واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




فوجی آپریشنز کا سال:ایک تجزیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-12-09, 09:03 AM   #1
فوجی آپریشنز کا سال:ایک تجزیہ
حیدر حیدر آن لائن ہے 30-12-09, 09:03 AM

سنہ 2009 میں پاکستانی فوج نے سوات اور جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف دو بڑے آپریشن کیے

اگر یہ کہا جائے کہ سنہ دو ہزار نو پاکستان اور بالخصوص صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے آپریشنز کا سال رہا تو غلط نہ ہوگا۔

اس سال جہاں حکومت نے پہلی مرتبہ شدت پسندی سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے مالاکنڈ سے وزیرستان تک کارروائیاں کیں وہیں صوبہ سرحد کے شہری علاقوں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں بھی تیزی آئی اور صوبے کا دارالحکومت پشاور بم قریباً سارا سال ہی دھماکوں اور خودکش حملوں کی زد پر رہا۔

دو ہزار نو کا آغاز حکومت کی جانب سے فروری میں سوات میں کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے توسط سے طالبان سے کیے جانے والے امن معاہدے سے ہوا اور اس معاہدے کے تحت حکومت نے سوات کے مقامی طالبان کے قائد مولانا فضل اللہ کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن میں کلِک شرعی نظام عدل کے قیام کا اعلان کر دیا۔

اس امن معاہدے سے جہاں ایک طرف تشدد کے واقعات میں کمی آئی تو وہیں دوسری طرف مالاکنڈ ڈویژن بالخصوص سوات پر بظاہر حکومت کی آشیرباد سے کلِک طالبان کی مکمل عملداری قائم ہوگئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی طالبان نے اپنی عملداری سوات سے بونیر اور دیگر علاقوں تک پھیلادی۔

سوات میں ایک کلِک لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے سے اس امن معاہدے کو شدید دھچکا لگا اور پھر بونیر میں طالبان کا داخلہ اس معاہدے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ امن معاہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی کلِک سوات میں تشدد ایک بار پھر بھڑک اٹھا اور نتیجتاً حکومت نے پانچ مئی کو ’راہ راست’ کے نام سے مالاکنڈ ڈویژن میں باقاعدہ فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔

اس فوجی کارروائی کے آغاز ہی میں ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی شروع ہوئی اور حکومت کے مطابق کلِک بیس لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ نقل مکانی کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے دیر لوئر، مردان اور صوابی میں بنائے گئے مہاجر کیمپوں میں پناہ لے لی تاہم ان افراد کو ضروریاتِ زندگی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اس دوران ، سوات ، بونیر، دیر اپر اور دیر لوئر میں آپریشن جاری رہا اور مبصرین کی نظر میں یہ ماضی کے ’فرینڈلی آپریشن’ کی نسبت ایک سنجیدہ کارروائی ثابت ہوئی۔ سوات میں آپریشن سے مقامی طالبان کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت یا تو ہلاک ہوگئی یا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار ہونے والوں میں سوات طالبان کے ترجمان کلِک حاجی مسلم خان اور محمود خان جیسے اہم کمانڈر شامل تھے۔ البتہ طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ اتنی مؤثر کاروائی کے باوجود بظاہر علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مولانا فضل اللہ کا گرفتار یا ہلاک نہ ہونا اس کلِک آپریشن کی مکمل کامیابی پر ایک بڑے سوالیہ نشان کی صورت میں موجود ہے اور سال کے اواخر میں سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کلِک شمشیر علی خان کی خودکش حملے میں ہلاکت کو مقامی لوگ آپریشن کی کامیابی کے خلاف مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اگست سنہ دو ہزار نو میں کلِک بیت اللہ محسود کی ہلاکت اس سال کے اہم ترین واقعات میں سے ایک تھی اور اس ہلاکت کے حوالے سے تصدیقی اور تردیدی بیانات کا ایک طویل سلسلہ قریباً تین ہفتے تک چلتا رہا اور جہاں حکومت اور امریکی حکام کی جانب سے بیت اللہ کی ہلاکت کے بیانات سامنے آئے وہیں طالبان نے اس خبر کی ابتداء میں سختی سے تردید کی تاہم بعد ازاں طالبان تحریک کے اہم کمانڈر حکیم اللہ محسود کی بطور طالبان کمانڈر تقرری کی خبر کے ساتھ ہی بیت اللہ محسود کی موت کی تصدیق بھی کر دی گئی۔

سوات کے بعد پاکستانی فوج کے دوسرے اہم اور بڑے عسکری آپریشن کا ہدف طالبان کا گڑھ سمجھا جانے والا جنوبی وزیرستان کا علاقہ تھا۔ ماہِ جون میں کلِک ’راہِ نجات‘ کے نام سے شروع کیے جانے والے اس کلِک فوجی آپریشن کا مقصد بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی بعد بظاہر کمزور ہوتے ہوئے طالبان کی کمر توڑنا اور ان کے مرکز پر وار کرنا تھا۔

تاہم اس آپریشن کے دوران حیران کن طور پر فوج کو طالبان کی جانب سے کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی فوج اس ایجنسی کے کلِک سترّ فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ گو یہ آپریشن تاحال جاری ہے لیکن اب تک فوج جنوبی وزیرستان کے کسی اہم طالبان رہنما کو ہلاک یا گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طالبان جنوبی وزیرستان سے اورکزئی ایجنسی منتقل ہو چکے ہیں اور اب وہاں فوج نے غیر اعلانیہ کارروائی بھی شروع کر دی ہے جبکہ اعلانیہ آپریشن کا آغاز بھی زیادہ دور نہیں دکھائی دیتا۔ جنوبی وزیرستان پر فوج کے کنٹرول کے حوالے سے طالبان کے ترجمان اعظم طارق کا موقف ہے کہ طالبان ایک حکمت عملی کے تحت یہ علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں اور وقت آنے پر وہ دوبارہ سکیورٹی فورسز پر حملے کریں گے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کا ایک اور سلسلہ شروع ہوا اور اس آپریشن کے آغاز سے قبل قریباً کلِک چار لاکھ محسود قبائلی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

جنوبی وزیرستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان ایجنسی کا علاقہ رواں برس امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے اہم ہدف کے طور پر سامنے آیا اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران ہی یہاں متعدد ڈرون حملے ہوئے جن میں مقامی طالبان کے علاوہ غیر ملکی جنگجو بھی مارے گئے۔ ان حملوں میں مارے جانے والوں میں القاعدہ کے اہم رہنما کلِک صالح الصومالی کا نام بھی سامنے آیا۔

پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں میں باجوڑ ایجنسی میں اگرچہ سال کے آغاز میں ہی طالبان کمانڈر مولانا فقیر محمد نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد کلِک باجوڑ میں پھر سے کارروائی شروع کردی گئی اور سکیورٹی فورسز کے دستے کئی سالوں کے بعد طالبان کے گڑھ کہلانے والے علاقوں تحصیل ماموند اور سالار زئی میں داخل ہوگئے۔ اس دوران تحریکِ طالبان کے ترجمان کلِک مولوی عمر کو مہمند ایجنسی سےگرفتار کیا گیا۔ باجوڑ ایجنسی میں اب بھی وقتاً فوقتاً کارروائی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں متاثرین بدستور پشاور اور دیگر مقامات پر مہاجر کمیپوں میں مقیم ہیں۔

باجوڑ سے ملحقہ مہمند ایجنسی میں بھی اس سال سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں اور یہاں گزشتہ چند مہینوں میں حکومت کی حامی امن کمیٹیوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم یہاں طالبان کی کارروائیوں میں بظاہر کمی واقع ہوئی ہے۔

طالبان کا مرکز سمجھے جانے والے جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقے پر فوج کے کنٹرول حاصل کرنے کے باوجود ملک کے شہری علاقوں میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں رواں برس کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ اس سالکلِک بےگناہ اور معصوم شہری اس جنگ کے ایک نئے ہدف کے طور پر سامنے آئے۔

صوبہ سرحد کے بیشتر بڑے شہر خصوصاً دارالحکومت پشاور دھماکوں اور حملوں کی زد پر رہا اور ان واقعات میں جہاں سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ پشاور کے علاقے پیپل منڈی میں ہونے والا خودکش حملہ صوبے میں اس برس کا سب سے مہلک حملہ ثابت ہوا جس میں ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے۔ پشاور کے علاوہ دھماکوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں کوہاٹ، چارسدہ، بنوں جیسے شہر شامل تھے۔
بشکریہ بی بی سی

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 140
Reply With Quote
پرانا 30-12-09, 10:34 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو اس ایک سالہ تجربے کی روشنی میں بتائیے کہ
کیا کھویا کیا پایا؟
کون سا پلڑا بھاری ہے؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کنٹرول, کمر, پاکستانی, واقعات, لڑکی, مکمل, موت, منتقل, آپریشن, اللہ, خودکش, خودکش حملہ, خلاف, خان, خبر, زندگی, سال, طالبان, علی, عسکری, صوابی, صوبہ, صوبے, صوبائی, صالح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زین اور زینب زین اور زینب بچوں کا تعارف 34 25-10-11 10:23 AM
ہم یعنی زین اور زینب زین اور زینب گپ شپ 16 03-02-11 10:52 PM
دھرنا (طنزیہ) سد ید مسعو د شاعروں کی بیٹھک 0 24-02-09 04:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger