واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




طالبان کا جہادی کاروبار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-07-11, 03:37 PM   #1
طالبان کا جہادی کاروبار
iqbal jehangir iqbal jehangir آف لائن ہے 01-07-11, 03:37 PM

جہاد، در اصل طالبان کاغیر قانونی،غیر اخلاقی اور شریعت کے منافی کاروبار ہے۔طالبان جہاد کی آڑ مین ایک شرمناک کھیل ،کھیل رہےہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ایک اسلامی ملک اور مسلمانوں کے خلاف جہاد کا خیال ہی خلاف شریعہ، احمقانہ ،قابل اعتراض و ناقابل عمل ہے۔
دہشت گرد تنظیم کا انتظام و انصرام بھی ایک کاروبار کی طرح ہی منظم کیا جاتاہے اور چلایا جاتاہے۔ جس میں پیسے اور افرادی قوت کی اہمیت کلیدی ہوتی ہے۔ یہ سارا پیسے کا کھیل ہے اور اس میں روپے پیسے کی حثیت لائف لائن کی سی ہے۔
طالبان کے اس کاروبار کے اغراض و مقاصد، عام کاروبار کے اغراض و مقاصد کے برعکس غیر قانونی غیر اخلاقی اور اسلامی شریعہ کے منافی ہیں اور ان میں پاکستانی مسلمانوں کی قتل و غارت گری،حکومت وقت سے سرکشی و بغاوت،جنگ و جدال، دہشت گردی، پاکستان کو کمزور کرنے کی دشمن کی سازشوں کا ساتھ دینا،بنک ڈکیتیاں و ڈاکے ڈالنا، اجرتی قتال، راہزنی اور لوٹ مار جیسے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کام شامل ہیں۔ لہذا روئے زمین پر کوئی ذی شعور حکومت اس طرح کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کاروبار کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ اور ان کے کارکنان کی عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ ذرائع سے اکٹھا و حاصل کرتے ہین۔
بیت اللہ محسود اس طالبانی نیٹ ورک کو چلانے پر تقریبا ۴۵ ملین ڈالر سالانہ خرچ کیا کرتے تھے جس سے وہ ہتھیار و آلات اور گاڑیاں خریدتے اور زخمی دہشت گردوں کے علاج معالجہ اور ہلاک شدگان کے ورثا کو رقم ادا کرتے اور دہشت گردوں کو تنخواہین ادا کرتے تھے، جو کہ ۱۷۰۰۰ روپے ماھانہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناجائز ذرایع سے اکٹھا کیا ہوا بہت سا روپیہ پیسہ باہر کے ملکوں میں کاروبار و منافع کیلیئے بھی لگائے رکھا۔ دوسرے طالبان لیڈرز جو روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہین وہ اس کے رقم کے علاوہ ہے۔
طالبان کے مالی وسائل کے لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار، معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ 2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔
تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور بلوچستان میں درآمد اور برآمدہونے والی منشیات سے بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ وزیر اور محسود قبائل کے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے پشتون نژاد باشندے درحقیقت ملک بھر میں اسلحے کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ وہ درہ آدم خیل اور اورکزئی ایجنسی میں تیار ہونے والے سستے اسلحے و غیر ملکی اسلحہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس کاروبار کا سارا منافع طالبان کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہین سمجھتے اور اس کا اعتراف خود حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلٰی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بیس فیصد آمدنی کا ذریعہ اغوا اور بینک ڈکیتیوں سمیت جرائم ہیں جبکہ وہ پچاس فیصد آمدنی عطیات اور بھتہ خوری اور بقیہ تیس فیصد منشیات کی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ۲۰۰ ملین ڈالر سالانہ لگایا گیا ہے جو کہ طالبان کی آمدنی کی ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان افیون، ذمرد و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار اور اشیا ءکی سمگلنگ مین بھی ملوث ہین۔ طالبان کافی عرصہ سے صوبہ سرحد او فاٹا کے کچھ حصہ مین لکڑی کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہین اور جانوروں کی سمگلنگ سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہین۔
پاکستان مین کوئی دن خالی نہیں جاتا ہو گا جب طالبان یا ان کے ساتھی بہت سے افراد کو اغوا نہ کرتے ہوں گے۔ کراچی اور پشاور اس حوالے سے ابھی تک انتہائی خطرناک اور بدنام شہر ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوں میں خود کارروائیاں کرتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر وہ دیگر جہادی تنظیموں اور ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہے۔ ایک وقت ، طالبان نے صوبہ سرحد کے سکھوں سے ۵۰ ملین روپیہ سالانہ جزیہ طلب کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت مین سکھوں کے لیڈر سردار سیاوانگ سنگھ کو قیدی بنا لیا گیا اور سکھوں کے بہت سے گھروں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ۔
خیبر ایجنسی کے ایک قبائلی تاجر نے بتایا کہ طالبان ،افغانستان جانے والے ان ٹرکوں پر حملہ کر کے سامان کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور بچا کھچا سامان خیبر ایجنسی کی حدود میں واقع پاک افغان شاہراہ طورخم پر پھینک دیتے ہیں۔ لوٹی گئی اشیاء پاکستان اور افغانستان کے بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہی ہیں۔
اسلام آباد کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کے ایک قریبی رشتہ دار کو پشاور سے اغوا ہونے کے بعد 50 لاکھ روپے ،تاوان کے عوض رہا کرایا گیا۔ یہی کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ بھی ہوا۔ افغانستان مین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کو بھی طالبان نے ہی اغوا کیا تھا۔
2008 سے 2009 کے دوران کراچی پولیس نے طالبان کی جانب سے بینک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سراغ لگایا۔ اکتوبر 2008 میں، اغواکاروں نے فلم پروڈیوسر ستیش آنند کو اغوا کر کے چھ ماہ تک سوات کی تحصیل مٹہ کے نزدیک ایک علاقے میں رکھا۔ ان دنوں یہ علاقہ مولانا فضل اللہ کی زیر قیادت ایک طالبان گروپ کے قبضے میں تھا۔
چوہدری اسلم ،سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کراچی نے بتایا کہ کراچی آجکل لاقانونیت کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر واقعات میں فاٹا کے مختلف علاقوں میں تاوان کی ادائیگی کا سراغ لگایا گیا ہے جس کے ڈانڈے طالبان سے ملتے ہین۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم تحریک طالبان پاکستان کو اپنی عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو چلانے اور تنظیمی انتظام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
حکیم اللہ محسود اور القائدہ کے تمام لیڈروں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر TTP کے سکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک و اغوا کئے جانے اور خلاف شریعہ لوٹ مار کو اس بیعت اور اپنے جاری شدہ code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب شتر بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہیں کر رہے۔
اک عجب تماشہ ہے کہ طالبان غیر قانونی،غیر اخلاقی اور اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت و طاقت حاصل کرکے ملک مین اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں اور اکثریت پر ، جو کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارے پہ یقین رکھتی ہےاپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی ہے ، اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار ہو؟
بھائیوں اور بہنوں اگر ہمین طالبان دہشت گردوں اور ان کے تنگ نظری والے فلسفہ کو شکست دینا ہے اور اس طالبانی عفریت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرناہے تو ہم سب کو مل کر طالبان کے روپے پیسے کے حصول کے تمام چشموں و سوتوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر نا ہو گا۔ تاکہ نہ ہو گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

iqbal jehangir
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1501
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے iqbal jehangir کا شکریہ ادا کیا
پرانا 01-07-11, 04:42 PM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہی
یہ تو نیکی کا کام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا ٹھیک نہیں

اقتباس:
حکیم اللہ محسود اور القائدہ کے تمام لیڈروں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر TTP کے سکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک و اغوا کئے جانے اور خلاف شریعہ لوٹ مار کو اس بیعت اور اپنے جاری شدہ code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔
یہی ڈھونڈرا تو ہم پیٹ رہے ہیں کہ ۔TTP کی دہشت گردی کی وجہ سے تحریک اسلامی طالبان افغانستان کو برا نہ کہیں ۔ ۔ امیرالمؤمنین ملا عمر کئی بار یہ کہ چکے ہیں کہ ایسی دہشت گردی کی کاروائیوں سے ہمارا تعلق نہیں ۔ ۔ ۔ کبھی بھی علماء نے ۔TTP کی کاروئیوں کو جہاد نہیں کہا بلکہ مذمت ہی کی ہے۔ ۔ ۔ پر ساڈی سن دا کون اے ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-07-11), skjatala (07-07-11), قاسمی (02-07-11), حسن قادری (22-07-11)
پرانا 01-07-11, 07:15 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس طالبانی عفریت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرناہے تو ہم سب کو مل کر طالبان کے روپے پیسے کے حصول کے تمام چشموں و سوتوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر نا ہو گا
آپ نے جتنے بھی کاروبار گنوائے ہیں طالبان کے ۔ مثلاً اغوا، بھتہ خوری، بینک دکیتی، افیون اور چرس فروشی، اسلحہ کی فروخت، افیون، ذمرد و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار اور اشیا ءکی سمگلنگ مین وغیرہ
تو قسم لے لیں مجال ہے جو ان میں سے کوئی کاروبار عوام کی سرپرستی میں ہونا ممکن ہو۔
ہمارے محلے میں ہیروئین فروخت کا اڈا تھا۔ عوام الناس کی ہزاروں شکایات کے باوجود اس کو بند نہ کیا گیا۔۔ کیونکہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں" کی سرپرستی حاصل تھی اسکو۔
اتفاق سے ایک ایماندار پولیس والا آ گیا۔ دو دنوں کے اندر اندر اُس اڈے کے پھٹے غائب ہو گئے ۔ اور کارندے جیل میں۔

چناچہ اصل معاملہ یہ ہے کہ "اوپر والا" کون ہے۔وہ کیا کہتے ہیں کہ "حکومت کی خرابی ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے"
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (07-07-11), فیصل ناصر (01-07-11), فاروق سرورخان (07-07-11), ھارون اعظم (01-07-11), مرزا عامر (12-07-11), wajee (02-07-11), ابوسعد (09-07-11), شھزادباجوہ (18-07-11), عبداللہ آدم (22-07-11)
پرانا 01-07-11, 08:09 PM   #4
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ٹھیک آکھیا جے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-07-11, 10:27 PM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
کمائي: 1,676
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جنابعالی:
فاٹا کے علاقہ مین حکومت پاکستان کی عملداری باکل نہ ہے، شمالی وزیرستان مین ۱۰،۰۰۰ غیر ملکی جہادی موجود ہین جو کہ سفید جہادی،ازبک،چیچن،عرب،بنگلہ دیشی،انڈونیشی اور افریقی وغیرہ ہین اور عملا اس علاقہ پر ان کا قبضہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں بھی جہان فوج ہے اس کے علاوہ باقی طالبان ہین۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ نے جتنے بھی کاروبار گنوائے ہیں طالبان کے ۔ مثلاً اغوا، بھتہ خوری، بینک دکیتی، افیون اور چرس فروشی، اسلحہ کی فروخت، افیون، ذمرد و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار اور اشیا ءکی سمگلنگ مین وغیرہ
تو قسم لے لیں مجال ہے جو ان میں سے کوئی کاروبار عوام کی سرپرستی میں ہونا ممکن ہو۔
ہمارے محلے میں ہیروئین فروخت کا اڈا تھا۔ عوام الناس کی ہزاروں شکایات کے باوجود اس کو بند نہ کیا گیا۔۔ کیونکہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں" کی سرپرستی حاصل تھی اسکو۔
اتفاق سے ایک ایماندار پولیس والا آ گیا۔ دو دنوں کے اندر اندر اُس اڈے کے پھٹے غائب ہو گئے ۔ اور کارندے جیل میں۔

چناچہ اصل معاملہ یہ ہے کہ "اوپر والا" کون ہے۔وہ کیا کہتے ہیں کہ "حکومت کی خرابی ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے"

Last edited by iqbal jehangir; 01-07-11 at 10:29 PM. وجہ: typo
iqbal jehangir آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے iqbal jehangir کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-07-11), حیدر (02-07-11)
پرانا 02-07-11, 01:03 AM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس مضمون میں مبالغہ کتنے فیصد تک ہے ؟؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (07-07-11), حیدر (02-07-11), حسن قادری (22-07-11), شھزادباجوہ (18-07-11), عبداللہ آدم (22-07-11)
پرانا 02-07-11, 05:16 AM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

100%
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (07-07-11), حیدر (02-07-11)
پرانا 02-07-11, 10:23 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : iqbal jehangir مراسلہ دیکھیں
جنابعالی:
فاٹا کے علاقہ مین حکومت پاکستان کی عملداری باکل نہ ہے، شمالی وزیرستان مین ۱۰،۰۰۰ غیر ملکی جہادی موجود ہین جو کہ سفید جہادی،ازبک،چیچن،عرب،بنگلہ دیشی،انڈونیشی اور افریقی وغیرہ ہین اور عملا اس علاقہ پر ان کا قبضہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں بھی جہان فوج ہے اس کے علاوہ باقی طالبان ہین۔
پاکستانی افواج کی تعداد بتائیں گے ان دس ہزار کے مقابل میں؟
شاید صرف 100،000 سے کُچھ اوپر ۔ ایک کے مقابلے میں دس سے زائد فوجی۔
علاقہ سیل ہے۔ چاروں طرف انکے دشمن ہیں۔ تین طرف پاکستان دوسری طرف امریکہ (افغانستان میں )۔
اگر پھر بھی آپ یہ مانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے بل بوتے پر زندہ ہیں تو مجھے یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں ان کے لیے اللہ کی طرف سے امداد تو نہیں آ رہی۔ وہی راستہ بچتا ہے۔
اگر نہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی نہ کوئی تو ہے جو ان کو دودھ پلا رہا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
asakpke (07-07-11), skjatala (07-07-11), فاروق سرورخان (07-07-11), ننھا بچہ (02-07-11), منتظمین (06-07-11), مرزا عامر (12-07-11), wajee (02-07-11), ابوسعد (09-07-11), شھزادباجوہ (18-07-11)
پرانا 06-07-11, 05:08 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ اس کو مبالغہ آرائی کیسے کہہ سکتے ہیں، کیا ٹی ٹی پی نے کرنل امام کو اغواء نہیں کیا تھا اور ان کی رہائی کے اوض تاوان بھی مانگا تھا؟
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کلمہ حق کا شکریہ ادا کیا
پرانا 09-07-11, 05:04 PM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
کمائي: 1,676
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طالبان کا جہادی کاروبار

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
اس مضمون میں مبالغہ کتنے فیصد تک ہے ؟؟
ایسا لگتا ہے کہ آپ نے یہ کمنٹ،ڈیرہ پر، حقہ پینے سے پہلے لکھا ہے؟
iqbal jehangir آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-07-11, 09:37 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : iqbal jehangir مراسلہ دیکھیں
ایسا لگتا ہے کہ آپ نے یہ کمنٹ،ڈیرہ پر، حقہ پینے سے پہلے لکھا ہے؟
آپ غلط فریکوینسی پر ہیں محترم
ہمارے ڈیرے پر حقے نہیں ہوتے ۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 09-07-11, 09:41 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کلمہ حق مراسلہ دیکھیں
آپ اس کو مبالغہ آرائی کیسے کہہ سکتے ہیں، کیا ٹی ٹی پی نے کرنل امام کو اغواء نہیں کیا تھا اور ان کی رہائی کے اوض تاوان بھی مانگا تھا؟
ٹی ٹی پی کچھ بھی کر سکتی ہے ۔۔ امریکی فنڈڈ کوئی بھی ایجینسی چاہے وہ بلیک واٹر ہو، ریمنڈ این کمپنی ہو یا ٹی ٹی پی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے کچھ بعید نہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (09-07-11)
پرانا 12-07-11, 01:20 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ مزاحقہ خیز ہے، حکیم اللہ محسود نے ملاء عمر کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور القائدہ کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-07-11, 01:27 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 296
کمائي: 4,386
شکریہ: 5
147 مراسلہ میں 234 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب تحریک طالبان کی دہشت گردی کھل کر منظرعام پر آگئی تو وہ سازشی اصول کی بنیاد پر بنی ہے، لیکن اس سے پہلے وہ جہاد میں مصروف تھے۔۔۔۔واہ جی واہ کیا منافقت ہے!
اوارا اجنبی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-07-11, 02:14 AM   #15
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ بھی پہلے انہی دہشت گردوں کو مجاہدین کہتا تھا ۔
۔۔۔۔واہ جی واہ کیا منافقت ہے!
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (14-07-11), مرزا عامر (12-07-11), حسن قادری (22-07-11), عبداللہ آدم (22-07-11)
جواب

Tags
فروخت, کلیم, کنٹرول, کراچی, پولیس, پاکستانی, پسند, واقعات, وزیر, اللہ, اسلام, اسلامی, اغوا, بھائی, خودکش, خلاف, سردار, شہر, طالبان, علاج, عزیز, عسکریت, عطیہ, غلط, صوبہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger