واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




پاکستان دشمنوں کی گھناﺅنی چال اور بچاﺅ کا راستہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-08-11, 04:58 PM   #1
پاکستان دشمنوں کی گھناﺅنی چال اور بچاﺅ کا راستہ
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 02-08-11, 04:58 PM

اب وزیر داخلہ نے بھی وہی بات کر دی ہے جو بہت پہلے سے واقفان حال اور محبِ وطن حلقے نہایت شدومد سے کرتے آئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے واشگاف کہا کہ کراچی میں استعمال ہونے والا اسلحہ اسرائیل سے آ رہا ہے اور کراچی میں دہشت و فساد کی خونریز فضا قائم کرنے میں بھی بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عالم اسلام میں کفر کا اگر کوئی متفقہ ہدف اور واضح نشانہ ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اسلام کی سربلندی کی تحریکوں کے لئے ہر اول دستے کا کردار رکھتا ہے۔ اس لئے یہ ارض وطن روزِ اول ہی سے اہل کفر کی نگاہوں میں کسی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ اسرائیل امریکا اور بھارت کی ٹرائیکا نے پاکستان کی سالمیت و بقا کے خلاف ایک عرصے سے خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان میں ہوتے بم دھماکوں، دہشت گردی کی وارداتوں اور اس کی نظریاتی سرحدوں پر ہوتی لگا تار یلغاروں کے پیچھے ہمیشہ انہی ارکان ثلاثہ کے نادیدہ ہاتھ ہوتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وقت کی ایک اورسپر پاور افغانوں کے ایمانی اور جہادی تھپڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے زمیں بوس ہو چکی ہے۔ اس وقت اوبامہ یہ تقریریں کر رہا ہے کہ امریکا دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے امریکی قرضے کی حد میں اضافہ کرے گا۔ قرضہ کی حد بڑھا کر وہ وقتی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ تو سکتے ہیں مگر امریکی ماہرین معیشت صاف کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی بہرحال تباہی اور زوال ہی کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ ایک طرف امریکہ معیشت کے بے پناہ بوجھ تلے دبا ہے تو دوسری طرف عسکری اعتبار سے بھی امریکا اپنی واضح شکست تسلیم کر چکا ہے۔ امریکی میگزین ٹائم نے امریکی عوام کے حوالے سے جو سروے شائع کیا اس میں خود امریکی عوام بھی اس بات سے آگہی رکھتی اور اسے وہ علی الاعلان تسلیم بھی کرتی ہے کہ امریکا کی سپر پاوری کے دن گنے جا چکے۔ ماہرین آئندہ کی سپر پاور کے طور چائنہ کو دیکھ رہے ہیں۔ آئندہ کا علم اللہ کے پاس ہے مگر حال کی اور طے شدہ اور پوری دنیا کے ہاں تسلیم شدہ بات یہ ہے کہ امریکا ناصرف یہ جنگ ہار گیا اور افغانیوں کا ناصرف جہاد جیت گیا بلکہ امریکا آئندہ سپر پاور کے طور پر زندہ رہنے کے قابل نہیں رہا اگر وہ باقی رہتا بھی ہے تو ٹوٹے اور بکھرے روس کی طر بیساکھیوں اور سہاروں کے بغیر جی نہ سکے گا۔
افغانستان میں اب عملاً ناٹو افواج کے انخلاءاور واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ کینیڈا کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ ترجمان تک ڈر کے بھاگ چکے ہیں، جرمنی اور دیگر کئی ممالک بھی بوریا بستر گول کر چکے ہیں خود امریکہ بھاگنے کے راستے کراچی پورٹ سے متعین کر چکا ہے اور اب تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کا معروف صوبہ بامیان ناٹو افواج نے افغان فوج کے حوالے کر کے وہاں سے مکمل انخلاءکر لیا یعنی اب صوبہ بامیان میں ناٹو افواج کی نہیں افغان فوج کا عمل دخل اور حکومت ہے۔
یہ ایک ایسا منظر نامہ ہے جس کو دیکھنے کی امریکا اور اس کے حواریوں نے کبھی توقع نہ کی تھی۔ وہ اس جنگ کا انجام ایک فاتح کے روپ میں دیکھنے کے متمنی تھے۔ وہ ساری دنیا کو دہشت گردی کی اصطلاح کے پس منظرمیں مسلم کشی کی نوید سنانا چاہتے تھے مگر زمینی حقائق نے ایک بار پھر بے سروسامان اہل جہاد کی فتح کے مناظر دکھا کے غرور و تکبر اور کفر و باطل کا سر نیچا کر دکھایا ہے۔ کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے، اب امریکا جو کھسیانی بلی کا کردار نبھا رہا ہے وہ جس کھمبے کو نوچنے کی کوشش کر رہا ہے وہ پاکستان ہے۔
بوکھلائے ہوئے امریکا نے اپنی کچکچاہٹ نکالنے کے لئے پاکستان کو ہدف قرار دے لیا ہے وہ ساری بوکھلاہٹ اور بے بسی پاکستان سے بدلہ لے کر نکالنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جہاں پاکستان پر ہوتے ڈرون حملوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے، پاکستان کی افغان سرحد پر بے شمار حملے شروع ہو گئے ہیں، وہیں پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کراچی کا امن و امان غارت کرنے کی پوری منصوبہ بندی کر لی گئی اور اب یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں رہی کہ ان سب کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں۔ اسرائیل کا گھناﺅنا کردار تو وزیر داخلہ نے واضح کر دیا جو نام انہوں نے نہیں لئے وہ امریکا و انڈیا ہیں۔
آثار بتاتے ہیں کہ امریکا ہاری ہوئی جنگ کا جتنا بھی ممکن ہوا غصہ پاکستان پر نکال کے جانا چاہتا ہے۔ اس میں اسے ہندو بنیے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی خباثتوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ان حالات میں جبکہ حکومتی عہدیدار اب برملا اس کا اظہار بھی کرنے لگے ہیں پاکستان کا کردار نہایت حساس ہو جانا اور بروقت سامنے آنا چاہئے۔
حکومت پاکستان کو اپنی سرحدات کے تحفظ کے لئے افواج پاکستان کو پوری طرح چوکس اور خطرات سے نمٹنے کے لئے ہر وقت پوری طرح تیار ہوشیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ امریکا کے ساتھ جعلی دوستی اور محبت کی بڑھتی پینگوں کا ڈرامہ کرنے کے بجائے قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ کر کے مشکل حالات کی تیاری کروائی جائے۔
واضح طور پر اعلان کر دیا جائے کہ میدان میں ہارے ہوئے اور پاکستان دشمنی پر اترے ہوئے امریکا سے ہماری کوئی دوستی نہیں۔ ہم نے افغانیوں کو وہ اسلامی کمک نہیں پہنچائی جو بطور مسلمان ہمیں پہنچانا چاہئے تھی لیکن اس آخری وقت ہی سہی ہمیں ان کے ساتھ امریکا کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی بچی کھچی غیرت کا اظہار کرنا چاہئے۔
اس طرز عمل سے ایک طرف جہاں رب رحمان کی نصرت و تائید پاکستان کی حفاظت کیلئے سایہ فگن ہو گی، وہیں قوم اور فوج کا مورال بھی بلند ہو گا۔ امریکی امداد کے لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ جسے رب کی امداد حاصل ہو جائے اسے کسی دوسرے کی امداد کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن جسے رب کی امداد حاصل نہ ہو ا سو امریکا بھی امداد دینے پر تل جائے تو مقدر میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ حالات سمجھنے اور دین پر عمل کی توفیق دے۔



بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام ،،،،علی اوڈراجپوت
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ.

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 304
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (11-08-11), احمد نذیر (03-08-11), راجہ اکرام (11-08-11)
پرانا 02-08-11, 06:50 PM   #2
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,829
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Pakistan . . . . . . . .
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (11-08-11)
پرانا 03-08-11, 10:32 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

کچھ تجزيہ نگار امريکی شکست کی اصطلاح کثرت سے استعمال کر رہے ہيں اور افغانستان کے بعض علاقوں سے امريکی فوجيوں کے انخلاء کو امريکہ کی ناکامی کے ثبوت کے طور پر پيش کر رہے ہیں۔ ليکن تجزيہ نگار اس حقيقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ امريکی اور نيٹو افواج ان علاقوں سے دستبردار نہيں ہو رہی ہيں بلکہ سيکورٹی کی ذمہ داری مقامی افغان فورسز کو منتقل کی جارہی ہے۔ يہ ايک ايسا عمل ہے جس کا کئ ماہ قبل صدر اوبامہ نے باضابطہ سرکاری اعلان کيا تھا۔

"ہم نے واضح اہداف مقرر کيے تھے جن ميں القائدہ پر ازسرنو توجہ مرکوز کرنا، طالبان کی پيش رفت کو روکنا اور افغان سيکورٹی فورسز کی تربيت کرنا شامل تھا، تا کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر سکيں۔ ميں نے يہ بھی واضح کيا تھا کہ ہماری موجودگی غير معينہ مدت کے لیے نہیں ہو گی اور ہم اس جولائ سے اپنی افواج میں کمی کا عمل شروع کر ديں گے۔

آج ميں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم اپنے عزم کو پورا کر رہے ہيں۔ فوجی ورديوں ميں ہماری عورتيں اور مرد، ہماری سول افرادی قوت اور ہمارے بے شمار اتحاديوں کے طفيل ہم اپنے اہداف حاصل کر رہے ہيں۔ جس کے نتيجے ميں اگلے ماہ سے ہم افغانستان سے اپنے 10 ہزار فوجيوں کو نکالنے کے عمل کا آغاز کر ديں گے۔ اگلے سال موسم گرما تک ہم 33 ہزار فوجيوں کو واپس بلوا ليں گے جس کے نتيجے ميں ويسٹ پوائنٹ کے مقام پر ميں نے فوجيوں کی تعداد ميں اضافے کا جو اعلان کيا تھا وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائيں گے۔ اس ابتدائ کمی کے بعد ہماری افواج کی واپسی کا عمل افغان سيکورٹی فورسز کی بتدريج برتری کے ساتھ جاری رہے گا۔ سال 2014 تک منتقلی کا عمل مکمل ہو جاۓ گا اور افغان عوام خود اپنے ملک کے ذمہ دار ہوں گے۔"

ہمارے واضح کردہ اہداف اور خطے ميں ہماری موجودگی کے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوۓ کچھ علاقوں سے ہماری افواج کی واپسی اور سيکورٹی کی ذمہ داريوں کا مقامی افغان فورسز تک منتقلی کا عمل دراصل افغانستان ميں ہمارے مشن کی کاميابی کی عکاسی کرتا ہے۔

يہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ہم واپسی کا عمل ايک مضبوط پوزيشن حاصل کرنے کے بعد شروع کر رہے ہيں۔ القائدہ کی تنظيم 911 کے بعد سے کبھی بھی اتنے دباؤ میں نہيں تھی۔ پاکستانيوں کے ساتھ مل کر ہم نے القائدہ کی قريب نصف سے زيادہ قيادت کا صفايا کر ديا ہے۔ افغانستان ميں ہم نے طالبان کو بے پناہ نقصان پہنچايا ہے اور ان کے کئ مضبوط ٹھکانے حاصل کر ليے ہيں۔

افغانستان کی سيکورٹی فورسز کی تعداد 100000 سے تجاوز کر چکی ہے اور کچھ صوبوں اور ضلعوں میں ہم نے سيکورٹی کی ذمہ داری افغان عوام کے سپرد کرنے کے عمل کا آغاز کر ديا ہے۔

افغانستان ميں امريکی موجودگی کا مقصد کبھی بھی کامياب قبضہ کی کوشش نہيں تھا۔ صدر اوبامہ نے بھی اسی نقطے کی وضاحت اپنی تقرير میں کی تھی

"یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ امریکہ اور ہمارے اتحادی آخر افغانستان میں جنگ لڑنے پر کیوں مجبور ہوئے۔ یہ لڑائی ہمارے کہنے پر شروع نہیں ہوئی۔ اس داخلی اتحاد کے جھنڈے تلے، اور بین الاقوامی طور پر جائز اور قانونی قرار دیے جانے کے بعد، اور طالبان کے اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کرنے سے انکار کے بعد ہی، ہم نے اپنی فوجیں افغانستان میں بھیجیں۔"

جو دوست افغانستان ميں امريکی شکست کا حوالہ ديتے ہيں ميں ان کو ياد دلانا چاہوں گا کہ دہشت گردوں سے شکست اور ان کے مطالبات کے سامنے ہتھيار ڈالنے کا آپشن امريکہ سميت دنيا کے کسی ملک کے پاس نہيں ہے۔ ايسی صورت حال خود پاکستان کے مفاد ميں بھی نہیں ہے۔ ايسی شکست جس صورت حال کو جنم دے گی اس کا تصور دنيا بھر ميں القائدہ کے سينکڑوں خودکش حملوں اور دہشت گردوں کی کاروائيوں کے تناظر ميں کيا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے عفريت کو شکست دينا اور اس کے نتيجے ميں بے گناہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت ہماری اولين ترجيح ہے۔

اس ضمن میں ہمارے پاس شکست کا آپشن نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (11-08-11), حیدر (11-08-11)
پرانا 03-08-11, 10:45 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فواد ڈیجیٹل یہ بتائیں
امریکہ پاکستان سے کب جائے گا ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (11-08-11)
پرانا 10-08-11, 11:25 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
فواد ڈیجیٹل یہ بتائیں
امریکہ پاکستان سے کب جائے گا ؟؟

ميں نہيں سمجھ سکا کہ آپ کس منطق اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کر رہے ہيں کہ امريکہ کسی بھی حوالے سے پاکستان پر قابض ہے يا پاکستان پر چڑھائ کر رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ اگر آپ نے گزشتہ چند دنوں کی اخباری سرخيوں کا جائزہ ليا ہو تو آپ اس خبر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد ائرپورٹ پر امريکی سفير کو ايک سرکاری دورے پر کراچی روانگی سے قبل خصوصی دستاويزات پيش کرنے کے لیے کہا گيا۔ امريکی سفیر پاکستان میں امریکی حکومت کے نمايندہ اور سب سے سينير سفارت کار کی حيثيت رکھتے ہيں اور جب ان کو جانچ پڑتال سے متعلق تمام پروٹوکولز اور مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو يہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امريکی حکومت پاکستان پر قبضہ اور چڑھائ تو درکنار کسی مقامی قانون کو توڑنے، اختيارات مسلط کرنے اور يہاں تک کہ جائز قانونی اور سفارتی رعب اور دبدبے کے اظہار پر بھی يقین نہيں رکھتی – اور وہ بھی ايک ايسے ملک کے خلاف جو خطے ميں ہمارا سب سے مضبوط اتحادی اور طويل المدت شراکت دار ہے۔

ميں اس بات کی نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ جس دن امريکی سفارت کار کيمرون منٹر کو ايک معمول کے اندرون ملک سفر کے دوران اين او سی پيش کرنے کے لیے کہا گيا، اسی دن امريکہ میں پاکستان کے سفير حسين حقانی شگاگو تشريف لے گۓ جہاں وہ پاکستان سے درآمد کردہ آموں کی پہلی کھيپ سے متعلق افتتاحی تقريب میں مہمان خصوصی کی حيثيت سے مدعو تھے۔

آپ کے طے شدہ اصول پر اگر پرکھا جاۓ تو پھر کيا يہ مناسب ہو گا کہ امريکہ میں سفارت کاروں اور اہم حکومتی عہديداروں سميت ہر پاکستانی شہری کی موجودگی اور ان کی سرکاری، کاروباری اور تعليمی سرگرميوں کو "چڑھائ"، "حملہ" يا مستقبل ميں امريکہ پر قبضے کی کسی مکروہ سازش کا حصہ سمجھا جاۓ۔

سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سول قيادت کی جانب سے اس مدد اور شراکت داری کا اعتراف اور اس کی قبوليت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ميں ہر امريکی سفارت کار اور عہديدار کی موجودگی حکومت پاکستان کی مرضی ومنشا اور مکمل آگاہی کے نتيجے ميں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (11-08-11), حیدر (11-08-11)
پرانا 10-08-11, 11:35 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
فواد ڈیجیٹل یہ بتائیں
امریکہ پاکستان سے کب جائے گا ؟؟

ميں نہيں سمجھ سکا کہ آپ کس منطق اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کر رہے ہيں کہ امريکہ کسی بھی حوالے سے پاکستان پر قابض ہے يا پاکستان پر چڑھائ کر رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ اگر آپ نے گزشتہ چند دنوں کی اخباری سرخيوں کا جائزہ ليا ہو تو آپ اس خبر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد ائرپورٹ پر امريکی سفير کو ايک سرکاری دورے پر کراچی روانگی سے قبل خصوصی دستاويزات پيش کرنے کے لیے کہا گيا۔ امريکی سفیر پاکستان میں امریکی حکومت کے نمايندہ اور سب سے سينير سفارت کار کی حيثيت رکھتے ہيں اور جب ان کو جانچ پڑتال سے متعلق تمام پروٹوکولز اور مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو يہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امريکی حکومت پاکستان پر قبضہ اور چڑھائ تو درکنار کسی مقامی قانون کو توڑنے، اختيارات مسلط کرنے اور يہاں تک کہ جائز قانونی اور سفارتی رعب اور دبدبے کے اظہار پر بھی يقین نہيں رکھتی – اور وہ بھی ايک ايسے ملک کے خلاف جو خطے ميں ہمارا سب سے مضبوط اتحادی اور طويل المدت شراکت دار ہے۔

ميں اس بات کی نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ جس دن امريکی سفارت کار کيمرون منٹر کو ايک معمول کے اندرون ملک سفر کے دوران اين او سی پيش کرنے کے لیے کہا گيا، اسی دن امريکہ میں پاکستان کے سفير حسين حقانی شگاگو تشريف لے گۓ جہاں وہ پاکستان سے درآمد کردہ آموں کی پہلی کھيپ سے متعلق افتتاحی تقريب میں مہمان خصوصی کی حيثيت سے مدعو تھے۔

آپ کے طے شدہ اصول پر اگر پرکھا جاۓ تو پھر کيا يہ مناسب ہو گا کہ امريکہ میں سفارت کاروں اور اہم حکومتی عہديداروں سميت ہر پاکستانی شہری کی موجودگی اور ان کی سرکاری، کاروباری اور تعليمی سرگرميوں کو "چڑھائ"، "حملہ" يا مستقبل ميں امريکہ پر قبضے کی کسی مکروہ سازش کا حصہ سمجھا جاۓ۔

سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سول قيادت کی جانب سے اس مدد اور شراکت داری کا اعتراف اور اس کی قبوليت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ميں ہر امريکی سفارت کار اور عہديدار کی موجودگی حکومت پاکستان کی مرضی ومنشا اور مکمل آگاہی کے نتيجے ميں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-08-11, 11:42 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
فواد ڈیجیٹل یہ بتائیں
امریکہ پاکستان سے کب جائے گا ؟؟
فيصل بھائي يہ پوچھيں كہ امريكہ پاكستان ميں كب باقاعدہ فوجيں داخل كرے‌گا۔۔۔۔۔ يا بھارتي فوج كے داخلے كے لئے راہ ہموار كرے‌گا۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-08-11), نیلم خان (11-08-11), احمد نذیر (11-08-11), حیدر (11-08-11)
پرانا 11-08-11, 01:50 AM   #8
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,161
شکریہ: 25,590
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ پاک اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-08-11, 10:27 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فواد صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ ان کی سرکاری مجبوری ہے
ورنہ اب یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکہ افغانستان سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان سے جانے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ گھیرا مزید تنگ کر رہا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-08-11), حیدر (11-08-11)
پرانا 11-08-11, 10:48 AM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ميں اس بات کی نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ جس دن امريکی سفارت کار کيمرون منٹر کو ايک معمول کے اندرون ملک سفر کے دوران اين او سی پيش کرنے کے لیے کہا گيا
ایسا بُخار اکثر ہمارے دیسی حکمرانوں کو بھی چڑھا کرتا ہے۔ جب وہ خود ہی ذوق و شوق سے اپنا چالان کرواتے ہیں یا سیٹ کی عدم دستیابی پر عام مسافروں کی طرح لاؤنج میں بیٹھ جایا کرتے ہیں۔ کوئی نویں گل کرو
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-08-11, 12:28 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امریکہ جس دن پاکستان کو عراق اور افغانستان سمجھ کر داخل ہوگا تو وہ امریکہ کی آخری ہٹ دھرمی ثابت ہوگی۔ کیوں کہ اس کے بعد امریکہ شاید پانچ چھ حصوں میں بٹ جائے
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-08-11, 03:02 PM   #12
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 6
کمائي: 391
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ اکرم صاحب بالکل درست فرما رہے ہیں- فواد صاحب ذرا دجال کے مطعلق احادیث کا مطالعہ فرما لیں آپکو سب سمجھ آ جاے گا-
ناصر جاوید آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, کوشش, کراچی, پاکستان, وزیر, مکمل, منصوبہ, ممکن, محبت, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, جیت, حال, خلاف, روزہ, راستہ, علی, عالم, عسکری, غرور, صوبہ, صورتحال, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ۔۔۔ پاکستانی سرحدوں کے اندرباہر وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری جاویداسد خبریں 0 02-12-10 08:46 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
امريکی قوم سے صدر اوبامہ کا خطاب -افغانستان اور پاکستان میں پیش قدمی کا راستہ Fawad سیاست 12 04-12-09 05:47 PM
بیت اللہ محسود کا وزیرستان میں شاندار استقبال، جشن،40 دنبوں کا صدقہ۔ ابن جلال خبریں 0 05-10-08 01:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger