واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-05-11, 04:48 PM   #1
پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت
حیدر حیدر آن لائن ہے 17-05-11, 04:48 PM

ایم نے سوال کیا تھا کہ آخر یہ خود مختاری ہوتی کدھر ہے ۔ مجھے مل جائے تو میں ہی اسکو مار ڈالوں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
یہ مختاری میرے ہاتھ لگے جائے تو اس کو تو مار ہی ڈالوں گا۔ نہ یہ ہو گی نہ یہ روز روز کی دانتا کل کل
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
کہیں تو فی الحال "مختاراں مائی" کا ایڈریس بتا دیتا ہوں۔
جب تک معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ "ملکی خود مختاری اور سالمیت" نامی مخلوق پائی کہاں جاتی ہے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
مختاراں‌مائی اس وقت پاکستان کی سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہے ، دوسری شخصیات امریکہ کی بات ماننے پر مجبور ہیں‌اور یہ امریکہ سے بات منوا لیتی ہے۔ باقی اپ سمجھ دار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے کیوں مجھے مروانے کا بندوبست کر رہے ہیں۔۔۔ بس مختاری کا پتہ دیں، مائی کا دم چھلہ رہنے دیں۔

والسلام



میں تو آپکو "لو پروفائل ٹارگٹ" دے رہا تھا ۔ سوچا کہ آپ پریکٹس کر لیں۔
ورنہ سوچ لیں کہ یہ جس مختاری کے پیچھے آپ ہیں۔ ۔۔۔۔ آئی مِین مارنے کے لیے۔۔۔۔امریکہ کب سے اسکے پیچھے ہے۔ اسکے روزانہ کے ڈرون حملے، میزائل حملے، کمانڈوز کے حملے، ریمنڈ ڈیوسوں کے حملے بھی اب تک اس "مختاری" کا کُچھ نہیں بگاڑ پائے۔ یہ بڑا "ہائی پروفائل ٹارگٹ" ہے۔ اس کو مارنا اتنا آسان ہوتا تو اب تک امریکہ افغانستان میں اپنے ہزاروں فوجی نہ مروا چُکا ہوتا۔

خیر میں اس خود"مختاری" اور "سالمیت" کو ڈھونڈنے نکلا۔ اسکی تلاش میں خیزاں و افتاں جب میں بلوچستان پہنچا تو وہاں بھیڑ بکریاں چراتے ایک چرواہے سے پوچھا کہ بھائی تم نے پاکستان کی خود"مختاری" اور سالمیت کو کہیں دیکھا ہے۔ مجھے اسکا پتا چاہئیے۔ اُس چرواہے نے مجھے اوپر سے نیچے تک گھورا اور اپنے پہلو میں لٹکتی بندوق کو اتار کر چلایا "اوئے ماڑا تم پھاکستان کی بات کرتا ہے۔ ام کو بتاؤ امارا خؤد مختاری کِدر ہے ۔ تم لوگوں نے امارا بچے مارا، اماری عورتوں کو بے عزت کیا۔ام کو بے عزت کیا۔امارا مال کھایا۔ ام تم کو نہیں چھوڑے گا۔ام تم کو گولی مارے گا۔ پہلے بتاؤ ہمارا خود مختاری کدھر ہے ۔پھر اپنا بات کرنا"۔ مجھے تو لینے کے دینے پڑ گئے۔ بمشکل تمام وہاں سے منت سماجت کر کے میں نے اپنی جان بخشی کروائی اور سندھ کو عازم سفر ہوا۔

راہ چلتے مفلوک الحال دِکھتے،خاموش طبع اور چہرے سے پیار چھلکتے ایک سندھی بھائی کو روکا۔ اُس سے پوچھا کہ بھائی کسی کو پاکستان کی خود"مختاری" اور سالمیت کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر تم کو اسکا کوئی اتا پتا معلوم ہو تو میری رہنمائی کرو۔ یکایک اُس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ جس چہرے پر پیار چھلکتا تھا ، وہاں نفرتوں نے بسیرا کر لیا، اور پھر وہ گھٹی گھُٹی آواز میں بولا "سائیں۔ تم ہمارا مہمان ہو۔ ہم تمہاری عزت کرتا ہے۔ پر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم ہمارے گھر آ کر ہمارے دشمنوں کا پتا پوچھو۔ سائیں یہ پاکستان نے اب تک ہم کو دیا کیا ہے سوائے غربت کے۔ اس نے تو سائیں پھر سے ہم کو ہمارے وڈیروں کے کتوں کے سامنے لا پھینکا ہے سائیں۔ سائیں انگریز کے دور میں کوئی وڈیرا ہم پر ظلم کرتا تھا تو پھر بھی انگریز انصاف کرتا تھا۔ سائیں تمہارے پاکستان نے تو ہم کو کدھر کا بھی نہیں رہنے دیا۔ تم کو اسکی خود"مختاری" اور سالمیت کی تو بڑی فکر ہے۔ میری بیٹیوں اور بہنوں کی خود مختاری اور سالمیت تم کو نظر نہیں آتی۔ جاؤ چلے جاؤ سائیں۔ ہم بڑی مشکل سے برداشت کر رہا ہے۔ ورنہ تم کو بتاتا"

میں شرمندہ اور خوفزدہ ہو کر کراچی پہنچا۔ سوچا کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ کروڑوں انسان بستے ہیں۔ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ انڈسٹری ہے ۔ یہاں تو ضرور پاکستان کی خود"مختاری" اور سالمیت کا پتا چل جائے گا۔ سندھی اور بلوچ تو ویسے ہی پاکستان سے جلتے ہیں، انہوں نے مجھے خاک بتانا تھا۔ جیسے جیسے میری ٹرین کراچی میں داخل ہوتی گئی، مجھے فائرنگ کی آوازیں سُنائی دینا شروع ہو گئیں۔ کہیں کہیں سے دھواں بھی اُٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں سے فلک شگاف نعرے سُنائی دے رہے تھے۔دیواریں نفرت آمیز وال چاکنگ سے بھری ہوئی تھیں۔ میں ڈرگ روڈ کے سٹیشن پر ہی نیچے اُتر گیا۔ میں ادھر اُدھر متلاشی نظروں سے دیکھنے لگا کہ کس سے وہ سوال پوچھوں جس کے لیے میں در در کی خاک چھانتا پھر رہا ہوں۔ اچانک میری نظر نوجوانوں کے ایک گروہ پر پڑی جو دائرے کی شکل میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔میں نے سوچا ان میں سے تو کسی نہ کسی کو ضرور علم ہو گا۔ میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہی سوال دوہرایا۔ اچانک ہی ایسا لگا جیسے مجھے دن میں تارے نظر آنا شروع ہو گئے ہوں۔ بڑی بڑی بلڈنگز گھومنا شروع ہو گئیں اور پھر تاریکی چھا گئی۔ جب ہوش آیا تو خود کو رسیوں میں جکڑا ہوا پایا۔ ایک نوجوان میرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر پیچھے ہٹ رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک کرسی پر 30،32 سال کا آدمی سیگریٹ کے کش لیتا میری طرف غور سے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ مجھے ہوش میں دیکھ کر غرایا
"بول بے۔ کون ہے تُو۔ کس ایجنسی کا ہے"
میری کپکپی چھوٹ گئی۔ لرزتی آواز میں بولا "جناب میرا تعلق کسی ایجنسی سے نہیں ۔ میں ایک عام پاکستانی ہوں۔ بس ایک سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے در در گھومتا پھر رہا ہوں"
"ابے ہمارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے۔ تیری تو۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی مجھے کافی سارے نوجوان مل کر مارنا شروع ہو گئے۔ میں آہ وزاری کرتا رہا ، چلاتا رہا منتیں کرتا رہا ۔ آخر باس کا دل پسیجا اور اس نے پوچھا کہ "نام کیا ہے" میں نے جواب دیا "حیدر بلوچ"۔ اس پر وہ پھر گرم ہو گیا۔ "ابے لیاری کا ہے تُو"
خیر بڑی مشکل سے انکو یقین دلایا کہ میرا تعلق نہ تو کسی ایجنسی سے ہے اور نہ ہی میرا تعلق ادھر کی کسی سیاسی جماعت سے ہے۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر میری جان بخشی کر دی کہ "شکر کر ۔تجھ پر رحم آ گیا ۔ ورنہ کھوپڑی میں سوراخ کر کے بھیجتے۔ تیری اور پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کی تو۔۔۔۔(گالی)"۔ میں ہانپتا کانپتا انکی کمین گاہ سے باہر آیا۔ جسم کا جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا۔لیکن ہمت نہیں ہاری تھی۔ بس پکڑ کر میں کراچی کے ایک اور علاقے میں آ گیا۔بڑے بڑے پلازوں اور کھُلی کھُلی سڑکوں کو دیکھتے ہوئے حیران ہو کر چل رہا تھا کہ کراچی کتنا بدل گیا کہ اچانک ہی ایک طرف سے ایک گروہ نمودار ہوا۔ ہر کسی کے ہاتھ میں گنیں تھیں۔ وہ لوگ ہوائی فائرنگ کر رہے تھے۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئے۔ دکانیں دھڑا دھڑ بند ہونا شروع ہو گئیں۔ اچانک ایک بم بھٹا اور ہر طرف خون ہی خون ہو گیا۔
میرے حواس ہی کھو گئے۔ میں جلدی سے ایک ٹیکسی میں بیٹھا اور واپسی کی ٹرین پکڑ کر سیدھا پنجاب پہنچ گیا۔
چند دن گھر میں آرام کیا۔ امی کی گالیاں کھائیں اور پھر سے سوال کے جواب میں نکل پڑا۔ میں نے سوچا کہ لاہور لاہور اے۔ اور ویسے بھی وہاں کا وزیر اعلیٰ آج کل بڑا محب وطن ہے۔ اور انقلاب کی باتیں کرتا ہے وہاں کسی نہ کسی کو ضرور علم ہو گا۔
لاہور سٹی سٹیشن کے پُر ہجوم پلیٹ فارمز سے خود کو نکالتا میں باہر پہنچ گیا۔ ہر طرف دھواں اور مٹی تھی۔ ساتھ ہی موجود بسوں والے مختلف علاقوں کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے جان ہلکان ہو رہی تھی۔ میں نے ٹیکسی کروائی اور سمن آباد پہنچ گیا۔ جب کرائے کا پوچھا تو ہاتھوں کے توتے اُڑ گئے۔ 1000 روپے میں تو میں اہنے شہر سے یہاں پہنچا تھا اتنا ہی کرایہ وہ مجھ سے مانگ رہا تھا۔ جب تھوڑی سی بحث کی تو وہ گرم ہونا شروع ہو گیا۔ گالیاں بکنے لگا۔ میں بھی گرم ہو گیا۔ پولیس آ گئی اور مجھے اُٹھا کر تھانے میں لے گئی۔ ڈرائینگ روم کی سیر کرنے کے بعد میں اسکو اپنی ساری جمع پونجی دینے کو تیار ہو گیا۔ اسے کہتے ہیں ایثار اور قربانی کا جذبہ۔

لاہور میں کوئی لفٹ ہی نہ کروائے۔ کبھی میں مزنگ گیا ، کبھی چوبرجی، کبھی داتا دربار تو کبھی چوک یتیم خانہ، کبھی فورٹریس تو کبھی برکت مارکیٹ، کبھی مون مارکیٹ تو کبھی جوہر ٹاؤن۔ایک ایک علاقہ پھر ڈالا ۔ لیکن ہر کوئی ایک سے بڑھ ایک جواب دے۔ لیکن موضوع پر کوئی نہ آئے۔ ہر کسی کے چہرے پر بورڈ لکھا ہوا تھا "کہ سانُوں فکر تے بڑی اے، پر سانُو کی ۔ جدوں نواز شریف صاب حکم دئین گے اسی لب لواں گے"

مایوس ہو کر میں اسلام آباد پہنچا۔ میرا یہاں کے شہریوں سے پوچھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ کیونکہ یہاں کے باسیوں کی وجہ سے ہی تو یہ گم ہوئیں تھیں۔

وہاں سے میں ٹکٹ کٹوا کر پشاور پہنچا۔ پشاور کا بس ٹرمینل مجھے بہت پسندآیا۔ پاکستان کے چند ہی بس ٹرمینل اتنے صاف ستھرے ہوں گے۔ شہر آوارہ گردی کرنے نکلا۔ ہر کسی کے چہرے پر ایک نا معلوم خوف تھا۔ اُمید اور خوف کا یہ امتزاض مجھے سمجھ نہ آیا۔ میں سالمیت اور خود مختاری کو بھول کر اس خوف اور امید کے بارے میں پوچھنے لگ پڑا۔ بڑی مشکل سے ایک پٹھان مجھ سے گفتگو کرنے پر آمادہ ہوا۔ گفتگو کے دوران بھی وہ خوفزدہ نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ میں نے اسکی وجہ پوچھی تو بولا کہ "خوچا۔۔۔اُمید اس بات کا اے کہ ام گھر پہنچے گا۔ اور خوف اس بات کا کہ ابھی کہاں دھماکہ ہو جاوے اور کس کا لاش کتنے ٹکڑوں میں بٹ جاوے کوئی پتا نئیں۔ لگتا اے تم نے کبھی خود کش حملہ ہوتے نئیں دیکھا۔ اِدر بچ کے رہنا" ابھی اُس نے یہی کہا تھا کہ اچانک کان پھاڑ دھماکہ ہوا۔ ہر طرف گرد و غبار کے بادل چھا گئے۔ چیخ و پکار اور آہ فغاں سے کان بہرے ہونے لگ پڑے۔کافی دیر تک تو میں سڑک پر پڑا، لوگوں کو آنسوؤں سے تر ادھر اُدھر بھاگتے دیکھتا اور یہی سوچتا رہا کہ ہوا کیا ہے۔ اور جب سمجھ آیا کہ کیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تب مجھے ایم کے سوال کا جواب مل گیا۔
مجھے اُمید ہے دوستو کہ آپ کو بھی "ایم" کے سوال کے جواب کا معلوم ہو گیا ہو گا ۔ ۔۔ کہ پاکستان کی خود"مختاری " اور سالمیت کہاں ہے۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 289
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (17-05-11), فیصل ناصر (17-05-11), ننھا بچہ (17-05-11), منتظمین (17-05-11), مرزا عامر (17-05-11), آبی ٹوکول (17-05-11), طاھر (17-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11), عبداللہ حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 05:28 PM   #2
Senior Member
 
جاسوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: آس پاس
عمر: 18
مراسلات: 465
کمائي: 5,290
شکریہ: 1
339 مراسلہ میں 713 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خاموشی ۔
جاسوس آف لائن ہے   Reply With Quote
جاسوس کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 08:52 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا آپ بھی حیدر بھائی

بھائی کیا ہوا جو بجلی نہیں پانی نہیں گیس نہیں
خود مختاری تو ہے نا
کیا ہوا جو بھوک ہے افلاس ہے بے روزگاری ہے
خود مختاری تو باقی ہے
کیا ہوا جو ڈرون حملے ہیں ریمنڈ ہے "دہشت گردی کے خلاف جنگ نما دہشت گردی " ہے امریکی دھمکیاں ہیں
خود مختاری پر تو کوئی حرف نہیں آرہا نا !

بس خود مختاری قائم رہے حکمرانوں کی باقی تو اس ملک کے عوام سب کچھ سہہ سکتے ہیں

خود مختاری زندہ باد

آئے گی بھئی آئے گی
خود مختاری آئے گی

زندہ ہے !خود مختاری زندہ ہے !

جانیں لٹائیں گے
خود مختاری بچائیں گے

ہم خود مختار ہیں ہم خود مختار ہیں
ہم سب کی پہچان یہ پیاری خود مختاری

ایک خود مختاری ! سب پر بھاری !
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 17-05-11 at 08:55 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (17-05-11), مرزا عامر (17-05-11), حیدر (17-05-11), راجہ اکرام (18-05-11), طاھر (17-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11), عبداللہ حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 10:50 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عجیب سی ذلتوں کے ماہ و سال ہیں یار۔ ایک طرف امریکی تکبر، دوسری طرف پاکستانی مدہوشی، تیسری طرف پاکستانی جہالتیں، چوتھی طرف ہماری بے عملی۔ اور ان سب کے اوپر مزید ذلت

شاید اللہ نے ہم پاکستانیوں کے بارے میں ہی کہا تھا کہ
اور فرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت۔ اور گھر گئے وہ ذلت بعد ذلت میں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-05-11), آبی ٹوکول (17-05-11), طاھر (17-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11)
پرانا 17-05-11, 10:56 PM   #5
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
شاید اللہ نے ہم پاکستانیوں کے بارے میں ہی کہا تھا کہ
اور فرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت۔ اور گھر گئے وہ ذلت بعد ذلت میں
میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں

یہ ہم عام پاکستانیوں کا ہی کیا دھرا ہے کہ ہم پر اس قسم کے حکمران مسلط ہیں۔ کیکر کے درخت پر گلاب نہیں اگتے۔

کاش عوام کو اب بھی ہوش آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

اللہ ہم سب پر رحم کرے - آمین
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-05-11), حیدر (17-05-11), راجہ اکرام (18-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11)
پرانا 17-05-11, 11:09 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11)
پرانا 17-05-11, 11:13 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔۔۔۔
میں اللہ کے لیے اپلائی کر رہا ہوں۔
میرا دل اُچاٹ ہو رہا ہے ۔
دل نہیں لگتا اس بھرے پُرے دیار میں۔
کوئٹہ میں گولیاں چلتی رہیں۔ لڑکیاں چیختی رہیں۔ اور کسی ظالم کے دل میں رحم نہ آیا۔
میں کُچھ اور تو نہیں کر سکتا۔ لیکن پاکستانی ہونے پر شرمندہ ضرور ہو سکتا ہوں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-05-11), عبداللہ آدم (18-05-11)
پرانا 17-05-11, 11:17 PM   #8
Senior Member
 
جاسوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: آس پاس
عمر: 18
مراسلات: 465
کمائي: 5,290
شکریہ: 1
339 مراسلہ میں 713 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
پاکستانی ہونے پر شرمندہ ضرور ہو سکتا ہوں۔
حیدر بھائی شرمندگی تو کوئی حل نہیں ہے اس کا ۔ ہم لوگ جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ، کیا ہم نے کبھی عمل کرنے کی کوشش کی؟ نہیں بالکل نہیں کی۔
جاسوس آف لائن ہے   Reply With Quote
جاسوس کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 11:28 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں الحمد للہ۔ سوائے مسلح بغاوت کے باقی ہر عمل سے کوشش کرنے کی کوشش کیا کرتا ہوں۔ لیکن اس عمل میں انتہا نہیں ہے، اور یہی مقام شرمندگی ہے۔ کیونکہ جہاں "انتہا پسندی" نہیں ہوتی۔ وہاں منافقت ہوتی ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-05-11, 11:49 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر چیتے چھاتا ہی جارہا ہے دن بدن پتا نہیں کیا کھا لیا اس نے اور کسیے لکھ لیتا ہے اتنا اچھا کاششششششششششش مجھے بھی آجائے اس طرح سے اپنے جذبات کی ترجمانی کرنا باقی شرمندگی ک لسٹ میں ایک مزید اضافہ کرلو میرے نام کا اور مجھے دوہرا شرمسار لکھو جو کر بھی کچھ نہیں سکتا اور اپنے جزبات کا اظہار بھی نہیں
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics (18-05-11)
جواب

Tags
کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, نواز شریف, نظر, معلوم, آج, آدمی, انسان, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, بھائی, تلاش, تعلیم, جھوٹ, جواب, حکم, خون, خوش, دھماکہ, سفر, شہر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
چینی بربریت کے شکار مشرقی ترکستان کے مظلوم مسلمان گوندل خبریں 1 03-09-10 12:30 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
پاکستان کواقتصادی ترقی اور استحکام سمیت کئی چیلنجز کاسامنا ہے،نوید قمر تہر عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:42 AM
آفریدی کی پاکستان ٹیم میں عدم شمولیت ناقابل یقین ہے، شاستری عبدالقدوس کرکٹ 0 03-12-07 03:09 PM
آئین اور جمہوریت کی بحالی تک،دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:14 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger