![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 655
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-04-10), منتظمین (05-04-10), محمدخلیل (05-04-10), راجہ اکرام (05-04-10), عبداللہ آدم (05-04-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جلدی لائیں بھائی ۔۔
آپ نے تو " تہلکہ " مچا دیا ۔۔۔
|
|
|
|
| ARHAM کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (05-04-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے میں تو "ارھم جماعتی" سے تنقید کی توقع کر رہا تھا ۔ ادھر تو کوئی تنقید نہیں ہے لگتا ہے جماعتیے بدل گئے ہیں (Just Kidding)
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-04-10), راجہ اکرام (05-04-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے بھائی
اسقدر سسپنس لگتا ہے کچھ بڑا ہی تہلکہ ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھییییییییییییییییییااااا ااااااااااااااااااااااااا
یہ کیا سسپنس پھیلا رہے ہیں کوئی نیا پروجیکٹ تو نہیں مل گیا ![]() جلدی سے آ جائیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ابتدائیہ:
کبھی "ڈاکٹر چکنا" تو کبھی "دیوانہ" ، کبھی "ڈاکٹر اور بلا" تو کبھی"Maximus"اور "ماڈرن ابن بطوطہ" ۔ 2006 میں جب ماڈرن ابن بطوطہ کا ظہور ہوا تھا اور اُس نے اپنا پہلا سفر نامہ وادئ سُون ایک فورم پر پیش کیا تو اس کو خوب پذیرائی ملی ۔ بعد ازاں فورم پر چلنے والی چپقلشوں ، محلاتی سازشوں نے "ڈاکٹر چکنا" اور "ڈاکٹر اور بلا" کے ساتھ ساتھ "ماڈرن ابن بطوطہ" کے کیرئر کا بھی اختتام کر دیا ۔ اس طرح "حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے" کے مصداق ماڈرن ابن بطوطہ کے سفر نامے طاق نسیاں ہو گئے۔ ماڈرن ابن بطوطہ نے اپنا شوق آوارگی تو نہ چھوڑا ، کبھی صحراوں میں بھٹکا تو کبھی دریاؤں کی خاک چھانی، کبھی بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے ٹکرایا تو کبھی شمالی علاقہ جات کی دلفریبیوں میں مسحور ہوا ، لیکن اپنے سفر کے حالات و واقعات کو تحریری شکل میں لانے کا حوصلہ کبھی نہ بنا۔ پھر ماڈرن ابن بطوطہ گردش حالات کی لپیٹ میں آ کر ایسا چکرایا کہ اُسکی حس لطافت کہیں کھو سی گئی۔ مذاق کرنے کو تو گویا دل نہ کرے۔دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنس کھیل لیا تو بعد میں ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی جُرم کر بیٹھا ہو۔ ایسے میں ماڈرن ابن بطوطہ کو خیال آیا کہ ملک کے مشہور علاقوں کی معلومات تو ہر کوئی دیتا ہے کیوں نہ وہ ان علاقوں کی معلومات پاک نیٹ پر دیا کرئے جنکو کوئی جانتا بھی نہیں ، جنکا نام بھی کبھی کسی نے نہ سُنا ہو۔ چناچہ "ماڈرن ابن بطوطہ کا سفر نامہ روہی " اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عنقریب انشا اللہ قارئین و ناظرین پاک نیٹ کو ان گم گشتہ علاقوں سے آگاہ کروایا جائے گا جنکو ہم بھُلاتے جا رہے ہیں۔ سفر نامہ روہی بذات خود کوئی سفر نامہ نہیں بلکہ شغل میلہ ہے ۔ یہ تین آوارہ منش دوستوں کی صحرا نوردی کی داستان ہے جو اپنے زائد وقت کو سو کر گزارنے کے بجائے اکھٹے رہنے اور گھومنے پھرنے پر ترجیح دیتے ہیں۔اس میں ان کے واقعات بتانے سے زیادہ علاقے کے بارے میں بتایا جائے گا۔ چند گھنٹوں پر محیط یہ سفر اپنے اندر مستقبل قریب کے کئی سفر سموئے ہوئے ہے ، چناچہ متوقع طور پر مستقبل میں آپ اسی سلسلے کو کئی کڑیوں پر محیط پائیں گے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-04-10), راجہ اکرام (05-04-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی عرف ماڈرن ابن بطوطہ
اب جلدی سے شروع کر دیں اور وادی سون والا سفرنامہ بھی اگر میسر ہو تو یہاں پوسٹ کر دیں |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"یار دیکھو 23 مارچ آ رہی ہے، منگل کا دن بنتا ہے ، سوموار کی چھٹی مارتے ہیں، ۔اس طرح اتوار ، سوموار، منگل کا دن ملا کر یا تو شمالی علاقہ جات چلتے ہیں اور نہیں تو فورٹ منرو ہی چلے چلتے ہیں۔" ماڈرن ابن بطوطہ کی پیاسی روح بلک رہی تھی
"نائیں یار اس بار نہیں ۔گرمیوں میں چلیں گے" دوست نے بے رُخی سے جواب دیا "ابے یار پھر چھٹیاں نہیں آنی، اور یہ این سی ایچ ڈی والے کیا میرے مامے کے پُتر ہیں کہ مجھے پھر چھٹیاں دے دیں گے ۔ " ماڈرن ابن بطوطہ غصے سے چلایا "نائیں جانا میں نے بول دیا تو بس بول دیا" دوست ٹس سے مس نہ ہوا ماڈرن ابن بطوطہ نے غصے سے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور دوست کی پکاریں سنے بغیر سیدھا روجھان مزاری آ کر دم لیا۔ اور ادھر کے دوستوں کے سامنے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے بیٹھ گیا۔ ماڈرن ابن بطوطہ کی حالت غیر دیکھتے ہوئے ان دوستوں کو ترس آ گیا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہفتہ کی شام کو ادھر سے نکل چلتے ہیں اور اتوار کی صبح پنڈی ہوں گے۔ یہ سُنتے ہی ماڈرن ابن بطوطہ کے تن من میں جان پڑ گئی گویا نئی روح پھنکی گئی ہو۔ وہ بے یقینی سے اپنے دوستوں سے پوچھنے لگا کہ واقعی تم لوگ میرے ساتھ شمالی علاقہ جات چلو گے۔ان دونوں دوستوں نے مُسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کیا ہم مذاق تھوڑا ہی کر رہے ہیں۔ تمہاری خوشی ہماری خوشی۔ ماڈرن ابن بطوطہ انکے پُر خلوص جذبات سے بے انتہا متاثر ہوا۔اور دوستی کا مطلب اُس پر پہلی مرتبہ واضح ہوا۔ ہفتے کی دوپہر 2 بجے روجھان مزاری سے سفر کا آغاز ہوا۔ کچے کے علاقے سے ہوتے ہوئے، دریا پر بنا ہوا سٹیل پُل کراس کیا اور ایک گھنٹے میں ہم لوگ رحیم یار خان پہنچ گئے۔وہاں ماڈرن ابن بطوطہ دوستوں کو گھر لے گیا اور انکی تواضع کا بندو بست کیا۔ شام 5 بجے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ براستہ بہاولپور -جھنگ-فیصل آباد سے ہوتے ہوئے اسلام آباد جائیں گے۔ سفر بہت اچھا گزر رہا تھا، خوش گپیاں چل رہی تھیں ، گاڑی میں قہقہے لگ رہے تھے۔ ماڈرن ابن بطوطہ بہت خوش تھا اور ذہن کی سوچوں میں شمالی علاقہ جات کے خوبصورت مناظر گھوم رہے تھے۔ ماڈرن ابن بطوطہ نے یہ بھی پلاننگ کی کہ کس طرح راجہ اکرام کی جیب خالی کروانی ہے۔الغرض ماڈرن ابن بطوطہ پر عجب سر خوشی کا عالم تھا۔کہ خانپور سے گزرتے ہوئے اچانک ایک دوست زور سے چلایا ارے ارے ارے رُکو رُکو۔ ماڈرن ابن بطوطہ نے گھبرا کر بریک لگائی کہ جانے کیا ہوا دوست نے ایک طرف گاڑی رکوائی اور کہنے لگا کہ یار میرے چاچا کی تائی کی نانی کا پھوپھا جو تھا اسکی سالی کی بیٹی کے نواسے کی بیٹی کے بیٹا پیداہوا ہے اور وہ ادھر کدھر ہی رہتے ہیں تو میں تو چلا ۔ اس پر دوسرا دوست چُنک کر بولا ابے یار وہ تو میرے بھی دادا زاد بھائی کی بہن ہے مجھے بھی جانا ہوا۔ یہ کہہ کر دونوں ہاتھ ہلا کر چلتے بنے اور ماڈرن ابن بطوطہ اس پینڈو کی شکل کا شاہکار بن گیا جس نے زندگی میں پہلی بار شہر کی لائٹیں دیکھی ہوں اور حیرت سے منہ کھُلا کا کھُلا رہ گیا۔ افسوس اس وقت کوئی آس پاس نہ تھا ورنہ اُس حیرت سے کھلے منہ کی تصویر سے آپکو فیضیاب کروایا جاتا۔ الغرض ماڈرن ابن بطوطہ "جتھے دا کھوتا اٹھے آن کھلوتا" کے مصداق واپس رحیم یار خان آ گیا جاری ہے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
22 مارچ 2010 : ابن بطوطہ بجلی کی تلاش میں سرگرداں و خیزاں اپنے دوست ہارون کے گھر پہنچا۔پہلے تو اس نے سفر نامہ اسلام آباد کا خوب مذاق اڑایا اور پھر پوچھا کہ کیا ارادہ ہے روہی (چولستان صحرا) چلیں؟ اندھا کیا مانگے دو آنکھیں اور ابن بطوطہ کیا مانگے گھومنا پھرنا فوراً پروگرام تیار کہ 23 مارچ کی صبح 4 بجے صحرا کے لیے نکل چلیں گے۔
23 مارچ 2010:ماڈرن ابن بطوطہ اپنے گھوڑے گدھے بیچ کر انکا پیسا اپنے کھیسے میں ڈال کر خواب میں انکا حساب کتاب کر رہا تھا کہ اچانک ایسا لگا کہ گویا کسی نے اس کے سر پر ہتھوڑے مارنا شروع کر دئیے ہوں۔ ماڈرن ابن بطوطہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھا ۔ بد حواسی میں اندازہ ہی نہ ہو رہا تھا کہ معاملہ کیا۔ حواس واپس آنے پر معلوم ہوا کہ سر کے قریب رکھا موبائل فون چلا چلا کر ابن بطوطہ کو کوسنے دے رہا ہے۔ ابن بطوطہ نے پہلے توحواس کو ڈانٹا کہ کہاں غائب ہو گئے تھے پھر کال اٹینڈ کی تو معلوم ہوا کہ ہارون کی کال ہے "یار میں نے تم جیسا سست الوجود اور کاہل شخص کبھی نہیں دیکھا ۔چلنا نہیں ہے کیا۔30 منٹ میں آصف کو لے کر پہنچو"یہ نادر شاہی پیغام سنا کر کال بند ابن بطوطہ نے وقت دیکھا تو 3:30 ہوئے تھے صبح کے۔ آصف کو فون کیا کہ اٹھ جاؤ میں 10 منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔ اور پھر موبائل کو سائلنٹ پر لگا کر سو گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کہ ابن بطوطہ کو محسوس ہوا جیسے اس بار سر پر کوئی ہتھوڑے نہیں بلکہ توپ کے گولے داغ رہا ہو۔ نندیا بھری آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے اماں جان کھڑی غیض و غضب سے گھور رہیں تھیں کہ باہر تمہارا نامراد دوست آیا ہوا ۔تم لوگوں کو نہ دن کو چین ہے نہ رات کو۔جلدی دفع ہو جاؤ باہر۔ خیر سے ابن بطوطہ تیار ہو کر باہر نکلا تو صبح کے 5 بجنے والے تھے۔ آصف نے گالیوں کی مشین گن کا برسٹ مارا جس سے ابن بطوطہ کمال چابک دستی سے بچ گیا۔خیر فراٹے بھرتی گاڑی پر وہ چند منٹوں میں ہارون کے گھر پہنچ گئے جہاں حسب توقع نئے ایمونیشن اور نئے ہتھیاروں سے لیس ہارون نے گالیوں اور لعنتوں سے توازع کی۔۔ خیر رحیم یار خان کی اندھیرے میں ڈوبی گلیوں سے ہوتے ہوئے اور ناشتہ کرتے ہوئے شہر سے باہر صحرا کی طرف عازم سفر ہوئے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے بدر بھائی !!مجھے بھی گھومنے پھرنے اور سیر سپاٹے کا بہت شوق ہے پر کیا کریں دوست ہی ایسے ملے ہیں جو ہائی وے سے اگے جانے کو تیار نہیں ہوتے -
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مزمل فاروق کا شکریہ ادا کیا | حیدر (07-04-10), راجہ اکرام (06-04-10) |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() روہی کا تعارف: روہی صحرائے چولستان کا مقامی نام ہے ۔اسکا رقبہ کوئی 16000 مربع کلومیٹر ہے۔ بہاولپور سے شروع ہوتا ہوا یہ سندھ کے صحرائے تھر سے جا ملتا ہے جو بھارت تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ چولستان در حقیقت ایک ترکی لفظ "چول" سے اخز کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے "صحرا" چناچہ چولستان کا مطلب ہوا صحرائی علاقہ یا صحرا میں رہنے کی جگہ: کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ علاقہ انتہائی سر سبز و شاداب تھا اور اسکو دریائے ہاکڑہ سیراب کیا کرتا تھا ۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دریائے ہاکڑہ خشک ہوتا چلا گیا جس کی وجہ سے یہ سر سبز و شاداب علاقہ صحرا میں تبدیل ہو گیا ۔ دریائے ہاکڑہ کی گزر گاہ کے نشانات اب بھی پائے جاتے ہیں۔اس کے کنارے دریائے سندھ کی قدیم تہذیب(Indus Vally Civilization)کے کافی آثار پائے جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس علاقے میں 400 سے زائد نا دریافت شدہ آرکیالوجیکل سائٹس پائی جاتی ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہیں ۔اس علاقے میں 40 سے زائد قلعے ہیں جو ایک خاص ترتیب سے رحیم یار خان سے لے کر بہاولپور تک ایک حصار کا کام دیتے رہے ہیں۔ ان میں سےکئی قلعہ جات منہدم ہو چُکے ہیں اور اکثر کی حالت زبوں حالی کا شکار ہے۔ ان قلعہ جات میں سب سے مشہور قلعہ دراوڑ ہے جو احمد پور کے پاس واقع ہے جبکہ دیگر معلوم قلعہ جات میں قلعہ خیر گڑھ ، قلعہ اسلام گڑھ ،قلعہ مؤ مبارک وغیرہ ہیں۔ اس علاقے میں اکثر لوگ شکار کرتے پائے جاتے ہیں ۔مشہور شکار میں مرغابی، کونج، ہرن، بلیک بک وغیرہ ہیں اس علاقے کے مشہور تہواروں میں روہی میلا، روہی دیزرٹ سفاری ہیں ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-04-10), راجہ اکرام (06-04-10) |
![]() |
| Tags |
| quot, ہوتا, کال, کس, گے, پاک, واقعات, نیٹ, چل, نامہ, آئی, اپنے, انڈین, ابن, تاریخ, تصاویر, جلد, روشن, رنگین, رات, سفر, سال, ساتھی, صفحات, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سبزیوں سے بنے جانور "کچھ عجیب تصاویر" | shafresha | گپ شپ | 11 | 12-05-12 03:42 PM |
| میرا شہر "ڈنگہ" تصاویر میں | یاسر عمران مرزا | پاکستان کی سیاحت | 53 | 07-12-11 06:09 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| فلم"تیرے بن لادن" کی اسٹوری کا مختصرجائزہ | فرحان دانش | فلمی دنیا | 11 | 03-08-10 12:35 PM |
| ماں، مامتا اور عورت "کچھ تصاویر" | shafresha | گپ شپ | 6 | 26-04-09 11:04 AM |