دو گھنٹے تک جاری رہا۔ 24 فوجی شہید ہوئے۔ آپ لوگوں میں سے کس نے اس کی مذمت کی؟ ان فوجیوں کے خون کا رنگ بھی سرخ تھا۔ یا پھر مذمت کے لئے بھی آپ لوگوں نے الگ پیمانے رکھے ہوئے ہیں؟
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-12-11, 12:54 AM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 123
کمائي: 2,611
شکریہ: 17
60 مراسلہ میں 95 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


عام پاکستانی شاید اس لئے بھی حمایت نہیں کرتا کیونکہ جب بندہ روز بہ روز خودکش دھماکے دیکھتا ہے اور جب روز خبر میں دیکھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے لی ہے، تو ایسے نظریات دیکھ کر ہر بندے کی لازمی ہٹے گی۔
باقی نیٹو حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوان کو اللہ جنت کا بلند ترین مقام عطا کرے، یہی جوان دن رات ملک کی رکھوالی کرتے ہیں
allah ke bande آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-12-11, 01:17 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 155
کمائي: 2,854
شکریہ: 5
75 مراسلہ میں 126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تو صرف ایک خاندان کی کہا نی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی تباہی اور بربادی کی کہانی تو اکثر سننے میں آتی ہے۔ اللہ دہشت گردوں کو سمجھ دے اور انکے ان نظریات سے پناہ دے جو کسی بھی چھوٹی بڑی بات پر قتل کرنا ایک معامولی بات سمجھتے ہیں۔ اور اللہ سب پر رحم کرے۔
اجل کنول آف لائن ہے   Reply With Quote
اجل کنول کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
ہے۔, کہانی, گھر, وقت, نیند, مقصد, منتقل, ماں, معلوم, آدمی, اسلام, بھائی, جیسی, خوش, خلاف, داڑھی, رات, زندگی, شخص, شروع, طالبان, عروج, عسکریت, غریب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger