![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس دور کے اخبارات بھی گواہ ہیں اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1979ء کے انتخابات میں حسب خواہش کامیابی نہ ملنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان میں بھی طالبان طرز کی حکومت نافذ کریں گے ۔ بل کلنٹن کے دور میں طالبان کے خلاف کروز میزائل حملے کے بعد احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اعلان کیا کرتے تھے ‘ کہ اگر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اور ان کے ساتھی امریکی بحری بیڑے کو بحیرہ عرب میں ڈبودیں گے ۔ اب جبکہ نہ صرف وہ بیڑہ سالوں سے بحیرہ عرب میں موجود ہے بلکہ پورے افغانستان پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ پاکستان میں بھی من مانیاں کررہا ہے تو میں نے جاننے کی کوشش کی کہ مولانا کس طرح امریکہ کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ وہ چونکہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے پاکستان کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی کے نوک پلک سنوارنے میں مصروف ہیں ‘ اس لئے میں نے سوچا کہ شاید امریکی بحری بیڑے کو ڈبونے اور فغانستان کو امریکہ کا قبرستان بنانے کے مسلح جہاد میں انہوں نے اپنے جگرگوشوں کو لگایا ہوگا لیکن تحقیق کے نتیجے میں مجھے یہ جان کر شدید مایوسی ہوئی کہ ان کے صاحبزادوں سے کوئی ایک بھی افغانستان یا وزیرستان کے پہاڑوں میں مورچہ زن نہیں ۔
الحمد للہ مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں ۔ ان کے ایک بیٹے اسد محمود خیرالمدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی فدائی بنا ہے ‘ نہ افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف مصروف عمل ہے ‘ نہ کشمیر کی آزادی کے لئے سرگرم ہے اور نہ جنوبی یا شمالی وزیرستان میں مورچہ زن ہے۔ اسی طرح نوے کے عشرے کے آخرمیں جب امریکہ نے افغانستان پر کروز میزائلوں کا حملہ کیا تو مولانا سمیع الحق نے ”دفاع افغانستان کونسل“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کردی ۔ اس تنظیم کا مقصد افغانستان میں طالبان حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی آکر بیٹھ گیا ہے اور ملامحمدعمر مجاہد جنہیں مولانا اپنے شاگرد قرار دیتے تھے ‘ اپنے ساتھیوں سمیت اس کے خلاف مصروف عمل ہیں ۔ مولانا تو شاید اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ خود بندوق یا توپ نہیں چلاسکتے ‘ اس لئے میرا خیال تھا کہ ان کے تمام بیٹے یا ان میں سے بعض افغانستان میں مورچہ زن ہوں گے لیکن تحقیق سے مجھے یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ طالبان کے استاد کے صاحبزادوں میں سے کوئی بھی دفاع افغانستان یا دفاع پاکستان کی جنگ میں مگن نہیں ۔ الحمد للہ مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں ۔ایک بیوی الحمداللہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہے ۔ مولانا حامد الحق حقانی نے جامعہ حقانیہ سے تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے ۔ گزشتہ اسمبلی میں وہ ایم ایم اے کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اس وقت اپنے والد کے متوقع جانشین کی حیثیت سے سیاست کررہے ہیں ۔دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین اور حافظ قرآن ہیں ۔ وہ ماہنامہ ”الحق“ کے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔دوسری بیوی سے بھی اللہ نے مولانا سمیع الحق کو دو بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی ہیں لیکن وہ سب ابھی کمسن ہیں البتہ مولانا ان میں سے کسی ایک کو بھی فدائی بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ جہاد اور امریکہ دشمنی کے ایک اور علم بردار صاحبزادہ فضل کریم کوجب میں نے ملکی سیاست میں مصروف عمل پایا تو سوچا کہ شاید انہوں نے اس مقدس فریضے کی ادائیگی پر اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن تحقیق سے وہ بھی کسی اور میدان کے شہسوار نکلے ۔ ان کے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات‘ ایم بی اے اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے اور ان دنوں بزنس کی پلاننگ کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے محمد حسن رضا لاہور کے ایک کالج میں زیرتعلیم ہیں ۔ تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جی سی یونیورسٹی سے دنیوی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ چوتھے بیٹے محمد محسن رضا بھی الحمداللہ کالج کے طالب علم ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی ۔ وہ نہ صرف افغان جہاد میں ہزاروں نوجوانوں کو لڑواچکی بلکہ کشمیر کے جہاد میں بھی اس تنظیم کی زیرسرپرستی سینکڑوں نوجوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء اور پاکستان سے اس کے اثرورسوخ کے لئے سب سے زیادہ بے چین یہی جماعت نظرآتی ہے۔اس جماعت کے امیر سید منورحسن نہ صرف افغان طالبان بلکہ گاہے بگاہے پاکستانی طالبان کی بھی ستائش کرلیتے ہیں ۔ سوچا کہ وہ چونکہ پاکستان میں جہاد کے لئے رائے عامہ بنارہے ہیں ‘ اس لئے شاید اپنی اولاد میں سے کسی کو محاذ پر بھیجا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ ایک بیٹی اورایک بیٹے کے والد ہیں ۔ دونوں ماشاء اللہ کراچی میں معمول کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان کے بیٹے طلحہ نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری لی ہے اور اس وقت پراپرٹی اور آئی ٹی کے کاروبار میں مگن ہیں ۔ جماعت اسلامی کی صفوں میں موازنہ کیا جائے تو جہادی سوچ کو ابھارنے والوں میں محترم قاضی حسین احمد سرفہرست ہیں۔ اپنی ان خدمات کا ان دنوں وہ اپنے مضامین میں بھی بڑے فخر سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں ۔ الحمدللہ عمر کے اس حصے میں بھی ان کا جذبہ جوان ہے اور اب بھی خوب امریکہ کے خلاف جذبات کوبھڑکارہے ہیں ۔ خیال تھا کہ وہ چونکہ سید منورحسن کے ساتھ ان کا بوجھ کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اس لئے شاید اپنے بیٹوں کو جہاد کے لئے وقف کیا ہوگا لیکن ان کے بڑے صاحبزادے اور ہمارے محترم دوست آصف لقمان قاضی امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں جبکہ دوسری بیٹے ڈاکٹر انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کے ساتھ ساتھ پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں ۔ہم سب جانتے ہیں کہ جہاد و قتال کے ایک اور داعی پروفیسر ساجد میر ان دنوں میاں نواز شریف کی سیاست کے لئے شرعی جواز تلاش کرنے میں مگن ہیں ‘ اس لئے خیال یہ تھا کہ جہاد و قتال کے میدان میں انہوں نے اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی ہوئی ۔ ان کے بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد سرحد یونیورسٹی پشاور سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا کاروبار کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیریونیورسٹی لاہور سے ایم سی ایس کیا اور اس وقت کینیڈا کی ایک کمپنی سے وابستہ ہیں ۔ رہے وہ ریٹائرڈ جرنیل صاحبان جو اس خطے میں جہادی کلچر کے فروغ کے دعویدار اور ذمہ دار ہیں اور جو اب بھی میڈیا میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کیلئے ہمہ وقت طالبان کی حمایت میں رطب السان رہتے ہیں ‘ تو طالبان کے جہاد میں ان کے اور ان کے بچوں کی شرکت سے تو ایک دنیا واقف ہے ۔ کوئی اربوں میں کھیل رہا ہے ‘ کوئی کروڑوں سے دل بہلا رہا ہے ۔ کوئی پیسے کے زور سے سیاست میں اپنی سلطنت قائم کرچکا ہے تو کوئی کاروبار میں اپنی سلطنت کے قیام میں مگن ہے ۔ جس راستے پر دوسروں کے بچوں کولگارکھا ہے ‘ اس پر شرمندہ بھی نہیں لیکن خود یا اپنے بچوں کو اس راستے پرلگانے سے بھی گریزاں ہیں۔بڑے مزے سے اسلام آباد اور لاہور کے بنگلوں میں بیٹھ کر فائیوسٹارہوٹلوں میں منعقدہ سیمنیاروں سے خطاب کرتے ہوئے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اب امریکہ کی شکست کے تمغے بھی اپنے سینوں پر سجانا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے ایک رہنما سے کسی نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دوسروں کے سپرد کردہ لاش کو کاندھا دیئے ہوئے ہیں ۔ تفصیل انہوں نے یوں بیان کی کہ کسی گاؤں میں چار اجنبی ‘ ایک اجنبی کی لاش اٹھائے قبرستان کی طرف جارہے تھے ۔ گاؤں کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو اجنبیوں نے ان سے کہا کہ وہ ایک عظیم دینی بزرگ کی لاش کو دفنانے جارہے ہیں۔ چنانچہ گاؤ ں کے سادہ لوگ بھی میت کے ساتھ قبرستان کی طرف چل دئے اور آگے بڑھ کرثواب کی خاطر لاش کو کاندھا دینے لگے۔ پہلا بندہ آگے بڑھا تو ایک اجنبی اپنے کاندھے کو فارغ پاکر خاموشی سے کھسک گیا۔ پھر جب گاؤں کا دوسرا بندہ ‘ دوسرے اجنبی کی جگہ لینے کیلئے آگے بڑھا تو وہ بھی غائب ہوگیا۔ یہی عمل تیسرے اور پھر چوتھے اجنبی نے دھرایا۔لاش قبرستان پہنچی تو اس کے چاروں وارث غائب تھے اور دینی جذبہ کے تحت اس کو کاندھا دینے والے گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ اب اس لاش کو کیا کریں۔ اس کو کہاں دفنائیں اور کیا نام دے کر دفنائیں؟ یہ قصہ سنا کر پاکستانی طالبان کے لیڈر نے کہا کہ ہم نے تو اس گاؤں کے مکینوں کی طرح اسلامی جذبہ کے تحت اس لاش کو کاندھا دیا ۔ یہ لاش تو قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمان ‘ مولانا سمیع الحق ‘ پروفیسر ساجد میر ‘ جنرل اخترعبدالرحمان ‘ جنرل حمید گل اور اسی نوع کے دیگر لوگوں نے اٹھارکھی تھی۔ ہم نے ان کی پکار پر دینی جذبے کے تحت لبیک کہتے ہوئے اس کو کاندھا دیا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سب غائب تھے اور لاش ہمارے گلے پڑ گئی ۔ معزز قارئین: اب کیا یہ مذکورہ شخصیات اور ان کے جانشینوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنی اس مبارک لاش کو کاندھا دیں یا پھر میدان میں آکر لاش اٹھانے والوں سے واضح الفاظ میں کہہ دیں کہ اس لاش کو کاندھا دینے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے ‘ اس لئے گاؤں کے لوگ بھی اسے اسی طرح چھوڑ دیں جس طرح کہ وہ چھوڑ چکے ہیں؟تماشہ یہ ہے کہ وہ اب بھی آواز یہی لگارہے ہیں کہ یہ ایک عظیم مذہبی ہستی کی لاش ہے اور اسے کاندھا دینا دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے ‘ لیکن خود لاش کو کاندھا دینے جارہے ہیں ‘ نہ اپنے بچوں سے یہ نیک کام کروانا چاہتے ہیں اور نہ ان کو منع کرنا یا سمجھانا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی تلقین پر یہ لاش اپنے گلے باندھ لی ہے۔
__________________
"یہ ضروری تو نہیں کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ زندگی بھی بتا سکیں" |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 6 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | sahj (12-01-10), نورالدین (04-03-10), بدرالزمان (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), طاھر (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
کاش کہصافی صاحب اگلے کالم میں "دہشت گردی" کے خلاف دن رات ایک کر دینے والوں کو بھی اپنے اپنے بیٹے گرم محاذوں پر بھیجنے کی دعوت دیں۔ کیا ہی منظر ہو گا اگربلاول زرداری اور حمزہ شریف جناب اشفاق کیانی، الطاف حسین، وزیر اعظم گیلانی اور قوم کے درد میں ڈوبے دوسرے سیاستدانوں اور جرنیلوں کے صاحبزادوں کےساتھ ہتھیار اٹھا کر دہشت گردوں سے لڑنے کے لیےمیدانوں کا رخ کریں۔ لیکن شاید انہیں بھی "غریب دے بچے" ہی مروانے کے لیے ملتے ہیں۔
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 8 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | sahj (12-01-10), ھارون اعظم (17-04-10), نورالدین (04-03-10), منتظمین (09-01-10), بدرالزمان (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), راجہ اکرام (10-01-10), طاھر (09-01-10) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے شائد اپکو پتہ نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ طالبان کے خلاف جہاد میں اے این پی کے بہت سارے لیڈر اور ان کے خاندان کے افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر اے این پی کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن طالبان کے خلاف جہاد میں ان کا رویہ قابل قدر ہے۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
مفادات کے تحت لڑی جانی والی جنگوں کو جہاد قرار دینے سے قبل درج ذیل روابط کا مطالعہ مفید ہو گا باذن اللہ: جہاد ، تعریف اور اقسام پہلی قسط جہاد تعریف اور اقسام ::: دوسری اور آخری قسط شہادت ، شہید تعریف اور اقسام شہادت ، شہید تعریف اور اقسام Last edited by عبداللہ حیدر; 10-01-10 at 12:54 AM. |
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 8,785
کمائي: 142,031
شکریہ: 17,465
6,695 مراسلہ میں 15,990 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کوئی ایک ہے اے این پی کا لیڈر جس نے اس جذبے سے میدان جہاد کا رخ کیا ہو؟
__________________
محتاج دعا و اصلاح |
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے راجہ اکرام کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افضل لالہ ایک مشہور اے این پی کے راہنما ہیں۔ ان کے دو بیٹے، بھانجے اور خاندان کے تقریبا سات مختلف افراد اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔ طالبان نے اپنی ہٹ لسٹ میں انکا نام بھی شامل کیا تھا اور بار بار ان پر قاتلانہ حملے بھی کیے جس میں یہ دو دفعہ زخمی بھی ہوئے۔ لیکن آفرین ہے اس شیر کے بچے پر جس نے ناں تو علاقہ چھوڑا اور نہ ہی طالبان سے کوئی معافی مانگی۔
پاکستانی قوم بجا طور پر طالبان کے خلاف اس جہاد میں اس کو ہیرو کے طور پر یاد رکھ سکتی ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 8,785
کمائي: 142,031
شکریہ: 17,465
6,695 مراسلہ میں 15,990 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور معافی مانگ ہی نہیں سکتے یہ لوگ کیوں کہ ان کی سرکار یہ کاروائی بند کروا نہیں سکتی۔ ہیرو اگر بنانا ہی ہے تو کسی نوجوان کو بنائیں جو محاذ پر شیر کی طرح لڑتا ہے۔ ان لوگوں کو شیر کے بچے اور ہیرو کہہ کر کم از کم ان فوجیوں کے خون سے غداری نہ کریں اگر آپ اسے واقعی طالبان کی خلاف جہاد کہتے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماءشااللہ اپ تو بالکل بھی اس صورتحال سے واقف نہیں ہیں۔ اچھا ہوتا اگر اپ کو جو نام دیا گیا تھا اس کے متعلق کچھ تحقیق کر لیتے اور اس کے بعد کوئی رائے دیتے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اپ اپنے اگلے جواب میں پہلے تحقیق کرکے کوئی رائے دیں گے۔ اس لیے میں اس پر مزید روشنی نہیں ڈالوں گا۔
والسلام |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | بدرالزمان (19-04-10) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماءشااللہ اپ تو بالکل بھی اس صورتحال سے واقف نہیں ہیں۔ اچھا ہوتا اگر اپ کو جو نام دیا گیا تھا اس کے متعلق کچھ تحقیق کر لیتے اور اس کے بعد کوئی رائے دیتے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اپ اپنے اگلے جواب میں پہلے تحقیق کرکے کوئی رائے دیں گے۔ اس لیے میں اس پر مزید روشنی نہیں ڈالوں گا۔
والسلام |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | بدرالزمان (19-04-10) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 8,785
کمائي: 142,031
شکریہ: 17,465
6,695 مراسلہ میں 15,990 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی میرے بھائی
خصوصی سیکورٹی میں ایک سال گزارا اسی کو شیر کہتے ہیں آپ کے ہاں؟ یا یہ وہ شیر ہیں جو پنجروں میں رہتے ہیں؟ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
لیجیے صافی صاحب نے آج کے کالم میںتصویر کا دوسرارخ بھی پیش کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
گزشتہ کالم میں پاکستان کے مذہبی سیاسی رہنماؤں اور خطے میں جہادی کلچر یا طالبانائزیشن کو فروغ دینے والے جرنیلوں کے صاحبزادوں(صاحبزادیوں کی تفصیل بھی دستیاب ہے لیکن دانستہ اس کے تذکرے سے گریز کیا) کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک کا بچہ بھی طالبان کے ساتھ مورچے میں بیٹھا ہے اور نہ فدائی کارروائی کرنے جارہا ہے لیکن اس کے برعکس جن لوگوں کو اس وقت ہم ”دہشت گرد“ کہہ رہے ہیں ان میں سے بیشتر کی قربانیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے اپنے اہل خانہ کے کئی افراد قربان کئے۔سعودی عرب کی حکومت نے ان کی والدہ کو علاج کے لئے ریاض لے جانے کی غرض سے جہاز بھیجاتو انہوں نے جواب دیا کہ جب تک ہر افغان کی ماں کوعلاج کی اسی نوع کی سہولیت میسر نہیں آجاتی وہ اپنی والدہ کو سعودی عرب نہیں لے جائیں گے اور یوں سعودی عرب کا بھیجا ہوا جہاز خالی واپس ریاض لوٹ گیا۔ ان کے داماد چند روز قبل چھ سال امریکیوں کی جیل کاٹ کر لوٹے ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ‘ اس کی تفصیل سن کر میں عبدالسلام ضعیف پر ڈھائے گئے امریکیوں کے مظالم کو بھول گیا۔ خود طالبان کی سربراہ ملامحمدعمراخوند کی قربانیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ میدان جنگ میں آنکھ سے محروم ہوئے۔ افغانستان کے ایسے حکمران بنے کہ ان کے حکم کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن ایک روز بھی کابل کے صدارتی محل میں بسر کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہمارے پاکستان کے سیاسی مذہبی لیڈروں کو موقع ملتا ہے تو اقتدار کے ایوانوں کو بچوں ا ور رشتہ داروں سے بھر دیتے ہیں لیکن ملا محمد عمر کے کسی صاحبزادے یا قریبی عزیزکو کوئی عہدہ یا منصب عنایت نہیں کیا گیا۔ خود پاکستان کے مذہبی سیاسی جماعتوں کے بعض مخلص کارکنوں اور قائدین نے اپنے بچوں کو اس راہ میں قربان کیا۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کے بیٹے افغانستان میں شہید ہوئے۔ البدرمجاہدین کے بخت زمین کے بھتیجے ابھی چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں شہید ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نہ صرف خود قربانیاں دیتے رہے بلکہ بچوں کو بھی اس میدان میں اتارا ۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ محمد سعید جو کچھ کہتے رہے‘ اس پر بہرحال عمل بھی کرتے رہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں بھی ہر کوئی اختر عبدالرحمن نہیں تھا بلکہ بعض لوگ کمٹمنٹ کے مقام پر فائز رہے ۔ آئی ایس آئی سے وابستہ بعض افراد نے تو اس مشن میں اپنی زندگیاں تک داؤ پر لگائیں۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ میجر(ر) محمد عامر نے ایک مشن کے دوران اپنے ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے عمار کی زندگی بھی داؤ پر لگائی تھی لیکن اللہ نے معجزانہ طور پر ان کو محفوظ رکھا۔ عسکریت پسندی۔ اصل مجرم کون؟ ,,,,جرگہ…سلیم صافی |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | sahj (12-01-10), راجہ اکرام (12-01-10) |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 8,785
کمائي: 142,031
شکریہ: 17,465
6,695 مراسلہ میں 15,990 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے عبد اللہ بھائی
آپ ان دنوں تحریروں کے پیش نظر رکھ کر کیا تجزیہ کرتے ہیں؟ صافی صاحب کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں؟ |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 8,076
کمائي: 51,135
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,831
4,449 مراسلہ میں 11,623 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | بدرالزمان (19-04-10), عبداللہ حیدر (12-01-10) |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
عسکریت پسندی۔ اصل مجرم کون؟ ,,,,جرگہ…سلیم صافی جس طرح اسکولوں کو اڑایا گیا‘ جس طرح گلے کاٹے گئے‘ جس طرح پاکستان کو ”دہشتستان“ بنا کر امریکہ اور ہندوستان جیسی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا گڑھ بنایا گیا‘ اس کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف عوامی سطح پر جو فضابنی ہے‘ اس کے تناظر میں ان کے ساتھ مصالحت کی بات کرنا پاکستان میں ناممکن ہوتا جارہا ہے لیکن میں چونکہ عمل کے نتائج اور نیت کو الگ الگ ڈیل کرنے کا قائل ہوں اس لئے آج ایک بار پھر بھاری قیمت چکانے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوکر عسکریت پسندوں کے حوالے سے تصویر کا ایک اور رخ سامنے لانے کی کوشش کررہا ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو ہیرو بنا کر اس راستے پر لگایا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ فریضہ امریکہ‘ عرب حکمرانوں‘ پاکستانی جرنیلوں اور بعض دینی سیاسی جماعتوں نے انجام دیااور مقصد پورا ہوجانے کے بعد پہلی فرصت میں امریکہ نے اور پھر عرب حکمرانوں نے ان لوگوں سے آنکھیں پھیرلیں۔ پاکستانی پالیسی ساز اور پاکستان کے مذہبی سیاسی لیڈر نائن الیون تک ان کو شہہ دیتے رہے۔ تب تک کسی نے ان کو نصیحت کی اور نہ سمجھانے کی کوشش۔ ہر ایک ان کو شاباش دیتا رہا۔نائن الیون کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے بھی ان کے ساتھ بے وفائی کردی جبکہ پاکستان کے سیاسی مذہبی لیڈر تادم تحریر ان کو بالواسطہ شاباش تو دے رہے ہیں لیکن ان کے اور ان عرب حکمرانوں‘ جن کے پاکستان کے یہ مذہبی لیڈر اور حکمران ہمہ وقت مدح سرائی اور چاپلوسی کرتے رہتے ہیں‘ کے مابین کسی طرح کی مصالحت کرانے کی کوشش نہیں کرتے۔کسی زمانے میں یہ لوگ اسامہ بن لادن کی تصاویر سے اپنے جلسوں کو کامیاب بناتے تھے لیکن آج ان میں کوئی بھی نہیں جو ان کے بچوں کو پناہ دے سکے‘ ورنہ وہ ایران اور دیگر ممالک میں کیوں دربدر ہوتے ۔ یہی معاملہ افغانستان کے مجاہدین یا طالبان اور پاکستان کے مجاہدین اور طالبان کا بھی ہے ۔ گزشتہ کالم میں پاکستان کے مذہبی سیاسی رہنماؤں اور خطے میں جہادی کلچر یا طالبانائزیشن کو فروغ دینے والے جرنیلوں کے صاحبزادوں(صاحبزادیوں کی تفصیل بھی دستیاب ہے لیکن دانستہ اس کے تذکرے سے گریز کیا) کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک کا بچہ بھی طالبان کے ساتھ مورچے میں بیٹھا ہے اور نہ فدائی کارروائی کرنے جارہا ہے لیکن اس کے برعکس جن لوگوں کو اس وقت ہم ”دہشت گرد“ کہہ رہے ہیں ان میں سے بیشتر کی قربانیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے اپنے اہل خانہ کے کئی افراد قربان کئے۔سعودی عرب کی حکومت نے ان کی والدہ کو علاج کے لئے ریاض لے جانے کی غرض سے جہاز بھیجاتو انہوں نے جواب دیا کہ جب تک ہر افغان کی ماں کوعلاج کی اسی نوع کی سہولیت میسر نہیں آجاتی وہ اپنی والدہ کو سعودی عرب نہیں لے جائیں گے اور یوں سعودی عرب کا بھیجا ہوا جہاز خالی واپس ریاض لوٹ گیا۔ ان کے داماد چند روز قبل چھ سال امریکیوں کی جیل کاٹ کر لوٹے ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ‘ اس کی تفصیل سن کر میں عبدالسلام ضعیف پر ڈھائے گئے امریکیوں کے مظالم کو بھول گیا۔ خود طالبان کی سربراہ ملامحمدعمراخوند کی قربانیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ میدان جنگ میں آنکھ سے محروم ہوئے۔ افغانستان کے ایسے حکمران بنے کہ ان کے حکم کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن ایک روز بھی کابل کے صدارتی محل میں بسر کرنا گوارا نہیں کیا۔ ہمارے پاکستان کے سیاسی مذہبی لیڈروں کو موقع ملتا ہے تو اقتدار کے ایوانوں کو بچوں ا ور رشتہ داروں سے بھر دیتے ہیں لیکن ملا محمد عمر کے کسی صاحبزادے یا قریبی عزیزکو کوئی عہدہ یا منصب عنایت نہیں کیا گیا۔ خود پاکستان کے مذہبی سیاسی جماعتوں کے بعض مخلص کارکنوں اور قائدین نے اپنے بچوں کو اس راہ میں قربان کیا۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کے بیٹے افغانستان میں شہید ہوئے۔ البدرمجاہدین کے بخت زمین کے بھتیجے ابھی چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں شہید ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نہ صرف خود قربانیاں دیتے رہے بلکہ بچوں کو بھی اس میدان میں اتارا ۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ محمد سعید جو کچھ کہتے رہے‘ اس پر بہرحال عمل بھی کرتے رہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں بھی ہر کوئی اختر عبدالرحمن نہیں تھا بلکہ بعض لوگ کمٹمنٹ کے مقام پر فائز رہے ۔ آئی ایس آئی سے وابستہ بعض افراد نے تو اس مشن میں اپنی زندگیاں تک داؤ پر لگائیں۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ میجر(ر) محمد عامر نے ایک مشن کے دوران اپنے ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے عمار کی زندگی بھی داؤ پر لگائی تھی لیکن اللہ نے معجزانہ طور پر ان کو محفوظ رکھا۔ غور سے دیکھا جائے تو اصل مجرم وہ نہیں جنہیں ہم ”دہشت گرد“ کہتے ہیں اور جو اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہم جیسوں کو اڑا رہے ہیں بلکہ اصل مجرم وہ لوگ ہیں جنہوں نے انہیں اس راستے پر لگایا‘ ان کے ذریعے اپنے اسٹریٹیجک مقاصد حاصل کئے‘ ان کے نام پر اپنی سیاست چمکائی اور اب انہیں بندگلی میں چھوڑ کر تماشہ دیکھ اور ان کے نام پر اپنے مقاصد پورا کررہے ہیں۔ ملا محمد عمر افغانستان میں حکمران تھے تو اس عاجز نے ان کی حکمت عملی پر اس قدر تنقید کی کہ ان کی حکومت کی قید کا مستحق قرار پایا۔ ۱۹۹۹ء میں یہ طالب علم میدان صحافت میں نووارد تھا کہ طالبان پر تنقید کے جرم میں افغانستان میں گرفتار کیا گیا لیکن ہمارے جرنیلوں اور مذہبی سیاسی لیڈروں نے کبھی بھی سادہ لوح ملامحمد عمر کو عالمی صورتحال کی نزاکتوں کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔یہ لوگ آخری وقت تک انہیں شاباش دیتے رہے اور جب ان پر مشکل آن پڑی تو پھرجرنیلوں نے پلٹا کھایا اور مذہبی سیاسی لیڈروں نے صرف مظاہروں پر اکتفا کیا۔ یہی معاملہ بیت اللہ محسود‘ حکیم اللہ محسود ‘ قاری حسین‘ مولوی فقیر محمد‘ حافظ گل بہادر ‘ مولوی نذیر اور دیگر طالبان لیڈروں کا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد بھی ہم باز نہیں آئے اور ان کی سرگرمیوں سے اعراض کا رویہ اختیار کرکے بالواسطہ ان کو شاباش دیتے رہے ۔پھر جب دباؤ آیا یا اسٹریٹجک ضرورت محسوس ہوئی تو ان کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ۔ جس کی وجہ سے ان کے انتقام کا سارا رخ پاکستان کی طرف ہوگیا۔ بہت سارے اب بھی ایسے ہیں جو پاکستان سے نہیں لڑنا چاہتے اور جن کے بارے میں ہماری ریاست کی پالیسی اب بھی اعراض والی ہے لیکن یہ صورتحال رہی تو خدانخواستہ عنقریب وہ بھی اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیں گے ۔ مکرر عرض ہے کہ ان کی سرگرمیاں اسلام ‘ پاکستان اور خود ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں لیکن اصل قصور وار وہ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انہیں اس راستے پر لگا کر تنہا اور بے مہار چھوڑ دیا۔ جنہوں نے انہیں جہاد کی تلقین کی‘ لیکن اس کی شرائط نہیں سمجھائیں۔ میرے نزدیک تو وہ ہماری سوسائٹی کے کریم ہیں ‘ جنہیں ہم نہ صرف ضائع بلکہ اپنے خلاف استعمال کرتے ہوئے ضائع کررہے ہیں ۔ یہ ملک تو مجھ جیسے گناہ گاروں سے بھراپڑا ہے جو ملک کی خاطر اپنے چھوٹے سے چھوٹے مفاد کی قربانی نہیں دے سکتے اور جو اللہ کی رضا کے لئے فجر کی نماز کے لئے اٹھنے یا پھر ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے تک کی زحمت گوارا نہیں کرسکتے لیکن یہ مجاہدین جنہیں اب ہم ”دہشت گرد“ کہتے ہیں اور جو واقعی پاکستان کے اندر دھماکے کر رہے ہیں۔ اس قدر بے غرض اور مخلص ہیں کہ ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ چکے اور جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے جسموں سے بم باندھتے اور زندگی کا خاتمہ کرتے رہتے ہیں ۔ اعلیٰ آرمی افسران کی ایک مجلس میں ‘میں نے تجویز دی کہ سرکاری سطح پر ایک خصوصی فورس تشکیل دے کر جہادی تنظیموں کے وابستگان اور طالبان کو اس میں سمویا جائے اور ان کے کمانڈروں کو ان کی حیثیت کے مطابق رینکس دیئے جائیں تو اس تجویز کو غیرسنجیدہ قرار دے کر قہقہے سے میری تواضع کی گئی حالانکہ یہ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ عسکریت پسندی کے مسئلے کا ایک ممکن حل یہ ہوسکتا ہے ۔ اگرگوریلا جنگ کے ماہر اور ہمہ وقت قربانی کیلئے تیار لوگوں کی فورس کو سیکورٹی فورسز کا حصہ بنا کر ایک انتظام میں لایا گیا تو نہ صرف ان لوگوں کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے گا بلکہ یہ لوگ ہمارے ملک اور فورسز کے لئے گراں قدر سرمایہ بھی ثابت ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ مذاکرات ہوئے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا‘ اس لئے اب طاقت کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس نے ‘ کس کے ساتھ اور کب کئے ؟ماضی میں جو مذاکرات ہوئے‘ ان سے میں نہ صرف اچھی طرح واقف ہوں بلکہ مذاکرات کے ہر سلسلے اور ہر معاہدے کا ناقد بھی رہا ہوں ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ مذاکرات ہمیشہ غلط وقت پر‘ غلط طریقے سے‘ غلط لوگوں کے ذریعے‘ غیرمتعلقہ لوگوں سے کئے گئے ۔ یہ مذاکرات ہمیشہ” جز“ سے کئے گئے اور کبھی بھی ”کل“ کے ساتھ بات نہیں کی گئی ‘ اس لئے مذاکرات اور معاہدوں کے ہر عمل کا الٹ نتیجہ نکلا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں فلسفہ تراشنے اور پھیلانے والے معزز ہیں لیکن اس پر عمل کرنے والے گردن زدنی۔یہاں نعرہ لگانے والے معزز ہیں اور اس نعرے کو عمل کا روپ دینے کی خاطر مرنے اور مارنے پر تیار ہونے والے معتوب ۔ یہاں دوسرو ں کے بچوں کو مروانے والے محترم لیڈر ہیں اور اپنی ذات کی قربانی دینے والے مجرم ۔ امریکہ اور ہندوستان اگر دشمن ہیں تو ان سے کسی خیر کی توقع ہے اور نہ ان سے شکایت کرنے کا کوئی جواز ہے ۔ سازش‘ دھونس اور دھوکہ‘ وہ ویسے کرتے رہیں گے جیسا کہ ایک دشمن کرتا رہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اپنوں نے کیا کیا ؟پاکستان میں اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے لے کر بعض سیاسی اور بیشتر مذہبی قائدین تک سب یہ سوچ پھیلارہے ہیں کہ امریکی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ ہر منبر اور ہر جلسہ سے یہی صدا بلند ہوتی ہے کہ امریکہ کا علاج جہاد ہے ۔غیرریاستی اور پرائیویٹ جہاد کی وکالت ہمارے مذہبی سیاسی لیڈر حسب سابق کررہے ہیں۔ طاقت کے ذریعے شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کے جائز ہونے کا فلسفہ اسی شان سے زندہ رکھا جارہا ہے۔ ”کشمیر بزور شمشیر“ اور” جہاد افغانستان‘ دفاع پاکستان“ کا فلسفہ اب بھی ہر فورم سے ذہنوں میں راسخ کیا جارہا ہے لیکن پھر جو لوگ ان نعروں اور اس فلسفے پر عمل کرنے پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں ‘ انہیں ہم مجرم بنالیتے ہیں ۔ وہ ہماری پڑھائی ہوئی پٹی پر عمل کرکے افغانستان اور کشمیر آزاد کرانا چاہتے ہیں لیکن پھر ہم انہیں وہاں جانے دیتے ہیں اور نہ ان کے ساتھ چلتے ہیں اور بعض اوقات غیرملکی دباؤ میں آکر انہیں مارنے لگ جاتے ہیں ۔ اس صورت میں وہ اپنے غصے اور انتقام کا نشانہ ہمیں نہیں بنائیں گے تو اور کیا کریں گے؟ مفروضوں کی بنیاد پر باتیں کرنے والے بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ لوگ اگر امریکہ کے دشمن ہیں تو افغانستان جاکر کیوں نہیں لڑتے لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ دوستی میں جب کوئی دھوکہ دے دیتا ہے تو پھر دشمن سے زیادہ غصے کا نشانہ دھوکہ دہی کا مرتکب ہونے والا دوست بنتا ہے ۔ ہم جب ان سے عرض کرتے ہیں کہ پاکستان تو اسلام کے نام پر بننے والا ایک منظم ملک ہے اور یہاں طاقت کا استعمال جائز نہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ توحکومت میں بیٹھے مولانا فضل الرحمن اور منورحسن‘ عمران خان اور میاں نواز شریف جیسے مین اسٹریم کے سیاستدان بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی پالیسیاں امریکہ بناتا ہے اور یہاں بلیک واٹر والے دندناتے پھرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حامد کرزئی اور ان کی فورسز سے اس بنیاد پر لڑنا جائز ہے کہ وہ امریکہ کے اتحادی ہیں تو پاکستانی حکمران اور ان کی فورسز کیا امریکہ کے اتحادی نہیں ہیں؟کیا پاکستان کے دینی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین ان کے اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں اور کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ طالبان کی جنگ کو نظریاتی غذا ہم خود فراہم کررہے ہیں لیکن پھرہم بڑی ہوشیاری سے ان کی سرگرمیوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے یا پھر ان کی کارروائیوں کو دوسروں کے گلے ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب کے لئے بے انتہااحترام کے باوجود اس عاجز کو کہنا پڑتا ہے کہ اصل مجرم طالبان نہیں بلکہ ہم ہیں اور یقینا آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ”ہم“ کون ہیں |
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), راجہ اکرام (12-01-10) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| فرض, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قصہ, لندن, چین, نواز شریف, مقابلہ, ماں, متوقع, ایم بی اے, امیر, امریکہ, اجنبی, استاد, بچوں, تلاش, تعلیم, دوست, سیاست, طالبان, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی شہری کی زندگی اور میڈیا کا کردار | گلاب خان | اپکے کالم | 2 | 22-10-09 02:13 AM |
| پاکستانی شہری کی زندگی اور میڈیا کا کردار | گلاب خان | عمومی بحث | 0 | 21-10-09 01:56 AM |
| خدانخواستہ، اگر پاکستان اور انڈیا کی جنگ ہوگئی۔ تو آپکا کردار کیا ہوگا؟ | راجہ اکرام | گپ شپ | 16 | 11-05-09 07:22 PM |
| دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے،برطانوی آرمی چیف کی صدر پرویز سے ملاقات | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 26-02-08 03:30 AM |
| 1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار | چاچا کمال | خبریں | 1 | 14-09-07 10:03 PM |