واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




کیا پاکستانی عوام دہشت گردی سے نجات پا سکتے ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-10-11, 02:41 PM   #1
کیا پاکستانی عوام دہشت گردی سے نجات پا سکتے ہیں؟
اسراراحمد چوہدری اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے 02-10-11, 02:41 PM

پاکستان کو دہشت گردوں اور مذہب کے نام پرسامراجی طاقتوں کے لئے کام کرنے والوں کے حوالے کرکے راہی عدم کو سدہارنے والے سابق فوجی حکمران ضیاالحق کو اگر اس دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع ملے تو وہ یقینا آج کے پاکستان کی صورتحال پر یہی تبصرہ کریں گے کہ یہ سب سیاست دانوں کا قصور ہے اگر ان کی جانب سے میری پزیرائی نہ ہوتی اورمیں نوے دن میں انتخابات کرانے پر مجبور کردیا جاتا تو آج پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا ۔ اس وقت صورتحال یہ کہ خود پاکستان کے خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ صرف پنجاب میں سترہ شدت پسند اور کالعدم تنظیمیں مختلف ناموں سے لوگوں سے پیسے اکھٹے کر رہی ہیں۔وِزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں پنجاب کے جن شہروں اور قصبوں میں موجود ہیں اُن میں راولپنڈی، چکوال، پنڈ دادن خان، منڈی بہاالدین، اٹک، کھاریاں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے علاقے شامل ہیں۔وِزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے اراکین صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔پاکستان کی حکومت اور اس کے خفیہ ادارے خودہی دہشگردوں اور ان کے نیٹ ورکس نیز ان کے کام کرنے کے طور طریقوں سے واقف ہیں تو ایسے میں پاکستان کے عوام کی جانب ان دہشت گردگروہوں کے قلع قمع کۓ جانے کا مطالبہ کیا اہمیت رکھتا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود عوامی حلقوں کی جانب سے اس قسم کے مطالبات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔ایسا ہی ایک مطالبہ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے کیا جارہا ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین کی قیادت نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جہاں کہیں بھی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گرد موجود ہیں ،حکومت ان کے خلاف کاروائی کرے دہشت گرد تنظیموں کے دہشتگردوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ کو ملک بھر میں بشمول کوئٹہ،ڈیرہ اسماعیل خان،اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہاہے جس کے نتیجہ میں اب تک 150سے زائد ڈاکٹرز اور 100سے زائد سرکاری اعلیٰ افسران اور 4000سے زائد شیعہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا افسوس کی بات تو یہ ہے کہ حکومت اب تک سینکڑوں بے گناہ شیعہ افراد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے یا اگر کسی کو گرفتار بھی کیا گیا تو حکومتی سر پرستی میں فرار کر دیا جاتا ہے جس کی مثال کوئٹہ میں اور حالیہ دنوں کراچی میں دیکھنے کو ملی ۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ اور یا ان کے فرار کے واقعات پر افسوس کا اظہار پاکستان کے عدالتی نظام کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بے معنی سی بات نظر آتی ہے ۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کے حوالے سے میڈیا پر جاری ہونے والی خبر کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں گُزشتہ اڑھائی سال کے دوران شدت پسندی کے سات اہم واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد تفتیش کرنے والے اداروں کی جانب سے بظاہر ٹھوس شواہد پیش نہ ہونے کی بنا پر ان مقدمات میں بری ہوگئے ہیں۔ان واقعات میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے ان واقعات میں ہلاک ہونے میں اکثریت کا تعلق فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے جبکہ ان دھماکوں تیس سے زائد افراد زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوچکے ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ ان مقدمات کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ ، آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ان تفتیشی ٹیموں میں شامل ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ان مقدمات کی تفتیش میں زیادہ تر کردار خفیہ ایجنسیوں کا ہے ۔بہرحال ملت جعفریہ کے پلیٹ فارم سے ظہر کرنے والی اس نئی مذہبی و سیاسی جماعت کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ملت جعفریہ کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہئیے بلکہ ملت جعفریہ نے اپنا خون دے کر اس ارض وطن پاکستان کو بنایا تھا اور اس کو بچانے کے لئے بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی مگر کالعدم دہشت گرد گروہ اور پنجابی طالبانوں کے سامنے تر نوالہ بھی نہیں بنے گی،ان کا کہنا ہے کہ مملکت خداد پاکستان میں اب نہ تو شیعہ محفوظ ہیں اور نہ ہی سنی حضرات،دہشت گردوں نے اولیا اللہ کے مزارات کو بھی نہیں چھوڑا ہے اور اپنی مذموم دہشت گردی کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے اس بات کا اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے مسلمان نہیں بلکہ عالمی استعمار امریکا اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کے اشاروں پر انارکی پھیلا رہے ہیں۔رہنماﺅں نے بلوچستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان آگ وخون میں جل رہاہے 350سے زائد شیعہ ڈاکٹر ز کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے 90ہزار سے زائد لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن نہ تو صوبائی حکومت کو احساس ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کو کوئی خیال ۔ ملس وحدت مسلمین کے قائدین نے اپنی اس پریس کانفرنس میں حکومت بلوچستا ن ایک طرف تو کالعدم دہشت گرد گروہوں سے وابستہ عناصر کو گرفتار کرنے میں بلوچستان کی مقامی حکومت پر ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ حکومت بلوچستان کے وزراءکی گاڑیوں میں دہشت گردوں کو افغانستان پہنچایا جا رہاہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بلوچستان کی دگر گوں صورتحال اور حکومت کی بے حسی کے خلاف 4جولائی کو ملک گیر احتجاج کی اپیل کی ہے چنانچہ اطلاعات ہیں کہ 4جولائی کو ملت جعفریہ کا ملک بھر سے نمائندہ اجتماع کوئٹہ میں منعقد ہو گا اس موقع پر وزیر اعلیٰ ہاﺅس کا گھراﺅ کیا جائے گا ۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں کے مطابق احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کالعدم دہشت گرد گروہوں کے دہشت گردوں کو گرفتار نہیں کرتی اور قرار واقعی سزا نہیں دیتی ۔ پاکستان کے حالات سے با خبر حلقے یہ بعید سمجھتے کے دہشت گردی سے کہ جس کے خاتمے کے لئے حکومت خود کو امریکہ کی امداد اور ہدایات کا محتاج سمجھتی اتنی آسانی سے پاکستانی عوام کی جاں بخشی ہوجائیگی ۔

بشکریہ۔ریڈیوتہران
__________________
RADIO WORLD ... UNITY FOR PEACE

 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
اسراراحمد چوہدری
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 239
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (14-10-11), حیدر (02-10-11)
پرانا 13-10-11, 12:59 AM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 123
کمائي: 2,611
شکریہ: 17
60 مراسلہ میں 95 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بڑا تفصیلی اور اچھا نظریہ پیش کیا ہے۔ میری بھی یہی دعا ہے کہ پاکستان کو ان تمام لوگوں سے محفوظ رکھا جائے جو دین یا اقتدرا کے نام پر پاکستانی عوام پر حملے کرتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں۔
allah ke bande آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-10-11, 06:24 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 155
کمائي: 2,854
شکریہ: 5
75 مراسلہ میں 126 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دعا تو خیر سب ہی کرتے ہیں کہ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اور دعا کے اثر میں کوئی شک نہیں ۔ لیکن کیا آپ کے خیال میں دہشت گردی جو اپنے عروج پر ہے اس سے صرف دعا سے چھٹکارا مل جاۓ گا؟
اجل کنول آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, فرقہ واریت, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, وزیر, نظر, موقع, آج, اللہ, الزام, امریکہ, احتجاج, اسلام, اعلیٰ, خون, خلاف, خبر, زندگی, سیاست, سال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سی آئی اے پاکستانی عوام کے اجتماعی شعور سے زیادہ طاقتور نہیں عارف اقبال خبریں 1 18-04-11 11:22 PM
کون کہتا ہے کہ عورتیں بیوقوف ہوتی ہیں؟ محمدعدنان گپ شپ 22 07-02-11 01:25 PM
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 08:56 PM
ملک کو کھوکھلا ہونے سے بچانے کےلئے عوام کی نظریں چیف جسٹس پر مرکوز ہوگئیں؟ جاویداسد خبریں 0 22-09-10 06:50 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger