![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 304
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ تجزيہ نگار امريکی شکست کی اصطلاح کثرت سے استعمال کر رہے ہيں اور افغانستان کے بعض علاقوں سے امريکی فوجيوں کے انخلاء کو امريکہ کی ناکامی کے ثبوت کے طور پر پيش کر رہے ہیں۔ ليکن تجزيہ نگار اس حقيقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ امريکی اور نيٹو افواج ان علاقوں سے دستبردار نہيں ہو رہی ہيں بلکہ سيکورٹی کی ذمہ داری مقامی افغان فورسز کو منتقل کی جارہی ہے۔ يہ ايک ايسا عمل ہے جس کا کئ ماہ قبل صدر اوبامہ نے باضابطہ سرکاری اعلان کيا تھا۔
"ہم نے واضح اہداف مقرر کيے تھے جن ميں القائدہ پر ازسرنو توجہ مرکوز کرنا، طالبان کی پيش رفت کو روکنا اور افغان سيکورٹی فورسز کی تربيت کرنا شامل تھا، تا کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر سکيں۔ ميں نے يہ بھی واضح کيا تھا کہ ہماری موجودگی غير معينہ مدت کے لیے نہیں ہو گی اور ہم اس جولائ سے اپنی افواج میں کمی کا عمل شروع کر ديں گے۔ آج ميں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم اپنے عزم کو پورا کر رہے ہيں۔ فوجی ورديوں ميں ہماری عورتيں اور مرد، ہماری سول افرادی قوت اور ہمارے بے شمار اتحاديوں کے طفيل ہم اپنے اہداف حاصل کر رہے ہيں۔ جس کے نتيجے ميں اگلے ماہ سے ہم افغانستان سے اپنے 10 ہزار فوجيوں کو نکالنے کے عمل کا آغاز کر ديں گے۔ اگلے سال موسم گرما تک ہم 33 ہزار فوجيوں کو واپس بلوا ليں گے جس کے نتيجے ميں ويسٹ پوائنٹ کے مقام پر ميں نے فوجيوں کی تعداد ميں اضافے کا جو اعلان کيا تھا وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائيں گے۔ اس ابتدائ کمی کے بعد ہماری افواج کی واپسی کا عمل افغان سيکورٹی فورسز کی بتدريج برتری کے ساتھ جاری رہے گا۔ سال 2014 تک منتقلی کا عمل مکمل ہو جاۓ گا اور افغان عوام خود اپنے ملک کے ذمہ دار ہوں گے۔" ہمارے واضح کردہ اہداف اور خطے ميں ہماری موجودگی کے مقصد کو مد نظر رکھتے ہوۓ کچھ علاقوں سے ہماری افواج کی واپسی اور سيکورٹی کی ذمہ داريوں کا مقامی افغان فورسز تک منتقلی کا عمل دراصل افغانستان ميں ہمارے مشن کی کاميابی کی عکاسی کرتا ہے۔ يہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ہم واپسی کا عمل ايک مضبوط پوزيشن حاصل کرنے کے بعد شروع کر رہے ہيں۔ القائدہ کی تنظيم 911 کے بعد سے کبھی بھی اتنے دباؤ میں نہيں تھی۔ پاکستانيوں کے ساتھ مل کر ہم نے القائدہ کی قريب نصف سے زيادہ قيادت کا صفايا کر ديا ہے۔ افغانستان ميں ہم نے طالبان کو بے پناہ نقصان پہنچايا ہے اور ان کے کئ مضبوط ٹھکانے حاصل کر ليے ہيں۔ افغانستان کی سيکورٹی فورسز کی تعداد 100000 سے تجاوز کر چکی ہے اور کچھ صوبوں اور ضلعوں میں ہم نے سيکورٹی کی ذمہ داری افغان عوام کے سپرد کرنے کے عمل کا آغاز کر ديا ہے۔ افغانستان ميں امريکی موجودگی کا مقصد کبھی بھی کامياب قبضہ کی کوشش نہيں تھا۔ صدر اوبامہ نے بھی اسی نقطے کی وضاحت اپنی تقرير میں کی تھی "یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ امریکہ اور ہمارے اتحادی آخر افغانستان میں جنگ لڑنے پر کیوں مجبور ہوئے۔ یہ لڑائی ہمارے کہنے پر شروع نہیں ہوئی۔ اس داخلی اتحاد کے جھنڈے تلے، اور بین الاقوامی طور پر جائز اور قانونی قرار دیے جانے کے بعد، اور طالبان کے اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کرنے سے انکار کے بعد ہی، ہم نے اپنی فوجیں افغانستان میں بھیجیں۔" جو دوست افغانستان ميں امريکی شکست کا حوالہ ديتے ہيں ميں ان کو ياد دلانا چاہوں گا کہ دہشت گردوں سے شکست اور ان کے مطالبات کے سامنے ہتھيار ڈالنے کا آپشن امريکہ سميت دنيا کے کسی ملک کے پاس نہيں ہے۔ ايسی صورت حال خود پاکستان کے مفاد ميں بھی نہیں ہے۔ ايسی شکست جس صورت حال کو جنم دے گی اس کا تصور دنيا بھر ميں القائدہ کے سينکڑوں خودکش حملوں اور دہشت گردوں کی کاروائيوں کے تناظر ميں کيا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے عفريت کو شکست دينا اور اس کے نتيجے ميں بے گناہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت ہماری اولين ترجيح ہے۔ اس ضمن میں ہمارے پاس شکست کا آپشن نہيں ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ميں نہيں سمجھ سکا کہ آپ کس منطق اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کر رہے ہيں کہ امريکہ کسی بھی حوالے سے پاکستان پر قابض ہے يا پاکستان پر چڑھائ کر رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ اگر آپ نے گزشتہ چند دنوں کی اخباری سرخيوں کا جائزہ ليا ہو تو آپ اس خبر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد ائرپورٹ پر امريکی سفير کو ايک سرکاری دورے پر کراچی روانگی سے قبل خصوصی دستاويزات پيش کرنے کے لیے کہا گيا۔ امريکی سفیر پاکستان میں امریکی حکومت کے نمايندہ اور سب سے سينير سفارت کار کی حيثيت رکھتے ہيں اور جب ان کو جانچ پڑتال سے متعلق تمام پروٹوکولز اور مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو يہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امريکی حکومت پاکستان پر قبضہ اور چڑھائ تو درکنار کسی مقامی قانون کو توڑنے، اختيارات مسلط کرنے اور يہاں تک کہ جائز قانونی اور سفارتی رعب اور دبدبے کے اظہار پر بھی يقین نہيں رکھتی – اور وہ بھی ايک ايسے ملک کے خلاف جو خطے ميں ہمارا سب سے مضبوط اتحادی اور طويل المدت شراکت دار ہے۔ ميں اس بات کی نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ جس دن امريکی سفارت کار کيمرون منٹر کو ايک معمول کے اندرون ملک سفر کے دوران اين او سی پيش کرنے کے لیے کہا گيا، اسی دن امريکہ میں پاکستان کے سفير حسين حقانی شگاگو تشريف لے گۓ جہاں وہ پاکستان سے درآمد کردہ آموں کی پہلی کھيپ سے متعلق افتتاحی تقريب میں مہمان خصوصی کی حيثيت سے مدعو تھے۔ آپ کے طے شدہ اصول پر اگر پرکھا جاۓ تو پھر کيا يہ مناسب ہو گا کہ امريکہ میں سفارت کاروں اور اہم حکومتی عہديداروں سميت ہر پاکستانی شہری کی موجودگی اور ان کی سرکاری، کاروباری اور تعليمی سرگرميوں کو "چڑھائ"، "حملہ" يا مستقبل ميں امريکہ پر قبضے کی کسی مکروہ سازش کا حصہ سمجھا جاۓ۔ سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سول قيادت کی جانب سے اس مدد اور شراکت داری کا اعتراف اور اس کی قبوليت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ميں ہر امريکی سفارت کار اور عہديدار کی موجودگی حکومت پاکستان کی مرضی ومنشا اور مکمل آگاہی کے نتيجے ميں ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ميں نہيں سمجھ سکا کہ آپ کس منطق اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کر رہے ہيں کہ امريکہ کسی بھی حوالے سے پاکستان پر قابض ہے يا پاکستان پر چڑھائ کر رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ اگر آپ نے گزشتہ چند دنوں کی اخباری سرخيوں کا جائزہ ليا ہو تو آپ اس خبر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد ائرپورٹ پر امريکی سفير کو ايک سرکاری دورے پر کراچی روانگی سے قبل خصوصی دستاويزات پيش کرنے کے لیے کہا گيا۔ امريکی سفیر پاکستان میں امریکی حکومت کے نمايندہ اور سب سے سينير سفارت کار کی حيثيت رکھتے ہيں اور جب ان کو جانچ پڑتال سے متعلق تمام پروٹوکولز اور مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو يہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امريکی حکومت پاکستان پر قبضہ اور چڑھائ تو درکنار کسی مقامی قانون کو توڑنے، اختيارات مسلط کرنے اور يہاں تک کہ جائز قانونی اور سفارتی رعب اور دبدبے کے اظہار پر بھی يقین نہيں رکھتی – اور وہ بھی ايک ايسے ملک کے خلاف جو خطے ميں ہمارا سب سے مضبوط اتحادی اور طويل المدت شراکت دار ہے۔ ميں اس بات کی نشاندہی بھی کرنا چاہوں گا کہ جس دن امريکی سفارت کار کيمرون منٹر کو ايک معمول کے اندرون ملک سفر کے دوران اين او سی پيش کرنے کے لیے کہا گيا، اسی دن امريکہ میں پاکستان کے سفير حسين حقانی شگاگو تشريف لے گۓ جہاں وہ پاکستان سے درآمد کردہ آموں کی پہلی کھيپ سے متعلق افتتاحی تقريب میں مہمان خصوصی کی حيثيت سے مدعو تھے۔ آپ کے طے شدہ اصول پر اگر پرکھا جاۓ تو پھر کيا يہ مناسب ہو گا کہ امريکہ میں سفارت کاروں اور اہم حکومتی عہديداروں سميت ہر پاکستانی شہری کی موجودگی اور ان کی سرکاری، کاروباری اور تعليمی سرگرميوں کو "چڑھائ"، "حملہ" يا مستقبل ميں امريکہ پر قبضے کی کسی مکروہ سازش کا حصہ سمجھا جاۓ۔ سازشوں پر يقين رکھنے والے کچھ دوستوں کی راۓ کے برعکس امريکی حکومت اس خطے اور دنيا ميں پاکستان کی ايک قد آور اور اہم مسلم ملک کی حيثيت تسليم کرتی ہے۔ امريکہ اور عالمی برادری يہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا کر پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کرے۔ افغانستان ميں طالبان کے زير حکومت غير حکومتی عناصر کے قبضے ميں ملک کے کچھ علاقے دينے اور دہشت گردی کی آماجگاہ بننے کی اجازت دينے کا نتيجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سول قيادت کی جانب سے اس مدد اور شراکت داری کا اعتراف اور اس کی قبوليت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ميں ہر امريکی سفارت کار اور عہديدار کی موجودگی حکومت پاکستان کی مرضی ومنشا اور مکمل آگاہی کے نتيجے ميں ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach | Facebook |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فيصل بھائي يہ پوچھيں كہ امريكہ پاكستان ميں كب باقاعدہ فوجيں داخل كرےگا۔۔۔۔۔ يا بھارتي فوج كے داخلے كے لئے راہ ہموار كرےگا۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,161
شکریہ: 25,590
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ پاک اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ ان کی سرکاری مجبوری ہے
ورنہ اب یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکہ افغانستان سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان سے جانے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ گھیرا مزید تنگ کر رہا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
امریکہ جس دن پاکستان کو عراق اور افغانستان سمجھ کر داخل ہوگا تو وہ امریکہ کی آخری ہٹ دھرمی ثابت ہوگی۔ کیوں کہ اس کے بعد امریکہ شاید پانچ چھ حصوں میں بٹ جائے
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 6
کمائي: 391
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ اکرم صاحب بالکل درست فرما رہے ہیں- فواد صاحب ذرا دجال کے مطعلق احادیث کا مطالعہ فرما لیں آپکو سب سمجھ آ جاے گا-
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, کوشش, کراچی, پاکستان, وزیر, مکمل, منصوبہ, ممکن, محبت, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, جیت, حال, خلاف, روزہ, راستہ, علی, عالم, عسکری, غرور, صوبہ, صورتحال, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال | جاویداسد | خبریں | 1 | 20-12-10 06:51 PM |
| غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ۔۔۔ پاکستانی سرحدوں کے اندرباہر وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری | جاویداسد | خبریں | 0 | 02-12-10 08:46 PM |
| پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع | راجہ اکرام | سیاست | 3 | 27-01-10 12:41 AM |
| امريکی قوم سے صدر اوبامہ کا خطاب -افغانستان اور پاکستان میں پیش قدمی کا راستہ | Fawad | سیاست | 12 | 04-12-09 05:47 PM |
| بیت اللہ محسود کا وزیرستان میں شاندار استقبال، جشن،40 دنبوں کا صدقہ۔ | ابن جلال | خبریں | 0 | 05-10-08 01:13 AM |