واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان > پاکستان کی سیاحت




لاہور سے وابستہ چند یادیں - آخری حصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-10, 10:42 PM   #1
لاہور سے وابستہ چند یادیں - آخری حصہ
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 19-12-10, 10:42 PM

لاہور میں کچھ ہفتے نوکری کی تلاش میں گزارنے کے بعد بھی جب کچھ بات نہ بنی تو گھٹن سی ہونے لگی۔ حالانکہ لاہور زندہ دل لوگوں کی جگہ ہے، لیکن میری افتادِ طبع کی وجہ سے میں ایسے ماحول میں آسانی سے ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کچھ دنوں بعد کراچی جانے کا ارادہ کرلیا اور جون 2004ء کے اواخر میں کراچی روانہ ہوگیا۔

اس سے پہلے بھی کراچی جا چکا تھا۔ لیکن پشاور سے کراچی بذریعہ بس سفر کیا تھا۔ پشاور سے کراچی تک کا راستہ بس کے ذریعے 22 گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ لاہور نسبتاً کراچی کے زیادہ قریب ہوگا۔ اس لئے اس حساب سے کرایہ بھی کم ہوگا۔

یہی سوچ کر میں لاری اڈہ پہنچا، جو کہ مینار پاکستان کے قریب تھا۔ شام کا وقت ہورہا تھا۔ میں اپنے جس کزن کے پاس لاہور میں ٹھہرا تھا، انہوں نے کچھ پیسے دیئے لیکن میں نے یہ سوچ کر، کہ اتنا کرایہ نہیں ہوگا، واپس کردیئے۔ اگرچہ اس نے زبردستی کچھ رقم دے دی، لیکن مجھے حیرت تھی، کہ میرے پاس کافی رقم (700 روپے) موجود ہے، پھر بھی یہ پیسے دے رہے ہیں کہ ضرورت پڑے گی۔ خیر، لاری اڈہ پہنچ کر کراچی جانے والی بس ڈھونڈنے لگا۔ ایک جگہ ایک بس کھڑی نظر آگئی جس پر کراچی کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا، کراچی کا ٹکٹ کتنے روپے کا ہے؟ اس نے کہا، 660 روپے کا ہے۔

یہ سن کر میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں نے کہا، بھائی، اتنا زیادہ؟ بولا، 660 سے کم میں نہیں ملے گا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں کسی اور بس میں چلا جاتا ہوں۔ یہ سن کر اس بندے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ مجھے تھوڑی حیرت ہوئی، لیکن اس کو نظرانداز کرکے وہاں سے نکل پڑا۔ پورا لاری اڈہ چھان مارا لیکن کہیں سے بھی کراچی کی دوسری بس نہ مل سکی۔ تھکا ہارا واپس اسی جگہ پہنچا تو دیکھا، اب اسی جگہ پر صادق آباد جانے والی بس کھڑی ہے۔

اب کی بار اس سے پوچھا، بھائی یہاں پر کراچی جانے والی بس تھی۔ کہنے لگا، وہ تو چلی گئی، لیکن اگر تمہیں کراچی جانا ہے تو یہ بس صادق آباد کے بعد کراچی جائے گی۔ ٹکٹ وہی 660 روپے ہوگا۔ میں مجبوراً راضی ہوگیا۔ اور پیسے دے کر ٹکٹ لی اور بس میں بیٹھ گیا۔ رات کے تقریباً بارہ بجے لاہور سے نکلے۔ راستے میں بہت سارے علاقے اور شہر آئے، جو کہ اب یاد نہیں۔ البتہ صبح کی نماز کے وقت بہاولپور پہنچے۔

جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں میرے پاس 700 روپے تھے جو کہ کرایہ ادا کرنے کے بعد 40 روپے رہ گئے تھے، اس لئے ناشتہ ہلکا پھلکا سا کیا۔ تھوڑی دیر بعد بس وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بہاولپور سے آگے سڑک خراب تھی، لیکن ڈرائیور جیسے Desert Safari کے موڈ میں تھا۔ بس کو ایسے بھگا رہا تھا کہ کئی مقامات پر حادثات سے بال بال بچے۔

صبح 10 بجے کے قریب رحیم یار خان پہنچے، پھر وہاں سے صادق آباد روانہ ہوگئے۔ صادق آباد پہنچ کر بس ساری کی ساری خالی ہوگئی۔ میں اور دیگر 3 مسافر رہ گئے جو کراچی جانے والے تھے۔ بس کنڈکٹر نے ہم سے کہا، ہم آپ کو دوسری بس میں بٹھا دیتے ہیں۔ باقی مسافر نہ مانے اور انہوں نے بس والوں سے پیسے لے لئے۔ میں نے سوچا، دوسری بس مل رہی ہے تو پیسے لے کر کیا کرنا۔ تھوڑا آگے جاکر بس رکی، کنڈکٹر نے مجھے اور باقی مسافروں کو اترنے کو کہا، میں یہ سمجھ رہا تھا، کہ بس کنڈکٹر ہمارے ساتھ جائے گا۔ کیونکہ وہ بس سے نیچے اترگیا تھا، اور بس ڈرائیور سے پنجابی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ لیکن اچانک بس روانہ ہوگئی اور کنڈکٹر بھی بھاگم بھاگ بس میں سوار ہوکر وہاں سے چلا گیا۔

میں پریشان ہوگیا۔ 40 روپے سے تو ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر کیا کریں؟ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پھر سامنے بس اڈہ میں ایک دوسری بس سروس والوں کے آفس میں جا کر کراچی کا ٹکٹ دکھایا، اور ان سے پوچھا کہ یہ ٹکٹ جس بس سروس کا ہے، ان کا آفس کدھر ہے؟ انہوں نے پوچھا، کیا کام ہے؟ میں نے پوری بات بتادی۔ کہنے لگا، یہ ٹکٹ ہمیں دے دو، اس کے بدلے ہم تمہیں کراچی کا ٹکٹ دے کر اپنی بس میں بھیج دیں گے۔ میں نے کہا، میرے پاس پیسے نہیں۔ کہنے لگے، پیسے نہیں چاہیئے، یہ ٹکٹ دے دو، اس کے ذریعے ہم ان بس والوں سے پیسے لے لیں گے۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ فوراً ان کو ٹکٹ دے کر دوسری ٹکٹ لے لی۔ پوچھا، بس کتنے بجے روانہ ہوگی، کہنے لگے، یہی کوئی 2 گھنٹہ بعد۔ 2 گھنٹے کی بجائے بس 10 گھنٹے بعد روانہ ہوگئی۔ اس دوران جو 40 روپے جیب میں تھے، وہ بھی گرمی کی وجہ سے کبھی پانی کبھی جوس پی کر ختم شد۔

بس شام 7 بجے کے قریب صادق آباد سے روانہ ہوگئی۔ صبح کے تقریباً 6 بجے کراچی پہنچے۔ سہراب گوٹھ کے قریب بس سے اترا۔ اب آگے جانے کے لئے جیب میں صرف 5 روپے تھے۔ میں بس سے اتر کر سوچ رہا تھا کہ کیا کروں؟ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آیا اور پوچھا، کہاں جانا ہے؟ میں نے ایڈریس بتایا۔ کہنے لگا، چلو۔ میں نے کہا میرے پاس ابھی پیسے نہیں۔ گھر پہنچ کر دیتا ہوں۔ کہنے لگا، کوئی بات نہیں، تم نہ بھی دو تو میں نہیں مانگتا۔

میں نے صرف ملیر کا نام سنا تھا۔ میرے پاس اپنے رشتہ داروں کا فون نمبر تھا۔ اس ٹیکسی والے نے فون کرکے جگہ کا پتا کیا اور مجھے وہاں‌ تک لے کر گیا۔ بعد میں بڑی مشکل سے اس کو پیسے لینے پر راضی کیا۔

میں سوچ رہا تھا، اگر کراچی میں لسانی اور سیاسی مفادات کی جنگ لڑنے والے ہم لوگوں پر رحم کریں تو کراچی پاکستانیوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 904
Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (20-12-10), shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), کنعان (20-12-10), پاکستانی (20-12-10), یاسر عمران مرزا (20-12-10), محمدعدنان (20-12-10), مزمل فاروق (20-12-10), ابو عمار (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), بزم خیال (20-12-10), حیدر (19-12-10), راجہ اکرام (20-12-10), شمشاد احمد (19-12-10), طاھر (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10), غیاث (19-12-10)
پرانا 19-12-10, 11:29 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میں پریشان ہوگیا۔ 40 روپے سے تو ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر کھڑے ہوکر کیا کریں؟ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
ارے یار پریشان کاہے کو ہو گئے تھے۔ تمہارا بھائی تم سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), کنعان (20-12-10), ھارون اعظم (20-12-10), یاسر عمران مرزا (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), بزم خیال (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 11:58 PM   #3
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,363
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یعنی بالآخر آپ کی لاہور سے خلاصی ہوگئی
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), کنعان (20-12-10), ھارون اعظم (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), بزم خیال (20-12-10), حیدر (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 12:23 AM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم،

بھائی ہارون اعظم ! کیا یاد دلا دیا

لڑکپن کے دور میں لاہور کے ایک ٹرپ میں ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ ان دنوں آتش جوان اورجیب خالی ہوا کرتی تھی۔ چند سو روپئے اورکالج سے اسٹوڈنٹ ڈسکاؤنٹ فارم لیکر ہم آٹھ دوست ٹرین کی سیر کرتے ہوئے لاہور وارد ہوگئے۔ ہم میں سے ایک دوست نے بعد میں ہمیں جوائن کیا، اس کی پولیس میں ٹریننگ چل رہی تھی۔ ٹرپ بہت ہی عمدہ انداز میں جاری تھا اوراس دوران ہم پنڈی، مری اور اسلام آباد کا بھی چکر لگا آئے۔ ہمارے پولیس والے دوست کی اچانک کال آگئی کہ واپس کراچی پہنچو - ریلوے ٹکٹ ایک ہی دن میں دستیاب نہی تھا تو سوچا کہ یارکیوں نہ بس میں ہی سفر کر لیا جائے۔ بس کا ٹکٹ اور ہماری جیب میں موجود رقم تقریبا برابر ہی تھی - مرتے کیا نہ کرتے ٹکٹ لے لیا، ہمارے دوست کی خالہ لاہور میں رہتی تھیں، انہوں نے اپنے بھانجے کو دو بسکٹ کے پیکٹ بطور "زادِراہ" عطا کردئیے۔ بس وہ دوپیکٹ ہم آٹھوں‌نے کس طرح چلائے - یہ ایک الگ داستان ہے

بہرحال، دوستوں کے ساتھ بے فکری کے دور کے اس ٹرپ کو ہم آج بھی یادگار مانتے ہیں۔

اپنی یادیں شئیر کنے کا بہت شکریہ

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), کنعان (20-12-10), پاکستانی (20-12-10), ھارون اعظم (20-12-10), محمدعدنان (20-12-10), مزمل فاروق (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), بزم خیال (20-12-10), عبدالقدوس (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 09:29 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سفر،وسیلہء ظفر۔ بھیا پھر کہاں تک کامیابی ھوئی۔ آپ کا سچائی کا انداز اچھا لگا۔ بہت کم اچھے سفر ناموں میں سے ایک ھے۔ یہ محنت کی زندہ مثال بھی ھے اور اسکی طرف رجحان بھی دلاتا ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), ھارون اعظم (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), بزم خیال (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 10:06 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام و علیکم
بڑی ہمت دکھائی آپ نے بس سے کراچی تک کا سفرمیرےمطابق تو بڑا معرکہ ہے ۔ ہم دوستوں نے خیبر میل سے کراچی تک کا سفر کیا تھا ۔ اچھا زمانہ تھا بسوں میں شہر بھر کا نظارہ کرتے ۔ صدر سے کلفٹن ٹیکسی دو روپے فی سواری میں لے جاتی رہی ۔
یادیں تازہ کرنے کا شکریہ
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), ھارون اعظم (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 10:31 AM   #7
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لاہور سے اسی راستے پر میں نے سکھر تک کا سٍفر کیا تھا۔ چونکہ ہماری یونیورسٹی خیر پور میں واقع تھے اس لیے ہم طلباء تین مرتبہ امتحان دینے کی غرض سے وہاں گئے۔سفر رات کا ہی تھا اور بڑا سنسنی خیز تھا۔ رات کوئی 1 بجے کے قریب ہم ایک بڑے خوبصورت ٹرک ہوٹل میں رکے، جہاں بہت اچھی بریانی مل رہی تھی اور بیٹھنے کا بڑا خوبصورت انتظام تھا۔ ویسے جس انداز کا پنجاب سندھ کا بارڈر تھا وہ ہمیں متوقع نہیں تھا۔ کچھ خطرناک قسم کا علاقہ لگ رہا تھا۔

خیر ، آپکی نسبت میں نے لاہور میں کافی لمبا قیام کیا۔ اگرچہ جن دنوں میں‌لاہور میں تھا، اتنا خوش نہیں تھا۔ لیکن بعد کی زندگی سے اندازہ ہوا، لاہور میں گزرا ہوا دور ایک سنہرا دور تھا۔

اپنی یادیں شئر کرنے کا بہت شکریہ۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (20-12-10), احمد بلال (21-12-10), عبدالقدوس (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 10:48 AM   #8
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,196
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی اپنی یادیں شئر کرنے کا بہت شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:38 PM   #9
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،

بھائی ہارون اعظم ! کیا یاد دلا دیا

لڑکپن کے دور میں لاہور کے ایک ٹرپ میں ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ ان دنوں آتش جوان اورجیب خالی ہوا کرتی تھی۔ چند سو روپئے اورکالج سے اسٹوڈنٹ ڈسکاؤنٹ فارم لیکر ہم آٹھ دوست ٹرین کی سیر کرتے ہوئے لاہور وارد ہوگئے۔ ہم میں سے ایک دوست نے بعد میں ہمیں جوائن کیا، اس کی پولیس میں ٹریننگ چل رہی تھی۔ ٹرپ بہت ہی عمدہ انداز میں جاری تھا اوراس دوران ہم پنڈی، مری اور اسلام آباد کا بھی چکر لگا آئے۔ ہمارے پولیس والے دوست کی اچانک کال آگئی کہ واپس کراچی پہنچو - ریلوے ٹکٹ ایک ہی دن میں دستیاب نہی تھا تو سوچا کہ یارکیوں نہ بس میں ہی سفر کر لیا جائے۔ بس کا ٹکٹ اور ہماری جیب میں موجود رقم تقریبا برابر ہی تھی - مرتے کیا نہ کرتے ٹکٹ لے لیا، ہمارے دوست کی خالہ لاہور میں رہتی تھیں، انہوں نے اپنے بھانجے کو دو بسکٹ کے پیکٹ بطور "زادِراہ" عطا کردئیے۔ بس وہ دوپیکٹ ہم آٹھوں‌نے کس طرح چلائے - یہ ایک الگ داستان ہے

بہرحال، دوستوں کے ساتھ بے فکری کے دور کے اس ٹرپ کو ہم آج بھی یادگار مانتے ہیں۔

اپنی یادیں شئیر کنے کا بہت شکریہ

والسلام

طاہر
طاہر بھائی، میرے پاس بھی بطور زادہ راہ کچھ آم تھے۔ وہ میں نے کس طرح کراچی پہنچنے تک چلائے، وہ ایک الگ کہانی ہے۔ طوالت کے خوف کی وجہ سے وہ واقعہ بیان نہیں کیا۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (21-12-10), طاھر (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:40 PM   #10
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
ارے یار پریشان کاہے کو ہو گئے تھے۔ تمہارا بھائی تم سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا
بدر بھائی، اس وقت معلوم ہوتا تو کیا بات تھی۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:40 PM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
سفر،وسیلہء ظفر۔ بھیا پھر کہاں تک کامیابی ھوئی۔ آپ کا سچائی کا انداز اچھا لگا۔ بہت کم اچھے سفر ناموں میں سے ایک ھے۔ یہ محنت کی زندہ مثال بھی ھے اور اسکی طرف رجحان بھی دلاتا ھے۔
تحریر پسند کرنے کے لئے شکریہ بہن۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:41 PM   #12
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
السلام و علیکم
بڑی ہمت دکھائی آپ نے بس سے کراچی تک کا سفرمیرےمطابق تو بڑا معرکہ ہے ۔ ہم دوستوں نے خیبر میل سے کراچی تک کا سفر کیا تھا ۔ اچھا زمانہ تھا بسوں میں شہر بھر کا نظارہ کرتے ۔ صدر سے کلفٹن ٹیکسی دو روپے فی سواری میں لے جاتی رہی ۔
یادیں تازہ کرنے کا شکریہ
میں‌ نے آج تک ٹرین سے سفر نہیں کیا۔ اس لئے بس کا سفر اچھا لگتا ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-12-10, 07:42 PM   #13
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

اپنی یادیں شیئر کرنے کا شکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-12-10, 07:49 PM   #14
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,611
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
لاہور سے اسی راستے پر میں نے سکھر تک کا سٍفر کیا تھا۔ چونکہ ہماری یونیورسٹی خیر پور میں واقع تھے اس لیے ہم طلباء تین مرتبہ امتحان دینے کی غرض سے وہاں گئے۔سفر رات کا ہی تھا اور بڑا سنسنی خیز تھا۔ رات کوئی 1 بجے کے قریب ہم ایک بڑے خوبصورت ٹرک ہوٹل میں رکے، جہاں بہت اچھی بریانی مل رہی تھی اور بیٹھنے کا بڑا خوبصورت انتظام تھا۔ ویسے جس انداز کا پنجاب سندھ کا بارڈر تھا وہ ہمیں متوقع نہیں تھا۔ کچھ خطرناک قسم کا علاقہ لگ رہا تھا۔

خیر ، آپکی نسبت میں نے لاہور میں کافی لمبا قیام کیا۔ اگرچہ جن دنوں میں‌لاہور میں تھا، اتنا خوش نہیں تھا۔ لیکن بعد کی زندگی سے اندازہ ہوا، لاہور میں گزرا ہوا دور ایک سنہرا دور تھا۔

اپنی یادیں شئر کرنے کا بہت شکریہ۔
یاسر بھائی، آپ اپنی یادیں بھی ہم سے شئیر کریں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-12-10, 08:14 PM   #15
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ان شا ء اللہ ہارون بھائی۔
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, گھر, پہلے, پاکستان, پشاور, وقت, نوکری, نماز, نام, نظر, تلاش, جانے, حصہ, خان, دیں, دل, رات, راستہ, سفر, شہر, شام, علاقے, صادق, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
کیا رنگ بھلا دستِ ستم گر میں نہیں تھا خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 02:50 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger