واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




ڈرون حملے پر خاموشی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-10-11, 02:01 AM   #1
ڈرون حملے پر خاموشی
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 14-10-11, 02:01 AM

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تقریباً روزانہ جاری ڈرون حملوں پر حکومتی احتجاج کا سلسلہ تو کب کا دم توڑ گیا ہے لیکن عوامی سطح پر بھی خاموشی کی وجہ ان حملوں کے خلاف تحریک چلانے والے ایک وکیل کے مطابق ’فیشن ایبل’ لبرل طبقے کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ مارے جانے والوں کے کوئی حقوق نہیں۔


ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں اب تک دو رپورٹیں درج کروانے والے مرزا شہزاد اکبر کا بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس افسوس ناک صورت حال کا دوسرا پہلوں یہ ہے کہ قبائلیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے بچوں اور عورتوں کے مارے جانے سے پشاور یا اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کا کوئی سروکار نہیں۔

’انہوں نے لبرل طبقے کو سمجھایا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں تو آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن ان کے لیے نہیں جنہیں آپ نے ساٹھ سال سے زائد عرصے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اس وجہ سے شعور رکھنے والا طبقہ احتجاجی مہم کا حصہ نہیں بن پا رہا ہے۔‘

مرزا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں نے کچھ رنگ دکھایا ہے ’سنہ دو ہزار دس سے قبل ڈرون کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہماری مہم کے آغاز کے بعد سے اب تک چھ سات مظاہرے ہوچکے ہیں۔ پہلی مرتبہ ڈرون میں ہلاک ہونے والوں نے بنوں وزیرستان سڑک کئی گھنٹوں تک بند کر دی تھی۔‘

سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں شہزاد نے بغیر پائلٹ کے امریکی طیاروں کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف دو رپورٹیں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹیریٹ میں درج کروا چکے ہیں۔

قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے کریم خان کی جانب سے جن کا بھائی اور بیٹا ایسے ہی ایک مبینہ حملے میں ہلاک ہوئے تھے اسلام آباد میں اس وقت تعینات سی آئی اے کے سٹیشن ڈائریکٹر، اعلی امریکی اہلکاروں لیون پنیٹا اور رابرٹ گیٹس کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اسی رپورٹ میں نام آنے کے بعد اسلام آباد میں سی آئی اے کے سربراہ کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔

دوسری رپورٹ ڈرون میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے سات سالہ لڑکے کے والد کی جانب سے سنہ دو ہزار سات میں اسی تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ لیکن دونوں رپورٹوں پر پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں مرزا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پولیس کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انہیں تفتیش کے لیے پاکستان بلائے جانے کی کوشش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کی خاطر انہوں نے رپورٹ کی ایک کاپی انٹرپول کو بھی ارسال کی ہے۔

’ہمارا اگلا قدم یہ ہوگا کہ سی آر پی سی کے تحت سیشن جج سے عدالتی مداخلت کے لیے کوشش کرئیں گے تاکہ پولیس کو عدالت کارروائی کا حکم دے۔‘

عدالت یا پولیس کی حدود سے متعلق ایک سوال پر کہ حملے تو قبائلی علاقوں میں ہو رہے ہیں تو کیا اسلام آباد کی پولیس یا عدالت کے دائرہ اختیار میں یہ بات آتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پہلی ایف آئی آر میں نامزد ملزم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں موجود تھا جبکہ پولیس کی پہلی کارروائی بھی اسی سفارت خانے سے شروع ہوگی۔

ان کے مطابق دوسری بڑی وجہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے پاس داد رسی کے لیے مناسب فورم کا نہ ہونا بھی ہے۔ ’کیا قبائلی علاقوں میں پولیس اور عدالتیں موجود ہیں جس سے متاثرین رجوع کرسکیں۔ اسی وجہ سے وہ یہاں آ نے پر مجبور ہیں۔‘

سنہ دو ہزار چار میں پہلے ڈرون حملے کے وقت اس کی حتمی اجازت امریکی صدر پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اور دیگر اہلکاروں سے تفصیلی غور کے بعد دیا کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ مرزا شہزاد کے مطابق اب لیگل کونسل ہے جو اس کا جائزہ لے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی منظوری دیتی ہے۔ اس کا مقصد بقول شہزاد کے امریکی صدر کو براہ راست قانونی پکڑ سے بچانا ہے۔

اسی کونسل کے ایک اہلکار نے جوکہ قانون کے پروفیسر بھی تھے ایک انٹرویو میں گزشتہ دنوں اعتراف کیا تھا کہ اجازت دیتے وقت انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ وہ کسی کے قتل کے پروانے پر دستخط کر رہے ہوں۔

بي بي سي
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 184
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (14-10-11), ارشد کمبوہ (14-10-11), حسن قادری (14-10-11), رضی (14-10-11), سیفی خان (14-10-11)
پرانا 14-10-11, 04:34 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تقریباً روزانہ جاری ڈرون حملوں پر حکومتی احتجاج کا سلسلہ تو کب کا دم توڑ گیا ہے لیکن عوامی سطح پر بھی خاموشی کی وجہ ان حملوں کے خلاف تحریک چلانے والے ایک وکیل کے مطابق ’فیشن ایبل’ لبرل طبقے کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ مارے جانے والوں کے کوئی حقوق نہیں۔


ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں اب تک دو رپورٹیں درج کروانے والے مرزا شہزاد اکبر کا بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس افسوس ناک صورت حال کا دوسرا پہلوں یہ ہے کہ قبائلیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے بچوں اور عورتوں کے مارے جانے سے پشاور یا اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کا کوئی سروکار نہیں۔

’انہوں نے لبرل طبقے کو سمجھایا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں تو آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن ان کے لیے نہیں جنہیں آپ نے ساٹھ سال سے زائد عرصے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اس وجہ سے شعور رکھنے والا طبقہ احتجاجی مہم کا حصہ نہیں بن پا رہا ہے۔‘

یہی فرق تو پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
حسن قادری (14-10-11), سیفی خان (14-10-11)
پرانا 14-10-11, 07:13 AM   #3
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اجازت دیتے وقت انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ وہ کسی کے قتل کے پروانے پر دستخط کر رہے ہوں۔
کیا بات ھے ہیشیمانی کی
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (14-10-11)
جواب

Tags
color, pakistan, فورم, کوششوں, پولیس, پاکستان, قدم, اکبر, احتجاج, اردو, اسلام, بھائی, بچوں, جواب, حکم, حال, خلاف, خان, سال, شہزاد, علاقے, عدالتی, عدالتیں, غور, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger