واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




ظالم کی بہن اور مظلوم کی بہن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-07-11, 06:41 PM   #1
ظالم کی بہن اور مظلوم کی بہن
saad-oad saad-oad آف لائن ہے 03-07-11, 06:41 PM

حمید نظامی ہال میں ہونے والا مذاکرہ انسانی ہمدردی اور دفاع پاکستان کا عملی نمونہ پیش کر رہا تھا۔ میں وہاں پہنچی تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، تل دھرنے کی جگہ نہ تھی لوگ کھڑے ہو کر خطاب سن رہے تھے۔ یہ سب لوگ دفاع پاکستان، جذبہ حب الوطنی اور شہیدوں کے ورثا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے جمع تھے، فضا نعروں سے گونج رہی تھی۔ نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، بھارت اور امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے، پاکستان زندہ باد۔ ہال میں موجود ورثاءشہداءاور قیدیوں کے لواحقین کے تاثرات سن کر مذہبی و سیاسی قائدین اور سینکڑوں حاضرین مجلس اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور زار و قطار رو دیئے۔ ایک مرتبہ پھر فضا نعروں سے گونج اٹھی، سربجیت سنگھ کو پھانسی دو، سربجیت سنگھ کو پھانسی دو۔
سوال اٹھتا ہے یہ سربجیت سنگھ ہے کون؟
سربجیت سنگھ ”را“ کا ایجنٹ اور پاکستان میں دہشت گرد بم دھماکے کرنے والوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ بھارتی جاسوس، بیسیوں لوگوں کا قاتل اور 4 بم دھماکوں کا مجرم! یہ ہے وہ دہشت گرد جس نے 1990ءکو پہلا بم دھماکہ لاہور کے پررونق بازار انار کلی کے بھاٹی گیٹ میں پچھلے پہر کیا، اس وقت رش ہونے کی وجہ سے بچوں اور عورتوں کے چیتھڑے اڑ گئے اور کئی لوگ زخمی ہو ئے۔ دوسرا بم دھماکہ بیرون دہلی دروازہ عین افطاری کے وقت ہوا، افطاری کے وقت رش کی وجہ سے 5 افراد شہید اور 50 افراد زخمی ہوئے۔ تیسرا بم دھماکہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے غازی آباد جانے والی بس میں ہوا جس میں 8سالہ بچہ شہید اور 30 افراد زخمی ہوئے۔
یکے بعد دیگرے ان ہونے والے بم دھماکوں سے خفیہ ایجنسیاں اور حکومتی ادارے سرگرم عمل ہوئے، بالآخر ان بم دھماکوں کا مجرم قصور بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ یہ سربجیت سنگھ ہے ،جسے بھارتی ایجنسی ”را“ نے خصوصی مشن دے کر بھیجا ہے۔ اس کے دہشت گرد ثابت ہونے پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اسے سزائے موت دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی دلائل و شواہد کی وجہ سے سزائے موت کو برقرار رکھا اور اب 20سالوں سے وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے۔
سربجیت سنگھ کا یہ معاملہ اس وقت پھر سے جاگ اٹھا جب اس دہشت گرد کی بہن دلبیر کور اسے چھڑوانے پاکستان آئی۔ زخمی دلوں سے پھر خون رسنے لگا، خون سے رنگین گلیاں بازار پھر سے چیخ اٹھے، بے گناہ اور معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والا ان کے خون سے ہاتھ رنگنے والا یہ بھارتی خونی درندہ کیسے چھوڑ دیا جائے، اس کی بہن دلبیر کو رکے حوالے کیوں کیا جائے؟ کیا وہ جانتی ہے؟ ہاں وہ جانتی ہے! کہ اس کے بھائی نے کتنی بہنوں کے بھائی چھین لئے، کتنی ماﺅں کی گودیں خالی کر دیں، کتنے بچے شفقت پدری سے محروم ہو گئے، کئی گھروں کے چراغ گل ہو گئے۔ اے دلبیر کور! اس ماں کی دکھ بھری کہانی سن جس کا گیارہ سالہ چاند جیسا معصوم بچہ بلال مصطفی اس بم دھماکے کی نذر ہو گیا جو تیرے اس سفاک بھائی نے کیا۔ بلال مصطفی کی والدہ محترمہ شازیہ بی بی سے اس کے لخت جگر کے بارے میں سوال کیا تو اس کی آواز کانپ رہی تھی الفاظ زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ گلوگیر لہجے میں بات کرتے ہوئے کہنے لگیں ہم رات کو ہونے والے فنکشن کی تیاریاں کر رہے تھے۔ میں نے بچے کے جوتے پالش کئے، کپڑے تیار کئے، میرا بچہ اپنے باپ سے باہر جانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ باپ نے منع کیا، بیٹے کے اصرار کرنے پرباپ نے اجازت دے دی، ڈرتے ہوئے دل سے باپ نصیحتیں کر رہے ہیں بیٹا ادھر نہ جانا ادھر رش والا علاقہ ہے۔
کچھ دیر تک میرا لعل واپس نہ لوٹا تو تشویش لاحق ہوئی ڈھونڈنے نکلے تو پتہ چلا کہ بھاٹی کے بازار میں بم دھماکہ ہوا ہے لوگ اپنے عزیزوں کو دیکھنے کے لئے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، قیامت صغریٰ برپا تھی، میرا بچہ کہیں نہ ملا، ہسپتال کا رخ کیا وہاں کٹی پھٹی لاشیں پڑی تھیں، یہ دیکھ کر دل غم سے پھٹ گیا، حوصلہ مجتمع کرتے ہوئے گویا ہوئیں، میں نے اپنے بیٹے کی لاش کو پاﺅں سے دیکھ کر پہچانا، میں رنجور دل اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس شہید کی ماں کو دیکھ رہی تھی، اس عزم و ہمت کی چٹان کو جس نے اپنے لخت جگر کو اس حالت میں دیکھا، پھر بھی زندہ ہے۔ جی ہاں! یہ صبر مومن کی پہچان ہے اس نے اسے زندہ رکھا آخرت میں اجر پانے کے لئے۔
لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ میرے معصوم بچے اور کئی لوگوں کے قاتل سربجیت سنگھ کو فی الفور پھانسی دی جائے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ شازیہ بی بی بلال مصطفی شہید کی والدہ لاہور کالج کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ پیپلز پارٹی آف وومن کی صدر اور ناظم کی حیثیت سے بھائی کے علاقے میں اپنی خدمات پیش کر چکی ہیں۔آج بیٹے کے غم نے انہیں دل کی مریضہ بنا دیا ہے۔ دلبیر کور آج بھائی سے ملاقات کے وقت تو اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھ رہی ہے۔ وہ راکھی کا دھاگہ جو تیرے مذہب کے مطابق حفاظت کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ اس کچے دھاگے سے تو اپنے بھائی کی زندگی کی ڈور باندھ رہی ہے اور زرداری سے اس کی رہائی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ انصاف کا تقاضا چاہتی ہے تو سن! کان کھول کر سن!
بلال مصطفی شہید اور ان جیسے کئی معصوم شہیدوں کی بہنیں جو اپنے بھائیوں کے لئے سلامتی کی دعائیں کیا کرتی تھیں، وہ بھی انصاف مانگ رہی ہیں، جنہیں تیرے دہشت گرد اور سفاک بھائی نے بم دھماکہ کر کے خاک و خون میں ڈبو دیا، ان کے بھائی انہیں گوشت بھری گٹھڑیوں میں وصول ہوئے کیا قصور تھا ان کا؟
بتا کیا قصور ہے؟
ہاں تجھے انصاف دینا چاہتے ہیں، تیرا بھائی تجھے لوٹاتے ہیں، اسی صورت میں جس صورت میں تیرے بھائی نے ہمارے بھائیوں کو لوٹایا۔ تمہارا ہی نہیں یہ ہمارا بھی مطالبہ ہے، زرداری سے اور تمام حکام سے کہ وہ انصاف کے تقاضے جلد از جلد پورے کریں۔
جناب زرداری صاحب! کہیں وہ کشمیر سنگھ والا کردارنہ دہرانا، جسے پرویز مشرف کے دور میں ہیومن رائٹس کے وزیر انصاف برنی نے پھول کے ہارپہنا کر 4 مارچ 2008ءکو رہا کر دیا۔ کشمیر سنگھ بھارتی دہشت گرد اور جاسوس تھا۔ اسے بھگاتے ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ 11 مارچ 2008ءکو بھارت نے خالد محمود میو کی لاش پاکستان کو تحفے کے طور پردی، بھارتی حکومت نے گھناﺅنا اور شرم ناک مذاق کیا جو حقوق انسانی کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ تھا۔
خالد محمود کی بوڑھی اور بزرگ والدہ رو رو کر اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والے بھارتی ظلم کی داستان سنا رہی تھی کہ میرا بیٹا کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے انڈیا گیا، وہاں اسے گرفتار کر لیا گیا، کوئی جرم ثابت نہیں ہوا پھر بھی اسے مار دیا گیا۔ لاش کی صورت میں لوٹا دیا گیا، اسے دیکھا تو گلہ کٹا ہوا تھا میرے لخت جگر کے ناخن پلاس کے ساتھ کھینچ لئے گئے تھے اور ان کے مردہ جسم سے دماغ نکال لیا گیا، آنکھیں نکال لی گئیں جگر اور دیگر عضو نکال لئے گئے تھے۔ خالد محمود میو شہید کی والدہ کریمن بی بی نے کہا کہ بھارت ہمارے بے گناہ بچوں کی لاشیں پاکستان بھیجتا ہے، ہمارے سینے چھلنی ہیں، وہ اپنے بیٹے کی تصویر کو سینے سے لگائے انصاف مانگ رہی ہے، اس کا درد ناقابل بیان ہے۔ جی ہاں! یہ ہیں امن کی آشائیں جن کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہوئے یہ بھارت کی طرف سے ظلم و بربریت سے بھرے تحفے انسانی حقوق کی تنظیموں کو تو منظور ہوں گے لیکن ان ماﺅں اور بہنوں کو منظور نہیں جن کے لخت جگر اور ویراس ظلم کا شکار ہو گئے۔ ان دکھی ماﺅں اور بہنوں کے ساتھ ”جرار“ کی قارئین مائیں اور بہنیں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں، جو پاکستان دفاع فورم کے حوالے سے ہے جس کے کنونیئر امیر حمزہ صاحب ہیں۔ آج اس پلیٹ فارم سے ہم سب یہ کہتی ہیں کہ سربجیت سنگھ کو فی الفور پھانسی دو جو حالیہ تاریخ کا سب سے پہلا دہشت گرد ہے پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کا سرا اسی سے جڑا ہوا ہے، پاکستان میں اب تک 7000 لوگ دہشت گردی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور 48 بے گناہ پاکستانی اپنی سزا ختم ہونے کے باوجود بھارت کی جیلوں میں پڑے اذیت سے دوچار ہیں۔ اے زرداری تیرے پاس دلبیر کور آئی ہے، انصاف کی بھیک مانگنے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری تیری پیپلز پارٹی کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے والی محترمہ شازیہ بی بی کا دل چکنا چور ہے، اس ظلم کی وجہ سے جو سربجیت سنگھ نے ڈھایا بلال مصطفی کی بہنیں دروازہ کھولے راہ تک رہی ہیں اپنے بھائی کا، مگر دلبیر کور کے بھائی نے اسے ایسی جگہ پہنچا دیا جہاں جانے والے لوٹ کر آیا نہیں کرتے۔
اب دیکھنا یہ ہے! آصف علی زرداری صاحب دلبیر کا ساتھ دیتے ہیں یا ان مظلوم ماﺅں اور بہنوں کا جن کے بچے اور بھائی اس ظالم نے ان سے چھین لئے اور وہ تڑپتی سسکتی رہی گئیں، اگر ان مظلوموں کا ساتھ دیا تو دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جائے گا۔ اسلام میں دہشت گرد اور قاتل کی کوئی معافی نہیں اور تو کسی صورت اسے معاف نہیں کر سکتا۔ دلبیر کور اور دہشت گرد کا ساتھ دینے کی صورت میں دنیا اور آخرت میں ذلیل و رسوا ہو جائے گا۔ قیامت والے دن ان متاثرہ ماﺅں اور بہنوں کے ساتھ انسانی ہمدردی رکھنے والی دفاع پاکستان فورم کی تمام بہنیں تیرا گریبان پکڑیں گی۔ کوئی چھڑانے والا نہ ہو گا، وہ قیامت والا دن جس دن ہر ظلم کا حساب چکانا ہو گا اور جہاں تک ہماری بات ہے تو ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، اللہ تو ہماری مدد فرما، اے اللہ ہماری مدد فرما، آمین ثم آمین۔




بشکریہ۔۔۔ ہفت روزہ جرار
والسلام ۔۔۔۔۔ سعد اوڈراجپوت
saad oadrajput

saad-oad
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: کراچی
عمر: 24
مراسلات: 15
شکریہ: 1
9 مراسلہ میں 36 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 278
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے saad-oad کا شکریہ ادا کیا
skjatala (04-07-11), محمد یاسرعلی (04-07-11), مرزا عامر (04-07-11), احمد نذیر (04-07-11), راجہ اکرام (04-07-11), سام (03-07-11), سائل (04-07-11), عمران شاہد (03-07-11), عبدالقدوس (04-07-11)
پرانا 04-07-11, 12:34 AM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مقام: sialkot
عمر: 23
مراسلات: 55
کمائي: 1,422
شکریہ: 67
44 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!
جو کچھ میں نے الفاظ میں چھپے منظر کو دیکھا اس کو گردوں کے ستاروں نے بھی دیکھا ۔مگر کیا ہم نے ابھی بھی وہ عزم مسمم نہیں کیا کہ پاکستان کی آواز کو چار دانگ عالم میں‌پھیلا کر دم لیں گے۔۔۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آج کا مسلمان اتنا خود غرض ہو گیا ہے کہ غیر ہمارے بھائیوں کا خون سرعام بہہ دیںاور ہم اس کا سدباب بھی نہ کرسکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب یہ واقعات میں چشم تصور میں لاتا ہوں تو اقبال کا شعر بے ساختہ یاد آتا ہے :
محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
صفیں کج، دل پریشاں،سجدہ بے ذوق
کہ جذب اندروں باقی نہیں ہے
ہاں مگر دل کو اتنا اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ علمی حلقوں میں اس قدر خو باقی ہے کہ بیدار شعور کے لیے ہمہ تن کوشش کر رہے ہیں۔

Last edited by سائل; 04-07-11 at 12:41 AM.
سائل آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سائل کا شکریہ ادا کیا
skjatala (04-07-11), فیصل ناصر (04-07-11), محمد یاسرعلی (04-07-11), مرزا عامر (04-07-11), احمد نذیر (04-07-11), سام (04-07-11), عبدالقدوس (04-07-11)
پرانا 04-07-11, 07:15 AM   #3
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,363
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انصار برنی کی تو بات ہی نا کرو بھائی کمیشن ایجنٹ ہے
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-07-11, 10:27 AM   #4
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,669
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ کون سا نظام ہے کہ کہیں 20 سال میں گناہ ثابت ہو کے بھی ابھی تک پھانسی نہیں دی جاسکی اور کہیں ایجنسیاں دہشت گرد پکڑتی ہیں تو اس ایک دو سال میں رہا کر دیا جاتا ہے کیا پھانسی گھاٹ صرف بے گناہوں کے لیے بنا ہے آخر ہم اب تک وہ پھندا کیوں نہیں بنا سکے جو اس جیسے ظالموں کی گردن میں فیٹ آ سکے
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-07-11, 11:16 AM   #5
Senior Member
 
روشنی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 389
کمائي: 6,365
شکریہ: 99
303 مراسلہ میں 791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سربجیت سنگھ جیسوں کو تو اسی وقت پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے تھا خواہ مخواہ جیل میں بٹھا کر اسکی خدمت کر رہے ہیں ،
دیکھا نہیں کیسا موٹا تازہ دنبا بن گیا ھے اور ہمارے معصوم مچھیرے جن کو انڈین آرمی پکڑ کر لے جاتی ہے ۔ واپسی پر ان کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ (وہ بھی اگر زندہ سلامت آنے کا موقع ملے تو)
اور وہ لوگ جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے انڈیا جاتے ہیں ان پر بھی جھوٹے الزام لگا کر جلیوں میں بند کر دیا جاتا ہے ،زہنی اورجسمانی ٹارچر کیا جاتا ہے افففف
اور ان کے سِکھ مذہبی تہوار منانے ہر سال پاکستان آتے ہیں دھوم دھڑکے سے مناتے ہیں ،گھومتے پھرتے شاپنگ کرتے ہیں ،
میرا تو دل جل جاتا ہے انکودیکھ کر کہ یہ ہی تھے وہ جنھوں نے ہمارے مسلمان بھا ئی بہنوں بزرگوں معصوم بچوں تک کو نہیں چھوڑا تھا ۔

اور یہ انصار برنی کمیشن ایجنٹ ہے کس پر یقین کریں کس پر نہیں
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"
اُس شخص کے لئے جنت کی خوشخبری ہے جس کے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار پایا گیا ۔
روشنی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے روشنی کا شکریہ ادا کیا
skjatala (04-07-11), محمد یاسرعلی (04-07-11)
جواب

Tags
فورم, فارم, کورٹ, کالج, پھول, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, چور, موت, ماں, اللہ, امیر, امریکہ, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, تعلیم, جیل, خون, دھماکہ, روزہ, زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger