پاکستان کا دشمن کون؟دوست کون؟
یہ آئینہ دیکھئے!
عبدالرشید ارشد
عملی انسانی زندگی میں دوست اور دشمن کا اہم مقام ہے دونوں ہی عملی زندگی میں رنگ بھرتے ہیں۔ سیانوں نے دوست اور دشمن کے متعلق اپنی زندگیوں کے تلخ و شیریں تجربات کا نچوڑ بعد میں آنے والوں کے لئے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: مثلاً یہ کہ’’عقلمندی یہ ہے کہ اپنے دشمن کی پہچان کی جائے‘‘ یا یہ بھی کہ ’’بے وقوف دوست کی نسبت عقلمند دشمن بہتر ہے‘‘ دوستی اور دشمنی کی پرکھ ایک فرد کے لئے، ایک برادری قبیلے کے لئے یا ایک قوم و ملک کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ پہچان کی خامی کا نقصان ناقابل برداشت ہوتا ہے اور یہ محض تھیوری نہیں عملی زندگی میں روزمرہ کے چھوٹے بڑے وقوعے اس پر شاہد ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے طور پر1947ء میں معرضِ وجود میں آئی تھی۔ یہ آزادی نہ برطانیہ کو پسند تھی اور نہ ہی بھارت ماتا کے نیتاؤں کو۔۔۔ اور1948ء میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی دوسری نظریاتی ریاست اسرائیل کو بھی اس کا شدید دُکھ تھا کہ یہود کی اسلام دشمنی ساڑھے چودہ سو سال سے ہے اور کسی بھی لمحہ اُن کے سینوں میں سلگتی آگ مدھم نہ ہوئی اور اُنہوں نے اس دشمنی کو چھپایا بھی نہیں بلکہ موقع بہ موقع اس کا اظہار کھلے الفاظ میں ہوتا بھی رہا۔آئیے سب سے پہلے اسرائیل ہی کی دشمنی دیکھتے ہیں:
* ’’عالمی یہودی تحریک کو اپنے لئے پاکستان کے خطرے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور پاکستان اس کا پہلاہدف ہوناچاہئے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست یہودیوں کی بقاکے لئے سخت خطرہ ہے اور یہ کہ سارا پاکستان عربوں سے محبت کرتا ہے اور یہودیوں سے نفرت کرتا ہے اس طرح عربوں سے ان کی محبت ہمارے لئے عربوں کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے لہٰذا عالمی یہودی تنظیم کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنا چاہئے۔‘‘
’’بھارت پاکستان کا ہمسایہ ہے جس کی ہندوآبادی پاکستان کے مسلمانوں کی ازلی دشمن ہے جس پر تاریخ گواہ ہے۔ بھارت کے ہندوکی اس مسلم دشمنی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمیں بھارت کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف کام کا آغاز کرنا چاہئے۔ ہمیں اس دشمنی کی خلیج کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہنا چاہئے۔ یوں ہمیں پاکستان پر کاری ضرب لگا کر اپنے خفیہ منصوبوں کی تکمیل کرنا ہے تاکہ صہیونیت اور یہودیوں کے یہ دشمن ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہوجائیں۔‘‘ (اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان کی تقریر 1967ء کے بعد‘ سے اقتباسات بحوالہ جیوش کرانیکل 9 ؍اگست1967ء)
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالے سے یہود کا نکتہ نظر آپ ملاحظہ کرچکے اور یہ بھی کہ اسرائیل دشمنی کے تقاضے کس راستے سے پورے کرے گا درمیانی پل بھارت ہوگا۔ بھارت جس کے ساتھ اعتماد سازی کے لئے پاکستانی قیادت کم و بیش تین چار عشروں سے ’’مخلصانہ‘‘ کوشش کررہی ہے۔ ہمارے سامنے ایک سہ طرفی (THREE DIMENTIONAL) آئینہ ہے جس میں تصویر کے کئی پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔مثلاً یہی پہلا تصویری منظرنامہ یہود کے ساتھ ہنود کی دشمنی پر بھی روشنی ڈال گیا۔ اب دوسرا رُخ ملاحظہ فرمائیے۔
اسرائیل کو برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی کا تاثر عام ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ یوں کہ اسرائیل جو چند لاکھ کی آبادی رکھتا ہے امریکہ و یورپ کو‘ بلکہ دنیا کو یواین او اور اُس کے تمام ذیلی اداروں کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے۔امریکہ ہی کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں:
* ’’میں نے کچھ عرصہ قبل لکھا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کو لن پاؤل کے دورۂ مشرق وسطیٰ سے اس سوال کی وضاحت ہوجائے گی کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کون کنٹرول کرتا ہے؟ امریکہ کے منتخب نمائندے یا پھر اسرائیل اور امریکہ میں موجود یہودیوں کی مضبوط اور موثر لابی؟؟ جواب ہمیں مل چکا ہے کہ اسرائیل ہی امریکہ اور اس کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتا ہے۔‘‘
(CHARLI RAIZE- ” THE END OF AMERICA’S PRESTIGUE)
* ’’مسٹر پاؤل کی کمزوری، اُن کی اعصابی توانائی اور اُن کی بزدلی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک ایسی جنگ شروع ہونے کا سبب بن سکتی ہے جو ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوگی۔ مسٹر پاؤل، صدر بش اور اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے ہاتھوں امریکہ کی ساکھ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اسرائیل ہی اس خطے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتا ہے۔امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ امریکہ کے نغمے الاپتا ہے۔‘‘
(ROBERT FISK ”THE INDEPENDENT” LONDON.)
پہلی تصویر میں اسرائیل اور بھارت کا چہرہ بڑا واضح تھا تو آئینہ دوسری تصویر میں اسرائیل اور امریکہ کو باہم شیروشکر دکھا رہا ہے۔ الجبرے کا مسلمہ قائدہ کلیہ ہے کہ اگر ’ا236ب‘ اور ’ب236ج‘ ہو تو لازماً ’ا236ج‘ تسلیم کیا جائے یوں اس کُلیے سے اسرائیل، بھارت اور امریکہ یک جان اور تین قالب مسلمہ حقیقت بن کر سامنے آتے ہیں۔
مثلاً امریکہ کی بھارت کے ساتھ سٹیرٹیجک پارٹنرشپ اور سول نیوکلیر ٹیکنالوجی کا معاہدہ مشترکہ فوجی مشقیں وغیرہ یا اَسّی کی دہائی میں پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لئے اسرائیلی جہازوں کی اُڑان، فضا میں ری فیولنگ اور حملہ کے بعد بھارتی اڈے جام نگر میں لینڈنگ کا مکمل انتظام۔ یہ حملہ پاکستان کو پیشگی خبر ہو جانے کے سبب ناکام ہوگیا تھا (الحمدللہ)۔ یہ ننگی جارحیت اسرائیلی بھارتی گٹھ جوڑ کی پاکستان کے خلاف عملی کاروائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1965ء کا بلااشتعال بھارتی حملہ یا 1971ء میں بنگلہ دیش بنانے کے لئے ’’مکتی باہنی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بھارتی افواج کی کاروائی۔۔۔ دوستی اور اعتمادسازی کی راہ ہموار کرنے کی کاروائی تھی؟۔
آئیے تیسری تصویر میں پاکستان کے ’’جگری یار‘‘ سٹیرٹیجک پارٹنر، پاکستان کی خودمختاری اور سا لمیت کے تحفظ کے ٹھیکیدار کی لن ترانیوں کو دیکھتے ہیں۔ ملکی بقا و استحکام میں کلیدی کردار کسی بھی ملک کی مسلح افواج کا ہوتا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی مسلح افواج ماضی کے 6 عشروں سے اس کردار کی امین ہیں۔ یہ کردار ہر دور میں اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے اتحادِ ثلاثہ کے سینے کی پھانس تھی جو آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ اس پھانس کو نکالنے کا امریکی منصوبہ کیا ہے؟ اس تیسری تصویر میں جھلکی ملاحظہ فرمائیے:
* ’’پاکستان کی مسلح افواج اپنے پیغمبر

کے لئے بے پناہ محبت رکھتی ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو عربوں کے ساتھ اِن کے تعلق کو اٹوٹ بناتا ہے۔ یہی محبت ’’وسعت طلب عالمی صہیونی تحریک اور مضبوط اسرائیل کے لئے شدید ترین خطرہ ہے۔ لہٰذا یہودیوں کے لئے یہ انتہائی اہم مشن ہے کہ ہر صورت اور ہر حال میں پاکستانی افواج کے دلوں سے اُن کے پیغمبر

کی محبت کو کھرچ دیں۔‘‘ (امریکی یہودی ملٹری ایکسپرٹ، پروفیسر ہرٹز کی رپورٹ سے اقتباس)
معروف سابقہ آئی ایس آئی آفیسر جناب قدرت اللہ شہاب مرحوم نے ’’شہاب نامہ‘‘ میں جرمنی کی کانفرنس کے دوران کسی معروف سفارتکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’پاکستان کی مسلح افواج کو کمزور کرنے کی حکمت عملی میں یہ بھی اقوامِ غرب نے طے کررکھا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں اپنے کارندوں کے ذریعے افواجِ پاکستان کو سول محکموں اور سول کاموں میں ملوث کرکے ’’دنیاداری‘‘ کی چاٹ لگا دی جائے تو موت سے خائف دنیا کی محبت میں گم ہوکر پروفیسر ہرٹز کی منصوبہ بندی کی تکمیل کردیں گے۔‘‘
مذکورہ طریقہ کار سے کیا جانے والا عملی پوری قوم کے سامنے ہے کہ فوج سول میں کیا کیا کردار اداکر رہی ہے۔ امریکی، برطانوی تربیتی پروگرام بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں کہ تدریجی عمل سے زیر تربیت کو روشن خیال بنا دیا جائے۔ تربیت کے لئے انتخاب میں روشن خیالی کا خصوصی لحاظ رکھا جاتا ہے۔ فاٹا قبائل کے ساتھ ’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘ کے نام پر شروع کرائے گئے اپریشن میں یہی فلسفہ ہے کہ جو قوت دشمن کے خلاف استعمال کے لئے محفوظ تھی اُسے اپنوں کے خلاف لگا کر ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی نفرت کی خلیج کو وسیع سے وسیع ترکیا جائے، جو عملاً ہورہا ہے۔
تینوں واضح تصاویراپنے حکمرانوں کو، اُن کی اسٹیبلشمنٹ کو، سیاسی مذہبی راہنماؤں کو دکھا کر ہم یہ سول پوچھنا اپنا حق سمجھتے ہیں کہ کیا اب بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ٹھکراتے کہ ’’یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔۔۔ مذکورہ دشمنوں کو دوست سمجھ کر اپنا سب کچھ اُن پر نچھاور کرنا عقل و بصیرت کا فیصلہ ہے؟ یا عقل و شعور کو طلاق دے رکھی ہے؟؟
پاکستان کے کونے کونے میں دہشت گردانہ کاروایاں، خودکش حملے ہوں یا جی ایچ کیو اورنیول بیس جیسی منظم لڑائی یہ دینی مدارس کے مبینہ طالبان کی کاروائیاں نہیں بلکہ موساد، را اور سی آئی اے کے تربیت یافتہ بلیک واٹر طرز کے کمانڈوز کے کارنامے ہیں۔ جو بلوچستان کو بنگلہ دیش اور کراچی کو سنگاپور بنانے کے لئے اُدھار کھائے بیٹھے ہیں۔
رحمان ملک کے خودساختہ ایسی کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے بھی ’’پاکستانی طالبان‘‘ پنجابی طالبان‘‘ یا ’’اسلامی دہشت گرد‘‘ فی الواقعہ اسی اتحادِ ثلاثہ کے کارندے ہیں اور ملک صاحب سرپرست ہیں اگر ڈالروں کی بارش ضمیر کو گہری بیہوشی سے دوچار نہ کرتی تو غیرت مند قوم اور غیرت مند افواج کی یہ حالت نہ ہوتی جو حکمرانوں کے ہاتھوں ہورہی ہے۔
خالق کائنات کی واضح ہدایت، کہ ’
’یہ غیر مسلم تمہارے دوست نہیں ہوسکتے انہیں رازدار نہ بناؤ‘‘۔۔۔ انہیں دوست سمجھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے ماضی و حال کے بے شمار واقعات ریکارڈ پر ہیں مگر اس کے باوجود ہوسِ زر نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہوسِ زر انسان سے حمیت و غیرت چھین لیتا ہے اور بزدلی مقدر بن جاتی ہے۔ سوتے جاگتے یہ خوف طاری رہتا ہے کہ فلاں غالب آجائے گا فلاں ماردے گا خواہ گھر میں اسلحہ کا ڈھیر ہی کیوں نہ لگا ہو۔ یہی کیفیت آج کے حکمرانوں کی ہے جو ایٹم بم کے مالک ہوتے ہوئے سہمے ہوئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کی نفسیات سے فائدہ اُٹھاتے امریکہ لمحہ لمحہ دباؤ بڑھا رہا ہے۔ نت نئے تقاضے اور دھمکیاں سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کر گزرنے کے عندئیے سنائے جارہے ہیں اور پاکستانی قیادت غیرت مند رویہ اپنانے سے کترا رہی ہے۔ شاید ہی کوئی دن جاتا ہو جب امریکی برطانوی ’دھمکی بردار‘ پاکستانی قیادت سے مل کر ’سخت پیغام‘ نہ پہنچاتا ہو۔اخباری بیانات اس پر مستزاد ہیں:
* القاعدہ پر دباؤ برقرار رکھیں گے (اوباما) قبائلی علاقے میں کاروائی کریں گے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔۔۔القاعدہ قیادت جہاں بھی ہوگی کاروائی کریں گے۔‘‘ (ایکسپریس 30جون)
یہ پاکستان کے سٹرٹیجک پارٹنر کا پاکستانی سا لمیت برقرار رکھنے کے عزم کا ’’مثبت‘‘ پہلو ہے جس کا وہ ایک سانس میں چار چھ دفعہ دعویٰ کرتا ہے۔ اس خبث باطن پر پاکستان نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔۔ تکون کا دوسرا زاویہ بھارت ہے جو پاکستان سے ’’انتہائی اچھے‘‘ تعلقات کا خواہاں ہے۔ بھارتی حکومت کو پاکستان سے خیرخواہی کا دورہ پڑتا رہتا ہے۔ پاکستان کے حالات پر اُسے خیرخواہانہ تشویش بھی رہتی ہے۔ مثلاً:
* ’’اُمید ہے مشکلات کا شکار پاکستان مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہوجائے گا (من موہن سنگھ) بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اندرونی مسائل درپیش ہیں۔ اُمید ہے مسئلہ کشمیر چھوڑ دے گا۔ وہ خطے کی بجائے اپنے مسائل، پنے امراض کا علاج کرائے اور اندرونی مسائل پر توجہ دے۔ اُمید ہے کہ کشمیریوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دے گا‘‘ (ایکسپریس30جون2011ء)
رواداری کے انتہائی جذبات رکھنے والے راہنماؤں کے بیانات آپ پڑھ چکے جن سے بہترین تعلقات نبھانے کیلئے پاکستانی حکمران آخری حدیں پھلانگنے کیلئے ہر لمحہ بے چین دیکھے جاتے ہیں۔ بھارت کا کشمیر کیلئے ’’مخلصانہ‘‘ مشورہ بھی سامنے آچکا ہے وہ کشمیر جسے بانی پاکستان نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور بجا قرار دیا تھا کہ پاکستان کی بقا خوشحالی اور پرسکون مستقبل کی ضمانت کشمیر ہے۔ یہ کشمیر ہی ہے جہاں سے تمام دریا آکر پاکستان کی زراعت کو پانی مہیا کرتے ہیں۔ اسی کشمیر میں بھارت ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کیلئے آنے والے پانی کو روک رہا ہے۔
اسرائیلی شرکی نقیب خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ امریکی ’’سی آئی اے‘‘ اور بھارتی تخریب کاروں کی ماں ’’را‘‘ مل کر ملک کے گوشے گوشے میں دندناتے دہشت گردی کی کاروایاں کروا رہی ہیں۔دہشت گردی کی تربیت، دہشت گردوں کو انتہائی جدید اسلحہ اور نقدمال کی فراہمی یہ سب کچھ یہی اتحاد ثلاثہ کروا رہا ہیں۔مگر اوّل تو ہم خود اسے ’اپنوں‘ کے کھاتے ڈالتے ہیں اور اگر بہ امر مجبوری کہنا ہی پڑے تو گول مول بیرونی ہاتھ کا ذکر دبی زبان سے کرکے معاملہ رفع دفع کرتے ہیں۔
کاش ہم دشمن کو دشمن سمجھ سکتے،دشمن کو دشمن کہہ سکتے، دشمن کی دشمنی سے بچنے کے اقدامات کرسکتے۔ ان تینوں کاموں کے لئے قومی غیرت و حمیت کے ساتھ ساتھ فہم و شعور اور بصیرت بھی ہمارا مقدر بن سکتی، کاش !اے کاش!!
سرور جو حق و باطل کی کار زار میں ہے
جہاں میں بندۂ حر کے مشاہدات ہیں کیا
توحرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہئے!
تیری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہئے