واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




طالبان کا چیلنج۔۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-01-10, 05:24 PM   #1
طالبان کا چیلنج۔۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 07-01-10, 05:24 PM

طالبان کی حقیقت کے بارے میں رائے عامہ یکسو نہیں ہے۔ کیا پاکستان اور افغانستان کے طالبان ایک ہیں۔ ان کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا یہ بیرونی آلہ کار ہیں، کیا یہ اسلامی شریعت کو نافذ کرنا چاہتے ہیں، کیا یہ سب ایک ہی فکر کے حامل ہیں یا مختلف الخیال گروہ محدود مقاصد کے لئے آپس میں مل گئے ہیں۔ سوات، دیر، باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں سے تقریباً پچاس لاکھ لوگوں کا انخلاء اور ان کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کرنے کی مشق کے نتیجے میں صوبہ سرحد کا نصف سے زیادہ علاقہ شدید معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ ہزاروں بے گناہ لوگ فوت ہوچکے ہیں، اربوں روپے کی جائیداد اور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اور آپریشن اب تک جاری ہے اور اس کے خاتمے اور علاقے کے دوبارہ پر امن ہونے کے امکانات اب تک مفقود ہیں۔

سوات کے بعد اب وزیرستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جس کی تباہ کاریوں اور مشکلات کا تصور بھی رونگھٹے کھڑے کرنے والاہے۔ کتنی بدنصیبی ہے کہ جس علاقے کو پاکستان کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط قلعہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے ہماری حکومت کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو خود اپنی فوج سے لڑانے کے منصوبے سوچے جا رہے ہیں۔ وزیرستان میں سطح زمین کی ناہموار ی اور دشوار گزاری اجنبی کے لئے پھندا ،دام اور جال ثابت ہوسکتاہے اور مقامی جنگجو قبائل کے لئے کمین گاہ ہے، ایسے قبائل کا مسکن ہے جن کے خون میں گوریلا جنگ کے طور طریقے نسل در نسل منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ جنگ میں نقصانات برداشت کرنے کے حوصلے میں ان کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے۔

آج تک انہیں اپنے علاقے میں کوئی شکست نہیں دے سکا۔ اسی علاقے کے وزیر اور محسود قبائل نے بھارتی فوج سے لڑکر کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کرا لیا تھا اوراگر انہیں واپسی کا حکم نہ ملتا تو یہ سرینگر کے ایئرپورٹ تک پہنچ چکے تھے۔ ان سے لڑنے اور انہیں دشمن کا آلہ کار بنانے اور اپنی فوج کو ان سے لڑا کر امریکا، بھارت اور اسرائیل کی آرزو پوری کرنے کی بجائے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں اور کیا ان کے ساتھ ہم آہنگی ملک و قوم کے مفاد میں ہے یا ان کے ساتھ لڑائی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ ہمارے ملک کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور ان سے لڑنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور اگر ان کے سامنے ذرا کمزوری دکھائی گئی تو یہ ہماری پوری طرز زندگی کو بدل ڈالیں گے۔ اپنے طرز حیات اور تہذیب اور تمدن کو بچانے کے لئے اور خود پاکستان کو بچانے کے لئے ہمیں ان کے ساتھ جنگ کی بھرپور تیاری کرنی چاہئے اور ہر حال میں ہمیں اس جنگ کو جیتنے کی پوری منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ جہاں تک میں اس پورے علاقے اور اس کے لوگوں کو جانتا ہوں۔ پاکستانی فوج کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اس علاقے کے لوگوں کو مکمل طور پر زیر کر سکے اور پھر اس علاقے میں امن قائم کرسکے جب تک کہ وہ قوت کی بجائے سیاسی طریقے استعمال نہ کرے جن میں اولین ضرورت یہ ہے کہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر دے۔

اس میں شک نہیں کہ طالبان کو کہیں نہ کہیں سے ضرورمالی مدد اور وسائل مل رہے ہیں لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ طالبان اور ان کے پشتیبان قبائل سب کے سب بیرونی آلہ کار ہیں اور ان کے اپنے کوئی مقاصد نہیں ہیں۔

طالبان امریکہ اور امریکہ کی عریاں تہذیب کے دشمن ہیں۔ ہم میں سے جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے طرز زندگی اور بود وباش کے دشمن ہیں انہوں نے دراصل مغربی طرز زندگی اپنائی ہوئی ہے اور وہ مغربی طرز زندگی کو اپنا تمدن سمجھنے لگے ہیں۔ اگر ہمارا حکمران طبقہ اپنی یہ ذہنیت ترک کردے اور پاکستان کو ایک سیکولر ،لادین اور ایک خاص مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی حفاظت کرنے والی ریاست کی بجائے صدق دل سے ایک اسلامی ، جمہوری ، فلاحی ریاست بنانے کے لئے اقدامات کرنے کے لئے آمادہ ہوجائے تو طالبان کی مخالفت ختم کی جاسکتی ہے یا کم ازکم ان کی عوامی تائید میں کمی آسکتی ہے۔

امریکا کی منافقانہ دہری پالیسی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ تقریباً ایک ہزار امریکی میرینز کے لئے اسلام آباد میں قلعہ بند رہائش کا انتظام، ان کے لئے بلٹ پروف بکتر بند گاڑیاں اور اسلام آباد کے اردگرد حساس علاقوں میں ان کی سرگرمیاں، بدنام زمانہ بلیک واٹر تنظیم کے لئے کمانڈوزکی بھرتی، پشاور اور قبائلی علاقوں میں ان کی سرگرمیاں امریکا کی بدنیتی کو ظاہر کررہا ہے۔ امریکہ جتنی مد د کررہا ہے اس سے زیادہ ان کی جنگ کا ساتھ دے کر ہم اپنے ملک کی ترقی کی رفتار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سوات ،باجوڑ اور دیر میں جو تباہی ہوئی ہے کوئی بھی امریکی امداد کتنی بھی بڑی ہو اس کی تلافی نہیں کرسکتی۔

بھارت، اسرائیل اور امریکا کا گٹھ جوڑ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ یہ کسی بھی اسلامی ملک کو دفاعی لحاظ سے خود کفیل نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ ہمارے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام کا مخالف ہے۔ یہ ہمیں آپس میں لڑا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے عوام اور ہماری فوج کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنا چاہتے ہیں اور اس کشمکش میں بالآخر پاکستان میں براہ راست مداخت کرکے ہمارے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔اس انجام سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے عوام اور قبائل کو ساتھ لے کر ایک متحدہ قومی حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی۔

اگر ہم اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر صدق دل سے عملدرآمد کرلیں اور ان سفارشات کی روشنی میں اپنے اداروں کی اصلاح اور تربیت کا انتظام کرلیں تو حکومت کے خلاف عوام میں بڑھتے ہوئے ردعمل کو کم کیا جاسکتاہے۔ ہمارے ملک میں تیزی سے دو طبقے تہذیبی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس تصادم کے نتیجے میں ہمارے ادارے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، دونوں طرف انتہا پسندی ہے ۔ایک طبقہ مغرب کی عریاں تہذیب کو پاکستان میں زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کررہاہے۔ اس طبقے کو ملٹی نیشنل کمپنیوں ،غیر ملکی این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کا تعاون حاصل رہاہے۔

دوسری جانب ایک اور طبقہ پوری قوت سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہاہے جس کو مسجد ،مدرسے ،دینی جماعتوں ،خطیبوں اور واعظوں کا تعاون حاصل ہے ۔ ملک کے غریب عوام معاشی تنگی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔

تعلیم یافتہ ذہین طبقے میں مغربی استعمار اور اس کی تہذیب کے خلاف ردعمل موجود ہے اور اس ردعمل اور اضطراب کی وجہ سے اس طبقے کی ایک بڑی تعداد بھی مغربی تہذیب کے مقابلے میں آ رہی ہے۔ قومی فوج کے اندر بھی یہ دونوں میلانات عروج پر ہیں۔ ملک کوایک خوفناک تصادم سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کے ساتھ پاکستان کی تحریک میں جو وعدے کئے گئے تھے حکمران ان پر پورے اترنے کی کوشش کریں ۔ یہ کہنا کہ محمد علی جناح پاکستان کو ایک جدید سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے مفید نہیں ہوگا کیونکہ محمد علی جناح کے ساتھ برصغیر ہندو پاک کے کروڑوں عوام نے سیکولر ریاست قائم کرنے کے لئے تعاون نہیں کیا بلکہ ان کو اسلام کا وکیل سمجھ کر ان کے ساتھ تعاون کیا۔ عوام کے ساتھ دھوکہ کرنے کی بجائے عوامی امنگوں اور تمناؤں پر پورا اترنے کی ضرورت ہے اور قرارداد مقاصد پر صدق دل سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح پاکستانی فوج اور پاکستانی عوام میں ہم آہنگی اور یکجہتی پیدا کی جا سکتی ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہماری حکومت کا اتحاد غیر فطری ہے ۔

ہمارے قومی مفاد ات اور مصلحتیں امریکہ کے مفادات کے ساتھ ٹکراتی ہیں۔ ہماری قیادت جتنی جلد اس کا ادراک کرے اور اپنی سمت کو درست کرلے اتنا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔ اپنے ہر مخالف کو ملک دشمن اور وطن دشمن قرار دینا اورحقائق سے آنکھیں چرانا ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہیں۔ وزیرستان میں آپریشن کے لئے لنگر لنگوٹ کسنے کی بجائے متبادل پالیسیوں پر غورکرنا وقت کی آواز ہے۔

http://www.alarabiya.net/views/2009/09/04/83892.html
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 516
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), گوندل (09-01-10), ھارون اعظم (07-01-10), اخترحسین (19-01-10), حسنین ایوب (14-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (09-01-10), سحر (07-01-10), عبداللہ حیدر (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 09:30 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قاضی صاحب کبھی چینی چوروں کے خلاف بھی دھرنا دیں۔ طالبان کی حمائت میں تو کافی سرگرم رہتے ہیں۔ کبھی معاشرتی اور معاشی برائیوں کے خلاف بھی "جہاد" کا قصد کر لیں تو بہتوں کا بھلا ہو گا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (19-01-10)
پرانا 08-01-10, 10:24 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر یہ دھرنا دیے دیا تو پھر آپ ہی لوگ قاضی صاحب کے پیچھے لگ جائیں گے کہ جمہوریت ان سے ہضم نہیں ہوتی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), ھارون اعظم (08-01-10), عبداللہ حیدر (08-01-10)
پرانا 09-01-10, 12:38 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کاش کے قاضی صاحب یہ کام کر ہی لیں۔ چینی، ذخیرہ اندوزی، رشوت، اقربا پروری جیسی چیزوں کے خلاف دھرنا دے ہی دیں۔ جمہوریت رہے یا نہ لیکن ملک میں سکون تو ہو گا۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-01-10, 12:45 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
۔ جمہوریت رہے یا نہ لیکن ملک میں سکون تو ہو گا۔
اس پر دیگر کی رائے بھی لے لیں
شاید ہی کسی سے یہ برداشت ہو
تباہی جتنی مرضی ہو جائے بس جمہوریت کا نام باقی رہنا چاہیئے، یہ ہمارے روشن خیال طبقے کی سوچ ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 01:02 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جمہوریت کسے کہتے ہیں؟
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 02:12 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بقول علامہ محمد اقبال
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اور موجودہ جمہوریت کے حوالے سے انور مسعود کہتے ہیں
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (10-01-10), عامرشہزاد (20-01-10)
پرانا 09-01-10, 02:24 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بقول علامہ محمد اقبال
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اور موجودہ جمہوریت کے حوالے سے انور مسعود کہتے ہیں
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
پھر بھی سوال اپنی جگہ رہا۔
جمہوریت کسے کہتے ہیں؟
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 02:35 PM   #9
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیّعہ جوََِِأد مراسلہ دیکھیں
پھر بھی سوال اپنی جگہ رہا۔
جمہوریت کسے کہتے ہیں؟
قرآن و سنت کے خلاف قائم حکومت کو جمہوریت کہتے ہیں
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 09-01-10, 02:41 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیّعہ جوََِِأد مراسلہ دیکھیں
پھر بھی سوال اپنی جگہ رہا۔
جمہوریت کسے کہتے ہیں؟
کیا آپ جمہوریت کی لفظی و اصطلاحی معنی کی روشنی میں جمہوریت کی حقیقت کے بارے میں دریافت کرنا چاہ رہی ہیں؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-01-10, 03:04 PM   #11
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قاضی صاحب کی طالبان سے ہمدردی پر ایک کالم یہ بھی دیکھ لیں۔

طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار ,,,,جرگہ…سلیم صافی - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-01-10, 03:16 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,977
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 218 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
کیا آپ جمہوریت کی لفظی و اصطلاحی معنی کی روشنی میں جمہوریت کی حقیقت کے بارے میں دریافت کرنا چاہ رہی ہیں؟
میں آپ کےذہن میں جمہوریت کی تعریف معلوم کرنا چاہ رہی ہوں آپ نے کہاں تک سمجھا؟اور اللہ کیا کہتا ہے؟
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے   Reply With Quote
رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 03:24 PM   #13
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

افغان طالبان کا تو میں بھی حامی ھوں،الحمداللہ
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 09-01-10, 03:35 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیّعہ جوََِِأد مراسلہ دیکھیں
میں آپ کےذہن میں جمہوریت کی تعریف معلوم کرنا چاہ رہی ہوں آپ نے کہاں تک سمجھا؟اور اللہ کیا کہتا ہے؟
مجھے آپ کا سوال پوری طرح سمجھ نہیں آیا۔
میں نے نہ تو جمہوریت کی حمایت میں کہیں صلاحیتیں صرف کی ہیں اور نہ اس کی مخالفت میں کہیں لکھا ہے جو اللہ کہتا ہے۔
جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تو مروجہ اصطلاح کے طور پر یہ عوام کی حکومت کا نام ہے
ڈیمو کریسی کا مطلب ہی power of people ہے۔
اس کی مزید تفصیلات اور اقسام بھی ہیں جن کی تفصیل یہاں ضروری نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اللہ کیا کہتا ہے؟ یہ جمہوریت اسلامی نظام حکومت سے کہاں تک مطابقت رکھتی ہے، اسلامی نظام خلافت اور اس میں کہاں تک مماثلت یا تعارض ہے وہ بالکل ایک الگ موضوع ہے۔

البتہ ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جمہوریت میں عوام کی حکومت ہوتی ہے جبکہ اسلامی نظام میں اقتدار اعلی اللہ کی ذات ہے۔ فیصلے عوام کی مرضی یا اکثریت کی رائے سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی سے ہوں گے۔

باقی تفصیلات جب کبھی موقع ملا تو انشاء اللہ

و السلام
آپکا بھائی
راجہ اکرام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10)
پرانا 09-01-10, 03:52 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
جن طالبان سے قاضی صاحب کو ہمدردی ہے ان سے ہمدردی ہر پاکستانی پر فرض ہی نہیں قرض بھی ہے۔
پہلے افغان بھائیوں نے روسیوں سے پاکستان کو بچایا، اور اب امریکہ کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے طالبان نے ان کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ ورنہ امریکہ افغانستان میں سکون سے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف اپنے عزائم پر عمل در آمد کر رہا ہوتا۔
کیسے اتاریں گے ان لوگوں کے احسانات؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-01-10), عامرشہزاد (20-01-10)
جواب

Tags
ہندو, پاکستان, پاکستانی, مکمل, منتقل, منصوبہ, ممکن, مسجد, معلوم, آپریشن, امریکہ, اجنبی, اسلامی, ترک, جلد, حکم, حال, خون, خلاف, رفتار, زندگی, زمانہ, طالبان, صوبہ, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Kali Siradas System کے تحت سیلف ڈیفینس سیکھیں! shafresha کھیل اور کھلاڑی 1 16-06-11 12:43 PM
حامد کاظمی، سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور کے اکاﺅنٹس منجمد، نام ای سی ایل میں شامل گلاب خان خبریں 0 15-12-10 04:52 AM
سینیٹر سیمیں صدیقی سے مغفر حسین کی ملاقات عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:01 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
اپوزیشن بد نظمی اور تقسیم در تقسیم کا شکار بینظیر اور نواز شر یف کے در میان گھنٹوں بات چیت، بے اعتماد ی ختم نہیں ہو ئی عبدالقدوس خبریں 0 22-11-07 08:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger