قدیم اور جدید دور کا سنگم.... انارکلی بازار
لاہور کے مرکز میں واقع پر رونق بازار کا تاریخی و ثقافتی پس منظر
شہر لاہور کے ہر بازار کا اپنا ایک خاص رنگ ہے۔لاہور کی کشادہ سڑکیں، نئے شاپنگ مالز، ، کثیر المنزلہ پلازے اور جدید طرز تعمیر کی شاہکار عمارتیں جدیددور کی نمائندگی کرتی ہیں اور اپنی طرز تعمیر میں ایک خاص جاذبیت اور کشش رکھتی ہیں تاہم انارکلی ایک ایسا بازار ہے جو اس شہر کے ساتھ صدیوں سے اپنا ناطہ قائم کئے ہوئے ہے اور آج بھی اپنی تمام تر رعنائیوں اور رونق کے ساتھ زندہ جاوید ہے۔ انارکلی بازار کو لاہور کی تاریخ و ثقافت میں وہی اہمیت و حیثیت حاصل ہے جو مغل دربار میں کنیز انارکلی کو حاصل تھی۔انارکلی بازار میں ویسی ہی دلکشی، شوخی اور دل موہ لینے کی صلاحیت ہے ۔ مغلیہ دور سے عہد حاضر تک شہر لاہور کی معاشی، سیاسی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہم مرکز انارکلی بازار رہا ہے۔
مورخین کا خیال ہے کہ قدیم دور میں انارکلی بازار کے علاقہ میں قبرستان ہوا کرتا تھا۔ آج بھی سیکرٹریٹ سے انارکلی بازار تک بیسیوں قبریں اور بزرگوں کے مزارات عہد رفتہ کی یادوں کے نقوش زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ انارکلی بازار کے قریب، سیکرٹریٹ کی عمارت کے اندر ایک مزار ہے جسے مورخین انارکلی کا مزار خیال کرتے ہیں۔ایک روایت کے مطابق جب مغل بادشاہ اکبر نے انارکلی کو زندہ چنوا دیا تو اس کی لاش کو یہاں دفن کر دیا گیا تھا اور بعدازاں انارکلی کا مقبرہ تعمیر کیا گیا اور اسی کی نسبت سے اس بازار کو انارکلی بازار کہا جانے لگا۔
بعض مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ عہد مغلیہ میں شالیمار باغ سے شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد سے انارکلی کا علاقہ مغل شہزادوں، شہزادیوں، امراءاور شاہی خاندان کی محفلوں کے لئے مخصوص تھا۔حسین باغات اور سنگ مرمر سے آراستہ عمارتیں اس علاقے کی زینت ہوتی تھیں۔مغل دور میں یہاں مینا بازار لگتا تھا جہاں شاہی خاندان کی خواتین بھی خریدو فروخت کے لئے آتی تھیں۔ مغلیہ حکومت کے زوال کے بعد پنجاب پر سکھوں کی حکمرانی قائم ہوگئی۔ اس دور میں انارکلی بازار اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ بازار حسن کے رنگین علاقہ کی شکل اختیار کر گیا۔ نواب اور امراءسجی سجائی بگیوں پر یہاں آتے اور رات دن یہاں عجب سماں رہتا۔ آج بھی انارکلی بازار میں پرانے وضع کی بالکونیاں اور جھروکے دکھائی دیتے ہیں جہاں کسی زمانے میں رقص و سرور کی دوکانیں سجتی تھی۔ سکھوں کے دور کے اختتام اور انگریزوں کی آمد کے بعد بازار حسن یہاں سے ختم کر دیا گیا۔ مختلف مورخین نے مختلف انداز میں اس تاریخی بازار کی تاریخ کے حوالے سے حقائق بیان کئے اور کئی حوالوں سے ان میں اختلافات بھی موجود ہیں۔
1210ءمیں جب برصغیر کے پہلے مسلمان حکمران قطب الدین ابیک کا انتقال ہوا تو اس کو انارکلی بازار میںدفن کیا گیا۔نئی انارکلی میں اس کا مقبرہ دائیں جانب پرنٹنگ پریس کی دوکانوںمیں گھرا ہوا ہے۔ رنجیت سنگھ نے جب 1799ءمیں لاہور پر لشکر کشی کی تو دربان مہر محکم دین نے لوہاری دروازہ کھول دیا تھا جس کی وجہ سے رنجیت سنگھ کی فوجیں شہر کے اندر داخل ہوگئیں اور رنجیت سنگھ نے شہر لاہور پر قبضہ کر لیا۔ شہر میں داخلے سے قبل رنجیت سنگھ کی فوجوں نے لوہاری دروازے کے سامنے انارکلی بازار میں قیام کیا تھا۔ 1849ءمیں انگریزوں نے لاہور پر قبضہ کیا تو ان کے مشہور دستے اڑسٹھ نیٹو انفینٹری کو لوہاری دروازے کے باہر اور انارکلی بازار میں تعینات کر دیا گیا۔ اولین برطانوی فوجوں کی بیرکیں انارکلی بازار اور اس کے گردونواح کے علاقے میں تعمیر کی گئی تھیں۔
یہ امر روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ انارکلی بازار مغلیہ عہد سے لے کر عہد حاضر تک لاہور کے باسیوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور کسی بھی دور میں اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ بازار رنگینیوں، رعنائےوں اور خوشگوار یادوں سے مالا مال ہے۔ ضروریات زندگی کوئی ایسی چیز نہیں جو اس بازار میں نہ ملتی ہوئی۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر موتی جواہر، جوتے، کپڑا اور کتابیں تک تمام اشیا یہاں دستیاب ہیں۔ اس بازار کے حسن کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں مشرقی اور مغربی طرز کا سامان آرائش و زیبائش موجود ہے۔ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے اس بازار کی اپنی حیثیت بھی مشرقی و مغربی حسن کا حسین امتزاج ہے اور دنیا بھر کا سامان یہاں کی دوکانوں میں سجا دکھائی دیتا ہے۔
انارکلی بازار آزادی سے پہلے ہر لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا اور آزادی کے بعد اس کی رونقوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جیسے زرق برق لباس دوکانوں پر سجے نظر آتے ہیں ویسے ہی خوبصورت اور جھلملاتے ملبوسات میں ملبوس افراد اس بازار کی رونق بڑھاتے ہےں۔ زرق برق ملبوسات میں چہل قدمی کرنے والے جوڑے، نوجوان لڑکیاں لڑکے ، بچے بڑے غرض ہر عمر کے افراد شام کے وقت اس بازار کی رونق بڑھاتے ہیں۔ نوبیاہتے جوڑے شوخ رنگ کے ملبوسات کی جھلملاہٹوں میں محبتوں، خوشبوﺅں اور غموں کے سینکڑوں افسانے لئے پھرتے ہیں۔ آزادی کے بعد بازار مزید پھیلتا چلا گیا۔ نئی نئی دوکانیں اور شاپنگ پلازے تعمیر ہوتے چلے گئے۔ مال روڈ کے ایک طرف جین مندر سے لے کر دوسری جانب مسلم مسجد لوہاری گیٹ تک انارکلی بازار کی رونقیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ تقریباً دس برس قبل پرانی انارکلی کو ٹورسٹ سٹریٹ کا نام دیا گیا اور یہاں گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ کے طرز کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ شام ڈھلتے ہی پرانی انارکلی میں کھانے پینے کی دوکانوں کے سامنے سڑک اور فٹ پاتھوں پر کرسیاں اور ٹیبل سج جاتے ہیں۔ برقی قمقموں کی دیدہ زیب روشنیاں اور کھانوں کی خوشبو خاصا خوشگوار ماحول پیدا کردیتی اور ہر آنے جانے کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی رہتی ہیں۔ چونکہ شام کے وقت پرانی انارکلی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا ہے اس لئے پیدل چلنے والوں کے لئے خاصی سہولت رہتی ہے اور ماحول گاڑیوں کے دھوئیں اور گرد و غبار سے بھی پاک رہتا ہے۔ جین مندر کی جانب انارکلی میں داخل ہوں تو چوک سے پہلے دودھ فالودے کی مشہور دوکانیں ہیںجبکہ چوک میں دودھ فروش اپنا ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ بازار کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب ایک پرانی وضع کا چائے ہوٹل ہے جہاں شام ہوتے ہی شاعر، ادیب، طالب علم اور زندگی کے دیگر شعبہ سے تعلق رکھنے والے اپنا ڈیرہ جما لیتے ہیں۔ اس سے آگے چلیں تو سڑک کے دونوں اطراف آپ کو کھانے پینے کے بیشتر دوکانیں دکھائی دیں گی اور لاہور کے کھانوں کی خوشبو آنے والوں کو دلفریب انداز میں خوش آمدید کہتی ہے۔ اس کے علاوہ جوتوں اور گارمنٹس کی بھی کچھ دوکا نیں ہیں۔ پرانی انارکلی کا اختتام مال روڈ پر ہوتا ہے۔ جس کے دائیں جانب انگریز دور کی تعمیر کردہ ٹولنٹن مارکیٹ ہے جسے اب میوزیم کی شکل دے دی گئی ہے جبکہ دائیں جانب کھلا احاطہ ہے جہاں معروف جوس فروش براجمان ہے۔ مال روڈ پار کریں تو آپ نئی انارکلی میں داخل ہو جائیں گے۔ اس بازار کا ماحول پرانی انارکلی سے بالکل مختلف ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف گامنٹس ، جوتوں، جیولری اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا کی دوکانیں ہیں۔اتوار کے روز گہما گہمی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ کپڑوں کی عارضی دوکانوں کے علاوہ مال روڈ پر اناکلی چوک میں پرانی کتابوں کا ایک وسیع بازار سج جاتا ہے۔ نئی انارکلی کی سڑک کے درمیان اور فٹ پاتھوں پر بھی بے شمار سجی سجائی دوکانیں گاہکوں کی منتظر ہیں۔ آگے چلیں تو چوک آئے گا جس کے دائیں جانب ایک راستہ نیلا گنبد اور کنگ ایڈورڈ کالج کی جانب نکل جاتا ہے اور بائیں جانب اوریئنٹل کالج اور گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی کی عمارتیں ہےں۔ اس چوک سے سیدھا جائیں تو ہول سیل کا کاروبار کرنے والوں کی دوکانیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس حصہ میں کئی کثیر المنزلہ پلازے ہیں اور بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے۔یہاں خریدو فروخت کرنے والوں کا بے پناہ رش لگا رہتا ہے جبکہ بے شمار نئی دوکانیں اور پلازے تعمیر کئے جاچکے ہیں۔ یہ بازار سیدھا لوہاری دروازے کے سامنے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں اس جگہ پر تانگوں کا اڈہ ہوا کرتا تھا جو اب ختم کر دیا گیا ہے۔ اب وہاں ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انارکلی نے کئی رنگ بدلے۔ پرانی اور قدیم عمارتوں کے نقوش زمانے کی سنگینیوں کا شکار ہوتے چلے گئے جبکہ ان کی بنیادوں پر نئے پلازے تعمیر کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ جدید اور کثیر المنزلہ پلازوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ماضی کی یادیں گرد تلے دب کر رہ گئیں۔ البتہ کاروبار زندگی تیزی سے آگے بڑھا اور انارکلی کی شناخت لاہور کی ایک بڑی منڈی کی طور پر قائم ہوئی۔ مسلم مسجد چوک سے لیکر جین مندر تک خریدنے اور بیچنے والوں کا ایک اژدھام رہتا ہے۔ کوئی کونہ، گوشہ یا فٹ پاتھ ایسا نہیں رہا جہاں دوکانیں نہ بن گئی ہوں، مارکیٹیں اور پلازے بنتے جا رہے ہیں اورنت نئی مارکیٹیں بن چکی ہیں۔ بانو بازار، پیرس مارکیٹ، بابر مارکیٹ، خانم مارکیٹ، مہتاب مارکیٹ، رحمت مارکیٹ اور دیگر کئی مارکیٹیںاس بازار کا مستقل حصہ بن چکی ہیں۔ اس کھلے بازار کو اب تنگی داماں کا شکوہ ہے۔ نئی انارکلی میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہے لیکن موٹرسائیکلوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ پیدل چلنا بھی دشوار ہے۔ اس بازار کا اس وقت سب سے اہم مسئلہ ٹریفک کا بہاﺅ اور پارکنگ کی سہولت نہ ہونا ہے۔ نئی مارکیٹوں اور پلازوں کی تعمیر کے وقت پارکنگ جیسے اہم مسئلے کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ تاجروں اور خریداری کرنے والوں کا بھی یہی شکوہ ہے انارکلی میں آنے کے لئے انہیں گاڑی کسی دورافتادہ مقام پر پارک کرنا پڑتی ہے۔ نیوانارکلی کے انجمن تاجران خدمت گروپ کے صدر خواجہ زاہد فاروق نے اس حوالے سے ’وقت‘ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ”قطب شمالی سے لیکر قطب جنوبی تک تمام خطوں سے جو بھی شخص لاہور آیا وہ انارکلی بازار ضرور آتا ہے۔ یہ سب سے قدیم اور بزرگ بازار ہے اور میں اس کو ماں کے برابر عزت دیتا ہوں۔ لیکن اس وقت انارکلی بازار کا سب سے اہم مسئلہ پارکنگ کی عدم دستیابی ہے۔ اس وقت انارکلی بازار میں گاڑیاں پارک کرنے کے لئے کوئی بھی جگہ مختص نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹریفک کے بہاﺅ کو کم کرنے کے لئے نئی انارکلی میں گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا ہے لیکن اس سے خریدوفروخت کے لئے آنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔“ انہوں نے حکومت پنجاب سے درخواست کی کہ انارکلی بازار میں پارکنگ کے مسائل کے جانب خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اس تاریخی بازار میں آنے والوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خواجہ زاہد فاروق کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اپنے تاریخی ورثے کو اپنے ہاتھوں ضائع کیا ہے۔ چند افراد کی ملی بھگت سے اس بازار کا حسن تباہ ہو رہا ہے اور ماضی کے مقابلے میں کاروبار کی شرح میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ آج انارکلی بازار میں خوشحالی نام کی چیز نہیں ہے اور تاجرکاروبار سے بے حد مایوس ہیں۔
تقسیم ہند سے قبل انارکلی میں بیشتر دوکانیں ہندوﺅں کی تھیں۔ پرانی اور نئی انارکلی میں آج بھی ہمیں چند ایک مقامات پر قدیم مندروں کے نشانات نظر آتے ہیں جن کا بیشتر حصہ مسمار کر دیا گیا اور ان میں دوکانیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ کنہیا لال ہندی کی تصنیف تاریخ لاہور میں ہمیں انارکلی میں قدیم دور کے مندروں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں ٹھاکرہ دوارہ لال مہین لال، مندر شوالہ لالہ چھوٹے لال اور مکان مندر برہم سماج کا تذکرہ ملتا ہے۔ انارکلی بازار کے شمالی جانب ایک گلی میں دھرم شالہ مجسٹریٹ رائے بہادر سیٹھ اجوہا برساد کی قدیم عمارت ہے جو کہ 1937ءمیں تعمیر ہوئی اور ان کے بیٹوں رتن رام اور نارائن رام کی تختی مرکزی دروازے پر ایستادہ ہے۔ اسی مکان کے اندر ایک گوشے میں ایک بزرگ دین سخی سرور سرکار کی بھی قبر ہے۔
انارکلی میں لاہور کے مسلم امراءا ور رئیسوں کی جائیدادیں کسی نہ کسی صورت میں موجود تھیں۔ لاہور کے معروف رئیس شیخ محمد تقی کا ایک ہوٹل یہاں تھا۔ شفیع محمد کی سرائے جو بعدازاں دہلی مسلم ہوٹل کے نام سے مشہور ہوا۔اس دور میں ایک گریجویٹ ہندو بوٹ پالش بھی عوام کی توجہ کا مرکز تھا اور منجن بیچنے والوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ اس دور میں مولانا محمد بخش مسلم کی تقاریر بھی نماز فجر کے بعد مسلمانوں میں ولولہ پیدا کرتی تھیں۔ انارکلی کے ایک کونے پر غلام محمد کی نیوز ایجنسی تھی۔ جس کی وجہ شہرت مسلم اخبارات اور رسائل کا یہاں دستیاب ہونا تھا۔ مولانا ظفر علی خان، شورش کاشمیری، مولانا چراغ حسن حسرت، حاجی لق لق اور دیگر نامور صحافی یہاں اکثر شام کے وقت محفل برپا کرتے تھے۔ پان منڈی والی چھوٹی سڑک پر روزنامہ پرتاب کا دفتر تھا جہاں گستاخ رسول ، راجپال کو غازی علم دین شہید نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اس سے قریب ہی معروف کیلاش سوڈا واٹر فیکٹری تھی۔ بیلی رام کا میڈیکل سٹور بھی خاصا مشہور تھا۔ دہلی مسلم ہوٹل کے پاس پنجابی زبان کی معروف شاعری اور افسانہ نگار امرتا پریتم کے خاوند پریتم سنگھ کی دوکان تھی۔
قیام پاکستان سے قبل انارکلی میں پیسہ اخبار کا علاقہ انتہائی مردم خیر تھا،یہ علاقہ علامہ اقبال اور مرزا فہیم بیگ یگانہ جیسے نامور لوگ کا مسکن تھا۔ پیسہ اخبار کا اجرا مولوی محبوب عالم نے کیا تھا وہ خود بھی صاحب علم شخصیت تھے۔ انہی کی بلڈنگ سے پیسہ اخبار کا اجراءہوتا تھا۔ ان کے خاندان میں کئی دانشور پیدا ہوئے جن میں مولانا محمد محمد ابراہیم، حفظ الرحمٰن اور بیگم فاطمہ شامل ہیں۔ حاجی رحمت اللہ، محرم علی چشتی، شورش کاشمیری اور نعیم ہاشمی کا تعلق بھی انارکلی بازار سے ہی تھا۔ شعراءمیں فکر تونسوی، رام پرکاش اشک، نثار نجیب آبادی، اختر شیرانی، برس موہن، ہر چند اختر، شبلی پی کام، کیف عرفانی ، اختر رضوانی اور ساحر لدھیانوی بھی انارکلی کے علاقہ میں رہائش پذیر رہے تھے۔ احسان دانش نے بھی اسی بازار میں زندگی گزاردی۔ فنون کا دفتر بھی اسی بازار میں عرصہ دراز تک قائم رہا۔ حافظ امرتسری اور محمود شارب بھی اسی بازار میں رہے۔ ساغر صدیقی بھی انارکلی کی کسی گوشے میں بیٹھ کر لوگوں کو غزلیں لکھ کر دیا کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کی تصاویر کا سرمایہ جمع رکھنے والے فوٹوگرافر عزیز بھی اسی بازار میں تھے۔ وہ روزنامہ زمیندار، احسان اور دیگر مسلم اخبارات و جرائد کے لئے مسلم لیگ کے جلسوں اور جلوسوں کی تصاویر فراہم کرتے تھے۔
انارکلی میں نگینہ بیکری دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کا مسکن تھی۔ یہاں مولانا عبدالمجید سالک، ڈاکٹر سید عبداللہ، اختر شیرانی، باری علیگ، تاجور نجیب آبادی، مولانا چراغ حسن حسرت، مولانا صلاح الدین اور بہت سے شاعر اور ادیب محفل جماتے تھے ۔ جگر اور جوش کا بھی اکثر یہاں آنا ہوتا تھا۔ ادیبوں کی دوسری نشست انارکلی کے ممتاز ریسٹورنٹ میں ہوتی تھی۔ جن میں میرزا ادیب، عزیز اثری، خلیق احمد خلیق، یونس جاوید، شمیم احمد، شفیع عقیل اور دیگر بہت سے نوجوان اور بزرگ شاعر ادیب یہاں بیٹھتے تھے۔ فنکاروں کی محفل نظام ہوٹل میں ہوتی تھی اور سیاسی اجتماعات کا مرکز دہلی مسلم ہوٹل تھا۔
آج بھی پرانی انارکلی میں شام سے لے کر رات گئے تک دانشوروں،شاعروں، ادیبوں کی محفلیں جمتی ہیں۔ خاص طور پر پاک ٹی ہاﺅس بند ہونے کے بعد شاعروں اور ادیبوں نے انارکلی جیسے عوامی مقام پر بیٹھنے کو ترجیح دی اور دوسرے شہروں سے آنے والے شاعر ادیب بھی اسی مقام کا رخ کرتے ہیں۔ خالد محمود، قائم نقوی، ڈاکٹر ضیا الحسن، رشید مصباح، امجد طفیل، نوازکھرل ، زاہد حسن اور دیگر بہت سے شاعر ادیب پرانی انارکلی میں محفل سجاتے ہیں۔ لیکن اب پہلے زمانے جیسی بات نہیں اور شاعروں ادیبوں کی یہاں ہونے والی محفلوں میں بھی اس طرح کی سنجیدگی اور با معنی گفتگو نہیں ہوتی۔
انارکلی بازار کے قریب نیلا گنبد کی معروف عمارت ہے۔ یہ گنبد نیلے کا رنگ کا ہے اس لئے یہ علاقہ نیلا گنبد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مارکیٹ سائیکلوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ نیلا گنبد بزرگ دین سید الرزاق مکی کا مزار ہے جو حضرت موج دریا بخاری کے مرید تھے۔ اس کے بالکل سامنے انگریز دور میں تعمیر کردہ کنگ ایڈورک میڈیکل کالج کی عمارت ہے۔ یہ علاقہ نسبتاً کشادہ ہے اور انارکلی بازار میں داخلے کا اہم راستہ بھی ہے۔
انارکلی بازار لاہور کا مصروف ترین اور بارونق بازار ہے۔ قدیم دور سے موجودہ دور تک اس کی رونق اور اہمیت میں کمی نہیں آئی بلکہ ہر آنے والا دن اس بازار کی رونق بڑھا رہا ہے۔ اس بازار نے زندگی کے ہر رنگ دیکھے اور سینکڑوں برس کی تاریخ اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے انارکلی بازار کے بطور تاریخی ورثہ محفوظ بنایا جا ئے اور اس تاریخی ورثے کو ماضی کے اوراق میں گم ہونے سے بچایا جائے۔
یہ مضمون گزشتہ ہفتہ روزنامہ وقت کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا تھا