| پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (24-05-11), فیصل ناصر (23-05-11), فاروق سرورخان (25-05-11), کنعان (24-05-11), آبی ٹوکول (24-05-11), ایس اے نقوی (25-05-11), حیدر Rehan (24-05-11), راجہ اکرام (24-05-11), رضی (04-06-11), شمشاد احمد (24-05-11), عبدالقدوس (24-05-11), غلام خان (24-05-11) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
All I can say is....k jo nazer aa rha hey ya news mein hum tak pohnchaya ja rha hey...aisa haqeeqat mein nahi hey....
Aaj sey50ya60saal baad ka historian jb is waqt ki tareekh likhey ga to wo buht haqarat.amaiz or qabil-e-taras andaaz ikhtiar kry ga....or wo jo likhey ga wo asal haqaiq aaj ki in raam kahanion sy farq hon gy..... |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
بھائیوں اگر ہم دہشت گردوں کے ہدف کو دیکھیںتو ان کا ہدف پاک بحریہ کے سی اوریین جہاز ہی تھے ورنہ وہ پی ایف الفیصل بیس میں کم از کم تین سی ون تھرٹی کے پاس سے گزرے انہیں کیوں نقصان نہیں پہنچایا اس کا مطلب ہے کے ان کا ہدف یہی طیارے تھے اور ان تیاروں کی تباہی سے کسے فاہدہ پہنچا پاکستانی طالبان یا بھارت کو ؟
اور یہ واقعہ میر جعفر اور صادق کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں اور یہ کون ہیں ؟ کوتائی کہاں ہوئی ؟ ذمہ داروں کا تعین ابھی تک کیوں نہیں ہو سکا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حملہ آور آخر تھے کتنے؟ اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد پاکستان بحریہ کے کراچی میں واقع مہران بیس پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کی تعداد اور کارروائی میں حملہ آوروں کی ہلاکت سے متعلق اعلیٰ حکام کے بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں جس سے نہ صرف یہ حساس معاملہ پیچیدہ بن رہا ہے بلکہ اس سے اعلیٰ حکام کے ایک حد تک غیر سنجیدگی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ کراچی میں بحریہ کی مہران بیس پر جب تقریباً پندرہ گھنٹے بعد کمانڈو آپریشن ختم ہوا تو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھ حملہ آور تھے جس میں سے چار مارے گئے ہیں اور دو بھاگ گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی شدت پسند کی گرفتاری کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ لیکن اس کے کچھ دیر بعد ہی سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی خبر میں پاکستان بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نعمان بشیر کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ انہوں نے کہا ہے کہ ’چار حملہ آور مارے گئے ہیں اور متعدد گرفتار ہوئے ہیں‘۔ اے پی پی کے مطابق نہ تو انہوں نے گرفتار حملہ آوروں کی تفصیل بتائی بلکہ دو حملہ آوروں کے فرار سے متعلق بھی کچھ نہیں کہا۔ اس سے قبل آپریشن کے دوران بھی پاک بحریہ کے ترجمان کموڈور عرفان الحق کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں حملہ آوروں کی تعداد ایک درجن کے قریب بتائی جاتی رہی تھی۔ اس قسم کے حساس واقعات میں کلیدی معلومات میں تضادات کا پایا جانا نہ صرف اس سلسلے میں درج مقدمے کو کمزور کرے گا بلکہ اگر اس مقدمے میں کوئی گرفتاریاں ہوئیں تو ملزمان کو شک کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ اس معاملے نے ایک نیا رخ تب لیا جب وزیر داخلہ اور بحریہ کے سربراہ کی نیوز بریفنگز کے بعد پولیس کے پاس جو ابتدائی رپورٹ ‘ایف آئی آر’ درج کرائی گئی اس میں حملہ آوروں کی تعداد دس سے بارہ لکھوائی گئی۔ اگر بحریہ کے افسر کی جانب سے درج کرائی گئی ’ایف آئی آر‘ اور اے پی پی کی جانب سے جاری کیے گئے بحریہ کے سربراہ کے بیان کو درست تسلیم کیا جائے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم چھ حملہ آور زندہ گرفتار کیے گئے ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا بیان درست ہے یا کہ بحریہ کی معلومات اور دوسرا یہ کہ عوام کو آخر متضاد معلومات کیوں فراہم کی جا رہی ہے؟۔ اس بارے میں جب پاکستان بحریہ کے ترجمان کموڈور عرفان الحق سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’نیول چیف نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا‘۔ جب ان سے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کی خبر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں کسی تبصرے سے معذرت کر لی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ’ایف آئی آر‘ میں حملہ آوروں کی تعداد دس سے بارہ درج کرائے جانے کے معاملے کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ہی کچھ بتا پائیں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حساس واقعات میں کلیدی معلومات میں تضادات کا پایا جانا نہ صرف اس سلسلے میں درج مقدمے کو کمزور کرے گا بلکہ اگر اس مقدمے میں کوئی گرفتاریاں ہوئیں تو ملزمان کو شک کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ ح
__________________
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (25-05-11), فیصل ناصر (25-05-11), فاروق سرورخان (28-05-11), محمد یاسرعلی (25-05-11), عدنان دانی (25-05-11) |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
اگر پاکستانی انٹیلیجینس کی ایجنسیاں کسی کام کی ہوتیںتو کبھی کا پتہ لگا چکی ہوتیںکہ 1985 سے پاکستان میںہونے والے دھماکوں میںکس کا ہاتھ ہے۔ یہ نا اہلیت کی اعلی ترین مثال ہے۔ اس پر یہ دعوی کے ان کے اثاثے محفوظ ہیں ایک طفل تسلی ہے۔ پاکستان کی فوج بار بار "پراپیگنڈے " سے شکست کھا چکی ہے اور کھاتی رہے گی۔ جب تک اندھا دھند پیروی ختم نہیںہوگی۔ آج بھی پاکستان کی افواج 1792 کی برطانوی افواج کے طرز عمل اور طور طریقوںپر چل رہی ہیں نئی سوچ کے بغیر کس طرح نت نئے خطرات سے نجات ممکن ہے ، یہ سوچا ہی نہیںجاسکتا۔۔ آج بھی پاکستان میں مثبت شناخت اور قدم با قدم شناخت کا کوئی طریقہ رائج نہیں۔۔ جو تحفظ کی پہلی کڑی ہے۔۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دہشت گردی ہو جانا تو خیر سے نا اہلی کی مثال ہے ہی لیکن اگر تو واقعی میں چند دہشت گرد فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں تو یہ تو نا اہلی کی بدترین مثال ہے۔ دس بارہ دہشت گرد پاک بحریہ پر حملہ کرتے ہیں۔ چاروں طرف سے گھیرے میں آ جاتے ہیں۔ وہ پاک بحریہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ چند مر جاتے ہیں اور چند فرار ہو جاتے ہیں۔
گھیرے میں آ انے کے بعد فرار ۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے پاکستانی فورسز کے لیے۔ مجھے تو امریکی فلمی کمانڈوز یاد آ رہے ہیں |
|
|
|
|
|
#21 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ سارا ڈرامہ جو روس کی شکست کے بعد سے شروع ہوا اور آج اس مقام تک پہنچا اس کے پیچھے صرف ایک ہی دماغ، اسی دماغ کی سوچ کے حاملین کا پیسہ اور مہارتیں اور اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ اور اس سارے کھیل سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ پاکستان بالکل محفوظ نہیں، کبھی راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر، کبھی ایبٹ آباد میں فوج کی ایک بڑی اکیڈمی کاکول کے پاس اور پھر کبھی کراچی میں نیوی کے بیس پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں ساری۔ اور اگر کوئی ان سارے واقعات کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ صرف عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتی ہے اور حقائق چھپانے کی۔۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
حیدر بھائی پاکستانی افواج پر الزام نہ لگائیں ان کا یہ قصور نہیں انہیں جو ہائی کمانڈ سے آرڈر ملنا ھے اسے کے مطابق انہوں نے چلنا ہوتا ھے۔ بیس میں ہر ملٹری مین کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا، روز مرہ کی طرح آپ ایک آفس سسٹم سمجھ لیں سب اپنی اپنی جاب کرتے ہیں۔ اسلحہ انہی کے پاس ہوتا ھے جو اندر ملٹری پولیس ہوتی ھے یا جنہیں کسی بھی ضرورت کے لئے اسلحہ فراہم کیا جاتا ھے اور ایسے ملٹری مین اپنا اسلحہ ڈیوٹی شروع ہوتے ہی ڈپو سے حاصل کرتے ہیں اور ختم ہونے پر جمع کرواتے ہیں۔ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جو دیکھنے میں ہی چابی کا گڈا لگتے ہیں حامد کرزئی کی طرح پرموٹ کئے گئے ہیں یہ جو کہیں گے پاکستانی افواج اسے کے مطابق چلے گی مگر اس میں بھی ایک لمٹ ھے۔ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستانی افواج کا قصور نہیں ھے اس میں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک بات قابل غور ہے کہ
بیس میں سب کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ لیکن جب اتنے لوگ اتنا اسلحہ لے کر اندر داخل ہوئے اور وہاں سے رن وے تک پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔ کسی نے اس پر توجہ نہ دی ؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
بھائی شام کو اتنا عملہ نہیں ہوتا، امرجینسی ڈیوٹی پر ہر سیکشن کا کچھ سٹاف موجود ہوتا ھے ۔ مین انٹرنس پر کیپٹن جو بیس کمانڈر کا کام کرتا ھے ضرورت پڑنے پر سب کو اطلاع جب پہنچتی ھے تو آفیسرز پہنچ جاتے ہیں۔ (یہ معلومات الامارات کے حساب سے دے رہا ہوں۔) ڈپو سے اسلحہ ایسے ہی نہیں ملتا کہ جا کر مانگیں تو دے دیں گے اس کے لئے لسٹ جاری کرنی پڑتی ھے ایک سسٹم کے مطابق کام ہوتا ھے۔ کراچی کا واقعہ بہت بڑی سازش ھے اور یہ سازشیں سکیورٹی پر اٹیک بہت پہلے سے ہو رہے ہیں۔ اور اس میں سول گورنمنٹ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب شامل لگتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
Dehshat gardon ki taadaad mein farq...6 , 12, 20....?
Either it was a violence inside the navy...that was crushed in this drama...no one jumped from outside... May be some resistance arising against absolute obedience to US....which was proved in Abbotabad incident.... Or...its an outsider attack wid the help from inside.... To protest against insult n hatred increasing against army....for which army itself isn't responsible.... |
|
|
|
| mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (31-05-11) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() |
یاسر عباس آپ کی عظمت کو سلام
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#27 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کی وجہ یہ ہے کہ 1100 اہلکار جو حفاظت پر تعینات ہوتے ہوں ، ان کے پاس اسلحہ ہونا لازمی ہو گا ورنہ خالی ہاتھ کیا حفاظت۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ان کے پاس یا انکی اکثریت کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔۔۔لیکن آپ یہ تو سوچیے کہ حملہ ہو رہا ہے، دھماکے ہو رہے ہیں، ایک طرف بحریہ دوسری طرف فضائیہ کی بیس۔ ہزاروں اہلکار موجود۔ حملے کے فوراً بعد سبھی ایکشن میں آ جاتے ہیں۔ مطلوبہ جگہ کا گھیرا ڈال دیتے ہیں۔ اب یقینی سے صورت حال ہے کہ انہوں نے یہ گھیرا خالی ہاتھ تو نہیں ڈالا ہو گا۔ہر کسی کے پاس ہتھیار ہوں گے۔ لیکن پھر بھی وہ لوگ فرار ہو گئے۔ صرف بحریہ کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ساتھ ہی فضائیہ بھی موجود تھی۔ سبھی ایک ہی جیسے نکلے۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#28 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بدر بھائی معذرت کی کوئی ضرورت نہیں اور اتفاق والی بھی کوئی بات نہیں۔ اور نہ ہی اس پر کوئی بحث ہو سکتی ھے۔ ہر بات یہاں نہیں بتائی جا سکتی، دل نہیں مانتا تو اسے چھوڑ دیں اپنی بات پر قائم رہیں، آپ نے لکھا تھا آپکا کزن میجر ھے اسی سے بھی آپ پوچھ سکتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صبح بخیر تمام قارئیں کو
نقوی بھائی یہ سراسر زیادتی اور نا انصافی پر مشتمل ہے کہ آپ جناب نے صرف یاسر عباس کی عظمت کو سلام کیا کیا باقی شھداء عظیم نہيں کہ ان کی عظمت کو سلام نہ کریں سب برابر ہے تمام کی عظمتوں شجاعتوں کو تمام اھل پاکستان کی طرف سے سلام میرے بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ آپ کی جو سلام عظمت کا نعرہ ہے اس سے بو آتی ہے، اپ کو کیا پتہ یاسر نے دفاع کیا یا نہیں کیا سوکھہ سلام پیش کررہے ہو سب کو سلام اللہ تمام شھداء کو فردوس الاعلی میں جگہ عطافرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین اعدلوا ھو اقرب للتقوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ التوقیع: رضاالناس غایہ لاتدرک |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فون, فوری, کرتے, گزشتہ, پہ, پہلے, پاک, یاسر, لاہور, چند, موقع, اپنے, این, اجازت, بھائی, بار, جلد, خون, رات, سنی, شادی, طور, عید, عباس, عزیز |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تھری جی ٹیکنولوجی، ٹیلیکوم سروسز کی جانب قدم | زارا | عمومی سائنس | 5 | 17-03-11 12:16 PM |
| روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے والوں میں ہارٹ اٹیک کے امکانات دو گنا ہوجاتے ہیں۔ ماہرین | گلاب خان | شعبہ طب | 0 | 19-02-11 03:12 AM |
| پاکستان: بہت زیادہ ٹیلیکام ٹیکس وصول کرنے والا ملک | شیخ ہمدان | سیاست | 0 | 05-08-08 09:55 PM |
| پاکستان کرکٹ ٹیم میں تنازعات کے ذمہ دار ٹیم منیجر ہیں؟،کپتانی کا ایشو بھی ان کی وجہ سے سامنے آیا | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 08-12-07 08:14 AM |
| آسٹریلیا کی اے کرکٹ ٹیم ٢٢ روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئی ، پاکستان آسان حریف نہیں ہو گا ۔ میچز دلچسپ ہوں گے۔ آسٹریلوی ٹیم مینجر | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 03-09-07 10:44 AM |