نوادرات، آثارِ قدیمہ اور جھیلوں کی نگری
سیّد ظفر عباس نقوی
تہذیبی سفر اور ارتقا کا سنگم، وادی پنجکوڑہ کے نام سے معروف علاقہ میں دل موہنے آثار قدیمہ کی فراوانی، زندہ و تابندہ گندھارا آرٹ کے نمونے ، نادر معدنیات، عالی شان سنگ مر مر ، نایاب لکڑی کی بنی تاریخی عمارات ، پشتون روایت کے نمائندہ قلعے ، مختلف قدیمی اقوام (کول ، دراوڑ، اریا، سھتین ، کتان ، گبری،پشتون )، مذاہب، (وید، ہندو، زرتشت، بدھ، اسلام) فطرتی مظاہر پرستی، قبیلوں اور نسلوں کی رعنا،زرخیز ، معتدل، قدیم آباد و معمور دھرتی وادی دیر دیو قامت کو ہساروں اور پھول، جڑی بوٹیوں سے اٹے مرغزاروں سے بھری پڑی ہے۔
ماضی میں کئی فاتحین کو مائل کرتی رہنے والی اس وادی میں ،علم ، تجارتی و سائل ، عبادت خانوں ،نوادرات ، مذہبی کتب، سنگ تراشی وغیرہ کے ہنر سیکھنے کی تلاش میں لا تعداد زبانوں اور تہذیبوں کے لوگ یہاں آکر اپنی اصل ثقافت کو یہاں کے اندازِ زندگی کے رنگوں میں ملا کر ہزار ہا عکس اور جہتیں بکھیرتے رہے۔قدرتی حالت میں موجود آبشاروں چشموں اور جھیلوں کی سرزمین میں حجروں ، لکڑی کی کنندہ شدہ مساجد ، انوکھے بودو باش اور کھانوں کا مطالعہ بآسانی دیر میں کیا جاسکتا ہے۔صاف اور میٹھے پانی والے چشموں کی بہتات اور گھنے جنگلات ، چرند پرند ادویاتی جڑی بوٹیوں کی فراوانی ،اپنے دلربا پرفضا مقامات ، معتدل اور ٹھنڈے موسم کے لیے ملک بھر میںشہرت رکھنے والی وادی مالاکنڈ بھی سیاحت کے قابل جگہ ہے۔ماہرین نباتات، معدنیات، ارضیات، لسانیات اور آثار قدیمہ کے لیے ایک بہت بڑا اچنبھا ، تاریخی عظمت اور قدامت پسندی سے بھر پور طرزِ تعمیر لیے، حسین نظاروں ،خوشبو بھری طراوت سے لبریز، یہ وادی انوکھی دنیا اور بودوباش سے سیاحوں کو روشناس کراتی ہے۔
راولپنڈی جنرل بس اسٹینڈ سے ہم وادی دیر کے داخلی دروازہ ”چکدرہ“ مانسہرا ابیٹ آباد اور گلگت کی طرف سے براستہ بشام ،مینگورہ (فاصلہ 78کلو میٹر )پہنچ کر یہاں سے تیمرگرہ ،چترال (فاصلہ 346 کلومیٹر )سے براستہ لواری ٹاپ تیمرگرہ ، پشاور (مہمند ایجنسی یا باجوڑ ایجنسی کل سفر172کلو میٹر)سے براستہ ناواگئی اور خار، تیمرگرہ، مردان سے (فاصلہ 172 کلو میٹر )مینگورہ اور براستہ پیر بابا، بونیر،صوابی سے خدو خیل ،پیر بابا ،مینگورہ اور پھر تیمرہ گرہ پہنچا جا سکتا ہے۔تیمر گروہ سے ایک سڑک ”میدان “، مغرب میں ثمر باغ ،شاہی بن سے گزر کر افغانستان میںبھی جا پہنچتی ہے۔
پائندہ خیل قبیلہ کی عملداری و باجگزاری میںرہنے والے قدیم کافر اورکوہستانی لوگوں کی چند بستیوں کا دورہ 1838ءمیں ”لیچ“ اور 1863ءمیں ”جان بڈلف “نے کیا اور اس علاقے کو”دیری“ زبان کا علاقہ قرار دیا۔ اسی اثنا میں نواب دیر نے اپنا صد رمقام دیر خاص منتقل کر دیا ۔
دیر کے قدیمی ناموں میں دیر واتی، گوری، گورائے، کبریش، باشقار اور دردقابل ذکرہیں۔5282مربع کلومیٹر رقبہ پر مشتمل دیر ڈویثرن چار اضلاع دیر بالا (رقبہ3699مربع کلومیٹر، آبادی 60,000 نفوس)، دیر پائن (1583کلو میٹر، آبادی 72000 نفوس)، دیرخاص اور واڑی رکھتی ہے ۔دیر پائن کی دو تحصیلیں ثمر باغ اورتیمرگرہ مشہورمقامات ہیں۔ دیر کے شمال اور شمال مشرق میں چترال ،مشرق میں سوات، مغرب میںباجوڑاور افغانستان اورجنوب میں مالاکنڈ ایجنسی کے اضلا ع واقع ہیں۔اسی لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کی جغرافیائی اہمیت دو چندہو گئی ہے ۔
دیر کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کئی توجہات ، اِس امرمیں دلچسپی کا مقام رکھتی ہیں۔ اکثریت کی رائے میں ”اخون الیاس بابا“ نے اپنے مرشد کے کہنے پر جگہ جگہ آگ جلانے کے بعد جہاں یہ آگ بجھائی (دیر شہ) ،وہیں ڈیرہ ڈال دیایا چند مقامی لوگ اسے ”مغل کامیخانہ “ (دیروحرم)،عظیم بت خانہ ،پہاڑوں کے عین درمیان ”تنگ درہ“ (دیر)کے نام سے متعارف کراتے ہیں۔دیر، بونیرا ور مینگور ہ نام بالترتیب 1857,1815,1880 سے قبل وجودمیں آئے۔دیر کے ماضی کے ناموں میں انگریزوں کا دیا ہوا نام ”باشکارک“،کالاش کا ہم قبیلہ ” تالاش “زیادہ اہم ہیں۔دیر کے ہم نام علاقوں میں ”دیر لام“(کالام اور مانکیال کے درمیان گاﺅں )”دیر کڈ“(الائی تیلوس اور دوسرا میر علی قلعہ کے قریب ہے)۔
فلک بوس پہاڑ اس وادی کا تاج ہیں۔ وادی دیر کی تزئین میں اپنا اپنا حصہ ڈالتی اہم پہاڑی چوٹیوں میں ”سندر آول“ (12807فٹ)، ”ڈباری“ (13450فٹ)، ”اَلون“ (14000)، ”منیلی“(16145 )،”نمبر“(13680 )،”اندو میر“ (18860 )، ”شنکارا“ (12215)، ”لواری“ (10500)، ”زخمی“ (14450)، ”کشبوران“ (13300)، ”بیوڑی“ (13240) اہم ہیں۔
وادی دیر کے مشہور دروں اور زندگی کورواں دواں رکھنے میں خون کی حیثیت کی حامل دشوار گزار پہاڑی گزر گاہوں میں ”دیر“، ”بروال“، ”اوشیری“، ”میدان“، ”سنیکار“، ”بشکار“، ”تورمنگ“، ”کارو“، ”جندول“، ”نیاک“،”ادین زئی“اور خادکرذئی بہت اہم ہیں۔
وادی دیر میں یوں تو لا تعداد جھیلیں ہیں لیکن ”زخند“، ”جہاز بانڈہ“،”بن شاہی“، ”گلبٹ“ نام کی جھیلیں دلبرانہ خاموشی سے سیاحوں کی راہ تک رہی ہیں۔وادی کمراٹ کی انجانی لیکن حسین و جمیل اورمسحور کن، گہری جھیلیں، ”بانڈ ڈنڈ “(جھیل )،” برسرد“، ”چالو“، ” منیز“،” سربا“، ”ٹکی بانڈہ“،باٹا اور واڑا واقعتا صناعی کا عظیم شاہکار ہیں۔دیر سے بذریعہ جیپ جندری پہنچ کر یہاں سے 6گھنٹے کا پر پیچ اور صعوبت بخش پیدل سفر ہمیں حسین گلیشئروں میں لدی جھیل ”جہاز ڈنڈ“ کے بیس کیمپ پہنچا دیتا ہے یہاں سے 3کلو میٹر دور جھیل موجود ہے۔ اس جھیل سے مزید آگے 4گھنٹے کا بلندی کا سفر 11000 فٹ ”جندڈنڈ“جھیل لے جاتا ہے۔
”دیر خاص“میں مقامی حضرات کی ضروریات کو پورا کرنے والے کم معیار کے ہوٹل تو کئی ہیں۔ پھر بھی ”سندھ“، ”ڈین“ ، ”حیات“، ”دیر“، ”سید“، ”المزمل“، ”المصور“، ”سہیل“، ”امین“، ”یاسر پیلس“، ”کانٹی نینٹل“ نامی ہوٹل غنیمت ہیں۔ پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل بھی دیر کا بہترین اقامتی ہوٹل ہے۔دیر خاص اور اسکے نواح میں سیاحوں کو مناسب رہائشی سہولتیں فراہم کرتے ریسٹ ہاوسز میں ”لارم“، ”بالا کوٹ“، ”شڑ مینگل“، ”تیمر گراں“،”تھل“، (شیدور)، ”کمراٹ“ بہت معیاری اور نعمت کے مترادف ہیں۔ کلکوٹ اور” شیڑ مینگل “میں محکمہ جنگلات اور شیڑ مینگل ہی میں یونیورسٹی کیمپس ریسٹ ہاﺅسز بھی موجود ہیں۔ لال قلعہ کے مقام پر بھی لال قلعہ ہاﺅس نام کی اقامتی سہولت موجود ہے۔ضلع دیر خاص میں مختلف مقامات پر ریسٹ ہاﺅس بھی سیاحوں کے لیے دعوت قیام کی آرزو دل میں بسائے محو انتظار ہیں۔ فطرت کے قریب تر، معتدل مزاج کے مقامی شہری چادر اور چاردیواری کا تحفظ ہر قیمت پر کرتے ہیں۔ قوم پرست لوگوں میں مہمانوں کے بارے میں اعلیٰ ضابطہ حیات موجود ہے ۔
چکدرہ سے براستہ گل آباد درہ اسنبڑ گزکر، ”وادی خانپور “کا علاقہ گھنے جنگلات بلند پہاڑ ”درہ بامبولی “ کی خوبصورتی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔گل آباد سے چند فرلانگ دور ایک سڑک ریاست دیر کے نوابوں اور اُنکے مہمانوں کی شکار گاہ کے طور پر معروف ”لڑم ٹاپ“ کی طرف جاتی ہے ۔ یہیں جنرل ایوب خاں شکار کیا کرتے تھے۔ ظاہر شاہ خان کے خوبصورت ریسٹ ہاﺅس میں سابق گورنر افتخار حسین شاہ اور وزیر اعلیٰ اکرم درانی نے بھی قیام کیا۔”حیاسیری“ (میدان )میں 100کمروں کادیدہ زیب ،باغات والا مکمل مزین ایک دوسرا محل محمد شاہ خان کا ملکیتی ہے۔
”پنج کوڑا“ کی وادی میں آباد دو کافر بھائیوں(سل اور چھور) میں سے ایک ”سِل“ مشہور صوفی مبلغ اسلام ”اخون سالاک“ کی تبلیغ کے زیر اثرمشرف بہ اسلام ہو گیا۔ دوسرا بھائی ”چھور“ منکر ہی رہا او ر دور پہاڑوں میں چھپ گیا۔ ”سی تور“،”چھیر“، ”میروڑ“ کے باہمی دشمنی رکھنے والے قبائل ان بھائیوں کی ہی اولاد ہیں۔دریائے پنجکوڑہ کا ڈھائی ہزار سال پرانا نام ”گوری “ہے۔ اُس دور میں یہاں ”آسا کینو “اور” اشیاءکوئی “قبائل آباد تھے۔ قدیم شہر ”ماگا“ جو اس دریاکے نزدیک موجود تھا، آج کل ”کامرانی درہ “ کے ساتھ ”گوردو باہ“ کے مقام پر واقع ہے۔
1914ءمیں ”جبیں“(مالا کنڈ)میں” توتہ کان“ کے مقام سے لائی کئی سرنگوں سے بجلی گھر بنایا گیا ہے۔ درگئی میں بھی ایک آبشار کے ذریعے اسی پانی کو ایک اور بجلی گھر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
وادی دیر میں موسم معتدل ہے ۔گرما میں درجہ حرارت 30درجہ سینٹی گریڈ تک اور سرما میں منفی 4تا14 سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔سرما میں قابل برداشت سردی ہوتی ہے۔15فٹ تک برفباری ہونا معمول ہے۔برسات میں اور موسم بہار کے اوائل میں خوب بارشیں (سالانہ 680 ملی میٹر) بھی ہوتی ہیں۔ اوائل سرما اپنے پت جھڑ، سنہرے ، سرخ، زرد اور نارنجی رنگوں والے درختوں ، سرد خشک آب و ہوا، دھان کی خوشبوﺅں اور چناروں کے آتش زدہ رنگ لیے وادی میں ڈیرہ ڈالنے والے سرما کے آگے آخری ڈھال ثابت ہوتا ہے۔وادی دیر کے علاقوں کلکوٹ ، ہری کوٹ، لاموتی تھل میں گرما میں بھی نسبتاً زیادہ ٹھنڈک ہوتی ہے۔ لہٰذا گرم کپڑے ہمراہ رکھنا اشد ضروری ہے۔ اوئل گرما (مئی جون ہی اِس وادی میں کوہ نوردی ، خیمہ بستیاں بسانے اور کوہساروں کے ذیلی راستوں پر سفروں کا اصل موسم ہے) جبکہ دیر میں جولائی اگست بھی مون سون سے بچے ہونے کے باعث سیاحت کے عروج کا زمانہ ہے ۔دیر میں آخیر گرما کا موسم پھل پھول سے بھر پور ، میوہ جات کی وافر مقدار ، چہار سوسبزہ لیے ہوتا ہے۔ دیر میں جابجا ادویاتی پودوں و دیگر درختوں کی جڑوں سے کشید ہوتا، مفید معدنیات (پوٹاشیم، فلورائیڈ) ساتھ ملاتا ، خوبصورت پتھروں پر سے راستہ بناتا ،صحت بخش ٹھنڈا پانی چشموں اور آبشاروں کی صورت میں رواں دواں رہتا ہے اور کئی امراض (دمہ، درد،قبض،اگزیما،نقرس، تھکن، بے خوابی) کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر طویل عمری کا باعث بھی سمجھا جاتا ہے ۔
دیر کی قدیمی متروک زبانوں میں زیادہ اہم دیری ،داشو، فارسی ، ترکی ،کاشغری، بدیشی، گبری یا دری زبانیں ہیں۔ موجود ہ دور کے دیر میں مستعمل زبانوںمیں معدومی کے خطرے سے دو چار ہندوستانی نژاد ”گوجری“، بکروالوں، گوجروالوں کی بہتر طور پر قدیمی حالت میں برقرار ، ”اُجڑی“، کو ہستانی لوگوں کی مختلف لہجوں میں بولی جانے والی ”بشکارک “ زیادہ قابل ذکر ہیں۔
پوری وادی دیر میں مختلف زبانوں اور لہجوں کے لوگ آباد ہیں ۔ اکثریت تھل اور لاموتی میں مروج لہجہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ آبادی ”راج کوٹ“اور کالام میں مروج ”کل کوٹی “ زبان بھی بولتی ہے۔ اگرچہ کالام کے لوگ دیر کے لوگوں کے لہجہ سے نا واقفیت رکھتے ہیں۔یونانی مورخین کے مطابق درد، دردی، دردک زبان کے ساتھ ساتھ، وادی قدیم کی زبان بشکارک (دیر،دیری والی)بھی یہاں مروج رہی ہے۔ دیری زبان پر محققین میں سے لیچ (1838ئ)، بڈلف (1880ئ)، فریڈرک بارتھ (1940-5

اور پرویش شاہین نے کافی کام کیا ہے۔کوہستانی پشتون زبان کو اپنی دوسری اہم زبان کے طور جانتے ہیں۔ ان کی شاعری (سندرے گیت )خوراک وپوشاک عین پشتون کی طرح کی ہے۔
دیر کی قدیمی تاریخی عمارات میں نواب دیر کا بلند جگہ پرایستادہ، 200کنال پر محیط، سترھویں صدی میں لکڑی سے تعمیر شدہ ،ذاتی ”شاہی محل“موجودہ، جدید شکل میں 1926ءمیں نواب شاہ جہان خان نے تعمیر کرایا کیونکہ اصل محل آگ سے خاکستر ہو گیا تھا۔ وسیع دالان ، کئی طرح کے برآمد ے ،درجنوں کمرے ،چہار اطراف قلعہ نما بر جیاں ، پھل دار درختوں والا شاہی باغ ، ملحقہ قبرستان ، نواب کے دفاتر اورتخت اسلحہ خانہ لیے یہ محل سیاحوں کو دیر کا بلندمقام سے بہترین نظارہ دکھاتا ہے۔محل کے مرکزی دروازے کے سامنے کسی دور کا شاہی مہمان خانہ آجکل ”دیر ہوٹل “کے روپ میں موجود ہے۔ اس میں وائسرا ئے ہند، گورنر جنرل غلام محمد ، خواجہ ناظم الدین ، مرزا سکندر، فیروز خان نون ، جنرل ایوب و دیگر اہم شخصیات قیام پذیر ہو چکی ہےں۔
”تھل“ کے مقام پر فن کا ریگری ، آرائش اور حسن میں یکتا، قابل دید اور قابل تحسین نقش و نگار لیے خانہ کعبہ کا ماڈل سمیٹے، شہتیروں اورستونوں کے سہاروں پر قائم ، لکڑی کی تعمیر شدہ 7منزلہ صاف ستھری مسجد کاریگروں کی محنت شاقہ اور عقیدت کا مظہر ہے۔ چکدرہ سے 14کلو میٹر دوردیر کے سب سے بڑے قصبہ اور علمی، تجارتی و تہذیبی اعتبار سے اہم جگہ پر ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں سے ”صاحب زادگان “ خاندان کے چشم و چراغ صاحبزادہ محمد نسیم کو مرزا جان جاناں کے عطا کیے گئے تبرکات بھی موجود ہیں۔
دیر میں قدیمی قلعوں کی بھر مار ہے۔ 1586ءمیں مغلوں کا تعمیر کردہ ”چکدرہ“ کا قلعہ 1895ءمیں انگریزوں نے فتح کیا اور اسے ایک سال بعد موجودہ جدید تعمیر کا روپ دیا ۔ جندول اور منڈا میں واقع 60 کمروں پر مشتمل قلعہ نما بنگلہ دیکھنے کے قابل ہے۔ جندول بن شاہی میں لکڑی اور پتھر کا بنایہ قلعہ قدیم کاریگروں کے ذوق کی اعلیٰ مثال ہے۔
افغان نپولین ،عمراءخان کا آبائی علاقہ جندول سحر انگیز صحت بخش، سر سبز سیاحتی اہمیت کی جگہوں (شاہی ، بن شاہی اور مسکینی) کے لیے بہت مقبول ہے۔ جندول میں ہی عمراءخان کا تاریخی قلعہ اور خان شہاب کا بنگلہ بھی ہے جو نواحی چوٹیوں ”گودغر“،” شنگسی“ اور ”باچاسوکی “کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔درہ نیاگ تاریخی اہمیت اورخوبصورتی، جڑی بوٹیوں کے لیے دائمی شہرت رکھتا ہے۔ یہیں یوسف زئی اور سواتی قبائل میں جنگ بھی ہوئی ۔سلطان اویس نے ایک قلعہ بھی یہاں تعمیرکرایا۔
چرچل نے یہاں اپنے قیام اور جنگوں کے متعلق اپنی دونوں لافانی کتابوں ، My Early Lifeاور Malakand Field Forceمیں غیور پٹھان قوم پرستوں کی حب الوطنی ،آزادی پسندی، جنگجوئی ، پھرتی ،جنگی مہارت، عزیمت اور شجاعت سے کسی بھی عظیم تر طاقت سے لڑنے کا عزم ، مصائب سے نہ گھبرانے کا جذبہ ،خودداری ، دھرتی پر مرمٹنے کا اعادہ وغیرہ جیسی خوبیوں کا ذکر بڑے منطقی انداز میں کیا۔ نیز چرچل اپنے قیام کے دوران ہم عصر اخبارات میں بھی ڈائری لکھتے رہے۔
وادی دیر کے تاریخی تہذیبی اور جغرافیائی اہمیت کے حامل، چترال اور باجوڑ کے داخلی دروازے ،دریائے سوات کے کنارے آباد تحصیل” اُدیزئی “کے صدر مقام چکدرہ میں گندھار ا تہذیب تین ہزارسال قبل فروغ پذیر رہی۔ وادی پشاور (دریائے سندھ کے مغرب اور دریائے کابل کے شمال ) اور سوات کے ساتھ ساتھ دیر سے بامیان (افغانستان ) تک یونانی اور رومی فنون سے اثر لینے والا، پہلی سے پانچویں صدی عیسوی تک پروان چڑھنے والا گندھارا آرٹ بدھ مت کے ساتھ ہی آٹھویں صدی میں معدوم ہونے لگا ۔ بدھ مت کے پر چار کی خاطر پتھر، چونے، مٹی، کانسی کے لاتعداد مجسموں کو تیار کرا کے وادی دیر کے اہم تاریخی علاقوں آندان ڈھیرئی ، چٹ پٹ ، خانپور، شل کنڈی ، دم کوٹ کی خانقاہوں ، اور عبادت خانوں میں رکھوا دیا گیا، جو انگریزی ، اطالوی اور پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیے۔ اس سلسلے میں احمد حسن دانی کو صدر ایوب خان نے خصوصی طور پر تعینات کیا۔ نوادرات واثاثہ جات کو ایک چھت تلے بطور عجائب گھر جمع کرنے کی کوششیں 1969ءمیں شروع ہوئیں۔وادی دیر سے 1966ءکے بعد ہونے والی کھدائی سے دریافت ہونے والے نوادرات کو سیاحوں کے لیے قابل دید اور محفوظ بنانے کے لیے اور وادی دیر کے ماضی کی شان و شوکت سے بھرپور گندھار اآرٹ کے ورثے کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے 1970ءمیں گورنر سرحد، جنرل کے ایم اظہر نے چکدرہ کے مقام پر ایک کئی گیلریوں والے عجائب گھر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس مقامی فن تعمیر کے نمونے اور مالاکنڈ کے خاص پتھر کی بنی قابل ملاحظہ عمارت میں فن سنگ تراشی کے اعلیٰ و نادر نمونے موجود ہیں ۔صرف 1500اشیا گندھارا نام کی گیلریوں والی خاص پتھر کی بنی قابل ملاحظہ عمارت میں موجود ہیں۔جب کہ کل2161 نادر اشیا موجود ہیں ۔ تین گیلریوں پر مشتمل دیر (چکدرہ) میوزیم کا افتتاح 1979ءمیں ہوا اور اس میں چھ سو نوادرات ،مجسموں، آلات موسیقی ، کتابوں کے قلمی نسخوں ، سکوں، لباس اور دیگر عام استعمال کی اشیا کی صورت میں موجود ہیں۔ باقی ماندہ نوادر اسلامی اور علاقائی تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں۔مہاتما گوتم کی زندگی کی تحریری داستان ، تنتر ا کی اڑتی ہوئی پریوں کے مجسمے، مخطوطے، ہتھیار،جواہر، ملبوسات، قلمی نسخے، آلات موسیقی ، لکڑی کی اشیا، اسی عجائب گھر کی عمارت میں دیرکے طرز تعمیر کے نمائندہ تاریخی برج بھی موجود ہیں۔بعد ازاں 1985ءمیں اس عجائب گھر میں تہذیبی، ثقافتی، اسلامی تعلیمی موضوعات پر کتابوں پر مبنی ایک کتب خانے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
دیر کی دل موہ لینے والی، پر نشاط وادیوں میں ٹراﺅٹ مچھلی کے افزائش فارم کے لیے شہرت پانے والے شہر، بیار کے درختوں کے گھر کلکوٹ ، برف پوش پہاڑوں پر سے آبشاروں کا علاقہ ”بری کوٹ“ جہاز بانڈا، کی بڑی جھیل ، تھل کی عظیم مسجد اور 500 کلو میگا واٹ کا واحد بجلی گھر بہت اہم مقامات ہیں۔
دیر کے ماتھے کا جھومر، اپنی عجب خصوصیات کے لیے یکتا ، تمام علاقے میں حسین تر، جادوئی جنگلی پھولوں کی دھرتی ، پُر نورچاند لیے وادی کمراٹ ،صنوبر ، کائل اور کنڈل کے درختوں کی سرسراہٹ، جنگلی مرغوں ، مرغ زریں کی چہچہاہٹ سے سکوت توڑتے ماحول کے لیے سیاحوں کی آنکھوں کا تارا بن چکی ہے۔ جڑی ، جبر،شٹاک، باٹا ، اسیان ، چروٹ، تکی شاہ ،بانال ، کوش ، بنال، ریوشئی،بتوڑ، پھر ترے اور یہ نامی ہموار گھاس سے بھرے میدانوں ، لذت سے بھر پور ٹراﺅٹ ،اپنی جڑوں میں خوفناک سانپ لیے رات کو جگنو کی طرح چمکنے والا پودا ،“بنگ سادپونڈ“ ،مارخور اور برفانی ہمالیاتی چیتے کی آماجگاہ یہ وادی سیاحوں کے لیے ابھی تک سر بستہ راز کی حیثیت رکھتی ہے۔تیمر گرہ سے دیر کے راستے میں سفید ٹوپیوں اور پھلوں کے لیے معروف خال رباط کا علاقہ موجود ہے، ثمر باغ کے نواح میں درہ مسکینی گزر کر ”شاہئی “ (یہاں اسکینگ کے امکانات روشن ہیں) کے سر سبز میدان کے ساتھ ساتھ ”شگو کھنڈو“اور ”تبرئی کھنڈو “بھی دیکھنے کے لائق ہیں ۔خصوصاًشاہئی میدان پہنچ کر ثمر باغ کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔
اپنے نواح میں گھنے جنگلات سے ڈھکے پہاڑ لیے وادی کالاش (جندول)تیمر گرہ کے راستے میں واقع ہے جہاں روایات کے مطابق سکندر اعظم ایک دلیر نڈر پشتون خاتون کے ہاتھوں لگنے والے تیر سے زخمی ہو کر اس علاقہ سے واپسی پر مجبور ہو گیا تھا۔
دیر سے مقامی دستکاری کی چیزیں (مقامی باریک اون کے بنے ملبوسات ،ٹوپیاں، اونی کپڑے،کمبل،مفلر،نت نئے ڈیزائن کے بنے پرس)سکے وغیرہ اور آثار قدیمہ ،قدرتی ادویاتی جڑی بوٹیاں ، ہمہ اقسام کے خشک و تر مشروم، سلاجیت، ملیٹھی ، زیرہ ،شہدکی خریداری بھی کی جا سکتی ہے۔
نئے ریسٹ ہاﺅسز کی تعمیر ،جنگلی حیات و قدرتی وسائل کو درپیش خطرات کو دور کرنے ، سرکاری املاک اور زمینوں کو نجی ملکیت میں دینے کی وجہ سے قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے رجحان میں کمی، علما کے سیاحت دوست کردارمیں تیزی ، سڑکوں کی حالت بہتر بنانے، سیاحوں کو سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے، مقامی لوگوں کی سیاحوں سے بہتر خوشدلانہ اور روایتی مہمان نوازی کے متعلق مناسب راہنمائی، بندوق کلچر میں کمی کرنے، قدامت پسندی اور فرسودہ تصورات سے نجات دلانے ،سیاحوں کی دیر آمد سے مقامی ثقافت کو درپیش خطرات کے مضحکہ خیز تصورات سے نجات ،تعلیم کے فروغ ، حکومتی اداروں کی مزید دلچسپی ، دیر میں عوامی پارکوں کی تعمیر، جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی اور مزید جنگلات لگانے وغیرہ جیسے اقدامات کے بعد ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس وادی میں سیاحت کے فروغ کے بعد دیگر سیاحتی علاقوں کی طرح مثبت تبدیلیاں رو نما ہو نگی ۔
(مضمون نگار 1988ءمیں قائم شدہ آل پاکستان ٹور ازم پروموٹرز سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور انہیں جنوبی ایشیا و پاکستان میں سیاحت کی ترویج کے سلسلہ میں ”سارک یوتھ ایوارڈ 2006ئ“ سے بھی نوازا گیا ہے۔)