|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 748
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-12-11), skjatala (06-12-11), فیصل ناصر (05-12-11), کنعان (06-12-11), ھارون اعظم (05-12-11), نیلم خان (06-12-11), نبیل خان (05-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), محمدعدنان (11-12-11), معظم (05-12-11), wajee (05-12-11), آصف رضا (07-12-11), احمد نذیر (05-12-11), رضی (05-12-11), سیپ (07-12-11), عبدالقدوس (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب عالی اب ہمارے سفر کی داستاں شروع ہوا چاہتی ہے
اس بقرا عید کے کچھ دن بعد میرا پنجاب بھر کا سفر شروع ہوا جسمیں میں نے کراچی سے رحیمیارخان رحیم یار خان سے خان پور پھر واپس رحیم یار خان رحیم یار خان سے ملتان ملتان سے کوٹ ادّو کوٹ ادو سے عبدالحکیم عبدالحکیم سےچیچہ وطنی چیچہ وطنی سے لاہور لاہور سے واپس کراچی |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-12-11), skjatala (06-12-11), فیصل ناصر (05-12-11), ھارون اعظم (05-12-11), نیلم خان (06-12-11), نبیل خان (05-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), محمدعدنان (11-12-11), معظم (05-12-11), wajee (05-12-11), ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), رضی (05-12-11), عبدالقدوس (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بچپن ہی سے ٹرین کے سفر کا شوق ہےاور اسی شوق کے ہاتھوں مجبور جب میں کراچی سے پنجاب کے سفر کے لئے نکلا تو وہ جمعہ کا مبارک دن اور تاریخ بھی دل چسپ تھی
11-11-11 دن ،مہینہ ۔ سال، کا ہندسہ بھی ایک اور سفر میں میں بھی اکیلا ایک گھر سے نکلتے ہوئے میرے ذہن میں یہ ہی خیال تھا کہ ریلوے اسٹیشن ویران پڑا ہوگا ریلوے کی خراب کارکردگی کی وجہ سے لوگوں نے ٹرین کا سفر کم کردیا ہوگا جیسا کہ میڈیا پر آئے دن ریلوے کے بارے میں خبریں سننے،پڑھنے کو ملا کرتی تھی ۔۔۔اسی خیال کے پیش نظر اسٹیشن پر جاتے ہی مجھے سیٹ اور برتھ کے حصول میں کوئی دشواری نہ ہو گی مگر جب میں ریلوے اسٹیشن گیا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا اسٹیشن کا منظر دیکھ کر کیوں کہ یہاں پر ویرانی کی بجائے آدم ذات کا ایک جم غفیر تھا یہاں پر تو مجھ سے بھی بڑھ کر ٹرین کے سفر کے شیدائی موجود تھے ہر طرف سر ہی سر پلیٹ فارم پر تل دھرنے کو جگہ موجود نہیں تھی۔۔اسٹیشن پر سیٹ کا حصول تو دور کی بات صرف ایک ٹکٹ بڑی مشکل سے ملی دھکے کھا کھا کر شام کوٹرین اپنے مقررہ وقت 5:30 پر روانہ ہوئی میں بڑا خوش تھا ٹرین اپنے وقت پر روانہ ہوئی،، تو جناب جب میں رحیم یارخان پہنچا تو میری خوشی اور حیرت کی انتہا نہ تھی مجھے مقررہ وقت صبح 4:بجے پہنچادیا میرے تمام خدشات اوروسوسےدور ہو گئے جو میڈیا نے میرے ذہن میں بھر رکھے تھے ریلوے والوں کی عزت اور اہمیت میرے دل میں زیادہ ہو گئی |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-12-11), skjatala (06-12-11), فیصل ناصر (05-12-11), کنعان (06-12-11), ھارون اعظم (05-12-11), نیلم خان (06-12-11), نبیل خان (05-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), محمدعدنان (11-12-11), معظم (05-12-11), wajee (05-12-11), ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), رضی (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تیل اور تیل کی دھار
، جب میں نے رحیم یار خان سے ملتان کا سفر کیا زکریہ ایکسپریس سے تو جیسے جیسے سفر اور وقت بیت رہا تھا ویسے ہی میڈیا کی سنی اور پڑھی ہوئی باتیں ایک ایک کرکے سچ ہو رہی تھی اور اور ریلوے والوں کا جو احترام دل میں جگہ بنا پایا تھا اسکی جگہ غصہ اور بدعا نے لے لی رحیم یار خان سے خانپور کا سفر محض 35سے 40 منٹ کا تھا جو کہ 1:15 گھنٹے میں طے کیا ملتان اسکا پہنچنے کا وقت دن 12 بجے کا تھا مگر یہ شام کو 5 بجے پہنچی ٹرین چلنے کی رفتاراتنی تھی کہ قریب میں چلتےہوئے موٹر سائیکل ٹرین کو کراس کر رہے تھے آج کل صرف ٹرین ہی نہیں بس والے بھی بے حس ہو چکے ہیں جب میں چیچہ وطنی سے لاہور روانہ ہوا تو ٹرین کی کھجل کھاری سے تنگ آکر بس میں سفر کیا جناب بس والے بھی اس وقت تک گاڑی نہ چلائیں جب تک کہ بس سواری سے فل نہ ہو جائے سائیوال میں پورا 1 گھنٹہ رکی رہی پھر اوکاڑہ میں بھی سواریوں کے احتجاج کرنے پر 45 منٹ کے بعد روانہ ہوئی |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-12-11), فیصل ناصر (05-12-11), کنعان (06-12-11), ھارون اعظم (05-12-11), نیلم خان (06-12-11), نبیل خان (05-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), معظم (05-12-11), ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), عبدالقدوس (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنی زندگی کا سب سے طویل سفر
دوستوں جب میں لاہور سے کراچی کے لئے روانہ ہوا تو خوائش تھی کہ بس کے زریعے سفر کیا جائے یہ تھوڑا کم خوار کریں گے لیکن جب میں بس اڈے پر گیا تو پتہ چلا کہ رائیونڈ اجتماع کی وجہ سے اکثر بسیں بک ہو چکی ہیں لہذہ انتظار کرو لیکن مجھ کو جلدی تھی چارو ناچار میں نے ریلوے اسٹیشن کا رکھ کیا اور دیکھا یہاں بھی رش ہے بڑی مشکل سے عوامی ایکپریس میں ایک سیٹ ملی جسکا وقت لاہور سے رات کو 7 بجے کا تھا میں 6 بجے اسٹیشن پہنچ گیا اور ٹرین 3 گھنٹے لیٹ رات 10 بجے لاہور سے روانہ ہوئی لیٹ ہونی کی وجہ یہ تھی کہ راولپنڈی سے لاہور کی طرف آتے ہوئے کوئٹہ ایکسپریس کا انجن فیل ہوگیا تو عوامی ایکسپریس کی ٹرین سے اسکو بھی جوڑ دیا اب ایک انجن 2 ٹرینوں عوامی اور کوئٹہ تقریبا 29 بوگیوں کو کھینچ کر لاہور لایا 25-11-2011 رات 10 بجے ٹرین لاہور سے اللہ اللہ کر کے روانہ ہوئی خانیوال تک تقریبا صیحح سفر کیا اسکے بعد ہر جگہ جہاں پر اسکا اسٹاپ نہ تھا یہ رکتی گئی زیادہ سے زیادہ یہ 20 منٹ چلتی اور اسکے بعد 10 سے 30 منٹ کی بریک روڑی ،،سکھر ،،، اسکا وقت شام 5 بجے کا تھا مگر یہ رات کو 12 بجے پہنچی روڑی پر تقریبا پونے دو گھنٹے رکی یہاں پر اسکے رکنے کا وقت صرف 30 منٹ ہے اسکے بعد روانہ ہوئی اور ہر چھوٹے اسٹیشن پر رکتی گئی حیدرآباد پہنچ کر پھر رک گئی اور 45 منٹ ہو گئے مگر اسکو چلایا نہ جائے اب مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا شروع ہو گیا تو مسافروں نے نعرے بازی اور ہلڑبازی شروع کری تب جا کر ٹرین کو کراچی کی طرف چلتا کیا اور27-11-2011 کو صبح 6بجے کراچی پہنچایا 25 گھنٹے کا سفر 35 گھنٹے میں طے ہوا جب میں کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترا تو ایک عجیب ہی منظر تھا ریلوے پلیٹ فارم ایک مسافر خانے کا روپ دھارے ہوا تھا کیونکہ ،خیبر میل ایکسپریس جسکو رات 9:30 پر روانہ ہونا تھا وہ اگلی صبح 6 بجے روانہ ہوئی اسکے مسافر انتظار کرتے کرتے لمبی تان سو ئے ہوئے تھے |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (06-12-11), فیصل ناصر (05-12-11), کنعان (06-12-11), نیلم خان (06-12-11), نبیل خان (05-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), معظم (05-12-11), wajee (05-12-11), ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), شھزادباجوہ (07-12-11), عبدالقدوس (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پا کستان ریلوے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,828
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس سال پاکستان ریلوے کے 150 سال کی سالگرہ بھی تھی
1861سے 2011 |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
زندہ باد جی
مُجھے بھی بھی شوق تھا لیکن کبھی پورا نہیں ہوا اب بلور کی مہربانی سے شوق بھی نہیں رہا
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,607
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,519 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مبارک ہو بھائی 35 گھنٹے میں پنچ تو گئے ۔
میں لاہور سے رحیم یار خان 24 گھنٹوں میں پنہچا ہو ں۔ علامہ اقبال ایکسپریس میں ۔ جن میں سے 12 گھنٹے لاہور اسٹیشن میں اور 12 سفر میں ۔ ہر آدھے گھنٹے کے بعد عملہ یہی بتاتا تھا کہ آدھے گھنٹے میں ٹرین پنہچ رہی ہے ۔ مگر ” دھلی ہنوز دور است “ والی بات ہوئی ۔ اور جب مسافروں نے توڑ پھوڑ شروع کردی اور عجیب عجیب قسم کے نعرے بشمول گالیوں کے بلند ہونا شروع ہوئے اور خاص کر عمر رسیدہ عورتوں کا انداز جاحانہ تھا ۔ اب اس انداز کی برکت سے ٹرین بھی آگئی اور رات 2بجے روانہ بھی ہوگئی ۔اور ہر اسٹیشن پہ بلور صاحب کے نام کے ساتھ بہت کچھ لکھا ہوا نظر آیا Last edited by نبیل خان; 05-12-11 at 06:55 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-12-11), ھارون اعظم (05-12-11), نیلم خان (06-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), معظم (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), عبدالقدوس (06-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
ویسے آپ نے بھی یہ جو سٹا لگا لگا کے پوسٹ کیا ہے اس سے آپ کے سفر کا حوال مکمل پڑھ لیا۔
ویسے ہم نے بھی آج سے کوئی 10 سال پہلے ایک سفر کیا تھا راولپنڈی سے لاہور کا شام پانچ بجے ٹرین چلی تھی اور صبح 9 بجے تقریباً پہنچایا تھا ۔ ٹکٹ صرف 40 روپے تھا شاید اور ٹرین پسنجر تھی نام شاید یہی تھا یاد نہیں آرہا اور آج کل تو میرے خیال میں چلتی بھی نہیں۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم!
بھائی آپ کے سفر کا حال سن کر تلخ یادیں اور سٹیشنوں پر گزاری گئی سرد راتیں یاد آگئیں۔ میں بھی ایک دور میں پڑھائی کے شوق میںلاہور گیا تھا جہاں سے ہر دوسرے ماہ سفر کرنا پڑتا تھا اس دوران لاہور ریلوے اسٹیشن پر راتیں بھی گزاریں ہیں ۔ پھر اخیر نتیجہ یہ نکلا کہ سفر کا دورانیہ بڑھا دیا یعنی تین ماہ میں ایک مرتبہ لیکن کرتا ڈائیو سے تھا۔ ان کی سروس فی الحال پاکستان میںواحد امید ہے لیکن ان کی بھی روز بروز بڑھتی قیمتیں ڈسٹرب تو کرتی ہیں لیکن دو تین سو کے لیے بندہ دس گھنٹے کا سفر نہیں اجیرن کر سکتا۔ اور میں نے تو رحیم یار خان سے بہاولپور کا سفر ٹرین پر ساڑھے آٹھ گھنٹے میں طے کیا ہے سکول دور میں ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ کے لیے گئے تھے ۔ ٹرین کی رفتار یوں تھی کہ پلیٹ فارم پر اتر جاؤ اور ساتھ ساتھ پیدل چلتے رہو تو آپ اپنی بوگی سے آگے نکل جاؤ ![]() اور پی آئی اے کا حال کیا سناؤں اور آپ کیا سنتے ہیں۔ مارچ میں رحیم یار خان سے کراچی کی فلائٹ رات 7 بجکر 45 منٹ پر تھی جس نے 9 بجے کراچی پہنچا دینا تھا۔ رحیم یار خان ائیر پورٹ لاؤنج میں بیٹھے رات کے 1 بج گئے جب جہاز تشریف لائے اور ڈھائی بجے کراچی ائیرپورٹ پہنچایا گیا۔ انٹرنیشنل فلائٹ کا تجربہ تو بہتر ہے لیکن سامان کے ساتھ چھیڑ خانی چھوٹی موٹی چیزوں کا غائب ہونا ایک معمول ہے۔
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
2006 میں میں پہلی دفعہ شہر سے باہر اکیلا گیا تھا اور یہ لاہور کا سفر تھا، کیا بات تھی جی اس وقت تو ، نائٹ کوچ بولتے ہیں راولپنڈی سے لاہور جو ریل رات 12 بجے روانہ ہو کر صبح 6 بجے لاہور. لوئر اے سی میں گیا تھا اور بہت زبردست یادوں میں سے ایک ہے. اصل میں پنجاب گورنمنٹ نے "کل صوبائی" مقابلہ کروایا تھا مضمون نگاری کا، اس میں مابدولت اتفاق سے اول اگئے تھے، انہوں نے پرنسپل کو فون کیا کہ انعام لینا ہے تو بچے کو لاہور بھیجو تقریب انعامات میں، جو الحمرا ہال میں ہونی تھی، خیر جی امجد اسلام امجد نے ایوارڈا بھی اور تسویریں شسویریں بھی بنائی گئیں. . . مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اصرار کے باوجود تصویر نہیں بنوائی تھی، اب تو کافی:لبرل: ہو گیا ہوں !!!
واپسی پر ٹرین چل پڑی تو اکانومی میں گھس گیا اور چیکر سے ٹکٹ کٹوایا بمع جرمانہ، وزیر اباد تک زلت برداشت کی کھرے ہونے کی اور بعد ازاں آگے پارلر میں منتقل ہو گیا، سواد ا گیا بادشاہو. ![]() بھوک بھی شدید لگی ہوئی تھی، اب جن لوگوں ے سفر کیا ہو وہ جانتے ہوں گے دوران سفر وہ ایک مرغی نما چیز لے کر اتے ہیں کہ جی اسے قبولیے اور بندہ پہلی دفعہ یہ سمجھتا ہے کہ کیا پتہ اس کے چارجز ٹکٹ میں ہی شامل ہوں گے ، نہ اس سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کبھی میں نے پورا مرغا ہڑپ کیا ہے ایک ہی نشست میں، لیکن اس دن تو![]() پندی کے قریب پہنچ گئے لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میاں تمہارا ٹکٹ کدھر ہے، شاید یہ سمجھتے ہوں کہ ایسی حرکتوں والے اکانومی میں ہی پائے جاتے ہیں. . . . خیر جی ایک وردی پوش کو بلا کر سارا ماجرا کہا تو اس نے اضافی رقم لی اور کچھ اور لیکیں شیکیں مار دیں ٹکٹ پر. واپسی پر بھی ایگزیکٹ ٹائم 6 گھنٹے !!! آآآآآآآآآہ. . . . اور اب تو بقول پروین شاکر:: اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے حیدرآباد سے فیصل آباد تک کا ٹرین میںسفر کیا ماشااللہ پورے دو دن میں پہنچایا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
علی اوڈ بھائی،
آپ ایک ہی سفر سے اکتا گئے۔ میں نے ٹرین کا سفر تو نہیں کیا، البتہ بس کے ذریعے بہت سفر کیا ہے اور ایسے ایسے واقعات ہیں کہ آج بھی یاد کرکے بے اختیار ہنسی آتی ہے، مثلاً میانوالی کی پہاڑیوں کے قریب بس خراب ہوگئی اور تمام مسافروں نے تقریباً دو کلومیٹر تک بس کو دھکا لگایا۔ پٹرول پمپ تک بس کو لے جانے کے بعد وہاں مستری نے چیک کیا تو بس کا فیول ختم ہوچکا تھا۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاکستانیوں, وقت, وجہ, ناک, نظر, موسم, مسلمان, آئی, آج, آزمائش, اپنے, اللہ, انسان, بڑے, بارش, جگہ, جاری, حوالے, دور, دنیا, سفر, سال, عزیز, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|